Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • 145 ممکنہ جینز کی نشاندہی،جو بچوں کے قد میں اہم کردار ادا کرتے ہیں

    145 ممکنہ جینز کی نشاندہی،جو بچوں کے قد میں اہم کردار ادا کرتے ہیں

    سائنسدانوں نے نے ایسے 145 ممکنہ جینز کی نشاندہی کی ہے جو بچوں کے قد میں کردار ادا کرتی ہیں۔

    باغی ٹی وی: امریکا کی ہارورڈ میڈیکل اسکول اور بوسٹن چلڈرنز ہاسپٹل کی جرنل سیل جینومک میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ بچوں کی ہڈیوں کے آخر میں موجود لچکدار ہڈیاں کے خلیات قد و قامت میں کردار ادا کرتی ہیں۔

    مصر میں 3673 برس قبل کاٹے گئے انسانی ہاتھ برآمد

    تحقیق کے مطابق یہ خلیات کونڈروسائٹ ( chondrocytes) بچوں کی بڑی ہڈیوں کے آخر میں موجود ٹشوز میں ہوتے ہیں اور وہی بچوں اور نوجوانوں کے مستقبل میں قد اور جسمانی ساخت کا تعین کرتے ہیں جب کسی فرد کی جسمانی نشوونما مکمل ہو جاتی ہے تو یہ حصے ‘بند’ ہو جاتے ہیں اور ان کی جگہ سخت ہڈی لے لیتی ہے۔

    محققین کا کہنا ہے کہ ہمارا مقصد انسانی اونچائی کے جینوم وائیڈ ایسوسی ایشن اسٹڈیز (GWASs) کو جینوم وائیڈ ناک آؤٹ (KO) اسکرینوں کے ساتھ گروتھ پلیٹ کونڈروسائٹ کے پھیلاؤ اور وٹرو میں پختگی کے ساتھ جوڑا بنا کر انسانی نشوونما سے متعلقہ جینز اور راستوں کی نشاندہی کرنا ہے۔

    محققین کے مطابق ہم نے 145 جینوں کی نشاندہی کی جو ثقافت میں ابتدائی یا دیرسے وقت کے پوائنٹس پرکونڈروسائٹ کےپھیلاؤ اور پختگی کو تبدیل کرتے ہیں، ثانوی اسکریننگ میں 90 فیصد جینز کی توثیق ہوتی ہے۔ یہ جین مونوجینک گروتھ ڈس آرڈر جینز اور KEGG راستوں میں افزودہ ہوتے ہیں جوجسم کی نشوونما اور اینڈوکونڈرل اوسیفیکیشن کے لیے اہم ہیں۔

    تیزرفتار بلیک ہول دریافت، زمین سے چاند تک کا مفاصلہ محض 14 منٹ میں طے …

    مزید یہ کہ، ان جینز کے قریب عام متغیرات GWASs سےکمپیوٹیشنل طورپرترجیح دیئےگئے جینوں سے آزاد اونچائی کے ورثے کو حاصل کرتے ہیں۔ ہمارا مطالعہ حیاتیاتی طور پر متعلقہ ٹشوز میں فنکشنل اسٹڈیز کی قدر پر زور دیتا ہے جیسا کہ آرتھوگونل ڈیٹاسیٹس GWASs سے ممکنہ وجہ جینوں کو بہتر بناتے ہیں اور کونڈروسیٹ پھیلاؤ اور پختگی کے نئے جینیاتی ریگولیٹرز کو متاثر کرتے ہیں۔

    سائنسدان پہلے سے جانتے تھے کہ یہ خلیات ہڈیوں کی نشوونما اور انسانی قد کے حوالے سے کردار ادا کرتے ہیں مگر اب پہلی بار ان خلیات کو کنٹرول کرنے والے جینز کا تعین کیا گیا ہے محققین نے بتایا کہ انسانی قد سے منسلک مخصوص جینز کی شناخت ایک چیلنجگ کام ہے کیونکہ قد ایک پیچیدہ عمل ہوتا ہے جس پر جینز اورماحولیاتی عناصر دونوں اثر انداز ہوتے ہیں تحقیق میں ان خلیات پر اس لیے توجہ مرکوز کی گئی کیونکہ وہ ہڈیوں کی نشوونما کے لیے مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔

    اس تحقیق میں چوہوں کے کروڑوں خلیات کی جانچ پڑتال کرکے ان جینز کو دریافت کیا جو اس حوالے سے کردار ادا کرتے ہیں انہوں نے کرسپر جینوم ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے ان جینز کو خلیات سے نکال باہر کیا تاکہ معلوم ہوسکے کہ مخصوص خلیات پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    رات کو تھوڑی تاخیر سے کھانا کھانا صحت کیلئےنقصان دہ نہیں،تحقیق

    اس طرح انہوں نے 145 جینز کو دریافت کیا جن کو نکالنے سے جانوروں کے خلیات کی نشوونما غیر معمولی رفتار سے ہونے لگی جو انسانی ڈھانچے ایک ایک مخصوص جینیاتی مرض سے ملتا جلتا عمل تھا اس کے بعد محققین نے چوہوں کے ان جینز کا موازنہ انسانی قد پر ہونے والی تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا سے کیا۔

    محققین نے بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملا کہ مخصوص جینز قد کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتے ہیں انہوں نے ان جینز کو انسانی جینوم میں بھی دریافت کیا اور ان کے مطابق یہ جینز دیگر جینیاتی عناصر سے زیادہ قد پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

    محققین کا کہنا تھا کہ ایسے نئے جینز کی شناخت ہوئی ہے جو ہڈیوں کی نشوونما کے عمل کا حصہ ہوتے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ لچکدار ہڈیاں انسانی قد کے لیےاہم ترین ہوتی ہیں ابھی انسانوں پر اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے اور ہمیں توقع ہےکہ اس سے ڈھانچے سے متعلق امراض کے شکار افراد کی مدد ہو سکے گی۔

    پچر پلانٹ کی طرح دو نئے گوشت خور پودے دریافت

  • یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا

    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا

    برسلز: یورپی خلائی یونین نے اپنا جدید ترین مشن خلا میں روانہ کردیا ہے جو آٹھ سال بعد نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری پر تحقیق کرے گا۔

    باغی ٹی وی :مشن کو جوپیٹر آئسی مون ایکسپلورر(جوس) کا نام دیا گیا ہےجو ایک جدید روبوٹک خلائی جہاز ہےاسے فرنچ گیانا کے خلائی مرکز سے بھیجا گیا ہے اور زمین چھوڑنے کے 27 اور 36 منٹ بعد اس نےاپنےتمام آلات کی درستگی اورکام کےکئی سگنل زمین پربھیجے ہیں۔

    چاند پر بکھرے کانچ کے ٹکڑوں میں اربوں ٹن پانی کی موجودگی کا انکشاف

    اگست 2024 میں یہ بالترتیب زمین، چاند اور سیارہ وینس کے قریب سے گزر کرگریویٹی فلائے بائے لے گا اور اپنی رفتار بڑھاتے ہوئے 2031 میں مشتری کے قریب پہنچے گا اس کے بعد وہ مشتری کے مزید چاندوں کیلسٹو، یوروپا، جینی میڈ وغیرہ سے بھی فلائے بائے کرے گا۔ آخرکار وہ جینی میڈ کے مدار میں پہنچ کر گھومنے لگے گا ہمارے اپنے علاوہ کسی خلائی جہاز نے کبھی چاند کے گرد چکر نہیں لگایا۔

    جدید ترین جوس خلائی جہاز مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا جس کے لیے دس اہم ترین آلات نصب کئے گئے ہیں۔ ان میں اسپیکٹرومیٹر، جدید کیمرے، لیزر سینسر اور مقنا پیما وغیرہ مل کر اس عظیم دنیا کے بارے میں ہماری معلومات میں اضافہ کریں گے تمام مشن کی طرح یہ بھی مشتری کے چاندوں پر پانی کی تلاش کرے گا –

    یورپی خلائی ایجنسی کی طرف سے فراہم کردہ تصویر میں مشتری کے برفانی چاندوں کے ایکسپلورر، جوس، خلائی جہاز کو گیس دیو کے گرد چکر لگاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے یورینس کے چھلوں کی تفصیلی تصویر جاری کردی

    بہت سارے چاندوں کے ساتھ،ماہرین فلکیات مشتری کو اپنا ایک چھوٹا نظام شمسی سمجھتے ہیں، جس میں جوس جیسے مشن طویل عرصے سے زیر التواء ہیں یورپی خلائی ایجنسی کے پروجیکٹ سائنسدان، اولیور وِٹاس نے زور دیا کہ ہم جوس کے ساتھ زندگی کا پتہ لگانے والے نہیں ہیں لیکن چاندوں اور ان کے ممکنہ سمندروں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے سے سائنس دانوں کو اس سوال کا جواب دینے کے قریب لے آئے گا کہ کہیں اور زندگی موجود ہے۔ "یہ واقعی مشن کا سب سے دلچسپ پہلو ہو گا-

    جوس مشتری تک ایک لمبا، چکر کاٹ رہا ہے، جو 6.6 بلین کلومیٹر (4 بلین میل) پر محیط ہے یہ کیلیسٹو کے 200 کلومیٹر (125 میل) اور یوروپا اور جینی میڈ کے 400 کلومیٹر (250 میل) کے اندر اندر جھپٹے گا، مشتری کے گرد چکر لگاتے ہوئے 35 فلائی بائی مکمل کرے گا۔ اس کے بعد یہ 1.6 بلین یورو مشن (تقریباً $1.8 بلین) کا بنیادی ہدف جینی میڈ کے مدار میں بریک لگائے گا۔

    ناسا نے فضائی آلودگی کا جائزہ لینے والا سیٹلائٹ لانچ کر دیا

    جینی میڈ نہ صرف نظام شمسی کا سب سے بڑا چاند ہے بلکہ اس کا اپنا مقناطیسی میدان ہے جس میں قطبین پر چمکتی ہوئی اورورا ہیں اس سے بھی زیادہ دلکش، یہ سوچا جاتا ہے کہ ایک زیر زمین سمندر ہے جس میں زمین سے زیادہ پانی ہے۔ کارنیگی انسٹی ٹیوشن کے سکاٹ شیپارڈ کے مطابق، جو جوس مشن میں شامل نہیں ہے، یوروپا اور اس کے رپورٹ کردہ گیزروں کے لیے ڈٹٹو، اور بھاری بھرکم کریسٹو، جو مشتری کی کمزور تابکاری بیلٹ سے دوری کے پیش نظر انسانوں کے لیے ایک ممکنہ منزل ہے۔

    "ہمارے نظام شمسی میں سمندری دنیاؤں میں ممکنہ زندگی کا سب سے زیادہ امکان ہے، لہذا مشتری کے یہ بڑے چاند تلاش کرنے کے لیے اہم امیدوار ہیں،” شیپارڈ نے کہا، جس نے بیرونی نظام شمسی میں 100 سے زیادہ دریافتیں کرنے میں مدد کی ہے۔

    خلا میں موجود شہابیہ ہر سمت میں پتھر اور چٹانیں پھینک رہا ہے،ماہرین فلکیات

    جوس مشتری کے برفانی چاندوں کے ایکسپلورر کے لیے مختصر تین سال کالسٹو، یوروپا اور جینی میڈ کےمدار میں گزارے گا۔ خلائی جہاز 2034 کے آخر میں گنیمیڈ کے گرد مدار میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا، تقریباً ایک سال تک چاند کے گرد چکر لگائے گا، اس سے پہلے کہ فلائٹ کنٹرولرز اسے 2035 میں گر کر تباہ کر دیں، بعد میں اگر کافی ایندھن باقی رہ جائے۔

    یوروپا خاص طور پر سائنسدانوں کے لیے پرکشش ہے جو زمین سے باہر زندگی کے آثار تلاش کر رہے ہیں۔ جوس کے حساس الیکٹرانکس کو تابکاری سے بچانے کے لیے سیسے میں بند کیا گیا ہے۔ 6,350 کلوگرام (14,000 پاؤنڈ) خلائی جہاز بھی تھرمل کمبل سے لپٹا ہوا ہے – مشتری کے قریب درجہ حرارت منفی 230 ڈگری سیلسیس (مائنس 380 ڈگری فارن ہائیٹ) کے ارد گرد منڈلاتا ہے۔ اور اس کے سولر پینلز 27 میٹر (88 فٹ) تک پھیلے ہوئے ہیں تاکہ سورج کی روشنی میں سورج سے اتنا ہی دور ہو-

    دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر …

  • جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے یورینس کے چھلوں کی تفصیلی تصویر جاری کردی

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے یورینس کے چھلوں کی تفصیلی تصویر جاری کردی

    واشنگٹن: ناسا کی 10 ارب ڈالرز کی لاگت سے بنائی گئی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے نظامِ شمسی کے ساتویں سیارے یورینس کی تفصیلی تصویر جاری کردی تصویر میں برف کے سیارے کے گرد موجود 13 چھلوں میں سے 11 کو اور اس کے 27 چاندوں کو دیکھا جاسکتا ہے یہ چھلے اتنے چمکدار ہیں کہ ان روشن دائرے کی صورت دِکھتے ہیں۔

    باغی ٹی وی :ناسا کے ایک بیان کے مطابق جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے سیارے کے دو دھندلے ترین غبار پر مشتمل چھلوں کو بھی عکس بند کیا ہے جن کو 1986 میں وائجر 2 نے قریب سے گزرتے وقت دریافت کیا تھا یورینس کے گرد یہ چھلےدیگر سیاروں کے گرد موجود چھلوں کی نسبت پتلے، تنگ اور تاریک ہیں ۔


    ٹیلی اسکوپ نے یورینس کے 27 معلوم چاندوں کو بھی عکس بند کیا۔ ان چاندوں میں اکثر اتنے چھوٹے ہیں کہ تصویر میں واضح نہیں دیکھے جاسکتے جبکہ چھ روشن چاندوں کی نشاندہی صرف 12 منٹ کے ایکسپوژر میں کی گئی۔

    ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی نوکیا چاند پر 4 جی نیٹ ورک لگانے کے لیے تیار

    تصویر کے لیے استعمال کیے گئے نیئر انفرا ریڈ کیمرا(الیکٹرومیگنیٹک اسپیکٹرم میں قابلِ دید روشنی سے زیادہ فریکوئنسی والی روشنی کو عکس بند کرتا ہے) نے نئی تصویر میں دور دراز موجود کہکشاؤں کو بھی واضح عکس بند کیا ہے۔

    انگلینڈ کی ناٹنگھم یونیورسٹی کے ماہر فلکیات مائیکل میری فیلڈ نے کہا کہ یورینس کو اس قسم کی تفصیل سے دیکھنا کتنا حیرت انگیز ہے جو اس سے پہلے صرف وائجر 2 کے اصل میں اس کا دورہ کرنے کے ذریعہ ممکن ہوا تھا-

    سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ویب ایک دن سیارے کے باقی دو بیرونی حلقوں کی بھی تصویر بنانے میں کامیاب ہو جائے گا جو اس پہلی تصویر میں نہیں دکھائے گئے ہیں۔ دوربین فی الحال سیارے کی فالو اپ تصاویر لے رہی ہے۔

    سورج کے حجم سے 30 بلین گنا بڑا بلیک ہول دریافت

    یورینس سورج کا ساتواں سیارہ ہے، اور ہمارے نظام شمسی میں اس کا قطر تیسرا سب سے بڑا ہے یہ ٹیلی سکوپ کی مدد سے پایا جانے والا پہلا سیارہ تھا، یورینس کو 1781 میں ماہر فلکیات ولیم ہرشل نے دریافت کیا تھا یورینس کی سطح ٹھوس نہیں ہے۔ اس کا ماحول بنیادی طور پر کچھ میتھین کے ساتھ ہائیڈروجن اور ہیلیم ہے، جو سورج کی روشنی کی سرخ طول موج کو جذب کرتا ہے جس کی وجہ سے یورینس نیلے رنگ کا دکھائی دیتا ہےسیارہ زمین سے تقریباً چار گنا چوڑا ہے اور ناسا کے مطابق ایک چھوٹے، چٹانی حصے پر مشتمل ہے جس کے ارد گرد گرم، گھنے مادے ہیں جس میں پانی، میتھین اور امونیا شامل ہیں۔

    چونکہ دور دراز کا سیارہ ہر 84 سال میں ایک بار سورج کے گرد چکر لگاتا ہےیہ ایک منفرد زاویہ پر اپنا سفر مکمل کرتا ہے سیارے ایک چپٹی سطح کے ساتھ حرکت کرتے ہیں جب وہ گردش کرتے ہیں۔ عطارد تصوراتی سطح پر کھڑے محور کے گرد گھومتا ہے، جبکہ زیادہ تر دوسرے سیارے اس محور پر گھومتے ہیں جو تھوڑا سا جھکا ہوا ہے –

    40 نوری سال کے فاصلے پر15کروڑ سال قبل وجود میں آنیوالا نیا سیارہ دریافت

    زمین کا جھکاؤ 23.4 ڈگری ہے۔ دوسری طرف، یورینس، بنیادی طور پر اس کے کنارے پر ہے، 98 ڈگری کے زاویہ پر گھومتا ہے۔ اس کے نتیجے میں، اس کے ایک حصے پر طویل موسموں تک مسلسل سورج کی روشنی پڑتی ہے، جب کہ دوسرے کو گہری خلا کی تاریکی کا سامنا ہے۔

  • ناسا نے فضائی آلودگی کا جائزہ لینے والا سیٹلائٹ لانچ کر دیا

    ناسا نے فضائی آلودگی کا جائزہ لینے والا سیٹلائٹ لانچ کر دیا

    کیلیفورنیا: گزشتہ برسوں میں ناسا نے ارضی و فضائی آلودگی پر نظر رکھنے کے لیے کئی سیٹلائٹ بنائے اور مدار میں بھیجے ہیں جبکہ اب ٹیمپو نامی ایک نیا سیٹلائٹ شمالی امریکا پر نظر رکھے گا۔

    باغی ٹی وی: ’ٹروپوسفیرک ایمیشن مانیٹرنگ آف پلیوشن انسٹرومنٹ‘ یا ٹیمپو ایک ملک کے دوسرے ملک یا پھر ایک علاقے کے دوسرے علاقے میں بدلتی ہوئی فضا کا باہمی موازنہ کرے گااس کے سینسر بنیادی طورپرتین خوفناک گیسوں یا اجزا کا جائزہ لےگا جن میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ، فورملڈیہائڈ اور زمین کے قریب اوزون کی سطح جیسے اہم عوامل ہے اسموگ میں اوزون کی بڑھی ہوئی مقدار پائی جاتی ہے۔

    خلا میں موجود شہابیہ ہر سمت میں پتھر اور چٹانیں پھینک رہا ہے،ماہرین فلکیات

    ناسا کے ماہر جان ہائنز نے بتایا کہ ان علاقوں میں تیل کے کارخانے ہیں جہاں فضائی آلودگی بہت زیادہ ہے۔ تاہم ہرجگہ زمینی سینسر اور مانیٹر موجود نہیں اور اسی ضرورت کے تحت ٹیمپو لانچ کیا گیا ہے۔

    ٹیمپو سیٹلائٹ، ارضِ ساکن (جیواسٹیشنری) مدار میں رہتے ہوئے ایک ہی جگہ پر گویا معلق رہے گا اور یوں وہ ایک جگہ پر آلودگی ریکارڈ کے گا تاہم ٹیپمو کا ڈیٹا عوام تک پہنچنے میں کچھ ماہ لگ سکتے ہیں کیونکہ مئی یا جون میں یہ اپنے تمام آلات کھول کر کام شروع کرے گا۔

    پینٹاگون نے حساس دستاویزات کا افشا ہونا قومی سلامتی کیلئےانتہائی سنگین خطرہ قرار دے دیا

  • مصر میں 3673 برس قبل کاٹے گئے انسانی ہاتھ برآمد

    مصر میں 3673 برس قبل کاٹے گئے انسانی ہاتھ برآمد

    قاہرہ: مصر میں آثارِ قدیمہ کے ایک مشہور مقام سے انسانی بریدہ ہاتھوں کے پنجے ملے ہیں جو کلائی سے لے کر انگلیوں تک محفوظ ہیں۔

    باغی ٹی وی : "یروشلم پوسٹ” کے مطابق نیچر میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق طیل الدابہ کے علاقے سے یہ آثار ملے ہیں جرمن ماہرین 2011 سے یہاں تحقیق کررہے ہیں جو ڈیلٹا کے کنارے قدیم مصری شہر آوارس کے پاس ہی واقع ہےماہرین کا خیال ہے کہ یہ ہاتھ 3673 برس قبل کاٹے گئے تھے-

    خلا میں موجود شہابیہ ہر سمت میں پتھر اور چٹانیں پھینک رہا ہے،ماہرین فلکیات

    12ہاتھوں میں سے 11 مرد اور ایک خاتون کا ہے اس طرح مصر میں مفتوحہ افواج کے ہاتھ کاٹنے کی سزا کے اولین ثبوت سامنے آئے ہیں یہ ہیکسوس عہد سے تعلق رکھتے ہیں جس کی ابتدا 1650 قبل مسیح میں ہوئی تھی۔

    ماہرین کے مطابق اس عمل کی تقریب کو ’سنہری اعزاز‘ (گولڈ آف آنر) کا نام دیا جاتا تھا کیونکہ ایک قدیم کتبے پر کندہ اس رسم کے متعلق یہی معلومات ملی ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ فتح پانے والے فوجی یا سپہ سالار بادشاہ کو خوش کرنے کے لیے ثبوت کے طور پر اس کے بریدہ ہاتھ یا پیر لے کر واپس لوٹتے تھے۔

    پینٹاگون نے حساس دستاویزات کا افشا ہونا قومی سلامتی کیلئےانتہائی سنگین خطرہ قرار دے دیا

    ملنے والے سارے دائیں ہاتھ شاہی تخت والے کمرے سے ملے ہیں اور شاید انہیں شاہی سرگرمیوں میں استعمال کیا جاتا تھا۔ تمام ہاتھوں کے ایکسرے سے انکشاف ہوا ہے کہ انہیں انسانی بازو سے بہت صفائی سے کاٹ کر الگ کیا گیا تھاشاید فراعین بادشاہوں کے سامنے انہیں ٹرافی کے طور پر پیش کیا جاتا رہا تھا۔

  • خلا میں موجود شہابیہ ہر سمت میں پتھر اور چٹانیں پھینک رہا ہے،ماہرین فلکیات

    خلا میں موجود شہابیہ ہر سمت میں پتھر اور چٹانیں پھینک رہا ہے،ماہرین فلکیات

    کیلیفورنیا: ماہرین فلکیات نے انکشاف کیا ہے کہ خلا میں موجود شہابیہ ہر سمت میں پتھر اور چٹانیں پھینک رہا ہے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ماہر فلکیات نے کہا ہے کہ گزشتہ برس ناسا کا خلائی جہاز ایک شہابیے سے ٹکرایا تھا اور اب معلوم ہوا ہے کہ یہی شہابیہ ہر سمت میں پتھر اور چٹانیں پھینک رہا ہے۔

    تیزرفتار بلیک ہول دریافت، زمین سے چاند تک کا مفاصلہ محض 14 منٹ میں طے …

    ماہرینِ فلکیات کے مطابق یہ شہابی پتھر اس تیزی سےگھوم رہا ہےکہ وہ خلا میں دور دور تک اپنی پتھریلی باقیات بکھیر رہا ہےاس معلومات سے ایک تو شہابی پتھر کے ٹھوس ہونے پر سوال اٹھے ہیں تو دوسری طرف معلوم ہوا کہ آوارہ خلائی چٹانوں کا ملبہ بھی مزید چھوٹے بڑے پتھروں میں تقسیم ہو سکتا ہے۔

    سعودی عرب : پہلی مرتبہ خاتون اور مرد خلابازآئندہ ماہ خلائی مہم پرروانہ ہوں گے

    واضح رہےکہ ایک سال قبل ڈارٹ (ڈبل ایسٹرائڈ ریڈائریکشن ٹیسٹ) مشن نام کا ایک چھوٹا ساخلائی جہاز "ڈائمورفس” شہابیے سے ٹکرایا تھا اور اس میں خلائی چٹان کے بارے میں بہت سی معلومات ملی تھیں۔ لیکن اب انکشاف ہوا ہے کہ ڈائیمورفس ہمارے زمینی چاند کی طرح ایک بڑے شہابی پتھر "ڈائڈیموس” کے گرد گھوم رہا ہے یہ ڈائڈیموس اپنے گھماؤ کے دوران ہر سمت میں پتھر اور شہابی ملبہ بکھیر رہا ہے۔

    دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر …

  • دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    امریکی ادارے National Oceanic and Atmospheric Administration (این او اے اے) کی جانب سے ابتدائی ڈیٹا میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے جس کے باعث بحری ہیٹ ویوز عام ہوگئی ہیں۔

    باغی ٹی وی: این او اے کی جانب سے جاری ڈیٹا کے مطابق رواں ماہ اپریل 2023 کے آغاز میں سمندری سطح کا اوسط درجہ حرارت 21.1 سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا جس نے 2016 میں قائم ہونے والے 21 سینٹی گریڈ درجہ حرارت کا ریکارڈ توڑ دیا، یہ نیا ریکارڈ موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔

    دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے مزید خطرناک انکشاف

    سائنسدانوں نے بتایا کہ 3 سال تک لانینا نے بحر الکاہل کے درجہ حرارت کو دبانے میں مدد فراہم کی اور زہریلی گیسوں کے اخراج کے اثرات سے بچایا، تاہم اب سمندری سطح کے درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے جو اس سال ممکنہ ایل نینو لہر کی جانب اشارہ ہے۔

    این او اے اے کے محقق ڈاکٹر مائیک میکفیڈن نے بتایا کہ لانینا لہر اختتام کے قریب ہے جس نے دنیا بھر میں سمندری سطح کے درجہ حرارت کو بڑھنے نہیں دیا تھا،لانینا کے دوران وسطی اور مشرقی بحر الکاہل کا درجہ حرارت کم رہتا ہے جبکہ تیز ہوائیں چلتی ہیں جس سے عالمی درجہ حرارت میں کمی آتی ہے،اس کے برعکس ایل نینو کے دوران سمندری سطح معمول سے زیادہ گرم ہو جاتی ہے جس سے دنیا بھر میں درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے۔

    این او اے اے کے ڈیٹا کے مطابق اس سے قبل سمندری سطح میں سب سے زیادہ درجہ حرارت 2014 سے 2016 کی ایل نینو لہر میں دیکھنے میں آیا تھا۔

    گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سےانٹارکٹیکا برف کا پگھلاؤ عالمی سمندری نظام درہم برہم کرسکتا …

    قبل ازیں مارچ 2023 میں سائنسدانوں نے پہلی بار سمندر کی گہرائی میں بھی ہیٹ ویوز کو دریافت کیا تھا اور اسے موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرناک اثرقرار دیا تھا اس تحقیق میں سمندر کے درجہ حرارت میں اضافے کا جائزہ لیا گیا اور دریافت ہوا کہ زیرآب بحری ہیٹ ویو کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے جس سے پانی کا درجہ حرارت 0.5 سے 3 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جاتا ہے۔

    این او اے اے کی اس تحقیق میں شامل ماہرین نے بتایا کہ ہم 10 سال سے زائد عرصے سے سمندر کی سطح پر ہیٹ ویو کا مشاہدہ کر رہے تھے پہلی بار ہم نے یہ جائزہ لیا کہ سطح پر ہیٹ ویو سے سمندر کی گہرائی میں کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    ان کا ماننا ہے کہ سمندروں کی گہرائی میں ہیٹ ویوز سے دنیا بھر کے بحری نظام پر ڈرامائی اثرات مرتب ہوئے ہیں جبکہ چھوٹی اور بڑی ہر طرح کی سمندری حیات کو نقصان پہنچا ہے سمندروں کی گہرائی میں پانی کے درجہ حرارت میں ایک صدی کے دوران ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہوا ہے درجہ حرارت بڑھنے سے سمندری ہیٹ ویوز کی شرح میں گزشتہ دہائی کے دوران 50 فیصد اضافہ ہوا سطح پر درجہ حرارت میں اضافہ نہ ہونے پر بھی سمندر کی گہرائی میں ہیٹ ویو کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    دنیا بھر میں ماحولیاتی خطرے سے بچاؤ کی آخری وارننگ جاری

    واضح رہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث بڑھنے والی حرارت کا 90 فیصد حصہ سمندر جذب کرتے ہیں۔

    گزشتہ برس دسمبر 2022 میں ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ 2023 رواں سال کے مقابلے میں زیادہ گرم ثابت ہونے والا ہے،یہ انتباہ برطانوی سائنسدانوں کی جانب سے سامنے آیا تھا کہ درحقیقت 2023 کے دوران عالمی درجہ حرارت صنعتی عہد سے قبل کے مقابلے میں 1.2 سینٹی گریڈ زیادہ ہوسکتا ہے۔

    برطانوی محکمہ موسمیات کے پروفیسر ایڈم سکافی کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے 2023 درجہ حرارت کے حوالے سے ریکارڈ توڑنے والا سال ثابت نہ ہو مگر عالمی سطح پر زہریلی گیسوں کے اخراج میں اضافے کے نتیجے میں وہ بہت گرم ضرور ثابت ہوسکتا ہے۔

    جنگلات کےساتھ مشروم کی افزائش موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات کم کر سکتی ہے،تحقیق

    عالمی درجہ حرارت کی پیشگوئی کرنے والی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر Nick Dunstone نے کہا تھا کہ گزشتہ 3 برسوں کے دوران لانینا کے اثرات سے عالمی درجہ حرارت پر اثرات مرتب ہوئے تھے لانینا نے عارضی طور پر اوسط عالمی درجہ حرارت کو کم کیا، مگر 2023 کے لیے ہمارے موسمیاتی ماڈل سے لانینا کے اثر کے خاتمے کا عندیہ ملتا ہے، جس کے باعث اگلا سال 2022 کے مقابلے میں زیادہ گرم ثابت ہوسکتا ہے۔

    برطانوی محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ 2023 کے دوران عالمی درجہ حرارت صنعتی عہد سے قبل کے مقابلے میں 1.08 سے 1.32 سینٹی گریڈ زیادہ ہوسکتا ہے۔

    اگر رواں سال 2023 کے بارے میں برطانوی سائنسدانوں کی پیشگوئی درست ثابت ہوتی ہے تو یہ مسلسل 10 واں سال ہوگا جب درجہ حرارت صنعتی عہد سے پہلے کے مقابلے میں کم از کم ایک سینٹی گریڈ زیادہ رہے گا۔

    مسلسل بڑھتا درجہ حرارت،برطانیہ اور آئرلینڈ کے 53 فیصد مقامی پودے تنزلی کا شکار

  • گوگل سرچ انجن میں تبدیلی کا اعلان

    گوگل سرچ انجن میں تبدیلی کا اعلان

    کیلیفورنیا: گوگل سرچ انجن میں جلد انقلابی تبدیلی کا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی: وال اسٹریٹ جرنل (WSJ) کی ایک رپورٹ کے مطابق گوگل کے سی ای او سندر پچائی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ گوگل سرچ انجن بہت جلد مختلف محسوس ہو گا اور اے آئی جیسی ٹیکنالوجی سے گوگل کو بہت بہتر بنایا جا سکے گا بہت جلد لوگ گوگل سے سرچ کے علاوہ سوالات بھی پوچھ سکیں گے۔

    واٹس ایپ میں نیوی گیشن ٹول بار کا اضافہ

    اگرچہ، آؤٹ لیٹ کے مطابق، مسٹر پچائی نے اس خیال کو مسترد کر دیا کہ چیٹ بوٹس نے گوگل کے سرچ کاروبار کو خطرہ لاحق ہے، جس سے اس کے والدین الفابیٹ انکارپوریشن کی نصف سے زیادہ آمدنی ہوتی ہے۔ چیف ایگزیکٹو نے انٹرویو میں کہا کہ موقع کی جگہ، اگر کچھ بھی ہے، پہلے سے زیادہ ہے۔

    واضح رہے کہ بڑے لینگویج ماڈلز (LLMs) ایسے کمپیوٹر پروگرام ہیں جو لوگوں کے سوالات کے جوابات فراہم کر سکتے ہیں اور گوگل اس شعبے میں پیش پیش رہا ہے۔ ٹیک دیو اب ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اپنے سرچ انجن پر صارف کے تجربے کو بہتر بنانے کی کوشش کرے گا کیا لوگ گوگل سے سوالات پوچھ سکیں گے اور تلاش کے تناظر میں ایل ایل ایم کے ساتھ مشغول ہوں گے؟-

    پورا چاند خودکشیوں کے رجحان میں اضافہ کردیتا ہے،تحقیق

    لاگت میں کمی کے لیے سرمایہ کاروں کے دباؤ کے علاوہ، مسٹر پچائی برسوں میں گوگل کے مرکزی کاروبار کے لیے سب سے بڑے خطرے سے نمٹ رہے ہیں کیونکہ مائیکروسافٹ نے حال ہی میں بنگ سرچ انجن کا اپنا بہتر ورژن متعارف کرایا ہے-

    واضح رہے کہ چیٹ جی پی ٹی کے اضافے کے بعد گوگل نے اپنے چیٹ بوٹ بارڈ کو متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا جسے رواں سال مارچ میں امریکہ اور برطانیہ میں محدود صارفین کے لیے متعارف کرا دیا گیا تھا بارڈ چیٹ بوٹ گوگل کے لینگوئج ماڈل فار ڈائیلاگ ایپلیکیشنز (ایل اے ایم ڈی اے) پر مبنی ہے تاہم ابھی تک اسے گوگل سرچ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

    آخر کچھ گانے ذہن سے چپک کیوں جاتے ہیں اور ان کو نکالنا کیسے ممکن …

    سندر پچائی نے یہ نہیں واضح کیا کہ نئے اے آئی فیچرز کب تک گوگل سرچ میں دستیاب ہوں گے تاہم انہوں نے بتایا کہ گوگل کی جانب سے اے آئی ٹیکنالوجی پر مبنی کئی سرچ پراڈکٹس کی آزمائش کی جاری ہے۔

  • واٹس ایپ میں نیوی گیشن ٹول بار کا اضافہ

    واٹس ایپ میں نیوی گیشن ٹول بار کا اضافہ

    سان فرانسسكو:دنیا بھر میں مقبول میسجنگ ایپ واٹس ایپ کی جانب سے آئی او ایس کے بعد اینڈروئڈ پلیٹ فارم کے لیے نیچے کی جانب نیوی گیشن ٹول بار کا اضافہ کیا جارہا ہے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک جانب واٹس ایپ کو بصری طور پر بہتر بنایا جارہاہے تو دوسری جانب اس کے ٹول میں اضافہ ہورہا ہےاب اس کے نئے آزمائشی ورژن 2.23.8.4 میں نئی نیوی گیشن بار کا اضافہ کیا گیا ہے جو سب سےنیچے دکھائی دے رہی ہے۔

    پورا چاند خودکشیوں کے رجحان میں اضافہ کردیتا ہے،تحقیق

    نیوی گیشن بار میں چار شعبے ہوں گے جو چیٹس، کمیونٹیز، اسٹیٹس اور کالز کو ظاہر کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ پہلےبھی موجود تھے لیکن انہیں اب ری ڈیزائن کیا گیا ہے۔ عین اسی طرح کی نیوی گیشن بار آئی او ایس میں پہلے ہی رائج ہے اوراب اینڈروئڈ پلیٹ فارم کےلیےپیش کی گئی ہے۔

    لیکن کمپنی نے حتمی طور پر نہیں بتایا کہ یہ سہولت پوری دنیا میں کب پیش کی جائے گی۔ تاہم تجزیہ کاروں کا اصرار ہے کہ اگلے چند ہفتوں میں واٹس ایپ کے انٹرفیس پر اسے دیکھا جاسکے گا۔

    آخر کچھ گانے ذہن سے چپک کیوں جاتے ہیں اور ان کو نکالنا کیسے ممکن …

  • تیزرفتار بلیک ہول دریافت، زمین سے چاند تک کا مفاصلہ محض 14 منٹ میں طے کر سکتا ہے

    تیزرفتار بلیک ہول دریافت، زمین سے چاند تک کا مفاصلہ محض 14 منٹ میں طے کر سکتا ہے

    ناسا ماہرین نے خلا میں سورج سے دو کروڑ مرتبہ بڑے ایک نئے اور تیز رفتار بلیک ہول کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے-

    باغی ٹی وی : ناسا کے ماہرین نے تیزی سے سفر کرتے ہوئے اس نئے دریافت ہونے والے بلیک ہول کو ’انوزیبل مونسٹر‘ کا نام دیا ہے یہ بلیک ہول کائنات میں غیر معمولی رفتار سے بڑھ رہا ہے انوزیبل مونسٹر کی رفتار اتنی تیز ہے کہ یہ زمین سے چاند تک کا مفاصلہ محض 14 منٹ میں طے کر سکتا ہے-

    سعودی عرب : پہلی مرتبہ خاتون اور مرد خلابازآئندہ ماہ خلائی مہم پرروانہ ہوں گے

    ماہرین کا کہنا ہے کہ نیا دریافت ہونے والا یہ بلیک ہول جہاں سے گذر رہا ہے وہاں اپنے پیچھے نئے پیدا کیے ہوئے ستاروں کی ایک قطار چھوڑ رہا ہے یہ بلیک ہول اپنےسامنے آنے والے ستاروں کو کھانے کے بجائے اپنے راستے میں آنے والی گیسوں سے نئے ستاروں کو جنم دے رہا ہے بلیک ہول کی غیر معمولی رفتار کے باعث ستاروں کی دو لاکھ نوری سال طویل قطار کو دیکھا جا سکتا ہے۔

    ماہرین نے بتایا کہ نیا دریافت ہونے والا بیلک ہول اپنی پیرینٹ گیلکسی کےکالم کے اختتام پر موجود ہے اور اس کی بیرونی ٹپ کے گرد آئیو نائیزڈ آکسیجن کا روشن حلقہ موجود ہے ہم جسے دیکھ رہے ہیں وہ ’نتیجہ‘ (Aftermath) ہے، جیسے سمندری جہاز کے گذر جانے کے بعد کی اٹھتی لہر کو دیکھتے ہیں، ہم بلیک ہول کی گذرگاہ میں اس لہر کو دیکھ رہے ہیں جہاں گیسیں ٹھنڈی ہوکر ستارے بنا رہی ہیں۔

    ناسا کے ماہرین کے کہنا ہے کہ ایسی صورتحال کا اس سے قبل کبھی بھی مشاہدہ نہیں کیا گیا اور ٹیلی اسکوپ نے ’انوزیبل مانسٹر‘ کو اتفاق سے دریافت کرلیا تھا۔

    پورا چاند خودکشیوں کے رجحان میں اضافہ کردیتا ہے،تحقیق

    بلیک ہول کیا ہوتا ہے؟

    بلیک ہول کسی ستارے کی زندگی کے خاتمے کے قریب بنتے ہیں۔ یہ ستارے اپنے حجم کی وجہ سے مرتے ہیں تو اپنے وزن اور دباؤ کی وجہ سے اندر سے ہی تباہ ہو جاتے ہیں بلیک ہول خلا میں ایک ایسا علاقہ ہوتا ہے جہاں مادہ لامحدود حد تک کثیف ہو جاتا ہے یہاں کششِ ثقل اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ کوئی بھی چیز یہاں تک کہ روشنی بھی یہاں سے فرار نہیں ہو سکتی۔

    بلیک ہولز کچھ انتہائی بڑے ستاروں کی زندگی کے دھماکہ خیز اختتام سے وجود میں آتے ہیں۔ کچھ بلیک ہولز ہمارے سورج سے اربوں گنا بڑے ہو سکتے ہیں سائنسدان وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ کہکشاؤں کے مرکز میں پائے جانے والے یہ بلیک ہولز کیسے بنے مگر یہ واضح ہے کہ یہ کہکشاں کو توانائی فراہم کرتے ہیں اور متحرک رکھتے ہیں اور ان کی ارتقا پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

    جعلی مکھیوں سےاصلی مکھیوں کواپنی طرف راغب کرنے والا پھول