Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • چین میں 49 فٹ سے زائد لمبی گردن والا ڈائنوسار دریافت

    چین میں 49 فٹ سے زائد لمبی گردن والا ڈائنوسار دریافت

    بیجنگ: چین میں سبزہ خور سوروپوڈس ڈائنوسار کی ایک نوع دریافت ہوئی ہے جس کی گردن 15 میٹر یعنی بچوں کی اسکول بس سے بھی 10 فٹ لمبی تھی۔

    باغی ٹی وی: اس کا نام ’مامین چی سارس سائنوسینیڈورم‘ رکھا گیا تھا۔ اگرچہ اس کے رکازار 1987 میں چین سےدریافت ہوئے تھے لیکن پہلی تحقیقی رپورٹ 1993 میں منظرِ عام پر آئی تھی۔ تاہم مزید تجزیئے کے بعد اس کی گردن اور طویل نکلی ہے جو 49 فٹ سے زائد طویل تھی۔

    چوہے بھی کورونا وائرس کے ایلفا، ڈیلٹا اور اومیکرون ویریئنٹس سے متاثر ہو سکتے ہیں،تحقیق

    اب نیا مطالعہ نیویارک کی اسٹونی بروک یونیورسٹی سے وابستہ ماہرِرکازات ڈاکٹر اینڈریو مور نے کیا ہے۔ انہوں نے کمپیوٹرائزڈ ٹوموگرافی سے مامین چی سارس کا جائزہ لیا ہے اور یہ ٹیکنالوجی پہلے موجود نہ تھی انہوں نے حال ہی میں "مامین چی سارس” کے مزید رکازات اور بالخصوص گردن کی ہڈیوں کو دیکھا ہے۔

    ان میں سے تین نمونوں کی گردن کے مہرے ناپ کر ان کا موازنہ ایسے ہی دیگر ڈائنوسار سے کیا گیا ہے۔ اندازہ ہے کہ "مامین چی سارس” کی گردن میں ایک نہیں، دو نہیں بلکہ 18 مہرے تھے اور ان کی مجموعی لمبائی 49 فٹ بنتی ہے جو 15 میٹر کے لگ بھگ ہے۔

    یو اے ای نے الیکٹرک کمپنی ٹیسلا کی گاڑیوں کو بطور ٹیکسی متعارف کروادیا

    سوروپوڈ نسل کے بعض ڈائنوسار کی لمبی گردن سارس کی گردن جیسی تھی اور وہ افق پر 20 سے 30 درجے پراٹھی رہتی تھی سوروپوڈس 16 کروڑ سال قبل منظرِ عام پر آئے اور کوئی ساڑھے چھ کروڑ برس پہلے اپنے دیگر ساتھیوں کےساتھ صفحہ ہستی سے مٹ گئے تھے۔

  • چوہے بھی کورونا وائرس کے ایلفا، ڈیلٹا اور اومیکرون ویریئنٹس سے متاثر ہو سکتے ہیں،تحقیق

    چوہے بھی کورونا وائرس کے ایلفا، ڈیلٹا اور اومیکرون ویریئنٹس سے متاثر ہو سکتے ہیں،تحقیق

    سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ چوہے بھی کورونا وائرس کے ایلفا، ڈیلٹا اور اومیکرون ویریئنٹس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی :عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق امیرکن سوسائٹی فار مائیکروبایولوجی میں شائع ہونےوالی تحقیق میں معلوم ہوا ہےکہ نیویارک شہر میں کورونا وائرس جنگلی چوہوں کو متاثر کر چکا ہے تحقیق میں محققین نے وائرسز کے ساتھ ممکنہ تعلق دریافت کیا جو عالمی وباء کے ابتدائی دنوں کے دوران انسانوں میں پھیل رہا تھا۔

    سعودی عرب کا ایران میں جلد بڑی سرمایہ کاری کرنے کا عندیہ

    امریکی دفترِ زراعت اورجانور اور پودوں کی ہیلتھ انسپیکشن سروس نے 79 ناروییئن چوہوں کےنمونوں کا تجزیہ کیا تاکہ کوویڈ 19 انفیکشن کے شواہد دیکھے جاسکیں۔ حاصل کیے گئے 79 نمونوں میں 13 چوہوں کا کووڈ ٹیسٹ مثبت آیا۔

    تحقیق میں محققین کے سامنے یہ بات آئی کہ ایلفا، ڈیلٹا اور اومیکرون ویریئنٹس چوہوں میں انفیکشن کا سبب بن سکتے ہیں۔

    یونیورسٹی آف مِزری کے پروفیسر ڈاکٹر ہینری وین کا کہنا تھا کہ یہ اپنی نوعیت کی پہلی تحقیق ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس ویریئنٹس امریکا کے شہری علاقوں کے بڑے حصے میں جنگلی چوہوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

    شہد کی بچہ مکھیاں بڑی مکھیوں سے رقص‌ سیکھتی ہیں،رپورٹ

  • مسلسل بڑھتا درجہ حرارت،برطانیہ اور آئرلینڈ کے 53 فیصد مقامی پودے تنزلی کا شکار

    مسلسل بڑھتا درجہ حرارت،برطانیہ اور آئرلینڈ کے 53 فیصد مقامی پودے تنزلی کا شکار

    مسلسل بڑھتا درجہ حرارت برطانیہ میں سرد ماحول میں پنپنے والے پودوں کی اقسام کی افزائش کو متاثر کرکے ان کی بقا کے لیے خطرہ بن چکا ہے جبکہ برطانیہ اور آئرلینڈ کے 53 فی صد مقامی پودے تنزلی کا شکار ہیں اور انہیں کئی خطرات لاحق ہیں۔

    باغی ٹی وی: بوٹانیکل سوسائٹی آف بریٹن اینڈ آئرلینڈ(بی ایس بی آئی) کی جانب سے شائع کی جانے والی رپورٹ ’پلانٹ اٹلس 2020‘ میں ملک میں پودوں کی زندگی پر کی جانے والی 20 سالہ تحقیق ہیش کی گئی-

    کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کرنے والے ممالک کی فہرست جاری

    ماہرین نے برطانیہ اور آئرلینڈ میں 3 ہزار 445 اقسام کے پودوں، فرناور الگئی کا سروے کیا اس سروے میں انہوں نے 1 لاکھ 78 ہزار سے زائد ایام کےعرصے میں تقریباً 9 ہزار بوٹنسٹ کی جانب سے اکٹھا کیے گئے 3 کروڑ پودوں کے ریکارڈ کا استعمال کیا۔

    گھر کے باغیچوں اور فصلوں میں موجود پودوں کو شمار کیے بغیر یہ جان کر محققین حیران رہ گئے کہ مطالعہ کی گئی اقسام کے 1 ہزار 753 غیر مقامی پودوں پر مشتمل تھی یہ غیر مقامی پودے مقامی پودوں کی جگہ لینے صلاحیت رکھتے ہیں کیوںکہ یہ تیزی سے بڑھتے ہیں، ان کو کھانے والے کم ہوتے ہیں یا ان کو بیماریاں کم لگتی ہیں اور یہ ماحول کے مطابق ڈھل جاتے ہیں۔

    1835 سال قبل ہونے والے سپر نووا کی باقیات کی تصویرجاری

    آئرش سمندر میں ماہرین نے دیکھا کہ آئرلینڈ کے 56 فی صد مقامی پودے اقسام اور بہتات یا دونوں اعتبار سے تنزلی کا شکار ہیں محققین کا کہنا تھا کہ تیزی سے پھیلنے والے غیر مقام پودوں اور انتہائی نوعیت کی زرعی سرگرمیوں نے بھی مقامی پودوں کے وجود کو خطرے میں ڈالا ہے۔

    بی ایس بی آئی میں ہیڈ آف سائنس اور تحقیق کے شریک مصنف ڈاکٹر کیون واکر کا کہنا تھا کہ ان پودوں کے وجود کو لاحق خطرے کو ختم کرنے کے لیے ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں لیکن سب سے ضروری چیز ان پودوں کو میسر تحفظ میں اضافہ، دستیاب مسکنوں کو بڑھانا اور ان کی ضروریات کو قدرتی ماحول کے تحفظ کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دینا ہوگا اس بات کی یقین دہانی کرانی ہوگی کہ زمین، پانی اور مٹی زیادہ پائیدار ہو تاکہ ان عوامل پر منحصر پودے اور ان کی اقسام باآسانی نشونما کر سکیں۔

    سمندروں کی بلند ہوتی سطح 90 کروڑ افراد کے لیے انتہائی خطرے کا سبب ہے

  • کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کرنے والے ممالک کی فہرست جاری

    کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کرنے والے ممالک کی فہرست جاری

    امریکی خلائی ادارے ناسا نے اپنے ارضی مشاہداتی سیٹلائٹ اور زمینی ڈیٹا کی مدد سے 60 کے قریب سائنسدانوں نے ان مقامات کی نشاندہی کی ہے جو کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں –

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق مطالعے میں زمین کے گرد زیرِ گردش، ناسا کاربن آبزرویٹری (رصدگاہ) یعنی او سی او ٹو اور زمین پر نصب آلات سے بھی مدد لی گئی ہے۔ یہ سروے 2015 سے 2020 تک جاری رہا تھا۔ اس تحقیق میں سائنسدانوں نے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج اور انجذاب دونوں کے فرق کو بھی معلوم کیاگیا ہے۔

    اس فہرست میں مجموعی طور پر 100 ممالک کا جائزہ لیا گیا ہے جو صنعتی عمل، سواریوں اور دیگر ٹیکنالوجی کی بدولت فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی غیرمعمولی مقدار خارج کررہے ہیں۔

    کاربن ڈائی آکسائیڈ ایک گرین ہاؤس گیس ہے جو کرہِ ارض پر عالمی تپش یعنی گلوبل وارمنگ کی وجہ بھی بن رہی ہے۔ نقشے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے والے خطے سرخ رنگ میں نمایاں ہیں جبکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے والے خطوں کو سبز رنگ میں دکھایا گیا ہے کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کرنے والے ممالک میں سرِ فہرست چین اور امریکہ شامل ہیں۔

    کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے والے خطوں میں جنگلات، سبزے کے مقامات اور دیگر مقامات شامل ہیں ناسا نے کہا ہے کہ وہ حکومتوں کو زور دیں گے کہ وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو روکنے میں اپنا اہم کردار ادا کریں کیونکہ ہم بہت تیزی سے مشکل ترین صورتحال کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

    تاہم سائنسدانوں نے بھی کہا ہے کہ قریباً 50 ممالک ایسے ہیں جنہوں نے گزشتہ 10 برس سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے لیے اپنا ڈیٹا نہیں دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناسا نے سیٹلائٹ سے اس کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے-

  • واٹس ایپ کافون کی سٹوریج بچانے کیلئے نیا فیچر متعارف کرانے کا اعلان

    واٹس ایپ کافون کی سٹوریج بچانے کیلئے نیا فیچر متعارف کرانے کا اعلان

    میٹا کی زیرملکیت دنیا کی مقبول ترین میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے فون کی سٹوریج بچانے کیلئے نیا فیچر متعارف کرا دیا-

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ کی اپ ڈیٹس پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ویب بیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ نے ایک ایسا نیا فیچر متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جو اسٹوریج بھرنے کے مسئلے کا حل ثابت ہوگا۔

    1835 سال قبل ہونے والے سپر نووا کی باقیات کی تصویرجاری

    واٹس ایپ کی جانب سے آئی او ایس کے بیٹا ورژن میں ایک فیچر پیش کیا گیا ہے جسے ایکسپائرنگ گروپس کا نام دیا گیا ہے یہ بنیادی طور پر ڈس اپیئرنگ فیچر جیسا ہی ہے جو انفرادی چیٹس کے لیے 2020 میں متعارف کرایا گیا تھا۔

    اس فیچر سے صارفین گروپس کے میسجز کے لیے ایکسپائری ڈیٹ کا تعین کر سکیں گے اس فیچر میں صارفین کو ایک دن، ایک ہفتہ یا کاسٹیوم ڈیٹ جیسے آپشنز فراہم کیے جائیں گے صارف کے پاس یہ اختیار بھی ہوگا کہ وہ ایکسپائری ڈیٹ کو ڈیلیٹ کر دے۔

    ابھی یہ فیچر تیاری کے مرحلے سے گزر رہا ہے اور عام صارفین تک اسے پہنچنے میں کئی ہفتے یا کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

    علاوہ ازیں واٹس ایپ نے صارفین کی آسانی کے لیے ایک ایسے فیچر پر کام شروع کیا ہے جس کے تحت اب نامعلوم نمبرز سے آنے والی کالز سےچھٹکارا حاصل کرنا انتہائی آسان ہوگا۔

    سلامتی کیلئے خطرہ ،چینی ایپ ٹک ٹاک پر پابندی

    اس حوالے سے ویب سائٹ واٹس ایپ بیٹا انفو نے ایک اسکرین شاٹ شیئر کیا جس سے پتا چلتا ہے کہ اب صارفین Unknown نمبرز کو میوٹ کرسکیں گے، یعنی کوئی بھی ایسے نمبر سے اگر انہیں فون آیا جو فون میں سیو نہیں، وہ میوٹ پر رہے گا۔

    کالز کا نوٹیفکیشن کال ہسٹری میں نظر آئے گا، البتہ آپ کے پاس کال نہیں آئے گی، اس کے لیے آپ کو سیٹنگز میں جاکر میوٹ Unknown نمبرز کرنا ہوگا واٹس ایپ کی جانب سے فی الحال یہ نہیں بتایا گیا کہ فیچر کب تک متعارف کرایا جائے گا، تاہم یہ ضرور بتایا گیا ہے کہ مذکورہ فیچر پر کام شروع کردیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ واٹس ایپ نے اگست 2022 میں صارفین کے لیے ایک بہترین پرائیویسی فیچر متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا اس فیچر کا مقصد صارفین کو ناپسندیدہ واٹس ایپ گروپس خاموشی سے چھوڑنے کی سہولت فراہم کرنا ہے مگر اس اعلان کے بعد کئی ماہ تک یہ فیچر صارفین کو دستیاب نہیں ہوسکا تھا مگر اب اسے استعمال کرنا ممکن ہے۔

    یعنی اب یہ فیچر تمام صارفین کے لیے دستیاب ہےیہ فیچر واٹس ایپس کے بڑے گروپس میں زیادہ کارآمد ہوگا جن کے میسجز کی بھرمار سے لوگ پریشان ہوجاتے ہیں۔

    اب اگر کوئی آپ کو کسی ایسے واٹس ایپ گروپ میں ایڈ کر دیتا ہے جس سے آپ دور رہنا چاہتے ہیں تو اس فیچر سے آپ کسی کو آگاہ کیے بغیر اس گروپ کو چھوڑ سکیں گے ایسا کرنے پر آپ کے گروپ چھوڑنے کا علم ایڈمن کے سوا کسی اور کو نہیں ہوگا، البتہ دیگر اراکین گروپ کی تفصیلات کے پیج میں جاکر اس بارے میں جان سکتے ہیں۔

    اس فیچر سے قبل واٹس ایپ کی جانب سے گروپ کے تمام افراد کو ایک نوٹیفکیشن بھیج کر آگاہ کیا جاتا تھا کہ کسی فرد نے گروپ سے علیحدگی اختیار کرلی ہے البتہ کسی واٹس ایپ گروپ کے ایڈمن اس فیچر کو استعمال نہیں کر سکیں گے۔

    جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی دریافت شدہ کہکشائیں،جو سائنسدانوں کے مطابق ہونی ہی نہیں چاہیے …

    اس فیچر کو استعمال کرنے کا طریقہ :

    اینڈرائیڈ اور آئی فون صارفین اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے واٹس ایپ میں اس گروپ کی چیٹ اوپن کریں جس کو وہ چھوڑنا چاہتے ہیں اس چیٹ ونڈو میں اوپر گروپ کے نام پر کلک کرکے گروپ انفو میں جائیں گروپ انفو میں نیچے اسکرول کرنے پر ایگزٹ گروپ کا آپشن نظر آئے گا اور اس پر کلک کریں۔

    اس آپشن پر کلک کرنے پر آپ کے سامنے لکھا آئے گا کہ صرف گروپ ایڈمنز کو ہی آپ کے گروپ چھوڑنے کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا، پھر ایگزٹ گروپ پر کلک کردیں۔

    انتہائی نایاب ستاروں پر مبنی نظام دریافت

  • 1835 سال قبل ہونے والے سپر نووا کی باقیات کی تصویرجاری

    1835 سال قبل ہونے والے سپر نووا کی باقیات کی تصویرجاری

    ماہرین نے 1835 سال قبل ہونے والے سپر نووا کی باقیات کی تصویر عکس بند کر لی-

    باغی ٹی وی: باقیات کی یہ تصویر سیرو ٹولولو اِنٹر-امیریکن آبزرویٹری میں موجود وکٹر ایم بلینکو ٹیلی اسکوپ میں نصب ڈارک انرجی کیمرا (ڈی ای کیم) سے عکس بند کی گئی۔

    چینی ماہرین فلکیات نے ایس این 185 نامی اس سُپر نووا کا پہلی بار مشاہدہ 185 عیسوی میں بطور ’مہمان ستارے‘ کے طور پر کیا تھا کیوں کہ یہ آسمان پر ایک نئی چمکدار روشنی کے طور پر ظاہر ہوا تھا ماہرین کے مطابق یہ سپرنووا 1800 برس قبل ایک ستارہ تھا جو پھٹ کر سپرونووا بن چکا ہے۔

    سب سے پہلے ریکارڈ ہونے والے سُپر نووا کی جگہ اب صرف RCW 86 نامی ملبے کا ایک چھلہ موجود ہے سائنس دانوں کے مطابق یہ تصویر اس سپر نووا کی باقیات کے 1800 سال کے ارتقائی سفر کے متعلق معلومات پر روشنی ڈالےگی۔

    محققین کی ٹیم کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ڈی ای کیم کے زبردست وائڈ فیلڈ ویژن کی بدولت ماہرین فلکیات نے سپر نووا کی مکمل باقیات کا انتہائی نایاب نظارہ، جیسا کہ یہ آج دِکھتا ہے، تشکیل دیا ہے۔

    ماہرین کا عرصے سے یہ ماننا رہا ہے کہ اس چھلے کو وجود میں آنے کے لیے ستارے کے پھٹنے کے بعد تقریباً 10 ہزار سال کا عرصہ لگا ہوگا۔ لیکن تازہ ترین دریافت کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ 2000 سال کے مختصر عرصے میں بھی ہوسکتا ہے۔

    تصویر کو بغور دیکھا جائےتو اس میں بڑے پیمانے پر فولاد کی موجودگی کا انکشاف ہوتا ہے جس کے متعلق محققین کا کہنا تھا کہ یہ چیز ایک مختلف نوعیت کا دھماکا ہونے کے متعلق معلومات کی جانب اشارہ کرتی ہے۔

  • مصنوعی ذہانت کی مدد سے ٹیکٹیکل طیارے کی کامیاب آزمائشی پرواز

    مصنوعی ذہانت کی مدد سے ٹیکٹیکل طیارے کی کامیاب آزمائشی پرواز

    کیلیفورنیا: مصنوعی ذہانت کی مدد سے 17 گھنٹے سے زائد کے دورانیے تک ایک ٹیکٹیکل تربیتی طیار ے کی کامیاب آزمائشی پرواز کی گئی-

    باغی ٹی وی :ایرو اسپیس کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کیجانب سے جاری کی جانے والی پریس ریلیز کےمطابق ایسا پہلی بار ہوا ہےکہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے ٹیکٹیکل طیارہ اڑایا گیا ہومصنوعی ذہانت نے ’ویری ایبل اِن-فلائٹ سِمیولیشن ٹیسٹ ایئرکرافٹ (VISTA)‘ چلایا جو دیگر طیاروں کی کارکردگی کی خصوصیات کی نقل کر سکتا ہے۔

    مصنوعی ذہانت کے ایجنٹ نے یہ طیارہ کیلیفورنیا میں یو ایس ایئر فورس ٹیسٹ پائلٹ اسکول میں قائم ایڈورڈز ایئر بیس میں ہونے والی ایک مشق میں اڑایا۔

    یہ طیارہ لاک ہیڈ مارٹن کے اسکنک ورکس ڈویژن نے یو ایس ایئر فورس اور کیلسپن کارپوریشن کے ساتھ مل کر تخلیق کیا ہے کمپنی کے مطابق یہ طیارہ آپریٹنگ اخراجات کو کم کرتا ہے اور تربیتی عمل کو بہتر بناتا ہے۔

    امریکی ایئر فورس کے ٹیسٹ پائلٹ اسکول کے ڈائریکٹر آف ریسرچ ڈاکٹر ایم کرسٹوفر کوٹنگ کا کہنا تھا کہ وسٹا کی مدد سے بغیر عملے والے نئے طیاروں میں مصنوعی ذہانت کی جدید تکنیک کے وجود میں آنے اور آزمائے جانے میں ہم آہنگی آئے گی۔

    انہوں نے کہا کہ نئے وہیکل سسٹمز کے بنتے ہی ساتھ یکسوئی سے آزمایا جانا اس فکر کے ساتھ مل کر بغیر عملے کے طیاروں کو تیزی سے خودمختار کرے گا اور ہمارے جنگی طیاروں کو نسبتاً بہتر صلاحیتیں فراہم کرے گا۔

  • سلامتی کیلئے خطرہ ،چینی ایپ ٹک ٹاک پر پابندی

    سلامتی کیلئے خطرہ ،چینی ایپ ٹک ٹاک پر پابندی

    کینیڈا نے چینی ایپ ٹک ٹاک پر پابندی عائد کر دی ہے، پابندی حکومت کی جاری کردہ تمام سرکاری ڈیوائسزپر لگائی گئی ہے ۔

    باغی ٹی وی: کینیڈین حکومت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ٹک ٹاک ایپ پرائیوسی اور سلامتی کیلیے ناقابل قبول حد تک خطرہ ہے ۔

    کینیڈین حکومت نے وفاقی ملازمین کو مستقبل میں ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے سے روک دیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ٹک ٹاک کے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے طریقے فون کے مواد تک کافی رسائی فراہم کرتے ہیں۔

    اس سے پہلے برطانوی ماہرین نے بھی ٹک ٹاک ایپ محدود کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔برطانوی ماہرین کا خیال ہے کہ ٹک ٹاک کے ذریعے برطانیہ کا ڈیٹا چین کے سرکاری اداروں تک پہنچ سکتا ہے۔

    دریں اثنا برطانوی ماہرین نے بھی ٹک ٹاک ایپ محدود کرنے کا مطالبہ کر دیا برطانوی ماہرین کا خیال ہے کہ ٹک ٹاک کے ذریعے برطانیہ کا ڈیٹا چین کے سرکاری اداروں تک پہنچ سکتا ہے۔

    اس سے قبل امریکہ امریکہ اور یورپی یونین اپنے سرکاری ملازکی کو ٹاک استعمال کرنے سے روک چکا ہے۔

    ایک ہفتہ قبل 24 فروری کو یورپی یونین کے سرکاری ملازمین کو ڈیٹا کے حفاظت کی خاطر فوری طور پر ٹک ٹاک ایپ اپنے موبائل سے ڈیلیٹ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

    امریکہ کی 26 ریاستیں ٹک ٹاک پر مکمل پابندی عائد کر چکی ہیں اور اب امریکہ میں ٹک ٹاک کے مختلف پہلووْں کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ امریکہ میں ٹک ٹاک پر مکمل پابندی کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی دریافت شدہ کہکشائیں،جو سائنسدانوں کے مطابق ہونی ہی نہیں چاہیے تھیں

    جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی دریافت شدہ کہکشائیں،جو سائنسدانوں کے مطابق ہونی ہی نہیں چاہیے تھیں

    امریکی خلائی ادارے ناسا کی خلا میں بھیجے جانے والی جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے 6 اتنی بڑی قدیم کہکشائیں دریافت کی ہیں جو سائنسدانوں کے مطابق ہونی ہی نہیں چاہیے تھیں۔

    باغی ٹی وی: سائنسی جرنل نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق امریکا کی کولوراڈو بولڈر یونیورسٹی کے زیرتحت بین الاقوامی ماہرین کی ٹیم نے ایک تحقیق کے دوران ان کہکشاؤں کو دریافت کیا۔

    تحقیق میں بتایا گیا کہ ہر کہکشاں 13 ارب سال سے زیادہ پرانی ہے یعنی یہ بگ بینگ کے 50 سے 70 کروڑ سال بعد تشکیل پائی تھیں یہ کہکشائیں توقعات سے بھی زیادہ بڑی ہیں کیونکہ ہمارا ماننا تھا کہ بگ بینگ کے بعد جب کائنات پھیلنا شروع ہوئیں تو آغاز میں کہکشاؤں کا حجم بھی چھوٹا ہوگا۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ مگر یہ کہکشائیں ہمارے ملکی وے جتنی بڑی ہے اور ہم نے کبھی توقع نہیں کی تھی کہ کائنات کی ابتدا میں اس طرح کی کہکشائیں بن سکتی تھیں اور یہ دریافت ہمارے سائنسی نظریات کو بدلنے کا باعث بن سکتی ہے کائنات کی ابتدا کے 99 فیصد ماڈلز کے مطابق اتنی بڑی کہکشاؤں کا وجود میں آنا ناممکن تھا۔

    محققین نے بتایا کہ ان نئی کہکشاؤں میں سورج کے حجم کے کھربوں ستارے موجود ہو سکتے ہیں جب ہمیں ڈیٹا ملا تھا اور ان کا تجزیہ کیا تو ہمیں بہت زیادہ بڑے اور روشن 6 سرخ ڈاٹ نظر آئے اور ابتدا میں ہمیں لگا کہ کوئی غلطی ہوئی مگر پوری کوشش کے باوجود ہم کوئی غلطی ڈھونڈ نہیں سکے۔

    مگر انہوں نے تسلیم کیا کہ ایسا بھی ممکن ہے کہ ہم نے درحقیقت کچھ بالکل مختلف دیکھا ہو اور سمجھ نہ سکے ہوں یہی وجہ ہے کہ محققین اس حوالے سے تحقیق کو مزید آگے بڑھائیں گے۔

  • ’پلینٹ نائن‘ 20 تپتے ہوئے چاندوں سے گھرا ہو سکتا ہے،ماہرین

    ’پلینٹ نائن‘ 20 تپتے ہوئے چاندوں سے گھرا ہو سکتا ہے،ماہرین

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ’پلینٹ نائن‘ 20 تپتے ہوئے چاندوں سے گھرا ہوا سکتا ہے-

    باغی ٹی وی: "ڈیلی میل” کے مطابق ماہرینِ فلکیات نے چھ سال قبل ہمارے نظامِ شمسی کے کنارے پر ایک پُر اسرار نویں سیارے کی ممکنہ موجودگی کے واضح شواہد حاصل کیے تھے۔ لیکن ’پلینٹ نائن‘ کے نام سے جانی جانے والی اس فرضی دنیا کا ابھی تک مشاہدہ نہیں کیا گیا ہےتاہم اب سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ انہوں نے بالآخر ایسا طریقہ کار وضع کر لیا ہے جس سے اس سیارے کو ڈھونڈا جاسکے گا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ’پلینٹ نائن‘ 20 تپتے ہوئے چاندوں سے گھرا ہوا سکتا ہے جو اس پُر اسرار سیارے کی موجودگی کی تصدیق کے لیے اہم چیز ہوسکتی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ سیارہ نو کو تقریباً 62 میل (100 کلومیٹر) چوڑے 20 گرم چاندوں سے گھیر لیا جا سکتا ہے، جو پراسرار دنیا کے وجود کی تصدیق کی کلید ثابت ہو سکتا ہےاس کی وجہ یہ ہے کہ چاند سیارے کی کشش ثقل کی وجہ سے گرم ہو جائیں گے جس کی بدولت سمندری حرارت کے نام سے جانا جاتا ہے، جس سے ان کو تلاش کرنا آسان ہو جائے گا۔

    چاندوں کے تپنے کی وجہ سیارے کی کششِ ثقل کا کھچاؤ (گریویٹیشنل پُل) ہے، جس کی وجہ سے ان کی نشان دہی آسانی سے کی جاسکتی ہے اور اگریہ چاند نظر آجائیں تو وہ ماہرین فلکیات کے لیے اس چھپے ہوئے سیارے کا سراغ ہو سکتے ہیں۔

    اس سیارے کو براہ راست نہ دیکھے جاسکنے کی وجہ اس کاانتہائی فاصلے پر موجود ہونا ہےکیوںکہ فاصلے کی وجہ سے سورج کی روشنی اس پر نہیں پڑتی۔

    ماہرینِ فلکیات کا ماننا ہے کہ اگر یہ حقیقت میں موجود ہوا تو اس کا وزن زمین کے مقابلے میں تقریباً 10 گنا زیادہ ہوسکتا ہے اور یہ سورج کے گرد ایک چکر کا دورانیہ 10 ہزار سے 20 ہزار سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔