Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • انتہائی نایاب ستاروں پر مبنی نظام دریافت

    انتہائی نایاب ستاروں پر مبنی نظام دریافت

    ماہرینِ فلکیات نے ایک انتہائی نایاب ستاروں پر مبنی نظام دریافت کیا ہے-

    باغی ٹی وی: ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ستاروں پر مبنی نظام اتنا نایاب ہے کہ ماہرین کے مطابق ہماری کہکشاں میں اس جیسے صرف 10 نظام موجود ہیں-

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نظام کے حالات دو نیوٹرون ستاروں کے ملاپ کے سبب کلو نووا کے پیش آنے کے عین مطابق ہیں ان ستاروں کے ملاپ کی صورت ایک روایتی نووا سے 1000 گُنا زیادہ روشن دھماکا ہوتا ہے۔

    CPD-29 2176نامی ستاروں کا یہ جتھہ زمین سے 11 ہزار 400 نوری سال کے فاصلے پر موجود ہے اور اس کی نشان دہی پہلی بار ناسا کے نیل گیہریلز سوئفٹ آبزرویٹری نے کی تھی جس کو 2004 میں خلاء میں بھیجا گیا تھا۔

    چلی میں قائم سیرو ٹولولو انٹر امیریکن آبزرویٹری کی اسمارٹس 1.5 میٹر ٹیلی اسکوپ سے لیے جانے والے مشاہدات سے ماہرین فلکیات اس نتیجے تک پہنچے کے یہ نظام ایک دن ایک کِلو نووا کا سبب ہوگا۔

    ماہرین کے مطابق اس نظام میں ایک نیوٹرون ستارہ موجود ہے جو ’الٹرا-اسٹرپڈ سپر نووا‘ کی وجہ سے وجود میں آیا ہے اور اس کے گرد ایک بڑا ستارہ گردش کر رہا ہے جو خود ’الٹرا-اسٹرپڈ سپر نووا‘ بننے کے عمل میں ہے۔

    الٹرا-اسٹرپڈ سپر نووا ایک عام سپر نووا سے اس لیے مختلف ہوتا ہے کیوں کہ ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں بہت کم یا نا ہونے کے برابر مواد نکلتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسا ہونے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ پھٹتے ہوئے ستارے کا باہری ماحول اس کا ساتھی ستارہ ختم کر دیتا ہے۔

    پھٹنے والا ستارہ پھر نیوٹرون ستارہ بن جاتا ہے۔ لیکن کیوں کہ اس سپُر نووا میں دھماکا خیز طاقت موجود نہیں ہوتی اس کا مطلب ہوتا ہے کہ اس کا ساتھی ستارہ موجود رہتا ہے۔ جبکہ روایتی سپر نووا اپنے ساتھی ستارے کو نظام سے باہر نکال دیتا ہے۔

  • سمندروں کی بلند ہوتی سطح 90 کروڑ افراد کے لیے انتہائی خطرے کا سبب ہے

    سمندروں کی بلند ہوتی سطح 90 کروڑ افراد کے لیے انتہائی خطرے کا سبب ہے

    اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ سمندروں کی بلند ہوتی سطح بڑے پیمانے پر انسانوں کو نقل مکانی پر مجبور کر سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی: نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے سیکیورٹی کونسل میں تقریر کرتے ہوئے انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ بنگلادیش، چین، بھارت اور نیدرلینڈز جیسے ممالک زیر آب آنےکے خطرات سےدوچار ہیں لیکن مستقبل میں ہر برِ اعظم کے بڑے شہرانتہائی نوعیت کے اثرات کی زد میں آئیں گے۔ان شہروں میں قاہرہ، بینکاک، شینگھائی، کوپن ہیگن، لندن، لاس اینجلس، نیو یارک اور بیونس آئرس شامل ہیں۔

    سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ 20 ویں صدی کے بعد سے دنیا بھر کے سمندروں کی سطح تیزی سے بلند ہوئی ہے اور یہ مسئلہ ساحلی علاقوں پر رہنے والے تقریباً 90 کروڑ افراد کے لیے انتہائی خطرے کا سبب ہے۔

    انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ اس کے ممکنہ نتائج ناقابلِ تصور ہیں۔ پست علاقوں میں رہنے والی آبادیاں اورممالک ہمیشہ کے لیے صفحہ ہستی سے مٹ سکتے ہیں۔ ہم بڑے پیمانے پر آبادیوں کو نقل مکانی کرتا دیکھیں گے۔

  • سعودی عرب کا پہلی خاتون خلاباز کو خلائی مشن پر بھیجنےکا اعلان

    سعودی عرب کا پہلی خاتون خلاباز کو خلائی مشن پر بھیجنےکا اعلان

    سعودی عرب نے اپنی پہلی خاتون خلاباز کو خلائی مشن پر بھیجنےکا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق سعودی سپیس کمیشن نے کہا ہے کہ ’وہ سال رواں 2023 کی دوسری سہ ماہی کے دوران پہلی سعودی خلا نورد خاتون اور ایک مرد کو بین الاقوامی خلائی سٹیشن (آئی ایس ایس) بھیجے گا‘۔

    سعودی عرب نے اتوار کو اعلان کیا کہ رواں سال وہ اپنی پہلی خاتون خلا باز ریانا برناوی (Rayyana Barnawi) کو سعودی ساتھی علی القرنی کے ساتھ انٹرنیشنل خلائی اسٹیشن کے 10 روزہ مشن پر بھیجے گا۔

    رپورٹس کے مطابق دونوں خلاباز AX-2 خلائی مشن کے عملے میں شامل ہوں گے، عملہ فلوریڈاکےکینیڈی اسپیس سینٹرسےرواں برس کے آخر میں روانہ ہوگا،خلائی سفرکا آغاز امریکہ کے بین الاقوامی خلائی سٹیشن سے ہوگا۔

    عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ اس مشن کا مقصد انسانی خلائی پرواز میں سعودی عرب کی صلاحیتوں کو بڑھانا،انسانیت کی خدمت اور خلائی صنعت کی طرف سے پیش کردہ امید افزا مواقع سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ صحت اور خلائی ٹیکنالوجی جیسے کئی پہلوؤں میں سائنسی تحقیق میں تعاون کرنا ہے –
    https://twitter.com/saudispace/status/1624740450333777922?s=20&t=FuXnBMtoD61YRzVNCtzqmg
    سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، برناوی اور القرنی کے علاوہ، دو اور خلابازوں، مریم فردوس اور علی الغامدی کو بھی مستقبل کے خلائی مشن کے لیے سعودی ہیومن اسپیس فلائٹ پروگرام کے تحت تربیت دی جا رہی ہے۔

    سعودی سپس کمیشن کے چیئرمین انجینیئرعبداللہ السواحہ نے کہا کہ اعلی قیادت خلا نوردوں کے پروگرام کی سرپرستی کررہی ہےاسی لیے خلائی سائنس کی سطح پر اچھوتے سائنسی کاموں کی طرف پیشقدمی ممکن ہوسکی ہے سعودی عرب خلا نوردوں کے پروگرام سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہےاس کی بدولت خلااور اس کی دریافت کے حوالےسے بین الاقوامی مسابقت میں سعودی عرب کی حیثیت مضبوط ہوگی-

    خلا نوردوں کا پروگرام سعودی وزارت دفاع، وزارت سپورٹس، محکمہ شہری ہوابازی، کنگ فیصل سپیشلسٹ اینڈ ریسرچ سینٹر اور ایکسیوم سپس مل کر کررہی ہیں-

  • سطح زمین سے 161 کلو میٹر نیچے ایک نئی پرت دریافت

    سطح زمین سے 161 کلو میٹر نیچے ایک نئی پرت دریافت

    سائنس دانوں نے سطح زمین سے 161 کلو میٹر نیچے ایک نئی تہہ دریافت کی ہے جس سے سیارے کا تقریباً 44 فیصد حصہ ڈھکا ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: ماہرین کے مطابق پگھلی ہوئی چٹانوں کا یہ خطہ، جس کے متعلق پہلے کچھ معلوم نہیں تھا، ایستھینواسفیئر کا حصہ ہے جو ٹیکٹونک پلیٹوں کے نیچے اور مینٹل کے اوپری حصے میں موجود ہے۔ یہ خطہ نرم سرحد تشکیل دیتا ہے جس کے سبب ٹھوس چٹانوں کی سلیں حرکت کرتی ہیں۔

    سعودی عرب میں نبطی دور کی حنوط شدہ خاتون کا چہرہ بحال

    یہ نئی دریافت عرصے سے رکھے جانے والے ان نظریات کو غلط ثابت کرتی ہے کہ پگھلی ہوئی چٹانیں ایستھینواسفیئر کے گاڑھے پن کو متاثر کرتی ہیں۔

    محققین نے حیرت کا اظہار کیا ہے کہ کون سے عوامل asthenosphere کو نرم بناتے ہیں اور پگھلی ہوئی چٹانوں کو اس کا حصہسمجھتے ہیں۔ اگرچہ زمین کا اندرونی حصہ زیادہ تر ٹھوس ہے، چٹانیں وقت کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ منتقل اور حرکت کر سکتی ہیں۔

    جیونلن ہوا، آسٹن کی یونیورسٹی آف ٹیکساس کے جیکسن اسکول آف جیو سائنسز میں پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلو، اپنی ڈاکٹریٹ کی تحقیق کے لیے ترکی کے نیچے واقع زمین کے پردے کی زلزلہ کی تصاویر کا مطالعہ کر رہے تھے جب انھوں نے جزوی طور پر پگھلی ہوئی چٹان کے آثار دیکھے۔ اس نے اپنا کام 2020 میں شروع کیا جب وہ براؤن یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کے طالب علم تھے۔

    50 ہزار سال بعد پہلی بار زمین کے قریب سے گزرنے والا سبز دم دار ستارہ آج آسمان پر…

    جیونلِن ہوا کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ جب ہم کسی چیز کے پگھلنے کے متعلق سوچتے ہیں تو ہم خود بخود یہ سوچنے لگ جاتے ہیں کہ یہ مائع مادے کے گاڑھے ہونے میں بڑا کردار ادا کرتا ہوگا۔ لیکن ہمیں یہ معلوم ہوا کہ جہاں پر پگھلا ہوا مادہ زیادہ مقدار میں بھی تھا وہاں بھی مینٹل کے بہاؤ پر انتہائی معمولی اثر ڈال رہا تھا۔

    سائنسدانوں نے پہلے اس چٹان کی تہہ کے کچھ حصوں کو دیکھا تھا اور سوچا تھا کہ یہ ایک بے ضابطگی ہے، لیکن جیونلن اور اس کے ساتھی محققین کو اس بات کا ثبوت ملا کہ اس کی وسیع تر موجودگی تھی۔

    تحقیقی ٹیم نے اس بات کی تصدیق کی کہ asthenosphere ٹھوس اور پگھلی ہوئی چٹان دونوں پر مشتمل ہے اور اگرچہ یہ چٹان بعد میں جزوی طور پر پگھلی ہوئی ہے، لیکن یہ پلیٹوں کی نقل و حرکت میں حصہ نہیں ڈالتی اور نہ ہی ان کے لیے حرکت کرنا آسان بناتی ہے۔

    اس سے قبل یہ نظریہ تھا کہ ان ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکات ان پگھلی ہوئی چٹانوں سے منتقل ہونے والی تپش کے سبب ہوتی ہے۔ لیکن یہ نئی دریافت واضح کرے گی کہ ٹھوس چٹانوں کی سلیں سطح کے نیچے کس طرح بآسانی حرکت کرتی ہیں۔

    زمین کی مقناطیسی میدان میں خلل پرندوں کو ان کی منزل سے بھٹکاسکتا ہے،تحقیق

  • گلیشیئرز پگھلنے سے پاکستان اور بھارت کوشدید خطرہ

    گلیشیئرز پگھلنے سے پاکستان اور بھارت کوشدید خطرہ

    ایک نئی تحقیق میں ماہرین نے خبردار کیا ہےکہ مستقبل میں گلیشیئرز پگھلنے سے بننے والی جھیلیں پھٹنے کے باعث آنے والے سیلابوں سے پاکستان اور بھارت سمیت دنیا بھر میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد لوگ متاثر ہو سکتے ہیں، جس میں آدھے سے زیادہ لوگوں کا تعلق پاکستان، بھارت، چین اور پیرو سے ہو سکتا ہے جبکہ سب سے زیادہ خطرہ پاکستان کو درپیش ہوگا۔

    باغی ٹی وی: نیچر کمیونیکیشن نامی سائنسی جریدے میں شائع شدہ تحقیقمیں سائنسدانوں کی جانب سے دنیا بھر میں مستقبل میں آنے والے سیلابوں کے حوالے سے پہلی مرتبہ ممکنہ متاثرین کی تعداد کا جائزہ لیا گیا ہے تحقیق میں کہا گیا ہے کہ پہاڑوں پر گلیشیئرز پگھلنے کی رفتار سے مستقبل میں تباہ کن سیلابوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

    اقوام متحدہ کا پاکستان میں 5 ہزار گلیشیئرز کی میپنگ کروانے کا فیصلہ

    تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پہاڑوں پر گلیشیئرز پگھلنے سے پانی بہہ کر جھیلوں میں جمع ہوجاتا ہے تاہم جب یہ جھیلیں اپنے قدرتی حصار کو توڑدیں گی تو یہ پانی طوفانی رفتار سے وادیوں میں تباہی مچا سکتا ہے، خاص طور پر انسانی نقصان کا اندیشہ اس صورت میں کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے جب بڑی تعداد میں لوگ ان جھیلوں کے قریب آباد ہوں۔

    برطانیہ کی نیو کاسل یونیورسٹی کے فزیکل جیوگرافر اور تحقیق کے شریک مصنف اسٹوؤرٹ ڈننگ کا کہنا ہےکہ بڑھتےہوئےدرجہ حرارت میں گلیشیئرز سے بننے والی جھیلیں پھٹنے کے باعث سیلابوں کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ تازہ تحقیق کا مقصد صرف گلیشیئرز سے بننے والی جھیلوں کی تعداد معلوم کرنا نہیں تھا بلکہ اس میں ہم نے ان لوگوں کو بھی توجہ کامرکزرکھا ہےجو کہ سیلاب کی آفت سے متاثرہو سکتے ہیں2006 سے 2016 تک مجموعی طور پر 332 گیگا ٹن برف گلیشیئرز سے پگھل کر جھیلوں کی صورت اختیار کر چکی ہے 1990 سے عالمی سطح پر گلیشیئرز پگھلنے سے بننے والی جھیلوں کی تعداد میں تقریباً 50 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    پاکستان میں گلیشیئر پگھلنے سے بننے والی جھیلوں میں گزشتہ تین برس میں غیرمعمولی اضافہ

    تحقیق کے مطابق ایشیا کے اونچے پھاڑوں میں 2000 گیلیشیئرز سے بننے والی جھیلوں کے قریب تقریباً 90 لاکھ لوگ آباد ہیں اور صرف 2021 میں بھارت کے شمالی پہاڑوں پر ایک جھیل کے پھٹنے سے 100 سے زائد لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔

    تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ شمالی امریکا کے الپس (Alps) گلیشیئرز کے مقابلے میں ایشیا کے گلیشیئرز اچھی طرح مانیٹر نہیں ہوتے اس لیے ان میں سے بیشتر پر وقت کے ساتھ کیا تبدیلیاں آ رہی ہیں اس کا انداز لگانا تھوڑا مشکل ہے۔

    جولائی 2022 میں شائع شدہ ایک تحقیق کے مطابق 1990 سے 2015 تک ہمالیہ کے گلیشیئرز میں 11 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، اسی عرصے کے دوران ہمالیہ سلسلے میں موجود جھیلوں کی تعداد میں 9 فیصد اضافہ جبکہ جھیلوں کے اراضی میں 14 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    ایک تحقیق کے مطابق ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں میں 200 سے زائد گلیشیئرز پگھلنے سے بننے والی جھیلیں خطرناک صورت اختیار کر چکی ہیں جس سے کسی بھی وقت وہاں آباد لوگوں کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

    آنے والی نسلیں شدید موسمی اثرات کا سامنا کریں گی ، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

  • سماجی طور پر الگ تھلگ رہنے والوں میں ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ بڑھ جاتا ہے،تحقیق

    سماجی طور پر الگ تھلگ رہنے والوں میں ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ بڑھ جاتا ہے،تحقیق

    شریک حیات کے ساتھ زندگی گزارنے والے افراد میں بلڈ شوگر کی سطح بڑھنے کا خطرہ کم ہوتا ہے جبکہ سماجی طور پر الگ تھلگ رہنے والوں میں ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی اوٹاوا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ شریک حیات کے ساتھ زندگی گزارنے سے درمیانی عمر سے بڑھاپے تک بالغ افراد کو سماجی معاونت ملتی ہے، چاہے جوڑوں کا باہمی تعلق اچھا ہو یا خراب۔

    انسانی شریانوں میں پلاسٹک کے ننھے ذرات دریافت

    محققین نے بتایا کہ طلاق یا کسی بھی وجہ سے شریک حیات سے الگ ہوکر تنہا رہ جانے والے افراد میں طبی خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

    اس تحقیق کے دوان ماہرین نے ازدواجی حیثیت، ازدواجی رشتے کے معیار اور معمر افراد میں بلڈ شوگر کی سطح کے درمیان تعلق کی جانچ پڑتال کی تھی

    اس مقصد کے لیے 50 سے 89 سال کی عمر کے ایسے 3335 افراد کے ڈیٹا کو استعمال کیا گیا جن میں 2004 سے 2013 کے درمیان ذیابیطس کی تشخیص نہیں ہوئی تھی۔

    ان افراد کے خون کے نمونوں کے ذریعے بلڈ گلوکوز کی سطح کو دیکھا گیا اور ان کے ازدواجی تعلق کی تفصیلات حاصل کی گئیں۔

    تحقیق میں تمام تر عناصر کو مدنظر رکھنے پر دریافت ہوا کہ جب شریک حیات سے رشتے میں تبدیلی آتی ہے جیسے طلاق ہوجاتی ہے، تو بلڈ شوگر کی سطح میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں جس سے ذیابیطس کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

    تحقیق کے مطابق حیران کن طور پر شریک حیات سے اچھا یا خراب تعلق بلڈ شوگر کی سطح پر نمایاں اثرات مرتب نہیں کرتا۔

    محققین کے مطابق یہ مشاہداتی تحقیق تھی تو وہ شریک حیات کے ساتھ اور ذیابیطس کے خطرے میں کمی کی وجہ دریافت نہیں کرسکے۔

    بلڈ شوگر کاعلاج کچن میں موجود عام سی سبزی سے ممکن

    اس تحقیق کے نتائج برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہوئے۔

    قبل ازیں ناروے میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں ماہرین نے بتایا تھا کہ شادی کے بندھن میں بندھنا عمر بڑھنے کے ساتھ دماغ کو صحت مند رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے اور ڈیمینشیا جیسے ذہنی امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

    نارویجن انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کی تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ طلاق یافتہ اور زندگی بھر کنوارے رہنے والے افراد کے مقابلے میں طویل المعیاد عرصے تک شریک حیات کے ساتھ زندگی گزارنے والوں میں ڈیمینشیا کا خطرہ کم ہوتا ہے ڈیمینشیا کے خطرے پر اثر انداز ہونے والے دیگر عناصر جیسے تعلیمی قابلیت اور طرز زندگی کی عادات کو مدنظر رکھنے پر بھی شریک حیات کا طویل المعیاد ساتھ دماغی صحت کو امراض سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

    تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ طلاق یافتہ اور کنوارے افراد میں ڈیمینشیا کی تشخیص کا امکان بالترتیب 50 اور 73 فیصد زیادہ ہوتا ہے،اس تحقیق میں 8700 افراد کو شامل کیا گیا اور ان کے ازدواجی حیثیت کا جائزہ 24 سال تک لیا گیا اس عرصے میں 12 فیصد افراد میں ڈیمینشیا کی تشخیص ہوئی جبکہ دیگر 35 فیصد کو معمولی ذہنی مسائل جیسے یادداشت کی کمزوری کا سامنا ہوا۔

    زمین کی اندرونی تہہ نے الٹی جانب گھومنا شروع کردیا ہے،تحقیق

    محققین نے دریافت کیا تھا کہ شادی شدہ ہونے اور معمولی ذہنی مسائل کے خطرے کے درمیان تو ٹھوس تعلق نہیں مگر ڈیمینشیا کے خطرے میں کمی کے حوالے سے یہ تعلق واضح ہے،شریک حیات کا ساتھ عمر بڑھنے کے ساتھ دماغ کو زیادہ تحفظ فراہم کرتا ہے۔

    ایک اور تحقیق میں ماہرین نے دریافت کیا تھا کہ اگرچہ مردوں کی اوسط عمر خواتین کے مقابلے میں کچھ کم ہوتی ہے مگر اس بات کا ٹھوس امکان ہے کہ وہ خواتین سے زیادہ عمر پاسکتے ہیں، بالخصوص اگر وہ شادی شدہ ہوں بی ایم جے اوپن جرنل میں شائع تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ 25 سے 50 فیصد مردوں کی عمر خواتین سے زیادہ ہوتی ہے۔

    تحقیق کے دوران 199 ممالک کے تعلق رکھنے والے مردوں اور خواتین کی عمروں کے لگ بھگ 200 سال کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا تھا جس میں محققین نے دریافت کیا تھا کہ اس بات کا قوی امکان ہوتا ہے کہ مردوں کی عمر خواتین سے زیادہ ہوسکتی ہے، بالخصوص وہ مرد جو شادی شدہ ہوں یا ڈگری لی ہوئی ہو جن مردوں کی شادی ہوچکی ہو یا یونیورسٹی ڈگری حاصل کی ہو، وہ خواتین سے زیادہ لمبی عمر پاسکتے ہیں۔

    انٹارکٹیکا میں 7.6 کلوگرام وزنی غیرمعمولی آسمانی پتھر دریافت

    تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک میں 1970 کی دہائی تک خواتین کی زندگی مردوں سے زیادہ ہوتی تھی مگر بتدریج یہ فرق کم ہونے لگا کئی بار اوسط عمر میں فرق تمباکو نوشی اور دیگر عادات کا نتیجہ بھی ہوتا ہے۔

    محققین نے بتایا تھا کہ اگرچہ مردوں کی اوسط عمر خواتین کے مقابلے میں کم ہوتی ہے اور ہر عمر کے مردوں میں اموات کی شرح زیادہ ہے، مگر وہ خواتین کے مقابلے میں زیادہ عرصے تک زندگی بھی گزار سکتے ہیں یہ نتائج اس عام تاثر کو چیلنج کرتے ہیں کہ مردوں کی عمر خواتین جتنی لمبی نہیں ہوتی۔

  • سعودی عرب میں نبطی دور کی حنوط شدہ خاتون کا چہرہ بحال

    سعودی عرب میں نبطی دور کی حنوط شدہ خاتون کا چہرہ بحال

    سعودی عرب کے شاہی کمیشن برائے العلا گورنری میں آثار قدیمہ کے شعبے کے ماہرین نے نبطی دور سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے چہرے کے ڈھانچے کی بحالی اور ڈیجیٹل تعمیر نو کا کام مکمل کر لیا ہے-

    باغی ٹی وی: سعودی عرب تاریخ دانوں اور آثار قدیمہ کے ماہرین نے کئی برسوں کی محنت کے بعد اس قدیم نباتی خاتون کے چہرے کی تعمیر نو کی نقاب کشائی کی ہے۔

    اپنی نوعیت کی اس پہلی تعمیر نو حنات کی باقیات پر بنائی گئی ہے، جو ایک نباتی خاتون ہے جسے 2015 میں "الحجر” میں ایک 2,000 سال پرانے مقبرے سے دریافت کیا گیا تھا، جو سعودی عرب کہ قدیم نخلستان کے شہر الولا، شمال مغربی میں واقع ایک آثار قدیمہ کا مقام ہے ’الحجر‘ کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس وثقافت’یونیسکو‘ نے 15 سال قبل عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرلیا تھا۔

    ماہرین آثار قدیمہ کےمطابق یہ خیال کیاجاتا ہےکہ خاتون کی موت پہلی صدی قبل مسیح میں ہوئی تھی اوراس کا تقریباً مکمل جسم ایک مقبرے میں رکھا گیا تھا جو 2008ء میں ’’الحجر‘‘ کے اندر سے دریافت ہوا تھا اور دو ہزار سال سے زائد عرصے تک باقی رہا۔

    رپورٹ کے مطابق ہنات کی تعمیر نو کا کام برطانیہ میں 2019 میں شروع ہوا تھا،قبر میں پائے جانے والے ہڈیوں کے ٹکڑوں کو دوبارہ تعمیر کرنے اور اسے شکل دینے کیلئے ماہرین نے بشریات اور آثارقدیمہ کےاعداد و شمارکا استعمال کیاجس کے بعد اس میں 3D ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کیا گیا۔

    نباطین ایک قدیم عرب تہذیب تھی جو 2000 سال قبل شمالی عرب اور لیونٹ میں آباد تھی۔ قدیم اردنی شہر پیٹرا ان کی بادشاہی کا دارالحکومت تھا۔

  • انسانی شریانوں میں پلاسٹک کے ننھے ذرات دریافت

    انسانی شریانوں میں پلاسٹک کے ننھے ذرات دریافت

    سائنسدانوں نے پہلی بار انسانی شریانوں میں پلاسٹک کے ننھے ذرات کو دریافت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانیہ کی Hull یونیورسٹی اور Hull یورک میڈیکل اسکول کی تحقیق میں فوڈ پیکجنگ اور پینٹ میں استعمال ہونے والے پلاسٹک کے ذرات کو انسانی شریانوں میں دریافت کیا گیا۔

    سعودی عرب آئیندہ 2027 میں ایشیاکپ فٹ بال ٹورنا منٹ کی میزبانی کرے گا. اے ایف سی کا اعلان

    جرنل Plos One میں شائع کردہ اس تحقیق میں بائی پاس سرجری کے عمل سے گزرنے والے مریضوں کی Saphenous شریانوں کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا تھا،محققین نے شریانوں کے ہر گرام ٹشوز میں اوسطاً 5 مختلف اقسام کے پلاسٹک کے 15 ننھے ذرات کو دریافت کیا۔

    انہوں نے بتایا کہ ہم اس دریافت سےحیران رہ گئے، ہم یہ پہلے سےجانتے تھے کہ پلاسٹک کے ننھے ذرات خون میں موجود ہوتے ہیں ابھی یہ واضح نہیں کہ پلاسٹک کے ذرات شریانوں سے گزر کر دیگر ٹشوز تک پہنچ سکتے ہیں یا نہیں، مگر نتائج سے یہی عندیہ ملتا ہے کہ ایسا ممکن ہے۔

    50 ہزار سال بعد پہلی بار زمین کے قریب سے گزرنے والا سبز دم دار ستارہ آج آسمان پر…

    انہوں نے کہا کہ اگرچہ ابھی ہم ان ذرات سے انسانی صحت پر مرتب اثرات کے حوالے سے کچھ نہیں جانتے، مگر لیبارٹری تجربات میں معلوم ہوا کہ اس سے ورم اور تناؤ کا ردعمل بڑھ سکتا ہے محققین کے خیال میں اس سے دل کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

  • بلڈ شوگر کاعلاج کچن میں موجود عام سی سبزی سے ممکن

    بلڈ شوگر کاعلاج کچن میں موجود عام سی سبزی سے ممکن

    ماہرین کے مطابق ذیابیطس ٹائپ ٹو یا بلڈ شوگر کاعلاج پیاز سےممکن ہے پیاز خون میں شوگر کو 50 فیصد تک کم کر سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی :ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ پیاز کا عرق، اینٹی ذیابیطس دوا میٹفارمین کے ساتھ ملا کر دینے سے ہائی بلڈ شوگر اور مجموعی کولیسٹرول کی سطح کوتیزی سے کم کر سکتا ہے۔

    غذا جو بڑھتی عمر کیساتھ دل و دماغ کی حفاظت کرتی ہے

    محققین نے چوہوں پر اس نظریے کا تجربہ کیا طبی طورپرذیابیطس کے شکار چوہوں کے تین گروپوں کو پیاز کے عرق کی مختلف خوراکیں دی گئیں خوراک 200، 400 اور 600 ملی گرام فی کلوگرام جسمانی وزن تھی-

    جن چوہوں کو 400 ملی گرام اور 600 ملی گرام فی کلوگرام جسمانی وزن خوراک دی گئی، ان کے خون میں شوگر کی سطح بنیادی سطح کے مقابلے میں بالترتیب 50 فیصد اور 35 فیصد تک تیزی سے کم ہو جاتی ہے۔

    پیاز کے عرق نے ذیابیطس کے چوہوں میں کولیسٹرول کی کل سطح کو بھی کم کردیا 400 ملی گرام اور 600 ملی گرام کے سب سے زیادہ اثرات مرتب ہوئے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ تجربات سے ثابت ہوتا ہے کہ پیاز کا استعمال خون میں شوگر کی مقدارکو کنٹرول کر سکتا ہے تاہم اس کے استعمال کے طریقہ کار اور مقدار سے متعلق کوئی جواب موجود نہیں ۔ اس معاملے پر مزید تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔

    رات دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    واضح رہے کہ ذیابیطس ٹائپ ٹو میں مریض کے خون میں چینی کی مقدار بہت زیادہ ہو جاتی ہے جسے بلڈ شوگر کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ ٹائپ ٹو ذیابیطس کے شکار افراد بلڈ شوگر کو ریگولیٹ کرنے کے لیے اپنے لبلبے سے مناسب انسولین نہیں پیدا کرسکتے،جس کا مطلب ہے کہ ان کا بلڈ شوگر خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے۔

    پاکستان میں ذیابیطس کےمریضوں کی تعداد تقریباً 3 کروڑ 30 لاکھ سےزائد ہےجن میں سےلاکھوں مریض روزانہ ادویات لینے اور انسولین لگانے پر مجبور ہیں۔ پاکستان میں جس رفتار سےذیابیطس کا مرض پھیل رہا ہے اس سے خدشہ یہ ہے کہ 2045 تک پاکستان میں اس مرض میں مبتلا افراد کی تعداد 6 کروڑ 20 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔

    روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینا اوردہی کھانا ٹائپ 2 ذیا بیطس کیلئے مفید ہے،تحقیق

  • 50 ہزار سال بعد پہلی بار زمین کے قریب سے گزرنے والا سبز دم دار ستارہ آج آسمان پر دیکھ سکتے ہیں

    50 ہزار سال بعد پہلی بار زمین کے قریب سے گزرنے والا سبز دم دار ستارہ آج آسمان پر دیکھ سکتے ہیں

    آج رات آسمان پر سبز دم دار ستارہ 50 ہزار سال بعد پہلی بار زمین کے قریب سے گزرنے والا ہے-

    باغی ٹی وی:سی 2002 ای 3 (ZTF) نامی اس دم دار ستارے کو آج دیکھ سکیں گے یہ دم دار ستارہ زمین کے شمالی نصف کرے کے اوپر 2 کروڑ 60 لاکھ سے 2 کروڑ 70 لاکھ میل کے فاصلے سے گزرے گا،اتنے قریب ہونے کے باوجود یہ دم دار ستارہ زمین سے چاند کے مقابلے میں 100 گنا سے زیادہ دور ہوگا۔

    سبز دم دار ستارہ زمین کے قریب سے 50 ہزار سال بعد دوبارہ گزرے گا

    زمین کے کچھ مقامات (جہاں روشنی کی آلودگی نہ ہو اور آسمان مکمل تاریک ہو) پر اس کا نظارہ آنکھوں سے بھی کرنا ممکن ہوگا اور قطبی ستارے کے قریب اس کی مدھم سبز جگمگاہٹ نظر آئے گی یہ دم دار ستارہ دور بین اور ٹیلی اسکوپ پر زیادہ واضح نظر آئے گا۔

    ویسے دوربین یا ٹیلی اسکوپ سے اسے زیادہ آسانی سے دیکھنا ممکن ہے جبکہ آن لائن بھی ورچوئل ٹیلی اسکوپ پراجیکٹ کے یوٹیوب چینل پر اسے دیکھا جاسکتا ہے مگر اسے دیکھنے کا وقت زیادہ طویل نہیں، فروری کے وسط میں یہ مدھم ہونا شروع ہوجائے گا اور پھر دوبارہ واپسی کے سفر پر روانہ ہوجائے گا۔

    2 فروری کے بعد یہ ایک بار پھر زمین سے دور ہونے لگے گا اور پھر اس کی واپسی ایک تخمینے کے مطابق لاکھوں سال سے قبل ممکن نہیں ہوگی 10 فروری کو یہ مریخ کے قریب ہوگا۔

    زمین جیسا سیارہ دریافت

    اس دم دار ستارے کو مارچ 2022 میں امریکا کے کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین نے دریافت کیا تھا، اس وقت وہ سورج سے 37 کروڑ 70 لاکھ میل کی دوری پر موجود تھا۔

    ماہرین کے تخمینے کے مطابق یہ دم دار ستارہ ہمارے سورج کے مدار میں ہر 50 ہزار سال بعد داخل ہوتا ہے، یعنی یہ آخری بار زمین کے قریب سے اس وقت گزرا تھا جب ہمارے سیارے میں پتھر کا عہد چل رہا تھا۔

    دم دار ستارے گرد اور برف کی ایسی گیندوں کو کہا جاتا ہے جو سورج کے بڑے بیضوی مداروں کے گرد گھومتی رہتی ہیں جب دم دار ستارے سورج کے قریب آتے ہیں تو ان کے جسم گرم ہوجاتے ہیں جبکہ برفانی سطح گیس میں تبدیل ہوجاتی ہے اور گرد پھیل جاتی ہے ان سب عناصر سے بادل سا بنتا ہے جس کے پیچھے گرد کی دم ہوتی ہے۔

    C/2022 E3 کی تصاویر پہلے ہی سامنے آچکی ہیں جس میں اس کے اردگرد سبز جگمگاہٹ نظر آئی ہے اور خیال کیا جارہا ہے کہ اس رنگت کی وجہ diatomic کاربن نامی مالیکیول ہے یہ مالیکیول شمسی ریڈی ایشن کی الٹرا وائلٹ شعاعوں میں سبز روشنی خارج کرتا ہے۔

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے کائنات کے ابتدائی دور میں بنتے ستاروں کی تصویر جاری کردی