Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • مردار ستارے کی طاقتورگیما شعاعیں زمین سے ٹکرا گئیں

    مردار ستارے کی طاقتورگیما شعاعیں زمین سے ٹکرا گئیں

    پیرس: خلا میں سینکڑوں نوری سال فاصلے پر موجود ایک مردار ستارے سےخارج ہونے والی طاقتور شعاعیں زمین سے ٹکرا گئیں۔

    باغی ٹی وی: نمیبیا میں نصب ٹیلی اسکوپس کے وسیع سسٹم سے مشاہدے میں آنے والی یہ گیما شعاعیں اتنی شدید ہیں کہ اگر یہ انسانوں پر افشا ہوں تو انسانوں کوجھلسا دیں یہ شعاعیں زمین سے تقریباً 1000 نوری سال کے فاصلے پر موجود ویلا پُلسر سے خارج ہوئیں تھیں پلسر ایسے بڑے ستاروں کی باقیات ہوتے ہیں جو اندازاً 10 ہزار سال قبل سپر نووا کی صورت پھٹ گئے ہوتے ہیں اور بعد میں اپنے اندر ہی تباہ ہوجاتے ہیں۔

    فرانس کی ایسٹروپارٹیکل اینڈ کوسمولوجی لیبارٹری سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے مصنف آرچی جنتی اتائی کے مطابق ان شعاعوں کا مطلب یہ نہیں کہ خلائی مخلوق ہم سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں یہ بات درست ہے کہ 1967 میں پہلی بار جب یہ پلسر دریافت ہوئے تھے تو ان کے ماخذ کو خلائی مخلوق کے حوالے سے ایل جی ایم 1 اور ایل جی ایم 2 کا نام دیا گیا تھا لیکن یہ ایک مذاق جیسا ہی تھا ہم یہ جانتے ہیں کہ پلسر بڑے بڑے ستاروں کی باقیات ہوتے ہیں اور خلائی مخلوق کو ایسے سگنل بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

    خلا میں آزاد گھومتے سیارہ مشتری کے حجم جتنے دو "سیارے” دریافت

    یہ مردہ ستارے تقریباً مکمل طور پر نیوٹران سے بنے ہیں اور ناقابل یقین حد تک گھنے ہیں ان کے مادے کا ایک چمچ پانچ بلین ٹن سے زیادہ ہے، یا گیزا کے عظیم اہرام سے تقریباً 900 گنا زیادہ ہے،” ایما ڈی اونا ولہیلمی نے کہا، نمیبیا میں ہائی انرجی سٹیریوسکوپک سسٹم آبزرویٹری کے ایک سائنسدان نے دھماکے کا پتہ لگایا جیسے جیسے پلسر گھومتے ہیں، وہ برقی مقناطیسی تابکاری کے شہتیروں کو باہر پھینکتے ہیں، اسے کائناتی لائٹ ہاؤس کی طرح باہر پھینک دیتے ہیں-

    بھارت حیدرآباد : نیوزی لینڈ کی پری میچ پریس کانفرنس کے دوران بجلی …

    تابکاری کو تیز رفتار الیکٹرانوں کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے جو پلسر کے مقناطیسی میدان کے ذریعہ پیدا ہوتے ہیں اور باہر پھینک دیتے ہیں، جو پلازما اور برقی مقناطیسی شعبوں سے بنا ہوتا ہے جو ستارے کو گھیرتے ہیں اور اس کے ساتھ گھومتے ہیں۔ سائنس دان برقی مقناطیسی سپیکٹرم کے اندر مختلف انرجی بینڈز کے لیے تابکاری تلاش کر سکتے ہیں، اس کو سمجھنے میں ان کی مدد کر سکتے ہیں-

    نزلہ زکام کی علامات کئی ہفتوں تک برقرار رہ سکتی ہیں،تحقیق

  • خلا میں آزاد گھومتے   سیارہ مشتری کے حجم جتنے دو "سیارے” دریافت

    خلا میں آزاد گھومتے سیارہ مشتری کے حجم جتنے دو "سیارے” دریافت

    دنیا کی طاقتور ترین دوربین جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ نے سیارہ مشتری کے حجم جتنے دو "سیارے” خلا میں آزاد گھومتے دریافت کئے ہیں-

    باغی ٹی وی:دریافت کےبارے میں دلچسپ بات یہ ہےکہ یہ سیارے جوڑی میں حرکت کرتےنظر آتےہیں جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نےان سیاروں کا مشہور Orion نیبولا کےنئےتفصیلی سروےمیں مشاہدہ کیاجہاں ان جیسے تقریباً 40 جوڑےسیارےموجود ہیں، سائنس دانوں نے ان سیاروں کو مختصراً “JuMBOs” کا عرفی نام دیا ہے تاہم یہ بغیر کسی شمسی نظام کے خلا میں کیسے گھوم رہے ہیں، اس کے بارے میں ناسا کے ماہرین فلکیات نے دو امکانات کا ذکر کیا ہے۔

    بھارت حیدرآباد : نیوزی لینڈ کی پری میچ پریس کانفرنس کے دوران بجلی …


    ماہرین کے مطابق ایک امکان یہ ہے کہ یہ سیارے نیبولا کے ان خطوں سے نکلے ہیں جہاں مواد (materials) کی کثافت پوری طرح سے ستارے بنانے کے لیے ناکافی تھی جس کی بنا پر یہ اس مقام سے خارج ہوگئے دوسرا امکان یہ ہے کہ وہ ستاروں کے گرد وجود میں آئے اور پھر مختلف تعاملات کے ذریعے خلا میں خارج ہوگئے ناسا کے پروفیسر مارک میک کیوگرین نے کہا کہ مذکورہ بالا دونوں امکانات میں سے فی الحال اول الذکر مفروضے کو اپنایا گیا ہے۔

    ‎‎نوارا نجم معروف مصری صحافی

  • واٹس ایپ نے دو نئے  فیچرز متعارف کروا دیئے

    واٹس ایپ نے دو نئے فیچرز متعارف کروا دیئے

    واٹس ایپ کی جانب سے چند نئے فیچرز متعارف کرانے کی تیاری کی جا رہی ہے، اینڈرائیڈ ڈیوائسز کے لیے واٹس ایپ کے بیٹا (beta) ورژن میں چند نئے فیچرز متعارف کرائے گئے ہیں تاہم ان میں سے ایک فیچر لاک چیٹ کے حوالے سے ہے جبکہ دوسرا میسجز ٹیکسٹ فارمیٹنگ ٹولز کے حوالے سے ہے جبکہ واضح رہے کہ چیٹ لاک نامی فیچر مئی میں متعارف کرایا گیا تھا جس کے ذریعے صارفین مختلف چیٹس کو ایک فولڈر میں محفوظ کیا جاتا ہے جبکہ ان تک رسائی فون ان لاک کے طریقہ کار سے ممکن ہوتی ہے۔

    وابیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق اب میٹا کی جانب سے اس فیچر کو زیادہ بہتر بنایا جا رہا ہے اور اس میں ایک سیکرٹ کوڈ کا اضافہ کیا جا رہا ہے، اس فیچر کی آزمائش بیٹا ورژن میں ہو رہی ہے اور توقع ہے کہ جلد اسے تمام صارفین کے لیے متعارف کرا دی جائے گا، سیکرٹ کوڈ فیچر سے صارفین اپنی لاک چیٹس کو زیادہ محفوظ بنا سکیں گے۔ وہ ان چیٹس کو فون ان لاک کے طریقہ کار کے ساتھ ساتھ ایک سیکرٹ کوڈ کے ذریعے محفوظ بنا سکیں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کا انٹیلی جنس ماہرین بھرتی کرنے کا فیصلہ
    سولرپینلز کی مزید 6 فرضی کمپنیاں بے نقاب،13 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا انکشاف
    آسٹریلیا کی بھارت کے خلاف بیٹنگ جاری،8 کھلاڑی آؤٹ
    دوسرا فیچر ٹیکسٹ فارمیٹنگ ٹولز کا ہے جس سے صارفین اپنے میسجز کو زیادہ بہتر طریقے سے کسٹمائز کر سکیں گے، ان نئے ٹولز میں کوڈ بلاکس، لسٹس اور quote بلاکس شامل ہیں جبکہ اس سے قبل میسجز کے ٹیکسٹ کو بولڈ، اٹالک اور اسٹرائیک تھرو جیسے ٹولز سے بہتر بنانا ممکن تھا مگر اب ان میں مزید ٹولز کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔

  • "اوزون” میں شگاف کے حجم میں ریکارڈ اضافہ

    "اوزون” میں شگاف کے حجم میں ریکارڈ اضافہ

    پیرس: سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سالانہ اوزون سوراخ جو کہ انٹارکٹیکا کے اوپر بنتا ہے اس کا حجم ریکارڈ حد تک بڑھ گیا ہے۔

    باغی ٹی وی:سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جس طرح انٹارکٹیکا کے ارد گرد سمندری برف ہر سال کم اور بڑھتی جاتی ہے، اسی طرح براعظم کے اوپر اوزون میں پڑا شگاف گھٹتا اور بڑھتا جاتا ہے اور رواں سال اس کا حجم کافی بڑھ گیا ہے یورپی خلائی ایجنسی (ای ائس اے) کی Copernicus Sentinel-5P سیٹلائٹ کے مشاہدات سے پتہ چلتا ہے کہ 16 ستمبر 2023 میں اوزون کا سوراخ تقریباً 10 ملین مربع میل (26 ملین مربع کلومیٹر یعنی 3 برازیل جتنے حجم) تک پہنچ گیا ہے جو اسے اب تک کے سب سے بڑے موسمی شگاف میں سے ایک بنا دیتا ہے –

    اوزون قدرتی طور پر پیدا ہونے والی گیس ہے اور اس کی ایک تہہ اسٹراٹاسفیئر میں ہے جو ہمیں سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعوں سے زمین کو بچاتی ہے۔اوزون کو اس کل اماؤنٹ کے طور پر ماپا جاتا ہے جو ڈوبسن یونٹوں میں اوورلینگ ماحول کے کالم میں موجود ہے۔ ایک ڈوبسن یونٹ کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے کہ اوزون کی مقدار موجود ہو گی اگر یہ اوسط سطح سمندر کے دباؤ اور درجہ حرارت پر 0.01 ملی میٹر موٹی پرت بنائے۔ اوزون کی تہہ کے لیے ایک عام ڈوبسن ریڈنگ تقریباً 300 ڈوبسن یونٹ ہے، مطلب یہ ہے کہ اوزون کی تہہ صرف 3 ملی میٹر موٹی ہوگی اگر سطح سمندر پر لایا جائے۔

    نوجوانوں میں عالمی سطح پر ذیابیطس کی شرح میں اضافہ

    ڈوبسن یونٹ کا نام ڈوبسن سپیکٹرو فوٹومیٹر کی وجہ سے رکھا گیا ہے جو پیمائش کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ UV تابکاری کی دو مختلف طول موجوں کے تناسب کا موازنہ کرکے کام کرتا ہے – ایک دوسرے کے مقابلے میں اوزون کے ذریعہ زیادہ مضبوطی سے جذب ہوتا ہے – اور مشاہدہ شدہ تناسب کا استعمال کرکے اوزون اوور ہیڈ کی مقدار کا حساب لگاتا ہے-

    یہ طریقہ 1956 سے ہیلی ریسرچ سٹیشن پر اوزون کی تہہ کی پیمائش کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ 1985 میں، برطانوی انٹارکٹک سروے کے سائنسدانوں نے نتائج شائع کیے جن میں 1970 کی دہائی سے ہیلی کے اوپر اوزون کی سطح میں زبردست کمی ظاہر ہوئی 1985 میں انٹارکٹیکا کے اوپر اوزون کی تہہ میں ایک شگاف دریافت ہوا تھا جو کہ انسانی استعمال میں کاربن کو ختم کرنے والے مادوں کی وجہ سے ہوا تھا جس کے بعد ای ایس اے نے ان مادوں کے استعمال پر پابندی عائد کی تھی اس کے بعد دنیا بھر کے سائنسدان شگاف کے سائز کی نگرانی کر رہے ہیں1980 کی دہائی کے اوائل میں، سائنسدان جو اوزون کی پیمائش کر رہے تھے، قطب جنوبی پر اوزون کے ارتکاز میں کمی دیکھی۔ یہ سوراخ، کئی سالوں تک بڑھتا رہا۔

    کسی دوسرے لیڈر یا جماعت کے پاس ملکی ترقی …

    کوپرنیکس ایٹموسفیئر مانیٹرنگ سروس کے سینئر سائنسدان اینٹجے اینیس نے ایک بیان میں کہا کہ اوزون کا شگاف اب بھی بڑھتا اور سکڑتا ہے تاہم درجہ حرارت کی تبدیلیوں اور اسٹراٹاسفیئر میں ہوا کے دباؤ کی وجہ سے یہ شگاف وسط ستمبر اور وسط اکتوبر کے درمیان زیادہ بڑھ گیا ہے،ہماری آپریشنل اوزون مانیٹرنگ اور اس سے منسلک پیش گوئی سے پتہ چلتا ہے کہ 2023 کا اوزون شگاف ابتدائی طور پر شروع ہوا اور اگست کے وسط سے تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

  • جی میل نے نیا فیچر متعارف کروا دیا

    جی میل نے نیا فیچر متعارف کروا دیا

    فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور متعدد دیگر ایپس میں پوسٹس پر ایموجیز کے ذریعے ری ایکشن ظاہر کرنا ممکن ہے جبکہ اب آپ گوگل کی مقبول ترین ای میل سروس جی میل پر بھی ایموجی ری ایکشنز کا استعمال کر سکیں گے، گوگل سپورٹ سائٹ پر جاری ایک بیان کے مطابق یہ نیا فیچر پہلے اینڈرائیڈ صارفین کے لیے متعارف کرایا جا رہا ہے۔

    اس کے بعد آئندہ چند ماہ میں ویب اور آئی او ایس صارفین کے لیے بھی اس فیچر کو متعارف کرایا جائے گا، مگر ای میل پر ایموجی ری ایکشنز کا استعمال اتنا سادہ نہیں جتنا فیس بک یا دیگر ایپس میں ہوتا ہے اور کچھ افراد کو تو ایموجی ری ایکشن ایک الگ ای میل میں نظر آئے گا جس پر لکھا ہوگا کہ کسی فرد نے جی میل پر آپ کی ای میل پر ری ایکٹ کیا ہے۔

    تاہم ایسا جی میل کے پرانے وژن استعمال کرنے والے صارفین کے ساتھ ہوگا جبکہ کسی اور ای میل پروگرام جیسے آؤٹ لک اور یاہو صارفین کے ساتھ بھی ایسا ہوگا، کمپنی کے مطابق ایموجی ری ایکشن کو ہمیشہ استعمال کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اگر آپ کسی دفتری اکاؤنٹ کو اسعمال کرتے ہوئے 20 سے زائد ایڈریسز پر کوئی ای میل بھیجیں گے تو اس پر ایموجی ری ایکشنز کا استعمال ممکن نہیں ہوگا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اردو یونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر عہدے سے فارغ
    استحکام پاکستان پارٹی کی رجسٹریشن کا نوٹیفکیشن جاری
    الیکٹرک موٹر سائیکل بنانے کے لیے 31 کمپنیوں کو لائسنس جاری
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    بریسٹ کینسر …… لوگ کیا کہیں گے۔۔؟ (محمد نورالہدیٰ)
    اگر پاکستان سے سپورٹر بھی یہاں ہوتے تو اور اچھا لگتا، بابراعظم

    جبکہ اس کو استعمال کرنے کا طریقہ کار بہت آسان ہے، اگر یہ فیچر آپ کے اینڈرائیڈ فون میں دستیاب ہو تو ای میل اوپن کرنے پر اس کے نیچے ایڈ ایموجی ری ایکشن کا آپشن نظر آئے گا اور اس آپشن کے ساتھ ایموجیز کی لسٹ ہوگی جس میں سے اپنی پسند کے ایموجی کو سلیکٹ کریں جو ای میل کے نیچے نظر آئے گا، اگر آپ نے کسی غلط ایموجی کو سلیکٹ کرلیا ہے تو اسے ہٹا بھی سکتے ہیں مگر اس کے لیے 5 سے 30 سیکنڈ کے اندر اسے ان ڈو (undo) کرنا ہوگا۔

  • ممی کو 128 سال بعد مناسب طریقے سے دفنانے کی اجازت دے دی گئی

    ممی کو 128 سال بعد مناسب طریقے سے دفنانے کی اجازت دے دی گئی

    آپ کو معلوم ہوگا کہ انسان کا مرنا اور پھر مرنے کے بعد اس کی آخری رسومات ایک لازمی عمل ہے اور سائنسی تحقیق کے مطابق مرنے کے بعد انسان کے جسم سے خاص قسم کے جراثیم کا اخراج شروع ہوجاتا ہے، اس لئے اس کا تلف ہونا ضروری ہے تاہم ایسا ہی کچھ اب 128 سال سے حنوط شدہ ایک لاش کے ساتھ کیا جارہا ہے، پنسلوانیا کی اسٹون مین ولی نامی ممی کو 128 سال بعد مناسب طریقے سے دفنانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

    روئیٹرز کی خبر کے مطابق اسٹون مین ولی نامی شخص کو 128 سال سے ریڈنگ میں نمائش کے لیے رکھا گیا تھا، یہ نامعلوم شخص ایک شرابی تھا جو 19 نومبر 1895 کو ایک مقامی جیل میں گردے فیل ہونے کی وجہ سے فوت ہوگیا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ملالہ یوسفزئی 21 واں سالانہ نیلسن منڈیلا لیکچر دیں گی

    انتخابات میں عالمی مبصرین کو بلانے بارے الیکشن کمیشن کا اجلاس
    امریکی کرنسی کے مقابلے روپیہ مزید تگڑا
    تاہم ٹائی کے ساتھ سوٹ میں ملبوس اس شخص کو ایک تابوت میں دکھایا گیا ہے جس کے سینے پر سرخ ربن ہے۔ اس کے بال اور دانت برقرار ہیں، اس کی جلد چمڑے کی شکل اختیار کر چکی ہے جبکہ اومان کے فیونرل ہوم کے مطابق، اسے حادثاتی طور پر ایک ایمبامنگ تکنیک کے ساتھ تجربہ کرنے والے مورٹیشین نے ممی بنا دیا تھا۔

  • 19 لاکھ اسکوائر میل رقبے پر پھیلے دنیا کے 8ویں گمشدہ براعظم کا نقشہ تیار

    19 لاکھ اسکوائر میل رقبے پر پھیلے دنیا کے 8ویں گمشدہ براعظم کا نقشہ تیار

    سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے زی لینڈیا کا نقشہ تیار کرلیا ہے،زی لینڈیا کو دنیا کا ‘8 واں’ براعظم بھی کہا جاتا ہے جو 19 لاکھ اسکوائر میل رقبے پر پھیلا ہوا ہے-

    باغی ٹی وی :واضح رہے کہ فروری 2017 میں سائنسدانوں نے دعویٰ کیا تھا کہ زمین کے 7 نہیں بلکہ 8 براعظم ہیں جن میں سے ایک ہماری آنکھوں کے سامنے ہونے کے باوجود عرصے سے اوجھل تھا انہوں نے اسے زی لینڈیا کا نام دیا جس کا کچھ فیصد حصہ ہی سمندر سے اوپر ہے جس میں نیوزی لینڈ بھی شامل ہے،جرنل Tectonics میں شائع سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں بتایا کہ اس براعظم کے آخری حصے کا نقشہ بھی مکمل کرلیا گیا ہے-

    زی لینڈیا کو دنیا کا ‘8 واں’ براعظم بھی کہا جاتا ہے جو 19 لاکھ اسکوائر میل رقبے پر پھیلا ہوا ہے ،مگر اس کا 95 فیصد حصہ زیرآب ہے اور سائنسدانوں کے مطابق لاکھوں سال قبل یہ سمندر میں غرق ہوا ہوگا اس کا نقشہ تیار کرنا بہت مشکل تھا کیونکہ نیوزی لینڈ کے قریب سمندر کی تہہ میں اس کے تمام حصوں کو کھنگالنا آسان نہیں ان سب مشکلات کے باوجود سائنسدان نک مورٹیمر اور ان کی ٹیم نے اس گمشدہ براعظم کا نقشہ 20 سال سے زائد عرصے کی کوششوں کے بعد تیار کرلیا ہے اس ٹیم نے 2019 میں جنوبی زی لینڈیا کے نقشے کو تیار کیا تھا اور اب شمالی حصوں پر بھی کام مکمل کرلیا گیا ہے،جس سے انہیں توقع ہے کہ اس گمشدہ براعظم کے پراسرار ماضی کے راز جاننے میں مدد مل سکے گی۔

    نک مورٹیمر کے مطابق برسوں کی تحقیق اور شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں لگتا ہے کہ زی لینڈیا کو ایک براعظم قرار دیا جا سکتا ہے محققین نے وہاں سے چٹانوں کے نمونے بھی اکٹھے کیے جو کہ 3 کروڑ سے لگ بھگ 13 کروڑ سال پرانے تھے اس ڈیٹا سے ماہر ارضیات کو یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ زی لینڈیا کب زمین کے ایک بڑے ٹکڑے سے الگ ہوا تھا نک مورٹیمر نے زی لینڈیا کو ایک بہت بڑے براعظم Gondwana کے معمے کا ایک ٹکڑا قرار دیا۔
    Gondwana
    ماہرین ارضیات کا ماننا ہے کہ Gondwana ایک ایسا براعظم تھا جو اب انٹار کٹیکا، آسٹریلیا، جنوبی امریکا، افریقا اور بھارت میں تقسیم ہو چکا ہے،یہ براعظم 16 کروڑ سال قبل مختلف حصوں میں تقسیم ہوا تھا سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ یہ براعظم لاکھوں یا کروڑوں سال پہلے آسٹریلیا اور انٹار کٹیکا سے الگ ہونے کے بعد مکمل طور پر زیرآب چلا گیا تھا مگر اب بھی انہیںیہ معلوم کرنا ہے کہ یہ سب براعظم الگ کیوں ہوئے۔

  • سال 2023 :طب کا نوبیل انعام امریکا سے تعلق رکھنے والے دو سائنسدانوں کو دینے کا اعلان

    سال 2023 :طب کا نوبیل انعام امریکا سے تعلق رکھنے والے دو سائنسدانوں کو دینے کا اعلان

    سال 2023 کے لیےطب کا نوبیل انعام امریکا سے تعلق رکھنے والے دو سائنسدانوں کو دینے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ میں نوبل اسمبلی نے آج ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا ہے فزیالوجی یا میڈیسن میں 2023 کا نوبل انعام مشترکہ طور پر کیٹالن کیریکو اور ڈریو ویس مین کو دیا جائے گا نیوکلیوسائیڈ بیس ترمیم کے بارے میں ان کی دریافتوں کے لیے جنہوں نے COVID-19 کے خلاف موثر mRNA ویکسینز کی ترقی کو قابل بنایا۔

    ہنگری نژاد امریکی بائیو کیمسٹ Katalin Karikó اور Drew Weissman کو کووڈ 19 کی وبا سے لڑنے کے لیے ایم آر این اے ویکسین تیار کرنے میں مدد فراہم کرنے پر نوبیل انعام سے نوازا گیا یہ دونوں امریکا کی پنسلوانیا یونیورسٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور برسوں سے ایم آر این اے ٹیکنالوجی پر کام کر رہے تھے۔

    ان کے تحقیقی کام کے باعث کووڈ 19 کی وبا کے دوران ریکارڈ وقت میں زندگی بچانے والی ویکسینز تیار کرنے میں مدد ملی،یہ دونوں 1990 کی دہائی کے آخر میں ایک تحقیق کے دوران ملے تھے اور اس کے بعد انہوں نے مل کر ایم آر این اے ٹیکنالوجی کو مختلف امراض کے علاج کے طور پر جانچنے کے لیے کام شروع کیا۔

    50 ملین سے زائد امریکی ڈالرز گھروں میں چھپائے جانے کا انکشاف

    https://x.com/NobelPrize/status/1708780262883017166?s=20
    کووڈ کی وبا کے موقع پر ان دونوں سائنسدانوں کے تحقیقی کام کو مختلف کمپنیوں نے استعمال کیا تاکہ لوگوں کو کورونا وائرس سے تحفظ فراہم کر سکیں اور دسمبر 2020 میں اولین ایم آر این اے ویکسین متعارف کرائی گئی صرف امریکا میں ہی ایم آر این اے ویکسینز کی 65 کروڑ سے زائد خوراکیں استعمال کرائی جاچکی ہیں۔

    واضح رہے کہ 3 اکتوبر کو فزکس، 4 اکتوبر کو کیمسٹری اور 5 اکتوبر کو ادب کے نوبیل انعام کا اعلان کیا جائے گا امن کے نوبیل انعام کا اعلان 6 اکتوبر جبکہ معیشت کا نوبیل انعام 9 اکتوبر کو دیا جائے گا۔

    میکسیکو میں چرچ کی چھت گرنے سے 10 افراد ہلاک

  • دنیا کا قدیم ترین لکڑی کا ڈھانچہ دریافت

    دنیا کا قدیم ترین لکڑی کا ڈھانچہ دریافت

    لوساکا: افریقی ملک زمبیا میں کالامبو آبشار کے قریب ایک تاریخی مقام پر ماہرین آثارِ قدیمہ نے دنیا کا قدیم ترین 5 لاکھ سال پُرانا لکڑی کا ڈھانچہ دریافت کیاہے-

    باغی ٹی وی: ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈھانچہ ایک ایسے درخت کی لکڑی سے تیار کیا گیا ہے جس کا پھل اُس زمانے میں کافی بڑا ہوتا تھا جبکہ یہ ڈھانچہ ایک ایسی حالت میں دریافت ہوا ہے کہ اس کے آس پاس مٹی کی ایک موٹی تہہ موجود تھی جس سے یہ بات واضح ہے کہ لکڑی کے اس ڈھانچے کو بہترین حالت میں محفوظ بھی رکھا گیا۔

    محققین کے مطابق لکڑی کا یہ ڈھانچہ دلدل والی زمین پر ایک اونچی گزرگاہ کے طور پر تیار کیا گیا تھا جبکہ یہ دنیا کے دو سب سے شاندار قدرتی عجائبات یعنی 235 میٹر اونچی ایک آبشار اور 300 میٹر گہرےدرے سے صرف چند سو میٹر کے فاصلے پر ملا ہے یہ چوپی ڈھانچہ سائنسی اصطلاح میں ‘ہومو سیپیئن’ کہلانے والی موجود نوع انسانی کے آغاز سے پہلے کے دور کی معلوم ہوتی ہے۔

    برطانیہ:دنیا کا پہلا حجابی مجسمہ تیار

    ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ قدیم دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ اس وقت کے انسان بھی کافی سوجھ بوجھ کے مالک تھے اور اُنہوں نے اپنی عقل کا استعمال کرتے ہوئے یہ مضبوط لکڑی کا ڈھانچہ بنایا تھا جو آج تک صحیح سلامت دریا میں موجود تھا۔

    جناح ہاؤس کیس: 28 ملزمان کے اشتہار جاری

  • میپ میں غلط راستہ بتانے پر گوگل پر مقدمہ درج

    میپ میں غلط راستہ بتانے پر گوگل پر مقدمہ درج

    شمالی کیرولائنا کے ایک شخص کے اہل خانہ نے گوگل میپس کی ہدایات پرعمل کرتے ہوئے کار پُل سے نیچے گرنے کے باعث اُس کی ہلاکت پرٹیکنالوجی کمپنی کے خلاف مقدمہ درج کروادیا۔

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیکوری میں ایک گاڑی پُل پر جاتے وقت کھائی میں جاگری جس کے نتیجے میں 2 بچیوں کے والد فِل پیکسن موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جس کا ذمہ دار متوفی کی بیوہ نے گوگل کو ٹھہرایا ہے،ویک کاؤنٹی سپیریئر کورٹ میں منگل کے روز دائر مقدمے کے مطابق 30 ستمبر 2022 کو فلپ پیکسن اپنی جیپ گلیڈی ایٹرز کے ہکوری میں سنو کریک میں گرنے سے ڈوب کر ہلاک ہو گئے تھے۔

    47 سالہ فِل پیکسن شمالی کیرولائنا میں ایک دوست کے گھر اپنی 9 سالہ بیٹی کی سالگرہ پارٹی سے رات کے وقت شدید بارش میں واپس آرہے تھےاندھیرا ہونے کی وجہ سے فِل پیکسن نے اپنے فون پر گوگل میپس کا استعمال کرتے ہوئے تقریباً 4.3 میل دور 10 منٹ کے فاصلے پر اپنے گھر تک GPS ہدایات آن کردیں۔ تاہم جی پی ایس انہیں اسنو کریک پُل پر لے گیا جو 2013 میں جزوی طور پر ڈھے گیا تھا۔

    سعودی عرب اور اسرائیل قریب تر ہوتے جارہے ہیں، محمد بن سلمان

    جیسے ہی وہ پُل پر آئے پیکسن کی جیپ گلیڈی ایٹر سڑک سے 20 فٹ نیچے کھائی میں جا گری شمالی کیرولائنا کے سیکورٹی حکام نے کہا کہ عام طور پر ڈرائیوروں کو پل عبور کرنے سے روکنے کے لیے رکاوٹیں لگائی جاتی ہیں لیکن کچھ دنوں میں مرمت اور توڑ پھوڑ کے کام کے بعد پُل سے رکاوٹیں ہٹا دی گئی تھیں، مقدمے کے مطابق وہ ایک غیر محفوظ کنارے سے گاڑی چلا کر تقریبا 20 فٹ نیچے گرے۔

    پیکسن کی بیوہ نے اپنے شوہر کی موت کا گوگل کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے گوگل کیخلاف مقدمہ دائر کیا ہے یہ مقدمہ 19 ستمبر کو ویک کاؤنٹی کی نارتھ کیرولینا سپیریئر کورٹ میں دائر کیا گیا ہے، جہاں گوگل کا رجسٹرڈ دفتر بھی موجود ہے۔

    مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ گوگل نے ٹوٹے ہوئے پل کے بارے میں شہریوں کی شکایات کو نظر انداز کیا اور اپنے نقشوں کو اپ ڈیٹ کرنے میں ناکام رہا۔ مقدمے میں یہ بھی بتایا گیا کہ اپریل 2023 تک گوگل میپس نے پل کو قابل گزر راستے کے طور پر دکھایا ہوا ہے۔

    سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے عالمی تعاون ضروری ہے،نگران وزیراعظم

    ان کی اہلیہ الیسیا پیکسن کا کہنا تھا کہ ہماری بیٹیاں پوچھتی ہیں کہ ان کے والد کی موت کیسے اور کیوں ہوئی اور میں ان الفاظ سے محروم ہوں جو وہ سمجھ سکتی ہیں کیونکہ مجھےبھی سمجھ نہیں آرہی-

    نارتھ کیرولائنا اسٹیٹ پٹرول نے کہا تھا کہ پل کی دیکھ بھال مقامی یا ریاستی حکام نہیں کرتے تھے اور اصل ڈویلپر کی کمپنی تحلیل ہو گئی تھی۔ مقدمے میں کئی نجی پراپرٹی مینجمنٹ کمپنیوں کا نام لیا گیا ہے جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ پل اور ملحقہ زمین کے ذمہ دار ہیں۔

    مقدمے کے مطابق متعدد افراد نے گوگل میپس کو پل کے گرنے کے بارے میں مطلع کیا تھا اور کمپنی پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے روٹ کی معلومات کو اپ ڈیٹ کرے۔

    کینیڈا میں ایک اورعلیحدگی پسند سکھ رہنما قتل

    منگل کو دائر کی گئی عدالتی شکایت میں ہکوری کے ایک اور رہائشی کے ای میل ریکارڈ بھی شامل ہیں جنہوں نے ستمبر 2020 میں نقشے کے ”ایڈٹ کی تجویز“ کی خصوصیت کا استعمال کرتے ہوئے کمپنی کو متنبہ کیا تھا کہ وہ ڈرائیوروں کو منہدم پل پر ہدایت دے رہی ہے۔

    گوگل کی جانب سے نومبر 2020 میں ای میل کی تصدیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ کمپنی کو ان کی رپورٹ موصول ہوئی ہے اور وہ تجویز کردہ تبدیلی کا جائزہ لے رہی ہے، لیکن مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گوگل نے مزید کوئی قدم نہیں اٹھایا گوگل کے ترجمان جوز کاسٹانیڈا نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ’ہمیں پیکسن خاندان کے ساتھ گہری ہمدردی ہے‘ ہمارا مقصد میپس میں درست روٹنگ معلومات فراہم کرنا ہے اور ہم اس مقدمے کا جائزہ لے رہے ہیں۔

    سدھوموسے والا قتل کیس: ملزم گولڈی برار کے قریبی ساتھیوں کی گرفتاری کیلئےچھاپے