Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • مصر میں 3673 برس قبل کاٹے گئے انسانی ہاتھ برآمد

    مصر میں 3673 برس قبل کاٹے گئے انسانی ہاتھ برآمد

    قاہرہ: مصر میں آثارِ قدیمہ کے ایک مشہور مقام سے انسانی بریدہ ہاتھوں کے پنجے ملے ہیں جو کلائی سے لے کر انگلیوں تک محفوظ ہیں۔

    باغی ٹی وی : "یروشلم پوسٹ” کے مطابق نیچر میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق طیل الدابہ کے علاقے سے یہ آثار ملے ہیں جرمن ماہرین 2011 سے یہاں تحقیق کررہے ہیں جو ڈیلٹا کے کنارے قدیم مصری شہر آوارس کے پاس ہی واقع ہےماہرین کا خیال ہے کہ یہ ہاتھ 3673 برس قبل کاٹے گئے تھے-

    خلا میں موجود شہابیہ ہر سمت میں پتھر اور چٹانیں پھینک رہا ہے،ماہرین فلکیات

    12ہاتھوں میں سے 11 مرد اور ایک خاتون کا ہے اس طرح مصر میں مفتوحہ افواج کے ہاتھ کاٹنے کی سزا کے اولین ثبوت سامنے آئے ہیں یہ ہیکسوس عہد سے تعلق رکھتے ہیں جس کی ابتدا 1650 قبل مسیح میں ہوئی تھی۔

    ماہرین کے مطابق اس عمل کی تقریب کو ’سنہری اعزاز‘ (گولڈ آف آنر) کا نام دیا جاتا تھا کیونکہ ایک قدیم کتبے پر کندہ اس رسم کے متعلق یہی معلومات ملی ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ فتح پانے والے فوجی یا سپہ سالار بادشاہ کو خوش کرنے کے لیے ثبوت کے طور پر اس کے بریدہ ہاتھ یا پیر لے کر واپس لوٹتے تھے۔

    پینٹاگون نے حساس دستاویزات کا افشا ہونا قومی سلامتی کیلئےانتہائی سنگین خطرہ قرار دے دیا

    ملنے والے سارے دائیں ہاتھ شاہی تخت والے کمرے سے ملے ہیں اور شاید انہیں شاہی سرگرمیوں میں استعمال کیا جاتا تھا۔ تمام ہاتھوں کے ایکسرے سے انکشاف ہوا ہے کہ انہیں انسانی بازو سے بہت صفائی سے کاٹ کر الگ کیا گیا تھاشاید فراعین بادشاہوں کے سامنے انہیں ٹرافی کے طور پر پیش کیا جاتا رہا تھا۔

  • خلا میں موجود شہابیہ ہر سمت میں پتھر اور چٹانیں پھینک رہا ہے،ماہرین فلکیات

    خلا میں موجود شہابیہ ہر سمت میں پتھر اور چٹانیں پھینک رہا ہے،ماہرین فلکیات

    کیلیفورنیا: ماہرین فلکیات نے انکشاف کیا ہے کہ خلا میں موجود شہابیہ ہر سمت میں پتھر اور چٹانیں پھینک رہا ہے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ماہر فلکیات نے کہا ہے کہ گزشتہ برس ناسا کا خلائی جہاز ایک شہابیے سے ٹکرایا تھا اور اب معلوم ہوا ہے کہ یہی شہابیہ ہر سمت میں پتھر اور چٹانیں پھینک رہا ہے۔

    تیزرفتار بلیک ہول دریافت، زمین سے چاند تک کا مفاصلہ محض 14 منٹ میں طے …

    ماہرینِ فلکیات کے مطابق یہ شہابی پتھر اس تیزی سےگھوم رہا ہےکہ وہ خلا میں دور دور تک اپنی پتھریلی باقیات بکھیر رہا ہےاس معلومات سے ایک تو شہابی پتھر کے ٹھوس ہونے پر سوال اٹھے ہیں تو دوسری طرف معلوم ہوا کہ آوارہ خلائی چٹانوں کا ملبہ بھی مزید چھوٹے بڑے پتھروں میں تقسیم ہو سکتا ہے۔

    سعودی عرب : پہلی مرتبہ خاتون اور مرد خلابازآئندہ ماہ خلائی مہم پرروانہ ہوں گے

    واضح رہےکہ ایک سال قبل ڈارٹ (ڈبل ایسٹرائڈ ریڈائریکشن ٹیسٹ) مشن نام کا ایک چھوٹا ساخلائی جہاز "ڈائمورفس” شہابیے سے ٹکرایا تھا اور اس میں خلائی چٹان کے بارے میں بہت سی معلومات ملی تھیں۔ لیکن اب انکشاف ہوا ہے کہ ڈائیمورفس ہمارے زمینی چاند کی طرح ایک بڑے شہابی پتھر "ڈائڈیموس” کے گرد گھوم رہا ہے یہ ڈائڈیموس اپنے گھماؤ کے دوران ہر سمت میں پتھر اور شہابی ملبہ بکھیر رہا ہے۔

    دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر …

  • دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    امریکی ادارے National Oceanic and Atmospheric Administration (این او اے اے) کی جانب سے ابتدائی ڈیٹا میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے جس کے باعث بحری ہیٹ ویوز عام ہوگئی ہیں۔

    باغی ٹی وی: این او اے کی جانب سے جاری ڈیٹا کے مطابق رواں ماہ اپریل 2023 کے آغاز میں سمندری سطح کا اوسط درجہ حرارت 21.1 سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا جس نے 2016 میں قائم ہونے والے 21 سینٹی گریڈ درجہ حرارت کا ریکارڈ توڑ دیا، یہ نیا ریکارڈ موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔

    دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے مزید خطرناک انکشاف

    سائنسدانوں نے بتایا کہ 3 سال تک لانینا نے بحر الکاہل کے درجہ حرارت کو دبانے میں مدد فراہم کی اور زہریلی گیسوں کے اخراج کے اثرات سے بچایا، تاہم اب سمندری سطح کے درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے جو اس سال ممکنہ ایل نینو لہر کی جانب اشارہ ہے۔

    این او اے اے کے محقق ڈاکٹر مائیک میکفیڈن نے بتایا کہ لانینا لہر اختتام کے قریب ہے جس نے دنیا بھر میں سمندری سطح کے درجہ حرارت کو بڑھنے نہیں دیا تھا،لانینا کے دوران وسطی اور مشرقی بحر الکاہل کا درجہ حرارت کم رہتا ہے جبکہ تیز ہوائیں چلتی ہیں جس سے عالمی درجہ حرارت میں کمی آتی ہے،اس کے برعکس ایل نینو کے دوران سمندری سطح معمول سے زیادہ گرم ہو جاتی ہے جس سے دنیا بھر میں درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے۔

    این او اے اے کے ڈیٹا کے مطابق اس سے قبل سمندری سطح میں سب سے زیادہ درجہ حرارت 2014 سے 2016 کی ایل نینو لہر میں دیکھنے میں آیا تھا۔

    گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سےانٹارکٹیکا برف کا پگھلاؤ عالمی سمندری نظام درہم برہم کرسکتا …

    قبل ازیں مارچ 2023 میں سائنسدانوں نے پہلی بار سمندر کی گہرائی میں بھی ہیٹ ویوز کو دریافت کیا تھا اور اسے موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرناک اثرقرار دیا تھا اس تحقیق میں سمندر کے درجہ حرارت میں اضافے کا جائزہ لیا گیا اور دریافت ہوا کہ زیرآب بحری ہیٹ ویو کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے جس سے پانی کا درجہ حرارت 0.5 سے 3 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جاتا ہے۔

    این او اے اے کی اس تحقیق میں شامل ماہرین نے بتایا کہ ہم 10 سال سے زائد عرصے سے سمندر کی سطح پر ہیٹ ویو کا مشاہدہ کر رہے تھے پہلی بار ہم نے یہ جائزہ لیا کہ سطح پر ہیٹ ویو سے سمندر کی گہرائی میں کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    ان کا ماننا ہے کہ سمندروں کی گہرائی میں ہیٹ ویوز سے دنیا بھر کے بحری نظام پر ڈرامائی اثرات مرتب ہوئے ہیں جبکہ چھوٹی اور بڑی ہر طرح کی سمندری حیات کو نقصان پہنچا ہے سمندروں کی گہرائی میں پانی کے درجہ حرارت میں ایک صدی کے دوران ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہوا ہے درجہ حرارت بڑھنے سے سمندری ہیٹ ویوز کی شرح میں گزشتہ دہائی کے دوران 50 فیصد اضافہ ہوا سطح پر درجہ حرارت میں اضافہ نہ ہونے پر بھی سمندر کی گہرائی میں ہیٹ ویو کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    دنیا بھر میں ماحولیاتی خطرے سے بچاؤ کی آخری وارننگ جاری

    واضح رہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث بڑھنے والی حرارت کا 90 فیصد حصہ سمندر جذب کرتے ہیں۔

    گزشتہ برس دسمبر 2022 میں ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ 2023 رواں سال کے مقابلے میں زیادہ گرم ثابت ہونے والا ہے،یہ انتباہ برطانوی سائنسدانوں کی جانب سے سامنے آیا تھا کہ درحقیقت 2023 کے دوران عالمی درجہ حرارت صنعتی عہد سے قبل کے مقابلے میں 1.2 سینٹی گریڈ زیادہ ہوسکتا ہے۔

    برطانوی محکمہ موسمیات کے پروفیسر ایڈم سکافی کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے 2023 درجہ حرارت کے حوالے سے ریکارڈ توڑنے والا سال ثابت نہ ہو مگر عالمی سطح پر زہریلی گیسوں کے اخراج میں اضافے کے نتیجے میں وہ بہت گرم ضرور ثابت ہوسکتا ہے۔

    جنگلات کےساتھ مشروم کی افزائش موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات کم کر سکتی ہے،تحقیق

    عالمی درجہ حرارت کی پیشگوئی کرنے والی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر Nick Dunstone نے کہا تھا کہ گزشتہ 3 برسوں کے دوران لانینا کے اثرات سے عالمی درجہ حرارت پر اثرات مرتب ہوئے تھے لانینا نے عارضی طور پر اوسط عالمی درجہ حرارت کو کم کیا، مگر 2023 کے لیے ہمارے موسمیاتی ماڈل سے لانینا کے اثر کے خاتمے کا عندیہ ملتا ہے، جس کے باعث اگلا سال 2022 کے مقابلے میں زیادہ گرم ثابت ہوسکتا ہے۔

    برطانوی محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ 2023 کے دوران عالمی درجہ حرارت صنعتی عہد سے قبل کے مقابلے میں 1.08 سے 1.32 سینٹی گریڈ زیادہ ہوسکتا ہے۔

    اگر رواں سال 2023 کے بارے میں برطانوی سائنسدانوں کی پیشگوئی درست ثابت ہوتی ہے تو یہ مسلسل 10 واں سال ہوگا جب درجہ حرارت صنعتی عہد سے پہلے کے مقابلے میں کم از کم ایک سینٹی گریڈ زیادہ رہے گا۔

    مسلسل بڑھتا درجہ حرارت،برطانیہ اور آئرلینڈ کے 53 فیصد مقامی پودے تنزلی کا شکار

  • گوگل سرچ انجن میں تبدیلی کا اعلان

    گوگل سرچ انجن میں تبدیلی کا اعلان

    کیلیفورنیا: گوگل سرچ انجن میں جلد انقلابی تبدیلی کا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی: وال اسٹریٹ جرنل (WSJ) کی ایک رپورٹ کے مطابق گوگل کے سی ای او سندر پچائی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ گوگل سرچ انجن بہت جلد مختلف محسوس ہو گا اور اے آئی جیسی ٹیکنالوجی سے گوگل کو بہت بہتر بنایا جا سکے گا بہت جلد لوگ گوگل سے سرچ کے علاوہ سوالات بھی پوچھ سکیں گے۔

    واٹس ایپ میں نیوی گیشن ٹول بار کا اضافہ

    اگرچہ، آؤٹ لیٹ کے مطابق، مسٹر پچائی نے اس خیال کو مسترد کر دیا کہ چیٹ بوٹس نے گوگل کے سرچ کاروبار کو خطرہ لاحق ہے، جس سے اس کے والدین الفابیٹ انکارپوریشن کی نصف سے زیادہ آمدنی ہوتی ہے۔ چیف ایگزیکٹو نے انٹرویو میں کہا کہ موقع کی جگہ، اگر کچھ بھی ہے، پہلے سے زیادہ ہے۔

    واضح رہے کہ بڑے لینگویج ماڈلز (LLMs) ایسے کمپیوٹر پروگرام ہیں جو لوگوں کے سوالات کے جوابات فراہم کر سکتے ہیں اور گوگل اس شعبے میں پیش پیش رہا ہے۔ ٹیک دیو اب ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اپنے سرچ انجن پر صارف کے تجربے کو بہتر بنانے کی کوشش کرے گا کیا لوگ گوگل سے سوالات پوچھ سکیں گے اور تلاش کے تناظر میں ایل ایل ایم کے ساتھ مشغول ہوں گے؟-

    پورا چاند خودکشیوں کے رجحان میں اضافہ کردیتا ہے،تحقیق

    لاگت میں کمی کے لیے سرمایہ کاروں کے دباؤ کے علاوہ، مسٹر پچائی برسوں میں گوگل کے مرکزی کاروبار کے لیے سب سے بڑے خطرے سے نمٹ رہے ہیں کیونکہ مائیکروسافٹ نے حال ہی میں بنگ سرچ انجن کا اپنا بہتر ورژن متعارف کرایا ہے-

    واضح رہے کہ چیٹ جی پی ٹی کے اضافے کے بعد گوگل نے اپنے چیٹ بوٹ بارڈ کو متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا جسے رواں سال مارچ میں امریکہ اور برطانیہ میں محدود صارفین کے لیے متعارف کرا دیا گیا تھا بارڈ چیٹ بوٹ گوگل کے لینگوئج ماڈل فار ڈائیلاگ ایپلیکیشنز (ایل اے ایم ڈی اے) پر مبنی ہے تاہم ابھی تک اسے گوگل سرچ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

    آخر کچھ گانے ذہن سے چپک کیوں جاتے ہیں اور ان کو نکالنا کیسے ممکن …

    سندر پچائی نے یہ نہیں واضح کیا کہ نئے اے آئی فیچرز کب تک گوگل سرچ میں دستیاب ہوں گے تاہم انہوں نے بتایا کہ گوگل کی جانب سے اے آئی ٹیکنالوجی پر مبنی کئی سرچ پراڈکٹس کی آزمائش کی جاری ہے۔

  • واٹس ایپ میں نیوی گیشن ٹول بار کا اضافہ

    واٹس ایپ میں نیوی گیشن ٹول بار کا اضافہ

    سان فرانسسكو:دنیا بھر میں مقبول میسجنگ ایپ واٹس ایپ کی جانب سے آئی او ایس کے بعد اینڈروئڈ پلیٹ فارم کے لیے نیچے کی جانب نیوی گیشن ٹول بار کا اضافہ کیا جارہا ہے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک جانب واٹس ایپ کو بصری طور پر بہتر بنایا جارہاہے تو دوسری جانب اس کے ٹول میں اضافہ ہورہا ہےاب اس کے نئے آزمائشی ورژن 2.23.8.4 میں نئی نیوی گیشن بار کا اضافہ کیا گیا ہے جو سب سےنیچے دکھائی دے رہی ہے۔

    پورا چاند خودکشیوں کے رجحان میں اضافہ کردیتا ہے،تحقیق

    نیوی گیشن بار میں چار شعبے ہوں گے جو چیٹس، کمیونٹیز، اسٹیٹس اور کالز کو ظاہر کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ پہلےبھی موجود تھے لیکن انہیں اب ری ڈیزائن کیا گیا ہے۔ عین اسی طرح کی نیوی گیشن بار آئی او ایس میں پہلے ہی رائج ہے اوراب اینڈروئڈ پلیٹ فارم کےلیےپیش کی گئی ہے۔

    لیکن کمپنی نے حتمی طور پر نہیں بتایا کہ یہ سہولت پوری دنیا میں کب پیش کی جائے گی۔ تاہم تجزیہ کاروں کا اصرار ہے کہ اگلے چند ہفتوں میں واٹس ایپ کے انٹرفیس پر اسے دیکھا جاسکے گا۔

    آخر کچھ گانے ذہن سے چپک کیوں جاتے ہیں اور ان کو نکالنا کیسے ممکن …

  • تیزرفتار بلیک ہول دریافت، زمین سے چاند تک کا مفاصلہ محض 14 منٹ میں طے کر سکتا ہے

    تیزرفتار بلیک ہول دریافت، زمین سے چاند تک کا مفاصلہ محض 14 منٹ میں طے کر سکتا ہے

    ناسا ماہرین نے خلا میں سورج سے دو کروڑ مرتبہ بڑے ایک نئے اور تیز رفتار بلیک ہول کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے-

    باغی ٹی وی : ناسا کے ماہرین نے تیزی سے سفر کرتے ہوئے اس نئے دریافت ہونے والے بلیک ہول کو ’انوزیبل مونسٹر‘ کا نام دیا ہے یہ بلیک ہول کائنات میں غیر معمولی رفتار سے بڑھ رہا ہے انوزیبل مونسٹر کی رفتار اتنی تیز ہے کہ یہ زمین سے چاند تک کا مفاصلہ محض 14 منٹ میں طے کر سکتا ہے-

    سعودی عرب : پہلی مرتبہ خاتون اور مرد خلابازآئندہ ماہ خلائی مہم پرروانہ ہوں گے

    ماہرین کا کہنا ہے کہ نیا دریافت ہونے والا یہ بلیک ہول جہاں سے گذر رہا ہے وہاں اپنے پیچھے نئے پیدا کیے ہوئے ستاروں کی ایک قطار چھوڑ رہا ہے یہ بلیک ہول اپنےسامنے آنے والے ستاروں کو کھانے کے بجائے اپنے راستے میں آنے والی گیسوں سے نئے ستاروں کو جنم دے رہا ہے بلیک ہول کی غیر معمولی رفتار کے باعث ستاروں کی دو لاکھ نوری سال طویل قطار کو دیکھا جا سکتا ہے۔

    ماہرین نے بتایا کہ نیا دریافت ہونے والا بیلک ہول اپنی پیرینٹ گیلکسی کےکالم کے اختتام پر موجود ہے اور اس کی بیرونی ٹپ کے گرد آئیو نائیزڈ آکسیجن کا روشن حلقہ موجود ہے ہم جسے دیکھ رہے ہیں وہ ’نتیجہ‘ (Aftermath) ہے، جیسے سمندری جہاز کے گذر جانے کے بعد کی اٹھتی لہر کو دیکھتے ہیں، ہم بلیک ہول کی گذرگاہ میں اس لہر کو دیکھ رہے ہیں جہاں گیسیں ٹھنڈی ہوکر ستارے بنا رہی ہیں۔

    ناسا کے ماہرین کے کہنا ہے کہ ایسی صورتحال کا اس سے قبل کبھی بھی مشاہدہ نہیں کیا گیا اور ٹیلی اسکوپ نے ’انوزیبل مانسٹر‘ کو اتفاق سے دریافت کرلیا تھا۔

    پورا چاند خودکشیوں کے رجحان میں اضافہ کردیتا ہے،تحقیق

    بلیک ہول کیا ہوتا ہے؟

    بلیک ہول کسی ستارے کی زندگی کے خاتمے کے قریب بنتے ہیں۔ یہ ستارے اپنے حجم کی وجہ سے مرتے ہیں تو اپنے وزن اور دباؤ کی وجہ سے اندر سے ہی تباہ ہو جاتے ہیں بلیک ہول خلا میں ایک ایسا علاقہ ہوتا ہے جہاں مادہ لامحدود حد تک کثیف ہو جاتا ہے یہاں کششِ ثقل اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ کوئی بھی چیز یہاں تک کہ روشنی بھی یہاں سے فرار نہیں ہو سکتی۔

    بلیک ہولز کچھ انتہائی بڑے ستاروں کی زندگی کے دھماکہ خیز اختتام سے وجود میں آتے ہیں۔ کچھ بلیک ہولز ہمارے سورج سے اربوں گنا بڑے ہو سکتے ہیں سائنسدان وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ کہکشاؤں کے مرکز میں پائے جانے والے یہ بلیک ہولز کیسے بنے مگر یہ واضح ہے کہ یہ کہکشاں کو توانائی فراہم کرتے ہیں اور متحرک رکھتے ہیں اور ان کی ارتقا پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

    جعلی مکھیوں سےاصلی مکھیوں کواپنی طرف راغب کرنے والا پھول

  • آخر کچھ گانے ذہن سے چپک کیوں جاتے ہیں اور ان کو نکالنا کیسے ممکن ہے؟

    آخر کچھ گانے ذہن سے چپک کیوں جاتے ہیں اور ان کو نکالنا کیسے ممکن ہے؟

    کئی بار ہم کوئی گانا سنتے ہیں تو اس کے بول بار بار ذہن میں ابھرنے لگتے ہیں ماہرین نے اس پر حال ہی میں تحقیق کی ہے ایسا کیوں ہوتا ہے آخر کچھ گانے ذہن سے چپک کیوں جاتے ہیں اور ان کو نکالنا کیسے ممکن ہے؟-

    باغی ٹی وی: "دی گارڈین” کے مطابق جرنل میوزک اینڈ سائنس میں شائع آسٹریلیا کی نیو ساؤتھ ویلز یونیورسٹی کے آرٹس اینڈ میڈیا اسکول کے محققین کے مطابق مخصوص گانے اپنی دھن کی وجہ سےنہیں بلکہ اس لیے ذہن سے چپکنے میں کامیاب ہوتےہیں کیونکہ ان میں ایسی تکرار ہوتی ہے جو ہمارے دماغ کے لیے جانی پہچانی ہوتی ہے۔

    محققین نے بتایا کہ بیشتر ایسے گانے بنیادی طور پرکورس سانگ (ایسے گانے جو کئی افراد مل کر گاتے ہیں) ہوتے ہیں۔اس طرح کے گانوں پر اب تک جو تحقیق ہوئی ہے اس میں یہ توجہ مرکوز نہیں کی گئی کہ گانے کا کونسا پہلو ذہن سے چپکنے کا باعث بنتا ہے،درحقیقت زیادہ ترگانوں کی موسیقی کا اس میں کوئی کردار نہیں ہوتا بلکہ اس کی موسیقی کے اسٹرکچر میں موجود تکرار اس حوالے سے اہم ثابت ہوتی ہے۔

    تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ تکرار اس پہیلی کا ایک پہلو ہے، کئی اور چیزیں بھی اس حوالے سے کردار ادا کرتی ہیں، جیسے گانا نیا ہو اور اس کی موسیقی جانی پہچانی محسوس ہوتی ہو اسی طرح کوئی گانا اس وقت ذہن میں بار بار ابھرتا ہے جب ہم بہت سکون کی حالت میں ہوتے ہیں اور کچھ کرنے کی بجائے خیالی پلاؤ پکا رہے ہوتے ہیں، اگر کسی کام میں مصروف ہوں تو پھر ایسا تجربہ ہونے کا امکان کم ہوتا ہے۔

    اس تحقیق کے مصنف پروفیسر ایمری شوبرٹ نے کہا کہ یہ ایسے گانے ہوتے ہیں جو بار بار ذہن میں ابھرتے ہیں، ان کے بول ذہن میں گونجتے ہیں اور یہ پورا عمل مسلسل ہوتا ہے اور اس کا تجربہ بیشتر افراد کو ہوتا ہے بیشتر افراد اس طرح کے گانوں کو اپنے لیے مسرت بخش سمجھتے ہیں، تاہم جب انہیں موسیقی پسند نہ آئے اور گانا ذہن سے چپک جائے تو پھر وہ چڑچڑے ہو جاتے ہیں۔اس سلسلے کو کافی حد تک شعوری طور پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے، جیسے اس گانے کو مکمل سن لیں یا شعوری طور پر کسی اور گانے کے بارے میں سوچنا شروع کردیں۔

  • سعودی عرب : پہلی مرتبہ خاتون اور مرد خلابازآئندہ ماہ خلائی مہم پرروانہ ہوں گے

    سعودی عرب : پہلی مرتبہ خاتون اور مرد خلابازآئندہ ماہ خلائی مہم پرروانہ ہوں گے

    ریاض: سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خاتون اور مرد خلابازآئندہ ماہ 9 مئی کو خلائی مہم پر روانہ ہوں گے۔

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق علی القرنی اور ریانہ برناوی بین الاقوامی خلائی اسٹیشن جانے والے پہلے سعودی خلاباز ہیں۔ دونوں خلابازوں کے کریڈٹ پر 11 اہم سائنسی تحقیقات شامل ہیں ان تحقیقات میں مائیکروگریویٹی،انسانی ریسرچ، سیل سائنسز، اورمائیکرو گریویٹی میں مصنوعی بارش کے لیے تحقیق کے تجربات شامل ہیں۔

    پورا چاند خودکشیوں کے رجحان میں اضافہ کردیتا ہے،تحقیق

    سعودی اسپیس اتھارٹی کے مطابق علی اور ریانہ نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے سفر کے دوران سائنسی تجربات کرنے کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام مکمل کیا ہے۔ دونوں خلاباز 9 مئی کو خلائی اسٹیشن کے لیے روانہ ہوں گے۔

    قبل ازیں سعودی وزیر اطلاعات عبداللہ السواحہ نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ولی عہد کی مدد کے باعث، جو خلائی سپریم کونسل کے سربراہ بھی ہیں پہلی سعودی خلا نورد خاتون ریانہ برناوی اور خلا نورد علی القرنی بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے تاریخی مشن پر روانہ ہوں گے تاکہ ریسرچ اور ایجادات کے ذریعے بنی نوع انسان کو نئی دنیاؤں سے آشنا کر سکیں۔

    ایرانی بحری جہاز سے 7 ارب 900 ہزار یمنی ریال مالیت کی منشیات برآمد

  • پورا چاند خودکشیوں کے رجحان میں اضافہ کردیتا ہے،تحقیق

    پورا چاند خودکشیوں کے رجحان میں اضافہ کردیتا ہے،تحقیق

    کہتے ہیں کہ پورا چاند انسانوں اور شاید دیگر جانداروں میں پراسرار تبدیلیوں کا باعث بن سکتا ہے جبکہ حال ہی میں ماہرین ارضیات نے چاند اور دیگر سیاروں کی حرکت کے دنیا میں زلزلوں کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی تھی تاہم اب ایک اور تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہےکہ پورا چاند خودکشیوں کے رجحان میں اضافہ کردیتا ہے-

    باغی ٹی وی: انڈیانا یونیورسٹی میں کالج آف میڈیسن کے ماہر نفسیات نے معلومات کی مانیٹرنگ اور تجزیہ کرنے کے بعد دریافت کیا کہ پورے چاند کے ہفتے کے دوران خودکشی سے ہونے والی اموات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے سائنسی جریدے "ارتھ” کے مطابق تحقیق، جو جرنل ڈسکور مینٹل ہیلتھ میں شائع ہوئی انڈیانا میں ماریون کاؤنٹی کورونر کے دفتر سے 2012-2016 کے دوران ہونے والی خودکشیوں کے بارے میں ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔

    جعلی مکھیوں سےاصلی مکھیوں کواپنی طرف راغب کرنے والا پھول

    تحقیق میں بتایا گیا کہ پورے چاند کے ہفتے کے دوران 55 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں میں خودکشیوں کے رجحان میں زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔ ماہر نفسیات نے اس حوالے سے خودکشیوں کے دن اور مہینوں کے اوقات کو بھی مدنظر رکھ کر نتائج مرتب کیے ہیں۔

    ماہر نفسیات نے اپنی تحقیق میں پایا کہ خودکشی کا رجحان اکثر دوپہر 3 سے 4 بجے کے درمیان ہوتا ہے۔ اس طرح اس کا تعلق دن بھر کے دباؤ سے ہوسکتا ہے۔ اس وقت کم روشنی کا آغاز ہوتا ہے۔ سرکیڈین جینز اور کورٹیسول کا اظہار بھی کم ہو جاتا ہے۔ ستمبر میں خود کشیاں بڑھ جاتی ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ جب بہت سے لوگ اپنی گرمیوں کی تعطیلات کے اختتام سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ یہ صورت حال بھی تناؤ کا سبب بن سکتی ہے۔

    مطالعہ کے سرکردہ مصنف ڈاکٹر الیگزینڈر نے کہاکہ ہم اس مفروضے کا تجزیہ کرنا چاہتے تھے کہ پورے چاند کے ارد گرد خودکشیوں میں اضافہ ہوتا ہے یا نہیں۔ ہمیں اس بات کا تعین کرنا چاہیےکہ آیا ان اوقات میں زیادہ خطرے والے مریضوں کی زیادہ دیکھ بھال کی جانی چاہیے یا نہیں۔

    پچر پلانٹ کی طرح دو نئے گوشت خور پودے دریافت

    ڈاکٹر الیگزینڈر نیکولیسکو نے کہا کہ خودکشی کے لیے خون کے بائیو مارکر کی فہرست کی جانچ کی گئی۔ خودکشی کے بائیو مارکر پورے چاند کے دوران خودکشی کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ دن کے عین نصف النھار کے گھنٹے اور سال کے ایسے سب سے زیادہ متحرک مہینوں کا پتہ لگایا گیا جب خود کشی کا رجحان پیدا کرنے والے جین زیادہ مقدار میں ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ وہ جین ہیں جو جسم کی اندرونی گھڑی کو منظم کرتے ہیں۔ اسے سرکیڈین کلاک بھی کہا جاتا ہے۔ جانچ کے دوران ہم نے یہ بھی پایا کہ الکحل کے استعمال کی خرابی میں مبتلا افراد یا افسردہ لوگوں کو اس وقت کے دوران زیادہ خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

    نکولیسکو نے کہا کہ پورے چاند سےخارج ہونے والی بڑھتی ہوئی روشنی اس عرصے کے دوران خودکشیوں میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ محیطی روشنی جسم کی سرکیڈین تال میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے طبی نقطہ نظر اور صحت عامہ کے نقطہ نظرسےہمیں اس مطالعہ میں کچھ اہم پیغامات ملے ہیں، زیادہ خطرہ والے مریضوں کی ممکنہ طور پر پورے چاند کے ہفتے، دوپہر کے آخر میں اور شاید ستمبر کے مہینے میں زیادہ قریب جانچ کی جانی چاہیے-

    دنیا بھر میں ارب پتی افراد کی تعداد اور ان کی مجموعی دولت میں کمی

  • جعلی مکھیوں سےاصلی مکھیوں کواپنی طرف راغب کرنے والا پھول

    جعلی مکھیوں سےاصلی مکھیوں کواپنی طرف راغب کرنے والا پھول

    ماہرین نباتات کو جنوبی افریقہ میں گلِ داؤدی کے پھول کی ایک قسم میں ایسے خاص جین ملے ہیں جن سے پتیوں پر مکھیوں کے نقوش بن جاتے ہیں اس پھول کا نام ’گورٹیریا ڈیفیوزا‘ ہے مادہ مکھی کے ان نقوش کو دیکھ کر نر مکھیاں وہاں آتی ہیں اور یوں پھول کی افزائش و بارآوری بڑھتی رہتی ہے۔

    باغی ٹی وی: کرنٹ بائیولوجی میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق کئی عشروں کی تحقیق کے بعد معلوم ہوا ہے کہ وہ خاص جین کی بدولت پتیوں پرایسے ڈیزائن بناتا ہے کہ دور سے دیکھنے پر ان پر حقیقی مکھی کا گمان ہوتا ہے، تین اہم جین کی بدولت وہ اس قابل ہوا ہے کہ خود پر جعلی تھری ڈی مکھی کی تصاویر کاڑھ سکتا ہےاس سے قبل سائنسداں حیران تھے اور اس پر غور کررہے تھے۔

    پچر پلانٹ کی طرح دو نئے گوشت خور پودے دریافت


    اس گل داؤدی کی پنکھڑیوں کا دائرہ ہلکے پیلے رنگ سے لے کر روشن سرخ نارنجی تک ہوتا ہے، کچھ ایسے دھبے ہوتے ہیں جو پھول کے مرکز کے گرد دائرہ بناتے ہیں،ان پھولوں کی ظاہری شکل بہت مختلف ہوتی ہے-

    نودریافت شدہ جین کے تین سیٹ اگرچہ پھول کے دیگر کام بھی کرتے ہیں لیکن یہ گلِ داؤدی کی پٹیوں پر جعلی مکھیوں کی اشکال بھی بناتے ہیں۔ ویسے یہ جین پتیوں کی تشکیل اور پودے کی جڑوں سے فولاد کی فراہمی بھی ممکن بناتے ہیں فولاد کی فراہمی سے پتیوں کا رنگ بھی بدلتا ہے اور جعلی مکھی کے خدوخال بنتےہیں پھر مزید فولاد سے مکھی کے منہ کے کنارے پر ایسے نقوش بنتے ہیں جو دیکھنے میں شہد کی مکھیوں کے بال معلوم ہوتےہیں۔

    اگر پودوں کو مناسب مقدار میں پانی نہیں دیاجائے یا کاٹا جائے تو وہ آہ …


    اس تحقیق میں شامل محقق جامعہ کیمبرج کے پروفیسر بیورلے گلوور کے مطابق اس چالاکی سے پھول مکھیوں کو اپنی جانب راغب کرتے ہیں جو زردانوں کو دور تک لے جاتے ہیں اور اس کی افزائش بڑھتی ہےنرمکھیاں کچھ دیر جعلی مکھیوں سے خود کو رگڑتے ہیں اور یوں ان پر زردانے چپک جاتے ہیں۔

    گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سےانٹارکٹیکا برف کا پگھلاؤ عالمی سمندری نظام درہم برہم کرسکتا …