Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • ناسا کا چاند پر بھیجے جانے والا آرٹیمیس 2 مشن ایک بار پھر ملتوی

    ناسا کا چاند پر بھیجے جانے والا آرٹیمیس 2 مشن ایک بار پھر ملتوی

    امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے چاند پر انسانوں کے بھیجنے کا منصوبہ پھر تاخیر کا شکار ہو گیا ہے-

    ناسا کی جانب سے آرٹیمیس 2 مشن کو ایک بار پھر ملتوی کر دیا گیا ہےاس مشن کے تحت 4 خلا بازوں کو 5 دہائیوں بعد چاند کے مدار پر بھیجے جانا تھاپہلے اس مشن کے لیے 8 فروری کی تاریخ طے کی گئی تھی مگر پھر اسے مارچ تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا،اب ایک بار پھر اسے ملتوی کر دیا گیا ہے اور اب اسے اپریل میں روانہ کیے جانے کا امکان ہے۔

    اس سے قبل فروری کے شروع میں آرٹیمس 2 کو راکٹ سسٹم کی آزمائش کے دوران سامنے آنے والے مسائل کے باعث ملتوی کیا گیا تھااب ناسا کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ایک بار پھر راکٹ سسٹم میں مسائل کو دریافت کیا گیا ہےناسا کی جانب سے 6 مارچک و یہ مشن روانہ کیے جانا تھا مگر راکٹ کے اوپری حصے میں ہیلیم کے بہاؤ میں مسائل کو دریافت کیا گیا ناسا کے منتظم جیراڈ آئزک مین اس نئی دریافت کے باعث مارچ میں آرٹیمس 2 مشن کو روانہ کرنا ممکن نہیں رہا۔

    سرحد پار دہشتگردی اب برداشت کی حد سے تجاوز کر چکی ہے،صدر مملکت

    واضح رہے کہ آخری بار ناسا نے 1972 میں اپوپو پروگرام کے تحت انسان بردار مشن چاند پر بھیجا تھا اور اب 5 دہائیوں سے زائد عرصے بعد ایسا دوبارہ کیا جا رہا ہے 10 روزہ آرٹیمس 2 مشن میں 4 خلا باز موجود ہوں گے جو اورین اسپیس کرافٹ میں نصب لائف سپورٹ سسٹمز کی جانچ پڑتال کریں گے تاکہ مستقبل میں طویل مشنز ممکن ہوسکیں ،یہ مشن پہلے 2 بار زمین کے مدار میں پرواز کرے گا اور پھر چاند کے اس حصے کی جانب روانہ ہوگا جو زمین سے نظر نہیں آتا۔

    پیرا فورس اور ضلعی انتظامیہ کے خلاف پریس کانفرنس ،ہڑتال کی وارننگ

    یہ خلا باز چاند کی سطح پر قدم نہیں رکھیں گے مگر یہ 1972 کے بعد پہلی بار ہوگا جب کوئی انسان زمین کے نچلے مدار سے باہر سفر کرے گاآرٹیمس 2 مشن کا مقصد ناسا کے آرٹیمس 3 مشن کی صلاحیت کو جانچنا ہے2027 میں شیڈول آرٹیمس 3 مشن کے تحت انسان دہائیوں بعد پہلی بار چاند کی سطح پر قدم رکھیں گےآرٹیمس 3 مشن کو اسپیس ایکس کے اسٹار شپ راکٹ کے ذریعے چاند پر بھیجا جائے گااس کے مقابلے میں آرٹیمس 2 مشن کو ناسا کی تاریخ کے طاقتور ترین اسپیس لانچ سسٹم (ایس ایل ایس) راکٹ کے ذریعے روانہ کیا جائے گا ،اس راکٹ کو آرٹیمس 1 کو چاند پر بھیجنے کے لیے بھی استعمال کیا گیا تھا۔

  • بچوں کو سوشل میڈیا کا عادی بنانے کا الزام، مارک زکربرگ کی عدالت میں پیش

    بچوں کو سوشل میڈیا کا عادی بنانے کا الزام، مارک زکربرگ کی عدالت میں پیش

    امریکا کے شہر لاس اینجلس میں جاری ایک اہم مقدمے کے دوران میٹا کے بانی مارک زکربرگ عدالت میں پیش ہوئے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق مارک زکربرگ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کی کمپنی کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بچوں کو اپنی جانب راغب کرنے یا ان کا اسکرین ٹائم بڑھانے کے مقصد سے تیار نہیں کیا گیا۔

    مقدمے کی سماعت کے دوران وکلا نے زکربرگ سے 2024 میں کانگریس کے سامنے دیے گئے ان کے بیان سے متعلق سوالات کیے، جس میں انہو ں نے کہا تھا کہ کمپنی اپنی ٹیموں کو ایپس پر صارفین کا وقت زیادہ سے زیادہ بڑھانے کا ہدف نہیں دیتی، تاہم مدعی کے وکیل نے عدالت میں 2014 اور 2015 کی ای میلز پیش کیں، جن میں ایپس پر صارفین کے گزارے گئے وقت میں نمایاں اضافے کے اہداف کا ذکر موجود تھا۔

    اس پر زکربرگ نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں صارفین کے وقت سے متعلق اہداف ضرور موجود تھے، لیکن کمپنی نے بعد ازاں اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی، انہوں نے عدالت میں کہا کہ اگر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ان کا کانگریس میں دیا گیا بیان درست نہیں تھا تو وہ اس سے سختی سے اختلاف کرتے ہیں۔

    یہ پہلا موقع ہے کہ میٹا پلیٹ فارمز کے سربراہ نے عدالت میں پیش ہو کر انسٹاگرام کے نوجوانوں کی ذہنی صحت پر ممکنہ اثرات سے متعلق براہِ راست گواہی دی ہے ماہرین کے مطابق لاس اینجلس میں جیوری کے سامنے جاری اس مقدمے کے نتائج کمپنی کے لیے اہم مالی اور قانونی اثرات کا باعث بن سکتے ہیں، کیونکہ کیس ہارنے کی صورت میں ہرجانے کی ادائیگی کرنا پڑ سکتی ہے۔

    یہ مقدمہ دراصل ان بڑھتے ہوئے عالمی خدشات کا حصہ ہے جو سوشل میڈیا کے بچوں اور کم عمر صارفین کی ذہنی صحت پر اثرات کے حوالے سے سا منے آ رہے ہیں اسی تناظر میں آسٹریلیا پہلے ہی 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی پر پابندی عائد کر چکا ہے، جبکہ اسپین سمیت دیگر ممالک بھی اسی نوعیت کی پابندیوں پر غور کر رہے ہیں۔

  • مارچ میں فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی کی جائے گی،چیئرمین پی ٹی اے

    مارچ میں فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی کی جائے گی،چیئرمین پی ٹی اے

    چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ مارچ میں فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی کی جائے گی-

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمن نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ مارچ میں فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی کی جائے گی، جبکہ امیدوار کمپنیاں 27 فروری تک اپنی بولیاں جمع کرا سکتی ہیں ڈی جی لائسنسنگ عامر شہزاد کے مطابق نیلامی میں حصہ لینے والی کمپنیوں کو 15 ملین ڈالر سیکیورٹی ڈپازٹ (بینک گارنٹی) جمع کرانا ہوگی۔

    ڈی جی لائسنسنگ نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سپیکٹرم کی دستیابی کے حوالے سے پاکستان اس وقت خطے میں نچلے درجے پر تھا، جو ایک بڑا چیلنج تھا تاہم حکومت نے 597.2 میگا ہرٹز سپیکٹرم کی دستیابی یقینی بنا دی ہے،کوالٹی آف سروس اور کوریج بڑھانے کے لیے سپیکٹرم نیلامی کا فیصلہ کیا گیا ہے ، جبکہ فائیو جی لانچ کے لیے 9 سالہ مرحلہ وار پروگرام تیار کیا گیا ہے۔

    اسرائیل نے مسجدالاقصیٰ کے امام کو گرفتار کر لیا،حماس کی شدید مذمت

    ہر آپریٹر ہر سال ایک ہزار نئی سائٹس لگائے گا ان میں سے 200 سائٹس ان علاقوں میں ہوں گی جہاں نیٹ ورک کے مسائل ہیں دیہی اور شہری علاقوں کے لیے باقاعدہ کوریج پلان جمع کرانا ہوگا، ٹاور فائبرائزیشن کو لازمی قرار دیا گیا ہے اور ہر سال اس میں اضافہ کرنا ہوگا،فائیو جی سروسز پہلے مرحلے میں وفاقی اور صوبائی دارالحکومتوں میں متعارف کرائی جائیں گی، ڈی جی لائسنسنگ نے واضح کیا کہ فائیو جی سروسز فوری طور پر پورے ملک میں دستیاب نہیں ہوں گی بلکہ مرحلہ وار توسیع کی جائے گی۔

    پہلے 2 سال کے لیے فور جی ڈاؤن لوڈ اسپیڈ کم از کم 20 ایم بی پی ایس مقرر کی گئی ہے فائیو جی لانچ کے وقت ڈاؤن لوڈ اسپیڈ 50 ایم بی پی ایس ہو گی تخمینہ ہے کہ فائیو جی آکشن کے بعد ملک میں موبائل انٹرنیٹ اسپیڈ میں 25 فیصد تک اضافہ ہوگا راونڈ ون میں آپریٹرز کے لیے 2600 اور 3500 میگا ہرٹز بینڈ میں سپیکٹرم خریدنا لازمی ہوگا سپیکٹرم کیپ بھی مقرر کی گئی ہے تاکہ کوئی ایک آپریٹر کسی ایک بینڈ میں تمام سپیکٹرم حاصل نہ کر سکے۔

    رمضان المبارک 2026 : وفاق نےدفتری اوقات کا اعلان کردیا

    چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بتایا کہ فائیو جی سروس کے آغاز کے ساتھ ہی مارکیٹ میں فائیو جی انیبلڈ اسمارٹ فونز 35 ہزار سے 45 ہزار روپے کی قیمت میں دستیاب ہوں گے، ٹیلی کام کمپنیاں صارفین کی سہولت کے لیے یہ فونز آسان اقساط پر بھی فراہم کریں گی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکیں۔

    پی ٹی اے حکام کے مطابق حکومت نے ٹیلی کام آپریٹرز کے مطالبے پر آکشن کے روز ڈالر ریٹ فکس کرنے کا فیصلہ کیا ہے،چیئرمین پی ٹی اے نے موبائل فونز پر ٹیکس سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ فونز کی خریداری پر وصول کیا جانے والا ٹیکس پی ٹی اے کو نہیں بلکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر) کو جاتا ہےانہیں آئی فون پر عائد ٹیکس کی مخصوص تفصیلات کا علم نہیں۔

    پاک سعودیہ معیشت سے متعلق ایک اور اسٹریٹجک منصوبے کی تیاری کر رہے ہیں،سعودی سفیر

  • خطرناک اور تباہ کن زلزلے کی پیشگوئی

    خطرناک اور تباہ کن زلزلے کی پیشگوئی

    نئی تحقیقات میں دنیا میں بڑے اور تباہ کن زلزلوں کی پیشگوئی کی گئی ہے-

    سائنسی ویب سائٹ SciTechDaily نے جریدے Geology کے حوالے سے بتایا کہ ایک نئی سائنسی تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول کے نزدیک بحیرۂ مرمرہ کی تہہ میں موجود چٹانیں کسی بھی وقت اپنی جگہ سے کھسک سکتی ہیں،ان چٹانوں میں طویل عرصے سے جمع ہونے والا دباؤ مستقبل میں شدید زلزلے کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق یہ فالٹ گزشتہ ڈھائی صدی سے کسی بڑے جھٹکے کے بغیر توانائی سمیٹ رہا ہے، جو کسی بھی وقت خطرناک حد تک خارج ہوسکتی ہے، تحقیق میں شمالی اناطولیہ کی دراڑ کے نیچے چھپی چٹانوں کی سختی میں معمولی مگر نہایت اہم فرق کی نشاندہی کی گئی ہے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہی فرق مستقبل میں بڑے زلزلوں کا باعث بن سکتا ہے یہ نتائج فالٹ کے اندرونی میکانزم کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں اور استنبول کے علاقے میں زلزلوں کی پیشگوئی کو زیادہ مؤثر بنا سکتے ہیں۔

    آزادی پسند عوام نے بی این پی کو کامیاب بنایا،طارق رحمان

    رپورٹس کے مطابق ماہرین نے جدید برقی مقناطیسی امیجنگ ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے اس بظاہر ’’غیر مرئی‘‘ فالٹ کے اندرونی ڈھانچے کی تفصیلا ت حاصل کیں اس پیشرفت سے خطے میں زلزلہ جاتی خطرات اور زمین کی گہرائی میں متحرک قوتوں کے بارے میں نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔

    سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ 15 سے 20 کلومیٹر پر مشتمل یہ خاموش حصہ اس وقت مقفل حالت میں ہے اور مسلسل تناؤ برداشت کر رہا ہے اگر یہ جمع شدہ دباؤ اچانک خارج ہوا تو 7.1 سے 7.4 شدت تک کا طاقتور زلزلہ آسکتا ہے ریکارڈ کے مطابق اس حصے میں آخری بڑی ٹوٹ پھوٹ 1766 میں پیش آئی تھی۔

    پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے کا امکان

    ترکی جغرافیائی لحاظ سے دنیا کے حساس ترین زلزلہ خیز علاقوں میں شمار ہوتا ہے کیونکہ یہاں، یوریشین پلیٹ، افریقن پلیٹ، عریبین پلیٹ اور اناطولین پلیٹ ایک دوسرے کے ساتھ تعامل کرتی ہیں ماہرین کے مطابق جس حصے کو ’’پرنسز آئی لینڈز سیگمنٹ‘‘ کہا جاتا ہے، وہ ایک بڑا سیسمک گیپ ہے جہاں تاریخی طور پر تقریباً 200 سے 250 سال کے وقفے سے شدید زلزلے آتے رہے ہیں۔

    اس تحقیق میں انسٹیٹیوٹ آف سائنس ٹوکیو سمیت مختلف اداروں کے ماہرین نے حصہ لیا انہوں نے تھری ڈی ماڈلز اور سمندر کی تہہ کی طویل المدتی نگرا نی کے ذریعے ان مقامات کی نشاندہی کی جہاں تناؤ غیر معمولی حد تک بڑھ چکا ہے سمندر کی تہہ میں کی گئی پیمائشوں سے معلوم ہوا کہ فالٹ مضبوطی سے جکڑا ہوا ہے اور اگر توانائی اچانک خارج ہوئی تو چار میٹر سے زیادہ زمینی سرکاؤ ممکن ہے۔

    عمران خان کی بیٹوں قاسم اور سلیمان سے ٹیلی فون پر بات کرادی گئی

    یہ خطرناک حصہ استنبول کے جنوب میں واقع ہے، جس کے باعث ممکنہ تباہی کے اثرات 1999 کے تباہ کن زلزلے جیسے ہوسکتے ہیں تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہی مخصوص حصہ پورے خطے کے زلزلہ جاتی خطرے میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہےماہرین نے حکومتوں کو خبردار کیا ہے کہ مسلسل بڑھتا ہوا دباؤ کسی بھی وقت بڑے سانحے میں بدل سکتا ہے، اس لیے پیشگی تیاری، مؤثر منصوبہ بندی اور حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔

  • چاند کی جانب سفر ، ناسا نے راکٹ میں ایندھن بھرنے کی تیاری شروع کر دی

    چاند کی جانب سفر ، ناسا نے راکٹ میں ایندھن بھرنے کی تیاری شروع کر دی

    ناسا نے ہفتے کے روز 2 روزہ مشق کے ساتھ چاند کے اپنے نئے راکٹ میں ایندھن بھرنے کی تیاری شروع کر دی-

    کمانڈر رِیڈ وائسمین اور ان کے عملے کو پہلے ہی جراثیم سے بچاؤ کے لیے قرنطینہ میں رکھا گیا ہے، یہ خلا باز 1972 کے بعد چاند کی طرف روانہ ہونے والے پہلےانسان ہوں گےوہ یوسٹن میں اپنے مرکز سےاس مشق کو مانیٹر کریں گے، اور راکٹ کی پرواز کی منظوری ملنے کے بعد کینیڈی اسپیس سینٹر جائیں گے۔

    322 فٹ (98 میٹر) بلند اسپیس لانچ سسٹم راکٹ 2 ہفتے قبل لانچ پیڈ پر پہنچایا گیا تھا، اگر پیر کے روز ایندھن بھرنے کا ٹیسٹ کامیاب ہوا تو ناسا ایک ہفتے کے اندر راکٹ کو لانچ کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، ٹیمیں راکٹ کے ٹینک میں 7 لاکھ گیلن سے زائد انتہائی سرد ایندھن ڈالیں گی ،سرد موسم کی وجہ سے ا یندھن بھرنے کی مشق اور لانچ 2 دن کے لیے ملتوی ہوئی ہے، اب 8 فروری کو راکٹ کے پرواز کرنے کا امکان ہے۔

    بھارت اور کالعدم بی ایل اے ایک ہی سکے کے 2 رخ ہیں ،خواجہ آصف

    اورین کیپسول میں سوار امریکی اور کینیڈیائی خلا باز چاند کے گرد پرواز کریں گے اور پھر بغیر وقفے کے واپس آئیں گے اور آخرکار پیسفک میں واپس پہنچیں گے یہ مشن تقریباً 10 دن جاری رہے گا،ناسا نے اپالو پروگرام کے دوران 1968 سے 1972 کے درمیان 24 خلا بازوں کو چاند تک بھیجا تھا، جن میں سے 12 نے چاند کی سطح پر قدم رکھا۔

    ہم ایک ہزار سال تک جنگ لڑیں گے، پاکستان ٹوٹنے کے لیے نہیں بنا،وزیراعلیٰ بلوچستان

  • واٹس ایپ پر صارفین کی پرائیویسی اور سیکیورٹی بہتر بنانے کے لئے نیا فیچر متعارف

    واٹس ایپ پر صارفین کی پرائیویسی اور سیکیورٹی بہتر بنانے کے لئے نیا فیچر متعارف

    واٹس ایپ نے صارفین کی پرائیویسی اور سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک “اسٹرکٹ اکاؤنٹ سیٹنگز” نامی نیا فیچر متعارف کروایا ہے-

    کمپنی کے مطابق یہ نیا فیچر خاص طور پر سائبر اٹیکس، اسپائی ویئر یا دیگر ڈیجیٹل خطرات کے زیادہ حساس ہیں جیسے صحافی، عوامی شخصیات اور آن لائن انفلو ئنسرز کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے نئی سیٹنگ فعال کرنے پر واٹس ایپ صارف کے اکاؤنٹ میں سخت پرائیویسی کنٹرولز خودکار طور پر نافذ کردیتا ہے، اس کےتحت نامعلوم رابطوں سےبھیجی جانے والی میڈیا فائلز اور اٹیچمنٹس بلاک ہو جاتے ہیں، جس سے ممکنہ نقصان یا خطرناک مواد پہنتے ہوئے کم ہو جاتا ہے۔

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی

    واٹس ایپ نے بتایا ہے کہ اس فیچر کے فعال ہونے کے بعد صارف کا اکاؤنٹ لاک ڈاؤن موڈ میں منتقل ہو جاتا ہے، جس سے کچھ فنکشنز محدود ہو جاتے ہیں لیکن مجموعی طور پر صارفین کو زیادہ محفوظ تجربہ فراہم ہوتا ہے صارفین اسے واٹس ایپ Settings → Privacy → Advanced میں جا کر آسانی سے فعال کر سکتے ہیں،کمپنی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ فیچر مرحلہ وار رول آؤٹ ہوگا اور آنے والے ہفتوں میں دنیا بھر کے صارفین کے لیے دستیاب ہو جائے گا۔

    بھارتی شہریوں کی دیگر ممالک کے حساس اداروں میں موجودگی سنگین سیکیورٹی چیلنج
    اس کے علاوہ واٹس ایپ نے اپنے سیکیورٹی انفراسٹرکچر میں بھی بہتری کی ہے، جس میں ایپ کے اندر موجود کچھ اہم کوڈ کو رسٹ (Rust) پروگرامنگ لینگویج میں تبدیل کیا گیا ہے تاکہ مواد جیسے تصاویر، ویڈیوز اور میسجز کو بہتر طور پر محفوظ اور مستحکم طریقے سے ہینڈل کیا جا سکے۔

  • پانی بھی ہائی بلڈ پریشر کا باعث بن سکتا ہے،نئی تحقیق

    پانی بھی ہائی بلڈ پریشر کا باعث بن سکتا ہے،نئی تحقیق

    ایک نئی تحقیق میں چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے کہ پینے کے پانی میں موجود نمک بھی ہائی بلڈ پریشر کا باعث بن سکتا ہے۔

    فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی کی حالیہ تحقیق کے مطابق پینے کے پانی میں موجود سوڈیم خاموشی سے دنیا بھر میں کروڑوں افراد کے بلڈ پریشر میں اضافے کا سبب بن رہا ہےتحقیق میں بتایا گیا کہ پانی میں نمک کی زیادہ مقدار اور ہائی بلڈ پریشر کے درمیان واضح تعلق موجود ہے، خاص طور پر ان افراد میں جو ساحلی علاقوں یا سمندر کے قریب رہائش پذیر ہیں۔

    محققین کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد لوگوں میں خوف پیدا کرنا نہیں بلکہ ایک ایسے ماحولیاتی عنصر کی نشاندہی کرنا ہے جو بڑی تعداد میں افراد کو متاثر کر رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکا سمیت دنیا کے کئی ممالک میں لوگ پہلے ہی ضرورت سے زیادہ نمک اپنی خوراک کے ذریعے استعمال کرتے ہیں، جبکہ پینے کے پانی میں شامل اضافی سوڈیم اس مقدار کو مزید بڑھا دیتا ہے۔

    قیامت صرف چند لمحوں کی دوری پر ہے،جوہری ماہرین نے خبردار کر دیا

    اس تحقیق میں امریکا، بنگلادیش، ویتنام، کینیا، آسٹریلیا اور مختلف یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے 74 ہزار افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا نتائج سے پتا چلا کہ جو افراد زیادہ نمک یا کھارے پانی کا استعمال کرتے ہیں، ان کا بلڈ پریشر دیگر افراد کے مقابلے میں قدرے زیادہ ہوتا ہے۔

    تحقیق کے مطابق نمکین پانی کے استعمال سے ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہونے کا خطرہ 26 فیصد تک بڑھ سکتا ہے، یہ رجحان خاص طور پر ساحلی علاقوں میں زیادہ نمایاں پایا گیا، جہاں زیر زمین پانی پینے کا بنیادی ذریعہ ہوتا ہے اور اس میں اکثر نمک کی مقدار زیادہ ہوتی ہے بظاہر بلڈ پریشر میں یہ اضافہ معمولی محسوس ہوتا ہے، تاہم ماہرین صحت کے مطابق بلڈ پریشر میں معمولی اضافہ بھی دل، گردوں اور دیگر اعضا پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔

    لاہور پولیس ،بسنت سے قبل 1078 مقدمات درج کر کے 1015افراد گرفتار

    دنیا بھر میں تین ارب سے زائد افراد ساحلی علاقوں یا ان کے قریب رہتے ہیں، جہاں کھارے یا نمکین پانی کا استعمال عام ہے ماہرین کے مطابق صاف اور کم نمک والا پانی صحت کے لیے نہایت ضروری ہے اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے بی ایم جے گلوبل ہیلتھ میں شائع کیے گئے ہیں، جنہوں نے پینے کے پانی کے معیار پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

  • قیامت  صرف چند لمحوں کی دوری پر ہے،جوہری  ماہرین نے خبردار کر دیا

    قیامت صرف چند لمحوں کی دوری پر ہے،جوہری ماہرین نے خبردار کر دیا

    جوہری ماہرین نے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ انسانیت اب قیامت سے صرف چند لمحوں کی دوری پر ہے۔

    غیر منافع بخش ادارے Bulletin of the Atomic Scientists کے مطابق سال 2026 کے لیے ڈومز ڈے کلاک کو آدھی رات سے محض 85 سیکنڈ پہلے پر سیٹ کر دیا گیا ہے، جو عالمی تباہی کی انتہائی خطرناک سطح کو ظاہر کرتا ہے ادارے کے سائنس اینڈ سیکیورٹی بورڈ (SASB) کا کہنا ہے کہ جوہری جنگ، اسلحے کی نئی دوڑ اور خلا میں عسکری منصوبے دنیا کو ایک ایسے موڑ پر لے آئے ہیں جہاں سے واپسی مشکل ہوتی جا رہی ہے،دنیا تیزی سے تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے-

    ماہرین کے مطابق مزید تباہ کن جوہری ہتھیار تیار کیے جا رہے ہیں اور عالمی طاقتیں ایک بار پھر خطرناک مقابلے میں الجھ چکی ہیں SASB کے ایک رکن نے خصوصی طور پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ ’گولڈن ڈوم‘ منصوبے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خلا میں ہتھیار رکھنے کا یہ تصور دنیا کو خلائی جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے اس منصوبے کے نتیجے میں روس اور چین کی جانب سے سخت ردِعمل متوقع ہے، جس سے عالمی سلامتی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    منتخب وزیراعظم کو صرف اس لیے ہٹایا گیا کیونکہ وہ ایک بیرونی ملک کو پسند نہیں تھا،سہیل آفریدی

    جوہری ماہرین نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ اگر روس اور امریکا کے درمیان اسلحہ سازی سے متعلق معاہدے ختم ہو گئے تو دونوں ممالک کھل کر جوہری ہتھیار جمع کرنا شروع کر دیں گے، جو پوری انسانیت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے اگر عالمی رہنماؤں نے فوری اور سنجیدہ فیصلے نہ کیے تو ڈومز ڈے کلاک کی سوئیاں آدھی رات پر پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکے گا اور پھر قیامت محض ایک استعارہ نہیں رہے گی۔

    ریاستی اداروں پر الزامات کا کیس، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری

    ڈومز ڈے کیا ہے؟

    ڈومز ڈے (قیامت) کلاک ایک علامتی گھڑی ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انسانیت خود ساختہ تباہی یعنی دنیا کے خاتمے کے کتنے قریب ہے اس گھڑی میں آدھی رات دنیا کے خاتمے کی علامت سمجھی جاتی ہے اور وقت کو آدھی رات کے قریب یا دور کر کے عالمی خطرات کی شدت ظاہر کی جاتی ہے،اس گھڑی کو آگے یا پیچھے کرنے کا فیصلہ ماہرین کرتے ہیں جو ایٹمی جنگ کے خطرات، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر بڑے عالمی بحرانوں کا جائزہ لیتے ہیں،ان عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے سیکنڈ کی سوئی کو آدھی رات کے قریب یا دور کیا جاتا ہے۔

    گزشتہ سال ڈومز ڈے کلاک کو آدھی رات سے صرف 89 سیکنڈ پہلے پر مقرر کیا گیا تھا جو اس وقت تک کا سب سے خطرناک مقام تھا،اگر یہ گھڑی آدھی رات پر پہنچ جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کوئی تباہ کن ایٹمی حملہ یا شدید قدرتی آفت رونما ہو چکی ہے جو انسانیت کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے،یہ گھڑی سنہ 1947 میں متعارف ہونے کے بعد اب تک آدھی رات کے سب سے قریب پہنچ چکی ہے۔ ہر سال اس کی ترتیب بلٹن آف دی ایٹامک سائنٹسٹس کی جانب سے دی جاتی ہے جو یہ طے کرتا ہے کہ انسانیت خود تباہی کے کتنے قریب ہے۔

    سنہ1947 میں بلٹن آف دی ایٹامک سائنٹسٹس نے ایک رسالے کی حیثیت اختیار کی جس کے پہلے سرورق پر فنکار مارٹل لینگسڈورف کی تیار کردہ گھڑی شائع کی گئی۔ یہی تصویر بعد میں ڈومز ڈے کلاک کے نام سے مشہور ہوئی ابتدا میں یہ گھڑی صرف ایٹمی جنگ کے خطرے کو جانچنے کے لیے بنائی گئی تھی تاہم بعد کے برسوں میں موسمیاتی تبدیلی جیسے عوامل کو بھی اس میں شامل کر لیا گیا سنہ1953 میں ہائیڈروجن بم کی تیاری کے بعد گھڑی کو 2 منٹ تا آدھی رات کر دیا گیا جبکہ سنہ 1984 میں سرد جنگ کے دوران یہ 3 منٹ پر آ گئی۔

    سنہ1991 میں سرد جنگ کے خاتمے اور امریکا و روس کے درمیان اسٹارٹ معاہدے کے بعد گھڑی کو پیچھے ہٹا کر 17 منٹ تا آدھی رات کر دیا گیا جو اب تک کا سب سے محفوظ وقت تھاسنہ2020 میں گھڑی کو 100 سیکنڈ تا آدھی رات مقرر کیا گیا اور اس کے بعد سے یہ مسلسل آدھی رات کے قریب آتی جا رہی ہے۔

    ڈومز ڈے کلاک کیسے کام کرتی ہے؟

    ہر سال سائنس اور سیکیورٹی بورڈ کے اراکین 2 بنیادی سوالات پر غور کرتے ہیں کہ کیا اس سال انسانیت پچھلے سال کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہے یا زیادہ خطرے میں اور کیا موجودہ صورتحال 79 سالہ تاریخ کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہے یا کم؟ان سوالات کے جوابات کی بنیاد پر آئندہ سال کے لیے ڈومز ڈے کلاک کا وقت طے کیا جاتا ہے۔

    ڈومز ڈے کلاک دراصل کوئی اصل گھڑی نہیں بلکہ ایک علامت ہے جسے ماہر سائنسدان یہ سمجھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں کہ دنیا کتنے بڑے خطرات کے قریب ہے اس گھڑی میں آدھی رات دنیا کی مکمل تباہی کی علامت سمجھی جاتی ہے جیسے ایٹمی جنگ، شدید موسمیاتی تباہی یا کوئی ایسا واقعہ جو انسانیت کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہو۔

    جب دنیا میں خطرات بڑھتے ہیں مثلاً جنگوں کا خدشہ، ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ یا موسمیاتی تبدیلی تو ماہرین اس گھڑی کی سوئی کو آدھی رات کے قریب کر دیتے ہیں اور اگر حالات بہتر ہوں، عالمی تعاون بڑھے اور امن قائم ہو تو گھڑی کو آدھی رات سے دور کر دیا جاتا ہےسادہ لفظوں میں ڈومز ڈے کلاک ایک انتباہ ہے یہ ہمیں ڈرانے کے لیے نہیں بلکہ خبردار کرنے کے لیے بنائی گئی ہے تاکہ دنیا کے رہنما اور عوام یہ سمجھ سکیں کہ اگر بروقت فیصلے نہ کیے گئے تو ہم خود اپنی بقا کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

    اس کو اگر مزید سادہ الفاظ میں سمجھنے کی کوشش کی جائے تو کچھ ایسا ہے کہ ڈومز ڈے کلاک اصل میں ایک گرافک تصویر (تصویراتی گھڑی) ہے یعنی ایک ایسی گھڑی جو کاغذ، ویب سائٹ اور میڈیا میں دکھائی جاتی ہے یہ دیوار پر لٹکنے والی یا وقت بتانے والی گھڑی نہیں ہوتی اس میں عام گھڑی کی طرح ڈائل اور سوئیاں بنی ہوتی ہیں مگر اس کا مقصد وقت بتانا نہیں بلکہ خطرے کی سطح سمجھانا ہوتا ہے۔

    ہر سال سائنسدان باقاعدہ اعلان کرتے ہیں کہ گھڑی اب آدھی رات سے کتنے سیکنڈ دور ہے مثلاً 90 سیکنڈ یا 85 سیکنڈ۔ پھر اسی حساب سے اس گھڑی کی تصویر میں سوئی کو آگے یا پیچھے کر دیا جاتا ہے۔ میڈیا، اخبار اور نیوز چینلز اسی اپڈیٹ شدہ تصویر کو دکھاتے ہیں،یوں سمجھ لیں جیسے اسکول میں ٹریفک لائٹ کی تصویر دکھا کر بتایا جاتا ہے کہ سبز محفوظ ہے، پیلا خطرہ قریب ہے اور سرخ رکنے کا اشارہ ہےبالکل اسی طرح ڈومز ڈے کلاک ایک سمبول (علامت) ہے، جو ہمیں بتاتی ہے کہ دنیا خطرے کے کتنے قریب پہنچ چکی ہے۔

  • اے آئی کی مدد سے نیا اور نامعلوم وائرس دریافت

    اے آئی کی مدد سے نیا اور نامعلوم وائرس دریافت

    سائنسدانوں نے اے آئی کی مدد سے ایسا نیا وائرس تیار کیا ہے جو اس سے پہلے کبھی موجود نہیں تھا۔

    تفصیلات کے مطابق اس وائرس کو Evo–Φ2147 کا نام دیا گیا ہے اور اسے مکمل طور پر نئے سرے سے تخلیق کیا گیا ہے صرف 11 جینز پر مشتمل یہ وائرس زندگی کی انتہائی سادہ شکلوں میں شمار ہوتا ہے، جبکہ انسانی جینوم میں تقریباً 200,000 جینز پائے جاتے ہیں، یہ وائرس خاص طور پر ای کولی (E. Coli) بیکٹیریا کو ختم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

    تحقیق کے دوران اے آئی ٹول Evo2 کی مدد سے 285 نئے وائرس بنائے گئے، جن میں سے 16 وائرس مؤثر ثابت ہوئے، جبکہ سب سے کامیاب وائرس قدرتی اقسام کے مقابلے میں 25 فیصد زیادہ تیز تھےتاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی کے ذریعے تیار کیے گئے ایسے وائرس مستقبل میں ممکنہ خطرات بھی پیدا کر سکتے ہیں۔

    پنجاب پولیس میں کانسٹیبل کی بھرتی سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری

    یہ تحقیق برطانوی سائنسدان ڈاکٹر ایڈریان وولفسن کی قیادت میں اسٹارٹ اپ جینیرو نے کی ہے ڈاکٹر وولفسن کے مطابق اب قدرتی ارتقا کے ساتھ ساتھ اے آئی پر مبنی جینوم ڈیزائن بھی زندگی کے ارتقائی عمل کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔

    اسلام آباد یونائیٹڈ کا نیا ہیڈ کوچ کون؟

  • جی میل صارفین کے یوزرنیم اور پاس ورڈز لیک ہونے کا انکشاف

    جی میل صارفین کے یوزرنیم اور پاس ورڈز لیک ہونے کا انکشاف

    48 ملین جی میل صارفین کے یوزرنیم اور پاس ورڈز لیک ہوگئے-

    سائبر سیکیورٹی ریسرچر جیریمیا فاؤلر کے مطابق سائبر سیکیورٹی کے ایک بڑے انکشاف میں تقریباً 48 ملین جی میل صارفین کے یوزرنیم اور پاس ورڈز پر مشتمل ڈیٹا سامنے آنے کی اطلاع ملی ہے، جبکہ مجموعی طور پر لیک ہونے والے لاگ اِن کریڈنشلز کی تعداد 149 ملین کے قریب بتائی جارہی ہےیہ ڈیٹا بیس نہ تو پاس ورڈ سے محفوظ تھا اور نہ ہی انکرپٹڈ، جس میں تقریباً 96 جی بی خام کریڈنشل ڈیٹا موجود تھا، یہ معلومات کسی نئی جی میل یا دیگر سروسز پر ہونے والی براہ را ست ہیکنگ کا نتیجہ نہیں بلکہ ماضی کے مختلف ڈیٹا لیکس اور انفوسٹیلر میل ویئر کے ذریعے اکٹھا کی گئی تفصیلات پر مشتمل ہیں۔

    ماہرین کے مطابق انفوسٹیلر میلویئر ذاتی ڈیوائسز کو متاثر کر کے صارفین کے یوزرنیم، پاس ورڈز اور دیگر حساس معلومات ریکارڈ کر لیتا ہے اس لیک ہونے والے ڈیٹا بیس میں جی میل کے ساتھ ساتھ یاہو، انسٹاگرام، نیٹ فلکس، فیس بک اور آؤٹ لک کے اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی شامل تھیں، جبکہ سرکاری اداروں، اسٹریمنگ سروسز اور بینکنگ لاگ اِنز سے متعلق معلومات بھی موجود تھیں۔

    رپورٹ کے مطابق ڈیٹا بیس کو ہٹانے کے لیے ایک ماہ سے زائد عرصے کی کوششوں کے بعد اسے آف لائن کیا گیا۔ سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کا ڈیٹا سائبر مجرموں کے لیے انتہائی قیمتی ہوتا ہے، کیونکہ اسے کریڈنشل اسٹیفنگ حملوں میں استعمال کیا جاسکتا ہے، جہاں ایک ہی لاگ اِن تفصیلا ت کو مختلف پلیٹ فارمز پر آزمایا جاتا ہے، ڈیٹا بیس کے مسلسل بڑھنے کے آثار ظاہر کرتے ہیں کہ متعلقہ میلویئر اب بھی سرگرم ہو سکتا ہے۔

    ادھر گوگل نے تصدیق کی ہے کہ وہ اس معاملے سے آگاہ ہے اور اس کے مطابق یہ ڈیٹا وقت کے ساتھ جمع کیے گئے انفوسٹیلر لاگز پر مشتمل ہے، گوگل کا کہنا ہے کہ اس کے پاس خودکار نظام موجود ہیں جو متاثرہ کریڈنشلز کی نشاندہی کر کے متعلقہ اکاؤنٹس کو لاک کرتے اور پاس ورڈ ری سیٹ کرواتے ہیں۔

    سیکیورٹی ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے پاس ورڈز تبدیل کریں، مختلف سروسز پر ایک ہی پاس ورڈ استعمال کرنے سے گریز کریں، ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن فعال کریں اور پاس ورڈ مینیجر یا پاس کیز استعمال کر کے اپنے اکاؤنٹس کو محفوظ بنائیں-