Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • سائنسدانوں نے کورونا وائرس کو پھیلانے والے ممکنہ جانور کی شناخت کرلی

    سائنسدانوں نے کورونا وائرس کو پھیلانے والے ممکنہ جانور کی شناخت کرلی

    کورونا وائرس کے حوالے سے سائنسدان ابھی تک جاننے کی تگ و دو میں ہیں کہ آخر یہ بیماری کس طرح کیسے اور کہاں سے پھیلی،اب تک اس حوالے سے سائدسدانوں نے دو خیالات کا اظہار کیا تھا ایک تو یہ تھا کہ کسی لیبارٹری سے وائرس لیک ہوا اور دوسرا یہ کہ کسی جنگلی جانور سے یہ انسانوں میں منتقل ہوا۔

    باغی ٹی وی : سائنسدانوں کا شروع سے ماننا ہےکہ یہ وائرس چین کے شہر ووہان کی وائلڈ لائف مارکیٹ سےکسی جانورکےذریعے انسانوں میں منتقل ہوکر پھیلنا شروع ہوا مگر اب تک اس کا ثبوت نہیں مل سکا تھا۔

    مگر اب سائنسدانوں کی بین الاقوامی ٹیم نے اب اس وائرس کو پھیلانے والے ممکنہ جانور کی شناخت کرلی ہے ان سائنسدانوں نے ووہان کی اس مارکیٹ میں موجود جانوروں کےجینیاتی نمونوں کےڈیٹاکا تجزیہ کیا اور ان کےخیال میں جو جانوراس عالمی وبا کوپھیلانےوالے وائرس کا باعث بنا وہ ریکون ڈوگ نامی ایک ممالیہ جاندار ہے۔

    سائنس دانوں نے ووہان، چین کی مارکیٹ سے نئے جینیاتی شواہد دریافت کیے ہیں، جہاں 2019 کے آخر میں کوویڈ کےکیسز پہلی بار کلسٹر ہوئے تھے۔ ان نتائج سے SARS-CoV-2 کے جانوروں کی اصل میں مدد ملتی ہے، یہ وائرس جو کوویڈ کا سبب بنتا ہے۔ انہیں اس ہفتے کے شروع میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی طرف سے بلائے گئے ایک مشاورتی گروپ کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔

    وائرل آر این اے پر مشتمل نمونے، جو 2020 کے اوائل میں ہوانان سمندری غذا کی ہول سیل مارکیٹ میں جمع کیے گئے تھے، ان میں ایک قسم کا جانور کتوں کا جینیاتی مواد بھی شامل تھا، جو بظاہر بازار میں فروخت ہونے والی لومڑی کی طرح کی کینیڈ کے ساتھ ساتھ دوسرے جانوروں پر مشتمل تھا۔ جینیاتی مواد مارکیٹ کے انہی علاقوں سے آیا جہاں SARS-CoV-2 پایا گیا تھا-

    اس مارکیٹ کو وائرس کے پھیلاؤ کے بعد یکم جنوری 2020 کو بند کر دیا گیا تھا اور وہاں موجود جانوروں کے جینیاتی نمونے اس بندش کے 2 ماہ بعد اکٹھے کیے گئے تھے اس ڈیٹا کو گزشتہ سال چینی سائنسدانوں نے عالمی ڈیٹابیس کے لیے جاری کیا تھا۔

    تحقیقی ٹیم نے اس ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے بعد ریکون ڈوگ کے نمونوں میں کوویڈ 19 کی تصدیق کیدیگر ممالیہ جاندار جیسے civets کے نمونوں میں بھی کورونا وائرس کو دریافت کیا گیا اس دریافت سے یہ ٹھوس طور پر ثابت نہیں ہوتا کہ ریکون ڈوگ کی وجہ سے کووڈ کی وبا متحرک ہوئی مگر محققین کا ماننا ہے کہ زیادہ امکان اسی بات کا ہے۔

    سائنسدانوں نے اپنی تحقیقی کام کو عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ماہرین کے سامنے پیش کیا ہے اس تحقیقی ٹیم میں شامل سائنسدانوں نے بتایا کہ اس ڈیٹا سے ووہان کی مارکیٹ سے وائرس کے آغاز کے خیال کو تقویت ملتی ہےانہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ چینی سائنسدانوں نے اس جینیاتی ڈیٹا کو پہلے جاری کیوں نہیں کیا۔

    سائنسدانوں کے مطابق وہ اس دریافت پر ایک رپورٹ مرتب کر رہے ہیں جس کو جلد عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا ان کا کہنا تھا کہ ریکون ڈوگ میں وائرس کی موجودگی سے اس امکان کو تقویت ملتی ہے کہ کورونا وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا۔

    عالمی ادارہ صحت نے اس دریافت پر کہا ہے کہ اس سے وبا کے آغاز کے حوالے ٹھوس جواب تو نہیں ملتا مگر یہ ڈیٹا بہت اہم ہے، کیونکہ اس سے ہم جواب کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

    فرانسیسی نیشنل سینٹر فار سائنٹیفک ریسرچ کی ایک ارتقائی ماہر حیاتیات فلورنس ڈیبارے نے وائرس کے جینیاتی سلسلے دریافت کیے جنہیں چین میں محققین نے جن کی سربراہی چائنیز سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے سابق سربراہ جارج گاؤ کر رہے تھےنے ایک عوامی جینومک ڈیٹا بیس پر اپ لوڈ کیا تھا۔

  • جنگلات کےساتھ مشروم کی افزائش موسمیاتی  تبدیلی کے نقصانات کم کر سکتی ہے،تحقیق

    جنگلات کےساتھ مشروم کی افزائش موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات کم کر سکتی ہے،تحقیق

    ایک نئی تحقیق میں ماہرین نے معلوم کیا ہے کہ درختوں کے ساتھ خوردنی مشروم کی افزائش جہاں لاکھوں افراد کی غذا بن سکتی ہے تو دوسری جانب اس سے آب وہوا میں تبدیلی کے نقصانات کم کئے جاسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: یونیورسٹی آف اسٹرلنگ کی فیکلٹی آف نیچرل سائنسز میں بطور اعزازی پروفیسر کام کرنے والے پال تھامس گزشتہ دو سالوں سے مائیکوفاریسٹری کے ابھرتے میدان میں ہونے والے مطالعات کا ڈیٹا دیکھ رہے ہیں۔

    چوہے بھی کورونا وائرس کے ایلفا، ڈیلٹا اور اومیکرون ویریئنٹس سے متاثر ہو سکتے ہیں،تحقیق

    ان کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جنگلات میں کھانے کے قابل ’ایکومائیکورِزل فنجائی‘ (ای ایم ایف) کی کاشت سے ممکنہ طور پر سالانہ 12.8 ٹن فی ہیکٹر کاربن ختم کی جاسکتی ہےجبکہ اس فنجائی کو درختوں سے قریب اگانے کی صورت میں سالانہ 1 کروڑ 90 لاکھ افراد کے لیے غذا کا بند و بست بھی کیا جاسکتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ درختوں کے ساتھ اگنے والی فنجائی کو لگنے والے نئے درختوں سے حاصل ہونے والی غذائی فصل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہےجبکہ اس نظام کو استعمال کرتے ہوئے فنجائی کی پیداوار گرین ہاؤس گیس کو جذب کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے مشروم سے حاصل ہونے والا یہ ایک بہت بڑا فائدہ ہے غذا کی پیداوار ہمیں موسمیاتی تغیر کو ختم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

    مسلسل بڑھتا درجہ حرارت،برطانیہ اور آئرلینڈ کے 53 فیصد مقامی پودے تنزلی کا شکار

    فی الوقت اس حوالے سے عالمی سطح پر زمین کے استعمال سے متعلق ایک تنازعاتی بحث جاری ہے کہ آیا جنگلات لگائے جائیں یا بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے کھیتی باڑی کی جائے ڈیٹا کے مطابق 2010 سے 2020 تک ہر سال 47 لاکھ ہیکٹر کے وسیع رقبے تک جنگلات کاٹے گئے ہیں۔زرعی زمین کی بڑھتی ہوئی مانگ کو جنگلات کے ختم ہونے کا سب سے بڑا سبب قرار دیا جارہا ہے۔

    پروفیسر تھامس کے مطابق درختوں کے ساتھ مشروم کا اگایا جانا نہ صرف جنگلات کے کٹاؤ کی ضرورت کو کم کرے گا بلکہ درختوں کی افزائش کی بھی حوصلہ افزائی کرے گا۔

    مشروم کی ساخت مسام دار اور گوشت کی طرح ہوتی ہے۔ مشروم ایک قدرتی فنگس ہے جو کہ ہمارے کھانوں میں الگ پہچان رکھتا ہے مشروم کی زیادہ تر اقسام میں بہت کم کیلوریز ہوتی ہیں۔ ان میں وافر مقدار میں وٹامن ڈی اور بہت سارے اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔

    مشروم کے روٹین میں استعمال سے وزن کم اور قوت مدافعت میں مدد ملتی ہے۔ یہ گلوکوز لیول کا برقرار رکھنے میں بھی مدد کرتا ہے۔

    اسمارٹ فون بند کر کے سونا حاملہ خواتین میں ذیابیطس کے خطرات کو کم کر …

  • ماؤنٹ ایورسٹ پر صدیوں سے کوہ پیماؤں کی کھانسی اور چھینک کے جراثیم محفوظ، تحقیق

    ماؤنٹ ایورسٹ پر صدیوں سے کوہ پیماؤں کی کھانسی اور چھینک کے جراثیم محفوظ، تحقیق

    امریکی یونیورسٹی کی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پہاڑوں پر جمی برف میں انسان کے کھانسنے اور چھینکنے کے جراثیم صدیوں تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی:"ڈیلی میل” کی رپورٹ کے مطابق امریکا کی یونیورسٹی آف کولاراڈو کے محققین نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سے حاصل کردہ مٹی کے نمونوں کا تجزیہ کیا جس میں انسانوں سے وابستہ جراثیم پائے گئے۔

    پانی کی عام بوتلوں میں کسی ٹوائلٹ سے بھی 40 ہزار گنا زیادہ جراثیم موجود …

    ماضی میں محققین نے زمین پر سرد ترین علاقوں میں مٹی کا مطالعہ کیا لیکن اس میں انسانوں سےوابستہ جراثیم کی تعداد نہ ہونے کے برابر پائی گئی اب آرکٹک، انٹارکٹک، اور الپائن ریسرچ میں شائع ہونے والی اس نئی تحقیق میں امریکی ٹیم نے جدید ترین جین ترتیب دینے والی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے مٹی کا تجزیہ کیانیہ مٹی کے نمونے 2019 میں ایورسٹ مہم کےدوران ماؤنٹ ایورسٹ کےساؤتھ کول سے جمع کیے گئے تھے۔

    ساؤتھ کول ماؤنٹ ایورسٹ اور لوٹسے چوٹی کے درمیان ایک چٹانی فاصلہ ہے،جو کوہ پیماؤں کے لیے دنیا کے بلند ترین پہاڑ پر اپنا سفر شروع کرنے سے پہلے آخری اسٹاپ ہے۔

    چوہے بھی کورونا وائرس کے ایلفا، ڈیلٹا اور اومیکرون ویریئنٹس سے متاثر ہو سکتے ہیں،تحقیق

    تحقیق کے مطابق ماؤنٹ ایورسٹ کی مٹی کے نمونوں میں ملنے والے یہ جراثیم (Staphylococcus جو کہ فوڈ پوائزننگ اور نمونیا سے منسلک ہے) اور (Streptococcus جو گلے کی سوزش کا سبب بنتا ہے) کے گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔

    محقیقن کے مطابق ماؤنٹ ایورسٹ کی مٹی میں جو جراثیم پائےگئے ان میں سے زیادہ تر کو غیر فعال سمجھا جاتا تھا لیکن یہ برفانی حصے میں انسانی سرگرمیوں کے قریب کافی وقت سے محفوظ رہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے حاصل کردہ نتائج سے یہ خیال کیا جاسکتا ہے کہ دنیا سے باہر دوسرے منجمد سیاروں پر زندگی کے آثار موجود ہو سکتے ہے۔

    تحقیق میں معلوم ہوا کہ اس مٹی سے جو انسانی جراثیم پائے گئے وہ کوہ پیماؤں کے چھینکنے اور کھانسنے کی صورت میں وہاں محفوظ رہے۔

    کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کرنے والے ممالک کی فہرست جاری

  • اسمارٹ فون بند کر کے سونا حاملہ خواتین میں ذیابیطس کے خطرات کو کم کر سکتا ہے

    اسمارٹ فون بند کر کے سونا حاملہ خواتین میں ذیابیطس کے خطرات کو کم کر سکتا ہے

    امریکی ماہرین کے مطابق سوتے وقت اسمارٹ فون کا بند کیا جانا اور روشنی کا کم کیا جانا حاملہ خواتین میں جیسٹیشنل ذیابیطس کے خطرات کو کم کر سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکی ماہرین کے مطابق سوتے وقت اسمارٹ فون بند کرنے اور روشنی کو مدھم کرنے سے حاملہ خواتین میں حمل ذیابیطس کے خطرات کو کم کیا جاسکتا ہے۔

    سماجی طور پر الگ تھلگ رہنے والوں میں ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ بڑھ جاتا …

    رائل کالج آف اوبسٹیٹریشینزاینڈ گائناکالوجسٹ کے مطابق، حمل کے دوران 100 میں سے کم از کم چار سے پانچ خواتین کو حمل کی ذیابیطس متاثر ہوتی ہے۔ اگر اسے اچھی طرح سے کنٹرول نہیں کیا جاتا ہے تو یہ پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے، بشمول بچے کے لیے صحت کے مسائل-

    اب امریکن جرنل آف اوبسٹیٹرکس اینڈ گائناکولوجی میٹرنل فیٹل میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن حاملہ خواتین کو سونے سے تین گھنٹے پہلے زیادہ روشنی کی روشنی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان کے حمل کے دوران ذیابیطس ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

    جیسٹیشنل ذیا بیطس ایک قسم کی ذیا بیطس ہےجو حمل کے دوران ہوتی ہے اور تقریباً پانچ فی صد حاملہ خواتین اس سے متاثر ہوتی ہیں اکثر حمل معمول کے مطابق ہوتے ہیں اور بچے کی پیدائش کے بعد معاملات معمول کے مطابق ہو جاتے ہیں لیکن اس صورت میں مبتلا ہونے کا تعلق قبل از وقت پیدائش اور غیر معمولی جسامت کےبچوں کی پیدائش سےاورخواتین کے ٹائپ 2 ذیا بیطس میں مبتلا ہونےکےانتہائی خطرات سے ہوتا ہے۔

    گلیشیئرز پگھلنے سے پاکستان اور بھارت کوشدید خطرہ

    ایک تحقیق کے مطابق وہ خواتین جن پر سونے سے تین گھنٹے پہلے تک زیادہ روشنی افشا ہوتی ہے ان میں جیسٹیشنل ذیا بیطس کے خطرات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

    تحقیق میں محققین نے 741 ایسی خواتین کا مطالعہ کیا جو حمل کے دوسرے سہ ماہی میں تھیں۔ ان کی کلائی پر ایک آلا لگایا گیا جس نے لگاتار سات دنوں تک ان پر افشا ہونے والی روشنی کی پیمائش کی۔

    تحقیق میں دیکھا گیا کہ خواتین سونے سے تین گھنٹے قبل معمولی، تیز روشنی (10 lux)میں کتنا وقت گزارتی ہیں۔ آلے نے دھیمی روشنی میں گزارے جانے والے وقت کی بھی پیمائش کی۔lux روشنی کی شدت کی پیمائش کرنے والی ایک اکائی ہوتی ہے۔

    محققین نے ان خواتین کو تین گروہوں میں تقسیم کیا۔ وہ خواتین جن پر سب سے زیادہ معمول کی روشنی افشا ہوئی تھی(اوسطاً ایک گھنٹا اور 19 منٹ) ان کے جیسٹیشنل ذیا بیطس میں مبتلا ہونے کے ساڑھے پانچ گُنا زیادہ امکانات تھے۔

  • چین میں 49 فٹ سے زائد لمبی گردن والا ڈائنوسار دریافت

    چین میں 49 فٹ سے زائد لمبی گردن والا ڈائنوسار دریافت

    بیجنگ: چین میں سبزہ خور سوروپوڈس ڈائنوسار کی ایک نوع دریافت ہوئی ہے جس کی گردن 15 میٹر یعنی بچوں کی اسکول بس سے بھی 10 فٹ لمبی تھی۔

    باغی ٹی وی: اس کا نام ’مامین چی سارس سائنوسینیڈورم‘ رکھا گیا تھا۔ اگرچہ اس کے رکازار 1987 میں چین سےدریافت ہوئے تھے لیکن پہلی تحقیقی رپورٹ 1993 میں منظرِ عام پر آئی تھی۔ تاہم مزید تجزیئے کے بعد اس کی گردن اور طویل نکلی ہے جو 49 فٹ سے زائد طویل تھی۔

    چوہے بھی کورونا وائرس کے ایلفا، ڈیلٹا اور اومیکرون ویریئنٹس سے متاثر ہو سکتے ہیں،تحقیق

    اب نیا مطالعہ نیویارک کی اسٹونی بروک یونیورسٹی سے وابستہ ماہرِرکازات ڈاکٹر اینڈریو مور نے کیا ہے۔ انہوں نے کمپیوٹرائزڈ ٹوموگرافی سے مامین چی سارس کا جائزہ لیا ہے اور یہ ٹیکنالوجی پہلے موجود نہ تھی انہوں نے حال ہی میں "مامین چی سارس” کے مزید رکازات اور بالخصوص گردن کی ہڈیوں کو دیکھا ہے۔

    ان میں سے تین نمونوں کی گردن کے مہرے ناپ کر ان کا موازنہ ایسے ہی دیگر ڈائنوسار سے کیا گیا ہے۔ اندازہ ہے کہ "مامین چی سارس” کی گردن میں ایک نہیں، دو نہیں بلکہ 18 مہرے تھے اور ان کی مجموعی لمبائی 49 فٹ بنتی ہے جو 15 میٹر کے لگ بھگ ہے۔

    یو اے ای نے الیکٹرک کمپنی ٹیسلا کی گاڑیوں کو بطور ٹیکسی متعارف کروادیا

    سوروپوڈ نسل کے بعض ڈائنوسار کی لمبی گردن سارس کی گردن جیسی تھی اور وہ افق پر 20 سے 30 درجے پراٹھی رہتی تھی سوروپوڈس 16 کروڑ سال قبل منظرِ عام پر آئے اور کوئی ساڑھے چھ کروڑ برس پہلے اپنے دیگر ساتھیوں کےساتھ صفحہ ہستی سے مٹ گئے تھے۔

  • چوہے بھی کورونا وائرس کے ایلفا، ڈیلٹا اور اومیکرون ویریئنٹس سے متاثر ہو سکتے ہیں،تحقیق

    چوہے بھی کورونا وائرس کے ایلفا، ڈیلٹا اور اومیکرون ویریئنٹس سے متاثر ہو سکتے ہیں،تحقیق

    سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ چوہے بھی کورونا وائرس کے ایلفا، ڈیلٹا اور اومیکرون ویریئنٹس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی :عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق امیرکن سوسائٹی فار مائیکروبایولوجی میں شائع ہونےوالی تحقیق میں معلوم ہوا ہےکہ نیویارک شہر میں کورونا وائرس جنگلی چوہوں کو متاثر کر چکا ہے تحقیق میں محققین نے وائرسز کے ساتھ ممکنہ تعلق دریافت کیا جو عالمی وباء کے ابتدائی دنوں کے دوران انسانوں میں پھیل رہا تھا۔

    سعودی عرب کا ایران میں جلد بڑی سرمایہ کاری کرنے کا عندیہ

    امریکی دفترِ زراعت اورجانور اور پودوں کی ہیلتھ انسپیکشن سروس نے 79 ناروییئن چوہوں کےنمونوں کا تجزیہ کیا تاکہ کوویڈ 19 انفیکشن کے شواہد دیکھے جاسکیں۔ حاصل کیے گئے 79 نمونوں میں 13 چوہوں کا کووڈ ٹیسٹ مثبت آیا۔

    تحقیق میں محققین کے سامنے یہ بات آئی کہ ایلفا، ڈیلٹا اور اومیکرون ویریئنٹس چوہوں میں انفیکشن کا سبب بن سکتے ہیں۔

    یونیورسٹی آف مِزری کے پروفیسر ڈاکٹر ہینری وین کا کہنا تھا کہ یہ اپنی نوعیت کی پہلی تحقیق ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس ویریئنٹس امریکا کے شہری علاقوں کے بڑے حصے میں جنگلی چوہوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

    شہد کی بچہ مکھیاں بڑی مکھیوں سے رقص‌ سیکھتی ہیں،رپورٹ

  • مسلسل بڑھتا درجہ حرارت،برطانیہ اور آئرلینڈ کے 53 فیصد مقامی پودے تنزلی کا شکار

    مسلسل بڑھتا درجہ حرارت،برطانیہ اور آئرلینڈ کے 53 فیصد مقامی پودے تنزلی کا شکار

    مسلسل بڑھتا درجہ حرارت برطانیہ میں سرد ماحول میں پنپنے والے پودوں کی اقسام کی افزائش کو متاثر کرکے ان کی بقا کے لیے خطرہ بن چکا ہے جبکہ برطانیہ اور آئرلینڈ کے 53 فی صد مقامی پودے تنزلی کا شکار ہیں اور انہیں کئی خطرات لاحق ہیں۔

    باغی ٹی وی: بوٹانیکل سوسائٹی آف بریٹن اینڈ آئرلینڈ(بی ایس بی آئی) کی جانب سے شائع کی جانے والی رپورٹ ’پلانٹ اٹلس 2020‘ میں ملک میں پودوں کی زندگی پر کی جانے والی 20 سالہ تحقیق ہیش کی گئی-

    کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کرنے والے ممالک کی فہرست جاری

    ماہرین نے برطانیہ اور آئرلینڈ میں 3 ہزار 445 اقسام کے پودوں، فرناور الگئی کا سروے کیا اس سروے میں انہوں نے 1 لاکھ 78 ہزار سے زائد ایام کےعرصے میں تقریباً 9 ہزار بوٹنسٹ کی جانب سے اکٹھا کیے گئے 3 کروڑ پودوں کے ریکارڈ کا استعمال کیا۔

    گھر کے باغیچوں اور فصلوں میں موجود پودوں کو شمار کیے بغیر یہ جان کر محققین حیران رہ گئے کہ مطالعہ کی گئی اقسام کے 1 ہزار 753 غیر مقامی پودوں پر مشتمل تھی یہ غیر مقامی پودے مقامی پودوں کی جگہ لینے صلاحیت رکھتے ہیں کیوںکہ یہ تیزی سے بڑھتے ہیں، ان کو کھانے والے کم ہوتے ہیں یا ان کو بیماریاں کم لگتی ہیں اور یہ ماحول کے مطابق ڈھل جاتے ہیں۔

    1835 سال قبل ہونے والے سپر نووا کی باقیات کی تصویرجاری

    آئرش سمندر میں ماہرین نے دیکھا کہ آئرلینڈ کے 56 فی صد مقامی پودے اقسام اور بہتات یا دونوں اعتبار سے تنزلی کا شکار ہیں محققین کا کہنا تھا کہ تیزی سے پھیلنے والے غیر مقام پودوں اور انتہائی نوعیت کی زرعی سرگرمیوں نے بھی مقامی پودوں کے وجود کو خطرے میں ڈالا ہے۔

    بی ایس بی آئی میں ہیڈ آف سائنس اور تحقیق کے شریک مصنف ڈاکٹر کیون واکر کا کہنا تھا کہ ان پودوں کے وجود کو لاحق خطرے کو ختم کرنے کے لیے ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں لیکن سب سے ضروری چیز ان پودوں کو میسر تحفظ میں اضافہ، دستیاب مسکنوں کو بڑھانا اور ان کی ضروریات کو قدرتی ماحول کے تحفظ کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دینا ہوگا اس بات کی یقین دہانی کرانی ہوگی کہ زمین، پانی اور مٹی زیادہ پائیدار ہو تاکہ ان عوامل پر منحصر پودے اور ان کی اقسام باآسانی نشونما کر سکیں۔

    سمندروں کی بلند ہوتی سطح 90 کروڑ افراد کے لیے انتہائی خطرے کا سبب ہے

  • کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کرنے والے ممالک کی فہرست جاری

    کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کرنے والے ممالک کی فہرست جاری

    امریکی خلائی ادارے ناسا نے اپنے ارضی مشاہداتی سیٹلائٹ اور زمینی ڈیٹا کی مدد سے 60 کے قریب سائنسدانوں نے ان مقامات کی نشاندہی کی ہے جو کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں –

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق مطالعے میں زمین کے گرد زیرِ گردش، ناسا کاربن آبزرویٹری (رصدگاہ) یعنی او سی او ٹو اور زمین پر نصب آلات سے بھی مدد لی گئی ہے۔ یہ سروے 2015 سے 2020 تک جاری رہا تھا۔ اس تحقیق میں سائنسدانوں نے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج اور انجذاب دونوں کے فرق کو بھی معلوم کیاگیا ہے۔

    اس فہرست میں مجموعی طور پر 100 ممالک کا جائزہ لیا گیا ہے جو صنعتی عمل، سواریوں اور دیگر ٹیکنالوجی کی بدولت فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی غیرمعمولی مقدار خارج کررہے ہیں۔

    کاربن ڈائی آکسائیڈ ایک گرین ہاؤس گیس ہے جو کرہِ ارض پر عالمی تپش یعنی گلوبل وارمنگ کی وجہ بھی بن رہی ہے۔ نقشے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے والے خطے سرخ رنگ میں نمایاں ہیں جبکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے والے خطوں کو سبز رنگ میں دکھایا گیا ہے کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کرنے والے ممالک میں سرِ فہرست چین اور امریکہ شامل ہیں۔

    کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے والے خطوں میں جنگلات، سبزے کے مقامات اور دیگر مقامات شامل ہیں ناسا نے کہا ہے کہ وہ حکومتوں کو زور دیں گے کہ وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو روکنے میں اپنا اہم کردار ادا کریں کیونکہ ہم بہت تیزی سے مشکل ترین صورتحال کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

    تاہم سائنسدانوں نے بھی کہا ہے کہ قریباً 50 ممالک ایسے ہیں جنہوں نے گزشتہ 10 برس سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے لیے اپنا ڈیٹا نہیں دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناسا نے سیٹلائٹ سے اس کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے-

  • واٹس ایپ کافون کی سٹوریج بچانے کیلئے نیا فیچر متعارف کرانے کا اعلان

    واٹس ایپ کافون کی سٹوریج بچانے کیلئے نیا فیچر متعارف کرانے کا اعلان

    میٹا کی زیرملکیت دنیا کی مقبول ترین میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے فون کی سٹوریج بچانے کیلئے نیا فیچر متعارف کرا دیا-

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ کی اپ ڈیٹس پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ویب بیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ نے ایک ایسا نیا فیچر متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جو اسٹوریج بھرنے کے مسئلے کا حل ثابت ہوگا۔

    1835 سال قبل ہونے والے سپر نووا کی باقیات کی تصویرجاری

    واٹس ایپ کی جانب سے آئی او ایس کے بیٹا ورژن میں ایک فیچر پیش کیا گیا ہے جسے ایکسپائرنگ گروپس کا نام دیا گیا ہے یہ بنیادی طور پر ڈس اپیئرنگ فیچر جیسا ہی ہے جو انفرادی چیٹس کے لیے 2020 میں متعارف کرایا گیا تھا۔

    اس فیچر سے صارفین گروپس کے میسجز کے لیے ایکسپائری ڈیٹ کا تعین کر سکیں گے اس فیچر میں صارفین کو ایک دن، ایک ہفتہ یا کاسٹیوم ڈیٹ جیسے آپشنز فراہم کیے جائیں گے صارف کے پاس یہ اختیار بھی ہوگا کہ وہ ایکسپائری ڈیٹ کو ڈیلیٹ کر دے۔

    ابھی یہ فیچر تیاری کے مرحلے سے گزر رہا ہے اور عام صارفین تک اسے پہنچنے میں کئی ہفتے یا کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

    علاوہ ازیں واٹس ایپ نے صارفین کی آسانی کے لیے ایک ایسے فیچر پر کام شروع کیا ہے جس کے تحت اب نامعلوم نمبرز سے آنے والی کالز سےچھٹکارا حاصل کرنا انتہائی آسان ہوگا۔

    سلامتی کیلئے خطرہ ،چینی ایپ ٹک ٹاک پر پابندی

    اس حوالے سے ویب سائٹ واٹس ایپ بیٹا انفو نے ایک اسکرین شاٹ شیئر کیا جس سے پتا چلتا ہے کہ اب صارفین Unknown نمبرز کو میوٹ کرسکیں گے، یعنی کوئی بھی ایسے نمبر سے اگر انہیں فون آیا جو فون میں سیو نہیں، وہ میوٹ پر رہے گا۔

    کالز کا نوٹیفکیشن کال ہسٹری میں نظر آئے گا، البتہ آپ کے پاس کال نہیں آئے گی، اس کے لیے آپ کو سیٹنگز میں جاکر میوٹ Unknown نمبرز کرنا ہوگا واٹس ایپ کی جانب سے فی الحال یہ نہیں بتایا گیا کہ فیچر کب تک متعارف کرایا جائے گا، تاہم یہ ضرور بتایا گیا ہے کہ مذکورہ فیچر پر کام شروع کردیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ واٹس ایپ نے اگست 2022 میں صارفین کے لیے ایک بہترین پرائیویسی فیچر متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا اس فیچر کا مقصد صارفین کو ناپسندیدہ واٹس ایپ گروپس خاموشی سے چھوڑنے کی سہولت فراہم کرنا ہے مگر اس اعلان کے بعد کئی ماہ تک یہ فیچر صارفین کو دستیاب نہیں ہوسکا تھا مگر اب اسے استعمال کرنا ممکن ہے۔

    یعنی اب یہ فیچر تمام صارفین کے لیے دستیاب ہےیہ فیچر واٹس ایپس کے بڑے گروپس میں زیادہ کارآمد ہوگا جن کے میسجز کی بھرمار سے لوگ پریشان ہوجاتے ہیں۔

    اب اگر کوئی آپ کو کسی ایسے واٹس ایپ گروپ میں ایڈ کر دیتا ہے جس سے آپ دور رہنا چاہتے ہیں تو اس فیچر سے آپ کسی کو آگاہ کیے بغیر اس گروپ کو چھوڑ سکیں گے ایسا کرنے پر آپ کے گروپ چھوڑنے کا علم ایڈمن کے سوا کسی اور کو نہیں ہوگا، البتہ دیگر اراکین گروپ کی تفصیلات کے پیج میں جاکر اس بارے میں جان سکتے ہیں۔

    اس فیچر سے قبل واٹس ایپ کی جانب سے گروپ کے تمام افراد کو ایک نوٹیفکیشن بھیج کر آگاہ کیا جاتا تھا کہ کسی فرد نے گروپ سے علیحدگی اختیار کرلی ہے البتہ کسی واٹس ایپ گروپ کے ایڈمن اس فیچر کو استعمال نہیں کر سکیں گے۔

    جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی دریافت شدہ کہکشائیں،جو سائنسدانوں کے مطابق ہونی ہی نہیں چاہیے …

    اس فیچر کو استعمال کرنے کا طریقہ :

    اینڈرائیڈ اور آئی فون صارفین اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے واٹس ایپ میں اس گروپ کی چیٹ اوپن کریں جس کو وہ چھوڑنا چاہتے ہیں اس چیٹ ونڈو میں اوپر گروپ کے نام پر کلک کرکے گروپ انفو میں جائیں گروپ انفو میں نیچے اسکرول کرنے پر ایگزٹ گروپ کا آپشن نظر آئے گا اور اس پر کلک کریں۔

    اس آپشن پر کلک کرنے پر آپ کے سامنے لکھا آئے گا کہ صرف گروپ ایڈمنز کو ہی آپ کے گروپ چھوڑنے کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا، پھر ایگزٹ گروپ پر کلک کردیں۔

    انتہائی نایاب ستاروں پر مبنی نظام دریافت

  • 1835 سال قبل ہونے والے سپر نووا کی باقیات کی تصویرجاری

    1835 سال قبل ہونے والے سپر نووا کی باقیات کی تصویرجاری

    ماہرین نے 1835 سال قبل ہونے والے سپر نووا کی باقیات کی تصویر عکس بند کر لی-

    باغی ٹی وی: باقیات کی یہ تصویر سیرو ٹولولو اِنٹر-امیریکن آبزرویٹری میں موجود وکٹر ایم بلینکو ٹیلی اسکوپ میں نصب ڈارک انرجی کیمرا (ڈی ای کیم) سے عکس بند کی گئی۔

    چینی ماہرین فلکیات نے ایس این 185 نامی اس سُپر نووا کا پہلی بار مشاہدہ 185 عیسوی میں بطور ’مہمان ستارے‘ کے طور پر کیا تھا کیوں کہ یہ آسمان پر ایک نئی چمکدار روشنی کے طور پر ظاہر ہوا تھا ماہرین کے مطابق یہ سپرنووا 1800 برس قبل ایک ستارہ تھا جو پھٹ کر سپرونووا بن چکا ہے۔

    سب سے پہلے ریکارڈ ہونے والے سُپر نووا کی جگہ اب صرف RCW 86 نامی ملبے کا ایک چھلہ موجود ہے سائنس دانوں کے مطابق یہ تصویر اس سپر نووا کی باقیات کے 1800 سال کے ارتقائی سفر کے متعلق معلومات پر روشنی ڈالےگی۔

    محققین کی ٹیم کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ڈی ای کیم کے زبردست وائڈ فیلڈ ویژن کی بدولت ماہرین فلکیات نے سپر نووا کی مکمل باقیات کا انتہائی نایاب نظارہ، جیسا کہ یہ آج دِکھتا ہے، تشکیل دیا ہے۔

    ماہرین کا عرصے سے یہ ماننا رہا ہے کہ اس چھلے کو وجود میں آنے کے لیے ستارے کے پھٹنے کے بعد تقریباً 10 ہزار سال کا عرصہ لگا ہوگا۔ لیکن تازہ ترین دریافت کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ 2000 سال کے مختصر عرصے میں بھی ہوسکتا ہے۔

    تصویر کو بغور دیکھا جائےتو اس میں بڑے پیمانے پر فولاد کی موجودگی کا انکشاف ہوتا ہے جس کے متعلق محققین کا کہنا تھا کہ یہ چیز ایک مختلف نوعیت کا دھماکا ہونے کے متعلق معلومات کی جانب اشارہ کرتی ہے۔