Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • اے آئی ٹیکنالوجی موت کےامکانات کی درست پیشگوئی  کرسکتا ہے؟

    اے آئی ٹیکنالوجی موت کےامکانات کی درست پیشگوئی کرسکتا ہے؟

    آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی نے لوگوں کی زندگیوں میں مستقبل کے واقعات کی پیشین گوئی کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی:DTU، یونیورسٹی آف کوپن ہیگن، ITU، اور امریکہ کی نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کے ایک باہمی تحقیقی منصوبے نے لوگوں کے بارے میں ڈیٹا کی وسیع مقدار کا تجزیہ کرنے کے لیے ChatGPT کی طرح ٹرانسفارمر ماڈلز کی طاقت کا استعمال کیا ہےنتیجے میں آنے والا ماڈل، جسے Life2vec کا نام دیا گیا ہے

    جرنل Nature Computational Science میں شائع تحقیق کےمطابق سائنسدانوں کےخیال میں ایساممکن ہے ،اسی مقصد کے لیے ڈنمارک میں چیٹ جی پی ٹی سے ملتا جلا ایک نیا اے آئی ماڈل تیار کیا گیا ہے،ٹیکنیکل یونیورسٹی کے تیار کردہ life2vec نامی اے آئی ماڈل کو ڈنمارک کی آبادی کے ذاتی ڈیٹا سے تربیت دی گئی، اسے تیار کرنے والی ٹیم کا دعویٰ ہے کہ یہ اے آئی ماڈل کسی فرد کی موت کے امکانات کی پیشگوئی دیگر سسٹمز کے مقابلے میں زیادہ درست کرسکتا ہے۔

    مصنوعی ذہانت، خاص طور پر تحریری زبان کے نمونے کے لیے ڈیزائن کی گئی، نے زندگی کے واقعات کی پیشین گوئی کرنے میں وعدہ دکھایا ہے تحقیق، جس کا خاکہ "انسانی زندگیوں کی پیشین گوئی کرنے کے لیے زندگی کے واقعات کے سلسلے کا استعمال کرتے ہوئے” میں بیان کیا گیا ہےٹرانسفارمر ماڈلز کی صلاحیتوں پر روشنی ڈالتی ہےیہ ماڈل، جیسے ChatGPT، ڈیٹا کو منظم طریقے سے ترتیب دینے اور کسی شخص کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کی پیش گوئی کرنے کے لیے زبان پر کارروائی کرتے ہیں۔

    محققین نے 2008 سے 2020 کے دوران جمع کیے گئے 60 لاکھ افراد کے ڈیٹا کو جمع کرکے ان کی صحت سمیت تعلیم، ڈاکٹروں اور اسپتالوں کے وزٹ، آمدنی، پیشے اور دیگر پہلوؤں کا تجزیہ کیا 35 سے 65 سال کی عمر کے افراد کے ڈیٹا کے ذریعے اے آئی ماڈل کی موت کی پیشگوئیوں کی صلاحیت کا تجزیہ کیا گیا،50 فیصد ڈیٹا ایسے افراد کا تھا جن کا انتقال 2016 سے 2020 کے دوران ہوا، نتائج سے معلوم ہوا کہ یہ اے آئی ماڈل کسی بھی موجودہ سسٹم کے مقابلے میں ایک فرد کی موت کی پیشگوئی11 فیصد زیادہ درست کرسکتا ہے۔

    محققین کے مطابق ہم نے اس ماڈل کو یہ جاننے کے لیے استعمال کیا کہ اے آئی ٹیکنالوجی ماضی کے واقعات اور حالات کو مدنظر رکھ کر کس حد تک مستقبل کے واقعات کی پیشگوئی کرسکتی ہے، زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اے آئی ماڈل نے زیادہ تر پیشگوئیاں اپنے طور پر نہیں کیں بلکہ ڈیٹا کو مدنظر رکھ کر جوابات دئیے یہ اے آئی ماڈل کسی شخصی ٹیسٹ کے نتائج، آئندہ 4 سال میں موت کے امکانات اور متعدد دیگر چیزوں کی پیشگوئی کر سکتا ہے۔

  • اٹلی میں  سیپیوں، مرجان اور  سنگ مر مر سے مزین 2300 سال پرانا کمرا دریافت

    اٹلی میں سیپیوں، مرجان اور سنگ مر مر سے مزین 2300 سال پرانا کمرا دریافت

    روم:اٹلی کے دارالحکومت روم میں 2300 سال پرانا کمرا دریافت کیا گیا ہے –

    روم کی پیلیٹائن ہل کے پہلو میں پانچ سال کی کھدائی سے گزشتہ ہفتے خزانہ برآمد ہوا جب ماہرین آثار قدیمہ نے پہلی یا دوسری صدی قبل مسیح کے آس پاس کا ایک ڈیلکس ضیافت کا کمرہ دریافت کیا،تقریباً 2300 سال پرانا یہ کام رومن فورم کے قریب واقع ایک بڑی اشرافیہ کی حویلی کا حصہ ہے، جس کی 2018 سے کھدائی جاری ہے۔

    یہ ایک قدیم محل کا کمرا تھا اور ماہرین آثار قدیمہ کی جانب سے 2018 سے اس مقام کی کھدائی کا کام جاری تھا جس کے دوران یہ دریافت ہوئی، ماہرین کے مطابق یہ کمرا 23 سو سال پرانا ہے 5 میٹر (16.4 فٹ)بڑے اس کمرے کی دیوار پر موتیوں، سیپیوں، مرجان، سنگ مر مر اور قیمتی گلاس سے دنگ کر دینے والی نقاشی کی گئی ہے،جو اب بھی محفوظ ہے یہ دریافت نقاشی کے محفوظ ہونے کی وجہ سے خاص نہیں بلکہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ وہاں اس عہد کی بری اور بحری جنگوں کی کامیابیوں کو نقاشی میں بیان کیا گیا ہے۔

    اسرائیل کی جارحیت جاری، شمالی غزہ کے تمام اسپتال غیر فعال ہو گئے

    فتوحات کی اس عکاسی نے ماہرین کو حیران کر دیا اور ان کا کہنا تھا کہ دیواروں کے مناظر حقیقی مقامات کے بھی ہو سکتے ہیں ماہرین کی جانب سے اب یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ نقاشی کے لیے مرجان کو بحیرہ روم سے حاصل کیا گیا یا بحیرہ احمر سے اسے حاصل کیا گیا ہاں موجود ایک نایاب نیلگوں پلیٹ میں جو ڈیزائن دکھایا گیا ہے وہ قدیم مصر کے شہر اسکندریہ سے لیا گیا۔
    ittaly
    فوٹو:Emanuele Antonio Minerva
    انہوں نے کہا کہ قدیم عہد میں طاقتور خاندان اس جگہ اکٹھے ہوتے ہوں گے اور وہاں مہمانوں کو اپنی حیثیت سے متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہوں گے وہاں دیواروں میں ایسے پائپس بھی موجود ہیں جہاں سے پانی فواروں تک پہنچتا ہوگا اور مختلف کھیل کھیلے جاتے ہوں گے اس طرح کے کمرے قدیم روم میں بہت عام تھے مگر نقاشی سے سجی محفوظ دیوار نے اس دریافت کو خاص بنایا ہے۔

    حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ جنگ بندی مذاکرات کیلئے مصر پہنچ گئے

    ماہرین کو توقع ہے کہ جنوری 2024 میں اس مقام کو عوام کے لیے کھول دیا جائے گا ان کی جانب سے اس مقام کی کھدائی کا کام بھی جاری رہے گا تاکہ وہاں کے مزید راز دریافت ہوسکیں۔

  • سائنس دانوں نے 20 منٹ تک وہیل سے گفتگو کا دعویٰ کردیا

    سائنس دانوں نے 20 منٹ تک وہیل سے گفتگو کا دعویٰ کردیا

    الاسکا: امریکی سائنسدانوں نے امریکی ریاست الاسکا میں ایک وہیل سے 20 منٹ کی طویل بات چیت کے بعد وہیل مچھلی سے گفتگو کو ممکن قرار دے دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : دنیا بھر کے مختلف ماہرین حشریات کئی سال سے ان کوششوں میں مصروف ہیں کہ وہ جانوروں اور حشریات سے بات کریں یا ان کی باتیں سمجھ سکیں، تاہم امریکی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ریاست الاسکا میں پائی جانے والی ہمبیک وہیل سے بات کی ہے۔

    بزنس انسائیڈر کے مطابق تحقیقی جریدے میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا کہ ماہرین نے الاسکا کے پانیوں میں پائی جانے والی وہیل سے گفتگو کے لیے ریکارڈ شدہ آوازیں بھیجیں جنہیں خصوصی سافٹ ویئر کی مدد سے تیار کیا گیا تھا جنوبی مشرقی الاسکا میں 38 سالہ ٹوین نامی وہیل مچھلی نے پہلے سے ریکارڈ شدہ ’ٹیلیفونک کال‘ کا ردِ عمل دیتے ہوئے ایس ای ٹی آئی انسٹی ٹیوٹ اور یوسی ڈیوس کے محققین سے ’گفتگو‘ کی۔

    سارہ انعام کیس، شاہنواز امیر نے سزائے موت کیخلاف اپیل کر دی

    محققین کی ٹیم کا کہنا تھا کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ وہیل مچھلیوں اور انسانوں نے اپنی اپنی زبانوں میں ایک دوسرے سے گفتگو کی،تقریباً 20 منٹ تک وہیل سائنس دانوں کی بھیجی گئی آوازوں سے بات کرتی رہی سائنس دانوں کی جانب سے بھیجی گئی آوازیں مصنوعی طریقے سے خصوصی سافٹ ویئرز کے ذریعے تیار کی گئی تھیں، جنہیں ماہرین دیگر جانوروں کی آوازیں تیار کرنے کے لیے بھی استعمال کر رہے ہیں ماہرین کا بھی کہنا تھا کہ یہ آگے چل کر مستقبل میں دوسری دنیا کی مخلوقات سے گفتگو کرنے کی صلاحیت کے امکانات کو بھی روشن کرتا ہے۔

    عالمی بینک کی پاکستان کیلئے 35 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری

    سائنسدانوں نے خیرمقدم پر مبنی مخصوص قسم کی کال جسے whup/throp کہا جاتا ہے، پانی کے اندر نشر کی جسے سنتے ہی ایک وہیل مچھلی کشتی کے پاس آئی اور آواز کے جواب میں خود بھی خیر مقدم پر مبنی آواز کے ذریعے ردعمل دینے لگی۔

  • انسانوں کو زمین سے باہر نکل کر چاند پر بیس اور مریخ پر شہر تعمیر کرنے چاہئیں،ایلون مسک

    انسانوں کو زمین سے باہر نکل کر چاند پر بیس اور مریخ پر شہر تعمیر کرنے چاہئیں،ایلون مسک

    ٹیسلا،ایکس اور اسپیس ایکس کے سی ای او ایلون مسک کا ماننا ہے کہ انسانوں کو زمین سے باہر نکل کر چاند پر بیس اور مریخ پر شہر تعمیر کرنے چاہیے۔

    باغی ٹی وی : ایلون مسک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ انسانوں کو جلد از جلد چاند اور مریخ پر دیکھنے کے خواہشمند ہیں، 1969 میں اپولو 11 مشن بہت اہم تھا جب انسانوں نے پہلی بار چاند کی سطح پر قدم رکھا تھا۔
    https://x.com/elonmusk/status/1736501431610314798?s=20
    ایلون مسک نے کہا کہ یہ مایوس کن ہے کہ انسانوں کو چاند پر آخری بار اترے 50 سال ہوگئے ہیں، 20 ویں صدی کے شروع میں انسانوں کی پہلی پرواز کے محض 66 سال بعد ہم چاند پر پہنچ گئے تھے، مگر گزشتہ 50 سال میں ہم نے دوبارہ چاند پر جانے کی کوشش نہیں کی، یہ تہذیب کے طور پر ہمارا اعلیٰ آبی نشان نہیں ہو سکتا انسانوں کو نہ صرف چاند پر ایک بیس اور مریخ پر شہر تعمیر کرنے چاہیے بلکہ ستاروں تک پہنچنا چاہیے۔

    2024 اے آئی ٹیکنالوجی کا سال ہے،بل گیٹس

    خیال رہے کہ 1969 میں اپالو 11 مشن نے پہلی بار انسانوں کو چاند پر اتارا۔ خلاباز نیل آرمسٹرانگ اور لونر ماڈیول پائلٹ بز ایلڈرین نے 20 جولائی 1969 کو اپولو لونر ماڈیول ایگل کو لینڈ کیا اور آرمسٹرانگ چھ گھنٹے اور 39 منٹ بعد 21 جولائی کو چاند کی سطح پر قدم رکھنے والے پہلے شخص ہیں-

    واضح رہے کہ ایلون مسک برسوں سے انسانوں کو مریخ پر بسانے کا عزم ظاہر کرتے رہے ہیں، اگست 2022 میں ایک جریدے کے لیے تحریر کیے گئے مضمون میں ایلون مسک نے کہا تھا کہ انسانی تہذیب کو دیگر سیاروں تک جانے کے قابل ہونا چاہیے، اگر زمین رہائش کے قابل نہ رہے تو ہمیں ایک خلائی طیارے سے نئے گھر کی جانب پرواز کرنا ہوگا، اس مقصد کے حصول کے لیے پہلا قدم خلائی سفر کے اخراجات کو کم کرنا ہے اور اسی لیے انہوں نے اسپیس ایکس کی بنیاد رکھی، وہ انسانی تہذیب کو بجھتی ہوئی شمع کی طرح دیکھ رہے ہیں اور ہمیں اپنی بقا کے لیے دیگر سیاروں کا رخ کرنے کی ضرورت ہے، ان کی انسانوں کے لیے سب سے بڑی توقع یہ ہے کہ وہ مریخ میں ایک مستحکم شہر کو تعمیر کرسکیں۔

    ناسا نے خلا میں 3 کروڑ 10 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے بلی کی …

    2021 میں مسک نے کہا کہ وہ سٹار شپ راکٹ کے ساتھ مریخ پر ایک مستقل رہائش گاہ قائم کرنا چاہتا ہے جو لوگوں کو سرخ سیارے تک لے جائے گا انہوں نے یہاں تک کہا کہ ہمیں چاند پر بھی مستقل بنیاد رکھنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اب تقریباً نصف صدی ہو چکی ہے جب انسان آخری مرتبہ چاند پر آئے تھے یہ بہت لمبا ہے، ہمیں وہاں واپس جانے اور چاند پر مستقل بنیاد رکھنے کی ضرورت ہے ایک بار پھر، چاند پر مستقل طور پر زیر قبضہ ایک بڑے اڈے کی طرح۔ اور پھر مریخ پر ایک شہر بنائیں تاکہ ایک خلائی سفر کرنے والی تہذیب، ایک کثیر سیاروں کی نسل بن سکے۔

    پادری ہم جنس پرست جوڑوں کیلئے دعائے خیر کر سکتے ہیں،پوپ فرانسس

  • ناسا نے خلا  میں 3 کروڑ 10 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے بلی کی ویڈیو  زمین پر بھیج دی

    ناسا نے خلا میں 3 کروڑ 10 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے بلی کی ویڈیو زمین پر بھیج دی

    امریکی تحقیقاتی ادارے ناسا نے خلا میں 3 کروڑ 10 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے ایک بلی کی ویڈیو زمین پر بھیجی ہے-

    باغی ٹی وی : ناسا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ فاصلہ زمین اور چاند کے درمیان فاصلے سے 80 گنا ہے 15 سیکنڈ کی یہ وڈیو جدید ترین لیزر ٹیکنالوجی کی مدد سے زمین پر بھیجی گئی اس تجربے سے ثابت ہوگیا کہ مریخ پر انسانوں کو آباد کرنے جیسے پیچیدہ مشن کے لیے مطلوب مواصلاتی رابطہ ممکن ہے۔
    https://x.com/NASA/status/1736900843813605759?s=20
    ناسا ن ترجما ن نے پیر کو اعلان کیا کہ اس نے زمین سے 19 ملین میل (31 ملین کلومیٹر) دور ایک خلائی جہاز پر ایک بلی کی ہائی ڈیفینیشن (ایچ ڈی) ویڈیو زمین پر بھیجنے کے لیے جدید ترین لیزر مواصلاتی نظام کا استعمال کیا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ٹیٹرز (Taters) نامی ٹیبی نسل کی بلی کی 15 سیکنڈ دورانیے کی ویڈیو بیرونی خلا (Deep Space) سے نشر ہونے والی پہلی ویڈیو ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مریخ پر انسانوں کو بھیجنے جیسے پیچیدہ مشنز کے لیے درکار اعلیٰ ڈیٹا ریٹ مواصلات کو منتقل کرنا ممکن ہے۔

    "برطانوی خبررساں ادارے ” انڈیپنڈنٹ اردو” کے مطابق مریخ اور مشتری کے درمیان قیمتی دھاتوں کے حامل چند شہاب ہائے ثاقب کے بارے میں تحقیق کرنے والے خلائی جہاز ”سائیکی“ سے بھیجا جانے والا اینکوڈیڈ انفرا ریڈ سگنل سان ڈیاگو کائونٹی میں قائم رس گاہ میں موصول ہوا،لانچ سے پہلے اپ لوڈ کیے گئے ویڈیو کلپ میں اس بلی کو دیکھا جا سکتا ہے، جو ایک صوفے پر لیزر لائٹ کا پیچھا کر رہی ہے اس ویڈیو میں ٹیسٹ گرافکس اوورلے بھی دیکھے جا سکتے ہیں، جن میں خلائی جہاز سائکی کے مدار میں راستے، لیزر اور اس کے ڈیٹا کے بارے میں تکنیکی معلومات شامل ہیں۔

    جنوبی کیلیفورنیا کی جیٹ پروپلژن لیباریٹری کے ڈیمو پروجیکٹ مینیجر بل کلپسٹین کہتے ہیں کہ اس تجربے کا مقصد بہت بڑے فاصلوں تک ایچ ڈی وڈیوز بھیجنے کے امکانات کا جائزہ لینا تھا-

    ناسا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مریخ پر انسانوں کو آباد کرنے جیسے پیچیدہ خلائی مشنز کے لیے انتہائی فاصلوں سے رابطہ کرنے کا نظام تیز ترین اور خامیوں سے پاک ہونا چاہیےخلائی جہاز عام طور پر ریڈیو سگنلز استعمال کرتے ہیں جدید ترین ٹیکنالوجیز کی مدد سے رابطے کی رفتار میں 10 تا 100 گنا اضافہ ممکن ہے،اس ہائی ڈیفینیشن ویڈیو کو 267 میگا بٹس فی سیکنڈ کی رفتار سے زمین پر بھیجنے میں 101 سیکنڈ لگے، جو گھریلو براڈ بینڈ کنکشنز کے مقابلے میں تیز ترین ہے۔

    جے پی ایل میں پروجیکٹ کے ریسیور الیکٹرانک لیڈ ریان روگالن نے بتایا کہ درحقیقت پالومار میں ویڈیو موصول ہونے کے بعد اسے انٹرنیٹ پر جے پی ایل کو بھیجا گیا اور یہ کنکشن بیرونی خلا سے آنے والے سگنل کے مقابلے میں سست تھا۔

    اس سوال کے جواب میں کہ آخر بلی کی ویڈیو ہی کیوں بھیجی گئی؟ جے پی ایل نے بتایا کہ اس کا ایک تاریخی تعلق ہے، جب 1920 کی دہائی میں ٹیلی ویژن میں امریکیوں کی دلچسپی بڑھنے لگی تو فیلکس دی کیٹ کے مجسمے کو آزمائشی تصویر کے طور پر نشر کیا گیا تھا۔

  • اگر ثقافت کو بچانا ہے تو… ایلون مسک   کا اٹلی کی ماؤں کو مشورہ

    اگر ثقافت کو بچانا ہے تو… ایلون مسک کا اٹلی کی ماؤں کو مشورہ

    روم: ٹیسلا،اسپیس ایکس اور ایکس کے سی ای او ایلون مسک نے اٹلی کی ماؤں سے زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کر نے کا مطالبہ کر دیا-

    باغی ٹی وی:ٹیسلا کے مالک ایلون مسک نے اٹلی میں کم شرح پیدائش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئےکہا ہے کہ نقل مکانی کے باعث بڑھتی ہوئی آبادی اصل آبادی نہیں، مقامی آبادی آپ کی نسل چلاتی ہے-

    ایلون مسک نے اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی کی برادرز آف اٹلی پارٹی کی جانب سے منعقدہ کردہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ٹلی کی کم شرح پیدائش سرمایہ کاروں کو روک سکتی ہے، ایلون نےاٹلی کی ماؤں کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے زیادہ سے زیادہ بچے پیدا نہیں کئے تو ان کی اپنی نسل مٹ جائے گی اور اصل اطالوی ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملیں گے۔

    وفاقی دالحکومت ایک ہی دن پے در پے دو ڈکیتی اور قتل کے واقعات

    ایلون مسک نے کہا کہ اصل آبادی وہ ہوتی ہو جو مقامی ہو۔ نقل مکانی کرکے اٹلی میں آباد ہونے والے وارث نہیں۔ اطالیوں کو اپنی نسل بچانے اور ثقافت بچانے کے لیے زیادہ بچے پیدا کرنا ہوں گے،وہ قانونی طور پر ہجرت کر کے آنے والوں کے حق میں ہیں اور تمام ممالک کو چاہیے کہ وہ ایماندار اور محنتی افراد کو خوش آمدید کہیں چاہے وہ کسی بھی ملک سے آرہے ہوں-

    اس سے قبل ایک انٹرویو میں، مسک نے وضاحت کی تھی کہ اٹلی میں کم شرح پیدائش، جزوی طور پر، غیر ملکی سرمایہ کاری کو خوفزدہ کر رہی ہے اور یہ کہ قانونی ہجرت کو فروغ دینا یورپی ملک کی معیشت کو بحال کرنے اور اسے فروغ دینے کے لیے ایک اچھا آپشن ہو سکتا ہے۔

    نگران وزیر اعلی پنجاب نے گڈز ٹرانسپورٹ کو کرائے کم کرنے کی ڈیڈ لائن دے …

    تاہم، مسک نے نشاندہی کی کہ اٹلی کا ایک بڑا مسئلہ غیر قانونی امیگریشن ہے، اس سال اب تک 153,000 سے زیادہ لوگ سمندر کے راستے اٹلی پہنچے ہیں”اگر یہ غیر قانونی امیگریشن ہے اور کوئی فلٹر نہیں ہے تو آپ کو کیسے پتہ چلے گا کہ کون آ رہا ہے؟-

    ٹیسلا کےمالک نے پیدائش کے بحران کا ذکر کیا اورمصنوعی ذہانت کا اضافہ نسل انسانی کے لیے اہم خطرات میں سے ہیں، پیدائش کی شرح ان میں سے ایک ہے، دوسری جوہری جنگ ہے، پھر AI ایک وجودی خطرہ ہے، ہمیں AI کی آمد سے محتاط رہنا چاہیے، لیکن یہ بڑی حد تک دو دھاری تلوار ہے، AI جادوئی جن ہے،” مسک کہا. "جادو جینز کی کہانی عام طور پر اتنی اچھی نہیں نکلتی، اس لیے محتاط رہیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں۔

    آڈیالہ جیل میں بجلی منقطع

  • چاند ایک ‘نئے دور’ میں داخل ہو گیا ہے،سائنسدان

    چاند ایک ‘نئے دور’ میں داخل ہو گیا ہے،سائنسدان

    کینزس: سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چاند ایک نئے دور میں داخل ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی سائنس دانوں کی جانب سے اس دور کو ’لونر(قمری) اینتھروپوسین‘ کا نام دیا گیا ہےاینتھروپوسین وہ ارضیاتی عمر ہوتی ہے جس کو بطور اس دور کے دیکھا جاتا ہے جب انسانی سرگرمیاں موسم اور ماحول کو اثر انداز کرنے کے لیے غالب رہی ہوں،چاند کے نئے دور کے متعلق محققین کی جانب سے کی جانے والی یہ بحث نیچر جیو سائنس میں بطور کمنٹ آرٹیکل کے طور پر شائع ہوئی۔

    محققین کا کہنا ہے کہ انسانوں نے چاند کی سرزمین کو بدلا ہے اور اس حد تک بدلنے کا ارادہ کیا ہے کہ یہ مصنوعی سیارچوں (سیٹلائٹ) کے نئے دور کے طور پر سمجھا جائےانسانیت کا آئندہ برسوں میں چاند کے ماحول کو مزید تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے، جس میں چاند کی سطح پر واپس جانا اور انسانوں کو دوبارہ اتارنا شامل ہے۔

    محققین کا کہنا ہے کہ انسانیت کی جانب سے کی جانے والی تبدیلیوں کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا یہ واضح کرنے کا ایک اہم طریقہ ہو گا کہ چاند کی سطح غیر متغیر نہیں ہے اور انسانیت نے اسے کافی حد تک تبدیل کر دیا ہے، اس دور کی ابتداء 1959 میں ہوئی جب روس کا لُونا 2 خلائی جہاز چاند کی سطح پر اترنے والا پہلا اسپیس کرافٹ بنا۔

    یونیورسٹی آف کینزس سے تعلق رکھنے والے ارضیاتی محقق اور تحقیق کے سربراہ مصنف جسٹن ہولکومب کا کہنا تھا کہ یہ خیال بالکل زمین پر اینتھروپوسین کے متعلق ہونے والے مباحثے جیسا ہے، جس میں یہ مطالعہ کیا گیا کہ انسانوں نے اس سیارے کو کتنا متاثر کیا ہے،زمین پر اتفاق رائے یہ ہے کہ انتھروپوسین کا آغاز ماضی میں کسی وقت ہوا، چاہے سیکڑوں ہزار سال پہلے ہو یا 1950 کی دہائی میں۔

    شائع ہونے والے اس تبصرے میں سائنس دانوں نے بتایا کہ قمری اینتھروپوسین کی ابتدا ہوچکی ہے لیکن سائنس دان چاند کو بڑے نقصان سے بچانا چاہتے ہیں یا اس کی شناخت کو اس وقت تک قائم رکھنا چاہتے ہیں جب تک سائنس دان انسانی سرگرمیوں کے سبب بننے والے چاند کے ہالے کی پیمائش کر سکیں، اور اس وقت تک بہت دیر ہوچکی ہوگی۔

    انسان چاند کی سطح پر پہلے ہی بہت کچرا پھیلا چکا ہے اس کچرے میں پہلی بار چاند پر اترتے وقت گالف کی گیندیں اور جھنڈے شامل ہیں جو وہاں پر چھوڑے گئے تھے اس میں انسانی فضلا اور دیگر کچرا بھی شامل ہے۔

    مزید یہ کہ انسانیت چاند کی سطح کو تبدیل کرنے کے لئے کام کر رہی ہے، کیونکہ انسان چاند کی سطح کو تبدیل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے اور لوگ اس سطح کو کھود کر وہاں رہنے کی تیاری کر رہے ہیں-

    "ثقافتی عمل چاند پر ارضیاتی عمل کے قدرتی پس منظر کو پیچھے چھوڑنا شروع کر رہے ہیں،” ہالکومب نے کہا۔ "ان عملوں میں حرکت پذیر تلچھٹ شامل ہیں، جسے ہم چاند پر ‘ریگولتھ’ کہتے ہیں۔ عام طور پر، ان عملوں میں meteoroid اثرات اور بڑے پیمانے پر نقل و حرکت کے واقعات شامل ہوتے ہیں۔ تاہم، جب ہم روورز، لینڈرز اور انسانی نقل و حرکت کے اثرات پر غور کرتے ہیں، تو وہ ریگولتھ کو نمایاں طور پر پریشان کرتے ہیں۔

    "نئی خلائی دوڑ کے تناظر میں، چاند کا منظر 50 سالوں میں بالکل مختلف ہو جائے گا متعدد ممالک موجود ہوں گے، جس سے متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا، ہمارا مقصد قمری جامد افسانہ کو دور کرنا اور اپنے اثرات کی اہمیت پر زور دینا ہے، نہ صرف ماضی میں بلکہ جاری اور مستقبل میں۔ ہم چاند کی سطح پر اپنے اثرات کے بارے میں بات چیت شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔”

  • 11 ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود سپر نووا کی باقیات کی تصاویر جاری

    11 ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود سپر نووا کی باقیات کی تصاویر جاری

    واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے زمین سے 11 ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود سپر نووا کی باقیات کی تصاویر جاری کر دیں۔

    باغی ٹی وی:ناسا کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر میں زمین سے 11 ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود کیسیوپیا اے (کیس اے) نامی ستارے کے اندر دھول کے خول کو دیکھا جاسکتا ہے جبکہ ٹیلی اسکوپ میں نصب نیئر انفرا ریڈ کیمرا (این آئی آر کیم) نے کیس اے کے باقیات کو عکس بند کیا ہے،تصویر میں کیس اے کی باقیات میں موجود جامنی رنگ کی شے کو واضح دیکھا جا سکتا ہے جو دراصل آئیونائزڈ گیس کی جانب اشارہ کرتی ہے۔
    https://x.com/NASAWebb/status/1734020677311639828?s=20
    ناسا کے مطابق ، ماہرین فلکیات اب کیس اے مطالعہ میں ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ اپریل 2023 میں، Webb’s MIRI (Mid-Infrared Instrument) نے اس باب کا آغاز کیا، جس میں سپرنووا کے باقیات کے اندرونی خول کے اندر نئی اور غیر متوقع خصوصیات کا انکشاف ہوا۔ ان میں سے بہت سی خصوصیات نئی این آئی آر کیم تصویر میں پوشیدہ ہیں، اور ماہرین فلکیات اس کی وجہ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
    nasa
    پرڈو یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈینی مِلیوسیولجوک کا ناسا کی پریس ریلیز میں کہنا تھا کہ کیس اے تقریباً 340 سال قبل دھماکے سے پھٹا جس کے بعد اس کی جگہ شیشے کی باریک کرچیوں جیسی دھاریاں رہ گئی اتنے برس تک کیس اے پر مطالعہ کرنے کے بعد اب معلومات کا حاصل ہونا ناقابلِ یقین ہے یہ معلومات سائنس دانوں کو یہ جاننے میں مدد دے گی کہ یہ ستارہ پھٹا کیسے۔
    nasa
    پرنسٹن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ٹی ٹیمِ نے پریس ریلیز میں کہا کہ کیس اے کی پہلی تصاویر اپریل میں جاری کی گئی تھیں جن میں ایسی تفصیلات سامنے آئیں جن تک سائنس دانوں کو پہلے رسائی نہیں تھی تصویر میں موجود سفید رنگ سِنکروٹرون شعاعوں سے پیدا ہونے والی روشنی ہے، جو مقناطیسی فیلڈ لائنز کے گرد انتہائی تیزی سے گھومتے ہوئے سفر کرنے والے چارجڈ ذرات کے سبب خارج ہو رہی ہے۔

  • پریگنینسی میں خواتین کو متلی اور الٹی کیوں آتی ہے؟تحقیق

    پریگنینسی میں خواتین کو متلی اور الٹی کیوں آتی ہے؟تحقیق

    تمام حاملہ خواتین میں سے تقریباً نصف سے دو تہائی کو کسی حد تک خاص طور پر پہلی سہ ماہی میں مارننگ سکنس کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی علامات میں متلی اور الٹی شامل ہیں-

    باغی ٹی وی : اس مسئلے کے لیے طبی زبان میں مارننگ سکنس (sickness) کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے، کیونکہ یہ بیماری دن کے اوائل میں بدترین ہوتی ہے، لیکن یہ دن یا رات کے کسی بھی وقت حملہ کر سکتی ہے مگر اب تک یہ معلوم نہیں تھا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے،اب پہلی بار اس کی ممکنہ وجہ دریافت کی گئی ہے جس سے اس کے علاج میں مدد مل سکے گی۔

    زیادہ تر خواتین کے لیے، مارننگ سکنس حمل کے چوتھے ہفتے کے آس پاس شروع ہوتی ہے اور 12 سے 14 ہفتوں تک ٹھیک ہو جاتی ہے۔ تاہم، 5 میں سے 1 عورت اپنی دوسری سہ ماہی میں اس بیماری کو برداشت کرتی ہے، اور چند خواتین کو اپنی حمل کی پوری مدت تک متلی اور الٹی کا سامنا کرنا پڑتا ہے زیادہ تر معاملات میں، مارننگ سکنس عورت یا پیدا ہونے والے بچے کو نقصان نہیں پہنچاتی ہے۔ تاہم، شدید مارننگ سکنس جس میں وزن میں کمی اور پانی کی کمی شامل ہے، فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔

    امریکا کی سدرن کیلیفورنیا یونیورسٹی کی اس تحقیق میں انکشاف کیا گیا کہ ایک مخصوص ہارمون حاملہ خواتین میں متلی اور الٹیوں کی شکایت بڑھانے کا باعث بنتا ہے، 80 فیصد حاملہ خواتین کو قے اور متلی جیسے اثرات کا سامنا ہوتا ہے اور کچھ میں اس کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے جس کے باعث اسپتال کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

    مارننگ سکنس کی علامات میں متلی، بھوک میں کمی،قے،نفسیاتی اثرات، جیسے ڈپریشن اور اضطراب شامل ہیں،اس نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ جی ڈی ایف 15 نامی ہارمون کی سطح حمل کی پہلی سہ ماہی کے دوران نمایاں حد تک بڑھ جاتی ہے،تحقیق میں قے اور متلی جیسی علامات کو اس ہارمون کی سطح میں اضافے سے منسلک کیا گیا ہے۔

    یہ ہارمون دماغ کے ایک بہت چھوٹے حصے پر کام کرتا ہے اور متلی اور تکلیف کی نشاندہی کرتا ہے جو خواتین میں قے کا سبب بنتا ہے، حاملہ خواتین جو جی ڈی ایف 15 کے لیے زیادہ حساس ہیں وہ دن میں 50 بار متلی اور قے کا تجربہ کرسکتی ہیں۔

    انگلینڈ کی کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر سٹیفن او راہیلی کا کہنا ہے کہ ماں اس ہارمون کے بارے میں جتنی زیادہ حساس ہو گی، وہ اتنی ہی زیادہ بیمار ہو سکتی ہے،یہ جاننے سے ہمیں ایک اشارہ ملتا ہے کہ ہم اسے ہونے سے کیسے روک سکتے ہیں۔

    خیال کیا جاتا ہے کہ 100 میں سے ایک یا کبھی کبھار تین حاملہ خواتین ایچ جی سے متاثر ہوتی ہیں، ایک ایسی بیماری جو جنین کی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ بہت سی خواتین جو اس کا شکار ہوتی ہیں انھیں پانی کی کمی سے بچنے کے لیے فلیوئڈز کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔

    تحقیق کےمطابق اس ہارمون کی سطح میں کمی یا اس کےافعال کو بلاک کرنے سے مارننگ سکنس کی روک تھام بھی کی جا سکتی ہے ،محققین نے بتایا کہ زیادہ تر حاملہ خواتین کو مارننگ سکنس کا سامنا ہوتا ہے جو خوشگوار تو نہیں ہوتا مگر کچھ خواتین میں اس کی شدت بدترین ہوتی ہے، ہم اب جان چکے ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔

    ہارمونز کی اعلی سطح، بشمول ایسٹروجن، بلڈ پریشر میں اتار چڑھاؤ، خاص طور پر کم بلڈ پریشر، کاربوہائیڈریٹ کی میٹابولزم میں تبدیلی، بہت زیادہ جسمانی اور کیمیائی تبدیلیاں جو حمل کو متحرک کرتی ہیں،کچھ خواتین کو خدشہ ہے کہ الٹی کی کارروائی سے ان کے پیدا ہونے والے بچے کو خطرہ ہو سکتا ہے الٹی اور ریچنگ پیٹ کے پٹھوں میں دباؤ ڈال سکتی ہے اور مقامی طور پر درد اور درد کا سبب بن سکتی ہے، لیکن الٹی کی جسمانی میکانکس بچے کو نقصان نہیں پہنچائیں گی۔

    متعدد مطالعات سے پتہ چلا ہے کہ اعتدال پسند صبح کی بیماری اسقاط حمل کے کم خطرے سے وابستہ ہے تاہم، طویل الٹی (جو پانی کی کمی اور وزن میں کمی کا باعث بنتی ہے) آپ کے بچے کو مناسب غذائیت سے محروم کر سکتی ہے اور آپ کے بچے کا پیدائش کے وقت کم وزن ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے-

    جرنل نیچر میں شائع تحقیق میں محققین کے مطابق جب ماں کے پیٹ میں بچے کی نشوونما ہوتی ہے تو ایک ہارمون کی سطح بڑھتی ہے، ماں کا جسم اس ہارمون کا عادی نہیں ہوتاخاتون کا جسم اس ہارمون کے حوالے سے جتنا زیادہ حساس ہوگا، مارننگ سکنس کی شدت اتنی زیادہ ہوگی۔

    تحقیق کے دوران مادہ چوہوں میں اس ہارمون کی سطح میں کمی لانے سے مارننگ سکنس کی روک تھام کا تجربہ کامیاب رہا تھا،اب تحقیقی ٹیم کی جانب سے اس طریقہ کار کو خواتین میں آزمایا جائے گا تاکہ معلوم ہوسکے کہ یہ طریقہ کار مارننگ سکنس کی روک تھام کے لیے کس حد تک مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

    اگرچہ پہلے سامنے آنے والی طبی تحقیقات سے ہم یہ تو جاننے میں کامیاب ہوئے تھے کہ حمل کے دوران اس کیفیت یا بیماری کو جی ڈی ایف 15 سے منسلک کیا جاسکتا ہے، لیکن اب یہ معلوم ہو پایا ہے کہ ہم اس کے بارے اب تک بہت سی چیزوں سے نا واقف تھے۔

    نیچر نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس نئی تحقیق میں کیمبرج یونیورسٹی، سکاٹ لینڈ، امریکہ اور سری لنکا کے سائنسدانوں نے حصہ لیا، جس سےمعلوم ہوا کہ حمل کےدوران خاتون کی بیماری کا تعلق بچہ دانی میں بننے والے ہارمون کی مقدار سےہےجتنے زیادہ ہار مو ن پیدا ہوں گے اتنی زیادہ بیماری کی علامات ظاہر ہوں گیں۔

    تحقیق میں انہوں نے کیمبرج کے روزی میٹرنٹی ہاسپٹل میں خواتین کا مطالعہ کیا اور پایا کہ جن خواتین میں جینیاتی قسم ایچ جی کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے ان میں ہارمون کی سطح کم ہوتی ہے جبکہ خون کی خرابی بیٹا تھیلیسیمیا میں مبتلا خواتین جو حمل سے قبل جی ڈی ایف 15 کی بہت زیادہ سطح کا سبب بنتی ہیں، ان میں ہارمون کی سطح کم ہوتی ہے۔ انھیں بہت کم متلی یا قے کا سامنا کرنا پڑا۔

    یونیورسٹی آف کیمبرج میڈیکل ریسرچ کونسل میں میٹابولک ڈیزیز یونٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر او راہیلی نے وضاحت کی کہ ہارمون کو ماں کے دماغ میں اس کے انتہائی مخصوص ریسیپٹر تک رسائی سے روکنا بالآخر اس عارضے کے علاج کے لیے ایک مؤثر اور محفوظ طریقہ کی بنیاد بنے گا۔

  • ہماری زمین سے 13 گنا بڑا  سیارہ، جس نے سائنسدانوں کو چکرا کر رکھ دیا

    ہماری زمین سے 13 گنا بڑا سیارہ، جس نے سائنسدانوں کو چکرا کر رکھ دیا

    سائنسدانوں نے ایک ایسا سیارہ دریافت کیا ہے ہماری زمین سے 13 گنا بڑا ہے اور ہمارے سورج سے 9 گنا چھوٹے ستارے کے گرد گھوم رہا ہے، جس نے سائنسدانوں کو چکرا کر رکھ دیا ہے –

    باغی ٹی وی : جرنل سائنس میں شائع تحقیق کے مطابق یہ سیارہ ہماری زمین سے 13 گنا بڑا ہے اور ہمارے سورج سے 9 گنا چھوٹے ستارے کے گرد گھوم رہا ہے، جس نے سائنسدانوں کو چکرا کر رکھ دیا ہے،ویسے تو سیارے کا حجم حیران کن نہیں مگر بہت ٹھنڈے بونے ستارے کے گرد اس کا گھومنا سائنسدانوں کے لیے حیران کن ہے-

    پین اسٹیٹ کے ماہر فلکیات سوراتھ مہادیون نے کہا،کہ "ہم نے ایک ایسا سیارہ دریافت کیا جو اپنے ستارے کے مقابلے بہت بڑا ہے، ایل ایچ ایس 3154 نامی یہ ستارہ زمین سے تقریباً 50 نوری سال کے فاصلے پر ہمارے نسبتاً قریب ہے۔ نوری سال وہ فاصلہ ہے جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے، 5.9 ٹریلین میل (9.5 ٹریلین کلومیٹر)،یہ ستارہ کائنات کے چند سب سے چھوٹے اور ٹھنڈے ستاروں میں سے ایک ہے،سورج اس ستارے سے ہزار گنا زیادہ روشن ہے۔

    اس تحقیق کے مرکزی مصنف اور پرنسٹن یونیورسٹی کے ماہر فلکیات گومنڈور اسٹیفانسن نے کہا کہ یہ بمشکل ایک ستارہ ہے،اس میں ستارہ مانے جانے والے ہائیڈروجن فیوژن کو سپورٹ کرنے کے کٹ آف کے بالکل اوپر ایک ماس ہے۔

    تحقیق میں کہا گیا کہ اس دریافت سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم کائنات کے بارے میں کتنا کم جانتے ہیں، کیونکہ ہم نے کبھی اتنے بڑے سیارے کے اتنے چھوٹے ستارے کے گرد گھومنے کی توقع نہیں کی تھی ستارے گیس اور گرد کے بڑے بادلوں سے تشکیل پاتے ہیں اور یہ بادل اپنی کشش ثقل کے باعث ٹھنڈے اور ٹوٹتے رہتے ہیں نئے بننے والے ستاروں کے گرد گھومتے ہوئے گیس اور گرد کے ٹکڑے بتدریج سیاروں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں مگر اب تک خیال کیا جاتا تھا کہ سیارے بننے کے لیے اس مادے کی مقدار میزبان ستارے کے حجم کے مقابلے میں بہت کم ہوتی ہے۔

    محققین کے مطابق ہم نے کبھی توقع نہیں کی تھی کہ کسی چھوٹے ستارے کے گرد اتنا بڑا سیارہ موجود ہو سکتا ہے، مگر ایسا سیارہ اب دریافت ہو چکا ہے تو اب ہمیں سیاروں اور ستاروں کے بننے کے عمل کا پھر سے جائزہ لینا ہوگا اس سیارے کو ایل ایچ ایس 3154 بی کا نام دیا گیا ہے اور اسے Habitable Zone Planet Finder کے ذریعے دریافت کیا گیا ، یہ سسٹم ایسے سیاروں کو دریافت کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے جو ہمارے نظام شمسی سے باہر ٹھنڈے ستاروں کے گرد گھوم رہے ہیں۔

    ایسے سیاروں میں سیال پانی کی موجودگی کا امکان کافی زیادہ ہوتا ہے جسے زندگی کے لیے اہم تصور کیا جاتا ہے ایل ایچ ایس 3154 بی کا مشاہدہ کرنے سے دریافت ہوا کہ وہ اپنے میزبان ستارے کے بہت قریب ہے اور وہ محض 3.7 دنوں میں اپنا چکر مکمل کرلیتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ اس سیارے کے ایک سال کا دورانیہ 4 دن سے بھی کم ہے، یہ ہمارے نظام شمسی کے سب سے اندرونی سیارے عطارد کے سورج سے بھی زیادہ قریب ہے۔
    science
    فوٹو:روئٹرز
    یہ سیارہ سائز اور ساخت میں نیپچون جیسا ہو سکتا ہے، جو ہمارے نظام شمسی کے چار گیسی سیاروں میں سب سے چھوٹا ہے۔ نیپچون کا قطر زمین سے تقریباً چار گنا ہے۔ سیارے کا مطالعہ کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے طریقہ کار نے محققین کو اس کے قطر کی پیمائش کرنے کے قابل نہیں بنایا، لیکن انہیں شبہ ہے کہ یہ زمین سے تین سے چار گنا زیادہ ہے۔

    محققین کے مطابق اگر کوئی ستارہ ٹھنڈا ہوتا ہے تو پھر سیارے کو خود کو گرم رکھنے کے لیے اس کے قریب آنا پڑتا ہے تاکہ سیال پانی برقرار رہ سکے ابھی ہمیں یہ بھی سمجھنا ہے کہ آخر اتنے چھوٹے ستارے کے گرد اتنا بڑا سیارہ کیسے بن گیا جس کے بعد ہم کائنات تشکیل پانے کے عمل کے بارے میں زیادہ سمجھ سکیں گے۔