Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • 2045 تک طبعی موت ختم، بوڑھے جوان ہو سکیں گے،جینیاتی انجینئرز کا دعویٰ

    2045 تک طبعی موت ختم، بوڑھے جوان ہو سکیں گے،جینیاتی انجینئرز کا دعویٰ

    جینیاتی انجینئرز کا کہنا ہے کہ 2045 تک موت ‘اختیاری’ اور بڑھاپا ‘قابل علاج’ ہوگا۔

    باغی ٹی وی: 2045ء تک موت اختیاری ہو جائے گی۔دنیا کے دو نامور جنٹیک انجینئرز Jose Luis cordeiroاور David woodکے مطابق آئندہ 27سالوں میں نہ صرف موت پر اختیار حاصل ہو سکے گا بلکہ بڑھاپے کے عمل کو بھی ریورس کیا جا سکے گا،وینزویلا میں ہسپانوی والدین کے ہاں پیدا ہونے والے ہوزے لوئس کورڈیرو اورکیمبرج (برطانیہ) کےریاضی دان ڈیوڈ ووڈ، جو آپریٹنگ سسٹم ‘سمبین’ کے بانی ہیں، نے حال ہی میں موت کی موت شائع کی ہے-

    اپنی نئی کتاب ’’موت کی موت ‘‘میں ان دونوں سائنس دانوں نے لکھا ہے کہ ابدیت یا غیر فانیت اب ایک حقیقت اور سائنسی طور پر ممکن عمل ہے۔ آئندہ 27سال تک میڈیکل سائنس اتنی ترقی کر جائے گی کہ انسان بیماری یا طبی موت سے نہیں مریں گے بلکہ صرف حادثات ہی موت کا سب بنیں گے۔

    امریکی ریاست میں شدید آتشزدگی،تاریخی قصبہ جل کر راکھ

    بارسلونا میں اپنی کتاب کی تقریب رونمائی پر دونوں سائنس دانوں نے کہا کہ اس نئی جینیاتی جوڑ توڑ Genetic manipulation میںنینو ٹیکنالوجی کو کلیدی حیثیت حاصل ہو گی۔یہ سارا عمل خراب جینز کو صحت مند بنانے، مردہ سیلز کو جسم سے نکالنے کے ساتھ ساتھ تباہ شدہ سیلز کی مرمت وغیرہ پہ محیط و مشتمل ہو گا تباہ شدہ خلیات کی مرمت، اسٹیم سیلز سے علاج اور اہم اعضاء کو تھری ڈی میں ‘پرنٹ’ کرنا شامل ہے۔

    Jose Luis cordeiroجس کا تعلق میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ( MIT USA) سے ہے کا کہنا ہے کہ اس نے خود تو کبھی نہ مرنے کا انتخاب کرلیا ہے اور 30سال کے بعد وہ آج سے بھی زیادہ جوان ہو گا ۔عمررسیدگی، DNA Tails یا Telomeres کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے ۔کروموسومز، جن کے اندر یہ Telomeresموجود ہوتے ہیں، – جس میں سرخ خون اور جنسی خلیوں کے علاوہ ہر خلیے میں 23 جوڑے ہوتے ہیں عمر کے ساتھ ساتھ سکڑتے چلے جاتے ہیں اورعمررسیدگی کو ریورس کرنے کیلئے ان کو بڑھانا ضروری ہو گا ۔وقت کے ساتھ ساتھ ان کے سکڑنے اور تباہ وخستہ ہونے میں تمباکو نوشی، شراب نوشی اور فضائی آلودگی کا عمل دخل بہت زیادہ ہے یہ اور ایسے دیگر عناصر Telomeresکی لمبائی کو کم کر دیتے ہیں جس سے بڑھاپے کا عمل تیز ہو جاتا ہے ۔

    شادی کے بعد بیوی مرد نکلی،شوہرنے پولیس کو درخواست دیدی

    دونوں سائنس دانوں کو یقین ہےکہ دس سال کے اندراندر کینسرجیسی بیماریاں قابل علاج ہوں گی اور یہ کہ گوگل جیسی بڑی بین الاقوامی کمپنیاں ‘طب کے شعبے میں داخل ہوں گی’ کیونکہ وہ ‘یہ سمجھنا شروع کر رہے ہیں کہ عمر بڑھنے کا علاج ممکن ہے،مائیکروسافٹ نے مبینہ طور پر پہلے ہی ایک کریوپریزرویشن سینٹر قائم کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں ایک سائنسدان کینسر کے مکمل طور پر قابل علاج ہونے کے امکان پر ایک دہائی کے اندر تحقیق کر رہا ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ کینسر سیلز غیرفانی ہوتے ہیں لافانی ہونے کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ کرہ ارض پر ہجوم ہو جائے، اول تو زمین ہی کافی ہوگی کیونکہ زیادہ بچوں کا رجحان ختم ہو جائے کیونکہ لوگوں کے پاس اتنے بچے نہیں ہیں جتنے ان کے پاس پچھلی دہائیوں اور صدیوں میں تھےلیکن تب تک خلا میں رہنا بھی ممکن ہو چکا ہو گاجاپانی اور کورین اپنی موجودہ شرح پیدائش کے سبب آئندہ دو صدیوں تک ختم ہو چکے ہوں گے-

    انجینئر بتاتے ہیں کہ، اگرچہ ‘لوگ عام طور پر اس کے بارے میں نہیں جانتے’، لیکن یہ 1951 میں دریافت ہوا کہ کینسر کے خلیات کیسے لافانی ہوتے ہیں: جب ہینریٹا لاکس گریوا کے کینسر سے مر گئے، سرجنوں نے ٹیومر کو ہٹا دیا اور اسے رکھا اور یہ اب بھی ‘زندہ’ ہے۔

    آئی سی سی نے ورلڈ کپ 2023 کے ٹکٹوں کی فروخت کا اعلان کر دیا

    اینٹی ایجنگ ٹریٹمنٹ کی لاگت کا موازنہ جدید ترین اسمارٹ فونز سے کیا گیا Cordeiro کہتے ہیں، "پہلے تو یہ مہنگا ہو گا، لیکن مسابقتی مارکیٹ کے ساتھ قیمت بتدریج گرے گی کیونکہ یہ ایسی چیز ہو گی جس سے سب کو فائدہ پہنچے گا ٹیکنالوجی، جب یہ نئی ہوتی ہے، ناقص اور انتہائی مہنگی ہوتی ہے، لیکن یہ بالآخر جمہوری اور مرکزی دھارے میں شامل ہو جاتی ہے اور سستی ہو جاتی ہے۔”

    دونوں سائنس دانوں نے یہ سنسنی خیز اعتراف بھی کیا کہ وہ ’’غیر قانونی ‘‘ طور پر گزشتہ دو سال سے یہ ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں۔یہ کتاب 4 زبانوں میں شائع ہو گی اور اس کی آمدنی اسی کام پر مزید ریسرچ کیلئے استعمال ہو گی۔اور ہم اپنی آمدنیوں سے بیرون ملک جائید ادیں خریدیں گے ؟فرق صاف ظاہر ہے-

    رضامندی سے چھ برس تک جسمانی تعلقات قائم کرنے کو "زیادتی” نہیں کہا جا سکتا، …

    ان کی پہلی انسانی مریضہ ایلزبتھ پیرش نے ‘بڑھاپے کی علامات دیکھنا شروع کیں اور پوچھا کہ اسے روکنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے’۔اس کا علاج ‘انتہائی پرخطر اور غیر قانونی بھی ہے’، ووڈ بتاتے ہیں، لیکن اس وقت ٹھیک چل رہا ہے، اس کے کوئی منفی اثرات نہیں ہوئے، اور اس کے خون میں ٹیلومیرس کی سطح ‘پہلے سے 20 سال چھوٹی’ ہے۔

    ووڈ نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اسپین ان ٹیکنالوجیز کی دنیا میں ایک مقام حاصل کرے اور یہ ظاہر کرے کہ ہم پاگل نہیں ہیں، یہ صرف اتنا ہے کہ لوگ ابھی تک ان کے بارے میں نہیں جانتےدی ڈیتھ آف ڈیتھ کو بالآخر چار زبانوں میں شائع کیا جائے گا ہسپانوی، انگریزی، پرتگالی اور کورین اور اس کی فروخت سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی مصنفین کی تحقیق میں ڈال دی جائے گی-

    فون پرخاتون پولیس اہلکار کو ہراساں کرنے کے الزام میں قید اور جُرمانہ

  • دفتری اوقات جب ملازمین زیادہ غلطیاں کرتے ہیں

    دفتری اوقات جب ملازمین زیادہ غلطیاں کرتے ہیں

    ماہرین کی جانب سے ایک نئی تحقیق میں دعوی کیا گیا ہے کہ سہ پہر وہ وقت ہوتا ہے جب غلطیاں کرنے کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی : ماہرین کا کہنا ہے کہ کمپیوٹر کے استعمال کے میٹرکس کے معروضی اور مقداری اقدامات کی اہمیت پر ان کے مطالعے کا زور خاص طور پر جدید کام کی جگہ کے تناظر میں قابل ذکر ہے، جہاں ٹیکنالوجی کا استعمال تیزی سے عام ہوتا جا رہا ہے۔ ان اقدامات کا استعمال کام کی کارکردگی کا زیادہ درست اندازہ فراہم کر سکتا ہے اور پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کے مواقع کی نشاندہی کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق مطالعہ کے نتائج بتاتے ہیں کہ تھکاوٹ اور تناؤ پورے ہفتے کے دوران جمع ہو سکتا ہے، جو ممکنہ طور پر پیداواری صلاحیت میں کمی کا باعث بنتا ہے، خاص طور پر جمعہ کے دن۔ تاہم، مطالعے میں وقفے اور آرام کے مواقع فراہم کرنے کے اقدامات پر عمل درآمد کرکے ان اثرات کو کم کرنے کے لیے تجاویز بھی پیش کی گئیں ہیں-

    برطانوی شہزادہ ہیری سے ایک اور لقب سے محروم ہو گئے

    جرنل Plos One میں شائع تحقیق میں دفاتر میں کام کرنے والے 800 افراد کا جائزہ 2 سال تک لیا گیا،اس تحقیق میں لوگوں کے فیڈ بیک کی بجائے ماہرین نے ٹائپنگ اسپیڈ، ماؤس کی حرکت اور ٹائپنگ کی غلطیوں جیسی چیزوں کو مدنظر رکھا نتائج سے معلوم ہوا کہ سہ پہر دن کا وہ وقت ہوتا ہے جب لوگوں کی جانب سے دفاتر میں سب سے زیادہ ٹائپنگ غلطیاں کی جاتی ہیں خاص طور پر جمعہ کی سہ پہر یہ اثر بہت زیادہ نمایاں ہوتا ہے، جس دوران کمپیوٹر سرگرمیاں گھٹ جاتی ہیں جبکہ ٹائپنگ کی غلطیاں بڑھ جاتی ہیں۔

    امریکا کی ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی کی اس تحقیق میں شامل ماہرین نے بتایا کہ پیر سے بدھ تک دفتری ملازمین کی جانب سے کاموں کو مستحکم انداز سے مکمل کیا جاتا ہے مگر جمعرات اور جمعہ کو ان کی کارکردگی تنزلی کا شکار ہونے لگتی ہے تحقیق سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ دفاتر میں ملازمین کے لیے 4 ڈے ورک ویک (4 دن تک کام اور 3 دن چھٹی) کو اپنایا جانا چاہیے۔

    تحقیق میں شامل 61 فیصد افراد نے کہا کہ وہ اس تبدیلی کا خیر مقدم کریں گے اور 4 روزہ کاروباری ہفتے میں کام کرنا پسند کریں گے ان میں سے 33 فیصد کا کہنا تھا کہ اگر انہیں کسی اور جگہ 4 روز کام اور 3 دن چھٹی کا موقع ملے تو وہ موجودہ ملازمت چھوڑ دیں گے۔

    پاکستانی سیاست کا فیصلہ پاکستانی عوام کو اپنے آئین اور قوانین کے مطابق کرنا ہے،امریکا

    محققین نے بتایا کہ لچکدار دفتری انتظامات جیسے ہائبرڈ ورک یا 4 ڈے ورک ویک سے طویل دفتری اوقات سے مرتب ہونے والے منفی اثرات کی روک تھام ہو سکے گی جبکہ ملازمین کی شخصیت اور پیداواری صلاحیتیں بہتر ہو جائیں گی جیسے کہ جمعہ کو ٹیلی کام کرنا یا کام کے ہفتے مختصر کرنا، جو ملازمین کی صحت، کام کی زندگی کے توازن اور پیداواری صلاحیت کو فروغ دے سکتے ہیں۔

    محققین کے مطابق متبادل کام کے انتظامات کو اپنانے سے کاروباروں کو اہم طویل مدتی فوائد مل سکتے ہیں، بشمول ملازمین کی اطمینان میں اضافہ، غیر حاضری میں کمی، اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ۔ مزید برآں، یہ انتظامات نقل و حمل کے ایندھن کی کھپت، CO2 کے اخراج اور دیگر آلودگیوں کو کم کرکے ماحولیاتی پائیداری میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔

    ڈاکٹر طاہرالقادری نے سیاست چھوڑنے کا اعلان کر دیا

    محققین نے کہا کہ مستقبل کی تحقیق ان نتائج کی بنیاد پر کام کے متبادل انتظامات کے امکانات کو مزید دریافت کر سکتی ہے اور کام کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور کام کی جگہ پر پائیداری کو فروغ دینے کے لیے حکمت عملیوں کی نشاندہی کر سکتی ہے۔ آخر میں، یہ مطالعہ کام کی کارکردگی کا اندازہ لگانے اور بہتری کے مواقع کی نشاندہی کرنے میں کمپیوٹر کے استعمال کے میٹرکس کے معروضی اور مقداری اقدامات کی اہمیت کو واضح کرتا ہے مطالعہ کے نتائج کی تصدیق اور کام کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور مختلف صنعتوں اور ملازمت کی اقسام میں پائیداری کو فروغ دینے کے لیے حکمت عملیوں کی نشاندہی کرنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

    جج ہمایوں دلاور کی لندن میں کانفرنس میں شرکت، پی ٹی آئی کا یونیورسٹی کے …

  • سعودی عرب میں تمام الیکٹرونکس ڈیوائسزکیلئے یو ایس بی ٹائپ سی چارجنگ پورٹ کا استعمال لازمی

    سعودی عرب میں تمام الیکٹرونکس ڈیوائسزکیلئے یو ایس بی ٹائپ سی چارجنگ پورٹ کا استعمال لازمی

    جدہ: یورپی یونین اور بھارت کے بعد سعودی عرب نے بھی موبائل ڈیوائسز کی چارجنگ کے لیے یو ایس بی ٹائپ سی چارجنگ پورٹ کا استعمال لازمی قرار دے دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: سعودی عرب کی جانب سے تمام الیکٹرونکس ڈیوائسز کے لیے یو ایس بی ٹائپ سی چارجنگ پورٹ کا استعمال یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہےسعودی کمیونیکیشنز، اسپیس اینڈ ٹیکنالوجی کمیشن کی جانب سے یہ فیصلہ کیا گیا اور اس پر اطلاق 2 مراحل میں ہوگا۔

    پہلے مرحلے (یکم جنوری 2025 تک) میں موبائل فونز اور دیگر الیکٹرونکس ڈیوائسز جیسے ہیڈ فونز، کی بورڈز، اسپیکرز اور روٹرز کے لیے یو ایس بی ٹائپ سی چارجنگ پورٹ کے استعمال کو یقینی بنایا جائے گا دوسرے مرحلے میں کمپنیوں کو یکم اپریل 2026 تک لیپ ٹاپس اور کمپیوٹرز میں ٹائپ سی چارجنگ پورٹ کی موجودگی یقینی بنانا ہوگی۔

    ترکی کی ڈیرنس بندرگاہ کے قریب اناج کے سائلوز میں دھماکا

    سعودی حکام نے بتایا کہ اس فیصلے سے الیکٹرونکس کچرے میں کمی آئے گی جبکہ صارفین کو زیادہ معیاری ڈیٹا ٹرانسفر کی سہولت دستیاب ہوگی اس تبدیلی سے صارفین کو 17 کروڑ سعودی ریال کی بچت ہوگی۔

    دوسری جانب سعودی محکمہ ٹریفک نے کہا ہے کہ ڈرائیونگ کے دوران فون کا استعمال ایک لاپرواہی کا عمل ہے جو گاڑی کے مالک اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو حادثات کے خطرے سے دوچار کرتا ہے ’’ ایکس‘‘ جو پہلے ٹویٹر تھا کے پلیٹ فارم پرموجود آفیشل اکاؤنٹ پر محکمہ ٹریفک نے کہا گاڑی چلاتے وقت ڈرائیور کا کسی بھی موبائل ڈیوائس کا استعمال ٹریفک کی خلاف ورزی ہےٹریفک کی اس خلاف ورزی کے نتیجے میں ہونے والے مالی جرمانے کی مقدار 500 سے 900 ریال کے درمیان ہے۔

    برطانیہ: غیر قانونی تارکین وطن کو نوکری دینے والے مالکان کوتین گنا زیادہ جرمانہ ہوگا

    اس سے قبل بھارت نے تمام کمپنیوں کو مارچ 2025 تک موبائل ڈیوائسز کے لیے یو ایس بی ٹائپ سی چارجنگ پورٹ کا استعمال لازمی بنانے کی ہدایت کی تھی بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (بی آئی ایس) کیجانب سے دسمبر 2022 میں اس پابندی کا اعلان کرتے ہوئے تمام موبائل فونز کے لیے ایک چارجر اور کیبل کے استعمال کی پابندی عائد کی گئی تھی۔

    اسی طرح یورپی یونین نے موبائل ڈیوائسز تیار کرنے والی کمپنیوں کو 28 دسمبر 2024 تک یو ایس بی سی چارجنگ پورٹ کے استعمال کو یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی اس کے لیے یورپی یونین کی جانب سے اکتوبر 2022 میں ایک قانون کی منظوری دی گئی تھی جس کے تحت یورپ میں تمام موبائل فونز، ٹیبلیٹس اور کیمروں کے لیے ایک ہی چارجنگ پورٹ کے استعمال کو لازمی قرار دیا گیا۔

    بھارت چاند کے بعد سمندر میں بھی مشن بھیجے گا

  • بھارت چاند کے بعد سمندر میں بھی مشن بھیجے گا

    بھارت چاند کے بعد سمندر میں بھی مشن بھیجے گا

    نئی دہلی: بھارت جلد ہی اپنے پہلے سمندری مشن سمندریان کے تحت گہرے سمندر میں ایک انسان بردار آبدوز بھیجے گا-

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا کے مطابق یہ آبدوز تین افراد کو سمندر میں 6000 میٹر کی گہرائی تک لے جائے گی۔ آبدوز کا نام ‘متسیا 6000’ رکھا گیا ہے۔ اس آبدوز کے پہلے مرحلے کی جانچ مارچ 2024 تک مکمل ہو جائے گی۔ جس کا مطلب ہے کہ سال 2026 تک ‘متسیا 6000’ تین ہندوستانیوں کو سمندر میں 6000 میٹر تک لے جائے گا۔

    یہ مشن مرکزی حکومت کے بلیو اکانومی پہل کے تحت شروع کیا گیا تھا یہ بھارت کا پہلا سمندری مشن ہے جس میں انسان سمندر کی گہرائیوں میں جاتے ہیں۔ اس مشن کا مقصد گہرے سمندر میں وسائل اور حیاتیاتی تنوع پر تحقیق کرنا ہے۔ مشن کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں آبدوز کو صرف تلاش کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاکہ ماحولیاتی نظام کو کم سے کم یا صفر نقصان پہنچے۔ اس وقت چنئی کا نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشین ٹیکنالوجی اس مشن پر کام کر رہا ہے۔

    واٹس ایپ میں وائس چیٹس کا اضافہ

    سمندری مشن کے تحت تین افراد کو سمندر کی 6000 میٹر کی گہرائی میں بھیجا جائے گا۔ ان تینوں کو وہاں بھیجنے کے لیے جو گاڑی تیار کی جا رہی ہے اس کا نام ‘متسیا 6000’ رکھا گیا ہے ورلڈ بینک کے مطابق، بلیو اکانومی سمندری وسائل کا پائیدار استعمال ہے جبکہ اقتصادی ترقی، بہتر معاش اور ملازمتوں کے لیے سمندری ماحولیاتی نظام کی صحت کو برقرار رکھنا ہے۔

    اس مشن کو مکمل کرنے کے لیے 6000 کروڑ کا بجٹ بنایا گیا ہے اور یہ سمندری مشن کا ایک حصہ ہے۔ ‘ڈیپ اوشین مشن’ یعنی سمندری گاڑیوں کے مشن پر ارتھ سائنسز کی وزارت کی تجویز کو کابینہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے 16 جون 2021 کو منظوری دی تھی۔

    ایلون مسک کا ایک بار پھر مارک زکربرگ کیساتھ ایم ایم اے فائٹ کا عندیہ

  • واٹس ایپ میں وائس چیٹس کا اضافہ

    واٹس ایپ میں وائس چیٹس کا اضافہ

    میٹا کی زیر ملکیت میسجنگ ایپ واٹس ایپ کی جانب سے ایک اور نیا فیچر متعارف کرایا گیا ہے تاکہ صارفین کو زیادہ سہولت مل سکے۔

    باغی ٹی وی: ویب بیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ میں ایک نئے فیچر وائس چیٹس کا اضافہ کیا جا رہا ہے یہ نیا فیچر ہے اس وقت بیٹا (beta) ورژن میں متعارف کرایا گیا ہے،وائس چیٹس بنیادی طور پر گروپ میں آڈیو چیٹ کا نیا آپشن ہے۔

    رپورٹ میں فیچر کا اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا گیا جس سے عندیہ ملتا ہے کہ اس فیچر کے تحت گروپ چیٹ پر ایک نیا وائس ویو فارم (waveform) آئیکون بنانظر آئےگا،اس آئیکون پر کلک کرنے پر وائس چیٹ خودکار طور پر شروع ہو جائےگی جس کےلیےایک مخصوص انٹرفیس مختص کیا جائے گا گروپ میں شامل افراد اس وائس چیٹ کا حصہ بن سکیں گے۔

    ایلون مسک کا ایک بار پھر مارک زکربرگ کیساتھ ایم ایم اے فائٹ کا عندیہ

    voice feature
    اگر وائس چیٹ کو استعمال نہیں کیا گیا تو کسی فرد کے حصہ نہ بننے پر اس کا سیشن خودکار طور پر 60 منٹ بعد ختم ہوجائے گا، اس فیچر کو استعمال کرنے پر گروپ میں شامل افراد کے فونز کی رنگ ٹون نہیں بجےگی بلکہ ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے انہیں وائس چیٹ کے آغاز کا بتایا جائے گا ایک وائس چیٹ میں 32 افراد ہی شامل ہو سکیں گے چونکہ ابھی یہ فیچر بیٹا ورژن میں دیا گیا ہے تو یہ کہنا مشکل ہے کہ کب تک تمام صارفین کے لیے اسے متعارف کرایا جائے گا۔

    چئیرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری پر امریکا کا بیان

  • اب طویل العمری خواب نہیں ،اپنی عمر کو 100 سالوں تک بڑھا سکیں گے

    اب طویل العمری خواب نہیں ،اپنی عمر کو 100 سالوں تک بڑھا سکیں گے

    لمبی عمر جینا دنیا کے ہر ایک شخص کی خواہش ہوتی ہے متحدہ عرب امارات میں ایک نئی صحت لیب طویل العمری کے لیے ‘خلیاتی صحت’ میں سرمایہ کاری کی ترغیب دے رہی ہے تاکہ آپ اپنی عمر کو 100 سالوں تک بڑھا سکیں۔

    باغی ٹی وی : "العربیہ” کے مطابق فائیو سکور لیبز، جو ہارورڈ کے تربیت یافتہ سائنسدانوں کے تعاون سے قائم کی گئی ہیں، دعویٰ کرتی ہے کہ وہ خطے کا پہلا طویل العمری کا صارف برانڈ ہے جس کا مقصد لوگوں کو زیادہ دیر تک صحت مند رہنے میں مدد کرنا ہے یہ لیب سائنس کی مدد سے میٹابولزم کو فروغ دے کر اور ڈی این اے کو نقصان سے بچا کر بڑھتی عمر کے اثرات سے بچانے کا دعوی کرتی ہے جس کی خدمات سعودی عرب سمیت پورے خطے میں پھیل رہی ہیں۔

    فائیو سکور لیبز کے بانی، الطارق نے العربیہ کو بتایا کہ طویل العمری کا نظام ممکنہ طور پر عمر سے متعلق بیماریوں جیسے کہ دل کی بیماری، ذیابیطس اور نیوروڈیجنریٹو عوارض کے آغاز میں تاخیر یا روک تھام میں مدد کر سکتا ہے ‘طویل العمری کا نظام’ ایک جامع منصوبہ ہے جو کسی کی صحت مند عمر کو بڑھانے کے لیے تیار کیا گیا ہے اس میں طرز زندگی میں تبدیلیوں اور مخصوص غذائی سپلیمنٹس کے استعمال کروایا جاتا ہے، جسے سائنسی تحقیق کی حمایت حاصل ہے۔

    اے آئی ٹیکنالوجی،بل گیٹس نے لاکھوں اموات کی وجہ بننے والے نظام کی پیشگوئی کر …

    طارق نے کہا کہ 100 سال کی عمر تک جینے کا خیال، جو کبھی نایاب سمجھا جاتا تھا، "طب، صحت اور تندرستی میں ترقی کی وجہ سے اب ایک حقیقت پسندانہ خواہش بنتا جا رہا ہے عمر بڑھنا صرف ایک ناگزیر عمل نہیں ہے، بلکہ ایک ایسا عمل ہے جس کو متاثر کیا جا سکتا ہے اور ممکنہ طور پر اسے سست کیا جا سکتا ہے ہمارا نقطہ نظر صرف زندگی کو بڑھانے کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ہماری عمر کے ساتھ زندگی کے معیار کو بہتر بنایا جائے لیب مریضوں کے لیے دو قدرتی علاج استعمال کرتی ہے ایک متوازن خوراک اور دوسرا صحت مند طرز زندگی۔

    اطارق نے کہا کہ پہلا عنصر جو استعمال کروایا جاتا ہے وہ ریسویراٹرول ہےیہ ایک قدرتی مرکب جو کئی پودوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ اینٹی آکسیڈنٹ اور سوزش کو روکنے والے ایجنٹ کے طور پر کام کرتا ہے حالیہ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ ریسویراٹرول ممکنہ طور پر کچھ جینز کو فعال کر سکتا ہے جنہیں سیرٹوئن کہتے ہیں جو لمبی عمر سے منسلک ہوتے ہیں۔

    چندریان تھری کا دو تہائی سفر مکمل،آج کا دن اہم

    مزید برآں، وہ نیکوٹینامائڈ مونو نیوکلیوٹائڈ کا استعمال کرواتے ہیں۔ یہ مرکب عام کھانوں جیسے بروکولی وغیرہ میں پایا جاتا ہے اور این اے ڈی+ کا پیش خیمہ ہے۔ یہ ایک شریک انزائم (خامرہ) ہے جو میٹابولزم کے ضابطے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے، اور ساتھ ہی اس کا استعمال جسم میں خراب ڈی این اے کی مرمت کرتا ہے لمبی عمر، سے مراد عام طور پر زندگی کی طویل مدت ہوتی ہے تاہم، صحت اور تندرستی کے تناظر میں، یہ اس سے کہیں زیادہ پر محیط ہوتی ہے۔ یہ زندگی کی اس مدت کو بڑھانے کے بارے میں ہے جو اچھی صحت میں گزارا جائے اور کمزوری اور بیماری سے محفوظ رہے اسے ‘صحت کی مدت’ کہا جاتا ہے۔

    حیاتیاتی نقطہ نظر سے، طویل عمر پانے کے لیے عمر کے مختلف عمل کو سست کرنا یا ممکنہ طور پر تبدیل کرنا شامل ہے یہ پروگرام خلیات، ٹشوز اور اعضاء کے کام کو بہتر بناتا ہے تاکہ جب تک ممکن ہو زندگی اور صحت کو برقرار رکھا جا سکےخلیات ہمارے جسم کی بنیادی عمارت ہیں۔ "ہر عضو، ٹشو اور حیاتیاتی نظام ایسے خلیوں سے بنا ہوتا ہے جو ہمیں زندہ اور صحت مند رکھنے کے لیے ضروری کام انجام دیتے ہیں۔ اسی لیے سیلولر ہیلتھ میں سرمایہ کاری بہت اہم ہے ۔

    جنوب مشرقی ایشیاء میں سالن بنانے کا طریقہ تقریباً 2000 سال پُرانا ہے،محققین

    بہت سی علامات اور حالات جو ہم عمر بڑھنے کے ساتھ محسوس کرتے ہیں، جیسے جھریاں، جسمانی توانائی میں کمی اور یہاں تک کہ دائمی بیماریاں، سیلولر سطح پر پیدا ہوتی ہیں۔ جیسے جیسے ہماری عمر بڑھتی جاتی ہے، ہمارے خلیے آہستہ آہستہ بہتر طریقے سے کام کرنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔ سیلولر صحت کو برقرار رکھنے کے ذریعے، ہم ممکنہ طور پر ان عمر بڑھنے کے عمل کو سست کر سکتے ہیں-

    العربیہ کے مطابق اسی طرح، بہت سی بیماریاں سیلولر بے ضابطگی کا نتیجہ ہیں۔ مثال کے طور پر، کینسر کا پتہ سیلولر میوٹیشن سے لگایا جا سکتا ہے، جبکہ الزائمر جیسی بیماریاں دماغ میں سیلولر انحطاط سے منسلک ہیں۔ اپنے خلیات کو صحت مند رکھ کر، ہم ایسی بیماریوں کے خطرے کو کم کر سکتے ہیں ہمارے خلیے توانائی کی پیداوار، فضلہ کے اخراج، مواصلات اور مرمت جیسے بہت سے کام انجام دیتے ہیں۔ جب ہمارے خلیے صحت مند ہوتے ہیں، تو یہ عمل زیادہ موثر ہوتے ہیں، جس سے بہتر توانائی، بہتر قوت مدافعت، تیزی سے شفا اور مجموعی طور پر جسمانی اور ذہنی کارکردگی میں بہتری آتی ہے۔

    آن لائن نیوز ایکٹ؛ میٹا نے کینیڈین صارفین کی خبروں تک رسائی ختم کردی

    طارق نے کہا کہ 2016 میں متحدہ عرب امارات کی صرف ایک فیصد آبادی 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کی تھی لیکن 2050 تک یہ تعداد 16 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اب عمر بڑھانے والی سائنس کے بارے میں عوامی بیداری پیدا کرنا اور صحت کے دورانیے اور عمر کے تمام پہلوؤں کو بہتر بنانا بہت ضروری ہے۔ فائیو سکور لیبز کے قیام کے پیچھے یہی محرک رہا ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔

    انہوں نے العربیہ کو بتایا کہ طویل العمری کے نظام کو دو بنیادی اجزاء میں تقسیم کیا گیا ہے – غذائی سپلیمنٹس اور طرز زندگی کے پروٹوکول۔ طرز زندگی کے پروٹوکول میں متوازن خوراک، جسمانی سرگرمی، نیند کی حفظان صحت اور تناؤ کے انتظام کی تکنیکوں کے بارے میں ہدایات شامل ہیں لمبی عمر کے طریقہ کار کا حتمی مقصد صرف عمر بڑھانا نہیں ہے، بلکہ ان سالوں کو بڑھانا ہے جن میں ایک شخص صحت مند اور فعال زندگی گزار سکتا ہے۔

    سائنسدانوں نےسائبیریا کی برف کےنیچے 46 ہزارسال سےمنجمد کیڑےہوش میں لےآئے

    عمر بڑھنے کا تعلق مختلف قسم کے سیلولر اور سالماتی عوامل سے ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ فنکشنل کمی کا باعث بنتے ہیں ان میں سیلولر مرمت کی صلاحیتوں میں کمی، سوزش میں اضافہ اور ڈی این اے کو پہنچنے والے نقصان جیسے عوامل شامل ہیں۔ طویل عمری سائنس کے میدان میں ہونے والی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ ان میں سے بہت سے عوامل کو متاثر کیا جا سکتا ہے اور ممکنہ طور پر سست یا تبدیل شدہ مداخلتوں سے تبدیل کیا جا سکتا ہے ان مداخلتوں کو ذاتی طرز زندگی کے پروٹوکول کے ساتھ جوڑ کر جیسے متوازن خوراک، باقاعدگی سے ورزش، کافی نیند اور تناؤ کا انتظام، ہم افراد کو 100 سال کی عمر کے بعد ایک فعال اور متحرک طرز زندگی کو برقرار رکھنے میں مدد کر سکتے ہیں عمر اور صحت کو بڑھانے کے بارے میں سائنسی معلومات تک رسائی کئی وجوہات کی بنا پر بہت ضروری ہے۔

    علم لوگوں کو اپنی صحت کے بارے میں باخبر فیصلے کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ انٹرنیٹ کے دور میں، ہم اکثر صحت اور تندرستی کے بارے میں متضاد معلومات حاصل کرتے ہیں۔ قابل اعتماد اور سائنس کی حمایت یافتہ معلومات تک رسائی سے لوگوں کو ایسے انتخاب میں مدد مل سکتی ہے جو واقعی ان کی صحت کے لیے فائدہ مند ہوں سائنسی علم اکثر احتیاطی تدابیر پر زور دیتا ہے اور ان کو تقویت دیتا ہے۔ یہ سمجھنا کہ کس طرح بعض رویے اور مداخلتیں بیماری کے آغاز کو روک سکتی ہیں، ان بیماریوں کے ہونے کے بعد ان کے علاج کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور فائدہ مند ہے-

    غلاف کعبہ کی تیاری میں زائرین بھی حصہ لے سکیں گے

    انہوں نے کہا کہ ہماری ابتدائی پروڈکٹ لائن انسانی جسم میں صحت مند این اے ڈی پلس کی سطح کو سپورٹ کرنے پر مرکوز ہے۔ این اے ڈی پلس ایک اہم شریک انزائم (خامرہ) ہے جو انسانی جسم کے ہر خلیے میں پایا جاتا ہے۔ یہ توانائی کے تحول اور توانائی کی پیداوار کو منظم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

    عمر بڑھنے کا تعلق این اے ڈی پلس کی سطح میں قدرتی کمی سے ہے، اور اس کمی کو عمر سے متعلق صحت کے مختلف مسائل جیسے میٹابولک عوارض، نیوروڈیجینریٹیو امراض، اور عمر میں کمی سے منسلک کیا گیا ہے۔ اس طرح، یہ خیال کیا جاتا ہے کہ انسانی جسم میں این اے ڈی پلس کی سطح میں اضافہ عمر سے متعلق گراوٹ کا مقابلہ کرنے میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

    اس سوال کے جواب میں کہ آیا کافی لوگ اپنی سیلولر صحت میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں؟طارق نے کہا کہ بیداری بڑھ رہی ہے، لیکن ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے بہت سے لوگ صحت کی ظاہری علامات یا بیماریوں کے علامتی علاج پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، یہ سمجھے بغیر کہ بنیادی وجہ اکثر خلیاتی سطح پر ہوتی ہے۔ یہ بیماری کی روک تھام کے بجائے بیماری کے علاج پر تاریخی توجہ کی وجہ سے ہے۔

    عراق میں بھی بھارتی سیرپ میں زہریلے اجزا کا انکشاف

  • یوٹیوب پریمیم اور یوٹیوب میوزک پاکستان میں متعارف کرادئیے گئے

    یوٹیوب پریمیم اور یوٹیوب میوزک پاکستان میں متعارف کرادئیے گئے

    یوٹیوب نے،پاکستان میں یوٹیوب میوزک اور یوٹیوب پریمیم کے آغاز کا اعلان کر دیا ہے جوایک پیڈ ممبرشپ ہے اور یوٹیوب پر اشتہارات کے بغیر، آف لائن اور بیک گراونڈ پلے کے ساتھ دیکھنے کے تجربے کو بہترین بناتی ہے۔یہ ایک نئی میوزک اسٹریمنگ ایپ ہے جو پاکستان میں موسیقی کامسحور کن تجربہ پیش کرتی ہے۔

    یوٹیوب پریمیم دیکھنے کا انتہائی شاندار تجربہ پیش کرتا ہے۔اس میں اشتہارات کے بغیر اور تسلسل کے ساتھ دیکھنے کا تجربہ، ایپس کے درمیان ملٹی ٹاسکنگ کی غرض سے بیک گراؤنڈ پلے یا لیکچرز اور دیگر تعلیمی ویڈیوز کا دیکھنا،اپنے پسندیدہ شوز، اور کنٹنٹ کری ایٹرز کے ڈاؤن لوڈز سے لطف اندوز ہونا شامل ہے بھلے صارف طویل پرواز پر ہو یا محدوسائل کا سامنا کر رہا ہو۔یوٹیوب پریمیم میں یوٹیوب میوزک پریمیم بھی شامل ہے جو یوٹیوب میوزک پر اشتہارات کے بغیر میوزک، بیک گراونڈ پلے اور ڈاؤن لوڈز پیش کرتا ہے۔

    یوٹیوب میوزک، ایک نئی اختراع اور موسیقی کے لیے تیار کردہ ایپ اور ویب پلیئر ہے جس میں آفیشل گانوں، البمز، پلے لسٹس اور آرٹسٹ ریڈیو کے علاوہ یوٹیوب کا ریمکس، لائیو پرفارمنس، کور اور میوزک ویڈیوز کی زبردست کیٹلاگ شامل ہیں۔یوٹیوب میوزک کے ذریعے، صارفین تازہ ترین ہٹس سن سکتے ہیں، اپنے پسندیدہ گانے تلاش کر سکتے ہیں، موسیقی کی دنیا سے وابستہ رہ سکتے ہیں اور اپنے آلات پر لطف اندوز ہونے کے لیے بہت سارا نیا میوزک دریافت کر سکتے ہیں۔اگرچہ یہ سب یوٹیوب میوزک میں بلاقیمت بھی دستیاب ہیں لیکن ان کے لیے اشتہارات سے تعاون حاصل کیا جاتا ہے۔ صارفین، یوٹیوب پریمیم میں شامل ہو کر اشتہارات کے بغیر موسیقی کا تجربہ حاصل کر سکتے ہیں۔

    پاکستان کے لیے گوگل کے ڈائریکٹر، فرحان ایس قریشی نے کہا: ”2ارب سے زیادہ لاگ اِن ناظرین یوٹیوب پر ہر ماہ عالمی سطح کی میوزک ویڈیودیکھتے ہیں اور 20 لاکھ سے زیادہ کری ایٹرز اپنی تخلیقی صلاحیتیں دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے آتے ہیں۔ میں بہت خوش ہوں کہ پاکستانی ناظرین کو نیا تجربہ فراہم کرنے کی غرض سے اب یوٹیو ب میوزک پریمیم ا ور یوٹیوب میوزک پاکستان میں دستیاب ہیں۔ پاکستان میں 400 سے زائد چینلز کے دس لاکھ سے زیادہ سبسکرائبرز ہیں جو سال بہ سال کی بنیاد پر 35 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں جبکہ 6,000 سے زائد چینلز کے ایک لاکھ سے زائد سبسکرائبرزجو سال بہ سال کی بنیاد پر 30 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔یہ ایک متاثر کن تعداد ہے جو ہمیں یوٹیوب کی اس تیز رفتار ایکوسسٹم کا حصہ بننے اور پاکستانی تخلیقی صنعت کے ساتھ اپنی شراکت جاری رکھنے اور یوٹیوب پریمیم اور یوٹیوب میوزک کے ساتھ اپنے سامعین کی تعداد بڑھانے کے لیے مزید پاکستانی فنکاروں کی حمایت کرنے کے لیے پر جوش بناتا ہے۔“

    پاکستانی ناظرین کے لیے یوٹیوب بہترین تفریحی خدمات لاتا ہے جو میوزک ویڈیو کا کانٹینٹ دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ مزید مقامی فنکار بھی یوٹیوب پر اپنے کام اور تخلیقات کااشتراک کر رہے ہیں جیسا کہ میوزک ویڈیو پریمیئرز، یوٹیوب کا خصوصی کانٹینٹ ا ور ممتاز گانوں کی فہرستیں پیش کررہے ہیں اور عالمی سطح پر اپنے مداحوں کی تعداد میں اضافہ کر رہے ہیں۔

    یوٹیوب پریمیم 479.00 روپے میں دستیاب ہے اور لاکھوں یوٹیوب ویڈیوز کے لیے بیک گراؤنڈ پلے اور آف لائن ڈاؤن لوڈزکے ساتھ اشتہارات کے بغیر تجربہ پیش کرتے ہوئے یوٹیوب میوزک پریمیم کی ممبرشپ بھی شامل ہے۔ ناظرین پریمیم فیملی پلان کے لیے بھی سائن اپ کر سکتے ہیں جوصرف 899.00 میں دستیاب ہے جس سے وہ اپنے پریمیم ممبرشپ کو اپنے گھر کے پانچ دیگر افراد تک شیئر کر سکتے ہیں۔ یوٹیوب میوزک پریمیم صرف 299.00 روپے میں دستیاب ہے اور یوٹیوب میوزک پر اشتہارات کے بغیر موسیقی، بیک گراونڈ پلے اور ڈاؤن لوڈز پیش کرتا ہے جبکہ میوزیک فیملی پلان صرف 479.00 میں دستیاب ہے۔

    اہل طلباء پریمیم اسٹوڈنٹ پلان کے لیے سائن اپ کر سکتے ہیں جو ویب اور اینڈرائیڈ پر صرف 329.00 روپے میں اور میوزک پریمیم اسٹوڈنٹ پلان صرف 149.00 روپے میں دستیاب ہے۔

    ای ایم آئی پاکستان کے چیف آپریٹنگ آفیسر، ذیشان چودہری نے کہا:”پاکستان میں یوٹیوب میوزک اور یوٹیوب میوزک پریمیم کا آغاز ملک میں موسیقی کی صنعت کے لیے بہت بڑی پیش رفت ہے۔ ان پلیٹ فارمز کی جانب سے پیش کی جانے والی جدید خصوصیات، جس کے بعد فنکاروں کے لیے اپنے سامعین کی تعداد میں اضافہ کرنے کی صلاحیت، عالمی سطح پر پاکستانی موسیقی کی ترقی اور خوشحالی کا بہت بڑا موقع فراہم کرتی ہے۔“

    کوک اسٹوڈیو پاکستان کے کیوریٹر اور پرؤڈیوسر زلفی نے کہا:”بطور ویور اور میوزک پروڈیوسر یو ٹیوب میری اولین ترجیح رہا ہے۔ یوٹیوب ہمیں پاکستانی میوزک کمیونٹی کو دنیا سے جوڑنے میں مدد کرتا ہے، نئے سامعین تک پہنچاتا ہے اور دنیا بھر میں موسیقی کے شائقین کے درمیان مطابقت پیدا کر تا ہے۔یوٹیوب میوزک کا پاکستان میں آنا، اس شاندار ملک کے تمام موسیقاروں،فنکاروں اور شائقین کے لیے ایک نعمت ہے اور میں یہ دیکھنے کے لیے بیتاب ہوں کہ کیسے پاکستانی میوزک انڈسٹری یوٹیوب پر دنیا کو اپنی صلاحیتوں سے حیران کرتی ہے۔“

    یوٹیوب پریمیم اور یوٹیوب میوزک کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:

    یوٹیوب پریمیم
    یوٹیوب پریمیم صرف 479.00 روپے ماہانہ میں اشتہارات کے بغیر، بیک گراؤنڈ پلے، اورتمام یوٹیوب پر آف لائن رسائی کے لیے ڈاؤن لوڈز شامل ہیں اور یوٹیوب سپر صارفین کے لیے بہترین ہیں۔
    یوٹیوب پریمیم کے بہترین فیچرز:
    • اشتہارات کے بغیرویڈیوز: ایسے بہت سارے صارفین ہیں جو اپنی مرضی کے مطابق جب چاہیں اورکسی رکاوٹ کے بغیر کانٹینٹ دیکھنا چاہتے ہیں۔
    • بیک گراونڈ پلے: شاید یوٹیوب کی سب سے زیادہ خواہش کی جانے والی خصیوصیت بیک گراؤنڈ پلے ہے۔ یوٹیوب پریمیم سبسکرپشن کے صورت میں، آپکے یوٹیوب ایپ سے باہر نکلنے کے بعد ویڈیو چلنا بند نہیں ہوگی۔ یہ خاص طور پر ملٹی ٹاسکنگ اور اسے صارفین کے لیے مفید ہے جو لیکچرز، تعلیمی ویڈیوز اور دیگر طرز کا کانٹینٹ سنتے ہیں۔
    • آف لائن رسائی: ہم اپنی زندگی کے بیشتر حصہ کنیکٹڈ رہ کر گزارتے ہیں، لیکن اب بھی ایسے لمحات ہیں جب ہم ہوائی جہاز میں ہوتے ہیں یا وائی فائی کہیں کہیں دستیاب ہوتے ہوئے – جہاں آپ بھی تفریح لمحات چاہتے ہیں لیکن آن لائن نہیں ہو سکتے۔یوٹیوب پریمیم کے ذریعے آپ اپنی پسندیدہ ویڈیوز ڈاون لوڈ کر سکتے ہیں تاکہ جب چاہیں اور چلتے پھرتے انہیں دیکھ سکیں۔

    یوٹیوب میوزک پریمیم
    یوٹیوب میوزک پریمیم کے ذریعے اشتہارات کے بغیر میوزک، بیک گراؤنڈ پلے اور یوٹیوب میوزک سے ڈاؤن لوڈز کی آفر صرف 299.00 ماہانہ میں دستیاب ہے۔
    • اشتہارات کے بغیر میوزک
    • بیک گراؤنڈ میں سنیے
    • ڈاؤن لوڈز
    • صرف آڈیو موڈ

    اہل صارفین یوٹیوب پریمیم یا یوٹیوب میوزک پریمیم کی خصوصی تعارفی پیشکش ایک ماہ کے لیے مفت حاصل کر سکتے ہیں۔ ٹرائلز اور پروموشن کے بارے میں مزید معلومات کے لیے https://support.google.com/youtube/answer/10324204 کا وزٹ کیجیے۔

    یوٹیوب میوزک ایپ کو گوگل پلے اسٹور اور iOS ایپ اسٹور سے ڈاون لوڈ کیا جاسکتا ہے۔

  • چین میں بچوں کو اسمارٹ فونز کے سخت قوانین کے نفاذ کا فیصلہ

    چین میں بچوں کو اسمارٹ فونز پر بہت زیادہ وقت گزارنے سے روکنے کے لیے سخت قوانین کے نفاذ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: چین کی سائبرسیکیوریٹی ایڈمنسٹریشن ("CAC”) اور چھ دیگر ایجنسیوں نے مشترکہ طور پر جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلی جنس سروسز ("جنریٹو AI اقدامات” یا "قواعد”) کی انتظامیہ کے لیے عبوری اقدامات کا اعلان کیا،جو تخلیقی مصنوعی ذہانت کی ترقی اور فراہمی کو منظم کریں گے۔ "جنریٹو AI”) چین میں گھریلو عوام کے لیے خدمات۔ نئے قواعد 15 اگست 2023 سے لاگو ہوں گے-

    سائبر اسپیس ایڈمنسٹریشن آف چائنا کی جانب سے نئے ضوابط کی جاری تفصیلات کا مقصد بچوں کو موبائل فون کی لت سے بچانا ہے اداے کی جانب سے ویب سائٹ پر ان ضوابط کا مسودہ جاری کیا گیا ہے، جس کے مطابق بچوں کو رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک موبائل ڈیوائسز پر انٹرنیٹ تک رسائی کی اجازت نہیں ہوگی 16 سے 18 سال کی عمر کے بچوں کو زیادہ سے زیادہ 2 گھنٹوں تک موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔

    جولائی 2023 انسانی تاریخ کا گرم ترین مہینہ

    اس سے قبل 2021 میں بھی چینی حکومت نے بچوں کے لیے آن لائن گیمز کا دورانیہ محدود کیا تھااس وقت گیمنگ پلیٹ فارمز کو کہا گیا تھا کہ 18 سال سے کم عمر بچوں کو پورے ہفتے میں صرف 3 گھنٹے آن لائن گیمز کھیلنے کی اجازت ہوگی اب نئے ضوابط میں کہا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں قوانین کے نفاذ کی ذمہ دار ہوں گی، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ خلاف ورزی پر کیا سزا دی جا سکتی ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ پر ایک اور فرد جرم عائد

    ادارے کی جانب سے کمپنیوں کو کہا گیا ہے کہ 3 سال سے کم عمر بچوں کے لیے لوریوں پر مبنی مواد تیار کیا جائے جبکہ 12 سال سے کم عمر بچوں کے لیے تعلیمی خبروں اور تفریح پر مبنی مواد کو ترجیح دی جائے بچوں کے تحفظ کے لیے گزشتہ برسوں میں کافی اقدامات کیے گئے اور اب ہم ان کی عمر کے لیے موزوں مواد سے بھرپور انٹرنیٹ ماڈل تیار کر رہے ہیں انٹرنیٹ استعمال کرنے کا دورانیہ مختصر کرنے سے بچوں پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    امریکا کا باجوڑ حملےکی شدید مذمت

  • سائنسدانوں نےسائبیریا کی برف کےنیچے 46 ہزارسال سےمنجمد کیڑےہوش میں لےآئے

    سائنسدانوں نےسائبیریا کی برف کےنیچے 46 ہزارسال سےمنجمد کیڑےہوش میں لےآئے

    سائبیریا کی برف کے نیچے 46 ہزار سال سے منجمد کیڑے کو سائنسدان ہوش میں لے آئے ۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ان کیڑوں نے ہوش میں آنے کے بعد کئی بچے پیدا کیے اور پھر اپنی قدرتی موت مرگئے، اس تحقیق سے سائنسدانوں نے ثابت کر دیا کہ زندگی کو غیر معینہ مدت کے لیے pause کیا جاسکتا ہےآج سے کوئی 46 ہزار سال پہلے جب زمین پر ہاتھی نما دیو ہیکل جانور گھومتے تھے، تب انتہائی چھوٹے کیڑے سائبیریا کی برفیلی زمین میں فریز ہو گئے تھے۔

    عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے جب ہزاروں سال کی جمی ہوئی برف پگھلی تو نیچے دبے ہوئے کیڑوں کو سائنسدانوں نے دوبارہ ہوش میں لانے کی تگ و دو کی،کیڑوں کو نارمل پانی میں ڈالا گیا (ہائیڈریٹڈ کیا گیا) تو وہ آسانی سے ہوش میں آگئے ، اِن کیڑوں کی طبعی عمر محض چند دن کی تھی۔

    زمین کا وہ مقام جہاں نظام شمسی کے گرم ترین سیارے جتنی سورج کی روشنی …

    اس کیڑے کو دوبارہ زندہ کرنے کی تحقیق میں شامل پروفیسر ٹے مُورس کُرزچالیا کا کہنا ہے کہ جو آرگنزم کرپٹو بائیوسس کی حالت میں ہوتے ہیں ان میں پانی اور آکسیجن بالکل نہیں ہوتی اوریہ سخت درجہ حرارت میں زندہ رہ سکتے ہیں،ایسے آرگنزم اس صورتحال میں زندگی اور موت کے درمیان رہتے ہیں پروفیسر نے بتایا کہ کوئی بھی آگنزم زندگی روک سکتا ہے اور دوبارہ سے زندگی کا آغاز کرسکتا ہے، بلا شبہ یہ ایک بڑی دریافت ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ایسا ہی واقعہ پیش آچکا ہے، 5 سال پہلے روس کے 2 سائنسدانوں نے بھی سائبیریا کی برف سے 2 اقسام کے کیڑوں کو دریافت کیا تھا اور انہیں بھی پانی میں ڈال کر زندہ کیا گیا تھا۔

    سمندری طوفان ڈوکسوری کی چین میں تباہ کاریاں، دارالحکومت بیجنگ بھی شدید متاثر

  • زمین کا وہ مقام جہاں نظام شمسی کے گرم ترین سیارے جتنی سورج کی روشنی پڑتی ہے

    زمین کا وہ مقام جہاں نظام شمسی کے گرم ترین سیارے جتنی سورج کی روشنی پڑتی ہے

    سائنسدانوں نے زمین کا وہ مقام دریافت کیا ہے، جہاں سورج کی روشنی سب سے زیادہ پڑتی ہے، جہاں روشنی کی مقدار زہرہ جتنی ہوتی ہے۔

    باغی ٹی وی: زہرہ نظام شمسی کا دوسرا اور ہماری زمین کا پڑوسی سیارہ ہے یہ ہمارے نظام شمسی کا سب سے گرم سیارہ تصور کیا جاتا ہے اوراب سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ زمین پر سب سے زیادہ دھوپ والی جگہ صحرائے اٹاکاما کا الٹیپلانو ہے، جو چلی میں اینڈیس پہاڑوں کے قریب ایک بنجر سطح مرتفع ہے جو زہرہ کی طرح سورج کی روشنی حاصل کرتا ہے۔

    نیدرلینڈز کی خرونیگین یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایاگیاکہ براعظم جنوبی امریکا کےمغربی ساحل پر کوہ انڈیز کے قریب صحرائے ایٹا کاما کے سطح مرتفع جو تقریباً 13,120 فٹ (4,000 میٹر بلندی پر زہرہ جتنی سورج کی روشنی پڑتی ہےاس صحرا کو امریکا کی ڈیتھ ویلی سے 100 گنا زیادہ خشک اور بنجر تصور کیا جاتا ہے اور یہاں کچھ مقامات ایسے ہیں جہاں صدیوں سے بارش نہیں ہوئی-

    سعودی عرب یوکرین جنگ کے حوالے سے مذاکرات کی میزبانی کرے گا

    صحرائے اٹاکاما متعدد وجوہات کی بناء پر خاص ہے یہ زمین کا قدیم ترین صحرا ہے، قطبوں سے پرے خشک ترین اور ممکنہ طور پر رات کے آسمان کو دیکھنے کے لیے صاف ترین جگہ ہے۔ اس صحرا کا بیشترحصہ چلی میں واقع ہے جبکہ کچھ حصے پیرو، بولیویا اور ارجنٹینا میں موجود ہیں، مگر سائنسدانوں نے چلی کے علاقے میں تحقیق کی تھی یہاں تبت کے بعد دنیا کا دوسرا بلند ترین سطح مرتفع موجود ہے اور وہاں موسم گرما (اس خطے میں موسم گرما جنوری سے مارچ تک ہوتا ہے) میں سورج کی روشنی کی توانائی یا ریڈی ایشن کی فی اسکوائر میٹر مقدار 2177 واٹس ریکارڈ کی گئی عموماً زمین کی فضا میں سورج کی روشنی کی ریڈی ایشن فی اسکوائر میٹر مقدار اوسطاً 1360 واٹس ہوتی ہے۔

    سائنسدانوں نے بتایا کہ اس صحرا میں ریڈی ایشن کی شدت ایسی ہے جیسے آپ سیارہ زہرہ میں کھڑے ہوں ان کا کہنا تھا کہ یہ انکشاف اس لیے حیران کن ہےکیونکہ زہرہ زمین کے مقابلے میں سورج سے 28 فیصد زیادہ قریب ہےاوسطاً اس سطح مرتفع میں 308 واٹس فی اسکوائر میٹر شمسی ریڈی ایشن موجود ہوتی ہے جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔

    آئینۂ خیال تھا عکس پذیر راز کا ،طور شہید ہو گیا جلوۂ دل نواز …

    محققین کے مطابق اس صحرا میں شمسی توانائی کے حصول کے مواقع وسطیٰ یورپ اور امریکا کے ایسٹ کوسٹ کے مقابلے میں اوسطاً دوگنا زیادہ ہیں اتنی زیادہ شمسی ریڈی ایشن خطرناک ہوتی ہےاورآپ کو جِلد کو تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہوتی ہےماضی میں سیٹلائیٹ ڈیٹا سے عندیہ ملا تھا کہ زمین پر سورج کی سب سے زیادہ روشنی اسی صحرا پر پڑتی ہے مگر اس تحقیق میں اس کی شدت اور ریڈی ایشن کی جانچ پڑتال کی گئی۔

    ناسا کے ایک ماحولیاتی سائنسدان سیجی کاٹو، جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھے، نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ جب شمسی شعاعیں فضا کے ذریعے منتقل ہوتی ہیں، تو یہ پانی کے بخارات کے ذریعے جذب ہو جاتی ہے اور بادلوں اور ایروسولز کے ذریعے بکھر جاتی ہے تاہم، ایک بلندی وہ مقام جو پانی کے بخارات کی تہہ سے اوپر ہے اور اس میں کم بادل ہیں اور ایروسول لامحالہ زیادہ دھوپ حاصل کریں گے چلی کی دھوپ کی ایک اور وجہ اس کا جغرافیائی محل وقوع ہے۔

    کینیڈا میں چھوٹا طیارہ گرکر تباہ ،6 افراد ہلاک

    تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ریڈی ایشن کی بہت زیادہ شدت کو اس علاقے کے اوپر موجود بادلوں میں دیکھا جا سکتا ہے ان کا کہنا تھا کہ عموماً بادل سورج کی روشنی کو روک دیتے ہیں یا ان کو واپس خلا میں بھیج دیتے ہیں، مگر اس صحرا میں بادل بہت پتلے ہوتے ہیں جو سورج کی روشنی پرکسی عدسے کی طرح کاکام کرتےہیں، یعنی سطح پرشمسی ریڈی ایشن کی شدت کو 80 فیصد بڑھا دیتے ہیں مگر محققین کا کہنا تھا کہ سورج کی بہت زیادہ روشنی، ریڈی ایشن اور شدید درجہ حرارت کےدرمیان فرق ہوتا ہےاس صحرا کاماحول کسی حد تک سرد ہے کیونکہ یہ سطح سمندر سے کافی بلندی پر ہے جبکہ بحر الکاہل کے قریب ہونے کی وجہ سے بھی اس علاقے کا درجہ حرارت حد سے زیادہ نہیں بڑھتا۔