Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • پاکستان میں فیس بک اور انسٹاگرام کو ویریفائیڈ کروانے کی فیس کتنی اور کن شرائط پر عمل درآمد کرنا ہوگا؟

    پاکستان میں فیس بک اور انسٹاگرام کو ویریفائیڈ کروانے کی فیس کتنی اور کن شرائط پر عمل درآمد کرنا ہوگا؟

    میٹا کی جانب سے فروری 2023 میں اعلان کیا گیا تھا کہ انسٹاگرام اور فیس بک استعمال کرنے والے صارفین ماہانہ فیس ادا کرکے اپنے اکاؤنٹ کو ویری فائیڈ (یا اکاؤنٹ پر بلیو ٹک) کرا سکیں گے۔

    باغی ٹی وی: میٹا کےسی ای او مارک زکربرگ نےاعلان کیا تھا کہ فیس بک اورانسٹاگرام کےصارفین کو بلیو ٹک کی فیس ادا کرنا ہوگی،ویب پر استعمال کرنے والے فیس بک اور انسٹاگرام صارفین کیلئےاکاؤنٹ ویری فائیڈ کرانےکے لیے سبسکرپشن سروس 11.99 ڈالر ماہانہ سے شروع ہوگی جبکہ آئی فون کے صارفین 14.99ڈالر فیس ادا کریں گے۔

    واٹس ایپ نے اپنے صارفین کی سہولت کے لیے یا فیچر متعارف کرا دیا

    میٹا کے مطابق یہ سروس ابتدائی طور پر اس ہفتے نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں شروع کی جائے گی جبکہ اس سروس سے پہلے سے تصدیق شدہ اکاؤنٹس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

    رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ 18 سال سے زائد عمر کے صارفین فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس کی ویری فائیڈ سبسکرپشن کے لیے اہل ہیں مارک زکر برگ کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے سوشل میڈیا ایپس پر سکیورٹی اور تصدیق شدہ اکاؤنٹس میں بہتری آئے گی۔

    تاہم میٹا ویری فائیڈ نامی سبسکرپشن پلان ابھی امریکا سمیت چند ممالک میں ہی دستیاب ہے پاکستان میں اکاؤنٹ پر بلیو ٹک کے حصول کے لیے صارفین کو ماہانہ کتنے روپے ادا کرنا ہوں گے؟تو پاکستان میں صارفین کو اپنا اکاؤنٹ ویری فائیڈ کرانے کے لیے ماہانہ 2900 روپے ادا کرنا ہوں گےیہ ماہانہ فیس بک کے ویب ورژن کے لیے ہوگی۔

    اکاؤنٹ پر بلیو ٹک کے ساتھ ساتھ سبسکرپشن پلان کے تحت صارفین کو خصوصی فیچرز جیسے پرو ایکٹیو پروٹیکشن، ڈائریکٹ کسٹمر سپورٹ اور دیگر تک رسائی بھی فراہم کی جائے گی۔

    اب صارفین واٹس ایپ سے بھی بات کر سکیں گے

    میٹا نے اپنے سبسکرپشن پلان کے لیے چند شرائط پر عملدرآمد لازمی قرار دیا ہے۔

    کمپنی کے مطابق اگر آپ فیس بک یا انسٹاگرام پر اپنے اکاؤنٹ کو سبسکرپشن پلان کے تحت ویری فائی کراتے ہیں تو پھر آپ پروفائل نیم، یوزر نیم، تاریخ پیدائش یا پروفائل فوٹو کو تبدیل نہیں کرسکیں گے۔

    صارفین کیجانب سے کسی تبدیلی کی کوشش کو کمپنی کی جانب سے بلاک کر دیا جائے گا، اگر وہ ایسا کرنا چاہتے ہیں تو انہیں سبسکرپشن پلان کی رکنیت چھوڑنا ہوگی۔

    اسی طرح میٹا ویری فائیڈ کا حصہ بننے کے لیے کم از کم عمر 18 سال ہوگی اور صارف کو حکومتی شناختی کارڈ کی ایسی نقل جمع کرانا ہوگی جو فیس بک یا انسٹاگرام پر اس کی فوٹو سے ملتی ہو۔

    ہر اکاؤنٹ میں 2 فیکٹر authentication کو ٹرن آن کرنا بھی لازمی ہوگا جبکہ حال ہی اکاؤنٹس پر کچھ پوسٹس کرنا بھی ضروری ہوگا آغاز میں سبسکرپشن پلان کے صارفین کا بلیو ٹک پرانے اکاؤنٹس کے بلیو ٹک جیسا ہی ہوگا، البتہ پرانے اکاؤنٹس میں فالوورز کی تعداد ڈسپلے کی جائے گی۔

    دوسری جانب ائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ٹوئٹر کی سبسکرپشن سروس ٹوئٹر بلیو کو پاکستان میں بھی متعارف کرا دیا گیا ہے، صارفین اب ماہانہ فیس کے عوض ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بلیو ٹِک حاصل کر سکتے ہیں جو صارفین اگلے ہفتے تک ٹوئٹر بلیو ٹک کی سبسکرپشن حاصل نہیں کریں گے انہیں یکم اپریل سے بلیو ٹکس کی سہولت فراہم نہیں کی جائے گی۔

    فرانس نے بھی چینی ایپ ٹک ٹاک پر پابندی لگا دی

    یاد رہے کہ ٹوئٹر کے بانی ایلون مسک نے 2022 میں ٹوئٹ کے ذریعے سبسکرپشن پلان سمیت کئی نئی پالیسیوں کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ٹوئٹر پر جعلی مصدقہ اکاؤنٹس کی بھرمار ہے جس کی وجہ سے آنے والے مہینوں میں انہیں معطل کر دیا جائے گا۔

    صارفین کے ٹوئٹر اکاؤنٹس اب تین مختلف رنگوں میں تصدیق شدہ ہیں، کمپنیوں کے لیے گولڈن چیک مارک، حکومتی عہدیداروں کے لیے گرے چیک مارک اور دیگر صارفین (مشہور شوبز شخصیات کے لیے بھی) بلیو چیک مارک متعارف کرایا گیا تھا۔

    تاہم اب اعلان کیا گیا ہے کہ ٹوئٹر بلیو کی سبسکرپشن سروس کو پاکستان میں بھی متعارف کرا دیا گیا ہے،پاکستان میں صارف 2 ہزار 250 روپے ماہانہ اور سالانہ فیس ادا کرنے پر کمپنی کی جانب سے 12 فیصد رعایت دی جائے گی۔

    سبسکرپشن سروس کا حصہ بننے پر بلیو چیک مارک، طویل ویڈیوز کو پوسٹ کرنے، نئے فیچرز تک سب سے پہلے رسائی، ٹوئٹ کو ایڈٹ کرنے، 1080 پکسل کی ویڈیو اپ لوڈ سمیت دیگر سہولیات صارفین کو دستیاب ہوں گی۔

    بل گیٹس کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے متعلق خطرناک خدشے کا اظہار

    یاد رہے کہ اس سے قبل ٹوئٹر کی جانب سے 20 مارچ سے دنیا بھر میں دو عنصری تصدیقی عمل (two factor authentication) فیچر مفت میں ختم کر دیا گیا تھا ٹوئٹر بلیو صارفین یعنی ماہانہ فیس ادا کرنے والے مذکورہ فیچر کو استعمال کر سکیں گے۔

  • 28 مارچ کوآسمان پر پانچ سیارے ایک ساتھ نظر آئیں گے

    28 مارچ کوآسمان پر پانچ سیارے ایک ساتھ نظر آئیں گے

    ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ منگل کی شام غروب آفتاب کےبعد پانچ سیارے ایک ساتھ نظر آئیں گے،یہ سب سیارے چاند کے قریب موجود ہوں گے اور دنیا بھر میں ان کا نظارہ کرنا ممکن ہوگا۔

    باغی ٹی وی:ماہرین فلکیات کے مطابق 28 مارچ کو سورج غروب ہونے کے بعدعطارد، زہرہ، مریخ، مشتری اور یورینس چاند کے نیچے گولائی میں نظر آئیں گے،بیشتر سیاروں کو دیکھنے کے لیے ٹیلی اسکوپ یا دوربین کی بھی ضرورت نہیں ہوگی، تاہم کچھ سیارے دوربین کے بغیر دکھائی نہیں دیں گے۔

    تنزانیہ کی پراسرار جھیل جو جانوروں کو پتھر کا بنا دیتی ہے

    ماہرین کے مطابق 28 مارچ کو سورج غروب ہونے کے بعد افق پراس جگہ نظرڈالیں جہاں سورج غروپ ہوا تھا تو چمکدار مشتری کو دیکھنا ممکن ہو گا جس کے ساتھ مدھم عطارد بھی ہوگا زہرہ کو آسمان پر دیکھنا سب سے زیادہ آسان ہو گا مگر اس کے قریب موجود یورینس کو دیکھنے کے لیے دوربین کی ضرورت ہوگی،مریخ اوپر چاند کے قریب نظر آئے گا جہاں وہ کافی روشن ہوگا۔

    ماہرین کے مطابق یہ سب سیارے سیدھی لکیر میں نہیں ہوں گے مگر پھر بھی ایک وقت میں ان سیاروں کا آسمان پر نظارہ بہت خاص ہوگا کیونکہ تمام سیارے آسمان پر’موتیوں کےہار‘ کی طرح دکھائی دیں گے اور جمعےکو غروب آفتاب کے بعد ان پانچ سیاروں کا نظارہ زیادہ واضح ہوگا جسے آئندہ دو ہفتےتک دیکھا جاسکےگا 29 اور 30 مارچ کو مشتری کے علاوہ باقی سیاروں کو آپ دیکھ سکیں گے۔

    40 نوری سال کے فاصلے پر15کروڑ سال قبل وجود میں آنیوالا نیا سیارہ دریافت

    سیاروں کے ایک ساتھ نظر آنےکا منظر ہر چند سال بعد ہوتا ہے مگر ایک سیدھی لائن میں انہیں دیکھنے کا امکان بہت کم ہوتا ہے ایسا جون 2022 میں ہوا تھا جو اس موقع پر عطارد، زہرہ، مریخ، مشتری اور زحل کو دیکھا گیا تھا۔

  • 40 نوری سال کے فاصلے پر15کروڑ سال قبل وجود میں آنیوالا نیا سیارہ دریافت

    40 نوری سال کے فاصلے پر15کروڑ سال قبل وجود میں آنیوالا نیا سیارہ دریافت

    ناسا کی 10 ارب ڈالرز کی لاگت سے بنائی جانے والی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے ایک ایسا سیارہ دریافت کیا ہے-

    باغی ٹی وی: ناسا کے سائنسدانوں کے مطابق جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے زمین سے تقریباً 40 نوری سال کے فاصلے پر موجود VHS 1256b کا مشاہدہ کیا ہے سائنس دانوں کا دعویٰ ہے کہ فلکیات کی تاریخ میں اس سے قبل ایسا سیارہ نہیں دیکھا گیا ہے 815 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت رکھنے والے اس سیارے کا ماحول گرم مٹی کے بادلوں پر مشتمل ہے جو مستقل ابھرتے ہیں، ملتے ہیں اور 22 گھنٹے کے دن کے دوران حرکت میں رہتے ہیں۔


    یونیورسٹی آف ایریزونا کی برِٹنی مائلز کی رہنمائی میں کام کرنے والی سائنس دانوں کی ٹیم نے ٹیلی اسکوپ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی مدد سے سیارے میں صاف پانی، میتھین اور کاربن مونو آکسائیڈ کی شناخت بھی کی۔ سیارے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی موجودگی کے شواہد بھی ملے ہیں۔


    صرف 15 کروڑ سال قبل وجود میں آنے والے اس سیارے کے متعلق سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اس کی کم عمری بتاتی ہے کہ اس سیارے کاآسمان اتنا طوفانی کیوں ہے۔


    یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سانتا کروز سے تعلق رکھنےوالے تحقیق کے شریک مصنف اینڈریو اسکیمر کے ایک بیان کے مطابق کسی دوسری ٹیلی اسکوپ نے آج تک ایک جِرم میں بیک وقت اتنی خصوصیات کی نشان دہی نہیں کی ہے۔

  • اب صارفین واٹس ایپ سے بھی بات کر سکیں گے

    اب صارفین واٹس ایپ سے بھی بات کر سکیں گے

    واٹس ایپ نے بھی باضابطہ طور پر اپنا اکاؤنٹ بنا لیا-

    باغی ٹی وی: واٹس ایپ نے صارفین سے براہ راست بات چیت کے لیے اپنا اکاؤنٹ بھی بنا لیا واٹس ایپ کی خبر دینے والی ویب سائٹ، ویب بیٹا انفو کے مطابق واٹس ایپ نے اس پر حال ہی میں کام کیا اور اپنا اکاؤنٹ بنایا۔

    آپ کا خط پی ٹی آئی کی پریس ریلیز دکھائی دیتا ہے،وزیر اعظم کا صدر …

    اس اکاؤنٹ کے ذریعے واٹس ایپ اپنے نئے فیچر کا بھی اعلان کرے گا اور مختلف ٹپس بھی فراہم کرے گا اس حوالے سے بعض صارفین کو واٹس ایپ کی جانب سے پیغام موصول ہوا ہے جبکہ آپ واٹس ایپ آفیشل اکاؤنٹ پر اس وقت تک رسائی حاصل نہیں کرسکتے جب تک وہ خود آپ سے رابطہ نہیں کرتا۔

    اوپر سےامریکا سےلڑائی، اندرسےبھائی بھائی،رانا ثنا اللہ کی عمران خان پر تنقید

    جو صارفین واٹس ایپ کے آفیشل اکاؤنٹ کے میسجز کو پسند نہیں کریں گے تو وہ اس کو آرکائیو میں ڈال سکتے ہیں یا اسے بلاک کرنا بھی ممکن ہو گا-

  • فرانس نے بھی چینی ایپ ٹک ٹاک پر پابندی لگا دی

    فرانس نے بھی چینی ایپ ٹک ٹاک پر پابندی لگا دی

    فرانس نے بھی چینی ایپلیکیشن ٹک ٹاک پر پابندی لگا دی-

    باغی ٹی وی: فرانس کی پبلک سیکٹر ٹرانسفارمیشن اور سول سروسز کی وزارت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق حکومت کی طرف سے عائد کی گئی پابندی پر فوری عمل درآمد کیا جائے گا فرانس نے جمعہ کو اعلان کیا کہ اس نے ڈیٹا کی ناکافی حفاظتی اقدامات کے بارے میں تشویش کی وجہ سے پابند ی عائد کی جا رہی ہے-

    یہ اقدام مقبول ویڈیو شیئرنگ ایپ کے بارے میں خدشات کے درمیان جمہوری ممالک میں ٹِک ٹاک پر اسی طرح کی پابندیوں کے بعد ہے۔ لیکن فرانسیسی فیصلے میں دوسرے پلیٹ فارمز کو بھی شامل کیا گیا جو بڑے پیمانے پر سرکاری عہدیداروں، قانون سازوں اور خود صدر ایمانوئل میکرون کے ذریعہ استعمال ہوتے ہیں۔

    فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین اور انتظامیہ کی سائبر سکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے حکومت کی جانب سے ملازمین کے پروفیشنل فون پر ٹک ٹاک جیسی ’ری کریئشنل‘ ایپلی کیشنز کے استعمال پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    فرانسیسی وزیر برائے تبدیلی اور پبلک ایڈمنسٹریشن، سٹینسلاس گورینی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’تفریحی‘‘ ایپس اتنی محفوظ نہیں ہیں کہ ریاستی انتظامی خدمات میں استعمال کیے جا سکیں یہ ڈیٹا کے تحفظ کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں-

    پابندی کی نگرانی فرانس کی سائبر سیکیورٹی ایجنسی کرے گی بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کن ایپس پر پابندی ہے لیکن یہ نوٹ کیا گیا کہ یہ فیصلہ دیگر حکومتوں کی جانب سے ٹِک ٹاک کو نشانہ بنانے کے اقدامات کے بعد آیا۔

    گورینی کے دفتر نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ پابندی میں ٹویٹر، انسٹاگرام، نیٹ فلکس، کینڈی کرش جیسی گیمنگ ایپس اور ڈیٹنگ ایپس بھی شامل ہوں گی۔

    حکام کے مطابق فرانس کے یورپی اور بین الاقوامی پارٹنرز کی جانب سے چینی ایپلی کیشن ٹک ٹاک کی ڈاؤن لوڈنگ اور استعمال پر پابندی عائد کی گئی تھی، سکیورٹی خدشات کے بنا پر فرانس نے بھی ایپلی کیشن پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے تاہم پروفیشنل معاملات میں ایپلی کیشن کے استعمال کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل امریکا، کینیڈا، برطانیہ، نیدرلینڈ، بیلجیئم اور نیوزی لینڈ سمیت دیگر ممالک کی جانب سے ٹک ٹاک کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

  • بل گیٹس کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے متعلق خطرناک خدشے کا اظہار

    بل گیٹس کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے متعلق خطرناک خدشے کا اظہار

    واشنگٹن: مائیکروسافٹ کمپنی کے بانی بل گیٹس کا کہنا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس انسانی آبادی کو اپنا دشمن سمجھ کر اس پر حملہ کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔

    باغی ٹی وی: برطانوی ویب سائٹ "مرر” کے مطابق مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے شعبے میں ہونے والی ترقی سے پرجوش اور متاثر ہیں تاہم انہیں خدشہ ہے کہ اے آئی فورسز دنیا پر حکمرانی کے لیے روبوٹس تعینات کر سکتی ہیں اگر "اچھے” کے لیے استعمال کیا جائے تو وہ تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، کاروبار اور طرز زندگی کو فروغ دے سکتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ عالمی عدم مساوات اور غربت کو بھی کم کر سکتا ہے۔

    امریکی ریاست مسی سپی میں تباہ کن طوفان اور بگولہ،23 افراد ہلاک اور درجنوں لاپتا

    اے آئی ٹیکنالوجی کئی ملازمتوں میں انسانوں کی جگہ لے رہی ہے اور اس ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے ہر روز نت نئے استعمالات سامنے آرہے ہیں لیکن مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس کی جانب سے اے آئی ایک خطرناک رُخ لے سکتی ہے –

    اگراے آئی غلط ہاتھوں میں آجاتا ہے تو ان کو حقیقی زندگی کے جیمز بانڈ طرز کے ولن اپنے بٹے ہوئے اہداف کو فروغ دینے کے لیے جوڑ توڑ کر سکتے ہیں، جو کہ اتنا اچھا نہیں لگتا تاہم دوسری طرف، بل گیٹس کا یہ بھی ماننا ہے کہ اے آئی یہ فیصلہ کر نے کی بھی اہلیت رکھتی ہے کہ انسان ایک خطرہ ہیں اور ہم پر حملہ آور ہوسکتی ہے۔

    خالصتان تحریک پراحتجاج،بھارت نے نئی دہلی میں برطانوی ہائی کمیشن کی سیکیورٹی کم کردی

  • روزہ اور سائنس

    روزہ اور سائنس

    رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں دنیا بھر کے مسلمان روزے رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنا زیادہ تر وقت عبادت میں گزارتے ہیں سارا دن بھوکے پیاسے رہتے ہیں جہاں اس کی دینی اعتبار سے فضیلت ہے وہیں آج سائنس بھی اس طریقہ کار کی متعرف ہے، مختلف تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ سال بھر میں صرف 1 ماہ کے لئے انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کی جائے تو اس کے صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    افطاری میں تربوز کھانے کے فوائد

    انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کے دوران اس عادت کو اپنایا جاتا ہےکہ دن میں 16 گھنٹے تک بنا کچھ کھائے پیے گزارتے ہیں دنیا بھر کے مسلمان ماہ رمضان میں صبح صادق سے سورج ڈھلنے تک کم و بیش 11 سے 15 گھنٹے تک بھوکے اور پیاسے رہتے ہیں جبکہ بقیہ اوقات میں کھانا کھاتے ہیں۔

    رمضان میں دیگرمہینوں کےمقابلے میں فالج کےامکانات کم ہو جاتے ہیں،ماہرین

    برطانوی ماہر غذائیت ریچل کلارکسن کے مطابق کھانے میں وقفہ بڑھانے کا طریقہ وزن میں کمی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اس کے علاوہ کھانے میں وقفے کا عمل جسم کے ایک ایسے اندرونی عمل کی شروعات کرتا ہے جس کو ’آٹو فیگی‘ کہا جاتا ہے آٹو فیگی کے دوران انسانی جسم اندرونی خلیوں کی از سر نو تعمیر شروع کر دیتا ہے خصوصاً وہ جگہ جہاں ڈی این اے موجود ہوتا ہے یعنی نیوکلیئس، اس کے ساتھ مائیٹوکونڈریا جہاں انسانی خلیوں کو درکار توانائی مہیا کرنے والے کیمیائی مواد بنتا ہے اور لائسوسومز جو خلیوں سے فضلہ خارج کرتے ہیں، ان میں بھی یہ عمل اندرونی طور پر انھیں توانا کرتا ہے۔

    روزہ اور صحت مند غذائی عادات

    اس عمل کے دوران نئے سرے سے انسانی جسم کے خلیے جنم لیتے ہیں اور کچھ ایسا مواد بھی پیدا ہوتا ہے جس کے ذریعے انسانی جسم کے خلیوں کی زندگی بڑھ جاتی ہے اب تک ہونے والی سائنسی تحقیقات کے مطابق آٹو فیگی انسانی جسم کے مدافعتی نظام میں بہتری لاتی ہے –

  • شکر گزاری کا جذ بہ شدید ذہنی تناؤ کو کم کر سکتا ہے،تحقیق

    شکر گزاری کا جذ بہ شدید ذہنی تناؤ کو کم کر سکتا ہے،تحقیق

    ماہرین کا کہنا ہے کہ شکر کرنا شدید ذہنی تناؤ کی کیفیت کو کم کرسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: مغربی دنیا میں اس موضوع پر بڑی تحقیق ہوئی ہے۔ اور اس سلسلے میں لکھنے یا تحقیق کرنے والے دو باتوں پر متفق نظر آتے ہیں۔ پہلی بات کہ شکرگزاری ایک ایسی اخلاقی قدر یا نیکی ہے جس کو بہت کمتر یا بے معنی سمجھا جاتا ہے اور دوسری بات کہ دنیا کے تمام عظیم انسانوں میں یہ خوبی عام لوگوں کی نسبت بہت زیادہ پائی جاتی ہے جس کا وہ برملا اظہار کرتے ہیں۔

    اس ضمن میں ایک چھوٹے سے گروہ پر تحقیق کی گئی ہے لیکن اس کی اہمیت نظرانداز نہیں کی جاسکتی سائنسدانوں نے نے 18 سے 57 سال کے 68 افراد کو بھرتی کیا جن میں 24 مرد اور 44 خواتین شامل تھی اس کے لیے تجربہ گاہ میں ایک فرضی ماحول بنایا گیا تھا ڈیزائن کے تحت تجربہ گاہ میں کچھ ایسے کام کئے گئے جو تناؤ کی وجہ بنے اور اس کے بعد شرکا کے دل کے ردِ عمل اور بحالی کو نوٹ کیا گیا۔ اس طرح پوری ترتیب کے ساتھ یہ تجربہ انجام دیا گیا۔

    مطالعے میں نوٹ کیا گیا کہ جو لوگ اسٹریس سے گزرے لیکن شکر کا دامن تھامے رکھا تب بھی ان کا بلڈ پریشر معمول کے تحت تھا۔ یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ اکیوٹ سائیکولوجیکل اسٹریس کی صورت میں قلبی ردِ عمل اور بحالی میں جذبہ تشکر ایک دیوار کی طرح حائل رہا۔

    محققین کےمطابق اگرکوئی شخص شدید نفسیاتی تناؤ (اکیوٹ سائیکولوجیکل اسٹریس) کا شکار ہے تو بھی شکر کا جذبہ اسے کیفیت سے تحفظ فراہم کرتا ہےچونکہ دماغ جسم کا صدر مقام ہے تو ڈپریشن اور تناؤ پورے جسم کومتاثرکرتا ہےپھر اس سے بلڈ پریشر، ذیابیطس اور امراضِ قلب میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اسی لیےماہرین اسٹریس بفر یعنی تناؤ سے مزاحم عوامل بہت زور دیتے ہیں۔

    یونیورسٹی آف مے نوتھ سے وابستہ برائن لیوی اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ اگرچہ شکراورڈپریشن میں کمی میں تعلق پر بہت تحقیق ہوئی ہے لیکن حقیقی طور پر نفسیاتی تناؤ اور امراضِ قلب سے بحالی پر بہت کم تحقیق کی گئی ہے۔

    جذبہ شکرایک طاقتورکیفیت ہے جو ہمیں بہت سے مسائل سے بچاتی ہے۔ 2010 میں کی گئی تحقیق کے مطابق شکر کے چھوٹے چھوٹے عمل ہماری صحت کو بہتر کرتی ہے۔ اسی طرح 2016 میں امراضِ قلب کے شکار افراد سے شکرانے کی ڈائری لکھنے کو کہا تو ان کی کیفیت بہتر ہونے لگی اور وہ تیزی سے بحال ہوئے-

    رابرٹ ایمنذ ، میک کلااور ان کے کئی ایک ساتھیوں نے شکرگزاری کے موضوع پر کافی تحقیق کی ہے ۔ان کے مطابق دنیا کے تمام مذاہب میں شکرگزاری ایک ایسی نیکی ہے جوبہترین انسانی کردار کی ضمانت کے طور پر جانی جاتی ہے یہ ایک ایسا جذبہ ہے جس کا لازمی جز وہ خوشگوار احساس ہے جو نعمت پہنچانے والے کے ساتھ منسلک ہوتاہے ۔

    پچھلی دو دہائیوں میں نفسیات کے میدان میں انسانی جذبات اور انہیں سمجھنے پر کافی تحقیق ہوئی ہے اور اس موضوع پر لکھی گئی کئی ایک کتابیں اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ ایک اہم انسانی صفت ہے جسے ما ہرِ نفسیات اور فلاسفرز مختلف انداز میں بیان کرتے ہیں شکرگزاری کی تعریف کئی مشہور شخصیات سے منسوب ہے ڈیوڈ ہارنیڈ (1997) کے مطابق شکر گزاری ایک ایسےرویے کو ظاہر کرتا ہے جوبذاتِ خود نعمت یا تحفے کی طرف اور نعمت دینے والے کی طرف اس عزم کے ساتھ ہوتا ہے کہ اس نعمت یا احسان یا تحفے کو دینے والے کی مرضی کے مطابق بہترین انداز میں استعمال کیا جائے ۔

    ۔اوپرا ونفری امریکہ کی مشہور ایکٹریس، مصنفہ اور ٹاک شو ہوسٹ ہے، اس کے مطابق اگر’’ہم اس (نعمت)کے شکر گزار ہیں جو ہمارے پاس ہے تو ہمیں مزید ملے گا‘‘۔امریکہ ہی کے مشہور روحانی پیشوا نارمن ونسنٹ پیل کے مطابق’’ ایک بنیادی قانون (یہ ہے کہ) جتنا زیادہ تم شکر ادا کرو گے اتنے زیادہ تمہیں شکر ادا کرنے کے موقعے ملتے رہیں گے‘‘۔

    سیلف ہیلپ پر کئی کتابیں لکھنے والی مصنفہ میلوڈی بیٹی کے مطابق ، ’’شکر گزاری ماضی کو قابلِ فہم، آج کو پرسکون اور آنے والے کل کو مقاصد تخلیق کرنے کے قابل بناتی ہے-

    فرانسیسی جرنلسٹ اور ناولسٹ الفونسی کار شکرگزاری کے جذبے کے تحت زندگی کو مثبت انداز میں دیکھنے کے عادی ہے اور کہتے ہیں کہ کچھ لوگ شکایت کرتے ہیں کہ گلاب کے پھولوں کے ساتھ کانٹے ہوتے ہیں جبکہ میں اس بات کا شکر ادا کرتا ہوں کہ کانٹوں کے ساتھ گلاب ہیں-

    ۔رابرٹ ایمنذ اپنی کتاب، ’شکریہ‘ میں تحریر کرتے ہیں کہ وہ لوگ جو شکر ادا کرنے والے یا شکرگزاری کے جذبے سے سرشار ہوتے ہیں وہ دوسروں سے محبت کرنے والے، آسانی سے معاف کرنے والے، پرجوش اور خوشی کے جذبے سے سرشار ہوتے ہیں۔ یہی جوش اور خوشی انہیں کامیابیوں سے ہمکنار کرتا ہے۔

  • دنیا بھر میں ماحولیاتی خطرے سے بچاؤ کی آخری وارننگ جاری

    دنیا بھر میں ماحولیاتی خطرے سے بچاؤ کی آخری وارننگ جاری

    نیویارک: سائنسدانوں نے دنیا بھر میں ماحولیاتی خطرے سے بچاؤ کی آخری وارننگ جاری کر دی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ایجنسی”دی گارڈین” کے مطابق سائنسدانوں نے آب و ہوا کے بحران پرایک "حتمی انتباہ” پیش کیا ہے، کیونکہ بڑھتے ہوئے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج نے دنیا کو ناقابل تلافی نقصان کے دہانے پر دھکیل دیا ہے جسے صرف تیز اور سخت کارروائی ہی روک سکتی ہے بین الحکومتی پینل آن کلائمیٹ چینج (آئی پی سی سی)، جو کہ دنیا کے سرکردہ موسمیاتی سائنسدانوں پر مشتمل ہے، نے پیر کو8,000 صفحات پرمشتمل اپنی بڑی چھٹی تشخیصی رپورٹ کا حتمی حصہ مرتب کیا۔

    جنگلات کےساتھ مشروم کی افزائش موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات کم کر سکتی ہے،تحقیق

    دنیا کے معروف سائنس دانوں نے بین الحکومتی پینل کی چوتھی اور آخری قسط میں خبردار کیا ہے کہ سیارہ قریب قریب میں صنعتی سطح سے پہلے کی سطح کےبعدسے 1.5 سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا "زیادہ امکان” ہے،جس کے نتیجے میں "بڑھتے ہوئے ناقابل واپسی نقصانات” ہوں گے 8,000 صفحات پر مشتمل رپورٹ جسے سنتھیسس رپورٹ کہا جاتا ہےکو اب تک مرتب کی گئی موسمیاتی تبدیلی کا سب سے زیادہ جامع، بہترین دستیاب سائنسی جائزہ سمجھا جاتا ہے۔

    اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا یے کہ دنیا تیزی سے تباہ کن گرمی کی جانب بڑھ رہی ہےاور بروقت اقدامات نہ کیے گئےتو ہم بین الاقوامی ماحول کے اہداف سےبہت دور ہو جائیں گےدنیا کےسینکڑوں سائنسدان اس رپورٹ کی تیاری میں 8 برس سے مصروف تھے تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ موسمیاتی بحران کس طرح سامنے آ رہا ہے۔

    سائنسدانوں نے بین الاقوامی ماحولیاتی نتائج پر کہا ہے کہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے موسمیاتی بحران کس طرح سے سامنے آ رہا ہے۔ دنیا بھر کے موسم میں شدت آ رہی ہے،گرمی کی شدت سے ہزاروں اموات ہو چکی ہیں جبکہ قحط اور سیلاب سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں زمین کو گرم کرنے والی آلودگی کے اثرات بہت زیادہ شدید ہیں اور ہم تیزی سے خطرناک نتائج کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

    مسلسل بڑھتا درجہ حرارت،برطانیہ اور آئرلینڈ کے 53 فیصد مقامی پودے تنزلی کا شکار

    رپورٹ میں کہا گیا کہ زمین کو گرم کرنے والی آلودگی کے اثرات پہلے ہی توقع سے زیادہ شدید ہیں اور ہم تیزی سے خطرناک نتائج کی طرف بڑھ رہے ہیں،فضا میں کاربن کی آلودگی 20 لاکھ سالوں سے اپنی بلند ترین سطح پر ہے اور گزشتہ نصف صدی کے دوران درجہ حرارت میں اضافے کی شرح 2 ہزار سالوں میں سب سے زیادہ ہےموسمیاتی تبدیلی کے زیادہ اثرات غریب اور کمزور ممالک پر زیادہ پڑ رہے ہیں۔

    اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوئتریس نے پیر کو موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے رپورٹ پر بین الحکومتی پینل کے آغاز کے موقع پر کہا کہ انسانیت پتلی برف پر ہے اور وہ برف تیزی سے پگھل رہی ہے ماحولیاتی بہتری کے لیے ہر ملک کو ہر شعبے میں کوشش کرنا ہو گی۔

    کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کرنے والے ممالک کی فہرست جاری

    فرینڈز آف دی ارتھ انٹرنیشنل میں پروگرام کوآرڈینیٹر سارہ کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ موسمیاتی تبدیلیوں سے پیش آنے والے خطرات کا اندازہ لگانے کے حوالےسے اب تک کی سب سے زیادہ خوفناک اور پریشان کن رپورٹ ہے۔

  • جامعہ فلوریڈا کے ایک پروفیسر100 دن  زیر آب رہیں گے

    جامعہ فلوریڈا کے ایک پروفیسر100 دن زیر آب رہیں گے

    فلوریڈا: جامعہ جنوبی فلوریڈا کے ایک پروفیسر نے سائنسی تحقیق کے لیے 100 دن زیرآب رہنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: جنوبی فلوریڈا یونیورسٹی کے ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر 100 دن پانی کے اندر رہ کر عالمی ریکارڈ توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جوزف ڈٹوری اس بات کا مطالعہ کر رہے ہیں کہ انسانی جسم پر انتہائی دباؤ کے طویل مدتی اثرات کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں-

    ایکواڈوراورپیرو میں زلزلہ،15 افراد ہلاک اور 125 سے زائد زخمی،بلوچستان میں بھی زلزلے کے جھٹکے

    اس سے قبل وہ زیرِ آب بلبلے نما مرکزمیں وہ 16 روز 22 میٹرگہرائی میں گزارکر تحقیق کرچکے ہیں۔ تاہم گنیزبک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق 2014 میں بروس سینٹرل اور جیسیکا فائن جولس انڈر سی لاج میں 73 دن تک رہ کر عالمی ریکارڈ بناچکے ہیں اب پروفیسر جوزف طویل تحقیق کے ساتھ یہ ریکارڈ بھی توڑنا چاہتے ہیں۔

    اس دوران وہ پورے مشن میں تنہا رہیں گے جبکہ اس کے طالبعلم ان کے لیے ضروری سامان پہنچاتے رہیں گے۔ 2012 میں وہ امریکی نیوی سے ریٹائرہونے کے بعد اب مزید تحقیق کرنا چاہتے ہیں۔ وہ فلوریڈا کے پاس کی لارگو لگون کے پاس 22 فٹ گہرائی میں بنے بلبلہ نما گھر میں رہیں گے اور آبی حیات پر تحقیق کریں گے۔

    ایک طبی ٹیم معمول کے مطابق ان کے رہائش گاہ میں غوطہ لگا کر 55 سالہ شخص کی صحت کو نوٹ کرے گی ایک ماہر نفسیات ایک طویل مدت تک الگ تھلگ،محدود ماحول میں رہنے کےذہنی اثرات کو بھی نوٹ کریں گےپروجیکٹ سے پہلے، اس کے دوران اور بعد میں،ڈیٹوری نفسیاتی، کےاور طبی ٹیسٹ کئے جائینگے جس میں بلڈ پینلز، الٹراساؤنڈز اور الیکٹروکارڈیوگرامس کے ساتھ ساتھ اسٹیم سیل ٹیسٹ بھی شامل ہیں۔

    سائنسدانوں نے کورونا وائرس کو پھیلانے والے ممکنہ جانور کی شناخت کرلی

    اس منصوبے کو ’پروجیکٹ نیپچون‘ کا نام دیا گیا ہے۔ جو ڈیٹوری چاہتے ہیں کہ ایک جانب وہ سمندر کی گہرائی میں رہ کر نئی دریافتیں کریں تو دوسری جانب وہ اتنے طویل عرصے تک پانی نے اندر رہ کر خود اپنے جسم پر اس کے اثرات دیکھنا چاہتے ہیں۔

    ڈیٹوری نے کہا کہ انسانی جسم کبھی بھی اتنے لمبے عرصے تک پانی کے اندر نہیں رہا، اس لیے میری نگرانی کی جائے گی۔” "یہ مطالعہ اس سفر کے میرے جسم پر اثر انداز ہونے والے تمام طریقوں کا جائزہ لے گا، لیکن میرا مفروضہ یہ ہے کہ بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے میری صحت میں بہتری آئے گی۔

    ڈیٹوری ایک تحقیق میں پائے جانے والے نتائج کو آگے بڑھا رہے ہیں، جہاں بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کرنے والے خلیات پانچ دنوں کے اندر دوگنا ہو جاتے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ بڑھتا ہوا دباؤ انسانوں کو اپنی لمبی عمر بڑھانے اور بڑھاپے سے وابستہ بیماریوں کو روکنے میں مدد دیتا ہے-

    دنیا کے خوش ترین ممالک کی فہرست جاری،پاکستان کا کونسا نمبر؟