Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • موسمیاتی تبدیلیاں پھیپھڑوں کے امراض  سے متاثرافراد کیلئے خطرہ بڑھا رہی ہیں،تحقیق

    موسمیاتی تبدیلیاں پھیپھڑوں کے امراض سے متاثرافراد کیلئے خطرہ بڑھا رہی ہیں،تحقیق

    ایک نئی طبی تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پھیپھڑوں کے امراض جیسے دمہ سے متاثر افراد کے لیے خطرات بڑھ رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی: اس سال دنیا بھر میں درجہ حرارت میں اضافے کے نئے ریکارڈز دیکھنے میں آئے ہیں،محققین نے بتایا کہ لوگوں کو اس حوالے سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ خود کو موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے اقدامات کر سکیں۔

    سانس کے ماہرین نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق فضائی آلودگی کے لیے اپنی ریگولیٹری حدود کو کم کرے،انہوں نے کہا کہ ہمیں مریضوں کی تکالیف کو کم کرنے کے لیے ہر ممکن مدد کرنے کی ضرورت ہے،ایک اندازے کے مطابق فضائی آلودگی نے 2019 میں عالمی سطح پر 6.7 ملین اور یورپ میں 373,000 افراد کی جان لے لی ہے، جس میں گرین ہاؤس گیسز اور فضائی آلودگی ایک جیسے ذرائع میں سے بہت سے شریک ہیں۔

    جاپان بھی چاند پر مشن بھیجنے کے لیے تیار

    جرنل European Respiratory میں شائع تحقیق میں بتایا گیاکہ پھیپھڑوں کے امراض جیسے دمہ اور chronic obstructive pulmonary disease (سی او پی ڈی) کے شکار افراد کو موسمیاتی تبدیلیوں سے سنگین خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے،ہیٹ ویوز، جنگلات میں آتشزدگی اور سیلاب وغیرہ جیسے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے دنیا بھر میں کروڑوں افراد کے لیے سانس لینا مشکل ہو سکتا ہے۔

    محققین نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے ہر فرد کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے مگر نظام تنفس کے امراض کے شکار مریضوں کو زیادہ مشکلات کا سامنا ہوگا،جن افراد کو پہلے ہی سانس لینے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، ان کی علامات موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مزید بدتر ہو جائیں گی۔

    2 افراد دیوار چین میں سوراخ کرنے پر گرفتار

    محققین نے بتایا کہ فضائی آلودگی پہلے ہی پھیپھڑوں کو نقصان پہنچا رہی ہے اور اب موسمیاتی تبدیلیاں بھی نظام تنفس کے امراض کے شکار افراد کے لیے بڑا خطرہ بن گئی ہیں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت بڑھ رہا ہے جبکہ ہیٹ ویوز، خشک سالی، جنگلات میں آتشزدگی اور دیگر شدید موسمیاتی اثرات کے باعث فضا میں نمی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    کوپن ہیگن یونیورسٹی میں ماحولیاتی وبائی امراض کی پروفیسر اور اس رپورٹ کی مصنفہ زورانا جووانووک اینڈرسن نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیاں ہر کسی کی صحت کو متاثر کرتی ہیں، لیکن دلیل کے طور پر، سانس کے مریض سب سے زیادہ خطرے کا شکار ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنہیں پہلے ہی سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے اور وہ ہماری بدلتی ہوئی آب و ہوا کے لیے بہت زیادہ حساس ہیں۔ ان کی علامات بدتر ہو جائیں گی، اور کچھ کے لیے یہ جان لیوا ثابت ہو گا۔

    ڈائنا سور کے قدموں کے11 کروڑ سال پرانے پیروں کے نشانات دریافت

  • جاپان بھی چاند پر مشن بھیجنے کے لیے تیار

    جاپان بھی چاند پر مشن بھیجنے کے لیے تیار

    جاپان نے بھی چاند پر خلائی مشن چاند پر بھیجنے کااعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی: جاپانی مشن کو اگست کے آخر میں لانچ کیا جانا تھا مگر خراب موسم کے باعث ایسا نہ ہو سکا، اب یہ 7 ستمبر 2023 کو روانہ ہوگا، اسمارٹ لینڈر فار انویسٹی گیٹنگ مون (سلم) نامی یہ مشن چھوٹے اسپیس کرافٹ پر مشتمل ہوگا جس کا وزن 200 کلوگرام ہے، اس مشن کا بنیادی مقصد منتخب کردہ لینڈنگ کے مقام کے 1 00 میٹر کے اندر پن پوائنٹ لینڈنگ کی صلاحیت کا اظہار کرنا ہے، جس کے ساتھ چاند کی لینڈنگ جنوری 2024 سے شروع ہوگی۔

    جاپان امریکہ، سابق سوویت یونین، چین اور اب ہندوستان کے بعد چاند پر اترنے والا پانچواں ملک بن جائے گا۔ اس ماہ ہندوستان کے چندریان -3 چاند کی تلاش کے مشن کی کامیابی جاپان کے خلائی مشنوں میں حالیہ ناکامیوں سے متصادم ہے-

    مودی حکومت کا آئین میں "انڈیا” کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ

    جاپانی حکام کے مطابق ابھی تو جہاں آسانی محسوس ہوتی ہے خلائی مشن کو لینڈ کیا جاتا ہے، مگر اس مشن سے ہم یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ہم جہاں چاہے چاند پر لینڈ کر سکتے ہیں یہ چندریان 3 مشن کی سافٹ لینڈنگ تکنیک سے کچھ مختلف ہے،یہ ایک موثر کیمیکل پروپلشن سسٹم کا استعمال کرتا ہے اور اس میں چھوٹے الیکٹرانک آلات شامل ہیں،اس سال تک SLIM کی مجموعی ترقی پر تقریباً 15 بلین ین ($102 ملین) لاگت آئی ہے۔ بھارت نے تقریباً 75 ملین ڈالر کے بجٹ سے اپنا لینڈر لانچ کیا۔

    جے جاپان ایرو اسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی (جے اے ایکس اے) کے مطابق پن پوائنٹ لینڈنگ ٹیکنالوجی سے ہم سائنسی طور پر زیادہ اہم مقامات کے قریب اسپیس کرافٹ کو اتار سکیں گے اس مقصد کے حصول سے دیگر سیاروں پر لینڈ کرنا بھی ممکن ہو جائے گا جاپانی مشن کو چاند کے استوائی خطے کے ایک چھوٹے گڑھے Shioli کے قریب اتارنے کی کوشش کی جائے گی یہ پہلی بار ہے جب جے اے ایکس اے کی جانب سے چاند پر مشن بھیجا جا رہا ہے۔

    آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ:بھارت نے اپنے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کردیا

    اس سے قبل ایک نجی جاپانی کمپنی نے کچھ ماہ قبل چاند پر مشن روانہ کیا تھا مگر وہ لینڈنگ میں ناکام رہا تھا جاپانی مشن کے لیے کسی طاقتور راکٹ پر انحصار نہیں کیا جائے گا بلکہ یہ چندریان 3 مشن کی طرح پہلے زمین کے مدار میں داخل ہوگا اور پھر چاند کی جانب روانہ ہوگا اس مشن کو چاند کے مدار میں داخل ہونے میں 4 سے 6 ماہ کا عرصہ لگے گا۔

  • وٹامن سپلیمنٹس پھیپھڑوں کےکینسربڑھنےاورپھیلنےکاسبب بن سکتا ہے،تحقیق

    وٹامن سپلیمنٹس پھیپھڑوں کےکینسربڑھنےاورپھیلنےکاسبب بن سکتا ہے،تحقیق

    ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ وٹامن سی اور ای کی گولیاں لینا پھیپھڑوں کے کینسر بڑھنے اور پھیلنے کا سبب بن سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: چوہوں میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق، وٹامن سی اور ای جیسے اینٹی آکسیڈنٹ سپلیمنٹس لینے سے پھیپھڑوں کے کینسر بڑے ہو سکتے ہیں اور ٹیومر کے اندر خون کی نالیوں کی تشکیل کو تحریک دے کر پھیل سکتے ہیں سوئیڈش سائنس دانوں کے مطابق وہ افراد جو کسی بھی قسم کے کینسر میں مبتلا ہیں ان کو اپنی میں غذا میں کسی قسم کی تبدیلی سے گریز کرنا چاہیئے۔

    محققین کے مطابق وٹامن سی اور ای سے بھرپور صحت مند غذا کے علاوہ سپلیمنٹ کا لینا کینسر کا مرض پھیلنے کا سبب بن سکتا ہے جرنل آف کلینکل انویسٹیگیشن میں شائع ہونے والی تحقیق میں سائنس دانوں نے کینسر میں مبتلا چوہوں کو اضافی وٹامن دیے جو وہ اپنی غذا میں پہلے ہی حاصل کر رہے تھے چوہوں میں جتنی زیادہ وٹامن کی مقدار تھی، کینسر کی رسولیوں میں اتنی زیادہ خون کی نئی شریانیں بن رہیں تھیں جو ممکنہ طور پر بیماری کےبڑھنے اور پھیلنےکا سبب ہوسکتی ہے،انہوں نے چوہوں کے پانی کو وٹامن سی کے ساتھ ملایا، جو جانور قدرتی طور پر پیدا کرتے ہیں، اور وٹامن ای اور این ایسٹیل سسٹین، جو وہ اپنی خوراک سے حاصل کرتے ہیں۔

    فرانس میں ڈسپوزایبل ویپس پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ

    کیرولِنسکااِنسٹیٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے مصنف ڈاکٹر مارٹن برگو کا کہنا تھا کہ آج کل بہت سے لوگ جو صحت مند خوراک لیتے ہیں، کچھ سپلیمنٹ کھاتے ہیں اور پھر شاید اسموتھی بھی پیتے ہیں اگر یہ سب بطور غذا لیا جائے تو آپ کی وٹامن کی کھپت اتنی ہوتی ہے جس کے متعلق تحقیق میں بتایا گیا ہے وٹامن انسانی صحت کے لیے انتہائی اہم شے ہے اگر غذاؤں سے تمام اینٹی آکسیڈنٹ نکال لیں آپ متعدد وجوہات سے بیمار ہوسکتے ہیں جیسے کہ وٹامن کی کمی وغیرہ اور یہ کینسر پر اثر ڈالتا ہے۔

    ایک محقق نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس حالت میں مبتلا افراد کو اپنی خوراک میں ان اینٹی آکسیڈنٹ سے بچنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، لیکن سپلیمنٹس کے ذریعے ضرورت سے زیادہ حاصل کرنا نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

    سلطان النیادی کا خلا میں اپنا چھ ماہ کا تاریخی مشن مکمل

  • جیمز ویب:سُپر نووا کے اندرونی سانچے کے متعلق نئے انکشافات

    جیمز ویب:سُپر نووا کے اندرونی سانچے کے متعلق نئے انکشافات

    واشنگٹن: ماہرین فلکیات نے زمین سے 1 لاکھ 68 ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود زیر مطالعہ سُپر نووا کے اندرونی سانچے کے متعلق نئے انکشافات کئے ہیں یہ معلومات ستاروں کے دھماکے سے پھٹنے کے متعلق مزید معموں کو حل کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی: 1987 میں دریافت ہونے والے سُپر نووا ایس این 1987 اے کا مطالعہ سائنس دان پچھلی تین دہائیوں سے کر رہے ہیں سُپر نووا ستارے کا وہ طاقت ور دھماکا ہوتا ہے جو اس کی زندگی کے اختتام پر ہوتا ہےجب ستارہ 1987 میں عروج پر تھا، تو یہ تقریباً 400 سالوں میں زمین سے دیکھا جانے والا قریب ترین، روشن ترین سپرنووا تھا تاہم اب نئی سپر اسپیس ٹیلی سکوپ جیمز ویب ہمیں ایسی تفصیلات دکھا رہی ہے جو پہلے کبھی سامنے نہیں آئی تھیں۔

    SN1987A بڑے میجیلانک کلاؤڈ میں ہم سے محض 170,000 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے، جو ہماری اپنی کہکشاں سے متصل ایک بونی کہکشاں ہے ماہرین فلکیات اس چیز سے متوجہ ہوتے ہیں کیونکہ یہ ایک پیچیدہ منظر پیش کرتا ہے کہ جب بڑے ستارے اپنے دن ختم ہوتے ہیں تو کیا ہوتا ہے-

    موبائل فون سے تیزی سے پھیلنے والا مرض نوموفوبیا کیا ہے؟

    ناسا کے مطابق تازہ ترین مشاہدوں میں سپر نووا کے مرکزی سانچے کے متعلق معلوم ہوا ہے کہ چابی کے سوراخ جیسا دِکھنے والا یہ سانچہ دبیز گیس سے اور دھماکے سے خارج ہونے والی گرد سے بھرا ہوا ہے

    محققین کے مطابق یہ گرد اتنی گاڑھی ہے کہ جدید جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ بھی اس کے پار نہیں دیکھ سکتی اور یہی چیز چابی کے سوراخ جیسی شکل کا سبب بھی ہے۔یہ شکل اطراف میں موجود روشن چھلے اور دو بیرونی چھلوں کے سبب بھی وجود میں آتی ہے۔

    اطراف میں موجود اکوئیٹوریل رِنگ سپرنووا سے ہزاروں سال قبل خارج ہونے والے مادے سے بنا ہے۔ اس چھلے میں روشن ہاٹ اسپاٹ بھی موجود ہیں جو سپر نووا سے خارج ہونے والی شاک ویو ٹکرانے کے سبب وجود میں آئے ہیں۔

    امریکا کا یوکرین کوڈیپلیٹڈ یورینیم گولہ بارود فراہم کرنے کا فیصلہ

    اس سپر نووا کا کئی سالوں تک ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ اور اسپٹزر اسپیس ٹیلی اسکوپ سے مطالعہ کیا گیا لیکن جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی غیر معمولی صلاحیتیں وہ پوشیدہ حقائق سامنے لے کر آئیں جو اس سے قبل نہیں آسکیں تھیں۔

  • گوگل میپس میں بڑی تبدیلی کر دی گئی

    گوگل میپس میں بڑی تبدیلی کر دی گئی

    دنیا کے مقبول ترین سرچ انجن گوگل نے گوگل میپس کے یوزر انٹرفیس میں نمایاں تبدیلی کی ہے۔

    باغی ٹی وی: گوگل کی مقبول ترین سروس میپس کو روزانہ کروڑوں افراد استعمال کرتے ہیں،اس سروس سے لوگوں کو مختلف مقامات کے راستوں کو سمجھنے یا وہاں تک پہنچنے میں مدد ملتی ہے،اب کمپنی کی جانب سے خاموشی سے گوگل میپس کے یوزر انٹرفیس میں نمایاں تبدیلی کی گئی ہے۔

    اس تبدیلی کے باعث گوگل میپس سروس بیشتر افراد کو پہلے کے مقابلے میں مختلف نظر آنے لگے گی،اس اپ ڈیٹ کے ذریعے فون اور ڈیسک ٹاپ صارفین کے لیے گوگل میپس کے رنگوں کو تبدیل کیا گیا ہےاب سڑکوں کے لیے گرے، پانی کے لیے سبزی مائل نیلے جبکہ پارکوں کے لیے نیلگوں مائل سبز رنگ استعمال کیا جا رہا ہے۔

    گلگت بلتستان میں پاک فوج کی تعیناتی کی خبریں اور قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں،وزیر …

    اس نئی تبدیلی کو بتدریج تمام صارفین کے لیے متعارف کرایا جا رہا ہے اس سے پہلے گوگل میپس میں سڑکوں کے لیے پیلا جبکہ پانی کے لیے ذرا گہرا نیلا رنگ استعمال کیا جاتا تھا مگر اب رنگوں کو تبدیل کیا گیا ہے جس کے باعث صارفین کے لیےراستوں کو شناخت کرنا مشکل ہوگیا ہے یا کم از کم پانی اور پارک لگ بھگ ایک جیسے ہی محسوس ہوتے ہیں اس سروس کو ڈارک موڈ پر استعمال کر سکتے ہیں جس میں پرانا یوزر انٹرفیس ہی برقرار رکھا گیا ہے۔

    کچھ لوگ پاکستان کا خوبصورت چہرہ تباہ کرناچاہتے ہیں،نگران وفاقی وزیر برائے مذہبی امور

  • موبائل فون سے تیزی سے پھیلنے والا مرض نوموفوبیا کیا ہے؟

    موبائل فون سے تیزی سے پھیلنے والا مرض نوموفوبیا کیا ہے؟

    موجودہ عہد میں موبائل فونز لگ بھگ ہر فرد کی زندگی کا حصہ بن چکے ہیں، مگر کچھ افراد کو ان ڈیوائسز کے باعث ایک عجیب مرض کا سامنا ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی:جرنل بی ایم سی سائیکاٹری میں شائع ایک تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل فون کا بہت زیادہ استعمال نوجوانوں میں انحصار سنڈروم کی علامات کی نشوونما کا باعث بنتا ہے جو بالغوں کے مقابلے میں موبائل فون پر زیادہ انحصار کرتے ہیں کوویڈ وبائی مرض نے معاشرے کے متعدد گروہوں خصوصاً یونیورسٹی کے طلباء کی ذہنی صحت پر اثر ڈالا ہے اس مطالعے کا مقصد یونیورسٹی کے طلباء میں موبائل فون پر انحصار کے پھیلاؤ اور اس سے وابستہ عوامل کو تلاش کرنا تھا۔

    ماہرین نے ستمبر 2021 اور جنوری 2022 کے درمیان، اردن، لبنان، مصر، بحرین اور سعودی عرب کی یونیورسٹیوں میں آن لائن اور کاغذ پر مبنی خود زیر انتظام سوالنامے کا استعمال کرتے ہوئے ایک کراس سیکشنل مطالعہ کیا گیا،اس تحقیق میں یونیورسٹی کے کل 5,720 طلباء شامل تھے جن میں مصر کے 2813، سعودی عرب کے 1509، اردن کے 766، لبنان کے 432، اور بحرین کے 200 طلبا کو تحقیق میں شامل کیا گیا-

    روس نے جدید بین البراعظمی بیلسٹک میزائل سرحدوں پر نصب کر دیئے

    موبائل فون استعمال کرنے پر روزانہ کا اوسط تخمینہ 186.4 (94.4) منٹ تھا مصر سے تعلق رکھنے والے یونیورسٹی کے طلباء کے لیے موبائل پر انحصار کا سب سے زیادہ سکور دیکھا گیا اور لبنان سے تعلق رکھنے والے یونیورسٹی کے طلباء کے لیے موبائل پر انحصار کا سب سے کم سکور دیکھا گیا۔ مطالعہ کے نمونے میں انحصار کا سب سے عام معیار خراب کنٹرول 55.6 فیصد تھا اور سب سے کم عام نقصان دہ استعمال 25.1 فیصد تھا خواتین اور جن کی اطلاع ہے کہ اضطراب کا مسئلہ ہے یا اضطراب کا علاج استعمال کرتے ہیں ان میں بالترتیب 15فیصد اور 75 فیصد موبائل فون پر انحصار بڑھنے کا زیادہ خطرہ تھا۔

    ماہرین نے تحقیق میں پایا کہ مشرق وسطیٰ کے خطے کے عرب ممالک میں یونیورسٹی کے طلباء میں موبائل فون کا انحصار عام ہے موبائل فون پر انحصار کو کم کرنے کے لیے مفید اور نئے مشاغل اپنانے کی مستقبل کے مطالعے کی تصدیق کی گئی ہے۔

    سونےکی کان سے سونا لے جانے والی ٹیم پر حملہ،دو چینی شہریوں سمیت 4 …

    تحقیق کے مطابق نو موبائل فون فوبیا (نو مو فوبیا) کی اصطلاح کا استعمال ایسی انزائٹی کے لیے کیا جاتا ہے جس کا سامنا کسی فرد کو اس وقت ہوتا ہے جب موبائل فون اس کی رسائی میں نہیں ہوتا، نو مو فوبیا سے موبائل فون کی لت کا اظہار ہوتا ہے،انزائٹی، غصہ، پسینے کا اخراج، سانس لینے کے انداز میں تبدیلیاں، دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھ جانا اور اردگرد کے ماحول کا احساس ختم ہو جانا اس مرض کی علامات ہیں نوجوانوں میں نو مو فوبیا زیادہ عام ہے مگر ہر عمر کے افراد کو اس کا سامنا ہو سکتا ہے موبائل فونز پر بہت زیادہ انحصار کرنے کی وجہ سے لوگوں کو اس عارضے کا سامنا ہوتا ہے۔

    محققین کے مطابق موبائل فونز ہماری زندگی کا اہم حصہ بن چکے ہیں کیونکہ وہ منی (mini) کمپیوٹر کا کام کرتے ہیں جن سے ہم کہیں بھی اپنا کام کر پاتے ہیں اور خاندان سے بھی جڑے رہتے ہیں مگر جب ہم اچانک موبائل فونز سے محروم ہوتے ہیں تو ذہنی بے چینی کے شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ زندگی میں کچھ کم ہوگیا ہے خود اعتمادی کی کمی، جذباتی انتشار اور انزائٹی کے قریب پہنچ جانے والے افراد میں نو مو فوبیا سے متاثر ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

    امریکا نے متحدہ عرب امارات میں اپنا سفیر مقرر کر دیا

    محققین نے بتایا کہ جب کوئی فرد موبائل فون پر بہت زیادہ انحصار کرنے لگتا ہے تو اس کی زندگی کے متعدد پہلوؤں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اس کے نتیجے میں ان کی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے جبکہ روزمرہ کے کام کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے اگر لوگ اس فوبیا سے بچنا چاہتے ہیں تو فارغ وقت میں موبائل فون کے بغیر رہنے کی کوشش کریں، اسی طرح روزانہ ایک گھنٹے کے لیے فون بند کر دیں یا فون کو گھر میں چھوڑ کر باہر نکل جائیں وقت گزارنے کے لیے نئے مشاغل کو اپنانے سے بھی فون پر انحصار کم ہوتا ہے۔

  • ہزاروں سالوں سےدفن لاشوں میں سنہری زبانیں کیوں لگائی گئیں؟

    ہزاروں سالوں سےدفن لاشوں میں سنہری زبانیں کیوں لگائی گئیں؟

    ماہرین آثار قدیمہ نے ہزاروں سالوں سے دفن کچھ لاشیں دریافت کیں جن کے منہ میں سونے کی زبانیں پائی گئی ہیں۔

    باغی ٹی وی: یہ دریافت مصر میں کی گئی،مصر میں نوادرات کی وزارت نے اس دریافت کے حوالے سے بتایا کہ قدیم مصر میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ جب مُردوں کو موت کے بعد کی زندگی مل جائے تو انہیں بولنے کیلئے منہ کی تھرتھراہٹ کا استعمال کرنا ہوتا ہے اسکندریہ کے ”تاپوسیریس میگنا“ مندر کے اندر 16 ناقص طور پر محفوظ کی گئی ممیاں موجود تھیں، لیکن ان سب کی کھوپڑی میں بند ایک سنہری زبان تھی۔
    nawadrat
    آثار قدیمہ کے ماہرین کا خیال ہے کہ سونے کی زبانیں قدیم مصریوں نے مردہ لوگوں کو جہنم کے مالک اوسیرس کے ساتھ بات چیت کرنے کی اجازت دینے کے طریقے کے طور پر لگائی تھیں سنہری زبان والی یہ ممیاں کوئزنا یا نیکروپولس کے مقام پر برآمد ہوئیں، جو وسطی نیل ڈیلٹا میں واقع ہے سونے سے بھرے منہ کے ساتھ موت کے دیوتا کے ساتھ بات چیت کرنا آسان سمجھا جاتا تھا-

    ایلون مسک کا ایکس میں آڈیو اور ویڈیو کالز کا فیچر جلد متعارف کرانے کا …

    سونے کی زبان والی ممیوں کے سنہری تابوتوں کو توڑا جاچکا تھا، اسی وجہ سے پلاسٹر اور گوند کی کچھ تہیں بھی ملی ہیں جو ممی شدہ افراد کو دفن کرنے کے لیے استعمال ہوتی تھیں،ممی کے سر کے گرد موجود سجاوٹ میں سینگ، کوبرا سانپ اور تاج نظر آئے جب کہ اس کے سینے پر ایک ہار تھا جس میں باز کا سر دکھایا گیا تھا خیال کیا جاتا ہے کہ باز کے سر والے زیورات کا ٹکڑا سورج کے خدا ہورس کا تھا۔

    جوہانسبرگ میں5 منزلہ عمارت میں آتشزدگی،درجنوں افراد ہلاک

  • ایلون مسک کا ایکس میں آڈیو اور ویڈیو کالز کا فیچر جلد متعارف کرانے کا اعلان

    ایلون مسک کا ایکس میں آڈیو اور ویڈیو کالز کا فیچر جلد متعارف کرانے کا اعلان

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس میں آڈیو اور ویڈیو کالز کا فیچر جلد متعارف کرانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی :سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس کے مالک ایلون مسک کی جانب سے کیا گیاایلون مسک نے ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ آڈیو اور ویڈیو کالز کا فیچر جلد صارفین کو دستیاب ہوگا،یہ فیچر اینڈرائیڈ، آئی او ایس، میک اور ونڈوز کمپیوٹر پر کام کرے گا آڈیو اور ویڈیو کالزکرنےکیلئے کسی فون نمبر کی ضرورت نہیں ہوگی ایکس ایک گلوبل ایڈریس بک ہے اور اسی لیے کالز کے لیے فون نمبر کی ضرورت نہیں۔


    واضح رہے کہ اس سے قبل مئی 2023 میں ایلون مسک نے اس فیچر کو متعارف کرانے کی بات کی تھی، ان کا کہنا تھا کہ اس فیچر کو متعارف کرانے کے بعد ہر صارف کسی بھی فرد سے دنیا بھر میں فون نمبر کے بغیر آڈیو یا ویڈیو کال پر بات کر سکے گا۔

    ایف بی آر نے پی آئی اے کے 13 بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیئے

    بعد ازاں جولائی 2023 میں ٹوئٹر کی ڈیزائنر اینڈریا کانوے نے اس فیچر کی ایک جھلک پیش کی تھی انہوں نے ایک ایکس پوسٹ میں اسکرین شاٹ شیئر کیا تھا جس میں ویڈیو چیٹ کے فیچر کو استعمال کرتے ہوئے دکھایا گیا تھااگست کے شروع میں ایکس کی چیف ایگزیکٹو لینڈا یاکارینو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم میں بہت جلد ویڈیو کالز کے فیچر کو متعارف کرانے کا اعلان کیا۔

    پارٹی عہدے سے ہٹانے کیخلاف کیس میں عمران خان نے کی متفرق درخواست دائر

  • دنیا میں پہلی بارآسٹریلوی خاتون کے دماغ میں زندہ کیڑا

    دنیا میں پہلی بارآسٹریلوی خاتون کے دماغ میں زندہ کیڑا

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دنیا میں پہلی بار ایک آسٹریلوی خاتون کے دماغ میں 8 سینٹی میٹر (3 انچ) کا کیڑا زندہ پایا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: آسٹریلوی دارالحکومت کینبرا میں پچھلے سال سرجری کے دوران انگلستان میں پیدا ہونے والے مریض کے خراب فرنٹل لوب ٹشو سے "سٹرنگ نما ڈھانچہ” نکالا گیا تھا کینبرا اسپتال میں متعدی امراض کے ڈاکٹر سنجے سینانائیک کیلئے نیوروسرجن کی کال موصول ہونا قدرے غیرمعمولی تھا جس میں حیران پریشان نیورو سرجن نے کہا کہ اوہ میرے خدا، آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ میں نے اس خاتون کے دماغ میں کیا پایا ہے، اور یہ زندہ ہے۔

    محققین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ کیس جانوروں سےانسانوں میں منتقل ہونے والی بیماریوں اور انفیکشن کے بڑھتے ہوئے خطرے کو اجاگر کرتا ہےاس آپریٹنگ تھیٹر میں ہر ایک کو اپنی زندگی کا جھٹکا لگا جب سرجن نےایک اسامانیتا کو اٹھانے کےلیے کچھ قوتیں لگائیں اور یہ اسامانیتا 8 سینٹی میٹر ہلکے سرخ کیڑے کی شکل میں نکلی-

    انڈونیشیا میں حجاب نہ پہننےپراسکول ٹیچرنے14 طالبات کےبال ہی کاٹ دیئے

    جنوب مشرقی نیو ساؤتھ ویلز سے تعلق رکھنے والی 64 سالہ خاتون کو پہلی بار جنوری 2021 کے اواخر میں پیٹ میں درد اور ڈائریا کے تین ہفتوں کے بعد مقامی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، جس کے بعد انہیں مسلسل خشک کھانسی، بخار اور رات کو پسینہ آتا تھا۔

    2022 تک ان علامات میں بھول جانا اور ڈپریشن بھی شامل ہوگیا جس کے بعد انہیں کینبرا کے اسپتال منتقل کیا گیا خاتون کے دماغ کے ایم آر آئی اسکین سےسرجری کی ضرورت پڑنے والی خرابیوں کاانکشاف ہوا ڈاکٹرزکو ایم آئی آراسکین کے دوران دماغ کے آگے والے حصے میں ایک غیرمعمولی زخم نظر آیاجو دراصل راؤنڈ وارم تھا جسے اوفیڈاسکیریز رابرٹسی کہا جاتا ہے۔

    ایشیاکپ2023:پاک بھارت ٹاکرا ہو گا یا نہیں،ماہرین نے کیا پیشگوئی کی؟

    نیورو سرجن کیلئے مریض کے دماغ میں انفیکشن ہوجانا معمول کی بات ہے، لیکن کسی کو بھی اس کی توقع نہیں تھی یہ کال کرنے والی نیورو سرجن ڈاکٹرہری پریا بندی نےخاتون کےدماغ سے 8 سینٹی میٹرلمبا طفیلی (پیراسائیٹ)راؤنڈ ورم نکالاتھااوروپ ڈاکٹر سنجے سیننائیک اوردیگر سے مشورہ کرنا چاہتی تھیں اس حیرت انگیز دریافت نے اسپتال کی ایک ٹیم کو فوری طور پراکٹھے ہونے پرمجبورکیا تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ یہ کس قسم کا کیڑا ہے۔

    محققین کے مطابق یہ کینگروز اور سانپوں کی قسم پائیتھون میں پائی جاتی ہے لیکن انسانوں میں نہیں۔سنجے سینانائیک کے مطابق دنیا میں اوفیڈا سکیریز کی انسانی دماغ میں موجودگی کایہ پہلا کیس ہے،ڈاکٹرز امکان ظاہرکررہے ہیں کہ خاتون ایک جھیل کے قریب رہتی ہیں جہاں پائیتھون سانپ پائے جاتے ہیں، وہیں گھاس اکٹھے کرتے ہوئے انہوں نے کوئی تنکا چبایا ہوگا جس سے وہ متاثر ہوگئیں کسی سانپ نے طفیلی کیڑے کو فضلے میں خارج کیاہوگا جو گھاس میں رہا اور مریضہ نے جب چبایا تو یہ راؤنڈ وارم اُن کے جسم میں داخل ہوگیا اس کیڑے کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹنگ سے ہوئی۔

    برطانیہ میں کئی پروازیں منسوخ

    ڈاکٹر سینانائیکے جو آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی (اے این یو) میں میڈیسن کے ایسوسی ایٹ پروفیسر بھی ہیں – نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ معاملہ ایک وارننگ ہےپچھلے 30 سالوں میں 30 نئی قسم کےانفیکشن سامنےآئے ہیں تین چوتھائی زونوٹک ہیں متعدی بیماریاں جو جانوروں سے انسانوں تک پہنچی ہیں۔

  • کھدائی کے دوران 17ویں صدی کے ایک ویمپائر بچے کی باقیات دریافت

    کھدائی کے دوران 17ویں صدی کے ایک ویمپائر بچے کی باقیات دریافت

    پولینڈ کے شہر پائین میں ماہرین آثار قدیمہ کو 17ویں صدی کے ایک ویمپائر بچے کی باقیات ملی ہیں-

    باغی ٹی وی: سائنس پولینڈ کے مطابق، پولینڈ کے شمالی شہر بِڈگوزکز کے قریب واقع اس قبرستان کو ”لاوارث روحوں“ اور غربت زدہ افراد کے لیے بنایا کیا گیا تھا جو گرجا گھر کے قبرستان میں میں جگہ کی ادائیگی نہیں کر سکتے تھے۔

    ٹورن میں نکولس کوپرنیکس یونیورسٹی کے ماہر آثار قدیمہ ڈیریوس پولینسکی نے بتایا کہ پاؤں میں لگے تالے سے پتہ چلتا ہے کہ لوگ اس بچے کی موت کے بعد اس سے خوفزدہ تھے،پولینسکی کئی سالوں سے اس علاقے کی کھدائی کر رہے ہیں، اور ان کی ٹیم کو تقریباً ایسی 100 قبریں ملی ہیں جن میں یہ ”ویمپائر“ بچہ بھی شامل ہے جس کی جنس نامعلوم اور عمر5 سے 7 سال کے درمیان ہے۔

    مذکورہ بچے کی باقیات ایک ”ویمپائر“ خاتون کے پاس پائی گئی تھیں جسے 2022 میں اسی طرح کی تدفین کے ساتھ دریافت کیا گیا تھا اس کے پاؤں میں بھی تالہ تھا اور ساتھ ہی اس کی گردن پر درانتی تھی،لوگوں نے تالوں کا استعمال اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا کہ لاشیں اپنی قبروں میں رہیں ماہرین آثار قدیمہ کو ہڈیوں کے قریب تیسرا تالہ بھی ملا لیکن وہ کسی جسم سے جڑا نہیں تھا-

    انڈونیشیا میں حجاب نہ پہننےپراسکول ٹیچرنے14 طالبات کےبال ہی کاٹ دیئے

    پولینسکی نے کہا کہ یہ بچہ واحد ڈھانچہ ہے جسے قبرستان میں اس طرح دفن کیا گیا ہے یورپ میں اس طرح کے کوئی اور بچے دفن نہیں ہوئے،انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ پائین میں موجود یہ قبرستان معمول کی تدفین کی جگہ نہیں تھی کیونکہ اس میں چرچ نہیں تھا۔

    ماہرین آثار قدیمہ کا خیال ہے کہ درانتی والی ”ویمپائر“ عورت دولت مند تھی عورت کے لباس میں سونے کے دھاگے کے ساتھ ساتھ اس کی کھوپڑی کے پیلیٹ پر سونے کے ٹکڑے تھے، ماہرین آثار قدیمہ نے اس کی زندگی کے بارے میں مزید جاننے کے لیے خاتون کی ہڈیوں سے ڈی این اے لیا ہے۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ شاید وہ بہت بیمار رہی ہوں گی ماہرین مستقبل میں ویمپائر بچے کے ڈی این اے کی جانچ بھی کر سکتے ہیں،دراصل 16ویں صدی میں لوگ مردہ بچوں سے ڈرتے تھے، خاص طور پر اگر وہ اچانک یا غیر معمولی حالات کی وجہ سے انتقال کر جائیں۔

    راولپنڈی:دو گاڑیوں میں تصادم ، 4 افراد جاں بحق، 6 زخمی

    تاہم، ویمپائر کا تصور 17 ویں صدی میں موجود نہیں تھا،اس جگہ دوسرے بچوں کی ہڈیاں بھی ملی ہیں، لیکن مکمل ڈھانچہ نہیں ہیں،انہیں ایک بچے کے جبڑے کا ایک ٹکڑا بھی ملا جو سبز تھا ماہرین کا خیال ہے کہ شاید تانبے کے سکے کی وجہ سے سبزداغ پڑا ہو،کیونکہ کسی زمانے میں لوگوں کو منہ میں سکے رکھ کر دفن کرنا عام تھا ماہرین آثار قدیمہ ان باقیات کا جائزہ لے رہے ہیں جنہیں انہوں نے دریافت کیا ہے اور امید ہے کہ آئندہ سال مزید کھدائی کی جائے گی۔