Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • گوگل نے اے آئی ٹیکنالوجی پر کام شروع کر دیا

    گوگل نے اے آئی ٹیکنالوجی پر کام شروع کر دیا

    دنیا کے مقبول ترین سرچ انجن گوگل کی جانب سے اے آئی ٹیکنالوجی پر مبنی سرچ انجن پر کام کیا جا رہا ہے جس کا کوڈ نام ماگی رکھا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ماگی سرچ انجن میں صارفین کو زیادہ بہتر سروس فراہم کی جائے گی،یہ منصوبہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، مگر اس کے ٹولز آئندہ ماہ عوام کے لیے متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔

    ایلون مسک کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس کمپنی بنانے کا اعلان

    گوگل کے ایک ترجمان نے کہا کہ ضروری نہیں کہ ہر پراڈکٹ کو متعارف کرایا جائے، مگر ہم اے آئی پر مبی فیچرز سرچ کا حصہ بنانے کے لیے پرجوش ہیں اور بہت جلد مزید تفصیلات شیئر کی جائیں گیاے آئی کو برسوں سے گوگل سرچ کا حصہ بنایا جا رہا ہے جبکہ لینس اور ملٹی سرچ جیسی سروسز کو اس ٹیکنالوجی سے بہتر بنایا گیا –

    رپورٹ کے مطابق سام سنگ کی جانب سے اپنے فونز میں کروم کی بجائے مائیکرو سافٹ بنگ کو ڈیفالٹ سرچ انجن بنایا جا رہا ہے،کروم کی جگہ بنگ کو دینے کی رپورٹ پر گوگل کے حصص میں 4 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔

    اسپین میں روبوٹ نے پھیپھڑوں کا کامیاب ٹرانسپلانٹ کر لیا

    واضح رہے کہ مائیکرو سافٹ کے سرچ انجن بنگ میں چیٹ جی پی ٹی کے اضافے کے بعد گوگل نے فروری 2023 میں اپنے چیٹ بوٹ بارڈ کو متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا بارڈ چیٹ بوٹ گوگل کے لینگوئج ماڈل فار ڈائیلاگ ایپلیکیشنز (ایل اے ایم ڈی اے) پر مبنی ہے تاہم ابھی تک اسے گوگل سرچ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

    30 ہزار سال سے برف میں محفوظ پراسرار کھال کی گیند گلہری نکلی

  • ایلون مسک کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس کمپنی بنانے کا اعلان

    ایلون مسک کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس کمپنی بنانے کا اعلان

    نیویارک: ٹیسلا کمپنی کے بانی اور ٹوئٹر کے مالک ایلون مسک نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کمپنی بنانے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی: امریکی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں ایلون مسک نے کہا کہ وہ چیٹ جی پی ٹی کے مقابلے میں اپنا اے آئی چیٹ بوٹ "ٹروتھ جی پی ٹی” متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جو سچ کی تلاش کرنے والا چیٹ بوٹ ہوگا۔

    لانچ سے چند منٹ قبل انسانی تاریخ کے سب سےطاقتورراکٹ کی پروازملتوی

    ایلون مسک کے مطابق یہ ایسا چیٹ بوٹ ہوگا جو کائنات کی فطرت اور انسانیت کو سمجھ سکے گا، اس طرح وہ انسانوں کی تباہی کا باعث نہیں بنے گا انہوں نے اے آئی ٹیکنالوجی کو گاڑیوں یا راکٹ سے زیادہ خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی انسانیت کو تباہ کر سکتی ہے چیٹ جی پی ٹی متعصب ہے جس کے مقابلے پر وہ اپنا چیٹ بوٹ لا رہے ہیں۔

    دریں اثناء اطلاعات تھیں کہ ایلون مسک کسی بھی وقت آرٹیفیشل انٹیلی جنس ایجنسی بنانے کا اعلان کر سکتے ہیں تاکہ چیٹ جی پی ٹی تیار کرنے والی کمپنی اوپن اے آئی کا مقابلہ کیا جاسکے جبکہ انہوں نے اس حوالے سے 2 افراد کو ملازمت پر بھی رکھ لیا ہے کمپنی کے بارے میں تفصیلات کو خفیہ رکھا جا رہا ہے –

    اسپین میں روبوٹ نے پھیپھڑوں کا کامیاب ٹرانسپلانٹ کر لیا

    اس مقصد کے لیے ایلون مسک نے مارچ میں ایک کمپنی X.AI کو ریاست نویڈا میں رجسٹر بھی کرایا جس کے وہ اکیلے ڈائریکٹر ہیں ایلون مسک ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سرمایہ کاروں کے ساتھ اپنے اس نئے منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے بات چیت بھی کر رہے ہیں۔

    خیال رہے کہ چیٹ جی پی ٹی کو دنیا بھر میں بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی ہے اور اسے متعدد ایپس کا حصہ بنایا جارہا ہے جبکہ مائیکرو سافٹ نے اپنے بنگ سرچ انجن اور دیگر پراڈکٹس کو بھی اس ٹیکنالوجی سے لیس کیا ہے چیٹ جی پی ٹی 4 کو مارچ میں متعارف کرایا گیا جو اب تک کا سب سے جدید ترین اے آئی سسٹم قرار دیا جا رہا ہے۔

    30 ہزار سال سے برف میں محفوظ پراسرار کھال کی گیند گلہری نکلی

  • اسپین میں روبوٹ نے پھیپھڑوں کا کامیاب ٹرانسپلانٹ کر لیا

    اسپین میں روبوٹ نے پھیپھڑوں کا کامیاب ٹرانسپلانٹ کر لیا

    اسپین میں روبوٹ نے پھیپھڑوں کا کامیاب ٹرانسپلانٹ کر لیا۔

    باغی ٹی وی: "روئٹرز” کے مطابق روبوٹ کی جانب سے پھیپھڑوں کے کامیاب ٹرانسپلانٹ کے بعد اب ٹرانسپلانٹ کے لیے سینہ کھولنے اور پسلیوں کو الگ کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔

    ایرانی صدر کی سعودی فرمانروا کو ایران کے دورے کی دعوت

    رپورٹس کے مطابق بارسلونا کے وال ڈی ہیبرون ہسپتال کے سرجنوں نے 4 بازو والے "Da Vinci” نامی روبوٹ کا استعمال کرتے ہوئے مریض کی جلد، چربی اور پٹھوں کے ایک چھوٹے سے حصے کو کاٹ کر تباہ شدہ پھیپھڑوں کو ہٹایاروبوٹ نے مریض کے سینے پر صرف 8سینٹی میٹر کا چیرا لگایا، پہلے اس ٹرانسپلانٹ کے لیے 30سینٹی میٹر کا چیرا لگایا جاتا تھا۔

    اگرچہ کچھ ہسپتال پہلے ہی پھیپھڑوں کی پیوند کاری کے لیے چھوٹے چیرا استعمال کر رہے ہیں، یہ پہلا موقع تھا جب سرجن چیرا کو نرم بافتوں تک محدود رکھنے میں کامیاب ہوئے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ یہ نیا طریقہ علاج روایتی طریقے سے نہ صرف زیادہ محفوظ ہے بلکہ اس سے مریض کو تکلیف کم اور زخم آسانی سے بھر جاتا ہے۔

    ڈی ہیبرون ہسپتال کے ڈاکٹرزکا کہنا ہےکہ ہمیں یقین ہے کہ یہ ایک ایسی تکنیک ہےجو مریضوں کےمعیار زندگی کو بہتر بنائےگی، سرجری کے بعد کی مدت اوردرد کو کم کرے گی البرٹ جوریگوئی، تھوراسک سرجری اورپھیپھڑوں کے ٹرانسپلانٹس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ یہ تکنیک بالآخر مزید ہسپتالوں میں بھی استعمال کی جائے پھیپھڑوں کے ٹرانسپلانٹ کے لیے اس عضو کو آپریٹنگ تھیٹر میں "ڈیفلیٹ” کیا گیا تھا تاکہ یہ سخت چیرا کے ذریعے داخل ہو سکے-

    30 ہزار سال سے برف میں محفوظ پراسرار کھال کی گیند گلہری نکلی

    جوریگوئی نے کہا کہ یہ جسم کا ایک حصہ ہے جس کی جلد بہت لچکدار ہونے کا فائدہ ہے، جو کسی ایک پسلی کو چھوئے بغیر کھلنے کو چوڑا کرنے کی گنجائش فراہم کرتی ہےتاہم، روبوٹ کے بازوؤں اور 3D کیمروں کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے پسلی کے پنجرے کے پہلو میں چھوٹے کٹ بھی کیے گئے تھے وقت کے ساتھ اس تکنیک کا اطلاق دو پھیپھڑوں پر مشتمل ٹرانسپلانٹ پر کیا جا سکتا ہے، جس کےلیے ایک ہی معمولی چیرا کافی ہوگا۔

    ابتدائی طریقہ کار، جو اب تک صرف پھیپھڑوں کے کینسر کے علاج کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے، ایک 65 سالہ شخص زیویئر پر انجام دیا گیا جسے پلمونری فائبروسس کی وجہ سے پھیپھڑوں کی پیوند کاری کی ضرورت تھی زیویئر نے کہا کہ اسے نئی تکنیک سے فائدہ ہوا میں ہوش میں آیا اور جنرل اینستھیزیا سے بیدار ہوا، مجھے درد نہیں تھا۔

    چیرا چھوٹا ہونے کی وجہ سے، مریض نے آپریشن کے بعد صرف پیراسیٹامول لیا۔ روایتی پھیپھڑوں کے ٹرانسپلانٹس میں عام طور پر اوپیئڈ درد کش ادویات کے ساتھ سرجری کے بعد کے علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔

    تیونس نے آئی ایم ایف کے قرضوں کو مسترد کر دیا، برکس میں شامل ہونے …

  • 30 ہزار سال سے برف میں محفوظ پراسرار کھال کی گیند گلہری نکلی

    30 ہزار سال سے برف میں محفوظ پراسرار کھال کی گیند گلہری نکلی

    شمالی کینیڈا میں منجمد کھال کے ایک پراسرار گیند کی شناخت 30,000 سال پرانی ممی شدہ گلہری کے طور پر ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : شمالی کینیڈا میں منجمد کھال کےایک پراسرار گیند ملی مگر ایکسرے اسکینزسےجو انکشاف ہوا اس نے سائنسدانوں کو حیران کر دیا کیونکہ گریپ فروٹ سائز کی یہ گیند درحقیقت برفانی عہد کی ایک گلہری ہےجو 30 ہزار برسوں سےحنوط شدہ شکل میں محفوظ تھی۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ برفانی دور کی مخلوق اپنی موت کے وقت ہائبرنیٹ کر رہی ہو گی کیونکہ اسے ایک گیند کی شکل میں پایا گیا اسے 2018 میں یوکون کے علاقے میں کان کنوں نے الاسکا کی سرحد کے قریب ایک سابقہ ​​گولڈرش چوکی کے قریب پایا تھا۔

    یوکون حکومت کے ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ گیند ناقابل شناخت ہے مگرجب آپ ننھے ہاتھ، پنجے اور کان دیکھتے ہیں تو حیران رہ جاتے ہیں لیکن جب آپ کسی ایسے جانور کو دیکھتے ہیں جو بالکل محفوظ ہے، وہ 30,000 سال پرانا ہے، اور آپ اس کا چہرہ، اس کی جلد، اس کے بال اور یہ سب کچھ دیکھ سکتے ہیں، تو یہ بالکل دلچسپ ہے۔

    اسی کو دیکھتے ہوئے جانوروں کی ایک ڈاکٹر Jess Heath نے مزید تحقیق کا فیصلہ کیا اورانہوں نے ایکسرے اسکینز کیے ان اسکینز سے انکشاف ہوا کہ بالوں سےبھری یہ منجمد گیند ایک جوان گلہری ہےجوآرکٹک کےمیدانوں میں پائی جاتی ہے اورممکنہ طور پرنیند کے دوران مر گئی تھی Jess Heath نے بتایا کہ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ گلہری کا جسم اچھی حالت میں ہے اور ایسا لگتا ہے کہ وہ سو رہی ہے یہ واقعی متاثر کن ہے کہ کسی نے اسے شناخت کیا، ورنہ باہر سے دیکھنے پر تو یہ گلہری ایک بھوری چٹان نظر آتی ہے۔

    یہ نمونہ اب کینیڈا کے وائٹ ہارس میں یوکون بیرنگیا انٹرپریٹیو سینٹر میں عوامی نمائش کے لیے جائے گامحققین نے ممی شدہ آرکٹک زمینی گلہری کا نام ‘ہیسٹر’ رکھا ہے کیونکہ یہ کینیڈا کے ہیسٹر کریک کے قریب کلونڈائک سونے کے کھیتوں میں، ڈاسن شہر کے قریب پائی گئی تھی۔

    سونے کی جس کان سے اس گلہری کو دریافت کیا گیا، اس خطے میں ہزاروں برسوں سےبرف جمی ہوئی ہےاور وہاں صدیوں سے جانداروں کے جسم، بال اور ناخن محفوظ ہیں جن میں دیوہیکل بیور، ایک بچہ میمتھ اور بھیڑیے کا بچہ شامل ہیں۔

    ‘یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ یہ چھوٹا جانور کئی ہزار سال پہلے یوکون کے ارد گرد بھاگ رہا تھا،’ یوکون حکومت نے گزشتہ ماہ گلہری کے بارے میں ایک فیس بک پوسٹ میں لکھا تھا کلونڈائک کے کھیتوں کو برفانی دور کے فوسلز سے بھرا ہوا جانا جاتا ہے درحقیقت، پچھلے سال ہی ایک کان کن کو 30,000 سال پرانا بچہ اونی میمتھ ملا۔

    یوکون حکومت نے کہا کہ یہ ‘شمالی امریکہ میں پایا جانے والا سب سے مکمل ممیفائیڈ میمتھ ہے’، اور دنیا میں اس طرح کی صرف دوسری دریافت ہے بچھڑا، جس کا نام ‘نون چو گا’ ہے، جس کا مطلب ہان زبان میں ‘بڑا بچہ جانور’ ہے، پرما فراسٹ میں جما ہوا تھا، جس کے نتیجے میں اس کی باقیات ممی ہو گئیں۔

    ماہرین کے مطابق عالمی درجہ حرارت میں اضافے سے ہزاروں برسوں سے برف میں محفوظ جانداروں کی دریافت زیادہ عام ہو جائے گی۔

  • 35 ہزار سال قبل مصری باشندہ کیسا دکھتا تھا ماہرین نے ڈیجیٹل امیج تیار کر لیا

    35 ہزار سال قبل مصری باشندہ کیسا دکھتا تھا ماہرین نے ڈیجیٹل امیج تیار کر لیا

    برازیل کے ماہرین نے ڈیجیٹل امیجنگ کا استعمال کرتے ہوئے 35 ہزار سال قبل رہنے والے مصری شخص کے چہرے کی ہوبہو نقل بنائی ہے۔

    باغی ٹی وی : ماہر آثار قدیمہ موئسر الیاس سینٹوس اور3D ڈیزائنر سسیرو موریاس نے ڈیجیٹل امیج کو بنانے کے لیے مصر میں آثار قدیمہ کے مقام پر پائے جانےوالےایک آدمی کےکنکال کی باقیات کا استعمال کیا،یہ تصویر نزلیٹ کھیٹر 2 کی کھوپڑی کا تفصیلی تخمینہ پیش کرتی ہے جو 35,000 سال پرانا فوسل ہے جو 1980 میں مصر کی وادی نیل میں دریافت ہوا تھا۔

    غار میں تنہا 500 دن گزارنے والی خاتون

    بشریات کے تجزیے نے کنکال کی باقیات کو افریقی نسل کے آدمی کے طور پر شناخت کیا ہے جس کی عمر موت کے وقت 17 سے 29 سال کے درمیان تھی۔ تجزیہ بتاتا ہے کہ وہ تقریباً پانچ فٹ اور تین انچ لمبا تھا۔

    ٹیم نے چہرے کی نئی تعمیری تکنیک کا استعمال کیا جو آثار قدیمہ کے ماہرین کو کنکال کی باقیات کے چہرے کی خصوصیات کو صحیح طریقے سے اجاگر کرنے میں مدد دیتا ہے۔

    سعودی عرب میں نبطی دور کی حنوط شدہ خاتون کا چہرہ بحال

    برازیل کے پونٹا گروسا میں سیرو فلیمارین کارڈوسو آرکیالوجی میوزیم کے ماہر آثار قدیمہ موئسر سانٹوس نے سی این این کو بتایا کہ چند سال پہلے، ہم پہلے ہی انسانی ارتقاء سے متعلق تخمینے کی ایک سیریز پر کام کر رہے تھے، جن میں سب سے مشہور فوسل نقلیں تھیں۔ انہیں تصاویر میں تبدیل کیا گیا اور کھوپڑی کی فوٹوگرامیٹری کی وضاحت کے لیے استعمال کیا گیا، جس نے مطالعہ کو شکل دی۔

    فوٹوگرامیٹری تصویروں سے 3D معلومات نکالنے کا عمل ہے، جو سانٹوس اور موریس نے قاہرہ کے نیشنل میوزیم آف مصری تہذیب میں انسان کے کنکال کی باقیات کو دیکھنے کے بعد کیا اس عمل کو ماہرین نے اس بات کا تعین کرنے کے لیے استعمال کیا ہے کہ انسانوں نے صدیوں میں کس طرح ترقی کی ہے۔

    مصر میں 3673 برس قبل کاٹے گئے انسانی ہاتھ برآمد

  • غار میں تنہا 500 دن گزارنے والی خاتون

    غار میں تنہا 500 دن گزارنے والی خاتون

    انسانی دماغ اور رویو ں پر تنہائی اور اندھیرے کے اثرات پر تجربات کیلئے 50 سالہ ہسپانوی خاتون نے غار میں تنہا 500 دن گزارے-

    باغی ٹی وی : 20 نومبر 2021 کو غار میں داخل ہوتے وقت اسپین کی کوہ پیما خاتون بیٹرز فلامینی کی عمر 48 سال تھی اسپین کے شہر Motril کے قریب Los Gauchos میں گئیں جبکہ غار سے نکلتے وقت ان کی عمر 50 سال ہو چکی تھی اور انہوں نے اپنی دو سالگراہیں انتہائی گہرے اور اندھیرے غار میں اکیلے گذاری تھیں۔

    مصر میں 3673 برس قبل کاٹے گئے انسانی ہاتھ برآمد

    بیٹرز فلامینی کی سپورٹ ٹیم کا کہنا تھا کہ فلامینی نے تنہا غار میں 500 دن گزار کر عالمی ریکارڈ قائم کر لیا ہے، اس پورے عرصے کے دوران انتہائی قلیل دورانیے کیلئے وہ غار سے باہر آئیں تھیں لیکن اس دوران بھی انہیں ایک الگ خیمے میں رکھا گیا تھا۔
    https://twitter.com/dw_urdu/status/1647309563874492417?s=20
    ٹیم کا کہنا تھا کہ فلامینی کو انسانی دماغ اور سرکیڈین ردھم (Circadian rhythm*) سے متعلق تجربات کیلئے غار میں رکھا گیا تھا اور ماہرین نے غار میں رکنے کے دوران ان کی جسم اور دماغ میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا تجربات کیلئے گہرے اندھیرے غار میں 500 دن تک فلامینی خود کو مصروف رکھنے کیلئے ورزش، مطالعے اور اونی ٹوپیاں بُننے جیسی مختلف مشقیں کیا کرتی تھیں۔

    تیزرفتار بلیک ہول دریافت، زمین سے چاند تک کا مفاصلہ محض 14 منٹ میں طے …

    غار میں گذارے ہوئے وقت اور اپنے مشاہدات کو دستاویزی صورت دینے کیلئے انہیں دو گوپرو کیمرے دیئے گئے تھے، جبکہ 60 کتابیں اور 1000 لیٹر پانی بھی فراہم کیا گیا تھا۔

    بیٹرز فلامینی نے غار سے نکلنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ غار کافی محفوظ جگہیں ہیں، لیکن انسان اور دماغ کے لیے بہت مخالف ہیں کیونکہ آپ کو دن کی روشنی نظر نہیں آتی۔ انہیں پتہ ہی نہیں لگا کہ وقت کیسے گذر گیا، ایسا نہیں ہے کہ وقت زیادہ تیزی سے گزرتا ہے یا زیادہ آہستہ، بس یہ نہیں کہ گزرتا ہے، کیونکہ ایسا محسوس ہوتا ہے جسیے صبح کے 4 بجے کا وقت ہو-

    بیٹرز فلامینی نے کہا کہ ابھی وہ باہر آنا نہیں چاہتی تھیں انہوں نے کہا کہ غار میں جانے کے بعد میں نے وقت کو ٹریک کرنے کا چیلنج پورا کرنے کی کوشش کی لیکن 65 دن گزرنے کے بعد وقت کا ادراک کھو چکی تھی جس کے بعد دن گننا چھوڑ دیا تھا۔

    آخر کچھ گانے ذہن سے چپک کیوں جاتے ہیں اور ان کو نکالنا کیسے ممکن …

    انہوں نے بتایا کہ غار میں گزارے ہوئے وقت کے دوران مشکل دن بھی آئے جب غار پر مکھیوں نے حملہ کردیا تھیں اور کچھ بہت ہی اچھے دن بھی گذرے، جیسے آپ کو معلوم ہوجائے کہ آپ کا خواب کیا ہے یا آپ جان جائیں کہ آپ کیوں رو رہے ہیں اس پورے عرصے کے دوران اپنے حواس کے درمیان ربط بحال رکھنے کی کوشش کرتی تھی، اچھا کھانا اور خاموشی کا مزہ لینا، میں وہاں خود سے بہ آواز بلند بات نہیں کرتی تھی، بلکہ خاموشی کی زبان میں خودکلامی کرتی تھی اور اس سے لگتا تھا جیسے میں خود کے بارے میں ہی بہتر سے بہتر جاننے لگی ہوں۔

    انہوں نے بتایا کہ اس عرصے کے دوران ٹیم کو بتایا گیا تھا کہ انہیں کسی بھی صورتحال میں مجھ سے رابطہ نہیں کرنا، چاہے میرے خاندان میں کسی کی موت ہو جائے، ’نو کمیونیکیشن مطلب نو کمیونیکیشن‘ایسی صورتحال میں اپنے احساسات اور ہوش حواس بحال رکھنا انتہائی اہم تھا، خوفزدہ ہونا بہت فطری عمل تھا لیکن اس خوف کو حواس پر طاری نہیں کرنا تھا کہ وہ پینک اٹیک بن کر آپ کو سن کردے۔

    جعلی مکھیوں سےاصلی مکھیوں کواپنی طرف راغب کرنے والا پھول

    فلیمینی کی نگرانی ماہرین نفسیات، محققین، ماہرینِ سپیلوجسٹ – غاروں کے مطالعہ کے ماہرین – اور جسمانی تربیت کرنے والوں کے ایک گروپ نے کی جو اس کی ہر حرکت کو دیکھتے تھے اور اس کی جسمانی اور ذہنی تندرستی کی نگرانی کرتے تھے، حالانکہ اس نے ان 500 دنوں میں کبھی ٹیم کے ساتھ رابطہ نہیں کیا۔

    ہسپانوی خبر رساں ایجنسی ای ایف ای کے مطابق اس کے تجربے کو گریناڈا اورالمیریا کی یونیورسٹیوں اورمیڈرڈ میں قائم ایک سلیپ کلینک کے سائنسدانوں نے دیکھا وہ سماجی تنہائی اور وقت کے بارے میں لوگوں کے ادراک پر انتہائی عارضی اثرات کا مطالعہ کر رہے تھے، انسانوں کے زیرِ زمین ہونے والی ممکنہ اعصابی اور علمی تبدیلیوں اور نیند پر اثرات کا مطالعہ کر رہے تھے۔

    گنیز بک آف ریکارڈز کی ویب سائٹ نے چلی اور بولیوین کے 33 کان کنوں کو ‘زیر زمین میں پھنسے ہوئے سب سے طویل وقت’ کا ایوارڈ دیا جنہوں نے 2010 میں چلی میں سان ہوزے تانبے کے سونے کی کان کے گرنے کے بعد 69 دن 688 میٹر (2,257 فٹ) زیر زمین گزارے گنیز کے ترجمان نے فوری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آیا غار میں رضاکارانہ وقت گزارنے کا کوئی الگ ریکارڈ تھا اور کیا فلیمینی نے اسے توڑا تھا۔

    پچر پلانٹ کی طرح دو نئے گوشت خور پودے دریافت

  • 145 ممکنہ جینز کی نشاندہی،جو بچوں کے قد میں اہم کردار ادا کرتے ہیں

    145 ممکنہ جینز کی نشاندہی،جو بچوں کے قد میں اہم کردار ادا کرتے ہیں

    سائنسدانوں نے نے ایسے 145 ممکنہ جینز کی نشاندہی کی ہے جو بچوں کے قد میں کردار ادا کرتی ہیں۔

    باغی ٹی وی: امریکا کی ہارورڈ میڈیکل اسکول اور بوسٹن چلڈرنز ہاسپٹل کی جرنل سیل جینومک میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ بچوں کی ہڈیوں کے آخر میں موجود لچکدار ہڈیاں کے خلیات قد و قامت میں کردار ادا کرتی ہیں۔

    مصر میں 3673 برس قبل کاٹے گئے انسانی ہاتھ برآمد

    تحقیق کے مطابق یہ خلیات کونڈروسائٹ ( chondrocytes) بچوں کی بڑی ہڈیوں کے آخر میں موجود ٹشوز میں ہوتے ہیں اور وہی بچوں اور نوجوانوں کے مستقبل میں قد اور جسمانی ساخت کا تعین کرتے ہیں جب کسی فرد کی جسمانی نشوونما مکمل ہو جاتی ہے تو یہ حصے ‘بند’ ہو جاتے ہیں اور ان کی جگہ سخت ہڈی لے لیتی ہے۔

    محققین کا کہنا ہے کہ ہمارا مقصد انسانی اونچائی کے جینوم وائیڈ ایسوسی ایشن اسٹڈیز (GWASs) کو جینوم وائیڈ ناک آؤٹ (KO) اسکرینوں کے ساتھ گروتھ پلیٹ کونڈروسائٹ کے پھیلاؤ اور وٹرو میں پختگی کے ساتھ جوڑا بنا کر انسانی نشوونما سے متعلقہ جینز اور راستوں کی نشاندہی کرنا ہے۔

    محققین کے مطابق ہم نے 145 جینوں کی نشاندہی کی جو ثقافت میں ابتدائی یا دیرسے وقت کے پوائنٹس پرکونڈروسائٹ کےپھیلاؤ اور پختگی کو تبدیل کرتے ہیں، ثانوی اسکریننگ میں 90 فیصد جینز کی توثیق ہوتی ہے۔ یہ جین مونوجینک گروتھ ڈس آرڈر جینز اور KEGG راستوں میں افزودہ ہوتے ہیں جوجسم کی نشوونما اور اینڈوکونڈرل اوسیفیکیشن کے لیے اہم ہیں۔

    تیزرفتار بلیک ہول دریافت، زمین سے چاند تک کا مفاصلہ محض 14 منٹ میں طے …

    مزید یہ کہ، ان جینز کے قریب عام متغیرات GWASs سےکمپیوٹیشنل طورپرترجیح دیئےگئے جینوں سے آزاد اونچائی کے ورثے کو حاصل کرتے ہیں۔ ہمارا مطالعہ حیاتیاتی طور پر متعلقہ ٹشوز میں فنکشنل اسٹڈیز کی قدر پر زور دیتا ہے جیسا کہ آرتھوگونل ڈیٹاسیٹس GWASs سے ممکنہ وجہ جینوں کو بہتر بناتے ہیں اور کونڈروسیٹ پھیلاؤ اور پختگی کے نئے جینیاتی ریگولیٹرز کو متاثر کرتے ہیں۔

    سائنسدان پہلے سے جانتے تھے کہ یہ خلیات ہڈیوں کی نشوونما اور انسانی قد کے حوالے سے کردار ادا کرتے ہیں مگر اب پہلی بار ان خلیات کو کنٹرول کرنے والے جینز کا تعین کیا گیا ہے محققین نے بتایا کہ انسانی قد سے منسلک مخصوص جینز کی شناخت ایک چیلنجگ کام ہے کیونکہ قد ایک پیچیدہ عمل ہوتا ہے جس پر جینز اورماحولیاتی عناصر دونوں اثر انداز ہوتے ہیں تحقیق میں ان خلیات پر اس لیے توجہ مرکوز کی گئی کیونکہ وہ ہڈیوں کی نشوونما کے لیے مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔

    اس تحقیق میں چوہوں کے کروڑوں خلیات کی جانچ پڑتال کرکے ان جینز کو دریافت کیا جو اس حوالے سے کردار ادا کرتے ہیں انہوں نے کرسپر جینوم ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے ان جینز کو خلیات سے نکال باہر کیا تاکہ معلوم ہوسکے کہ مخصوص خلیات پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    رات کو تھوڑی تاخیر سے کھانا کھانا صحت کیلئےنقصان دہ نہیں،تحقیق

    اس طرح انہوں نے 145 جینز کو دریافت کیا جن کو نکالنے سے جانوروں کے خلیات کی نشوونما غیر معمولی رفتار سے ہونے لگی جو انسانی ڈھانچے ایک ایک مخصوص جینیاتی مرض سے ملتا جلتا عمل تھا اس کے بعد محققین نے چوہوں کے ان جینز کا موازنہ انسانی قد پر ہونے والی تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا سے کیا۔

    محققین نے بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملا کہ مخصوص جینز قد کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتے ہیں انہوں نے ان جینز کو انسانی جینوم میں بھی دریافت کیا اور ان کے مطابق یہ جینز دیگر جینیاتی عناصر سے زیادہ قد پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

    محققین کا کہنا تھا کہ ایسے نئے جینز کی شناخت ہوئی ہے جو ہڈیوں کی نشوونما کے عمل کا حصہ ہوتے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ لچکدار ہڈیاں انسانی قد کے لیےاہم ترین ہوتی ہیں ابھی انسانوں پر اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے اور ہمیں توقع ہےکہ اس سے ڈھانچے سے متعلق امراض کے شکار افراد کی مدد ہو سکے گی۔

    پچر پلانٹ کی طرح دو نئے گوشت خور پودے دریافت

  • یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا

    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا

    برسلز: یورپی خلائی یونین نے اپنا جدید ترین مشن خلا میں روانہ کردیا ہے جو آٹھ سال بعد نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری پر تحقیق کرے گا۔

    باغی ٹی وی :مشن کو جوپیٹر آئسی مون ایکسپلورر(جوس) کا نام دیا گیا ہےجو ایک جدید روبوٹک خلائی جہاز ہےاسے فرنچ گیانا کے خلائی مرکز سے بھیجا گیا ہے اور زمین چھوڑنے کے 27 اور 36 منٹ بعد اس نےاپنےتمام آلات کی درستگی اورکام کےکئی سگنل زمین پربھیجے ہیں۔

    چاند پر بکھرے کانچ کے ٹکڑوں میں اربوں ٹن پانی کی موجودگی کا انکشاف

    اگست 2024 میں یہ بالترتیب زمین، چاند اور سیارہ وینس کے قریب سے گزر کرگریویٹی فلائے بائے لے گا اور اپنی رفتار بڑھاتے ہوئے 2031 میں مشتری کے قریب پہنچے گا اس کے بعد وہ مشتری کے مزید چاندوں کیلسٹو، یوروپا، جینی میڈ وغیرہ سے بھی فلائے بائے کرے گا۔ آخرکار وہ جینی میڈ کے مدار میں پہنچ کر گھومنے لگے گا ہمارے اپنے علاوہ کسی خلائی جہاز نے کبھی چاند کے گرد چکر نہیں لگایا۔

    جدید ترین جوس خلائی جہاز مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا جس کے لیے دس اہم ترین آلات نصب کئے گئے ہیں۔ ان میں اسپیکٹرومیٹر، جدید کیمرے، لیزر سینسر اور مقنا پیما وغیرہ مل کر اس عظیم دنیا کے بارے میں ہماری معلومات میں اضافہ کریں گے تمام مشن کی طرح یہ بھی مشتری کے چاندوں پر پانی کی تلاش کرے گا –

    یورپی خلائی ایجنسی کی طرف سے فراہم کردہ تصویر میں مشتری کے برفانی چاندوں کے ایکسپلورر، جوس، خلائی جہاز کو گیس دیو کے گرد چکر لگاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے یورینس کے چھلوں کی تفصیلی تصویر جاری کردی

    بہت سارے چاندوں کے ساتھ،ماہرین فلکیات مشتری کو اپنا ایک چھوٹا نظام شمسی سمجھتے ہیں، جس میں جوس جیسے مشن طویل عرصے سے زیر التواء ہیں یورپی خلائی ایجنسی کے پروجیکٹ سائنسدان، اولیور وِٹاس نے زور دیا کہ ہم جوس کے ساتھ زندگی کا پتہ لگانے والے نہیں ہیں لیکن چاندوں اور ان کے ممکنہ سمندروں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے سے سائنس دانوں کو اس سوال کا جواب دینے کے قریب لے آئے گا کہ کہیں اور زندگی موجود ہے۔ "یہ واقعی مشن کا سب سے دلچسپ پہلو ہو گا-

    جوس مشتری تک ایک لمبا، چکر کاٹ رہا ہے، جو 6.6 بلین کلومیٹر (4 بلین میل) پر محیط ہے یہ کیلیسٹو کے 200 کلومیٹر (125 میل) اور یوروپا اور جینی میڈ کے 400 کلومیٹر (250 میل) کے اندر اندر جھپٹے گا، مشتری کے گرد چکر لگاتے ہوئے 35 فلائی بائی مکمل کرے گا۔ اس کے بعد یہ 1.6 بلین یورو مشن (تقریباً $1.8 بلین) کا بنیادی ہدف جینی میڈ کے مدار میں بریک لگائے گا۔

    ناسا نے فضائی آلودگی کا جائزہ لینے والا سیٹلائٹ لانچ کر دیا

    جینی میڈ نہ صرف نظام شمسی کا سب سے بڑا چاند ہے بلکہ اس کا اپنا مقناطیسی میدان ہے جس میں قطبین پر چمکتی ہوئی اورورا ہیں اس سے بھی زیادہ دلکش، یہ سوچا جاتا ہے کہ ایک زیر زمین سمندر ہے جس میں زمین سے زیادہ پانی ہے۔ کارنیگی انسٹی ٹیوشن کے سکاٹ شیپارڈ کے مطابق، جو جوس مشن میں شامل نہیں ہے، یوروپا اور اس کے رپورٹ کردہ گیزروں کے لیے ڈٹٹو، اور بھاری بھرکم کریسٹو، جو مشتری کی کمزور تابکاری بیلٹ سے دوری کے پیش نظر انسانوں کے لیے ایک ممکنہ منزل ہے۔

    "ہمارے نظام شمسی میں سمندری دنیاؤں میں ممکنہ زندگی کا سب سے زیادہ امکان ہے، لہذا مشتری کے یہ بڑے چاند تلاش کرنے کے لیے اہم امیدوار ہیں،” شیپارڈ نے کہا، جس نے بیرونی نظام شمسی میں 100 سے زیادہ دریافتیں کرنے میں مدد کی ہے۔

    خلا میں موجود شہابیہ ہر سمت میں پتھر اور چٹانیں پھینک رہا ہے،ماہرین فلکیات

    جوس مشتری کے برفانی چاندوں کے ایکسپلورر کے لیے مختصر تین سال کالسٹو، یوروپا اور جینی میڈ کےمدار میں گزارے گا۔ خلائی جہاز 2034 کے آخر میں گنیمیڈ کے گرد مدار میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا، تقریباً ایک سال تک چاند کے گرد چکر لگائے گا، اس سے پہلے کہ فلائٹ کنٹرولرز اسے 2035 میں گر کر تباہ کر دیں، بعد میں اگر کافی ایندھن باقی رہ جائے۔

    یوروپا خاص طور پر سائنسدانوں کے لیے پرکشش ہے جو زمین سے باہر زندگی کے آثار تلاش کر رہے ہیں۔ جوس کے حساس الیکٹرانکس کو تابکاری سے بچانے کے لیے سیسے میں بند کیا گیا ہے۔ 6,350 کلوگرام (14,000 پاؤنڈ) خلائی جہاز بھی تھرمل کمبل سے لپٹا ہوا ہے – مشتری کے قریب درجہ حرارت منفی 230 ڈگری سیلسیس (مائنس 380 ڈگری فارن ہائیٹ) کے ارد گرد منڈلاتا ہے۔ اور اس کے سولر پینلز 27 میٹر (88 فٹ) تک پھیلے ہوئے ہیں تاکہ سورج کی روشنی میں سورج سے اتنا ہی دور ہو-

    دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر …

  • جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے یورینس کے چھلوں کی تفصیلی تصویر جاری کردی

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے یورینس کے چھلوں کی تفصیلی تصویر جاری کردی

    واشنگٹن: ناسا کی 10 ارب ڈالرز کی لاگت سے بنائی گئی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے نظامِ شمسی کے ساتویں سیارے یورینس کی تفصیلی تصویر جاری کردی تصویر میں برف کے سیارے کے گرد موجود 13 چھلوں میں سے 11 کو اور اس کے 27 چاندوں کو دیکھا جاسکتا ہے یہ چھلے اتنے چمکدار ہیں کہ ان روشن دائرے کی صورت دِکھتے ہیں۔

    باغی ٹی وی :ناسا کے ایک بیان کے مطابق جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے سیارے کے دو دھندلے ترین غبار پر مشتمل چھلوں کو بھی عکس بند کیا ہے جن کو 1986 میں وائجر 2 نے قریب سے گزرتے وقت دریافت کیا تھا یورینس کے گرد یہ چھلےدیگر سیاروں کے گرد موجود چھلوں کی نسبت پتلے، تنگ اور تاریک ہیں ۔


    ٹیلی اسکوپ نے یورینس کے 27 معلوم چاندوں کو بھی عکس بند کیا۔ ان چاندوں میں اکثر اتنے چھوٹے ہیں کہ تصویر میں واضح نہیں دیکھے جاسکتے جبکہ چھ روشن چاندوں کی نشاندہی صرف 12 منٹ کے ایکسپوژر میں کی گئی۔

    ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی نوکیا چاند پر 4 جی نیٹ ورک لگانے کے لیے تیار

    تصویر کے لیے استعمال کیے گئے نیئر انفرا ریڈ کیمرا(الیکٹرومیگنیٹک اسپیکٹرم میں قابلِ دید روشنی سے زیادہ فریکوئنسی والی روشنی کو عکس بند کرتا ہے) نے نئی تصویر میں دور دراز موجود کہکشاؤں کو بھی واضح عکس بند کیا ہے۔

    انگلینڈ کی ناٹنگھم یونیورسٹی کے ماہر فلکیات مائیکل میری فیلڈ نے کہا کہ یورینس کو اس قسم کی تفصیل سے دیکھنا کتنا حیرت انگیز ہے جو اس سے پہلے صرف وائجر 2 کے اصل میں اس کا دورہ کرنے کے ذریعہ ممکن ہوا تھا-

    سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ویب ایک دن سیارے کے باقی دو بیرونی حلقوں کی بھی تصویر بنانے میں کامیاب ہو جائے گا جو اس پہلی تصویر میں نہیں دکھائے گئے ہیں۔ دوربین فی الحال سیارے کی فالو اپ تصاویر لے رہی ہے۔

    سورج کے حجم سے 30 بلین گنا بڑا بلیک ہول دریافت

    یورینس سورج کا ساتواں سیارہ ہے، اور ہمارے نظام شمسی میں اس کا قطر تیسرا سب سے بڑا ہے یہ ٹیلی سکوپ کی مدد سے پایا جانے والا پہلا سیارہ تھا، یورینس کو 1781 میں ماہر فلکیات ولیم ہرشل نے دریافت کیا تھا یورینس کی سطح ٹھوس نہیں ہے۔ اس کا ماحول بنیادی طور پر کچھ میتھین کے ساتھ ہائیڈروجن اور ہیلیم ہے، جو سورج کی روشنی کی سرخ طول موج کو جذب کرتا ہے جس کی وجہ سے یورینس نیلے رنگ کا دکھائی دیتا ہےسیارہ زمین سے تقریباً چار گنا چوڑا ہے اور ناسا کے مطابق ایک چھوٹے، چٹانی حصے پر مشتمل ہے جس کے ارد گرد گرم، گھنے مادے ہیں جس میں پانی، میتھین اور امونیا شامل ہیں۔

    چونکہ دور دراز کا سیارہ ہر 84 سال میں ایک بار سورج کے گرد چکر لگاتا ہےیہ ایک منفرد زاویہ پر اپنا سفر مکمل کرتا ہے سیارے ایک چپٹی سطح کے ساتھ حرکت کرتے ہیں جب وہ گردش کرتے ہیں۔ عطارد تصوراتی سطح پر کھڑے محور کے گرد گھومتا ہے، جبکہ زیادہ تر دوسرے سیارے اس محور پر گھومتے ہیں جو تھوڑا سا جھکا ہوا ہے –

    40 نوری سال کے فاصلے پر15کروڑ سال قبل وجود میں آنیوالا نیا سیارہ دریافت

    زمین کا جھکاؤ 23.4 ڈگری ہے۔ دوسری طرف، یورینس، بنیادی طور پر اس کے کنارے پر ہے، 98 ڈگری کے زاویہ پر گھومتا ہے۔ اس کے نتیجے میں، اس کے ایک حصے پر طویل موسموں تک مسلسل سورج کی روشنی پڑتی ہے، جب کہ دوسرے کو گہری خلا کی تاریکی کا سامنا ہے۔

  • ناسا نے فضائی آلودگی کا جائزہ لینے والا سیٹلائٹ لانچ کر دیا

    ناسا نے فضائی آلودگی کا جائزہ لینے والا سیٹلائٹ لانچ کر دیا

    کیلیفورنیا: گزشتہ برسوں میں ناسا نے ارضی و فضائی آلودگی پر نظر رکھنے کے لیے کئی سیٹلائٹ بنائے اور مدار میں بھیجے ہیں جبکہ اب ٹیمپو نامی ایک نیا سیٹلائٹ شمالی امریکا پر نظر رکھے گا۔

    باغی ٹی وی: ’ٹروپوسفیرک ایمیشن مانیٹرنگ آف پلیوشن انسٹرومنٹ‘ یا ٹیمپو ایک ملک کے دوسرے ملک یا پھر ایک علاقے کے دوسرے علاقے میں بدلتی ہوئی فضا کا باہمی موازنہ کرے گااس کے سینسر بنیادی طورپرتین خوفناک گیسوں یا اجزا کا جائزہ لےگا جن میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ، فورملڈیہائڈ اور زمین کے قریب اوزون کی سطح جیسے اہم عوامل ہے اسموگ میں اوزون کی بڑھی ہوئی مقدار پائی جاتی ہے۔

    خلا میں موجود شہابیہ ہر سمت میں پتھر اور چٹانیں پھینک رہا ہے،ماہرین فلکیات

    ناسا کے ماہر جان ہائنز نے بتایا کہ ان علاقوں میں تیل کے کارخانے ہیں جہاں فضائی آلودگی بہت زیادہ ہے۔ تاہم ہرجگہ زمینی سینسر اور مانیٹر موجود نہیں اور اسی ضرورت کے تحت ٹیمپو لانچ کیا گیا ہے۔

    ٹیمپو سیٹلائٹ، ارضِ ساکن (جیواسٹیشنری) مدار میں رہتے ہوئے ایک ہی جگہ پر گویا معلق رہے گا اور یوں وہ ایک جگہ پر آلودگی ریکارڈ کے گا تاہم ٹیپمو کا ڈیٹا عوام تک پہنچنے میں کچھ ماہ لگ سکتے ہیں کیونکہ مئی یا جون میں یہ اپنے تمام آلات کھول کر کام شروع کرے گا۔

    پینٹاگون نے حساس دستاویزات کا افشا ہونا قومی سلامتی کیلئےانتہائی سنگین خطرہ قرار دے دیا