Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • کمپیوٹر کی بورڈ میں نئی "کی” کا اضافہ

    کمپیوٹر کی بورڈ میں نئی "کی” کا اضافہ

    مائیکرو سافٹ کی جانب سے دہائیوں بعد کمپیوٹر کی بورڈ میں نئے بٹن کا اضافہ کیا گیاہے-

    باغی ٹی وی : ٹیکنالوجی ویب سائٹ کے مطابق مائیکرو سافٹ کی جانب سے آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے پر کافی کام کیا جا رہا ہے اور یہ کمپنی 2024 میں کمپیوٹرز کو اے آئی سے لیس کرنا چاہتی ہے،تاہم نئے لیپ ٹاپس اور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز کے لیے کی بورڈ میں ایک بڑی تبدیلی کی جا رہی ہے۔

    اگر آپ نئے ونڈوز کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کو خریدیں گے تو کی بورڈ پر ایک نیا بٹن نظر آئے گااسے کو پائلٹ کی (Copilot key) کا نام دیا گیا ہے جس پر کلک کرکے مائیکرو سافٹ کے اے آئی کو پائلٹ پروگرام تک رسائی حاصل ہوگی۔

    بلے کا انتخابی نشان، آخری کوشش، پی ٹی آئی سپریم کورٹ پہنچ گئی

    کمپنی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق لگ بھگ 30 سال قبل ہم نے کمپیوٹر کی بورڈ میں ونڈوز بٹن متعارف کرایا تھا اور دنیا بھر میں لوگوں نے اس کا استعمال کیا اب کو پائلٹ بٹن کے ذریعے صارفین اے آئی کی دنیا میں داخل ہوسکیں گے۔

    کو پائلٹ بٹن مینیو یا ونڈوز بٹن کی جگہ لے گا جسے دہائیوں قبل متعارف کرایا گیا تھا یہ نیا بٹن بیشتر کی بورڈز کے دائیں جانب کے alt بٹن کے برابر میں نظر آئے گااس بٹن کو کلک کرنے سے ونڈوز 11 میں ونڈوز کو پائلٹ ڈیجیٹل اسسٹنٹ لانچ ہو جائے گا جو چیٹ جی پی ٹی جیسا چیٹ بوٹ ہے-

    امریکی وزیر خارجہ اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کا دورہ کریں گے

  • بلیک ہولز کی تحقیق کیلئے بھارت کا  سیٹلائیٹ  کامیابی سےخلا میں روانہ

    بلیک ہولز کی تحقیق کیلئے بھارت کا سیٹلائیٹ کامیابی سےخلا میں روانہ

    ممبئی: بلیک ہو لز کی تحقیق کیلئے بھارت نے ایک سیٹلائیٹ خلا میں روانہ کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی: انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کی جانب سے ایکس رے پولر میٹر سیٹلائیٹ (ایکسپو سیٹ) کو خلیج بنگال سے یکم جنوری کی صبح کامیابی سے لانچ کیا گیا 260 ٹن وزنی یہ سیٹلائیٹ بلیک ہولز پر تحقیق کرے گا جس کے اسرار اب تک سائنسدان مکمل طور پر سمجھ نہیں سکے ہیں،یہ سیٹلائیٹ 3 کروڑ ڈالرز کی لاگت سے تیار کیا گیا ہے جو بلیک ہولز کے قریب موجود ریڈی ایشن اور دیگر عناصر کے ماخذ جاننے کی کوشش کرے گایہ مشن 5 سال سے زائد عرصے تک کام کرے گا-
    https://x.com/isro/status/1741677490249338900?s=20
    https://x.com/isro/status/1741671127737577505?s=20
    https://x.com/isro/status/1741709142967070725?s=20
    https://x.com/isro/status/1741763165065756902?s=20

    عالمی عدالت انصاف فلسطینیوں کی نسل کشی کو روکنے کیلئے فوری طور پر فیصلہ …

    واضح رہے کہ اس سیٹلائیٹ کے ذریعے بھارت امریکا کے بعد دنیا کا دوسرا ملک بن گیا ہے جس نے بلیک ہولز کی تحقیق کے لیے مشن روانہ کیا ہے ناسا نے 2021 میں اس حوالے سے مشن روانہ کیا تھا،جبکہ 2023 میں بھارت نے چاند کے قطب جنوبی میں چندریان 3 مشن کو اتارنے جبکہ سورج کی جانب مشن بھیجنے میں کامیابی حاصل کی تھی بھارت کی جانب سے 2040 تک چاند پر اپنے پہلے خلا باز کو بھیجنے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے۔

    اسرائیلی کی بمباری ،مسجد اقصیٰ کے سابق امام شہید

  • انسانی ہونٹوں کیطرح دکھنے والا خوبصورت پوداخطرے سے دوچار

    انسانی ہونٹوں کیطرح دکھنے والا خوبصورت پوداخطرے سے دوچار

    ایکواڈور: انسانی ہونٹوں کی طرح دکھنے والا خوبصورت پودا ہاٹ لِپس پلانٹ’ یا ہوکرز لپس پلانٹ ‘ (لبِ طوائف)خطرے سے دوچار ہے۔

    باغی ٹی وی: کوسٹا ریکا، ایکواڈور اور مختلف وسطی اور جنوبی امریکی ممالک کے برساتی جنگلات میں پایا جانے والا انوکھا پودا ”سائیکوٹریا ایلاٹا“ ایک نباتاتی عجوبہ ہے، اس پودے کی خاصیت اس کے خاص پتے ہیں جنہیں ”بریکٹ“ (Bracts) کہا جاتا ہے یہ بریکٹ دو چمکدار، سرخ، ملائم ہونٹوں کی طرح نظر آتے ہیں جو انسانی ہونٹوں سے ملتے جلتے ہیں پودے کا یہ چمکدار اور خوبصورت حصہ انہیں پکے ہوئے پھل کی طرح دکھاتا ہے، جو ہمنگ برڈز اور تتلیوں جیسے پولن لے جانے والے جانداروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں مددگار ہے، تاکہ وہ آکر ان کو چیک کریں،اس طرح یہ پودے مختلف پھولوں کے درمیان اپنا پولن پھیلا کر اپنی افزائش جکرتے ہیں۔

    تحریک انصاف کےرہنماؤں نے الیکشن کمیشن میں مشترکہ درخواست دیدی

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ان پھولوں کے کِھلنے کا موسم دسمبر سے مارچ کے درمیان ہوتا ہے اور وسطی امریکا کے لوگ اسے اپنے محبت کے اظہار کے طور پر کسی کو بطور تحفہ بھی دیتے ہیں اور خصوصی طور پر ویلنٹائن کے دن اس کی مانگ میں اضافہ ہوجاتا ہے جب کہ اس کے پتے جِلدی امراض کی مختلف بیماریوں میں بھی استعمال ہوتے ہیں،اگرچہ اس پودے کے اصلی پھول چھوٹے اور ستاروں کی شکل کے ہوتے ہیں، لیکن حیرت انگیز بریکٹ کی طرح توجہ حاصل کرنے والے نہیں ہوتے،اس کے پھول سفید اور خوشبودار ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی سے، اس پودے کی نسل اب غائب ہونے لگی ہے، موسمیاتی تبدیلیوں نے جہاں پودوں اور جانوروں کی مختلف اقسام کو خطرے میں ڈال دیا ہے وہیں یہ پودا بھی موسمیاتی تبدیلیوں اور جنگلات کی کٹائی کی وجہ سے ختم ہوتا جارہا ہے جسے بچانے کی سخت ضرورت ہے۔

    آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم کیسا رہے گا؟

  • ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال  بچوں کیلئے مضر صحت ہو سکتا ہے

    ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال بچوں کیلئے مضر صحت ہو سکتا ہے

    حالیہ تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال بچوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے-

    باغی ٹی وی : ہمارے ہاتھ جراثیم کو سب سے زیادہ تیزی سے پکڑتے ہیں۔ ہم روزمرہ کی سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے ہاتھوں کا ہی استعمال کرتے ہیں تاہم انفیکشن سے بچنے کے لیے اپنے ہاتھوں کو لگاتار دھونا اور بھی ضروری ہو جاتا ہے،طبی ماہرین ہر تھوڑی دیر بعد ہاتھ دھونے کو ترجیح دیتے ہیں، اس طرح ہینڈ سینیٹائزر اس بات کو یقینی بنانے کے بھی کام آتے ہیں کہ آپ کے ہاتھ جراثیم سے پاک اور محفوظ رہیں،آج کل نہ صرف بڑوں بلکہ بچوں میں بھی ہاتھوں کو جراثیم سے بچانے کے لیے ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال عام ہوچکا ہے۔

    حالیہ رپورٹ میں ہینڈ سینیٹائزر سے متعلق امریکی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اور پریوینشن کے محققین نے دریافت کیا ہے کہ بچے عام طور پر ہینڈ سینیٹائزر میں موجود مادوں کو نگلنے کے عادی ہوجاتے ہیں جس کے نتیجے میں سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں محققین نے ہینڈ سینیٹائزر نگلنے والے بچوں میں تیزابیت، ایپنیا اور کوما جیسے سنگین اثرات کا پتہ لگایا ہے۔

    ایرانی کمانڈر میجر جنرل رضا موسوی کی تہران میں تدفین کر دی گئی

    اس تحقیق میں 2011 سے 2014 کے دوران 12 سال کی عمر کے بچوں میں زہریلے مراکز کی جانب سے رپورٹ کیے گئے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا تاکہ امریکہ میں بچوں کے الکحل سینیٹائزر کے اخراج کا مطالعہ کیا جا سکے،ہینڈ سینی ٹائزر دو طرح کے ہوتے ہیں، ایک الکوحل ہینڈ سینیٹائزر اور دوسرا نان الکوحل سینی ٹائزر۔

    تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ 6 سے 12 سال کی عمر کے بچوں کو جان بوجھ کر الکحل ہینڈ سینی ٹائزرز کا استعمال کرنا پڑا۔ 2011 سے 2014 کے دوران 12 سال کی عمر کے بچوں میں کل 70،669 ہینڈ سینی ٹائزر ایکسپوزر کی اطلاع ملی، جن میں سے 65،293 میں 92 فیصد شراب نوشی اور 85،376 فیصد غیر الکوحل ایکسپوزر تھے یہ بھی نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ بڑے بچوں میں موسمِ گرما کے مہینوں کے دوران خطرات کم ہوتے ہیں-

    بھارتی حکومت کیجانب سےصحافیوں کے فون کی جاسوسی کا انکشاف

  • جاپان کا مشن کامیابی سے چاند کے مدار میں داخل،ویڈیو

    جاپان کا مشن کامیابی سے چاند کے مدار میں داخل،ویڈیو

    جاپان کا ستمبر میں روانہ ہونے والا مشن چاند کے مدار میں کامیابی سے داخل ہوگیا ہے،جس کے بعد جاپان چاند پر پہنچنے والا دنیا کا 5 واں ملک بننے کے قریب ہے۔

    باغی ٹی وی: جاپان ایرو اسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی (جے اے ایکس اے) کے مطابق 25 دسمبر کو چاند پر بھیجے گئے مشن نے اہم سنگ میل حاصل کر لیا،یہ مشن کامیابی سے چاند کے مدار میں داخل ہوگیا ہے مگر ابھی یہ لینڈ نہیں کرے گا،لگ بھگ ایک ماہ تک یہ مشن چاند کے مدار میں چکر لگاتا رہے گا اور پھر لینڈنگ کی کوشش کرے گا۔

    اسمارٹ لینڈر فار انویسٹی گیٹنگ مون (سلم) نامی یہ مشن چھوٹے اسپیس کرافٹ اور لینڈر پر مشتمل ہے جس کا وزن 200 کلوگرام ہے اس مشن کا بنیادی مقصد منتخب کردہ لینڈنگ کے مقام کے 100 میٹر کے اندر پن پوائنٹ لینڈنگ کی صلاحیت کا اظہار کرنا ہے جاپا نی مشن کو چاند کے استوائی خطے کے ایک چھوٹے گڑھے Shioli کے قریب اتارنے کی کوشش کی جائے گی۔

    جوڑے نے سمندر میں زندگی گزارنے کیلئے تمام جائیداد فروخت کردی

    https://x.com/SLIM_JAXA/status/1739264834594808182?s=20
    یہ پہلی بار ہے جب جاپان کے سرکاری خلائی ادارے کی جانب سے چاند پر مشن بھیجا گیا ہے اس سے قبل ایک نجی جاپانی کمپنی نے کچھ عرصے قبل چاند پر مشن روانہ کیا تھا مگر وہ لینڈنگ میں ناکام رہا تھا مشن کے چاند کے مدار میں داخل ہونے کے بعد جاپانی خلائی ادارے نے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل اس سے قبل امریکا، روس، چین اور بھارت کے مشنز کامیابی سے چاند کی سطح پر اتر چکے ہیں۔

    سعودی عرب میں آج سے 30 دسمبر تک بارشوں کا امکان

  • ناسا نے  کرسمس ٹری سے ملتے جلتے ستاروں  کے جھرمٹ کی تصویر جاری کر دی

    ناسا نے کرسمس ٹری سے ملتے جلتے ستاروں کے جھرمٹ کی تصویر جاری کر دی

    سینکڑوں نوری سال دور ستاروں کا ایک جھرمٹ دیکھا گیا ہے جس کی شکل بالکل کرسمس کے درخت سے ملتی ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق عیسائیوں کے تہوار کرسمس کے موقع پر ناسا نے سبز رنگ کے ’نوجوان‘ ستاروں کے جھرمٹ NGC 2264 کی تصویر جاری کی ہے جسے Christmas Tree Cluster بھی کہا جاتا ہے، کسی کرسمس کے درخت کی طرح دکھنے والا ستاروں کا یہ جھرمٹ 2500 نوری سال کے فاصلے پر ہے ستاروں کے جھرمٹ کی یہ تصویر ناسا کی چاندرا ایکس رے آبزرویٹری کی جانب سے لی گئی ہے۔

    اس ’کرسمس درخت‘ میں کچھ ستارے ہمارے سورج کے سائز کا صرف دسواں حصہ ہیں جبکہ دیگر کئی گنا بڑے ہیں ناسا کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ اس جھرمٹ میں بہت سے ستارے صرف 1 سے 5 ملین سال پرانے ہیں جو اربوں سال زندہ رہنے والے دیگر ستاروں کے مقابلے میں انہیں ’شیرخوار‘ بنا دیتے ہیں-

  • پانی میں زیادہ دیر تک رہنے سے ہاتھوں پر جھڑیاں کیوں پڑتی ہیں؟

    پانی میں زیادہ دیر تک رہنے سے ہاتھوں پر جھڑیاں کیوں پڑتی ہیں؟

    آپ بہت دیر تک ہاتھ پانی میں ڈبو کر رکھیں تو انگلیوں کے پوروں کی جلد سکڑ جاتی ہے اسی طرح بہت دیر پانی میں رہنے پر پیروں کی انگلیوں کے پوروں کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا ہوتا کیوں ہے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ دراصل اس کے پیچھے اعصابی نظام کارفرما ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی : بتایا یہی جاتا ہے کہ انسانی جسم کا سب سے بڑا عضو جگر ہے، مگر حقیقیت یہ ہے کہ جلد انسانی جسم کا سب سے بڑا عضو ہے۔ ایک بالغ شخص کی جلد کا کل وزن لگ بھگ آٹھ پاؤنڈ (تقریباﹰ چار کلو) تک ہوتا ہے اور یہ تقریباﹰ بائیس مربع فٹ تک کے حجم کی حامل ہوتی ہے۔

    جلد جسم کی حرارت برقرار رکھنے کا ایک عمدہ آلہ ہے اور واٹر پروف بھی ہے۔ مگر آپ نے دیکھا ہو گا کہ پانی میں بہت دیر تک ہاتھ موجود رہے یا آپ خود سوئنگ کے لیے کسی تالاب یا کسی سوئمنگ پول میں اتریں تو کچھ وقت میں آپ کے ہاتھوں اور پیروں کے پوروں کی جلد سکڑ جائے گی اور وہاں عارضی جھریاں بیدار ہو جائیں گے یہ کوئی زندگی اور موت کا مسئلہ نہیں ہے اس لیے شاید آپ نے اس کی وجوہات پر غور بھی نہ کیا ہو، مگر اس سے جڑے سائنسی حقائق نہایت دلچسپ ہیں۔

    شمالی کوریا نے ایک بار پھر ایٹمی حملے کی دھمکی دیدی

    پانی میں طویل مدت تک رہنے کے بعد انگلیوں پر جھریاں پڑنے کے عمل کو انگریزی میں ’aquatic wrinkling‘ کہا جاتا ہے ابتدائی طور پر جھریوں کی وجہ جلد میں پانی کے جذب ہونے کو سمجھا جاتا تھا تاہم اب ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ پانی کی وجہ سے انگلیوں میں جھریاں پڑنے کے عمل کے پیچھے دراصل اعصابی نظام کارفرما ہے پانی میں ڈوبنے پر اعصابی نظام جلد کی اوپری تہوں میں خون کی نالیوں میں تھوڑا تغیر لے آتا ہے اس تبدیلی کی وجہ سے جلد سکڑ جاتی ہے اور جھریاں نمایاں ہوجاتی ہیں یہ ردعمل گیلے ماحول میں گرفت کو بڑھانے کیلئے ہوتا ہے اور اشیاء کو بہتر طریقے سے سنبھالنے میں مدد کرتا ہے۔

    مزید برآں جھریاں پڑنے کا یہ عمل ایک خود مختار اعصابی نظام کے تحت ہوتا ہے یہ ان افراد میں نہیں ہوتا ہے جن کی انگلیوں میں کوئی اعصابی حسیات کا نقص ہو بہرحال یہ ایک عارضی اور بے ضرر ردعمل ہے جو جلد کے خشک ہونے کے بعد معمول پر آجاتا ہے۔

    ناسانے یورینس کی دلکش تصاویر جاری کر دیں

    سائنسی تحقیق کے مطابق پانی میں ہاتھ یا پاؤں ڈبونے پر جلد کے بالکل نیچے نظامِ دورانِ خون میں تبدیلی ہوتی ہے اگر اعصابی نظام درست کام کر رہا ہو، تو وہ ہاتھ زیادہ دیر پانی میں ڈوبے رہنے پر خون لانے اور لے جانے والی نالیوں کو سکڑنے کے احکامات دیتا ہے اس کی وجہ سے شریانوں اور وریدوں میں خون کی مقدار کم ہوتی ہے اور وہ سکڑتی ہیں۔ اس لیے جلد جھریوں میں تبدیلی ہوتی ہے۔

    یہ عارضی جھریاں غالباﹰ ارتقائی طور پر فائدہ مند تھیں۔ کچھ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ان جھریوں کی وجہ پانی میں چیزوں کو بہتر گرفت سے پکڑنا ہو سکتی ہے۔ اس حوالے سے چند تجربات بھی کیے گئے ہیں، جن میں سنگ مر مر کو خشک ہاتھوں اور گیلے ہاتھوں اور پھر عارضی جھریوں کی حامل انگلیوں کے ساتھ اٹھایا گیا۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ پانی میں ان جھریوں کی وجہ سے انسانی ہاتھ کی پکڑ بہتر دیکھی گئی ہے-

    اے آئی ٹیکنالوجی موت کےامکانات کی درست پیشگوئی کرسکتا ہے؟

    ایسا ہی پیروں کے ساتھ بھی ہے گیلی زمین پر ننگے پیر چلتے ہوئے انگلیوں پر پیدا ہونے والی یہ عارضی جھریاں پھسلنے سے بچاتی ہیں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر اس عمل کا آغاز ہزاروں لاکھوں برس قبل انسانی جد میں کسی کو بارش میں شکار بننے سے بچنے کے لیے فرار ہونے سے ہوا ہو۔ تاہم دیگر سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان جھریوں سے ہاتھوں اور پیروں کی گرفت پر کچھ فرق نہیں پڑتا اور ان عارضی جھریوں کی پیدائش کی وجہ کچھ اور ہو سکتی ہے۔

  • ناسانے  یورینس کی دلکش تصاویر جاری کر دیں

    ناسانے یورینس کی دلکش تصاویر جاری کر دیں

    امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیمز ویب ٹیلی اسکوپ اب تک کی طاقتور ترین ٹیلی اسکوپ ہے جس نے کائنات کے اب تک چھپے کئی پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے ٹیلی اسکوپ نے ہمارے نظام شمسی کے سیارے یورینس کی دلکش تصاویر جاری کی ہیں-

    باغی ٹی وی: ناسا کی جانب سے جاری کی گئی تصویر کی سب سے خاص بات یورینس کے گرد نظر آنے والے رنگز ہیں جو عام طور پر نظر نہیں آتے ہمارے نظام شمسی کے 7 ویں سیارے یورینس کی پہلی تصویر وائجر 2 نے 1986 میں کھینچی تھی، جس میں یہ شوخ نیلے رنگ کا سیارہ نظر آتا تھا مگر جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے نیئر انفرا ریڈ ٹیکنالوجی کے ذریعے اس سیارے کے آنکھوں سے اوجھل عناصر کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا ہے۔

    ناسا کی جانب سے اپریل میں بھی جیمز ویب سے لی گئی یورینس کی تصویر جاری کی گئی تھی مگر نئی تصویر میں زیادہ تفصیلات موجود ہیں ستمبر میں کھینچی گئی اس نئی تصویر میں یورینس کے رنگز جگمگا رہے ہیں جبکہ اس سیارے کے 27 میں سے کچھ چاند (نیلے نقطے یا بلیو ڈاٹس) بھی دیکھے جا سکتے ہیں اس تصویر کی ایک خاص بات اس کے قطب شمالی کو دکھانا ہے تصویر میں سیارے کی آب و ہوا کی جھلک بھی دیکھی جاسکتی ہے اور قطبی حصے میں طوفان نظر آرہے ہیں۔

    اٹلی میں سیپیوں، مرجان اور سنگ مر مر سے مزین 2300 سال پرانا …

    واضح رہے کہ یہ سیارہ رقبے کے اعتبار سے ہمارے نظام شمسی کا تیسرا جبکہ وزن کے اعتبار سے چوتھا بڑا سیارہ ہے یورینس ایسا منفرد سیارہ ہے جو اپنے مدار کے گرد ترچھے انداز سے گردش کرتا ہے یورینس کا ایک سال زمین کے 84 سال کے برابر ہوتا ہے مگر وہاں کا ایک دن محض 17 گھنٹے کا ہوتا ہےناسا کی جانب سے مستقبل قریب میں ایک مشن یورینس کی جانب بھیجا جائے گا کیونکہ ابھی بھی اس سیارے کے بارے میں کافی کچھ معلوم نہیں۔

    اے آئی ٹیکنالوجی موت کےامکانات کی درست پیشگوئی کرسکتا ہے؟

  • اے آئی ٹیکنالوجی موت کےامکانات کی درست پیشگوئی  کرسکتا ہے؟

    اے آئی ٹیکنالوجی موت کےامکانات کی درست پیشگوئی کرسکتا ہے؟

    آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی نے لوگوں کی زندگیوں میں مستقبل کے واقعات کی پیشین گوئی کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی:DTU، یونیورسٹی آف کوپن ہیگن، ITU، اور امریکہ کی نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کے ایک باہمی تحقیقی منصوبے نے لوگوں کے بارے میں ڈیٹا کی وسیع مقدار کا تجزیہ کرنے کے لیے ChatGPT کی طرح ٹرانسفارمر ماڈلز کی طاقت کا استعمال کیا ہےنتیجے میں آنے والا ماڈل، جسے Life2vec کا نام دیا گیا ہے

    جرنل Nature Computational Science میں شائع تحقیق کےمطابق سائنسدانوں کےخیال میں ایساممکن ہے ،اسی مقصد کے لیے ڈنمارک میں چیٹ جی پی ٹی سے ملتا جلا ایک نیا اے آئی ماڈل تیار کیا گیا ہے،ٹیکنیکل یونیورسٹی کے تیار کردہ life2vec نامی اے آئی ماڈل کو ڈنمارک کی آبادی کے ذاتی ڈیٹا سے تربیت دی گئی، اسے تیار کرنے والی ٹیم کا دعویٰ ہے کہ یہ اے آئی ماڈل کسی فرد کی موت کے امکانات کی پیشگوئی دیگر سسٹمز کے مقابلے میں زیادہ درست کرسکتا ہے۔

    مصنوعی ذہانت، خاص طور پر تحریری زبان کے نمونے کے لیے ڈیزائن کی گئی، نے زندگی کے واقعات کی پیشین گوئی کرنے میں وعدہ دکھایا ہے تحقیق، جس کا خاکہ "انسانی زندگیوں کی پیشین گوئی کرنے کے لیے زندگی کے واقعات کے سلسلے کا استعمال کرتے ہوئے” میں بیان کیا گیا ہےٹرانسفارمر ماڈلز کی صلاحیتوں پر روشنی ڈالتی ہےیہ ماڈل، جیسے ChatGPT، ڈیٹا کو منظم طریقے سے ترتیب دینے اور کسی شخص کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کی پیش گوئی کرنے کے لیے زبان پر کارروائی کرتے ہیں۔

    محققین نے 2008 سے 2020 کے دوران جمع کیے گئے 60 لاکھ افراد کے ڈیٹا کو جمع کرکے ان کی صحت سمیت تعلیم، ڈاکٹروں اور اسپتالوں کے وزٹ، آمدنی، پیشے اور دیگر پہلوؤں کا تجزیہ کیا 35 سے 65 سال کی عمر کے افراد کے ڈیٹا کے ذریعے اے آئی ماڈل کی موت کی پیشگوئیوں کی صلاحیت کا تجزیہ کیا گیا،50 فیصد ڈیٹا ایسے افراد کا تھا جن کا انتقال 2016 سے 2020 کے دوران ہوا، نتائج سے معلوم ہوا کہ یہ اے آئی ماڈل کسی بھی موجودہ سسٹم کے مقابلے میں ایک فرد کی موت کی پیشگوئی11 فیصد زیادہ درست کرسکتا ہے۔

    محققین کے مطابق ہم نے اس ماڈل کو یہ جاننے کے لیے استعمال کیا کہ اے آئی ٹیکنالوجی ماضی کے واقعات اور حالات کو مدنظر رکھ کر کس حد تک مستقبل کے واقعات کی پیشگوئی کرسکتی ہے، زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اے آئی ماڈل نے زیادہ تر پیشگوئیاں اپنے طور پر نہیں کیں بلکہ ڈیٹا کو مدنظر رکھ کر جوابات دئیے یہ اے آئی ماڈل کسی شخصی ٹیسٹ کے نتائج، آئندہ 4 سال میں موت کے امکانات اور متعدد دیگر چیزوں کی پیشگوئی کر سکتا ہے۔

  • اٹلی میں  سیپیوں، مرجان اور  سنگ مر مر سے مزین 2300 سال پرانا کمرا دریافت

    اٹلی میں سیپیوں، مرجان اور سنگ مر مر سے مزین 2300 سال پرانا کمرا دریافت

    روم:اٹلی کے دارالحکومت روم میں 2300 سال پرانا کمرا دریافت کیا گیا ہے –

    روم کی پیلیٹائن ہل کے پہلو میں پانچ سال کی کھدائی سے گزشتہ ہفتے خزانہ برآمد ہوا جب ماہرین آثار قدیمہ نے پہلی یا دوسری صدی قبل مسیح کے آس پاس کا ایک ڈیلکس ضیافت کا کمرہ دریافت کیا،تقریباً 2300 سال پرانا یہ کام رومن فورم کے قریب واقع ایک بڑی اشرافیہ کی حویلی کا حصہ ہے، جس کی 2018 سے کھدائی جاری ہے۔

    یہ ایک قدیم محل کا کمرا تھا اور ماہرین آثار قدیمہ کی جانب سے 2018 سے اس مقام کی کھدائی کا کام جاری تھا جس کے دوران یہ دریافت ہوئی، ماہرین کے مطابق یہ کمرا 23 سو سال پرانا ہے 5 میٹر (16.4 فٹ)بڑے اس کمرے کی دیوار پر موتیوں، سیپیوں، مرجان، سنگ مر مر اور قیمتی گلاس سے دنگ کر دینے والی نقاشی کی گئی ہے،جو اب بھی محفوظ ہے یہ دریافت نقاشی کے محفوظ ہونے کی وجہ سے خاص نہیں بلکہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ وہاں اس عہد کی بری اور بحری جنگوں کی کامیابیوں کو نقاشی میں بیان کیا گیا ہے۔

    اسرائیل کی جارحیت جاری، شمالی غزہ کے تمام اسپتال غیر فعال ہو گئے

    فتوحات کی اس عکاسی نے ماہرین کو حیران کر دیا اور ان کا کہنا تھا کہ دیواروں کے مناظر حقیقی مقامات کے بھی ہو سکتے ہیں ماہرین کی جانب سے اب یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ نقاشی کے لیے مرجان کو بحیرہ روم سے حاصل کیا گیا یا بحیرہ احمر سے اسے حاصل کیا گیا ہاں موجود ایک نایاب نیلگوں پلیٹ میں جو ڈیزائن دکھایا گیا ہے وہ قدیم مصر کے شہر اسکندریہ سے لیا گیا۔
    ittaly
    فوٹو:Emanuele Antonio Minerva
    انہوں نے کہا کہ قدیم عہد میں طاقتور خاندان اس جگہ اکٹھے ہوتے ہوں گے اور وہاں مہمانوں کو اپنی حیثیت سے متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہوں گے وہاں دیواروں میں ایسے پائپس بھی موجود ہیں جہاں سے پانی فواروں تک پہنچتا ہوگا اور مختلف کھیل کھیلے جاتے ہوں گے اس طرح کے کمرے قدیم روم میں بہت عام تھے مگر نقاشی سے سجی محفوظ دیوار نے اس دریافت کو خاص بنایا ہے۔

    حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ جنگ بندی مذاکرات کیلئے مصر پہنچ گئے

    ماہرین کو توقع ہے کہ جنوری 2024 میں اس مقام کو عوام کے لیے کھول دیا جائے گا ان کی جانب سے اس مقام کی کھدائی کا کام بھی جاری رہے گا تاکہ وہاں کے مزید راز دریافت ہوسکیں۔