Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • ناسا نے  کرسمس ٹری سے ملتے جلتے ستاروں  کے جھرمٹ کی تصویر جاری کر دی

    ناسا نے کرسمس ٹری سے ملتے جلتے ستاروں کے جھرمٹ کی تصویر جاری کر دی

    سینکڑوں نوری سال دور ستاروں کا ایک جھرمٹ دیکھا گیا ہے جس کی شکل بالکل کرسمس کے درخت سے ملتی ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق عیسائیوں کے تہوار کرسمس کے موقع پر ناسا نے سبز رنگ کے ’نوجوان‘ ستاروں کے جھرمٹ NGC 2264 کی تصویر جاری کی ہے جسے Christmas Tree Cluster بھی کہا جاتا ہے، کسی کرسمس کے درخت کی طرح دکھنے والا ستاروں کا یہ جھرمٹ 2500 نوری سال کے فاصلے پر ہے ستاروں کے جھرمٹ کی یہ تصویر ناسا کی چاندرا ایکس رے آبزرویٹری کی جانب سے لی گئی ہے۔

    اس ’کرسمس درخت‘ میں کچھ ستارے ہمارے سورج کے سائز کا صرف دسواں حصہ ہیں جبکہ دیگر کئی گنا بڑے ہیں ناسا کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ اس جھرمٹ میں بہت سے ستارے صرف 1 سے 5 ملین سال پرانے ہیں جو اربوں سال زندہ رہنے والے دیگر ستاروں کے مقابلے میں انہیں ’شیرخوار‘ بنا دیتے ہیں-

  • پانی میں زیادہ دیر تک رہنے سے ہاتھوں پر جھڑیاں کیوں پڑتی ہیں؟

    پانی میں زیادہ دیر تک رہنے سے ہاتھوں پر جھڑیاں کیوں پڑتی ہیں؟

    آپ بہت دیر تک ہاتھ پانی میں ڈبو کر رکھیں تو انگلیوں کے پوروں کی جلد سکڑ جاتی ہے اسی طرح بہت دیر پانی میں رہنے پر پیروں کی انگلیوں کے پوروں کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا ہوتا کیوں ہے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ دراصل اس کے پیچھے اعصابی نظام کارفرما ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی : بتایا یہی جاتا ہے کہ انسانی جسم کا سب سے بڑا عضو جگر ہے، مگر حقیقیت یہ ہے کہ جلد انسانی جسم کا سب سے بڑا عضو ہے۔ ایک بالغ شخص کی جلد کا کل وزن لگ بھگ آٹھ پاؤنڈ (تقریباﹰ چار کلو) تک ہوتا ہے اور یہ تقریباﹰ بائیس مربع فٹ تک کے حجم کی حامل ہوتی ہے۔

    جلد جسم کی حرارت برقرار رکھنے کا ایک عمدہ آلہ ہے اور واٹر پروف بھی ہے۔ مگر آپ نے دیکھا ہو گا کہ پانی میں بہت دیر تک ہاتھ موجود رہے یا آپ خود سوئنگ کے لیے کسی تالاب یا کسی سوئمنگ پول میں اتریں تو کچھ وقت میں آپ کے ہاتھوں اور پیروں کے پوروں کی جلد سکڑ جائے گی اور وہاں عارضی جھریاں بیدار ہو جائیں گے یہ کوئی زندگی اور موت کا مسئلہ نہیں ہے اس لیے شاید آپ نے اس کی وجوہات پر غور بھی نہ کیا ہو، مگر اس سے جڑے سائنسی حقائق نہایت دلچسپ ہیں۔

    شمالی کوریا نے ایک بار پھر ایٹمی حملے کی دھمکی دیدی

    پانی میں طویل مدت تک رہنے کے بعد انگلیوں پر جھریاں پڑنے کے عمل کو انگریزی میں ’aquatic wrinkling‘ کہا جاتا ہے ابتدائی طور پر جھریوں کی وجہ جلد میں پانی کے جذب ہونے کو سمجھا جاتا تھا تاہم اب ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ پانی کی وجہ سے انگلیوں میں جھریاں پڑنے کے عمل کے پیچھے دراصل اعصابی نظام کارفرما ہے پانی میں ڈوبنے پر اعصابی نظام جلد کی اوپری تہوں میں خون کی نالیوں میں تھوڑا تغیر لے آتا ہے اس تبدیلی کی وجہ سے جلد سکڑ جاتی ہے اور جھریاں نمایاں ہوجاتی ہیں یہ ردعمل گیلے ماحول میں گرفت کو بڑھانے کیلئے ہوتا ہے اور اشیاء کو بہتر طریقے سے سنبھالنے میں مدد کرتا ہے۔

    مزید برآں جھریاں پڑنے کا یہ عمل ایک خود مختار اعصابی نظام کے تحت ہوتا ہے یہ ان افراد میں نہیں ہوتا ہے جن کی انگلیوں میں کوئی اعصابی حسیات کا نقص ہو بہرحال یہ ایک عارضی اور بے ضرر ردعمل ہے جو جلد کے خشک ہونے کے بعد معمول پر آجاتا ہے۔

    ناسانے یورینس کی دلکش تصاویر جاری کر دیں

    سائنسی تحقیق کے مطابق پانی میں ہاتھ یا پاؤں ڈبونے پر جلد کے بالکل نیچے نظامِ دورانِ خون میں تبدیلی ہوتی ہے اگر اعصابی نظام درست کام کر رہا ہو، تو وہ ہاتھ زیادہ دیر پانی میں ڈوبے رہنے پر خون لانے اور لے جانے والی نالیوں کو سکڑنے کے احکامات دیتا ہے اس کی وجہ سے شریانوں اور وریدوں میں خون کی مقدار کم ہوتی ہے اور وہ سکڑتی ہیں۔ اس لیے جلد جھریوں میں تبدیلی ہوتی ہے۔

    یہ عارضی جھریاں غالباﹰ ارتقائی طور پر فائدہ مند تھیں۔ کچھ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ان جھریوں کی وجہ پانی میں چیزوں کو بہتر گرفت سے پکڑنا ہو سکتی ہے۔ اس حوالے سے چند تجربات بھی کیے گئے ہیں، جن میں سنگ مر مر کو خشک ہاتھوں اور گیلے ہاتھوں اور پھر عارضی جھریوں کی حامل انگلیوں کے ساتھ اٹھایا گیا۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ پانی میں ان جھریوں کی وجہ سے انسانی ہاتھ کی پکڑ بہتر دیکھی گئی ہے-

    اے آئی ٹیکنالوجی موت کےامکانات کی درست پیشگوئی کرسکتا ہے؟

    ایسا ہی پیروں کے ساتھ بھی ہے گیلی زمین پر ننگے پیر چلتے ہوئے انگلیوں پر پیدا ہونے والی یہ عارضی جھریاں پھسلنے سے بچاتی ہیں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر اس عمل کا آغاز ہزاروں لاکھوں برس قبل انسانی جد میں کسی کو بارش میں شکار بننے سے بچنے کے لیے فرار ہونے سے ہوا ہو۔ تاہم دیگر سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان جھریوں سے ہاتھوں اور پیروں کی گرفت پر کچھ فرق نہیں پڑتا اور ان عارضی جھریوں کی پیدائش کی وجہ کچھ اور ہو سکتی ہے۔

  • ناسانے  یورینس کی دلکش تصاویر جاری کر دیں

    ناسانے یورینس کی دلکش تصاویر جاری کر دیں

    امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیمز ویب ٹیلی اسکوپ اب تک کی طاقتور ترین ٹیلی اسکوپ ہے جس نے کائنات کے اب تک چھپے کئی پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے ٹیلی اسکوپ نے ہمارے نظام شمسی کے سیارے یورینس کی دلکش تصاویر جاری کی ہیں-

    باغی ٹی وی: ناسا کی جانب سے جاری کی گئی تصویر کی سب سے خاص بات یورینس کے گرد نظر آنے والے رنگز ہیں جو عام طور پر نظر نہیں آتے ہمارے نظام شمسی کے 7 ویں سیارے یورینس کی پہلی تصویر وائجر 2 نے 1986 میں کھینچی تھی، جس میں یہ شوخ نیلے رنگ کا سیارہ نظر آتا تھا مگر جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے نیئر انفرا ریڈ ٹیکنالوجی کے ذریعے اس سیارے کے آنکھوں سے اوجھل عناصر کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا ہے۔

    ناسا کی جانب سے اپریل میں بھی جیمز ویب سے لی گئی یورینس کی تصویر جاری کی گئی تھی مگر نئی تصویر میں زیادہ تفصیلات موجود ہیں ستمبر میں کھینچی گئی اس نئی تصویر میں یورینس کے رنگز جگمگا رہے ہیں جبکہ اس سیارے کے 27 میں سے کچھ چاند (نیلے نقطے یا بلیو ڈاٹس) بھی دیکھے جا سکتے ہیں اس تصویر کی ایک خاص بات اس کے قطب شمالی کو دکھانا ہے تصویر میں سیارے کی آب و ہوا کی جھلک بھی دیکھی جاسکتی ہے اور قطبی حصے میں طوفان نظر آرہے ہیں۔

    اٹلی میں سیپیوں، مرجان اور سنگ مر مر سے مزین 2300 سال پرانا …

    واضح رہے کہ یہ سیارہ رقبے کے اعتبار سے ہمارے نظام شمسی کا تیسرا جبکہ وزن کے اعتبار سے چوتھا بڑا سیارہ ہے یورینس ایسا منفرد سیارہ ہے جو اپنے مدار کے گرد ترچھے انداز سے گردش کرتا ہے یورینس کا ایک سال زمین کے 84 سال کے برابر ہوتا ہے مگر وہاں کا ایک دن محض 17 گھنٹے کا ہوتا ہےناسا کی جانب سے مستقبل قریب میں ایک مشن یورینس کی جانب بھیجا جائے گا کیونکہ ابھی بھی اس سیارے کے بارے میں کافی کچھ معلوم نہیں۔

    اے آئی ٹیکنالوجی موت کےامکانات کی درست پیشگوئی کرسکتا ہے؟

  • اے آئی ٹیکنالوجی موت کےامکانات کی درست پیشگوئی  کرسکتا ہے؟

    اے آئی ٹیکنالوجی موت کےامکانات کی درست پیشگوئی کرسکتا ہے؟

    آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی نے لوگوں کی زندگیوں میں مستقبل کے واقعات کی پیشین گوئی کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی:DTU، یونیورسٹی آف کوپن ہیگن، ITU، اور امریکہ کی نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کے ایک باہمی تحقیقی منصوبے نے لوگوں کے بارے میں ڈیٹا کی وسیع مقدار کا تجزیہ کرنے کے لیے ChatGPT کی طرح ٹرانسفارمر ماڈلز کی طاقت کا استعمال کیا ہےنتیجے میں آنے والا ماڈل، جسے Life2vec کا نام دیا گیا ہے

    جرنل Nature Computational Science میں شائع تحقیق کےمطابق سائنسدانوں کےخیال میں ایساممکن ہے ،اسی مقصد کے لیے ڈنمارک میں چیٹ جی پی ٹی سے ملتا جلا ایک نیا اے آئی ماڈل تیار کیا گیا ہے،ٹیکنیکل یونیورسٹی کے تیار کردہ life2vec نامی اے آئی ماڈل کو ڈنمارک کی آبادی کے ذاتی ڈیٹا سے تربیت دی گئی، اسے تیار کرنے والی ٹیم کا دعویٰ ہے کہ یہ اے آئی ماڈل کسی فرد کی موت کے امکانات کی پیشگوئی دیگر سسٹمز کے مقابلے میں زیادہ درست کرسکتا ہے۔

    مصنوعی ذہانت، خاص طور پر تحریری زبان کے نمونے کے لیے ڈیزائن کی گئی، نے زندگی کے واقعات کی پیشین گوئی کرنے میں وعدہ دکھایا ہے تحقیق، جس کا خاکہ "انسانی زندگیوں کی پیشین گوئی کرنے کے لیے زندگی کے واقعات کے سلسلے کا استعمال کرتے ہوئے” میں بیان کیا گیا ہےٹرانسفارمر ماڈلز کی صلاحیتوں پر روشنی ڈالتی ہےیہ ماڈل، جیسے ChatGPT، ڈیٹا کو منظم طریقے سے ترتیب دینے اور کسی شخص کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کی پیش گوئی کرنے کے لیے زبان پر کارروائی کرتے ہیں۔

    محققین نے 2008 سے 2020 کے دوران جمع کیے گئے 60 لاکھ افراد کے ڈیٹا کو جمع کرکے ان کی صحت سمیت تعلیم، ڈاکٹروں اور اسپتالوں کے وزٹ، آمدنی، پیشے اور دیگر پہلوؤں کا تجزیہ کیا 35 سے 65 سال کی عمر کے افراد کے ڈیٹا کے ذریعے اے آئی ماڈل کی موت کی پیشگوئیوں کی صلاحیت کا تجزیہ کیا گیا،50 فیصد ڈیٹا ایسے افراد کا تھا جن کا انتقال 2016 سے 2020 کے دوران ہوا، نتائج سے معلوم ہوا کہ یہ اے آئی ماڈل کسی بھی موجودہ سسٹم کے مقابلے میں ایک فرد کی موت کی پیشگوئی11 فیصد زیادہ درست کرسکتا ہے۔

    محققین کے مطابق ہم نے اس ماڈل کو یہ جاننے کے لیے استعمال کیا کہ اے آئی ٹیکنالوجی ماضی کے واقعات اور حالات کو مدنظر رکھ کر کس حد تک مستقبل کے واقعات کی پیشگوئی کرسکتی ہے، زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اے آئی ماڈل نے زیادہ تر پیشگوئیاں اپنے طور پر نہیں کیں بلکہ ڈیٹا کو مدنظر رکھ کر جوابات دئیے یہ اے آئی ماڈل کسی شخصی ٹیسٹ کے نتائج، آئندہ 4 سال میں موت کے امکانات اور متعدد دیگر چیزوں کی پیشگوئی کر سکتا ہے۔

  • اٹلی میں  سیپیوں، مرجان اور  سنگ مر مر سے مزین 2300 سال پرانا کمرا دریافت

    اٹلی میں سیپیوں، مرجان اور سنگ مر مر سے مزین 2300 سال پرانا کمرا دریافت

    روم:اٹلی کے دارالحکومت روم میں 2300 سال پرانا کمرا دریافت کیا گیا ہے –

    روم کی پیلیٹائن ہل کے پہلو میں پانچ سال کی کھدائی سے گزشتہ ہفتے خزانہ برآمد ہوا جب ماہرین آثار قدیمہ نے پہلی یا دوسری صدی قبل مسیح کے آس پاس کا ایک ڈیلکس ضیافت کا کمرہ دریافت کیا،تقریباً 2300 سال پرانا یہ کام رومن فورم کے قریب واقع ایک بڑی اشرافیہ کی حویلی کا حصہ ہے، جس کی 2018 سے کھدائی جاری ہے۔

    یہ ایک قدیم محل کا کمرا تھا اور ماہرین آثار قدیمہ کی جانب سے 2018 سے اس مقام کی کھدائی کا کام جاری تھا جس کے دوران یہ دریافت ہوئی، ماہرین کے مطابق یہ کمرا 23 سو سال پرانا ہے 5 میٹر (16.4 فٹ)بڑے اس کمرے کی دیوار پر موتیوں، سیپیوں، مرجان، سنگ مر مر اور قیمتی گلاس سے دنگ کر دینے والی نقاشی کی گئی ہے،جو اب بھی محفوظ ہے یہ دریافت نقاشی کے محفوظ ہونے کی وجہ سے خاص نہیں بلکہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ وہاں اس عہد کی بری اور بحری جنگوں کی کامیابیوں کو نقاشی میں بیان کیا گیا ہے۔

    اسرائیل کی جارحیت جاری، شمالی غزہ کے تمام اسپتال غیر فعال ہو گئے

    فتوحات کی اس عکاسی نے ماہرین کو حیران کر دیا اور ان کا کہنا تھا کہ دیواروں کے مناظر حقیقی مقامات کے بھی ہو سکتے ہیں ماہرین کی جانب سے اب یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ نقاشی کے لیے مرجان کو بحیرہ روم سے حاصل کیا گیا یا بحیرہ احمر سے اسے حاصل کیا گیا ہاں موجود ایک نایاب نیلگوں پلیٹ میں جو ڈیزائن دکھایا گیا ہے وہ قدیم مصر کے شہر اسکندریہ سے لیا گیا۔
    ittaly
    فوٹو:Emanuele Antonio Minerva
    انہوں نے کہا کہ قدیم عہد میں طاقتور خاندان اس جگہ اکٹھے ہوتے ہوں گے اور وہاں مہمانوں کو اپنی حیثیت سے متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہوں گے وہاں دیواروں میں ایسے پائپس بھی موجود ہیں جہاں سے پانی فواروں تک پہنچتا ہوگا اور مختلف کھیل کھیلے جاتے ہوں گے اس طرح کے کمرے قدیم روم میں بہت عام تھے مگر نقاشی سے سجی محفوظ دیوار نے اس دریافت کو خاص بنایا ہے۔

    حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ جنگ بندی مذاکرات کیلئے مصر پہنچ گئے

    ماہرین کو توقع ہے کہ جنوری 2024 میں اس مقام کو عوام کے لیے کھول دیا جائے گا ان کی جانب سے اس مقام کی کھدائی کا کام بھی جاری رہے گا تاکہ وہاں کے مزید راز دریافت ہوسکیں۔

  • سائنس دانوں نے 20 منٹ تک وہیل سے گفتگو کا دعویٰ کردیا

    سائنس دانوں نے 20 منٹ تک وہیل سے گفتگو کا دعویٰ کردیا

    الاسکا: امریکی سائنسدانوں نے امریکی ریاست الاسکا میں ایک وہیل سے 20 منٹ کی طویل بات چیت کے بعد وہیل مچھلی سے گفتگو کو ممکن قرار دے دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : دنیا بھر کے مختلف ماہرین حشریات کئی سال سے ان کوششوں میں مصروف ہیں کہ وہ جانوروں اور حشریات سے بات کریں یا ان کی باتیں سمجھ سکیں، تاہم امریکی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ریاست الاسکا میں پائی جانے والی ہمبیک وہیل سے بات کی ہے۔

    بزنس انسائیڈر کے مطابق تحقیقی جریدے میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا کہ ماہرین نے الاسکا کے پانیوں میں پائی جانے والی وہیل سے گفتگو کے لیے ریکارڈ شدہ آوازیں بھیجیں جنہیں خصوصی سافٹ ویئر کی مدد سے تیار کیا گیا تھا جنوبی مشرقی الاسکا میں 38 سالہ ٹوین نامی وہیل مچھلی نے پہلے سے ریکارڈ شدہ ’ٹیلیفونک کال‘ کا ردِ عمل دیتے ہوئے ایس ای ٹی آئی انسٹی ٹیوٹ اور یوسی ڈیوس کے محققین سے ’گفتگو‘ کی۔

    سارہ انعام کیس، شاہنواز امیر نے سزائے موت کیخلاف اپیل کر دی

    محققین کی ٹیم کا کہنا تھا کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ وہیل مچھلیوں اور انسانوں نے اپنی اپنی زبانوں میں ایک دوسرے سے گفتگو کی،تقریباً 20 منٹ تک وہیل سائنس دانوں کی بھیجی گئی آوازوں سے بات کرتی رہی سائنس دانوں کی جانب سے بھیجی گئی آوازیں مصنوعی طریقے سے خصوصی سافٹ ویئرز کے ذریعے تیار کی گئی تھیں، جنہیں ماہرین دیگر جانوروں کی آوازیں تیار کرنے کے لیے بھی استعمال کر رہے ہیں ماہرین کا بھی کہنا تھا کہ یہ آگے چل کر مستقبل میں دوسری دنیا کی مخلوقات سے گفتگو کرنے کی صلاحیت کے امکانات کو بھی روشن کرتا ہے۔

    عالمی بینک کی پاکستان کیلئے 35 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری

    سائنسدانوں نے خیرمقدم پر مبنی مخصوص قسم کی کال جسے whup/throp کہا جاتا ہے، پانی کے اندر نشر کی جسے سنتے ہی ایک وہیل مچھلی کشتی کے پاس آئی اور آواز کے جواب میں خود بھی خیر مقدم پر مبنی آواز کے ذریعے ردعمل دینے لگی۔

  • انسانوں کو زمین سے باہر نکل کر چاند پر بیس اور مریخ پر شہر تعمیر کرنے چاہئیں،ایلون مسک

    انسانوں کو زمین سے باہر نکل کر چاند پر بیس اور مریخ پر شہر تعمیر کرنے چاہئیں،ایلون مسک

    ٹیسلا،ایکس اور اسپیس ایکس کے سی ای او ایلون مسک کا ماننا ہے کہ انسانوں کو زمین سے باہر نکل کر چاند پر بیس اور مریخ پر شہر تعمیر کرنے چاہیے۔

    باغی ٹی وی : ایلون مسک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ انسانوں کو جلد از جلد چاند اور مریخ پر دیکھنے کے خواہشمند ہیں، 1969 میں اپولو 11 مشن بہت اہم تھا جب انسانوں نے پہلی بار چاند کی سطح پر قدم رکھا تھا۔
    https://x.com/elonmusk/status/1736501431610314798?s=20
    ایلون مسک نے کہا کہ یہ مایوس کن ہے کہ انسانوں کو چاند پر آخری بار اترے 50 سال ہوگئے ہیں، 20 ویں صدی کے شروع میں انسانوں کی پہلی پرواز کے محض 66 سال بعد ہم چاند پر پہنچ گئے تھے، مگر گزشتہ 50 سال میں ہم نے دوبارہ چاند پر جانے کی کوشش نہیں کی، یہ تہذیب کے طور پر ہمارا اعلیٰ آبی نشان نہیں ہو سکتا انسانوں کو نہ صرف چاند پر ایک بیس اور مریخ پر شہر تعمیر کرنے چاہیے بلکہ ستاروں تک پہنچنا چاہیے۔

    2024 اے آئی ٹیکنالوجی کا سال ہے،بل گیٹس

    خیال رہے کہ 1969 میں اپالو 11 مشن نے پہلی بار انسانوں کو چاند پر اتارا۔ خلاباز نیل آرمسٹرانگ اور لونر ماڈیول پائلٹ بز ایلڈرین نے 20 جولائی 1969 کو اپولو لونر ماڈیول ایگل کو لینڈ کیا اور آرمسٹرانگ چھ گھنٹے اور 39 منٹ بعد 21 جولائی کو چاند کی سطح پر قدم رکھنے والے پہلے شخص ہیں-

    واضح رہے کہ ایلون مسک برسوں سے انسانوں کو مریخ پر بسانے کا عزم ظاہر کرتے رہے ہیں، اگست 2022 میں ایک جریدے کے لیے تحریر کیے گئے مضمون میں ایلون مسک نے کہا تھا کہ انسانی تہذیب کو دیگر سیاروں تک جانے کے قابل ہونا چاہیے، اگر زمین رہائش کے قابل نہ رہے تو ہمیں ایک خلائی طیارے سے نئے گھر کی جانب پرواز کرنا ہوگا، اس مقصد کے حصول کے لیے پہلا قدم خلائی سفر کے اخراجات کو کم کرنا ہے اور اسی لیے انہوں نے اسپیس ایکس کی بنیاد رکھی، وہ انسانی تہذیب کو بجھتی ہوئی شمع کی طرح دیکھ رہے ہیں اور ہمیں اپنی بقا کے لیے دیگر سیاروں کا رخ کرنے کی ضرورت ہے، ان کی انسانوں کے لیے سب سے بڑی توقع یہ ہے کہ وہ مریخ میں ایک مستحکم شہر کو تعمیر کرسکیں۔

    ناسا نے خلا میں 3 کروڑ 10 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے بلی کی …

    2021 میں مسک نے کہا کہ وہ سٹار شپ راکٹ کے ساتھ مریخ پر ایک مستقل رہائش گاہ قائم کرنا چاہتا ہے جو لوگوں کو سرخ سیارے تک لے جائے گا انہوں نے یہاں تک کہا کہ ہمیں چاند پر بھی مستقل بنیاد رکھنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اب تقریباً نصف صدی ہو چکی ہے جب انسان آخری مرتبہ چاند پر آئے تھے یہ بہت لمبا ہے، ہمیں وہاں واپس جانے اور چاند پر مستقل بنیاد رکھنے کی ضرورت ہے ایک بار پھر، چاند پر مستقل طور پر زیر قبضہ ایک بڑے اڈے کی طرح۔ اور پھر مریخ پر ایک شہر بنائیں تاکہ ایک خلائی سفر کرنے والی تہذیب، ایک کثیر سیاروں کی نسل بن سکے۔

    پادری ہم جنس پرست جوڑوں کیلئے دعائے خیر کر سکتے ہیں،پوپ فرانسس

  • ناسا نے خلا  میں 3 کروڑ 10 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے بلی کی ویڈیو  زمین پر بھیج دی

    ناسا نے خلا میں 3 کروڑ 10 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے بلی کی ویڈیو زمین پر بھیج دی

    امریکی تحقیقاتی ادارے ناسا نے خلا میں 3 کروڑ 10 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے ایک بلی کی ویڈیو زمین پر بھیجی ہے-

    باغی ٹی وی : ناسا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ فاصلہ زمین اور چاند کے درمیان فاصلے سے 80 گنا ہے 15 سیکنڈ کی یہ وڈیو جدید ترین لیزر ٹیکنالوجی کی مدد سے زمین پر بھیجی گئی اس تجربے سے ثابت ہوگیا کہ مریخ پر انسانوں کو آباد کرنے جیسے پیچیدہ مشن کے لیے مطلوب مواصلاتی رابطہ ممکن ہے۔
    https://x.com/NASA/status/1736900843813605759?s=20
    ناسا ن ترجما ن نے پیر کو اعلان کیا کہ اس نے زمین سے 19 ملین میل (31 ملین کلومیٹر) دور ایک خلائی جہاز پر ایک بلی کی ہائی ڈیفینیشن (ایچ ڈی) ویڈیو زمین پر بھیجنے کے لیے جدید ترین لیزر مواصلاتی نظام کا استعمال کیا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ٹیٹرز (Taters) نامی ٹیبی نسل کی بلی کی 15 سیکنڈ دورانیے کی ویڈیو بیرونی خلا (Deep Space) سے نشر ہونے والی پہلی ویڈیو ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مریخ پر انسانوں کو بھیجنے جیسے پیچیدہ مشنز کے لیے درکار اعلیٰ ڈیٹا ریٹ مواصلات کو منتقل کرنا ممکن ہے۔

    "برطانوی خبررساں ادارے ” انڈیپنڈنٹ اردو” کے مطابق مریخ اور مشتری کے درمیان قیمتی دھاتوں کے حامل چند شہاب ہائے ثاقب کے بارے میں تحقیق کرنے والے خلائی جہاز ”سائیکی“ سے بھیجا جانے والا اینکوڈیڈ انفرا ریڈ سگنل سان ڈیاگو کائونٹی میں قائم رس گاہ میں موصول ہوا،لانچ سے پہلے اپ لوڈ کیے گئے ویڈیو کلپ میں اس بلی کو دیکھا جا سکتا ہے، جو ایک صوفے پر لیزر لائٹ کا پیچھا کر رہی ہے اس ویڈیو میں ٹیسٹ گرافکس اوورلے بھی دیکھے جا سکتے ہیں، جن میں خلائی جہاز سائکی کے مدار میں راستے، لیزر اور اس کے ڈیٹا کے بارے میں تکنیکی معلومات شامل ہیں۔

    جنوبی کیلیفورنیا کی جیٹ پروپلژن لیباریٹری کے ڈیمو پروجیکٹ مینیجر بل کلپسٹین کہتے ہیں کہ اس تجربے کا مقصد بہت بڑے فاصلوں تک ایچ ڈی وڈیوز بھیجنے کے امکانات کا جائزہ لینا تھا-

    ناسا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مریخ پر انسانوں کو آباد کرنے جیسے پیچیدہ خلائی مشنز کے لیے انتہائی فاصلوں سے رابطہ کرنے کا نظام تیز ترین اور خامیوں سے پاک ہونا چاہیےخلائی جہاز عام طور پر ریڈیو سگنلز استعمال کرتے ہیں جدید ترین ٹیکنالوجیز کی مدد سے رابطے کی رفتار میں 10 تا 100 گنا اضافہ ممکن ہے،اس ہائی ڈیفینیشن ویڈیو کو 267 میگا بٹس فی سیکنڈ کی رفتار سے زمین پر بھیجنے میں 101 سیکنڈ لگے، جو گھریلو براڈ بینڈ کنکشنز کے مقابلے میں تیز ترین ہے۔

    جے پی ایل میں پروجیکٹ کے ریسیور الیکٹرانک لیڈ ریان روگالن نے بتایا کہ درحقیقت پالومار میں ویڈیو موصول ہونے کے بعد اسے انٹرنیٹ پر جے پی ایل کو بھیجا گیا اور یہ کنکشن بیرونی خلا سے آنے والے سگنل کے مقابلے میں سست تھا۔

    اس سوال کے جواب میں کہ آخر بلی کی ویڈیو ہی کیوں بھیجی گئی؟ جے پی ایل نے بتایا کہ اس کا ایک تاریخی تعلق ہے، جب 1920 کی دہائی میں ٹیلی ویژن میں امریکیوں کی دلچسپی بڑھنے لگی تو فیلکس دی کیٹ کے مجسمے کو آزمائشی تصویر کے طور پر نشر کیا گیا تھا۔

  • اگر ثقافت کو بچانا ہے تو… ایلون مسک   کا اٹلی کی ماؤں کو مشورہ

    اگر ثقافت کو بچانا ہے تو… ایلون مسک کا اٹلی کی ماؤں کو مشورہ

    روم: ٹیسلا،اسپیس ایکس اور ایکس کے سی ای او ایلون مسک نے اٹلی کی ماؤں سے زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کر نے کا مطالبہ کر دیا-

    باغی ٹی وی:ٹیسلا کے مالک ایلون مسک نے اٹلی میں کم شرح پیدائش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئےکہا ہے کہ نقل مکانی کے باعث بڑھتی ہوئی آبادی اصل آبادی نہیں، مقامی آبادی آپ کی نسل چلاتی ہے-

    ایلون مسک نے اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی کی برادرز آف اٹلی پارٹی کی جانب سے منعقدہ کردہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ٹلی کی کم شرح پیدائش سرمایہ کاروں کو روک سکتی ہے، ایلون نےاٹلی کی ماؤں کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے زیادہ سے زیادہ بچے پیدا نہیں کئے تو ان کی اپنی نسل مٹ جائے گی اور اصل اطالوی ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملیں گے۔

    وفاقی دالحکومت ایک ہی دن پے در پے دو ڈکیتی اور قتل کے واقعات

    ایلون مسک نے کہا کہ اصل آبادی وہ ہوتی ہو جو مقامی ہو۔ نقل مکانی کرکے اٹلی میں آباد ہونے والے وارث نہیں۔ اطالیوں کو اپنی نسل بچانے اور ثقافت بچانے کے لیے زیادہ بچے پیدا کرنا ہوں گے،وہ قانونی طور پر ہجرت کر کے آنے والوں کے حق میں ہیں اور تمام ممالک کو چاہیے کہ وہ ایماندار اور محنتی افراد کو خوش آمدید کہیں چاہے وہ کسی بھی ملک سے آرہے ہوں-

    اس سے قبل ایک انٹرویو میں، مسک نے وضاحت کی تھی کہ اٹلی میں کم شرح پیدائش، جزوی طور پر، غیر ملکی سرمایہ کاری کو خوفزدہ کر رہی ہے اور یہ کہ قانونی ہجرت کو فروغ دینا یورپی ملک کی معیشت کو بحال کرنے اور اسے فروغ دینے کے لیے ایک اچھا آپشن ہو سکتا ہے۔

    نگران وزیر اعلی پنجاب نے گڈز ٹرانسپورٹ کو کرائے کم کرنے کی ڈیڈ لائن دے …

    تاہم، مسک نے نشاندہی کی کہ اٹلی کا ایک بڑا مسئلہ غیر قانونی امیگریشن ہے، اس سال اب تک 153,000 سے زیادہ لوگ سمندر کے راستے اٹلی پہنچے ہیں”اگر یہ غیر قانونی امیگریشن ہے اور کوئی فلٹر نہیں ہے تو آپ کو کیسے پتہ چلے گا کہ کون آ رہا ہے؟-

    ٹیسلا کےمالک نے پیدائش کے بحران کا ذکر کیا اورمصنوعی ذہانت کا اضافہ نسل انسانی کے لیے اہم خطرات میں سے ہیں، پیدائش کی شرح ان میں سے ایک ہے، دوسری جوہری جنگ ہے، پھر AI ایک وجودی خطرہ ہے، ہمیں AI کی آمد سے محتاط رہنا چاہیے، لیکن یہ بڑی حد تک دو دھاری تلوار ہے، AI جادوئی جن ہے،” مسک کہا. "جادو جینز کی کہانی عام طور پر اتنی اچھی نہیں نکلتی، اس لیے محتاط رہیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں۔

    آڈیالہ جیل میں بجلی منقطع

  • چاند ایک ‘نئے دور’ میں داخل ہو گیا ہے،سائنسدان

    چاند ایک ‘نئے دور’ میں داخل ہو گیا ہے،سائنسدان

    کینزس: سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چاند ایک نئے دور میں داخل ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی سائنس دانوں کی جانب سے اس دور کو ’لونر(قمری) اینتھروپوسین‘ کا نام دیا گیا ہےاینتھروپوسین وہ ارضیاتی عمر ہوتی ہے جس کو بطور اس دور کے دیکھا جاتا ہے جب انسانی سرگرمیاں موسم اور ماحول کو اثر انداز کرنے کے لیے غالب رہی ہوں،چاند کے نئے دور کے متعلق محققین کی جانب سے کی جانے والی یہ بحث نیچر جیو سائنس میں بطور کمنٹ آرٹیکل کے طور پر شائع ہوئی۔

    محققین کا کہنا ہے کہ انسانوں نے چاند کی سرزمین کو بدلا ہے اور اس حد تک بدلنے کا ارادہ کیا ہے کہ یہ مصنوعی سیارچوں (سیٹلائٹ) کے نئے دور کے طور پر سمجھا جائےانسانیت کا آئندہ برسوں میں چاند کے ماحول کو مزید تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے، جس میں چاند کی سطح پر واپس جانا اور انسانوں کو دوبارہ اتارنا شامل ہے۔

    محققین کا کہنا ہے کہ انسانیت کی جانب سے کی جانے والی تبدیلیوں کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا یہ واضح کرنے کا ایک اہم طریقہ ہو گا کہ چاند کی سطح غیر متغیر نہیں ہے اور انسانیت نے اسے کافی حد تک تبدیل کر دیا ہے، اس دور کی ابتداء 1959 میں ہوئی جب روس کا لُونا 2 خلائی جہاز چاند کی سطح پر اترنے والا پہلا اسپیس کرافٹ بنا۔

    یونیورسٹی آف کینزس سے تعلق رکھنے والے ارضیاتی محقق اور تحقیق کے سربراہ مصنف جسٹن ہولکومب کا کہنا تھا کہ یہ خیال بالکل زمین پر اینتھروپوسین کے متعلق ہونے والے مباحثے جیسا ہے، جس میں یہ مطالعہ کیا گیا کہ انسانوں نے اس سیارے کو کتنا متاثر کیا ہے،زمین پر اتفاق رائے یہ ہے کہ انتھروپوسین کا آغاز ماضی میں کسی وقت ہوا، چاہے سیکڑوں ہزار سال پہلے ہو یا 1950 کی دہائی میں۔

    شائع ہونے والے اس تبصرے میں سائنس دانوں نے بتایا کہ قمری اینتھروپوسین کی ابتدا ہوچکی ہے لیکن سائنس دان چاند کو بڑے نقصان سے بچانا چاہتے ہیں یا اس کی شناخت کو اس وقت تک قائم رکھنا چاہتے ہیں جب تک سائنس دان انسانی سرگرمیوں کے سبب بننے والے چاند کے ہالے کی پیمائش کر سکیں، اور اس وقت تک بہت دیر ہوچکی ہوگی۔

    انسان چاند کی سطح پر پہلے ہی بہت کچرا پھیلا چکا ہے اس کچرے میں پہلی بار چاند پر اترتے وقت گالف کی گیندیں اور جھنڈے شامل ہیں جو وہاں پر چھوڑے گئے تھے اس میں انسانی فضلا اور دیگر کچرا بھی شامل ہے۔

    مزید یہ کہ انسانیت چاند کی سطح کو تبدیل کرنے کے لئے کام کر رہی ہے، کیونکہ انسان چاند کی سطح کو تبدیل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے اور لوگ اس سطح کو کھود کر وہاں رہنے کی تیاری کر رہے ہیں-

    "ثقافتی عمل چاند پر ارضیاتی عمل کے قدرتی پس منظر کو پیچھے چھوڑنا شروع کر رہے ہیں،” ہالکومب نے کہا۔ "ان عملوں میں حرکت پذیر تلچھٹ شامل ہیں، جسے ہم چاند پر ‘ریگولتھ’ کہتے ہیں۔ عام طور پر، ان عملوں میں meteoroid اثرات اور بڑے پیمانے پر نقل و حرکت کے واقعات شامل ہوتے ہیں۔ تاہم، جب ہم روورز، لینڈرز اور انسانی نقل و حرکت کے اثرات پر غور کرتے ہیں، تو وہ ریگولتھ کو نمایاں طور پر پریشان کرتے ہیں۔

    "نئی خلائی دوڑ کے تناظر میں، چاند کا منظر 50 سالوں میں بالکل مختلف ہو جائے گا متعدد ممالک موجود ہوں گے، جس سے متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا، ہمارا مقصد قمری جامد افسانہ کو دور کرنا اور اپنے اثرات کی اہمیت پر زور دینا ہے، نہ صرف ماضی میں بلکہ جاری اور مستقبل میں۔ ہم چاند کی سطح پر اپنے اثرات کے بارے میں بات چیت شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔”