Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • 11 ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود سپر نووا کی باقیات کی تصاویر جاری

    11 ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود سپر نووا کی باقیات کی تصاویر جاری

    واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے زمین سے 11 ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود سپر نووا کی باقیات کی تصاویر جاری کر دیں۔

    باغی ٹی وی:ناسا کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر میں زمین سے 11 ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود کیسیوپیا اے (کیس اے) نامی ستارے کے اندر دھول کے خول کو دیکھا جاسکتا ہے جبکہ ٹیلی اسکوپ میں نصب نیئر انفرا ریڈ کیمرا (این آئی آر کیم) نے کیس اے کے باقیات کو عکس بند کیا ہے،تصویر میں کیس اے کی باقیات میں موجود جامنی رنگ کی شے کو واضح دیکھا جا سکتا ہے جو دراصل آئیونائزڈ گیس کی جانب اشارہ کرتی ہے۔
    https://x.com/NASAWebb/status/1734020677311639828?s=20
    ناسا کے مطابق ، ماہرین فلکیات اب کیس اے مطالعہ میں ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ اپریل 2023 میں، Webb’s MIRI (Mid-Infrared Instrument) نے اس باب کا آغاز کیا، جس میں سپرنووا کے باقیات کے اندرونی خول کے اندر نئی اور غیر متوقع خصوصیات کا انکشاف ہوا۔ ان میں سے بہت سی خصوصیات نئی این آئی آر کیم تصویر میں پوشیدہ ہیں، اور ماہرین فلکیات اس کی وجہ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
    nasa
    پرڈو یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈینی مِلیوسیولجوک کا ناسا کی پریس ریلیز میں کہنا تھا کہ کیس اے تقریباً 340 سال قبل دھماکے سے پھٹا جس کے بعد اس کی جگہ شیشے کی باریک کرچیوں جیسی دھاریاں رہ گئی اتنے برس تک کیس اے پر مطالعہ کرنے کے بعد اب معلومات کا حاصل ہونا ناقابلِ یقین ہے یہ معلومات سائنس دانوں کو یہ جاننے میں مدد دے گی کہ یہ ستارہ پھٹا کیسے۔
    nasa
    پرنسٹن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ٹی ٹیمِ نے پریس ریلیز میں کہا کہ کیس اے کی پہلی تصاویر اپریل میں جاری کی گئی تھیں جن میں ایسی تفصیلات سامنے آئیں جن تک سائنس دانوں کو پہلے رسائی نہیں تھی تصویر میں موجود سفید رنگ سِنکروٹرون شعاعوں سے پیدا ہونے والی روشنی ہے، جو مقناطیسی فیلڈ لائنز کے گرد انتہائی تیزی سے گھومتے ہوئے سفر کرنے والے چارجڈ ذرات کے سبب خارج ہو رہی ہے۔

  • پریگنینسی میں خواتین کو متلی اور الٹی کیوں آتی ہے؟تحقیق

    پریگنینسی میں خواتین کو متلی اور الٹی کیوں آتی ہے؟تحقیق

    تمام حاملہ خواتین میں سے تقریباً نصف سے دو تہائی کو کسی حد تک خاص طور پر پہلی سہ ماہی میں مارننگ سکنس کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی علامات میں متلی اور الٹی شامل ہیں-

    باغی ٹی وی : اس مسئلے کے لیے طبی زبان میں مارننگ سکنس (sickness) کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے، کیونکہ یہ بیماری دن کے اوائل میں بدترین ہوتی ہے، لیکن یہ دن یا رات کے کسی بھی وقت حملہ کر سکتی ہے مگر اب تک یہ معلوم نہیں تھا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے،اب پہلی بار اس کی ممکنہ وجہ دریافت کی گئی ہے جس سے اس کے علاج میں مدد مل سکے گی۔

    زیادہ تر خواتین کے لیے، مارننگ سکنس حمل کے چوتھے ہفتے کے آس پاس شروع ہوتی ہے اور 12 سے 14 ہفتوں تک ٹھیک ہو جاتی ہے۔ تاہم، 5 میں سے 1 عورت اپنی دوسری سہ ماہی میں اس بیماری کو برداشت کرتی ہے، اور چند خواتین کو اپنی حمل کی پوری مدت تک متلی اور الٹی کا سامنا کرنا پڑتا ہے زیادہ تر معاملات میں، مارننگ سکنس عورت یا پیدا ہونے والے بچے کو نقصان نہیں پہنچاتی ہے۔ تاہم، شدید مارننگ سکنس جس میں وزن میں کمی اور پانی کی کمی شامل ہے، فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔

    امریکا کی سدرن کیلیفورنیا یونیورسٹی کی اس تحقیق میں انکشاف کیا گیا کہ ایک مخصوص ہارمون حاملہ خواتین میں متلی اور الٹیوں کی شکایت بڑھانے کا باعث بنتا ہے، 80 فیصد حاملہ خواتین کو قے اور متلی جیسے اثرات کا سامنا ہوتا ہے اور کچھ میں اس کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے جس کے باعث اسپتال کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

    مارننگ سکنس کی علامات میں متلی، بھوک میں کمی،قے،نفسیاتی اثرات، جیسے ڈپریشن اور اضطراب شامل ہیں،اس نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ جی ڈی ایف 15 نامی ہارمون کی سطح حمل کی پہلی سہ ماہی کے دوران نمایاں حد تک بڑھ جاتی ہے،تحقیق میں قے اور متلی جیسی علامات کو اس ہارمون کی سطح میں اضافے سے منسلک کیا گیا ہے۔

    یہ ہارمون دماغ کے ایک بہت چھوٹے حصے پر کام کرتا ہے اور متلی اور تکلیف کی نشاندہی کرتا ہے جو خواتین میں قے کا سبب بنتا ہے، حاملہ خواتین جو جی ڈی ایف 15 کے لیے زیادہ حساس ہیں وہ دن میں 50 بار متلی اور قے کا تجربہ کرسکتی ہیں۔

    انگلینڈ کی کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر سٹیفن او راہیلی کا کہنا ہے کہ ماں اس ہارمون کے بارے میں جتنی زیادہ حساس ہو گی، وہ اتنی ہی زیادہ بیمار ہو سکتی ہے،یہ جاننے سے ہمیں ایک اشارہ ملتا ہے کہ ہم اسے ہونے سے کیسے روک سکتے ہیں۔

    خیال کیا جاتا ہے کہ 100 میں سے ایک یا کبھی کبھار تین حاملہ خواتین ایچ جی سے متاثر ہوتی ہیں، ایک ایسی بیماری جو جنین کی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ بہت سی خواتین جو اس کا شکار ہوتی ہیں انھیں پانی کی کمی سے بچنے کے لیے فلیوئڈز کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔

    تحقیق کےمطابق اس ہارمون کی سطح میں کمی یا اس کےافعال کو بلاک کرنے سے مارننگ سکنس کی روک تھام بھی کی جا سکتی ہے ،محققین نے بتایا کہ زیادہ تر حاملہ خواتین کو مارننگ سکنس کا سامنا ہوتا ہے جو خوشگوار تو نہیں ہوتا مگر کچھ خواتین میں اس کی شدت بدترین ہوتی ہے، ہم اب جان چکے ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔

    ہارمونز کی اعلی سطح، بشمول ایسٹروجن، بلڈ پریشر میں اتار چڑھاؤ، خاص طور پر کم بلڈ پریشر، کاربوہائیڈریٹ کی میٹابولزم میں تبدیلی، بہت زیادہ جسمانی اور کیمیائی تبدیلیاں جو حمل کو متحرک کرتی ہیں،کچھ خواتین کو خدشہ ہے کہ الٹی کی کارروائی سے ان کے پیدا ہونے والے بچے کو خطرہ ہو سکتا ہے الٹی اور ریچنگ پیٹ کے پٹھوں میں دباؤ ڈال سکتی ہے اور مقامی طور پر درد اور درد کا سبب بن سکتی ہے، لیکن الٹی کی جسمانی میکانکس بچے کو نقصان نہیں پہنچائیں گی۔

    متعدد مطالعات سے پتہ چلا ہے کہ اعتدال پسند صبح کی بیماری اسقاط حمل کے کم خطرے سے وابستہ ہے تاہم، طویل الٹی (جو پانی کی کمی اور وزن میں کمی کا باعث بنتی ہے) آپ کے بچے کو مناسب غذائیت سے محروم کر سکتی ہے اور آپ کے بچے کا پیدائش کے وقت کم وزن ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے-

    جرنل نیچر میں شائع تحقیق میں محققین کے مطابق جب ماں کے پیٹ میں بچے کی نشوونما ہوتی ہے تو ایک ہارمون کی سطح بڑھتی ہے، ماں کا جسم اس ہارمون کا عادی نہیں ہوتاخاتون کا جسم اس ہارمون کے حوالے سے جتنا زیادہ حساس ہوگا، مارننگ سکنس کی شدت اتنی زیادہ ہوگی۔

    تحقیق کے دوران مادہ چوہوں میں اس ہارمون کی سطح میں کمی لانے سے مارننگ سکنس کی روک تھام کا تجربہ کامیاب رہا تھا،اب تحقیقی ٹیم کی جانب سے اس طریقہ کار کو خواتین میں آزمایا جائے گا تاکہ معلوم ہوسکے کہ یہ طریقہ کار مارننگ سکنس کی روک تھام کے لیے کس حد تک مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

    اگرچہ پہلے سامنے آنے والی طبی تحقیقات سے ہم یہ تو جاننے میں کامیاب ہوئے تھے کہ حمل کے دوران اس کیفیت یا بیماری کو جی ڈی ایف 15 سے منسلک کیا جاسکتا ہے، لیکن اب یہ معلوم ہو پایا ہے کہ ہم اس کے بارے اب تک بہت سی چیزوں سے نا واقف تھے۔

    نیچر نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس نئی تحقیق میں کیمبرج یونیورسٹی، سکاٹ لینڈ، امریکہ اور سری لنکا کے سائنسدانوں نے حصہ لیا، جس سےمعلوم ہوا کہ حمل کےدوران خاتون کی بیماری کا تعلق بچہ دانی میں بننے والے ہارمون کی مقدار سےہےجتنے زیادہ ہار مو ن پیدا ہوں گے اتنی زیادہ بیماری کی علامات ظاہر ہوں گیں۔

    تحقیق میں انہوں نے کیمبرج کے روزی میٹرنٹی ہاسپٹل میں خواتین کا مطالعہ کیا اور پایا کہ جن خواتین میں جینیاتی قسم ایچ جی کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے ان میں ہارمون کی سطح کم ہوتی ہے جبکہ خون کی خرابی بیٹا تھیلیسیمیا میں مبتلا خواتین جو حمل سے قبل جی ڈی ایف 15 کی بہت زیادہ سطح کا سبب بنتی ہیں، ان میں ہارمون کی سطح کم ہوتی ہے۔ انھیں بہت کم متلی یا قے کا سامنا کرنا پڑا۔

    یونیورسٹی آف کیمبرج میڈیکل ریسرچ کونسل میں میٹابولک ڈیزیز یونٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر او راہیلی نے وضاحت کی کہ ہارمون کو ماں کے دماغ میں اس کے انتہائی مخصوص ریسیپٹر تک رسائی سے روکنا بالآخر اس عارضے کے علاج کے لیے ایک مؤثر اور محفوظ طریقہ کی بنیاد بنے گا۔

  • ہماری زمین سے 13 گنا بڑا  سیارہ، جس نے سائنسدانوں کو چکرا کر رکھ دیا

    ہماری زمین سے 13 گنا بڑا سیارہ، جس نے سائنسدانوں کو چکرا کر رکھ دیا

    سائنسدانوں نے ایک ایسا سیارہ دریافت کیا ہے ہماری زمین سے 13 گنا بڑا ہے اور ہمارے سورج سے 9 گنا چھوٹے ستارے کے گرد گھوم رہا ہے، جس نے سائنسدانوں کو چکرا کر رکھ دیا ہے –

    باغی ٹی وی : جرنل سائنس میں شائع تحقیق کے مطابق یہ سیارہ ہماری زمین سے 13 گنا بڑا ہے اور ہمارے سورج سے 9 گنا چھوٹے ستارے کے گرد گھوم رہا ہے، جس نے سائنسدانوں کو چکرا کر رکھ دیا ہے،ویسے تو سیارے کا حجم حیران کن نہیں مگر بہت ٹھنڈے بونے ستارے کے گرد اس کا گھومنا سائنسدانوں کے لیے حیران کن ہے-

    پین اسٹیٹ کے ماہر فلکیات سوراتھ مہادیون نے کہا،کہ "ہم نے ایک ایسا سیارہ دریافت کیا جو اپنے ستارے کے مقابلے بہت بڑا ہے، ایل ایچ ایس 3154 نامی یہ ستارہ زمین سے تقریباً 50 نوری سال کے فاصلے پر ہمارے نسبتاً قریب ہے۔ نوری سال وہ فاصلہ ہے جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے، 5.9 ٹریلین میل (9.5 ٹریلین کلومیٹر)،یہ ستارہ کائنات کے چند سب سے چھوٹے اور ٹھنڈے ستاروں میں سے ایک ہے،سورج اس ستارے سے ہزار گنا زیادہ روشن ہے۔

    اس تحقیق کے مرکزی مصنف اور پرنسٹن یونیورسٹی کے ماہر فلکیات گومنڈور اسٹیفانسن نے کہا کہ یہ بمشکل ایک ستارہ ہے،اس میں ستارہ مانے جانے والے ہائیڈروجن فیوژن کو سپورٹ کرنے کے کٹ آف کے بالکل اوپر ایک ماس ہے۔

    تحقیق میں کہا گیا کہ اس دریافت سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم کائنات کے بارے میں کتنا کم جانتے ہیں، کیونکہ ہم نے کبھی اتنے بڑے سیارے کے اتنے چھوٹے ستارے کے گرد گھومنے کی توقع نہیں کی تھی ستارے گیس اور گرد کے بڑے بادلوں سے تشکیل پاتے ہیں اور یہ بادل اپنی کشش ثقل کے باعث ٹھنڈے اور ٹوٹتے رہتے ہیں نئے بننے والے ستاروں کے گرد گھومتے ہوئے گیس اور گرد کے ٹکڑے بتدریج سیاروں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں مگر اب تک خیال کیا جاتا تھا کہ سیارے بننے کے لیے اس مادے کی مقدار میزبان ستارے کے حجم کے مقابلے میں بہت کم ہوتی ہے۔

    محققین کے مطابق ہم نے کبھی توقع نہیں کی تھی کہ کسی چھوٹے ستارے کے گرد اتنا بڑا سیارہ موجود ہو سکتا ہے، مگر ایسا سیارہ اب دریافت ہو چکا ہے تو اب ہمیں سیاروں اور ستاروں کے بننے کے عمل کا پھر سے جائزہ لینا ہوگا اس سیارے کو ایل ایچ ایس 3154 بی کا نام دیا گیا ہے اور اسے Habitable Zone Planet Finder کے ذریعے دریافت کیا گیا ، یہ سسٹم ایسے سیاروں کو دریافت کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے جو ہمارے نظام شمسی سے باہر ٹھنڈے ستاروں کے گرد گھوم رہے ہیں۔

    ایسے سیاروں میں سیال پانی کی موجودگی کا امکان کافی زیادہ ہوتا ہے جسے زندگی کے لیے اہم تصور کیا جاتا ہے ایل ایچ ایس 3154 بی کا مشاہدہ کرنے سے دریافت ہوا کہ وہ اپنے میزبان ستارے کے بہت قریب ہے اور وہ محض 3.7 دنوں میں اپنا چکر مکمل کرلیتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ اس سیارے کے ایک سال کا دورانیہ 4 دن سے بھی کم ہے، یہ ہمارے نظام شمسی کے سب سے اندرونی سیارے عطارد کے سورج سے بھی زیادہ قریب ہے۔
    science
    فوٹو:روئٹرز
    یہ سیارہ سائز اور ساخت میں نیپچون جیسا ہو سکتا ہے، جو ہمارے نظام شمسی کے چار گیسی سیاروں میں سب سے چھوٹا ہے۔ نیپچون کا قطر زمین سے تقریباً چار گنا ہے۔ سیارے کا مطالعہ کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے طریقہ کار نے محققین کو اس کے قطر کی پیمائش کرنے کے قابل نہیں بنایا، لیکن انہیں شبہ ہے کہ یہ زمین سے تین سے چار گنا زیادہ ہے۔

    محققین کے مطابق اگر کوئی ستارہ ٹھنڈا ہوتا ہے تو پھر سیارے کو خود کو گرم رکھنے کے لیے اس کے قریب آنا پڑتا ہے تاکہ سیال پانی برقرار رہ سکے ابھی ہمیں یہ بھی سمجھنا ہے کہ آخر اتنے چھوٹے ستارے کے گرد اتنا بڑا سیارہ کیسے بن گیا جس کے بعد ہم کائنات تشکیل پانے کے عمل کے بارے میں زیادہ سمجھ سکیں گے۔

  • واٹس ایپ نے ڈیسک ٹاپ اور ویب ورژن میں  نیا  فیچر متعارف

    واٹس ایپ نے ڈیسک ٹاپ اور ویب ورژن میں نیا فیچر متعارف

    سان فرانسسکو:واٹس ایپ نے ڈیسک ٹاپ اور ویب ورژن میں نیا فیچر متعارف کرا دیا-

    باغی ٹی وی: واٹس ایپ نے اگست 2021 میں تصاویر اور ویڈیوز کی پرائیویسی اور ایپ کی میموری کو بچانے کیلئے "ویو ونس” کا فیچر متعار ف کرایا تھا، اس فیچر کے تحت بھیجی جانیوالی تصویر یا ویڈیو ایک بار کھلنے کے بعد چیٹ سے مکمل طور پر غائب ہوجاتی ہے، اب تک یہ سہولت صرف موبائل ایپ کے لیے دستیاب تھی، مگر اب اس فیچر کو ڈیسک ٹاپ اور ویب ورژن کے لیے بھی متعارف کرا دیا گیا ہے۔

    میٹا کی زیرملکیت میسجنگ ایپ کی اپ ڈیٹس پر نظر رکھنے والی سائٹ ویب بیٹا انفو کے مطابق واٹس ایپ کے ویب ورژن اور ڈیسک ٹاپ ایپ پر یہ فیچر متعارف کرایا گیا ہے جب کوئی صارف ویب ورژن یا ڈیسک ٹاپ ایپ پر تصویر یا ویڈیو اپ لوڈ کرے گا تو وہاں 1 کا آئیکون نظر آئے گا جس پر کلک کرکے میسج کو ویو ونس کے طور پر بھیجنا ممکن ہوگا۔

    معاہدے کی خلاف ورزی،حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کے دوسرے گروپ کی رہائی مؤخر کردی

    اس فیچر سے صارفین ایسے پیغامات بھیج سکیں گے جو ایک بار دیکھے جانے کے بعد خودبخود غائب ہوجائیں گےاس فیچر سے صارفین کو حساس معلومات جیسے پاس ورڈ یا کریڈٹ کارڈ کی تفصیلات وغیرہ شیئر کرنے کا موقع ملے گا اور لیک ہونے کا خطرہ بھی نہیں ہوگا۔

    سابق صدر آصف علی زرداری اوربلاول بھٹو کی دبئی میں ملاقات

  • فرانسیسی فلسفی نوسٹراڈیمس کی سال  2024 کیلئے پریشان کن پیش گوئیاں

    فرانسیسی فلسفی نوسٹراڈیمس کی سال 2024 کیلئے پریشان کن پیش گوئیاں

    اپنی پیشگوئیوں کیلئے مشہور فرانسیسی فلسفی نوسٹراڈیمس نے 2024 کے لیے کچھ پریشان کن پیش گوئیاں کی تھیں –

    باغی ٹی وی : "یروشلم پوسٹ ” کے مطابق مشہور فرانسیسی فلسفی اور مفروضہ پیغمبر نوسٹراڈیمس نے 2024 کے لیے پریشان کن پیشین گوئیاں ظاہر کیں، کچھ کا دعویٰ ہے کہ ان کی پیشین گوئیاں صدیوں پر محیط ہیں، جو کہ ایڈولف ہٹلر کے عروج اور امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے قتل جیسے تاریخی واقعات کا درست اندازہ لگاتے ہیں،ان کی مطلوبہ درستگی اس سال اور عمر کی پیشین گوئی تک پھیلی ہوئی ہے جس میں ملکہ الزبتھ دوم کا 2022 میں انتقال بھی شامل ہے-

    تجزیہ کار اور ماہرین اب ان کی 2024 کی پیشگوئیوں کے مضمرات کو سمجھنے کے لیے ان کی تحریروں کا تجزیہ کر رہے ہیں، جس میں شاہ چارلس III کی ممکنہ دستبرداری، ایک بڑی جنگ، اور ممکنہ "عظیم قحط” کو جنم دینے والے سیلاب شامل ہیں۔

    رام چندر بھاردواج ہندوستان کے مشہور انقلابی ، غدر پارٹی کے لیڈر

    نوسٹراڈیمس کی ایک مرکزی پیش گوئی ”جزیروں کے بادشاہ“ کے ارد گرد گھومتی ہے جسے ”زبردستی باہر“ نکال دیا جائے گا، اگرچہ کسی مخصوص شاہی شخصیت کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ قیاس آرائیاں شاہ چارلس کی جانب سے دستبرداری کے ممکنہ امیدوار کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ نوسٹراڈیمس کے الفاظ میں کہا گیا ہے کہ جزائر کے بادشاہ، جو ایک متنازعہ طلاق سے گزرے تھے، کو "زبردستی نکال دیا جائے گا” اور اس کی جگہ "ایک ایسا شخص لے گا جس کے پاس بادشاہ کا کوئی نشان نہیں ہوگا۔”

    معروف ماہر ماریو ریڈنگ، جو نوسٹراڈیمس کی پیشن گوئی کے مصنف ہیں، تجویز کرتے ہیں کہ بادشاہ چارلس III اور ملکہ کیملا پر مسلسل حملے ان کے استعفیٰ کا باعث بن سکتے ہیں۔

    دو ریاستی حل کی تجویز دینے والوں کے پاس فلسطینی عوام کا مینڈیٹ …

    ایک عالمی تباہی اور چین کے ساتھ ممکنہ جنگ

    نوسٹراڈیمس نے ایک ظالمانہ سونامی اور "عظیم سیلاب” کی بھی پیشین گوئی کی ہے جو دنیا کے کچھ حصوں کو تباہ کر دے گی، اس کے بعد ایک تباہ کن "عظیم قحط” آئے گا۔ نوسٹراڈیمس نے خبردار کیا: کہ زمین مزید بنجر ہو جائے گی، اور زبردست سیلاب آئے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سونامی کھیتی باڑی کو متاثر کر سکتا ہے، جو شدید قحط کا باعث بن سکتا ہے۔

    نوسٹراڈیمس نے 2024 میں ایک پرتشدد بین الاقوامی تنازعہ کی پیشین گوئی کی ہے، ایک خفیہ پیشین گوئی کی ہے کہ سرخ مخالف خوف سے پیلا ہو جائے گا۔ عظیم سمندر خوف میں مبتلا ہوجائے گا۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ ایشیا میں چین کے ساتھ نیٹو ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازعہ کی طرف اشارہ کر سکتا ہے، جو ممکنہ طور پر پرتشدد فوجی تنازعہ یا ہمہ گیر جنگ کا باعث بن سکتا ہے۔

    باقی سیاسی جماعتیں جلسے کررہی ہیں لیکن ایک پارٹی پر دفعہ 144 یاد آ …

    کم توجہ دلانے والی پیشین گوئی میں، نوسٹراڈیمس نے ایک نئے پوپ کی تقرری کی توقع کی۔ پوپ فرانسس، اگلے سال 88 سال کے ہو جائیں گے،ان کی جگہ لے جانے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ نوسٹراڈیمس لکھتے ہیں: "بہت پرانے پوپ کی موت کے ذریعے۔ اچھی عمر کا ایک رومن منتخب کیا جائے گا۔”

    دوسری جانب ایک تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ برطانیہ 110 برس کے اندر قدرتی آفات کے ہاتھوں دیوالیہ ہوجائے گا ماحولیاتی نگرانی اور ڈیٹا منیجمنٹ کمپنی کِسٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق ان آفات کے سبب ہونے والے مالی نقصانات کی سالانہ نمو 11.2 فی صد کے قریب ہے۔ جس کی بڑی وجہ موسمیاتی تغیر کے سبب شدت اختیار کرتا موسم ہے۔

    برطانیہ کی جی ڈی پی کی موجودہ شرح نمو 4.1 فی صد ہے جس کا مطلب ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو قدرتی آفات کے سبب ہونے والا نقصان 2134 تک حکومت کی آمدن سے بڑھ جائے گا۔

    نریندر مودی کو ‘پنوتی’ کہنے پر راہول گاندھی کو نوٹس جاری

    رپورٹ کے مطابق اس معاملے میں برطانیہ کے لیے سیلاب سب سے مہنگی قدرتی آفت ثابت ہوگی اور صرف اس آفت کے سبب آئندہ دہائی میں 42.54 ارب ڈالرز کا نقصان ہوگا۔ جبکہ گزشتہ دہائی یعنی 2010 سے 2019 کے درمیان برطانیہ کو تقریباً 7.91 ارب ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑا ہےگروس ڈومیسٹک پروڈکشن (جی ڈی پی) تمام کمپنیوں، حکومتوں اور افراد کی سرگرمیوں کا تخمینہ ہوتا ہے جس کا استعمال ملکی معیشت کے اچھا یا برا ہونے کے متعلق جاننے کے لیے کیا جاتا ہے۔

    کسٹرز سے تعلق رکھنے والے سینئر ماہر موسمیات ژوہان جیک کا کہنا تھا کہ خطرناک حد تک تیزی کے ساتھ بڑھنے والے موسمیاتی تغیر کے ساتھ اس تحقیق کے نتائج انتہائی تشویش ناک ہیں لیکن یہ مکمل طور پرغیر متوقع نہیں ہیں۔

    فرحت اللہ بابر پیپلزپارٹی پارلمینٹیرینز کے سیکرٹری جنرل کےعہدے سےمستعفی

  • انسٹا گرام اور واٹس ایپ میں نئے فیچر ز کا اضافہ

    انسٹا گرام اور واٹس ایپ میں نئے فیچر ز کا اضافہ

    میٹا کی جانب سے واٹس ایپ ایپلیکیشن میں متعدد فیچرز اور اپ ڈیٹس متعارف کروائے جارہے ہیں،اب کمپنی نے آئی او ایس ڈیوائسز کے لیے واٹس ایپ کی جانب سے اکاؤنٹس میں لاگ ان ہونے کا متبادل طریقہ کار متعارف کرایا ہے۔

    باغی ٹی وی: واٹس ایپ کی اپ ڈیٹس پر نظر رکھنے والی وایب سائٹ ویب بیٹا انفو کے مطابق یہ نیا فیچر آئی او ایس صارفین کے لیے متعارف کرا دیا گیا ہے،اس فیچر کو پہلے بیٹا (beta) ورژن میں متعارف کرایا گیا تھااس نئے فیچر سے صارفین ای میل ایڈریس کو واٹس ایپ اکاؤنٹ سے منسلک کر سکیں گے۔

    یہ فیچر ایس ایم ایس ویریفکیشن کی جگہ نہیں لے گا بلکہ اس وقت صارفین کے لیے مددگار ثابت ہوگا جب وہ ایس ایم ایس کے ذریعے 6 ہندسوں کے کوڈ کو موصول کرنے سے قاصر ہوں گے ای میل ویریفکیشن فیچر اس وقت بہت زیادہ کارآمد ثابت ہوگا جب آپ کسی ایسی جگہ نئی ڈیوائس پر واٹس ایپ اکاؤنٹ پر سائن ان ہونے کی کوشش کریں گے جہاں موبائل نیٹ ورک دستیاب نہیں ہوگا یا کسی نئے فون میں سم لگائے بغیر اپنا واٹس ایپ اکاؤنٹ استعمال کرنے کے خواہشمند ہوں گے یہ سائن ان ہونے کا بیک اپ طریقہ کار ہوگا اور نئے واٹس ایپ اکاؤنٹ بنانے کے لیے فون نمبر کے اندراج کی ضرورت برقرار رہے گی صارف کا ای میل ایڈریس صرف اکاؤنٹ تک رسائی کے لیے استعمال ہوگا اور دیگر صارفین کو نظر نہیں آئے گا۔

    سونے کی فی تولہ قیمت میں مزید اضافہ

    اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے آئی فون صارفین کو واٹس ایپ کو اپ ڈیٹ کرنا ہوگااس کے بعد واٹس ایپ اوپن کرکے سیٹنگز میں جائیں اور وہاں اکاؤنٹ کے آپشن پر کلک کریں اس جگہ آپ کو ای میل لاگ ان آپشن نظر آئے گا، جس کو ان ایبل کرکے اپنے ای میل ایڈریس کا اندراج کریں ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ فیچر کب تک اینڈرائیڈ صارفین کو دستیاب ہوگا-

    دوسری جانب واٹس ایپ کے بعد اب انسٹاگرام میں بھی ایک نیا فیچر متعارف کروایا جارہا ہے،مصنوعی ذہانت (AI) کے علاوہ اب سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی ایپلیکشن ’انسٹاگرام‘ پر بھی نئی اپڈیٹس متعارف کروائی جارہی ہیں اس سے قبل سیم سنگ فونز کے لیے کیمرہ شارٹ کٹ اور اسٹوریز کو اپ ڈیٹ کیا گیا تھا۔

    امریکی ڈالر مزید سستا

    ٹپسٹر اور موبائل ڈویلپر الیسنڈرو پالوزی کی جانب سے انسٹاگرام کیلئے ایک نیا اور منفرد فیچر لانچ کیا جارہا ہے یہ نیا فیچر ’مائی ویک‘ کے نام سے لیک کیا گیا ہے،اس فیچر کی مدد سے انسٹا اسٹوریز کا وقت بڑھادیا گیا ہے، یعنی انسٹا صارفین انسٹا اسٹوریز کو پورے ہفتے تک برقرار رکھ سکیں گے۔
    https://x.com/alex193a/status/1725848919978999856?s=20
    صارفین اس فیچر کی مدد سے اپنی مرضی سے نہ صرف اسٹوری کو پورا ہفتہ برقرار رکھ سکتے ہیں بلکہ ان اسٹوریز کو بدل بھی سکتے ہیں اور چاہیں تو ان اسٹوریز میں نئی اسٹوری بھی شامل کر سکتے ہیں اب تک یہ فیچر جاری نہیں کیا گیا ہے، لیکن توقع ہے کہ جلد یہ فیچر صارفین کیلئے دستیاب ہوگا۔

    ڈی سیل ہونے والی 84 فیکٹریوں کو دوبارہ سیل کرنے کا حکم

  • ایلون مسک کی کمپنی کے تیار کردہ طاقتور راکٹ کی دوسری آزمائشی پرواز بھی ناکام

    ایلون مسک کی کمپنی کے تیار کردہ طاقتور راکٹ کی دوسری آزمائشی پرواز بھی ناکام

    ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے تیار کئے گئے انسانی تاریخ کے سب سے طاقتور راکٹ کی دوسری آزمائشی پرواز بھی ناکام ہو گئی،18 نومبر کو اسٹار شپ اسپیس کرافٹ کو ٹیکساس سے لانچ کیا گیا اور اس پر کوئی انسان سوار نہیں تھا-

    باغی ٹی وی : ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کا اسٹار شپ اسپیس کرافٹ اسٹار شپ 2 حصوں پر مشتمل ہے جس میں سے ایک سپر ہیوی بوسٹر ہے، جو ایسا بڑا راکٹ ہے جس میں 33 انجن موجود ہیں جبکہ دوسرا اسٹار شپ اسپیس کرافٹ ہے جو بوسٹر کے اوپر موجود ہے جو اس سے الگ ہو جاتا ہے۔
    https://x.com/SpaceX/status/1725879726479450297?s=20
    آزمائشی پرواز کے پہلے مرحلے میں سپر ہیوی بوسٹر کامیابی سے اسپیس کرافٹ سے الگ ہوکر دھماکے سے پھٹ گیا، حالانکہ اسے خلیج میکسیکو میں اترنا تھا اس کے بعد چند منٹ تک اسٹار شپ کی پرواز جاری رہی اور لانچ کے 8 منٹ اس سے رابطہ منقطع ہوگیااس پرواز کے دوران اسٹار شپ اسپیس کرافٹ زمین کے مدار تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا اور جب وہ دھماکے سے پھٹا تو سطح زمین سے 92 میل کی بلندی پر تھا۔

    افغانستان ٹی ٹی پی کو پاکستان کے خلاف مسلح کرنے میں مدد فراہم کر …

    https://x.com/SpaceX/status/1725880148271190388?s=20
    اس آزمائشی پرواز کے دوران اسپیس ایکس کی جانب سے سپر ہیوی بوسٹر کو اسپیس کرافٹ سے الگ کرنے کے نئے طریقہ کار ہاٹ اسٹیجنگ کی پہلی بار آزمائش بھی کی گئی تھی اس طریقہ کار کے تحت اسٹار شپ سے علیحدگی سے قبل راکٹ کے تمام انجنوں کو چلایا گیا تھا،اب کمپنی کی جانب سے یہ دیکھا جائے گا کہ اس طریقہ کار کو مزید بہتر کیسے بنایا جائے تاکہ سپر ہیوی بوسٹ اور اسپیس کرافٹ کامیابی سے پرواز مکمل کرسکیں۔
    https://x.com/SpaceX/status/1725880321621864787?s=20
    واضح رہے کہ اس سے قبل 20 اپریل کو اسٹار شپ راکٹ اڑان بھرنے کے 4 منٹ بعد دھماکے سے پھٹ گیا تھا یہ اسپیس کرافٹ انسانوں کو چاند اور مریخ پر لے جانے کے لیے تیار کیا گیا ہے-

    غزہ جنگ: مسلم ممالک کے سربراہان چین کا دورہ کریں گے،سعوی وزارت خارجہ

  • فلسطینیوں کے حق میں پوسٹ شیئر  کرنےپر ایکس اکاؤنٹ معطل کر دیا جائے گا،ایلون مسک

    فلسطینیوں کے حق میں پوسٹ شیئر کرنےپر ایکس اکاؤنٹ معطل کر دیا جائے گا،ایلون مسک

    کیلیفورنیا: ایلون مسک نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کے حق میں پوسٹ شیئر کرنے والوں کا ایکس اکاؤنٹ معطل کر دیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایکس کے مالک ایلون مسک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ اگر کوئی بھی شخص ایکس پر فلسطینوں کا مقبول نعرہ “دریا سے سمندر تک” یا پھر “نو آبادیات کا خاتمہ” لکھے گا یہ ہماری پالیسیوں کے خلاف ہے اس کا ایکس اکاؤنٹ معطل کر دیا جائے گا –
    https://x.com/elonmusk/status/1725645884409401435?s=20
    ایلون مسک نے کہا کہ فلسطینیوں کی جانب سے ان دونوں جملوں کا اشارہ یہودیوں کی نسل کشی کی جانب ہے اس طرح یہ کسی بھی معقول شخص کے لیے ناقابل قبول ہے، اس لیے کسی کو ایکس پر یہ جملے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی-

    الشفا اسپتال کے نیچے حماس کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا اسرائیلی دعوی،مغربی میڈیا …

    واضح رہے کہ فلسطینی “من النہر فی البحر” کا نعرہ اسرائیل سے آزادی کے لیے بلند کرتے ہیں جس کا مطلب دریائے اردن کے کنارے سے لے کر بحیرہ روم تک ہے، ان دو مقامات کے بیچ میں اسرائیلی علاقے ہیں اوراسرائیل کے حامی الزام عائد کرتے ہیں کہ اس نعرے کا مطلب اسرائیل کا خاتمہ ہے۔

    ن لیگ میں سیاسی شخصیات کی شمولیت کا سلسلہ جاری،مزید دو ایم این اے پارٹی …

  • بڑے واٹس ایپ گروپس کے لئے نیا فیچر متعارف

    بڑے واٹس ایپ گروپس کے لئے نیا فیچر متعارف

    میٹا کی زیر ملکیت انسٹنٹ میسجنگ ایپلیکیشن واٹس ایپ نے ایک نیا وائس چیٹ فیچر متعارف کرایا ہے،یہ فیچر کمپنی نے بڑے واٹس ایپ گروپس کے لئے متعارف کرایا ہے-

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ آنے والے ہفتوں میں ایک نیا وائس چیٹ فیچر متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے، اگرچہ یہ فیچر ابتدائی طور پر بیٹا میں دیکھا گیا تھا، لیکن اب واٹس ایپ نے اس کے اجراء کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

    کمپنی کے مطابق یہ نیا فیچر گروپ کالز کو صارفین کے لیے زیادہ بہتر بنا دے گا،اس فیچر کے تحت 33 یا اس سے زائد افراد پر مشمل واٹس ایپ گروپس میں وائس چیٹ کی جاسکے گی اور کال کرنے پر کسی فرد کے فون میں رنگ ٹون بھی نہیں بجے گی بلکہ گروپ میں ایک چیٹ ببل نظر آئے گا جس پر کلک کرکے آپ وائس چیٹ کا حصہ بن سکیں گے۔

    وائس چیٹ کے دوران گروپ کے ایسے افراد کو ٹیکسٹ میسج بھی بھیج سکیں گے جو کال کا حصہ نہیں ب

    واٹس ایپ میں سیکرٹ کوڈ نامی ایک نیا فیچر متعارف

    نیں گے اس فیچر کے تحت گروپ چیٹ پر ایک نیا وائس ویو فارم آئیکون بنا نظر آئے گا اس آئیکون پر کلک کرنے پر وائس چیٹ خودکار طور پر شروع ہو جائے گی جس کے لیے ایک مخصوص انٹرفیس مختص کیا جائے گا،اگر وائس چیٹ میں کوئی فرد شامل نہیں ہوتا تو اس کا سیشن خودکار طور پر 60 منٹ بعد ختم ہو جائے گا،یہ نیا فیچر آنے والے ہفتوں میں صارفین کو دستیاب ہوگا اور کمپنی کے مطابق وائس چیٹ کو اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کا تحفظ حاصل ہوگا، اس فیچر کے تحت کسی گروپ میں 128 افراد کسی کال کا حصہ بن سکتے ہیں،یہ فیچر موبائل ایپ کے لیے متعارف کرایا گیا ہے اور کمپنی کے مطابق صرف پرائمری ڈیوائس پر ہی دستیاب ہوگا،چھوٹے گروپوں کے لیے واٹس ایپ کے موجودہ گروپ وائس کال فیچر کی دستیابی کے پیش نظر، 33 سے کم صارفین والے گروپس کو ترجیح نہیں دی جائے گی۔

    ایلون مسک کی زندگی پر فلم بنائی جائے گی

  • ایلون مسک کی کمپنی کا تیارکردہ راکٹ رواں ہفتے پہلی بار خلا میں جائے گا

    ایلون مسک کی کمپنی کا تیارکردہ راکٹ رواں ہفتے پہلی بار خلا میں جائے گا

    ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کا تیار کردہ انسانی تاریخ کا سب سے طاقتور خلائی راکٹ ایک بار پھر زمین کے مدار کی جانب پرواز کرے گا۔

    باغی ٹی وی : ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے تیار کردہ اسٹار شپ راکٹ کی 17 نومبر کو رواں سال کے دوران اولین پرواز کے لیے یہ دوسری کوشش ہوگی اس سے قبل 20 اپریل کو اسٹار شپ راکٹ اڑان بھرنے کے 4 منٹ بعد دھماکے سے پھٹ گیا تھا،جس کے بعد امریکی ادارے فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کی جانب سے اسپیس ایکس کو اسٹار شپ کے مزید تجربات سے روک دیا تھا۔

    تاہم اب ایلون مسک نے بتایا کہ اسٹار شپ کو 17 نومبر کو لانچ کیا جائے گا زمین کی مدار کی جانب سے بھیجی جانے والی آزمائشی پرواز کے دوران اسٹار شپ کے بوسٹر کو لانچ کے 3 منٹ بعد الگ ہوکر خلیج میکسیکو میں گرنا ہوگا اس کے بعد یہ راکٹ سطح سے 150 میل کی بلندی پر زمین کے گرد خلا میں چکر لگا کر ریاست ہوائی کے ساحل پر اترے گا اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوا تو اسٹار شپ کا یہ سفر ڈیڑھ گھنٹے کا ہوگا۔

    غیر ملکی کوچز کی تبدیلی کا امکان،بابراعظم کی کپتانی بھی خطرے میں

    اسٹار شپ راکٹ 120 میٹر لمبا ہے جس کا وزن 50 لاکھ کلوگرام ہے اور آزمائشی پرواز میں کوئی انسان موجود نہیں ہوگا اسٹار شپ کو بار بار استعمال کرنا ممکن ہوگا اور یہ بنیادی طور پر 2 حصوں پر مشتمل ہے ایک سپر ہیوی بوسٹر ہے، جو ایسا بڑا راکٹ ہے جس میں 33 انجن موجود ہے جبکہ دوسرا اسٹار شپ اسپیس کرافٹ ہے جو بوسٹر کے اوپر موجود ہے جو اس سے الگ ہو جاتا ہے،امریکی خلائی ادارے ناسا نے بھی اسپیس ایکس سے اربوں ڈالرز کے معاہدے کیے ہیں تاکہ اسٹار شپ کے ذریعے انسانوں کو ایک بار پھر چاند کی سطح پر پہنچایا جاسکے۔

    عبدالرزاق کوایشوریا رائے کے بارے میں ریمارکس پر شدید تنقید کا سامنا