Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • واٹس ایپ میں ایک نیا فیچر متعارف

    واٹس ایپ میں ایک نیا فیچر متعارف

    سان فرانسسکو: واٹس ایپ میں ایک نیا فیچر متعارف کرایا گیا ہے، یہ نیا فیچر آنے والے ہفتوں میں تمام صارفین کو دستیاب ہوگا۔

    باغی ٹی وی: میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نےاس فیچرکا اعلان کیا واٹس ایپ میں ڈس اپیئرنگ میسج فیچر کو 2020 میں متعارف کرایا گیا تھا جس میں ٹیکسٹ میسج مخصوص وقت (24 گھنٹے، 7 دن اور 90 دن) کے بعد غائب ہوجاتا ہے،اب اس فیچر کو کچھ بدلا گیا ہے-

    اسنیپ چیٹ نے بھی اے آئی ٹیکنالوجی ٹول کو ایپ کا حصہ بنا …

    کمپنی کی جانب سے ایک بلاگ پوسٹ میں بتایا گیا کہ واٹس ایپ نے اس نئے فیچر کو سینڈر سب پاور کا نام دیا ہے اور یہ ایسا فیچر ہے جو بھیجنے اور موصول کرنے والے صارف کی مرضی پر ہی کام کرے گا یعنی جب تک ڈس اپیئرنگ میسج بھیجنے والے صارف کی مرضی نہیں ہوگی اس وقت تک آپ اس میسج کو محفوظ نہیں کر سکیں گےاس نئے فیچر سے میسج بھیجنے والے کو اس وقت ‘ویٹو’ پاور مل جائے گی جب موصول کرنے والا میسج کو محفوظ کرنے کی کوشش کرے گا۔

    واٹس ایپ میں انیمیٹڈ ایموجیز کا فیچر متعارف

    اس فیچر کو استعمال کرنا بہت آسان ہےاگر آپ کو کوئی فرد ڈس اپیئرنگ میسج بھیجتا ہے تو آپ اس میسج کو کچھ دیر تک دبا کر رکھیں ایسا کرنے کے بعد اوپر ریپلائی، ڈیلیٹ، فارورڈ آئیکون کے ساتھ بک مارک کا آپشن بھی نظر آئے گا، اس پر کلک کردیں ایسا کرنے پر اس میسج کو بھیجنے والے صارف کو آگاہ کیا جائے گا کہ آپ اس میسج کو محفوظ کرناچاہتے ہیںاگر وہ اس کی اجازت دیتا ہے تو اس مخصوص میسج پر بک مارک آئیکون بن جائے گا البتہ اگر میسج بھیجنے والا اجازت نہیں ہوتا تو وہ میسج طے شدہ وقت کے بعد ڈیلیٹ ہو جائے گا۔

    گوگل نے اے آئی ٹیکنالوجی پر کام شروع کر دیا

    دوسری جانب سوشل میڈیا ایپلی کیشن واٹس یپ کو برطانیہ میں متعارف کرائے جانے والے نئے آن لائن سیفٹی بل پر عملدرآمد کرنے سے انکار کرنے پر پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہےاس بل کے تحت ٹیکنالوجی کمپنیوں پر ان کے سوشل نیٹورکنگ پلیٹ فارم پر غیر قانونی مواد ڈھونڈ کر ختم کرنے کی ذمہ داری ہوگی۔ لیکن اس کے نتیجے میں ’اینڈ-ٹو-اینڈ اِنکرپشن‘ کے فیچر کا غیر مؤثر ہونا ہوسکتا ہے۔ یہ ایک ایسا سیکیورٹی فیچر ہے جو اس بات کی یقین دہانی کراتا ہے کہ پیغامات صرف پیغام بھیجنے والا اور اس کو موصول کرنے والا ہی پڑھ سکتا ہے۔

    ایلون مسک کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس کمپنی بنانے کا اعلان

    واٹس ایپ، سِگنل، وائبر اور ایلیمنٹ سمیت دیگر میسجنگ سروسز (جو اس فیچر کو استعمال کرتی ہیں) نے اس بل کو ایوانِ بالا میں پیش کیے جانے سے قبل اس کے خلاف ایک کھلے خط پر دستخط کیے ہیں مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ برطانوی حکومت فی الحال ایک نئی قانون سازی کے متعلق سوچ رہی ہے جو ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اینڈ-ٹو-اینڈ اِنکرپشن کا حصار توڑنے پر مجبور کرے گی۔ یہ قانون ایک غیر منتخب شدہ آفیشل کو دنیا بھر کے اربوں انسانوں کی پرائیویسی کو کمزور کر سکتا ہے۔

    35 ہزار سال قبل مصری باشندہ کیسا دکھتا تھا ماہرین نے ڈیجیٹل امیج تیار کر …

    خط میں کہا گیا کہ ہم نہیں سمجھتے کہ کوئی کمپنی، حکومت یا شخص کے پاس اتنی طاقت نہین ہونی چاہیئے کہ وہ کسی کے نجی پیغامات پڑھیں اور ہم اِنکرپشن ٹیکنالوجی کا دفاع کرتے رہیں گےتاہم، برطانوی حکومت اس بات پر مصر ہے کہ تجویز کردہ بِل اینڈ-ٹو-اینڈ اِنکرپشن پر پابندی نہیں لگاتا۔ مزید یہ کہ ہم بیک وقت پرائیویسی اور بچوں کی حفاظت کر سکتے ہیں-

    غار میں تنہا 500 دن گزارنے والی خاتون

  • ناسا نے خلا سے زمین کی دلکش ویڈیو شئیر کر دی

    ناسا نے خلا سے زمین کی دلکش ویڈیو شئیر کر دی

    ناسا نے خلا سے زمین کی بلکل ہی مختلف زاویوں سے بنائی ہوئی ایک ویڈیو جاری کر دی۔

    ناسا:ناسا کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں دکھائے گئے مناظر بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے زمین سے 490 کلومیٹر دور 90 منٹ کے دورانیے میں زمین کے گرد اپنا چکر مکمل کرتے ہوئے مارچ 2022 سے مارچ 2023 کے درمیان محفوظ کیے گئے تھے۔

    سلمان خان کی فلم ’کسی کا بھائی کسی کی جان‘ آن لائن لیک ہوگئی

    ناسا نے انسٹاگرام پر پوسٹ کی ہوئی ویڈیو کے کیپشن میں لکھا کہ زمین کو اپنے سامنے سے گذرتے ہوئے دیکھنے کا تجربہ، ایسے لوگ جنہیں زمین کے مدار سے خلا میں مختلف زاویوں سے اسے دیکھنے کا نایاب موقع میسر ہوتا ہے ان کا کہنا ہے کہ خلا میں 250 میل کی دوری سے نیلے کنچے (ماربل) جیسا یہ گولا بے انتہا خوبصورت، انتہائی دلفریب اور متاثرکن نظر آتا ہے۔

    یہ دیکھنے کا آپ کا موقع ہے کہ آیا آپ اتفاق کرتے ہیں: یہ انتہائی ہائی ڈیفینیشن ویڈیو مناظر، جو مارچ 2022 اور مارچ 2023 کے درمیان بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی مہمات 67 اور 68 کے دوران کیپچر کیے گئے تھے، آپ اپنے آپ کو ایک اسٹیشن کے عملے کے رکن کے طور پر تصور کریں جس میں ڈیوٹی سے ایک گھنٹے کی چھٹی ہے اور کچھ بھی نہیں-

    جنگ عظیم دوم میں غرق ہونیوالے جاپانی بحری جہاز کا ملبہ 81 سال بعد مل …

    ناسا کی جانب سے پوسٹ کیے جانے کے بعد صارفین کی جانب سے ویڈیو کو 80 لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھا گیا ہے جبکہ اس پر 4۔7 لائکس اور 2000 سے زائد مرتبہ کمنٹ کیا گیا ہے۔

    اس سے چند روز قبل ناسا نے جیمز ویب ٹیلی اسکوپ سے کھینچی ہوئی اے آر پی 220 نامی کہکشاں کی ایک تصویر بھی شیئر کی تھی جس کی چمک کھربوں سورجوں کی روشنی سے زیادہ لگ رہی تھی۔

    اسپیس ایکس کا سب سے طاقتور راکٹ تجرباتی پرواز کے دوران ہی تباہ

  • اسنیپ چیٹ نے بھی  اے آئی ٹیکنالوجی ٹول  کو ایپ کا حصہ بنا دیا

    اسنیپ چیٹ نے بھی اے آئی ٹیکنالوجی ٹول کو ایپ کا حصہ بنا دیا

    اسنیپ چیٹ نے چیٹ جی پی ٹی پر مبنی آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی ٹول کو ایپ کا حصہ بنا دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : مائی اے آئی نامی چیٹ بوٹ کچھ عرصے پہلے اسنیپ چیٹ پلس میں متعارف کرایا گیا تھا جو ماہانہ فیس ادا کرنے والوں کے لیے دستیاب سروس ہے اسنیپ چیٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایوان اسپیگل کے مطابق مگر آئندہ چند ہفتوں کے اندر یہ نیا ٹول اسنیپ چیٹ کے تمام صارفین کو دستیاب ہوگا۔

    واٹس ایپ صارفین کیلئے ایک اور شاندار فیچر متعارف

    یہ اعلان سنیپ کے سالانہ پارٹنر سمٹ میں سامنے آیا۔ کمپنی کا مقصد اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرنا ہے تاکہ اس کی بڑھتی ہوئی حقیقت (AR) خصوصیات یا حقیقی دنیا کی تصاویر اور ویڈیوز کے اوپر چھپی کمپیوٹرائزڈ تصاویر کی ترقی کو تیز کیا جا سکے۔

    کمپنی نے بدھ کو کہا کہ مائی اے آئی اب تمام اسنیپ چیٹ صارفین کے لیے مفت دستیاب ہے اوراسنیپ چیٹ پر دوستوں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں سوالات کے جوابات دینے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ چیٹ بوٹ سب سے پہلے ان صارفین کے لیے متعارف کرایا گیا جو کمپنی کی پریمیم سبسکرپشن کے لیے ماہانہ $3.99 ادا کرتے ہیں۔

    اسنیپ کے چیف ایگزیکٹیو ایون اسپیگل نے کہا کہ مائی اے آئی صارفین کو لینز کی تجویز دے کر اسنیپ چیٹ ایپ کے مزید حصوں کو دریافت کرنے میں مدد کر سکتی ہے، جو تصاویر اور ویڈیوز میں اثرات ڈال سکتے ہیں، یا ایپ کے نقشے کی خصوصیت کا استعمال کر کے حقیقی دنیا کے مقامات کی سفارش کر سکتے ہیں۔

    واٹس ایپ میں انیمیٹڈ ایموجیز کا فیچر متعارف

    انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب ہم AI کو مواصلات میں لا رہے ہیں، جو ہماری سروس کا بنیادی مرکز ہے۔ "لوگ واقعی My AI کو تخلیقی ٹول کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔”

    اسنیپ نے کہا کہ My AI کی اپنی AI سے تیار کردہ تصاویر کے ساتھ صارفین کو جواب دینے کی صلاحیت سب سے پہلے Snapchat+ پر دستیاب ہوگی، جس کے 3 ملین سبسکرائبرز تک پہنچ چکے ہیں۔

    جیسا کہ AI چیٹ بوٹس میں اضافہ ہوا ہے، لہذا اس بارے میں خدشات ہیں کہ آیا AI شائع شدہ کاموں کو چوری کر سکتا ہے، غلط معلومات فراہم کر سکتا ہے یا سوالات کے نقصان دہ جوابات واپس کر سکتا ہے۔

    اسنیپ نے کہا کہ اس نے My AI میں نئے سیفٹی گارڈ ریل شامل کیے ہیں، جس میں چیٹ بوٹ تک صارف کی رسائی کو عارضی طور پر محدود کرنا بھی شامل ہے اگر وہ بار بار نامناسب یا نقصان دہ سوالات پوچھتے ہیں۔

    گوگل نے اے آئی ٹیکنالوجی پر کام شروع کر دیا

    اسپیگل نے کہا کہ اسنیپ مائی اے آئی کے ساتھ ہونے والی گفتگو کا تجزیہ کرتا ہے اور اس نے پایا ہے کہ چیٹ بوٹ کے 99.5 فیصد جوابات اسنیپ چیٹ کی کمیونٹی گائیڈ لائنز پر عمل پیرا ہیں۔

    اس سے قبل مائیکرو سافٹ، گوگل اور دیگر متعدد کمپنیاں بھی اے آئی ٹیکنالوجی کو اپنی سروسز کا حصہ بنا چکی ہیں،یہ نیا اے آئی ٹول اسنیپ چیٹ بنیادی طور پر باتیں کرنے والا ساتھی ہے جو صارفین کو اے آر لینسز تجویز کرے گا اور مختلف تصاویر پر ردعمل ظاہر کرے گا۔

    یہ ٹول ایک بٹ موجی اواتار کی شکل میں صارفین کو نظر آئے گا اور کسی انسان کی طرح بات چیت کرے گا مائی اے آئی اسنیپ چیٹ کے میپ فیچر کے مقامات کے لیے بھی تجاویز فراہم کرے گااسنیپ چیٹ کی جانب سے پہلا جنریٹیو اے آئی فلٹر بھی متعارف کرایا ہے جسے کاسمک لینس کا نام دیا گیا ہے۔

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے یورینس کے چھلوں کی تفصیلی تصویر جاری کردی

  • واٹس ایپ میں انیمیٹڈ ایموجیز کا فیچر متعارف

    واٹس ایپ میں انیمیٹڈ ایموجیز کا فیچر متعارف

    میٹا کی زیرملکیت میسجنگ ایپ واٹس ایپ میں انیمیٹڈ ایموجیز کا فیچر متعارف کرایا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: یوں تو ایموجیز، GIFs، اسٹیکرز اور ری ایکشنز جیسے فیچرز کافی عرصے سے موجود ہیں واٹس ایپ میں نئے ایموجیز کا اضافہ ہوتا رہتا ہے بلکہ صارفین اپنے ایموجی اسٹیکرز خود بھی تیار کر سکتے ہیں مگر اب کمہنی نے انیمیٹڈ ایموجیز کا فیچر متعارف کرایا گیا ہے-

    واٹس ایپ کی اپ ڈیٹس پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ویب بیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق یہ فیچر ڈیسک ٹاپ کے بیٹا ورژن میں متعارف کرایا گیا ہےان انیمیٹڈ ایموجیز کی تیاری کے لیے Lottie نامی فائل فارمیٹ کو استعمال کیا گیا ہے جو موبائل ڈیوائسز کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے۔

    اس فائل فارمیٹ سے سستے فونز میں بھی اس فیچر کو استعمال کرنا ممکن ہو سکے گایہ فیچر ابھی بیٹا ورژن میں موجود ہے تو ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ عام صارفین کے لیے اسے کب تک متعارف کرایا جا سکتا ہے ڈیسک ٹاپ سے ہٹ کر فونز پر کب تک اس کی دستیابی ممکن ہوگی۔

  • گوگل نے اے آئی ٹیکنالوجی پر کام شروع کر دیا

    گوگل نے اے آئی ٹیکنالوجی پر کام شروع کر دیا

    دنیا کے مقبول ترین سرچ انجن گوگل کی جانب سے اے آئی ٹیکنالوجی پر مبنی سرچ انجن پر کام کیا جا رہا ہے جس کا کوڈ نام ماگی رکھا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ماگی سرچ انجن میں صارفین کو زیادہ بہتر سروس فراہم کی جائے گی،یہ منصوبہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، مگر اس کے ٹولز آئندہ ماہ عوام کے لیے متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔

    ایلون مسک کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس کمپنی بنانے کا اعلان

    گوگل کے ایک ترجمان نے کہا کہ ضروری نہیں کہ ہر پراڈکٹ کو متعارف کرایا جائے، مگر ہم اے آئی پر مبی فیچرز سرچ کا حصہ بنانے کے لیے پرجوش ہیں اور بہت جلد مزید تفصیلات شیئر کی جائیں گیاے آئی کو برسوں سے گوگل سرچ کا حصہ بنایا جا رہا ہے جبکہ لینس اور ملٹی سرچ جیسی سروسز کو اس ٹیکنالوجی سے بہتر بنایا گیا –

    رپورٹ کے مطابق سام سنگ کی جانب سے اپنے فونز میں کروم کی بجائے مائیکرو سافٹ بنگ کو ڈیفالٹ سرچ انجن بنایا جا رہا ہے،کروم کی جگہ بنگ کو دینے کی رپورٹ پر گوگل کے حصص میں 4 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔

    اسپین میں روبوٹ نے پھیپھڑوں کا کامیاب ٹرانسپلانٹ کر لیا

    واضح رہے کہ مائیکرو سافٹ کے سرچ انجن بنگ میں چیٹ جی پی ٹی کے اضافے کے بعد گوگل نے فروری 2023 میں اپنے چیٹ بوٹ بارڈ کو متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا بارڈ چیٹ بوٹ گوگل کے لینگوئج ماڈل فار ڈائیلاگ ایپلیکیشنز (ایل اے ایم ڈی اے) پر مبنی ہے تاہم ابھی تک اسے گوگل سرچ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

    30 ہزار سال سے برف میں محفوظ پراسرار کھال کی گیند گلہری نکلی

  • ایلون مسک کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس کمپنی بنانے کا اعلان

    ایلون مسک کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس کمپنی بنانے کا اعلان

    نیویارک: ٹیسلا کمپنی کے بانی اور ٹوئٹر کے مالک ایلون مسک نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کمپنی بنانے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی: امریکی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں ایلون مسک نے کہا کہ وہ چیٹ جی پی ٹی کے مقابلے میں اپنا اے آئی چیٹ بوٹ "ٹروتھ جی پی ٹی” متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جو سچ کی تلاش کرنے والا چیٹ بوٹ ہوگا۔

    لانچ سے چند منٹ قبل انسانی تاریخ کے سب سےطاقتورراکٹ کی پروازملتوی

    ایلون مسک کے مطابق یہ ایسا چیٹ بوٹ ہوگا جو کائنات کی فطرت اور انسانیت کو سمجھ سکے گا، اس طرح وہ انسانوں کی تباہی کا باعث نہیں بنے گا انہوں نے اے آئی ٹیکنالوجی کو گاڑیوں یا راکٹ سے زیادہ خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی انسانیت کو تباہ کر سکتی ہے چیٹ جی پی ٹی متعصب ہے جس کے مقابلے پر وہ اپنا چیٹ بوٹ لا رہے ہیں۔

    دریں اثناء اطلاعات تھیں کہ ایلون مسک کسی بھی وقت آرٹیفیشل انٹیلی جنس ایجنسی بنانے کا اعلان کر سکتے ہیں تاکہ چیٹ جی پی ٹی تیار کرنے والی کمپنی اوپن اے آئی کا مقابلہ کیا جاسکے جبکہ انہوں نے اس حوالے سے 2 افراد کو ملازمت پر بھی رکھ لیا ہے کمپنی کے بارے میں تفصیلات کو خفیہ رکھا جا رہا ہے –

    اسپین میں روبوٹ نے پھیپھڑوں کا کامیاب ٹرانسپلانٹ کر لیا

    اس مقصد کے لیے ایلون مسک نے مارچ میں ایک کمپنی X.AI کو ریاست نویڈا میں رجسٹر بھی کرایا جس کے وہ اکیلے ڈائریکٹر ہیں ایلون مسک ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سرمایہ کاروں کے ساتھ اپنے اس نئے منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے بات چیت بھی کر رہے ہیں۔

    خیال رہے کہ چیٹ جی پی ٹی کو دنیا بھر میں بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی ہے اور اسے متعدد ایپس کا حصہ بنایا جارہا ہے جبکہ مائیکرو سافٹ نے اپنے بنگ سرچ انجن اور دیگر پراڈکٹس کو بھی اس ٹیکنالوجی سے لیس کیا ہے چیٹ جی پی ٹی 4 کو مارچ میں متعارف کرایا گیا جو اب تک کا سب سے جدید ترین اے آئی سسٹم قرار دیا جا رہا ہے۔

    30 ہزار سال سے برف میں محفوظ پراسرار کھال کی گیند گلہری نکلی

  • اسپین میں روبوٹ نے پھیپھڑوں کا کامیاب ٹرانسپلانٹ کر لیا

    اسپین میں روبوٹ نے پھیپھڑوں کا کامیاب ٹرانسپلانٹ کر لیا

    اسپین میں روبوٹ نے پھیپھڑوں کا کامیاب ٹرانسپلانٹ کر لیا۔

    باغی ٹی وی: "روئٹرز” کے مطابق روبوٹ کی جانب سے پھیپھڑوں کے کامیاب ٹرانسپلانٹ کے بعد اب ٹرانسپلانٹ کے لیے سینہ کھولنے اور پسلیوں کو الگ کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔

    ایرانی صدر کی سعودی فرمانروا کو ایران کے دورے کی دعوت

    رپورٹس کے مطابق بارسلونا کے وال ڈی ہیبرون ہسپتال کے سرجنوں نے 4 بازو والے "Da Vinci” نامی روبوٹ کا استعمال کرتے ہوئے مریض کی جلد، چربی اور پٹھوں کے ایک چھوٹے سے حصے کو کاٹ کر تباہ شدہ پھیپھڑوں کو ہٹایاروبوٹ نے مریض کے سینے پر صرف 8سینٹی میٹر کا چیرا لگایا، پہلے اس ٹرانسپلانٹ کے لیے 30سینٹی میٹر کا چیرا لگایا جاتا تھا۔

    اگرچہ کچھ ہسپتال پہلے ہی پھیپھڑوں کی پیوند کاری کے لیے چھوٹے چیرا استعمال کر رہے ہیں، یہ پہلا موقع تھا جب سرجن چیرا کو نرم بافتوں تک محدود رکھنے میں کامیاب ہوئے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ یہ نیا طریقہ علاج روایتی طریقے سے نہ صرف زیادہ محفوظ ہے بلکہ اس سے مریض کو تکلیف کم اور زخم آسانی سے بھر جاتا ہے۔

    ڈی ہیبرون ہسپتال کے ڈاکٹرزکا کہنا ہےکہ ہمیں یقین ہے کہ یہ ایک ایسی تکنیک ہےجو مریضوں کےمعیار زندگی کو بہتر بنائےگی، سرجری کے بعد کی مدت اوردرد کو کم کرے گی البرٹ جوریگوئی، تھوراسک سرجری اورپھیپھڑوں کے ٹرانسپلانٹس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ یہ تکنیک بالآخر مزید ہسپتالوں میں بھی استعمال کی جائے پھیپھڑوں کے ٹرانسپلانٹ کے لیے اس عضو کو آپریٹنگ تھیٹر میں "ڈیفلیٹ” کیا گیا تھا تاکہ یہ سخت چیرا کے ذریعے داخل ہو سکے-

    30 ہزار سال سے برف میں محفوظ پراسرار کھال کی گیند گلہری نکلی

    جوریگوئی نے کہا کہ یہ جسم کا ایک حصہ ہے جس کی جلد بہت لچکدار ہونے کا فائدہ ہے، جو کسی ایک پسلی کو چھوئے بغیر کھلنے کو چوڑا کرنے کی گنجائش فراہم کرتی ہےتاہم، روبوٹ کے بازوؤں اور 3D کیمروں کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے پسلی کے پنجرے کے پہلو میں چھوٹے کٹ بھی کیے گئے تھے وقت کے ساتھ اس تکنیک کا اطلاق دو پھیپھڑوں پر مشتمل ٹرانسپلانٹ پر کیا جا سکتا ہے، جس کےلیے ایک ہی معمولی چیرا کافی ہوگا۔

    ابتدائی طریقہ کار، جو اب تک صرف پھیپھڑوں کے کینسر کے علاج کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے، ایک 65 سالہ شخص زیویئر پر انجام دیا گیا جسے پلمونری فائبروسس کی وجہ سے پھیپھڑوں کی پیوند کاری کی ضرورت تھی زیویئر نے کہا کہ اسے نئی تکنیک سے فائدہ ہوا میں ہوش میں آیا اور جنرل اینستھیزیا سے بیدار ہوا، مجھے درد نہیں تھا۔

    چیرا چھوٹا ہونے کی وجہ سے، مریض نے آپریشن کے بعد صرف پیراسیٹامول لیا۔ روایتی پھیپھڑوں کے ٹرانسپلانٹس میں عام طور پر اوپیئڈ درد کش ادویات کے ساتھ سرجری کے بعد کے علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔

    تیونس نے آئی ایم ایف کے قرضوں کو مسترد کر دیا، برکس میں شامل ہونے …

  • 30 ہزار سال سے برف میں محفوظ پراسرار کھال کی گیند گلہری نکلی

    30 ہزار سال سے برف میں محفوظ پراسرار کھال کی گیند گلہری نکلی

    شمالی کینیڈا میں منجمد کھال کے ایک پراسرار گیند کی شناخت 30,000 سال پرانی ممی شدہ گلہری کے طور پر ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : شمالی کینیڈا میں منجمد کھال کےایک پراسرار گیند ملی مگر ایکسرے اسکینزسےجو انکشاف ہوا اس نے سائنسدانوں کو حیران کر دیا کیونکہ گریپ فروٹ سائز کی یہ گیند درحقیقت برفانی عہد کی ایک گلہری ہےجو 30 ہزار برسوں سےحنوط شدہ شکل میں محفوظ تھی۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ برفانی دور کی مخلوق اپنی موت کے وقت ہائبرنیٹ کر رہی ہو گی کیونکہ اسے ایک گیند کی شکل میں پایا گیا اسے 2018 میں یوکون کے علاقے میں کان کنوں نے الاسکا کی سرحد کے قریب ایک سابقہ ​​گولڈرش چوکی کے قریب پایا تھا۔

    یوکون حکومت کے ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ گیند ناقابل شناخت ہے مگرجب آپ ننھے ہاتھ، پنجے اور کان دیکھتے ہیں تو حیران رہ جاتے ہیں لیکن جب آپ کسی ایسے جانور کو دیکھتے ہیں جو بالکل محفوظ ہے، وہ 30,000 سال پرانا ہے، اور آپ اس کا چہرہ، اس کی جلد، اس کے بال اور یہ سب کچھ دیکھ سکتے ہیں، تو یہ بالکل دلچسپ ہے۔

    اسی کو دیکھتے ہوئے جانوروں کی ایک ڈاکٹر Jess Heath نے مزید تحقیق کا فیصلہ کیا اورانہوں نے ایکسرے اسکینز کیے ان اسکینز سے انکشاف ہوا کہ بالوں سےبھری یہ منجمد گیند ایک جوان گلہری ہےجوآرکٹک کےمیدانوں میں پائی جاتی ہے اورممکنہ طور پرنیند کے دوران مر گئی تھی Jess Heath نے بتایا کہ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ گلہری کا جسم اچھی حالت میں ہے اور ایسا لگتا ہے کہ وہ سو رہی ہے یہ واقعی متاثر کن ہے کہ کسی نے اسے شناخت کیا، ورنہ باہر سے دیکھنے پر تو یہ گلہری ایک بھوری چٹان نظر آتی ہے۔

    یہ نمونہ اب کینیڈا کے وائٹ ہارس میں یوکون بیرنگیا انٹرپریٹیو سینٹر میں عوامی نمائش کے لیے جائے گامحققین نے ممی شدہ آرکٹک زمینی گلہری کا نام ‘ہیسٹر’ رکھا ہے کیونکہ یہ کینیڈا کے ہیسٹر کریک کے قریب کلونڈائک سونے کے کھیتوں میں، ڈاسن شہر کے قریب پائی گئی تھی۔

    سونے کی جس کان سے اس گلہری کو دریافت کیا گیا، اس خطے میں ہزاروں برسوں سےبرف جمی ہوئی ہےاور وہاں صدیوں سے جانداروں کے جسم، بال اور ناخن محفوظ ہیں جن میں دیوہیکل بیور، ایک بچہ میمتھ اور بھیڑیے کا بچہ شامل ہیں۔

    ‘یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ یہ چھوٹا جانور کئی ہزار سال پہلے یوکون کے ارد گرد بھاگ رہا تھا،’ یوکون حکومت نے گزشتہ ماہ گلہری کے بارے میں ایک فیس بک پوسٹ میں لکھا تھا کلونڈائک کے کھیتوں کو برفانی دور کے فوسلز سے بھرا ہوا جانا جاتا ہے درحقیقت، پچھلے سال ہی ایک کان کن کو 30,000 سال پرانا بچہ اونی میمتھ ملا۔

    یوکون حکومت نے کہا کہ یہ ‘شمالی امریکہ میں پایا جانے والا سب سے مکمل ممیفائیڈ میمتھ ہے’، اور دنیا میں اس طرح کی صرف دوسری دریافت ہے بچھڑا، جس کا نام ‘نون چو گا’ ہے، جس کا مطلب ہان زبان میں ‘بڑا بچہ جانور’ ہے، پرما فراسٹ میں جما ہوا تھا، جس کے نتیجے میں اس کی باقیات ممی ہو گئیں۔

    ماہرین کے مطابق عالمی درجہ حرارت میں اضافے سے ہزاروں برسوں سے برف میں محفوظ جانداروں کی دریافت زیادہ عام ہو جائے گی۔

  • 35 ہزار سال قبل مصری باشندہ کیسا دکھتا تھا ماہرین نے ڈیجیٹل امیج تیار کر لیا

    35 ہزار سال قبل مصری باشندہ کیسا دکھتا تھا ماہرین نے ڈیجیٹل امیج تیار کر لیا

    برازیل کے ماہرین نے ڈیجیٹل امیجنگ کا استعمال کرتے ہوئے 35 ہزار سال قبل رہنے والے مصری شخص کے چہرے کی ہوبہو نقل بنائی ہے۔

    باغی ٹی وی : ماہر آثار قدیمہ موئسر الیاس سینٹوس اور3D ڈیزائنر سسیرو موریاس نے ڈیجیٹل امیج کو بنانے کے لیے مصر میں آثار قدیمہ کے مقام پر پائے جانےوالےایک آدمی کےکنکال کی باقیات کا استعمال کیا،یہ تصویر نزلیٹ کھیٹر 2 کی کھوپڑی کا تفصیلی تخمینہ پیش کرتی ہے جو 35,000 سال پرانا فوسل ہے جو 1980 میں مصر کی وادی نیل میں دریافت ہوا تھا۔

    غار میں تنہا 500 دن گزارنے والی خاتون

    بشریات کے تجزیے نے کنکال کی باقیات کو افریقی نسل کے آدمی کے طور پر شناخت کیا ہے جس کی عمر موت کے وقت 17 سے 29 سال کے درمیان تھی۔ تجزیہ بتاتا ہے کہ وہ تقریباً پانچ فٹ اور تین انچ لمبا تھا۔

    ٹیم نے چہرے کی نئی تعمیری تکنیک کا استعمال کیا جو آثار قدیمہ کے ماہرین کو کنکال کی باقیات کے چہرے کی خصوصیات کو صحیح طریقے سے اجاگر کرنے میں مدد دیتا ہے۔

    سعودی عرب میں نبطی دور کی حنوط شدہ خاتون کا چہرہ بحال

    برازیل کے پونٹا گروسا میں سیرو فلیمارین کارڈوسو آرکیالوجی میوزیم کے ماہر آثار قدیمہ موئسر سانٹوس نے سی این این کو بتایا کہ چند سال پہلے، ہم پہلے ہی انسانی ارتقاء سے متعلق تخمینے کی ایک سیریز پر کام کر رہے تھے، جن میں سب سے مشہور فوسل نقلیں تھیں۔ انہیں تصاویر میں تبدیل کیا گیا اور کھوپڑی کی فوٹوگرامیٹری کی وضاحت کے لیے استعمال کیا گیا، جس نے مطالعہ کو شکل دی۔

    فوٹوگرامیٹری تصویروں سے 3D معلومات نکالنے کا عمل ہے، جو سانٹوس اور موریس نے قاہرہ کے نیشنل میوزیم آف مصری تہذیب میں انسان کے کنکال کی باقیات کو دیکھنے کے بعد کیا اس عمل کو ماہرین نے اس بات کا تعین کرنے کے لیے استعمال کیا ہے کہ انسانوں نے صدیوں میں کس طرح ترقی کی ہے۔

    مصر میں 3673 برس قبل کاٹے گئے انسانی ہاتھ برآمد

  • غار میں تنہا 500 دن گزارنے والی خاتون

    غار میں تنہا 500 دن گزارنے والی خاتون

    انسانی دماغ اور رویو ں پر تنہائی اور اندھیرے کے اثرات پر تجربات کیلئے 50 سالہ ہسپانوی خاتون نے غار میں تنہا 500 دن گزارے-

    باغی ٹی وی : 20 نومبر 2021 کو غار میں داخل ہوتے وقت اسپین کی کوہ پیما خاتون بیٹرز فلامینی کی عمر 48 سال تھی اسپین کے شہر Motril کے قریب Los Gauchos میں گئیں جبکہ غار سے نکلتے وقت ان کی عمر 50 سال ہو چکی تھی اور انہوں نے اپنی دو سالگراہیں انتہائی گہرے اور اندھیرے غار میں اکیلے گذاری تھیں۔

    مصر میں 3673 برس قبل کاٹے گئے انسانی ہاتھ برآمد

    بیٹرز فلامینی کی سپورٹ ٹیم کا کہنا تھا کہ فلامینی نے تنہا غار میں 500 دن گزار کر عالمی ریکارڈ قائم کر لیا ہے، اس پورے عرصے کے دوران انتہائی قلیل دورانیے کیلئے وہ غار سے باہر آئیں تھیں لیکن اس دوران بھی انہیں ایک الگ خیمے میں رکھا گیا تھا۔
    https://twitter.com/dw_urdu/status/1647309563874492417?s=20
    ٹیم کا کہنا تھا کہ فلامینی کو انسانی دماغ اور سرکیڈین ردھم (Circadian rhythm*) سے متعلق تجربات کیلئے غار میں رکھا گیا تھا اور ماہرین نے غار میں رکنے کے دوران ان کی جسم اور دماغ میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا تجربات کیلئے گہرے اندھیرے غار میں 500 دن تک فلامینی خود کو مصروف رکھنے کیلئے ورزش، مطالعے اور اونی ٹوپیاں بُننے جیسی مختلف مشقیں کیا کرتی تھیں۔

    تیزرفتار بلیک ہول دریافت، زمین سے چاند تک کا مفاصلہ محض 14 منٹ میں طے …

    غار میں گذارے ہوئے وقت اور اپنے مشاہدات کو دستاویزی صورت دینے کیلئے انہیں دو گوپرو کیمرے دیئے گئے تھے، جبکہ 60 کتابیں اور 1000 لیٹر پانی بھی فراہم کیا گیا تھا۔

    بیٹرز فلامینی نے غار سے نکلنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ غار کافی محفوظ جگہیں ہیں، لیکن انسان اور دماغ کے لیے بہت مخالف ہیں کیونکہ آپ کو دن کی روشنی نظر نہیں آتی۔ انہیں پتہ ہی نہیں لگا کہ وقت کیسے گذر گیا، ایسا نہیں ہے کہ وقت زیادہ تیزی سے گزرتا ہے یا زیادہ آہستہ، بس یہ نہیں کہ گزرتا ہے، کیونکہ ایسا محسوس ہوتا ہے جسیے صبح کے 4 بجے کا وقت ہو-

    بیٹرز فلامینی نے کہا کہ ابھی وہ باہر آنا نہیں چاہتی تھیں انہوں نے کہا کہ غار میں جانے کے بعد میں نے وقت کو ٹریک کرنے کا چیلنج پورا کرنے کی کوشش کی لیکن 65 دن گزرنے کے بعد وقت کا ادراک کھو چکی تھی جس کے بعد دن گننا چھوڑ دیا تھا۔

    آخر کچھ گانے ذہن سے چپک کیوں جاتے ہیں اور ان کو نکالنا کیسے ممکن …

    انہوں نے بتایا کہ غار میں گزارے ہوئے وقت کے دوران مشکل دن بھی آئے جب غار پر مکھیوں نے حملہ کردیا تھیں اور کچھ بہت ہی اچھے دن بھی گذرے، جیسے آپ کو معلوم ہوجائے کہ آپ کا خواب کیا ہے یا آپ جان جائیں کہ آپ کیوں رو رہے ہیں اس پورے عرصے کے دوران اپنے حواس کے درمیان ربط بحال رکھنے کی کوشش کرتی تھی، اچھا کھانا اور خاموشی کا مزہ لینا، میں وہاں خود سے بہ آواز بلند بات نہیں کرتی تھی، بلکہ خاموشی کی زبان میں خودکلامی کرتی تھی اور اس سے لگتا تھا جیسے میں خود کے بارے میں ہی بہتر سے بہتر جاننے لگی ہوں۔

    انہوں نے بتایا کہ اس عرصے کے دوران ٹیم کو بتایا گیا تھا کہ انہیں کسی بھی صورتحال میں مجھ سے رابطہ نہیں کرنا، چاہے میرے خاندان میں کسی کی موت ہو جائے، ’نو کمیونیکیشن مطلب نو کمیونیکیشن‘ایسی صورتحال میں اپنے احساسات اور ہوش حواس بحال رکھنا انتہائی اہم تھا، خوفزدہ ہونا بہت فطری عمل تھا لیکن اس خوف کو حواس پر طاری نہیں کرنا تھا کہ وہ پینک اٹیک بن کر آپ کو سن کردے۔

    جعلی مکھیوں سےاصلی مکھیوں کواپنی طرف راغب کرنے والا پھول

    فلیمینی کی نگرانی ماہرین نفسیات، محققین، ماہرینِ سپیلوجسٹ – غاروں کے مطالعہ کے ماہرین – اور جسمانی تربیت کرنے والوں کے ایک گروپ نے کی جو اس کی ہر حرکت کو دیکھتے تھے اور اس کی جسمانی اور ذہنی تندرستی کی نگرانی کرتے تھے، حالانکہ اس نے ان 500 دنوں میں کبھی ٹیم کے ساتھ رابطہ نہیں کیا۔

    ہسپانوی خبر رساں ایجنسی ای ایف ای کے مطابق اس کے تجربے کو گریناڈا اورالمیریا کی یونیورسٹیوں اورمیڈرڈ میں قائم ایک سلیپ کلینک کے سائنسدانوں نے دیکھا وہ سماجی تنہائی اور وقت کے بارے میں لوگوں کے ادراک پر انتہائی عارضی اثرات کا مطالعہ کر رہے تھے، انسانوں کے زیرِ زمین ہونے والی ممکنہ اعصابی اور علمی تبدیلیوں اور نیند پر اثرات کا مطالعہ کر رہے تھے۔

    گنیز بک آف ریکارڈز کی ویب سائٹ نے چلی اور بولیوین کے 33 کان کنوں کو ‘زیر زمین میں پھنسے ہوئے سب سے طویل وقت’ کا ایوارڈ دیا جنہوں نے 2010 میں چلی میں سان ہوزے تانبے کے سونے کی کان کے گرنے کے بعد 69 دن 688 میٹر (2,257 فٹ) زیر زمین گزارے گنیز کے ترجمان نے فوری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آیا غار میں رضاکارانہ وقت گزارنے کا کوئی الگ ریکارڈ تھا اور کیا فلیمینی نے اسے توڑا تھا۔

    پچر پلانٹ کی طرح دو نئے گوشت خور پودے دریافت