Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • دنیا بھر میں ارب پتی افراد کی تعداد اور ان کی مجموعی دولت میں کمی

    دنیا بھر میں ارب پتی افراد کی تعداد اور ان کی مجموعی دولت میں کمی

    امریکی جریدے فوربز نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ دنیا بھر میں ارب پتی افراد کی تعداد اور ان کی مجموعی دولت میں کمی آئی ہے-

    باغی ٹی وی: "نیویارک ٹائمز” کے مطابق امریکی جریدے فوربز کی جانب سے 2023 کے امیر ترین افراد کی فہرست جاری کی گئی ہے جس میں پرتعیش اشیا بنانے والی کمپنی ایل وی ایم ایچ کے مالک 211 ارب ڈالرز کے ساتھ سرفہرست ہیں یوں تو فرانس سے تعلق رکھنے والےبرنارڈ آرنلٹ کافی عرصے سے دنیا کے امیر ترین شخص ہیں اور اب اس کا باضابطہ اعلان اب ہو اہے-

    پاؤڈر سے کینسر کا دعویٰ کرنیوالوں کوجانسن اینڈ جانسن کمپنی کی 8.9 بلین ڈالر کی …

    کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق 74 سالہ مسٹر ارنلٹ، جن کا دنیا بھر میں ڈومین 75 برانڈز پر مشتمل ہے، جس میں لوئس ووٹن ہینڈ بیگ، ٹفنی ڈائمنڈ رِنگ، کرسچن ڈائر ڈریسز اور سیفورا ہائی اینڈ کاسمیٹکس شامل ہیں-

    برنارڈ آرنلٹ کی دولت میں 2022 کے دوران 53 ارب ڈالرز کا اضافہ ہوا، جبکہ ایلون مسک 39 ارب ڈالرز سے محروم ہونے کے بعد پہلے سے دوسرے نمبر پر پہنچ گئے جبکہ 2022 میں امیر ترین شخص کا اعزاز حاصل کرنے والے ایلون مسک 180 ارب ڈالرز کے ساتھ 2023 کے لیے دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص قرار پائے ہیں۔

    برنارڈ آرنلٹ اور ایلون مسک کی پوزیشن کو مستقبل قریب میں کوئی خطرہ نظر نہیں آتا ہے کیونکہ ایمازون کے بانی جیف بیزوس 114 ارب ڈالرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں، یعنی کافی بڑا فرق ہے اوریکل کمپنی کے مالک لیری ایلیسن 107 ارب ڈالرز کے ساتھ چوتھے، وارن بفٹ 106 ارب ڈالرز کے ساتھ 5 ویں، بل گیٹس 104 ارب ڈالرز کے ساتھ چھٹے اور مائیکل بلومبرگ 94.5 ارب ڈالرز کے ساتھ 7 ویں نمبر پر موجود ہیں۔

    گوگل کا بلوچستان کے نوجوانوں کیلئےایک ہزار اسکالر شپس دینے کا اعلان

    کارلوس سلم 93 ارب ڈالرز کے ساتھ دنیا کے 8 ویں امیر ترین میکش امبانی 83.4 ارب ڈالرز کے ساتھ 9 ویں نمبر پر ہیں اور رواں برس کے لیے ایشیا کے امیر ترین شخص بھی قرار پائے ہیں جبکہ اسٹیو بالمر 80.7 ارب ڈالرز کے ساتھ 10 ویں نمبر پر ہیں۔

    فوربز کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے امیر ترین افراد کے لیے 2023 ایک اور سخت سال ثابت ہونے والا ہے اور رواں برس بھی ان کی دولت میں کمی آنے کا امکان ہے رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2022 کے دوران دنیا کے 25 امیر ترین افراد کی دولت میں مجموعی طور پر 200 ارب ڈالرز کی کمی آئی دنیا بھر میں ارب پتی افراد کی تعداد اور ان کی مجموعی دولت میں کمی آئی۔

    گزشتہ سال 254 افراد ارب پتی کی حیثیت سے محروم ہوگئے اور باقی بچ جانے والے 2640 ارب پتی افراد ایک سال میں 500 ارب ڈالرز سے محروم ہوئے۔

    مجموعی طور پر، فوربز کی فہرست سے پتہ چلتا ہے کہ یورپ کے ارب پتیوں نے روایتی شعبوں جیسے کہ لگژری، ریٹیل، کنزیومر گڈز، خوراک اور صنعتی کمپنیوں میں پیسہ کمایا ہے۔ اس میں تقریباً کوئی بھی ارب پتی ٹیکنالوجی کے سربراہ نہیں ہیں-

    برازیل کے پرائمری سکول میں نوجوان نے کلہاڑٰ کے وار سے 4 بچوں کوہلاک اور …

    امیر ترین کمانے والوں کی فہرست میں سرفہرست، مسٹر ایسکنڈے نے کہا کہ دو یا تین سالوں میں، ٹیک کے واپس آنے کا امکان ہے جو امریکہ اور چین کی مسلسل اقتصادی طاقت کی عکاسی کرتا ہے 20 سال کوشش کرنے کے بعد بھی یورپ میں، ہمارے پاس اب بھی ایپل، ایمیزون، نیٹ فلکس یا گوگل کے مقابلے کی کوئی چیز نہیں ہے-

  • پچر پلانٹ کی طرح دو نئے گوشت خور پودے دریافت

    پچر پلانٹ کی طرح دو نئے گوشت خور پودے دریافت

    ایکواڈور: ماہرین نباتات نے پچر پلانٹ کی طرح دو نئے پودے دریافت کیے ہیں جو کیڑے مکوڑوں کو نوالہ بناتے ہیں جس کے بعد گوشت خور پودوں کی تعداد 115 ہوگئی ہے۔

    باغی ٹی وی : ایکواڈور، جرمنی اور امریکی ماہرین نے مشترکہ طورپر دو نئے پودے دریافت کیے ہیں جن کے کنارے پر چھوٹی مکھیاں اور حشرات چپک کر اندر چلےجاتے ہیں اور وہ انہیں نوالہ بنا لیتے ہیں پھولدار پودے کیڑے مکوڑوں کوچٹ کرکے تیزی سے ہضم کرجاتے ہیں۔

    گوگل کا بلوچستان کے نوجوانوں کیلئےایک ہزار اسکالر شپس دینے کا اعلان

    یہ نئے پودے بٹرورٹس قسم کے پودے سے تعلق رکھتے ہیں اور جینس پینگیوکیولا سے تعلق رکھتے ہیں زیادہ تر انواع شمالی نصف کرہ میں پائی جاتی ہیں لیکن یہ پودےایکواڈور سے لے کر اینڈس کی پہاڑیوں پر پائے جاتے ہیں اور پیرو کی سرحد پر بھی اسے دیکھا جاسکتا ہے ایک پودا 3400 میٹر بلندی پر ایک عمودی چٹان کے پاس دکھائی دیا ہے اور دوسرا پودا اس جگہ 2900 میٹر بلندی پر دریافت ہوا ہے-

    پاؤڈر سے کینسر کا دعویٰ کرنیوالوں کوجانسن اینڈ جانسن کمپنی کی 8.9 بلین ڈالر کی …

    یہ ہمہ گیر گوشت خور پودے ہیں جو چھوٹے حشرات کو نشانہ بناتے ہیں اور ان سے غذائیت چوس لیتے ہیں ان میں سے ایک کا نام Pinguicula jimburensis اور دوسرے کا نام Pinguicula ombrophila رکھا گیا ہے۔

    جرمنی میں لیبنز سنٹر فار ایگریکلچرل لینڈ سکیپ ریسرچ کے ڈاکٹر ٹائلو ہیننگ کہتے ہیں، یہ دونوں نئی ​​نسلیں صرف ایک ہی جگہ سے معلوم ہوتی ہیں، جہاں ہر اقسام میں صرف چند درجن پودے پائے جاتے ہیں۔

    ہوائی جہاز جتنے بڑے شہابیے سے زمین کو ایک بار پھر خطرہ

  • گوگل کا بلوچستان کے نوجوانوں کیلئےایک ہزار اسکالر شپس دینے کا اعلان

    گوگل کا بلوچستان کے نوجوانوں کیلئےایک ہزار اسکالر شپس دینے کا اعلان

    کوئٹہ: گوگل نے بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے ایک ہزار اسکالر شپس دینے کا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی: چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی نے سول سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے گوگل کے ساتھ ایک ایم او یو پر دستخط کر دیئے ہیں جس کے تحت گوگل بلوچستان کے نوجوانوں کو ایک ہزار اسکالر شپس دے گا جبکہ گوگل کمپنی صوبے کو 10 بسیں بھی فراہم کرے گی جو صوبے کے مختلف علاقوں میں چلائی جائیں گی۔

    تنویرالیاس کے خاندان میں اختلافات،باپ نے تنویر الیاس کو سینٹورس سے فارغ کر دیا

    انہوں نے کہا کہ صوبے کے اسکولوں میں بہت جلد گوگل کی مدد سے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کی کلاسز شروع کریں گے جس کے لیے گوگل 5 لاکھ امریکی ڈالرز دے گا جبکہ منتخب نوجوانوں کو گوگل کے تعاون سے تربیت دی جائے گی۔

    صوبائی چیف سیکرٹری نے کہا کہ نوجوانوں کی تربیت مکمل ہونے کے بعد انہیں روزگار کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے جبکہ گوگل تربیت مکمل کرنے والے نوجوانوں کو کیریئرسرٹیفکیٹ بھی دیئے جائیں گے-

    ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور ژالہ باری کی پیشگوئی

  • ہوائی جہاز جتنے بڑے شہابیے سے زمین کو ایک بار پھر خطرہ

    ہوائی جہاز جتنے بڑے شہابیے سے زمین کو ایک بار پھر خطرہ

    زمین کے قریب آنے والے شہابیے ہمیشہ سرخیوں میں رہتے ہیں کیونکہ کسی کے ساتھ ٹکرانے کے نتیجے میں انسانی زندگی کے لیے بڑے پیمانے پر تباہی ہو سکتی ہے حال ہی میں، نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن(ناسا) نے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہوائی جہاز جتنے بڑے شہابیے سے زمین کو ایک بار پھر خطرہ ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق ایک سو پچاس فِٹ بڑا شہابیہ تیزرفتاری سےزمین کی طرف بڑھ رہا ہےناسا نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ہوائی جہاز کے جتنا بڑا ایف زیڈ تھری نامی سیارچے کا کل زمین کے قریب سے گزرنے کا امکان ہے 150 فِٹ چوڑی چٹان 67656 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کی طرف بڑھ رہی ہے وہ 4,190,000 کلومیٹر کی دوری پر زمین کے قریب پہنچ جائے گا-

    گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سےانٹارکٹیکا برف کا پگھلاؤ عالمی سمندری نظام درہم برہم کرسکتا …

    ناسا کے مطابق، پانچ شہابیے ہمارے سیارے کے قریب پہنچیں گے، ان میں سے دو آج زمین کے قریب ترین پہنچیں گے،

    ناسا کے مطابق شہابیہ 2023 ایف یو 6: 45 فٹ کا ایک چھوٹا سیارچہ آج زمین کے قریب 1,870,000 کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچ رہا ہے۔

    شہابیہ ایف ایس 11 :82 فٹ ہوائی جہاز کے سائز کا سیارچہ آج 6,610,000 کلومیٹر کے قریب سے زمین سے گزرے گا۔

    شہابیہ ایف اے 7: ایک ہوائی جہاز کے سائز کا 92 فٹ کا سیارچہ 4 اپریل کو 2,250,000 کلومیٹر کی دوری پر زمین کے قریب ترین قریب پہنچے گا۔

    28 مارچ کوآسمان پر پانچ سیارے ایک ساتھ نظر آئیں گے

    شہابیہ ایف کیو 7: اپریل کو، ایک 65 فٹ گھر کے سائز کا سیارچہ 5,750,000 کلومیٹر کی دوری پر زمین کے قریب ترین قریب پہنچے گا۔

    شہابیہ ایف زیڈ 3: اگلے آنے والے سیارچوں میں سب سے بڑا سیارچہ جو کہ ہوائی جہاز کے سائز کا ہے 6 اپریل کو زمین کے قریب سے گزرنے کا امکان ہے۔ 150 فٹ چوڑی چٹان جو 67656 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس کا زمین سے قریب ترین نقطہ نظر 4,190,000 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے تاہم زمین کے لیے ممکنہ طور پر خطرناک خطرہ نہیں ہے-

    اس سے قبل 2020 میں بھی ناسا نے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘لندن آئی’ سے بڑا ایک پتھر خلا سے بَرق رفتاری کے ساتھ زمین کی جانب بڑھ رہا ہے اور یہ ممکنہ طور پر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

    40 نوری سال کے فاصلے پر15کروڑ سال قبل وجود میں آنیوالا نیا سیارہ دریافت

  • رات کو تھوڑی تاخیر سے کھانا کھانا صحت کیلئےنقصان دہ نہیں،تحقیق

    رات کو تھوڑی تاخیر سے کھانا کھانا صحت کیلئےنقصان دہ نہیں،تحقیق

    لندن: یہ جانا پہچانا مشورہ ہے کہ رات کو دیر تک کھانا وزن میں اضافے اور صحت کی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ لیکن تحقیق سے اب پتہ چلا ہے کہ رات کا کھانا رات 9.30 بجے ختم کرنا بالکل ٹھیک ہے یعنی اگر آپ اگلے دن کا ناشتہ تھوڑی تاخیر سے کرنے والے ہیں تو رات کو تھوڑی تاخیر سے کھانا کھانے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

    باغی ٹی وی : کنگز کالج لندن میں جینیٹک ایپڈیمیولوجی کے پروفیسر ٹِم اسپیکٹر نے برطانیہ میں 80 ہزار افراد پر تحقیق کی مطالعے میں انہوں نے کھانے کے مختلف اوقات اور وہ جن اوقات میں لوگ کھانا کھاتے ہیں ان کا جائزہ لیا۔

    ماہ رمضان ذائقے: دنیا بھر میں افطار کے خصوصی پکوان

    ذاتی غذائیت کی کمپنی Zoe کے ذریعے جمع کیے گئے تحقیق کے مکمل نتائج اس سال کے آخر تک شائع نہیں کیے جائیں گے لیکن ابتدائی نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ افراد صحت اور وزن کے مسائل سے بچتے ہوئے رات 9 بج کر 30 منٹ تک کی تاخیر سے کھانا کھا سکتے ہیں۔

    رات کے کھانے میں تاخیر کے سبب کسی مسئلے سے بچنے کا اہم طریقہ اگلے روز کا ناشتہ تاخیر سے کرنا ہے (صبح 11:30 یا اس کے بعد) تاکہ میٹابولزم کے لیے بہتر عامل اور 14 گھنٹوں کے فاقے کے دورانیے کو حاصل کیا جاسکے فاقے کا یہ دورانیہ بڑے پیمانے پر لوگوں کے لیے مؤثر تھا چاہے انہوں نے کتنی ہی تاخیر سے کھانا کھایا ہو۔

    انزائٹی کا حیرت انگیز علاج دریافت

    پروفیسر ٹِم اسپیکٹر کے مطابق رات کا کھانا جلدی کھانے کے فوائد کا خیال کم عمر افراد پر کیے جانے والے بہت کم مطالعوں پر مبنی ہے، جس میں فاقے کے دورانیے کو شامل نہیں کیا گیا تھاان مطالعوں میں رات کا کھانا جلدی کھانے کے انتہائی معمولی فوائد سامنے آئے اس لیے پروفیسر ٹِم کا خیال ہے کہ ان فوائد کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا ہے۔

    تحقیق میں دیکھا گیا کہ وہ لوگ جنہوں نے رات کو تاخیر سے کھانا کھایا لیکن ہر دن 14 گھنٹوں کا فاقہ کیا انہوں نے خود کے زیادہ توانا ہونے کے متعلق بتایا اور یہ مطالعات پہلے رات کا کھانا کھانے کا صرف ایک معمولی فائدہ ظاہر کرتی ہیں لہذا اس کا خیال ہے کہ فوائد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔

    پروفیسر سپیکٹر، کتاب فوڈ فار لائف: دی نیو سائنس آف ایٹنگ ویل کے مصنف، وقت کی پابندی کے ساتھ کھانے کا ایک چیمپئن ہے، جسے بہت سے مطالعات نے میٹابولک صحت اور وزن کم کرنے کے لیے مفید پایا ہے اور مطالعہ میں، جو لوگ دیر سے کھاتے ہیں لیکن دن میں 14 گھنٹے روزہ رکھتے ہیں ان میں زیادہ توانائی ہوتی ہے۔

    بریانی اے ٹی ایم مشین، جہاں گرما گرم بریانی آرڈر کرسکتے ہیں

  • دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے مزید خطرناک انکشاف

    دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے مزید خطرناک انکشاف

    اب تک خیال کیا جاتا تھا کہ ہیٹ ویو کا سامنا سطح پر رہنے والے جانداروں کو ہی ہوتا ہے مگر اب سائنسدانوں نے سمندر کی گہرائی میں ہیٹ ویوز کو دریافت کیا ہے جس سے دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے ایک اور خطرناک اثر کا عندیہ ملتا ہے۔

    باغی ٹی وی : جرنل نیچر کمیونیکیشن میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ہیٹ ویو کا سامنا ہماری زمین کی سطح پر رہنے والوں کو ہی نہیں ہوتا بلکہ اس سے بحری حیات کو بھی نقصان پہنچ رہا ہےاس تحقیق میں سمندر کے درجہ حرارت میں اضافے کا جائزہ لیا گیا اور دریافت ہوا کہ زیرآب بحری ہیٹ ویو کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے جس سے پانی کا درجہ حرارت 0.5 سے 3 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جاتا ہے ٹیم نے یہ بھی پایا کہ نیچے کی سمندری گرمی کی لہریں سطح پر گرمی کے بہت کم یا کوئی ثبوت کے ساتھ بھی ہوسکتی ہیں۔

    امریکا کےNational Oceanic and Atmospheric Administration (این او اے اے) کی اس تحقیق میں شامل ماہرین نے بتایا کہ ہم 10 سال سے زائد عرصے سے سمندر کی سطح پر ہیٹ ویو کا مشاہدہ کر رہے تھے پہلی بار ہم نے یہ جائزہ لیا کہ سطح پر ہیٹ ویو سے سمندر کی گہرائی میں کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    تحقیق میں ان ہیٹ ویوز کی خصوصیات اور سمندری دنیا پر اس کے اثرات کو مزید سمجھنے کی کوشش کی گئی۔ NOAA کے سائنسدانوں نے تین دہائیوں پر محیط ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے شمالی امریکہ کے مغربی اور مشرقی ساحلوں پر توجہ مرکوز کی۔

    محققین نے کہا کہ سمندروں کی گہرائی میں ہیٹ ویو سے دنیا بھر کے لیے بحری نظام پر ڈرامائی اثرات مرتب ہوئے ہیں جبکہ چھوٹی اور بڑی ہر طرح کی سمندری حیات کو نقصان پہنچا ہے عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث بڑھنے والی حرارت کا 90 فیصد حصہ سمندر جذب کرتے ہیں اور پانی کے اندرونی درجہ حرارت میں ایک صدی کے دوران ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہوا ہے۔

    تحقیق کے مطابق گزشتہ 100 سالوں میں سمندر تقریباً 1.5 ڈگری سیلسیس زیادہ گرم ہوا ہے اور اس نے گلوبل وارمنگ سے 90 فیصد اضافی گرمی لی ہے درجہ حرارت بڑھنے سے سمندری ہیٹ ویوز کی شرح میں گزشتہ دہائی کے دوران 50 فیصد اضافہ ہوا سطح پر درجہ حرارت میں اضافہ نہ ہونے پر بھی سمندر کی گہرائی میں ہیٹ ویو کا سامنا ہو سکتا ہےیہ واضح ہے کہ ہمیں سمندروں کی گہرائی پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ وہاں رہنے والے جانداروں کو سطح کے مقابلے میں بالکل مختلف قسم کی ہیٹ ویوز کا سامنا ہوتا ہے۔

    ان ہیٹ ویوز نے پوری دنیا میں سمندری ماحولیاتی نظام کی صحت کو ڈرامائی طور پر متاثر کیا ہے، جس سے پلانکٹن سے وہیل تک جانداروں کی نشوونما میں خلل پڑتا ہے۔ 2013 میں بننے والی سمندری ہیٹ ویو کو ’دی بلاب‘ کے نام سے جانا جاتا ہے جو کہ ہیٹ ویوز سمندری ماحولیاتی نظام کو پہنچنے والے نقصان کی ایک بہترین مثال ہے۔

    الاسکا کے ساحل کے قریب ترقی پذیر، اس وسیع، طویل گرمی کی لہر نے ماہی گیری کو تباہ کر دیا، زہریلے الگل پھولوں کا آغاز کیا اور تمام سمندری حیاتیات پر بڑے پیمانے پر اثر ڈالا۔

    محققین کا کہنا ہے کہ ان کے نتائج طویل مدتی سمندری نگرانی کے نظام کو برقرار رکھنے کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں، خاص طور پر جب سائنس دان صرف نیچے کی سمندری گرمی کی لہروں کے اثرات کو سمجھنا شروع کر رہے ہیں۔ نئی مشاہداتی صلاحیتوں کو فروغ دینے سے سائنسی دنیا کو سمندری گرمی کی لہروں کے ماضی، حال اور مستقبل کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع مل سکتا ہے۔

  • اگر پودوں کو مناسب مقدار میں پانی نہیں دیاجائے یا کاٹا جائے تو وہ آہ و بکا کرتے ہیں،تحقیق

    اگر پودوں کو مناسب مقدار میں پانی نہیں دیاجائے یا کاٹا جائے تو وہ آہ و بکا کرتے ہیں،تحقیق

    تل ابیب: ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگر پودوں کو مناسب مقدار میں پانی نہیں دیاجائے یا کاٹا جائے تو وہ آہ و بکا کرتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: ماضی میں کی جانے والے ایک تحقیق میں سینسر کو استعمال کرتے ہوئے پودوں سے نکلنے والی الٹرا سونک لہروں کو ریکارڈ کیا جاچکا ہےحال ہی میں کی جانے والی ایک نئی تحقیق میں پہلی بار یہ بات سامنے آئی ہے کہ پودے آواز نکالتے ہیں جس کے متعلق محققین نے اندازہ لگایا کہ تیز سماعت رکھنے والے جانور یہ آوازیں 16 فٹ کی دوری سے سن سکتے ہیں۔

    100 دن کیلئےزیرآب موجود سائنسدان کا نئی نوع دریافت کرنےکا دعویٰ

    سائنسئ جرنل نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق میں مصنفین نے پایا کہ جن پودوں کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے یا جن کے تنوں کو حال ہی میں کاٹا گیا ہے وہ فی گھنٹہ تقریباً 35 آوازیں پیدا کرتے ہیں۔ لیکن اچھی طرح سے ہائیڈریٹڈ اور کٹے ہوئے پودے زیادہ پرسکون ہوتے ہیں، جو فی گھنٹہ صرف ایک آواز پیدا کرتے ہیں۔

    آپ نے شاید کبھی پیاسے پودے کو شور کرتے نہیں سنا ہوگا کہ آوازیں الٹراسونک ہیں تقریباً 20-100 کلو ہرٹز۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ اتنے اونچے ہیں کہ بہت کم انسان انہیں سن سکتے ہیں۔ کچھ جانور، تاہم، شاید کر سکتے ہیں چمگادڑ، چوہے اور کیڑے ممکنہ طور پر پودوں کی آوازوں سے بھری ہوئی دنیا میں رہ سکتے ہیں، اور اسی ٹیم کےپچھلے کام سے پتہ چلا ہےکہ پودے بھی جانوروں کی آوازوں کا جواب دیتے ہیں۔

    انسان چوںکہ بلند فریکوئنسی کی آواز نہیں سکتا اس لیے محققین نے ان آوازوں کی فریکوئنسی کم کی تاکہ ان آوازوں کی سماعت کی جاسکے اور اس طرح معلوم ہوا کہ ان آوازوں کی تیزی اتنی ہی ہوتی ہے جتنی انسانی گفتگو کی ہوتی ہے۔

    نیند کی کمی دوسروں کی مدد کرنے کے رجحان کو کم کرسکتی ہے،تحقیق

    عام طور پر پودے پاپ کارن کے پھٹنے جیسی آوازیں ہر گھنٹے میں اوسطاً ایک سے کم بار نکالتے ہیں۔ ان آوازوں کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ یہ تنے میں بننے والے بلبلوں کے پھٹنے سے پیدا ہوتی ہیں۔

    لیکن تحقیق میں دیکھا گیا کہ ٹماٹر کے پودے جن کو پانچ دنوں تک پانی نہیں دیا گیا ان پودوں میں سے آوازیں زیادہ شدت کے ساتھ نکلیں۔ یہ پودے ہر دو منٹ میں اوسطاً ایک سے زیادہ بار ایسی آوازیں نکالتے تھے جب ان پودوں کو کاٹا جاتا تب یہ پودے ہر ڈھائی منٹ میں ایک تنبیہی آواز نکالتے تھے۔

    تحقیق میں شامل محقق ہاڈنی کا کہنا ہے کہ پودوں میں آواز کی ہڈی یا پھیپھڑے نہیں ہوتے ہیں۔ موجودہ نظریہ کہ پودے اپنے زائلم پر شور کا مرکز کیسے بناتے ہیں، وہ ٹیوبیں جو پانی اور غذائی اجزاء کو اپنی جڑوں سے اپنے تنوں اور پتوں تک پہنچاتی ہیں۔ زائلم میں پانی کو سطح کے تناؤ سے ایک ساتھ رکھا جاتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے پانی پینے کے تنکے سے چوسا جاتا ہے۔ جب زائلم میں ہوا کا بلبلہ بنتا ہے یا ٹوٹ جاتا ہے، تو یہ تھوڑا سا پاپنگ شور کر سکتا ہے، اور خشک سالی کے دباؤ کے دوران بلبلے کی تشکیل کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن درست طریقہ کار کو مزید مطالعہ کی ضرورت ہے-

    پاکستان میں فیس بک اور انسٹاگرام کو ویریفائیڈ کروانے کی فیس کتنی اور کن شرائط …

  • 100 دن کیلئےزیرآب موجود سائنسدان کا نئی نوع دریافت کرنےکا دعویٰ

    100 دن کیلئےزیرآب موجود سائنسدان کا نئی نوع دریافت کرنےکا دعویٰ

    فلوریڈا: گزشتہ 30 دنوں سے زیر آب رہنے والے سائنسدان نے ایک نئی نوع کے دریافت ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سابق نیول افسر ڈاکٹر جوزف ڈِٹوری جو فلوریڈا لگون میں سطح سمندر سے 30 فٹ کی گہرائی میں ریکارڈ بنانے کی غرض سے100 دن کے لیے موجود ہیں۔ اس کوشش کا ایک مقصد طویل مدت تک جسم پر پڑنے والے انتہائی دباؤ کے سبب ہونے والے اثرات کا مطالعہ کرنا بھی ہے۔البتہ تجربے کے دوران ایک مہینے میں ہی ان کی ٹیم نے غیر متوقع طور پر ایک مختلف سائنسی دریافت کی ہے۔

    جامعہ فلوریڈا کے ایک پروفیسر100 دن زیر آب رہیں گے

    ڈاکٹر جوزف ڈِٹوری کے مطابق ٹیم نے ایک خلیے کا سیلیئٹ دریافت کیا جس کے متعلق ٹیم کا خیال ہے کہ یہ ایک بالکل نئی نوع ہے۔ لوگوں نے ہزاروں بار یہاں غوطہ خوری کی، یہ نوع یہیں تھی صرف ہم نے نہیں دیکھا تھا تاہم، مائیکرو بائیولوجسٹ اس کے نئے نوع ہونے کی تصدیق کرنے کے لیے اس کا جائزہ لیں گے۔

    ڈاکٹر جوزف پُر امید ہیں کہ یہ دریافت بھی ان متعدد دریافت میں سے ایک ہوگی جو انہوں نے زیر آب گزارے جانے والے طویل وقت میں کی ہیں۔

    سائنس دانوں کا خیال ہے کہ تجربے کے دوران جسم پر پڑنے والے شدید دباؤ کے سبب ان کا قد ایک انچ تک کم ہو سکتا ہے۔ بالکل اس ہی طرح جیسے خلاء میں وقت گزارنے کے بعد خلاء نوردوں کا قد تین فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

    ناسا نے چاند پرجانےکیلئے پہلی بارخاتون اورسیاہ فام خلانوردوں کومنتخب کرلیا

    واضح رہے کہ اس سے قبل وہ زیرِ آب بلبلے نما مرکزمیں وہ 16 روز 22 میٹرگہرائی میں گزارکر تحقیق کرچکے ہیں۔ تاہم گنیزبک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق 2014 میں بروس سینٹرل اور جیسیکا فائن جولس انڈر سی لاج میں 73 دن تک رہ کر عالمی ریکارڈ بناچکے ہیں اب پروفیسر جوزف طویل تحقیق کے ساتھ یہ ریکارڈ بھی توڑنا چاہتے ہیں وہ فلوریڈا کے پاس کی لارگو لگون کے پاس 22 فٹ گہرائی میں بنے بلبلہ نما گھر میں آبی حیات پر تحقیق کر رہے ہیں-

    اس منصوبے کو ’پروجیکٹ نیپچون‘ کا نام دیا گیا ہے۔ جو ڈیٹوری چاہتے ہیں کہ ایک جانب وہ سمندر کی گہرائی میں رہ کر نئی دریافتیں کریں تو دوسری جانب وہ اتنے طویل عرصے تک پانی نے اندر رہ کر خود اپنے جسم پر اس کے اثرات دیکھنا چاہتے ہیں۔

    سائنسدانوں نے کورونا وائرس کو پھیلانے والے ممکنہ جانور کی شناخت کرلی

  • ناسا نے چاند پرجانےکیلئے پہلی بارخاتون اورسیاہ فام خلانوردوں کومنتخب کرلیا

    ناسا نے چاند پرجانےکیلئے پہلی بارخاتون اورسیاہ فام خلانوردوں کومنتخب کرلیا

    امریکی خلائی ادارے ناسا نے انسانوں کو چاند پر بھیجنے کے اپنے مشن میں پہلی بار ایک خاتون خلانورد کو منتخب کرلیا۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی خلانورد کرسٹینا کوچ ناسا کے آرٹیمس ٹو مشن کی چار رکنی خلانوردوں کی ٹیم میں شامل ہیں کرسٹینا کوچ کو سب سے طویل مسلسل خلائی پرواز کرنے والی خاتون کا اعزاز بھی حاصل ہے، تاہم اب وہ ناسا کی جانب سے چاند پر جانے والی پہلی خاتون خلانورد کا اعزاز بھی اپنے نام کرلیں گی۔

    سعودی عرب کا پہلی خاتون خلاباز کو خلائی مشن پر بھیجنےکا اعلان

    ناسا کے آرٹیمس ٹو مشن کی ٹیم میں پہلی بار ایک افریقی امریکن اور کینیڈین خلانورد کا بھی انتخاب کیا گیا ہے آرٹیمس ٹو مشن کی ٹیم میں کرسٹینا کوچ کے ساتھ افریقی امریکن وکٹر گلوور، ریڈ وائزمین، جیریمی ہینسن شامل ہیں اور منصوبے کے تحت 2025 کے اوائل میں یہ چار خلاباز چاند کے گرد کیپسول (خلائی گاڑی) اڑائیں گے۔

    کرسٹینا کوچ چاند کے سفر پر جانے والی پہلی خاتون خلاباز ہوں گی جبکہ وکٹر گلوور ایسا کرنے والے پہلے سیاہ فام خلاباز ہوں گے۔

    برطانوی خبررساں ادارے ” بی بی سی ” کے مطابق ناسا کا کہنا ہے کہ خاتون اور غیر سفید فام شخص کے انتخاب کا مقصد خلائی تحقیق کو متنوع بنانا ہے۔ چاند پر جانے والے گذشتہ منصوبوں میں صرف سفید فام عملے کا انتخاب کیا گیا تھا۔

    مشن میں شامل 47 سالہ رِیڈ وائزمین امریکی بحریہ کے پائلٹ جو ایک عرصے تک ناسا میں خلابازوں کے دفتر کے سربراہ رہے۔ اس سے قبل وہ ایک بار 2015 میں انٹرنیشنل سپیس سٹیشن تک کا خلائی دورہ کر چکے ہیں۔

    سعودی عرب میں نبطی دور کی حنوط شدہ خاتون کا چہرہ بحال

    46 سالہ وکٹر گلوور امریکی بحریہ کے ٹیسٹ پائلٹ۔ انہوں نے 2013 میں ناسا میں شمولیت اختیار کی اور 2020 میں خلا کی پہلی اُڑان بھری۔ وہ چھ ماہ تک کے لمبے عرصے تک سپیس سٹیشن پر رہنے والے پہلے افریقی نژاد امریکی تھے۔

    44 سالہ کرسٹینا کوچ ایک الیکٹریکل انجینیئر۔ انہوں نے لگاتار 328 دن خلا میں گزارے اور یہ کسی خاتون کے لیے خلا میں سب سے طویل وقت گزارنے کا ریکارڈ ہے۔ اکتوبر 2019 میں پہلی بار صرف خواتین کا ایک مشن خلا کی سیر کو گیا جس میں کرسٹینا کا ساتھ ناسا کی خلاباز جیسیکا میئر نے دیا تھا۔

    47 سالہ جیرمی ہینسن کینیڈا کی خلائی ایجنسی میں شمولیت سے قبل وہ رائل کینیڈین ایئر فورس میں فائٹر پائلٹ تھے۔ یہ خلا میں ان کی پہلی اُڑان ہوگی۔

    زمین کی اندرونی تہہ نے الٹی جانب گھومنا شروع کردیا ہے،تحقیق

    واضح رہے کہ ناسا کا خلائی مشن چاروں خلانوردوں کو لے کر اگلے سال کے اوائل میں چاند پر جائے گا، جس کے لیے اس ٹیم کی سخت ٹریننگ شروع ہوگئی ہے ناسا کے آرٹیمس ٹو مشن میں خلانوردوں کی یہ 4 رکنی ٹیم چاند پر نہیں اُترے گی لیکن ان کا یہ مشن بعد میں جانے والے خلابازوں کے لیے چاند پر اترنے کی راہ ہموار کرے گا۔

    چاند پر آخری بار انسانی خلائی پرواز مشن اپولو 17کے ذریعے دسمبر 1972 میں گئی تھی، یاد رہے کہ چاند پر پہلی بار انسانی قدم 1969 میں اپولو مشن 11 کے تحت رکھا گیا تھا۔

  • گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سےانٹارکٹیکا برف کا پگھلاؤ عالمی سمندری نظام درہم برہم کرسکتا ہے، تحقیق

    گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سےانٹارکٹیکا برف کا پگھلاؤ عالمی سمندری نظام درہم برہم کرسکتا ہے، تحقیق

    سِڈنی: ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ انٹارکٹیکا کے گرد موجود برف کا پگھلاؤ 2050 تک بڑے سمندروں کی کرنٹ کو سست رفتار کر دے گا۔ ایسا ہونے سے سمندری نظام اور سمندری غذا پر تباہ کن اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: جرنل نیچر میں شائع نیو ساؤتھ ویلز یونیورسٹی کے سائنس دانوں کی سربراہی میں اور بدھ کے روز شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ سمندری کرنٹ سمندر کے پانی کی مسلسل، متوقع، خم دارحرکات ہوتی ہیں جو کششِ ثقل، ہوا اور پانی کی کثافت کےسبب چلتی ہیں۔ سمندر کا پانی عمودی اور ممدودی دو سمتوں میں حرکت کرتا ہے ممدود حرکات کو کرنٹ جبکہ عمودی تبدیلیوں کو اپ ویلنگز یا ڈاؤن ویلنگز کہا جاتا ہے ایسا ہونے سے دنیا کا موسم صدیوں تک کے لیے تبدیل ہوسکتا ہے اور سطح سمندر میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوسکتا ہے۔

    سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر گرین ہاؤس گیس کا اخراج موجودہ مقدار پر برقرار رہا تو سمندروں کے گہرے حصوں میں چلنے والی کرنٹ 30 سالوں کے اندر 40 فی صد تک سست ہوسکتی ہے یہ بالواسطہ اثر سمندری حیات، موسمیاتی طرز کو متاثر کرے گا اور سطح سمندر میں اضافے کا سبب بنے گا۔

    محققین کے مطابق ممکنہ سنگین نتائج سے بچنے کے لیے رواں دہائی میں گرین ہاؤس گیس کےاخراج کی بڑے مقدار میں کٹوتی ضروری ہے۔ اگر یہ کمی نہ کی گئی تو بڑے پیمانے پر سمندری حیات ختم ہوسکتی ہے اور سمندروں کو گرمی جذب کرنے اور اپنے اندر رکھنے میں مشکل کا سامنا ہوگا اور برف کے پگھلنے کا عمل مزید تیز ہوجائے گا۔

    یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز میں قائم کلائمیٹ چینج ریسرچ سے تعلق رکھنے والے اور تحقیق کے شریک مصنف پروفیسر میٹ انگلینڈ کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال گہرے سمندر کی کرنٹ کے انہدام کی جانب لے جارہی ہے۔

    آسٹریلوی ریسرچ کونسل کے سینٹر فار ایکسی لینس ان انٹارکٹک سائنس کے ڈپٹی ڈائریکٹر میتھیو انگلینڈ نے کہا کہ "ماضی میں، یہ الٹنے والی گردشیں 1,000 سال یا اس سے زیادہ کے دوران تبدیل ہوئیں، اور ہم چند دہائیوں میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ تو یہ بہت ڈرامائی ہے-

    زیادہ تر پچھلے مطالعات میں اٹلانٹک میریڈینل اوورٹرننگ سرکولیشن (AMOC) پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، جو کرنٹ کا نظام ہے جو گرم پانی کو شمالی بحر اوقیانوس میں لے جاتا ہے جبکہ ٹھنڈا، نمکین پانی پھر ڈوب کر جنوب کی طرف بہتا ہے۔

    رپورٹ کے مصنفین نے ایک بریفنگ میں کہا کہ اس کے جنوبی بحر کے مساوی کا کم مطالعہ کیا گیا ہے لیکن یہ غذائیت سے بھرپور پانی کو شمال میں انٹارکٹیکا سے لے کر، نیوزی لینڈ سے گزرتے ہوئے اور شمالی بحر الکاہل، شمالی بحر اوقیانوس اور بحر ہند میں منتقل کرتا ہے گہرے سمندر کے پانی کی گردش کو سمندر کی صحت کے لیے اہم سمجھا جاتا ہےاوریہ فضا سے جذب ہونے والے کاربن کو الگ کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، جب کہ AMOC کی سست روی کا مطلب ہے کہ گہرا بحر اوقیانوس سرد ہو جائے گاانٹارکٹک میں گھنے پانی کی سست گردش کا مطلب ہے کہ بحر جنوبی کے گہرے پانی گرم ہو جائیں گےاس سست روی کے بارےمیں ایک چیز یہ ہے کہ انٹارکٹیکا کے ارد گرد برف کے شیلف کی بنیاد پر سمندر میں مزید گرمی کے بارے میں رائے ہوسکتی ہے۔ اور یہ زیادہ برف پگھلنے کا باعث بنے گا، اصل تبدیلی کو تقویت دے گا-