Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • آخر کچھ گانے ذہن سے چپک کیوں جاتے ہیں اور ان کو نکالنا کیسے ممکن ہے؟

    آخر کچھ گانے ذہن سے چپک کیوں جاتے ہیں اور ان کو نکالنا کیسے ممکن ہے؟

    کئی بار ہم کوئی گانا سنتے ہیں تو اس کے بول بار بار ذہن میں ابھرنے لگتے ہیں ماہرین نے اس پر حال ہی میں تحقیق کی ہے ایسا کیوں ہوتا ہے آخر کچھ گانے ذہن سے چپک کیوں جاتے ہیں اور ان کو نکالنا کیسے ممکن ہے؟-

    باغی ٹی وی: "دی گارڈین” کے مطابق جرنل میوزک اینڈ سائنس میں شائع آسٹریلیا کی نیو ساؤتھ ویلز یونیورسٹی کے آرٹس اینڈ میڈیا اسکول کے محققین کے مطابق مخصوص گانے اپنی دھن کی وجہ سےنہیں بلکہ اس لیے ذہن سے چپکنے میں کامیاب ہوتےہیں کیونکہ ان میں ایسی تکرار ہوتی ہے جو ہمارے دماغ کے لیے جانی پہچانی ہوتی ہے۔

    محققین نے بتایا کہ بیشتر ایسے گانے بنیادی طور پرکورس سانگ (ایسے گانے جو کئی افراد مل کر گاتے ہیں) ہوتے ہیں۔اس طرح کے گانوں پر اب تک جو تحقیق ہوئی ہے اس میں یہ توجہ مرکوز نہیں کی گئی کہ گانے کا کونسا پہلو ذہن سے چپکنے کا باعث بنتا ہے،درحقیقت زیادہ ترگانوں کی موسیقی کا اس میں کوئی کردار نہیں ہوتا بلکہ اس کی موسیقی کے اسٹرکچر میں موجود تکرار اس حوالے سے اہم ثابت ہوتی ہے۔

    تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ تکرار اس پہیلی کا ایک پہلو ہے، کئی اور چیزیں بھی اس حوالے سے کردار ادا کرتی ہیں، جیسے گانا نیا ہو اور اس کی موسیقی جانی پہچانی محسوس ہوتی ہو اسی طرح کوئی گانا اس وقت ذہن میں بار بار ابھرتا ہے جب ہم بہت سکون کی حالت میں ہوتے ہیں اور کچھ کرنے کی بجائے خیالی پلاؤ پکا رہے ہوتے ہیں، اگر کسی کام میں مصروف ہوں تو پھر ایسا تجربہ ہونے کا امکان کم ہوتا ہے۔

    اس تحقیق کے مصنف پروفیسر ایمری شوبرٹ نے کہا کہ یہ ایسے گانے ہوتے ہیں جو بار بار ذہن میں ابھرتے ہیں، ان کے بول ذہن میں گونجتے ہیں اور یہ پورا عمل مسلسل ہوتا ہے اور اس کا تجربہ بیشتر افراد کو ہوتا ہے بیشتر افراد اس طرح کے گانوں کو اپنے لیے مسرت بخش سمجھتے ہیں، تاہم جب انہیں موسیقی پسند نہ آئے اور گانا ذہن سے چپک جائے تو پھر وہ چڑچڑے ہو جاتے ہیں۔اس سلسلے کو کافی حد تک شعوری طور پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے، جیسے اس گانے کو مکمل سن لیں یا شعوری طور پر کسی اور گانے کے بارے میں سوچنا شروع کردیں۔

  • سعودی عرب : پہلی مرتبہ خاتون اور مرد خلابازآئندہ ماہ خلائی مہم پرروانہ ہوں گے

    سعودی عرب : پہلی مرتبہ خاتون اور مرد خلابازآئندہ ماہ خلائی مہم پرروانہ ہوں گے

    ریاض: سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خاتون اور مرد خلابازآئندہ ماہ 9 مئی کو خلائی مہم پر روانہ ہوں گے۔

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق علی القرنی اور ریانہ برناوی بین الاقوامی خلائی اسٹیشن جانے والے پہلے سعودی خلاباز ہیں۔ دونوں خلابازوں کے کریڈٹ پر 11 اہم سائنسی تحقیقات شامل ہیں ان تحقیقات میں مائیکروگریویٹی،انسانی ریسرچ، سیل سائنسز، اورمائیکرو گریویٹی میں مصنوعی بارش کے لیے تحقیق کے تجربات شامل ہیں۔

    پورا چاند خودکشیوں کے رجحان میں اضافہ کردیتا ہے،تحقیق

    سعودی اسپیس اتھارٹی کے مطابق علی اور ریانہ نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے سفر کے دوران سائنسی تجربات کرنے کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام مکمل کیا ہے۔ دونوں خلاباز 9 مئی کو خلائی اسٹیشن کے لیے روانہ ہوں گے۔

    قبل ازیں سعودی وزیر اطلاعات عبداللہ السواحہ نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ولی عہد کی مدد کے باعث، جو خلائی سپریم کونسل کے سربراہ بھی ہیں پہلی سعودی خلا نورد خاتون ریانہ برناوی اور خلا نورد علی القرنی بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے تاریخی مشن پر روانہ ہوں گے تاکہ ریسرچ اور ایجادات کے ذریعے بنی نوع انسان کو نئی دنیاؤں سے آشنا کر سکیں۔

    ایرانی بحری جہاز سے 7 ارب 900 ہزار یمنی ریال مالیت کی منشیات برآمد

  • پورا چاند خودکشیوں کے رجحان میں اضافہ کردیتا ہے،تحقیق

    پورا چاند خودکشیوں کے رجحان میں اضافہ کردیتا ہے،تحقیق

    کہتے ہیں کہ پورا چاند انسانوں اور شاید دیگر جانداروں میں پراسرار تبدیلیوں کا باعث بن سکتا ہے جبکہ حال ہی میں ماہرین ارضیات نے چاند اور دیگر سیاروں کی حرکت کے دنیا میں زلزلوں کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی تھی تاہم اب ایک اور تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہےکہ پورا چاند خودکشیوں کے رجحان میں اضافہ کردیتا ہے-

    باغی ٹی وی: انڈیانا یونیورسٹی میں کالج آف میڈیسن کے ماہر نفسیات نے معلومات کی مانیٹرنگ اور تجزیہ کرنے کے بعد دریافت کیا کہ پورے چاند کے ہفتے کے دوران خودکشی سے ہونے والی اموات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے سائنسی جریدے "ارتھ” کے مطابق تحقیق، جو جرنل ڈسکور مینٹل ہیلتھ میں شائع ہوئی انڈیانا میں ماریون کاؤنٹی کورونر کے دفتر سے 2012-2016 کے دوران ہونے والی خودکشیوں کے بارے میں ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔

    جعلی مکھیوں سےاصلی مکھیوں کواپنی طرف راغب کرنے والا پھول

    تحقیق میں بتایا گیا کہ پورے چاند کے ہفتے کے دوران 55 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں میں خودکشیوں کے رجحان میں زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔ ماہر نفسیات نے اس حوالے سے خودکشیوں کے دن اور مہینوں کے اوقات کو بھی مدنظر رکھ کر نتائج مرتب کیے ہیں۔

    ماہر نفسیات نے اپنی تحقیق میں پایا کہ خودکشی کا رجحان اکثر دوپہر 3 سے 4 بجے کے درمیان ہوتا ہے۔ اس طرح اس کا تعلق دن بھر کے دباؤ سے ہوسکتا ہے۔ اس وقت کم روشنی کا آغاز ہوتا ہے۔ سرکیڈین جینز اور کورٹیسول کا اظہار بھی کم ہو جاتا ہے۔ ستمبر میں خود کشیاں بڑھ جاتی ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ جب بہت سے لوگ اپنی گرمیوں کی تعطیلات کے اختتام سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ یہ صورت حال بھی تناؤ کا سبب بن سکتی ہے۔

    مطالعہ کے سرکردہ مصنف ڈاکٹر الیگزینڈر نے کہاکہ ہم اس مفروضے کا تجزیہ کرنا چاہتے تھے کہ پورے چاند کے ارد گرد خودکشیوں میں اضافہ ہوتا ہے یا نہیں۔ ہمیں اس بات کا تعین کرنا چاہیےکہ آیا ان اوقات میں زیادہ خطرے والے مریضوں کی زیادہ دیکھ بھال کی جانی چاہیے یا نہیں۔

    پچر پلانٹ کی طرح دو نئے گوشت خور پودے دریافت

    ڈاکٹر الیگزینڈر نیکولیسکو نے کہا کہ خودکشی کے لیے خون کے بائیو مارکر کی فہرست کی جانچ کی گئی۔ خودکشی کے بائیو مارکر پورے چاند کے دوران خودکشی کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ دن کے عین نصف النھار کے گھنٹے اور سال کے ایسے سب سے زیادہ متحرک مہینوں کا پتہ لگایا گیا جب خود کشی کا رجحان پیدا کرنے والے جین زیادہ مقدار میں ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ وہ جین ہیں جو جسم کی اندرونی گھڑی کو منظم کرتے ہیں۔ اسے سرکیڈین کلاک بھی کہا جاتا ہے۔ جانچ کے دوران ہم نے یہ بھی پایا کہ الکحل کے استعمال کی خرابی میں مبتلا افراد یا افسردہ لوگوں کو اس وقت کے دوران زیادہ خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

    نکولیسکو نے کہا کہ پورے چاند سےخارج ہونے والی بڑھتی ہوئی روشنی اس عرصے کے دوران خودکشیوں میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ محیطی روشنی جسم کی سرکیڈین تال میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے طبی نقطہ نظر اور صحت عامہ کے نقطہ نظرسےہمیں اس مطالعہ میں کچھ اہم پیغامات ملے ہیں، زیادہ خطرہ والے مریضوں کی ممکنہ طور پر پورے چاند کے ہفتے، دوپہر کے آخر میں اور شاید ستمبر کے مہینے میں زیادہ قریب جانچ کی جانی چاہیے-

    دنیا بھر میں ارب پتی افراد کی تعداد اور ان کی مجموعی دولت میں کمی

  • جعلی مکھیوں سےاصلی مکھیوں کواپنی طرف راغب کرنے والا پھول

    جعلی مکھیوں سےاصلی مکھیوں کواپنی طرف راغب کرنے والا پھول

    ماہرین نباتات کو جنوبی افریقہ میں گلِ داؤدی کے پھول کی ایک قسم میں ایسے خاص جین ملے ہیں جن سے پتیوں پر مکھیوں کے نقوش بن جاتے ہیں اس پھول کا نام ’گورٹیریا ڈیفیوزا‘ ہے مادہ مکھی کے ان نقوش کو دیکھ کر نر مکھیاں وہاں آتی ہیں اور یوں پھول کی افزائش و بارآوری بڑھتی رہتی ہے۔

    باغی ٹی وی: کرنٹ بائیولوجی میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق کئی عشروں کی تحقیق کے بعد معلوم ہوا ہے کہ وہ خاص جین کی بدولت پتیوں پرایسے ڈیزائن بناتا ہے کہ دور سے دیکھنے پر ان پر حقیقی مکھی کا گمان ہوتا ہے، تین اہم جین کی بدولت وہ اس قابل ہوا ہے کہ خود پر جعلی تھری ڈی مکھی کی تصاویر کاڑھ سکتا ہےاس سے قبل سائنسداں حیران تھے اور اس پر غور کررہے تھے۔

    پچر پلانٹ کی طرح دو نئے گوشت خور پودے دریافت


    اس گل داؤدی کی پنکھڑیوں کا دائرہ ہلکے پیلے رنگ سے لے کر روشن سرخ نارنجی تک ہوتا ہے، کچھ ایسے دھبے ہوتے ہیں جو پھول کے مرکز کے گرد دائرہ بناتے ہیں،ان پھولوں کی ظاہری شکل بہت مختلف ہوتی ہے-

    نودریافت شدہ جین کے تین سیٹ اگرچہ پھول کے دیگر کام بھی کرتے ہیں لیکن یہ گلِ داؤدی کی پٹیوں پر جعلی مکھیوں کی اشکال بھی بناتے ہیں۔ ویسے یہ جین پتیوں کی تشکیل اور پودے کی جڑوں سے فولاد کی فراہمی بھی ممکن بناتے ہیں فولاد کی فراہمی سے پتیوں کا رنگ بھی بدلتا ہے اور جعلی مکھی کے خدوخال بنتےہیں پھر مزید فولاد سے مکھی کے منہ کے کنارے پر ایسے نقوش بنتے ہیں جو دیکھنے میں شہد کی مکھیوں کے بال معلوم ہوتےہیں۔

    اگر پودوں کو مناسب مقدار میں پانی نہیں دیاجائے یا کاٹا جائے تو وہ آہ …


    اس تحقیق میں شامل محقق جامعہ کیمبرج کے پروفیسر بیورلے گلوور کے مطابق اس چالاکی سے پھول مکھیوں کو اپنی جانب راغب کرتے ہیں جو زردانوں کو دور تک لے جاتے ہیں اور اس کی افزائش بڑھتی ہےنرمکھیاں کچھ دیر جعلی مکھیوں سے خود کو رگڑتے ہیں اور یوں ان پر زردانے چپک جاتے ہیں۔

    گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سےانٹارکٹیکا برف کا پگھلاؤ عالمی سمندری نظام درہم برہم کرسکتا …

  • دنیا بھر میں ارب پتی افراد کی تعداد اور ان کی مجموعی دولت میں کمی

    دنیا بھر میں ارب پتی افراد کی تعداد اور ان کی مجموعی دولت میں کمی

    امریکی جریدے فوربز نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ دنیا بھر میں ارب پتی افراد کی تعداد اور ان کی مجموعی دولت میں کمی آئی ہے-

    باغی ٹی وی: "نیویارک ٹائمز” کے مطابق امریکی جریدے فوربز کی جانب سے 2023 کے امیر ترین افراد کی فہرست جاری کی گئی ہے جس میں پرتعیش اشیا بنانے والی کمپنی ایل وی ایم ایچ کے مالک 211 ارب ڈالرز کے ساتھ سرفہرست ہیں یوں تو فرانس سے تعلق رکھنے والےبرنارڈ آرنلٹ کافی عرصے سے دنیا کے امیر ترین شخص ہیں اور اب اس کا باضابطہ اعلان اب ہو اہے-

    پاؤڈر سے کینسر کا دعویٰ کرنیوالوں کوجانسن اینڈ جانسن کمپنی کی 8.9 بلین ڈالر کی …

    کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق 74 سالہ مسٹر ارنلٹ، جن کا دنیا بھر میں ڈومین 75 برانڈز پر مشتمل ہے، جس میں لوئس ووٹن ہینڈ بیگ، ٹفنی ڈائمنڈ رِنگ، کرسچن ڈائر ڈریسز اور سیفورا ہائی اینڈ کاسمیٹکس شامل ہیں-

    برنارڈ آرنلٹ کی دولت میں 2022 کے دوران 53 ارب ڈالرز کا اضافہ ہوا، جبکہ ایلون مسک 39 ارب ڈالرز سے محروم ہونے کے بعد پہلے سے دوسرے نمبر پر پہنچ گئے جبکہ 2022 میں امیر ترین شخص کا اعزاز حاصل کرنے والے ایلون مسک 180 ارب ڈالرز کے ساتھ 2023 کے لیے دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص قرار پائے ہیں۔

    برنارڈ آرنلٹ اور ایلون مسک کی پوزیشن کو مستقبل قریب میں کوئی خطرہ نظر نہیں آتا ہے کیونکہ ایمازون کے بانی جیف بیزوس 114 ارب ڈالرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں، یعنی کافی بڑا فرق ہے اوریکل کمپنی کے مالک لیری ایلیسن 107 ارب ڈالرز کے ساتھ چوتھے، وارن بفٹ 106 ارب ڈالرز کے ساتھ 5 ویں، بل گیٹس 104 ارب ڈالرز کے ساتھ چھٹے اور مائیکل بلومبرگ 94.5 ارب ڈالرز کے ساتھ 7 ویں نمبر پر موجود ہیں۔

    گوگل کا بلوچستان کے نوجوانوں کیلئےایک ہزار اسکالر شپس دینے کا اعلان

    کارلوس سلم 93 ارب ڈالرز کے ساتھ دنیا کے 8 ویں امیر ترین میکش امبانی 83.4 ارب ڈالرز کے ساتھ 9 ویں نمبر پر ہیں اور رواں برس کے لیے ایشیا کے امیر ترین شخص بھی قرار پائے ہیں جبکہ اسٹیو بالمر 80.7 ارب ڈالرز کے ساتھ 10 ویں نمبر پر ہیں۔

    فوربز کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے امیر ترین افراد کے لیے 2023 ایک اور سخت سال ثابت ہونے والا ہے اور رواں برس بھی ان کی دولت میں کمی آنے کا امکان ہے رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2022 کے دوران دنیا کے 25 امیر ترین افراد کی دولت میں مجموعی طور پر 200 ارب ڈالرز کی کمی آئی دنیا بھر میں ارب پتی افراد کی تعداد اور ان کی مجموعی دولت میں کمی آئی۔

    گزشتہ سال 254 افراد ارب پتی کی حیثیت سے محروم ہوگئے اور باقی بچ جانے والے 2640 ارب پتی افراد ایک سال میں 500 ارب ڈالرز سے محروم ہوئے۔

    مجموعی طور پر، فوربز کی فہرست سے پتہ چلتا ہے کہ یورپ کے ارب پتیوں نے روایتی شعبوں جیسے کہ لگژری، ریٹیل، کنزیومر گڈز، خوراک اور صنعتی کمپنیوں میں پیسہ کمایا ہے۔ اس میں تقریباً کوئی بھی ارب پتی ٹیکنالوجی کے سربراہ نہیں ہیں-

    برازیل کے پرائمری سکول میں نوجوان نے کلہاڑٰ کے وار سے 4 بچوں کوہلاک اور …

    امیر ترین کمانے والوں کی فہرست میں سرفہرست، مسٹر ایسکنڈے نے کہا کہ دو یا تین سالوں میں، ٹیک کے واپس آنے کا امکان ہے جو امریکہ اور چین کی مسلسل اقتصادی طاقت کی عکاسی کرتا ہے 20 سال کوشش کرنے کے بعد بھی یورپ میں، ہمارے پاس اب بھی ایپل، ایمیزون، نیٹ فلکس یا گوگل کے مقابلے کی کوئی چیز نہیں ہے-

  • پچر پلانٹ کی طرح دو نئے گوشت خور پودے دریافت

    پچر پلانٹ کی طرح دو نئے گوشت خور پودے دریافت

    ایکواڈور: ماہرین نباتات نے پچر پلانٹ کی طرح دو نئے پودے دریافت کیے ہیں جو کیڑے مکوڑوں کو نوالہ بناتے ہیں جس کے بعد گوشت خور پودوں کی تعداد 115 ہوگئی ہے۔

    باغی ٹی وی : ایکواڈور، جرمنی اور امریکی ماہرین نے مشترکہ طورپر دو نئے پودے دریافت کیے ہیں جن کے کنارے پر چھوٹی مکھیاں اور حشرات چپک کر اندر چلےجاتے ہیں اور وہ انہیں نوالہ بنا لیتے ہیں پھولدار پودے کیڑے مکوڑوں کوچٹ کرکے تیزی سے ہضم کرجاتے ہیں۔

    گوگل کا بلوچستان کے نوجوانوں کیلئےایک ہزار اسکالر شپس دینے کا اعلان

    یہ نئے پودے بٹرورٹس قسم کے پودے سے تعلق رکھتے ہیں اور جینس پینگیوکیولا سے تعلق رکھتے ہیں زیادہ تر انواع شمالی نصف کرہ میں پائی جاتی ہیں لیکن یہ پودےایکواڈور سے لے کر اینڈس کی پہاڑیوں پر پائے جاتے ہیں اور پیرو کی سرحد پر بھی اسے دیکھا جاسکتا ہے ایک پودا 3400 میٹر بلندی پر ایک عمودی چٹان کے پاس دکھائی دیا ہے اور دوسرا پودا اس جگہ 2900 میٹر بلندی پر دریافت ہوا ہے-

    پاؤڈر سے کینسر کا دعویٰ کرنیوالوں کوجانسن اینڈ جانسن کمپنی کی 8.9 بلین ڈالر کی …

    یہ ہمہ گیر گوشت خور پودے ہیں جو چھوٹے حشرات کو نشانہ بناتے ہیں اور ان سے غذائیت چوس لیتے ہیں ان میں سے ایک کا نام Pinguicula jimburensis اور دوسرے کا نام Pinguicula ombrophila رکھا گیا ہے۔

    جرمنی میں لیبنز سنٹر فار ایگریکلچرل لینڈ سکیپ ریسرچ کے ڈاکٹر ٹائلو ہیننگ کہتے ہیں، یہ دونوں نئی ​​نسلیں صرف ایک ہی جگہ سے معلوم ہوتی ہیں، جہاں ہر اقسام میں صرف چند درجن پودے پائے جاتے ہیں۔

    ہوائی جہاز جتنے بڑے شہابیے سے زمین کو ایک بار پھر خطرہ

  • گوگل کا بلوچستان کے نوجوانوں کیلئےایک ہزار اسکالر شپس دینے کا اعلان

    گوگل کا بلوچستان کے نوجوانوں کیلئےایک ہزار اسکالر شپس دینے کا اعلان

    کوئٹہ: گوگل نے بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے ایک ہزار اسکالر شپس دینے کا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی: چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی نے سول سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے گوگل کے ساتھ ایک ایم او یو پر دستخط کر دیئے ہیں جس کے تحت گوگل بلوچستان کے نوجوانوں کو ایک ہزار اسکالر شپس دے گا جبکہ گوگل کمپنی صوبے کو 10 بسیں بھی فراہم کرے گی جو صوبے کے مختلف علاقوں میں چلائی جائیں گی۔

    تنویرالیاس کے خاندان میں اختلافات،باپ نے تنویر الیاس کو سینٹورس سے فارغ کر دیا

    انہوں نے کہا کہ صوبے کے اسکولوں میں بہت جلد گوگل کی مدد سے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کی کلاسز شروع کریں گے جس کے لیے گوگل 5 لاکھ امریکی ڈالرز دے گا جبکہ منتخب نوجوانوں کو گوگل کے تعاون سے تربیت دی جائے گی۔

    صوبائی چیف سیکرٹری نے کہا کہ نوجوانوں کی تربیت مکمل ہونے کے بعد انہیں روزگار کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے جبکہ گوگل تربیت مکمل کرنے والے نوجوانوں کو کیریئرسرٹیفکیٹ بھی دیئے جائیں گے-

    ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور ژالہ باری کی پیشگوئی

  • ہوائی جہاز جتنے بڑے شہابیے سے زمین کو ایک بار پھر خطرہ

    ہوائی جہاز جتنے بڑے شہابیے سے زمین کو ایک بار پھر خطرہ

    زمین کے قریب آنے والے شہابیے ہمیشہ سرخیوں میں رہتے ہیں کیونکہ کسی کے ساتھ ٹکرانے کے نتیجے میں انسانی زندگی کے لیے بڑے پیمانے پر تباہی ہو سکتی ہے حال ہی میں، نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن(ناسا) نے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہوائی جہاز جتنے بڑے شہابیے سے زمین کو ایک بار پھر خطرہ ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق ایک سو پچاس فِٹ بڑا شہابیہ تیزرفتاری سےزمین کی طرف بڑھ رہا ہےناسا نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ہوائی جہاز کے جتنا بڑا ایف زیڈ تھری نامی سیارچے کا کل زمین کے قریب سے گزرنے کا امکان ہے 150 فِٹ چوڑی چٹان 67656 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کی طرف بڑھ رہی ہے وہ 4,190,000 کلومیٹر کی دوری پر زمین کے قریب پہنچ جائے گا-

    گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سےانٹارکٹیکا برف کا پگھلاؤ عالمی سمندری نظام درہم برہم کرسکتا …

    ناسا کے مطابق، پانچ شہابیے ہمارے سیارے کے قریب پہنچیں گے، ان میں سے دو آج زمین کے قریب ترین پہنچیں گے،

    ناسا کے مطابق شہابیہ 2023 ایف یو 6: 45 فٹ کا ایک چھوٹا سیارچہ آج زمین کے قریب 1,870,000 کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچ رہا ہے۔

    شہابیہ ایف ایس 11 :82 فٹ ہوائی جہاز کے سائز کا سیارچہ آج 6,610,000 کلومیٹر کے قریب سے زمین سے گزرے گا۔

    شہابیہ ایف اے 7: ایک ہوائی جہاز کے سائز کا 92 فٹ کا سیارچہ 4 اپریل کو 2,250,000 کلومیٹر کی دوری پر زمین کے قریب ترین قریب پہنچے گا۔

    28 مارچ کوآسمان پر پانچ سیارے ایک ساتھ نظر آئیں گے

    شہابیہ ایف کیو 7: اپریل کو، ایک 65 فٹ گھر کے سائز کا سیارچہ 5,750,000 کلومیٹر کی دوری پر زمین کے قریب ترین قریب پہنچے گا۔

    شہابیہ ایف زیڈ 3: اگلے آنے والے سیارچوں میں سب سے بڑا سیارچہ جو کہ ہوائی جہاز کے سائز کا ہے 6 اپریل کو زمین کے قریب سے گزرنے کا امکان ہے۔ 150 فٹ چوڑی چٹان جو 67656 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس کا زمین سے قریب ترین نقطہ نظر 4,190,000 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے تاہم زمین کے لیے ممکنہ طور پر خطرناک خطرہ نہیں ہے-

    اس سے قبل 2020 میں بھی ناسا نے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘لندن آئی’ سے بڑا ایک پتھر خلا سے بَرق رفتاری کے ساتھ زمین کی جانب بڑھ رہا ہے اور یہ ممکنہ طور پر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

    40 نوری سال کے فاصلے پر15کروڑ سال قبل وجود میں آنیوالا نیا سیارہ دریافت

  • رات کو تھوڑی تاخیر سے کھانا کھانا صحت کیلئےنقصان دہ نہیں،تحقیق

    رات کو تھوڑی تاخیر سے کھانا کھانا صحت کیلئےنقصان دہ نہیں،تحقیق

    لندن: یہ جانا پہچانا مشورہ ہے کہ رات کو دیر تک کھانا وزن میں اضافے اور صحت کی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ لیکن تحقیق سے اب پتہ چلا ہے کہ رات کا کھانا رات 9.30 بجے ختم کرنا بالکل ٹھیک ہے یعنی اگر آپ اگلے دن کا ناشتہ تھوڑی تاخیر سے کرنے والے ہیں تو رات کو تھوڑی تاخیر سے کھانا کھانے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

    باغی ٹی وی : کنگز کالج لندن میں جینیٹک ایپڈیمیولوجی کے پروفیسر ٹِم اسپیکٹر نے برطانیہ میں 80 ہزار افراد پر تحقیق کی مطالعے میں انہوں نے کھانے کے مختلف اوقات اور وہ جن اوقات میں لوگ کھانا کھاتے ہیں ان کا جائزہ لیا۔

    ماہ رمضان ذائقے: دنیا بھر میں افطار کے خصوصی پکوان

    ذاتی غذائیت کی کمپنی Zoe کے ذریعے جمع کیے گئے تحقیق کے مکمل نتائج اس سال کے آخر تک شائع نہیں کیے جائیں گے لیکن ابتدائی نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ افراد صحت اور وزن کے مسائل سے بچتے ہوئے رات 9 بج کر 30 منٹ تک کی تاخیر سے کھانا کھا سکتے ہیں۔

    رات کے کھانے میں تاخیر کے سبب کسی مسئلے سے بچنے کا اہم طریقہ اگلے روز کا ناشتہ تاخیر سے کرنا ہے (صبح 11:30 یا اس کے بعد) تاکہ میٹابولزم کے لیے بہتر عامل اور 14 گھنٹوں کے فاقے کے دورانیے کو حاصل کیا جاسکے فاقے کا یہ دورانیہ بڑے پیمانے پر لوگوں کے لیے مؤثر تھا چاہے انہوں نے کتنی ہی تاخیر سے کھانا کھایا ہو۔

    انزائٹی کا حیرت انگیز علاج دریافت

    پروفیسر ٹِم اسپیکٹر کے مطابق رات کا کھانا جلدی کھانے کے فوائد کا خیال کم عمر افراد پر کیے جانے والے بہت کم مطالعوں پر مبنی ہے، جس میں فاقے کے دورانیے کو شامل نہیں کیا گیا تھاان مطالعوں میں رات کا کھانا جلدی کھانے کے انتہائی معمولی فوائد سامنے آئے اس لیے پروفیسر ٹِم کا خیال ہے کہ ان فوائد کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا ہے۔

    تحقیق میں دیکھا گیا کہ وہ لوگ جنہوں نے رات کو تاخیر سے کھانا کھایا لیکن ہر دن 14 گھنٹوں کا فاقہ کیا انہوں نے خود کے زیادہ توانا ہونے کے متعلق بتایا اور یہ مطالعات پہلے رات کا کھانا کھانے کا صرف ایک معمولی فائدہ ظاہر کرتی ہیں لہذا اس کا خیال ہے کہ فوائد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔

    پروفیسر سپیکٹر، کتاب فوڈ فار لائف: دی نیو سائنس آف ایٹنگ ویل کے مصنف، وقت کی پابندی کے ساتھ کھانے کا ایک چیمپئن ہے، جسے بہت سے مطالعات نے میٹابولک صحت اور وزن کم کرنے کے لیے مفید پایا ہے اور مطالعہ میں، جو لوگ دیر سے کھاتے ہیں لیکن دن میں 14 گھنٹے روزہ رکھتے ہیں ان میں زیادہ توانائی ہوتی ہے۔

    بریانی اے ٹی ایم مشین، جہاں گرما گرم بریانی آرڈر کرسکتے ہیں

  • دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے مزید خطرناک انکشاف

    دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے مزید خطرناک انکشاف

    اب تک خیال کیا جاتا تھا کہ ہیٹ ویو کا سامنا سطح پر رہنے والے جانداروں کو ہی ہوتا ہے مگر اب سائنسدانوں نے سمندر کی گہرائی میں ہیٹ ویوز کو دریافت کیا ہے جس سے دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے ایک اور خطرناک اثر کا عندیہ ملتا ہے۔

    باغی ٹی وی : جرنل نیچر کمیونیکیشن میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ہیٹ ویو کا سامنا ہماری زمین کی سطح پر رہنے والوں کو ہی نہیں ہوتا بلکہ اس سے بحری حیات کو بھی نقصان پہنچ رہا ہےاس تحقیق میں سمندر کے درجہ حرارت میں اضافے کا جائزہ لیا گیا اور دریافت ہوا کہ زیرآب بحری ہیٹ ویو کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے جس سے پانی کا درجہ حرارت 0.5 سے 3 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جاتا ہے ٹیم نے یہ بھی پایا کہ نیچے کی سمندری گرمی کی لہریں سطح پر گرمی کے بہت کم یا کوئی ثبوت کے ساتھ بھی ہوسکتی ہیں۔

    امریکا کےNational Oceanic and Atmospheric Administration (این او اے اے) کی اس تحقیق میں شامل ماہرین نے بتایا کہ ہم 10 سال سے زائد عرصے سے سمندر کی سطح پر ہیٹ ویو کا مشاہدہ کر رہے تھے پہلی بار ہم نے یہ جائزہ لیا کہ سطح پر ہیٹ ویو سے سمندر کی گہرائی میں کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    تحقیق میں ان ہیٹ ویوز کی خصوصیات اور سمندری دنیا پر اس کے اثرات کو مزید سمجھنے کی کوشش کی گئی۔ NOAA کے سائنسدانوں نے تین دہائیوں پر محیط ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے شمالی امریکہ کے مغربی اور مشرقی ساحلوں پر توجہ مرکوز کی۔

    محققین نے کہا کہ سمندروں کی گہرائی میں ہیٹ ویو سے دنیا بھر کے لیے بحری نظام پر ڈرامائی اثرات مرتب ہوئے ہیں جبکہ چھوٹی اور بڑی ہر طرح کی سمندری حیات کو نقصان پہنچا ہے عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث بڑھنے والی حرارت کا 90 فیصد حصہ سمندر جذب کرتے ہیں اور پانی کے اندرونی درجہ حرارت میں ایک صدی کے دوران ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہوا ہے۔

    تحقیق کے مطابق گزشتہ 100 سالوں میں سمندر تقریباً 1.5 ڈگری سیلسیس زیادہ گرم ہوا ہے اور اس نے گلوبل وارمنگ سے 90 فیصد اضافی گرمی لی ہے درجہ حرارت بڑھنے سے سمندری ہیٹ ویوز کی شرح میں گزشتہ دہائی کے دوران 50 فیصد اضافہ ہوا سطح پر درجہ حرارت میں اضافہ نہ ہونے پر بھی سمندر کی گہرائی میں ہیٹ ویو کا سامنا ہو سکتا ہےیہ واضح ہے کہ ہمیں سمندروں کی گہرائی پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ وہاں رہنے والے جانداروں کو سطح کے مقابلے میں بالکل مختلف قسم کی ہیٹ ویوز کا سامنا ہوتا ہے۔

    ان ہیٹ ویوز نے پوری دنیا میں سمندری ماحولیاتی نظام کی صحت کو ڈرامائی طور پر متاثر کیا ہے، جس سے پلانکٹن سے وہیل تک جانداروں کی نشوونما میں خلل پڑتا ہے۔ 2013 میں بننے والی سمندری ہیٹ ویو کو ’دی بلاب‘ کے نام سے جانا جاتا ہے جو کہ ہیٹ ویوز سمندری ماحولیاتی نظام کو پہنچنے والے نقصان کی ایک بہترین مثال ہے۔

    الاسکا کے ساحل کے قریب ترقی پذیر، اس وسیع، طویل گرمی کی لہر نے ماہی گیری کو تباہ کر دیا، زہریلے الگل پھولوں کا آغاز کیا اور تمام سمندری حیاتیات پر بڑے پیمانے پر اثر ڈالا۔

    محققین کا کہنا ہے کہ ان کے نتائج طویل مدتی سمندری نگرانی کے نظام کو برقرار رکھنے کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں، خاص طور پر جب سائنس دان صرف نیچے کی سمندری گرمی کی لہروں کے اثرات کو سمجھنا شروع کر رہے ہیں۔ نئی مشاہداتی صلاحیتوں کو فروغ دینے سے سائنسی دنیا کو سمندری گرمی کی لہروں کے ماضی، حال اور مستقبل کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع مل سکتا ہے۔