Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • سعودی عرب میں نبطی دور کی حنوط شدہ خاتون کا چہرہ بحال

    سعودی عرب میں نبطی دور کی حنوط شدہ خاتون کا چہرہ بحال

    سعودی عرب کے شاہی کمیشن برائے العلا گورنری میں آثار قدیمہ کے شعبے کے ماہرین نے نبطی دور سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے چہرے کے ڈھانچے کی بحالی اور ڈیجیٹل تعمیر نو کا کام مکمل کر لیا ہے-

    باغی ٹی وی: سعودی عرب تاریخ دانوں اور آثار قدیمہ کے ماہرین نے کئی برسوں کی محنت کے بعد اس قدیم نباتی خاتون کے چہرے کی تعمیر نو کی نقاب کشائی کی ہے۔

    اپنی نوعیت کی اس پہلی تعمیر نو حنات کی باقیات پر بنائی گئی ہے، جو ایک نباتی خاتون ہے جسے 2015 میں "الحجر” میں ایک 2,000 سال پرانے مقبرے سے دریافت کیا گیا تھا، جو سعودی عرب کہ قدیم نخلستان کے شہر الولا، شمال مغربی میں واقع ایک آثار قدیمہ کا مقام ہے ’الحجر‘ کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس وثقافت’یونیسکو‘ نے 15 سال قبل عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرلیا تھا۔

    ماہرین آثار قدیمہ کےمطابق یہ خیال کیاجاتا ہےکہ خاتون کی موت پہلی صدی قبل مسیح میں ہوئی تھی اوراس کا تقریباً مکمل جسم ایک مقبرے میں رکھا گیا تھا جو 2008ء میں ’’الحجر‘‘ کے اندر سے دریافت ہوا تھا اور دو ہزار سال سے زائد عرصے تک باقی رہا۔

    رپورٹ کے مطابق ہنات کی تعمیر نو کا کام برطانیہ میں 2019 میں شروع ہوا تھا،قبر میں پائے جانے والے ہڈیوں کے ٹکڑوں کو دوبارہ تعمیر کرنے اور اسے شکل دینے کیلئے ماہرین نے بشریات اور آثارقدیمہ کےاعداد و شمارکا استعمال کیاجس کے بعد اس میں 3D ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کیا گیا۔

    نباطین ایک قدیم عرب تہذیب تھی جو 2000 سال قبل شمالی عرب اور لیونٹ میں آباد تھی۔ قدیم اردنی شہر پیٹرا ان کی بادشاہی کا دارالحکومت تھا۔

  • انسانی شریانوں میں پلاسٹک کے ننھے ذرات دریافت

    انسانی شریانوں میں پلاسٹک کے ننھے ذرات دریافت

    سائنسدانوں نے پہلی بار انسانی شریانوں میں پلاسٹک کے ننھے ذرات کو دریافت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانیہ کی Hull یونیورسٹی اور Hull یورک میڈیکل اسکول کی تحقیق میں فوڈ پیکجنگ اور پینٹ میں استعمال ہونے والے پلاسٹک کے ذرات کو انسانی شریانوں میں دریافت کیا گیا۔

    سعودی عرب آئیندہ 2027 میں ایشیاکپ فٹ بال ٹورنا منٹ کی میزبانی کرے گا. اے ایف سی کا اعلان

    جرنل Plos One میں شائع کردہ اس تحقیق میں بائی پاس سرجری کے عمل سے گزرنے والے مریضوں کی Saphenous شریانوں کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا تھا،محققین نے شریانوں کے ہر گرام ٹشوز میں اوسطاً 5 مختلف اقسام کے پلاسٹک کے 15 ننھے ذرات کو دریافت کیا۔

    انہوں نے بتایا کہ ہم اس دریافت سےحیران رہ گئے، ہم یہ پہلے سےجانتے تھے کہ پلاسٹک کے ننھے ذرات خون میں موجود ہوتے ہیں ابھی یہ واضح نہیں کہ پلاسٹک کے ذرات شریانوں سے گزر کر دیگر ٹشوز تک پہنچ سکتے ہیں یا نہیں، مگر نتائج سے یہی عندیہ ملتا ہے کہ ایسا ممکن ہے۔

    50 ہزار سال بعد پہلی بار زمین کے قریب سے گزرنے والا سبز دم دار ستارہ آج آسمان پر…

    انہوں نے کہا کہ اگرچہ ابھی ہم ان ذرات سے انسانی صحت پر مرتب اثرات کے حوالے سے کچھ نہیں جانتے، مگر لیبارٹری تجربات میں معلوم ہوا کہ اس سے ورم اور تناؤ کا ردعمل بڑھ سکتا ہے محققین کے خیال میں اس سے دل کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

  • بلڈ شوگر کاعلاج کچن میں موجود عام سی سبزی سے ممکن

    بلڈ شوگر کاعلاج کچن میں موجود عام سی سبزی سے ممکن

    ماہرین کے مطابق ذیابیطس ٹائپ ٹو یا بلڈ شوگر کاعلاج پیاز سےممکن ہے پیاز خون میں شوگر کو 50 فیصد تک کم کر سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی :ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ پیاز کا عرق، اینٹی ذیابیطس دوا میٹفارمین کے ساتھ ملا کر دینے سے ہائی بلڈ شوگر اور مجموعی کولیسٹرول کی سطح کوتیزی سے کم کر سکتا ہے۔

    غذا جو بڑھتی عمر کیساتھ دل و دماغ کی حفاظت کرتی ہے

    محققین نے چوہوں پر اس نظریے کا تجربہ کیا طبی طورپرذیابیطس کے شکار چوہوں کے تین گروپوں کو پیاز کے عرق کی مختلف خوراکیں دی گئیں خوراک 200، 400 اور 600 ملی گرام فی کلوگرام جسمانی وزن تھی-

    جن چوہوں کو 400 ملی گرام اور 600 ملی گرام فی کلوگرام جسمانی وزن خوراک دی گئی، ان کے خون میں شوگر کی سطح بنیادی سطح کے مقابلے میں بالترتیب 50 فیصد اور 35 فیصد تک تیزی سے کم ہو جاتی ہے۔

    پیاز کے عرق نے ذیابیطس کے چوہوں میں کولیسٹرول کی کل سطح کو بھی کم کردیا 400 ملی گرام اور 600 ملی گرام کے سب سے زیادہ اثرات مرتب ہوئے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ تجربات سے ثابت ہوتا ہے کہ پیاز کا استعمال خون میں شوگر کی مقدارکو کنٹرول کر سکتا ہے تاہم اس کے استعمال کے طریقہ کار اور مقدار سے متعلق کوئی جواب موجود نہیں ۔ اس معاملے پر مزید تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔

    رات دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    واضح رہے کہ ذیابیطس ٹائپ ٹو میں مریض کے خون میں چینی کی مقدار بہت زیادہ ہو جاتی ہے جسے بلڈ شوگر کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ ٹائپ ٹو ذیابیطس کے شکار افراد بلڈ شوگر کو ریگولیٹ کرنے کے لیے اپنے لبلبے سے مناسب انسولین نہیں پیدا کرسکتے،جس کا مطلب ہے کہ ان کا بلڈ شوگر خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے۔

    پاکستان میں ذیابیطس کےمریضوں کی تعداد تقریباً 3 کروڑ 30 لاکھ سےزائد ہےجن میں سےلاکھوں مریض روزانہ ادویات لینے اور انسولین لگانے پر مجبور ہیں۔ پاکستان میں جس رفتار سےذیابیطس کا مرض پھیل رہا ہے اس سے خدشہ یہ ہے کہ 2045 تک پاکستان میں اس مرض میں مبتلا افراد کی تعداد 6 کروڑ 20 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔

    روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینا اوردہی کھانا ٹائپ 2 ذیا بیطس کیلئے مفید ہے،تحقیق

  • 50 ہزار سال بعد پہلی بار زمین کے قریب سے گزرنے والا سبز دم دار ستارہ آج آسمان پر دیکھ سکتے ہیں

    50 ہزار سال بعد پہلی بار زمین کے قریب سے گزرنے والا سبز دم دار ستارہ آج آسمان پر دیکھ سکتے ہیں

    آج رات آسمان پر سبز دم دار ستارہ 50 ہزار سال بعد پہلی بار زمین کے قریب سے گزرنے والا ہے-

    باغی ٹی وی:سی 2002 ای 3 (ZTF) نامی اس دم دار ستارے کو آج دیکھ سکیں گے یہ دم دار ستارہ زمین کے شمالی نصف کرے کے اوپر 2 کروڑ 60 لاکھ سے 2 کروڑ 70 لاکھ میل کے فاصلے سے گزرے گا،اتنے قریب ہونے کے باوجود یہ دم دار ستارہ زمین سے چاند کے مقابلے میں 100 گنا سے زیادہ دور ہوگا۔

    سبز دم دار ستارہ زمین کے قریب سے 50 ہزار سال بعد دوبارہ گزرے گا

    زمین کے کچھ مقامات (جہاں روشنی کی آلودگی نہ ہو اور آسمان مکمل تاریک ہو) پر اس کا نظارہ آنکھوں سے بھی کرنا ممکن ہوگا اور قطبی ستارے کے قریب اس کی مدھم سبز جگمگاہٹ نظر آئے گی یہ دم دار ستارہ دور بین اور ٹیلی اسکوپ پر زیادہ واضح نظر آئے گا۔

    ویسے دوربین یا ٹیلی اسکوپ سے اسے زیادہ آسانی سے دیکھنا ممکن ہے جبکہ آن لائن بھی ورچوئل ٹیلی اسکوپ پراجیکٹ کے یوٹیوب چینل پر اسے دیکھا جاسکتا ہے مگر اسے دیکھنے کا وقت زیادہ طویل نہیں، فروری کے وسط میں یہ مدھم ہونا شروع ہوجائے گا اور پھر دوبارہ واپسی کے سفر پر روانہ ہوجائے گا۔

    2 فروری کے بعد یہ ایک بار پھر زمین سے دور ہونے لگے گا اور پھر اس کی واپسی ایک تخمینے کے مطابق لاکھوں سال سے قبل ممکن نہیں ہوگی 10 فروری کو یہ مریخ کے قریب ہوگا۔

    زمین جیسا سیارہ دریافت

    اس دم دار ستارے کو مارچ 2022 میں امریکا کے کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین نے دریافت کیا تھا، اس وقت وہ سورج سے 37 کروڑ 70 لاکھ میل کی دوری پر موجود تھا۔

    ماہرین کے تخمینے کے مطابق یہ دم دار ستارہ ہمارے سورج کے مدار میں ہر 50 ہزار سال بعد داخل ہوتا ہے، یعنی یہ آخری بار زمین کے قریب سے اس وقت گزرا تھا جب ہمارے سیارے میں پتھر کا عہد چل رہا تھا۔

    دم دار ستارے گرد اور برف کی ایسی گیندوں کو کہا جاتا ہے جو سورج کے بڑے بیضوی مداروں کے گرد گھومتی رہتی ہیں جب دم دار ستارے سورج کے قریب آتے ہیں تو ان کے جسم گرم ہوجاتے ہیں جبکہ برفانی سطح گیس میں تبدیل ہوجاتی ہے اور گرد پھیل جاتی ہے ان سب عناصر سے بادل سا بنتا ہے جس کے پیچھے گرد کی دم ہوتی ہے۔

    C/2022 E3 کی تصاویر پہلے ہی سامنے آچکی ہیں جس میں اس کے اردگرد سبز جگمگاہٹ نظر آئی ہے اور خیال کیا جارہا ہے کہ اس رنگت کی وجہ diatomic کاربن نامی مالیکیول ہے یہ مالیکیول شمسی ریڈی ایشن کی الٹرا وائلٹ شعاعوں میں سبز روشنی خارج کرتا ہے۔

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے کائنات کے ابتدائی دور میں بنتے ستاروں کی تصویر جاری کردی

  • کلوننگ کےذریعے 18 ٹن دودھ دینے والی ’سپر گائے‘

    کلوننگ کےذریعے 18 ٹن دودھ دینے والی ’سپر گائے‘

    چینی ماہرین حیاتیات نے پہلی بار بڑی مقدار میں دودھ پیدا کرنے کرنے والی ہولسٹین گائے کی کلوننگ کی ہے جو سالانہ 18 ٹن دودھ پیدا کر سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی: اخبار ’گلوبل ٹائمز‘ کے مطابق چین کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی آف ایگریکلچر اینڈ فاریسٹری کے سائنسدانوں نے جانور کے کان کے ٹشو کا استعمال کرتے ہوئے سومیٹک سیل نیوکلیئر ٹرانسفر کے ذریعے تین بچھڑوں کی کلوننگ کی۔

    منگل کو نارتھ ویسٹ اے اینڈ ایف یونیورسٹی کی طرف سے ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ پہلے بچھڑے کا وزن 56.7 کلو گرام ہے اور پیدائش کے وقت اس کا قد 76 سینٹی میٹر اور لمبا 113 سینٹی میٹر تھا، اور اس نے اپنے کلون کیے گئے ہدف کے عین مطابق شکل اور جلد کا نمونہ حاصل کیا-

    برطانوی معیشت آنےوالےدنوں میں مزید زوال پزیرہوگی :آئی ایم ایف

    بچھڑا، دو دیگر افراد کے ساتھ، چین کے مختلف فارموں میں اٹھائے گئے کلون شدہ اہداف سے آیا تھا۔ یہ سپر گائے ہیں جو ایک سال میں 18 ٹن اور زندگی بھر میں 100 ٹن سے زیادہ دودھ دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

    پراجیکٹ کے سربراہ جن یاپنگ نے منگل کے روز گلوبل ٹائمز کو بتایا کہ چین کے لیے یہ پیش رفت بہت اہمیت رکھتی ہے کہ وہ ملک میں بہترین گایوں کو اقتصادی طور پر قابل عمل طریقے سے توجہ مرکوز کرنے اور محفوظ کرنے کے لیے، اور یہ ملک کی اس کے احیاء کی کوششوں میں ایک کامیابی ہے۔

    اخبار کے مطابق ریسرچ ٹیم کے لیڈر جن یاپنگ نے کہا کہ چین میں مویشیوں کی بحالی کے لیے یہ تجربہ بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ چین میں 70 فیصد گائیں بیرون ملک سے خریدی جاتی ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ہم دو سے تین سال کے عرصے میں 1,000 سے زیادہ سپر گائے پیدا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جو بیرون ملک سے جانوروں کی سپلائی پر چین کے انحصار کو حل کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد ثابت ہوں گے۔”

    پریس ریلیز میں کہا گیا کہ دودھ والی گایوں کے لیے، چین بیرون ملک خریداری پر 70 فیصد انحصار کرتا ہے چین کے پاس تقریباً 6.6 ملین گائے ہیں – مشہور انتہائی پیداواری نسل کے ہولسٹین فریزیئن مویشی جو گزشتہ برسوں میں درآمد کی گئیں۔

    تاہم، چین میں ایسے 10,000 میں سے صرف پانچ مویشی ایک ہی وقت میں انتہائی پیداواری، طویل المدت اور تناؤ کے خلاف مزاحم ہیں جو کہ چین میں اپنے رہنے والے ماحول میں آب و ہوا جیسے مسائل کا سبب بنتے ہیں۔

    اس کے علاوہ، کچھ سپر گایوں کی شناخت ان کی زندگی کے تقریباً اختتام تک نہیں ہو سکی تھی اور ان کے مرنے کے ساتھ ہی ان کے جین ضائع ہو گئے تھے، جو کہ ملک کے لیے ایک نقصان ہے۔ اس کے علاوہ، چونکہ گائے پورے چین کے فارموں میں بکھری ہوئی ہیں، اس لیے افزائش تکنیکی طور پر مشکل ہو جاتی ہے۔

    بتایا جاتا ہے کہ چینی سائنسدانوں نے حالیہ برسوں میں خاص طور پر خنزیر، گھوڑے، بلیوں، کتوں اور دیگر جانوروں کی کلوننگ کے متعدد کامیاب تجربات کیے ہیں۔

    زمین کی مقناطیسی میدان میں خلل پرندوں کو ان کی منزل سے بھٹکاسکتا ہے،تحقیق

  • زمین کی مقناطیسی میدان میں خلل پرندوں کو ان کی منزل سے بھٹکاسکتا ہے،تحقیق

    زمین کی مقناطیسی میدان میں خلل پرندوں کو ان کی منزل سے بھٹکاسکتا ہے،تحقیق

    یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس میں کی جانے والی ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ زمین کی مقناطیسی میدان میں خلل پرندوں کو ان کی منزل سے بھٹکاسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: سائنس دان طویل عرصے سے جانتے ہیں کہ موسم خزاں کی سالانہ ہجرت کے دوران ہجرت کرنے والے پرندوں کو خراب موسم پریشان کر سکتا ہے، جس کی وجہ سے وہ ان علاقوں میں سمیٹ سکتے ہیں جن کے وہ عادی نہیں ہیں (ایک رجحان جسے ’ویگرینسی‘ کہا جاتا ہے)،یہ مظہر ٹھیک موسم کے باوجود اور بالخصوص موسمِ خزاں کے دوران ہونے والی پرندوں کی ہجرت کے دوران ہوتا ہے۔

    ناسا کا قیمتی دھاتوں پر مشتمل سیارچے پر خلائی جہاز بھیجنے کا اعلان

    شمالی امریکا میں پرندوں کی تعداد میں بتدریج ہوتی کمی کے پیشِ نظر ’ویگرینسی‘ کے اسباب کا جائزہ لینا سائنسدانوں کو پرندوں کو لاحق خطرات اور ان خطرات سے نمٹنے کے طریقوں کے متعلق بہتر فہم حاصل کرنے میں مدد گار ثابت ہوسکتا ہے کہ پرندوں کو اس وقت کن خطرات کا سامنا ہے اور وہ ان خطرات سے کیسے مطابقت رکھتے ہیں۔

    مثال کےطورپراس مظہر کے نتیجے میں اجنبی سرزمین پر پہنچ کر پرندوں کو کھانا اور موافق مسکن ڈھونڈنے میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے جس کے نتیجے میں وہ مر سکتے ہیں۔لیکن یہ چیزپرندوں کے لیے مفید بھی ہوسکتی ہے کیوںکہ ان کے حقیقی مسکن موسمیاتی تغیر کے سبب رہنے کے قابل نہیں رہے ہیں ، اور حادثاتی طور پریہ ایک نئے جغرافیے میں آجاتے ہیں جو ان کے لیے بہتر ہوتا ہے۔

    زمین کے شمالی اور جنوبی قطبین کے درمیان چلنے والی مقناطیسی فیلڈسطح زمین کے اوپر اور نیچے موجود کئی عوامل کے سبب وجود میں آتی ہےسالہاسال کی تحقیق کے بعد یہ معلوم ہوا ہےکہ پرندے اپنی آنکھوں میں موجود میگنیٹو ریسیپٹرزکا استعمال کرتے ہوئے مقناطیسی فیلڈ کو محسوس کرسکتے ہیں۔

    ناسا نےزمین سے 1450 نوری سال کےفاصلے پرموجود ویری ایبل ستاروں کی تصویر جاری کر دی

    1960 اور 2019 کے درمیان 152 پرجاتیوں کے 2.2 ملین پرندوں کے اعداد و شمار کا موازنہ کرتے ہوئے جنہیں 1960 اور 2019 کے درمیان جیو میگنیٹک رکاوٹوں اور شمسی سرگرمیوں کے تاریخی ریکارڈ کے ساتھ چھوڑا گیا تھا، محققین نے پایا کہ چونکہ پرندے اپنی آنکھوں میں میگنیٹورسیپٹرز کا استعمال کرتے ہوئے مقناطیسی شعبوں کو محسوس کر سکتے ہیں، اس لیے وہ اکثر متاثر ہوتے ہیں۔

    یونیورسٹی میں ماحولیات اور ارتقائی حیاتیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور تحقیق کے مصنف مورگن ٹِنگلے کا کہنا تھا کہ اس بات کے شواہد بڑھتے جارہے ہیں کہ پرندے جیو مگنیٹک فیلڈز کو دیکھ سکتے ہیں۔واقف مقامات پر تو پرندے جغرافیے کی مدد سے سمت کا تعین کرسکتے ہیں لیکن کچھ صورتوں میں جیومیگنیٹزم استعمال کرنا آسان ہوجاتا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اگر جیومیگنیٹک فیلڈ کو خلل کا سامنا ہوتو یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی خراب نقشہ لے کر گھوم رہا ہو، جس کے سبب پرندے اپنی منزل سے بھٹک جاتے ہیں سائنٹیفک رپورٹس میں شائع ہونے والی یہ تحقیق ماحولیاتی نقطہ نظر کی بھی تائید کرتی ہے۔

    طیارہ 13 گھنٹے کی مسافت کے بعد واپس وہیں پہنچ گیاجہاں سے اڑان بھری

  • ناسا کا  قیمتی دھاتوں پر مشتمل سیارچے پر خلائی جہاز بھیجنے کا اعلان

    ناسا کا قیمتی دھاتوں پر مشتمل سیارچے پر خلائی جہاز بھیجنے کا اعلان

    کیلیفورنیا: ناسا نے ایک اہم سیارچے (ایسٹرائڈ) کی جانب خلائی جہاز بھیجنے کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی: ناسا سال 2017 سے اس سیارچے کے قریب اپنا خلائی جہاز بھیجنے کا خواہاں ہے یہ منصوبہ کئی مرتبہ تعطل کا شکار رہا۔ اس شہابیے کا نام 16 سائیکے ہے اور توقع ہے کہ اس سال اکتوبر میں ایک خلائی جہاز سائیکے کی جانب روانہ کیا جائے گا ایک طویل سفر کے بعد اگست 2029 میں وہ سیارچے تک اترجائے گا۔

    بلیو اوریجن صرف خواتین عملے پر مشتمل مشن خلا میں روانہ کرے گی

    اطالوی فلکیات داں اینی بیل ڈی گیسپارس نے اسے 1852 میں دریافت کیا تھا جو آلو کی شکل کا ایک ناکام سیارہ بھی ہے اس کا رقبہ 140 میل ہے کہا جا رہا ہے کہ اس سیارچے پر قیمتی دھاتوں کی کل قدر پورے کرہ ارض کی مجموعی سالانہ معیشت سے بھی 70 ہزار گنا زائد ہے یہ مریخ اور مشتری کے درمیان مشہور سیارچی پٹی کے درمیان موجود ہے۔

    2020 میں امریکی تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ جست (نکل) اور فولاد سے بنا ہے اور دیگر قیمتی دھاتیں بھی موجود ہیں جبکہ اکثر سیارچے چٹان اور برف سے بنے ہوتے ہیں۔

    ناسا نےزمین سے 1450 نوری سال کےفاصلے پرموجود ویری ایبل ستاروں کی تصویر جاری کر دی

    ناسا کی ماہر لِنڈی ایلکنس کے مطابق اس میں موجود فولاد اور دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمت دس ہزار کواڈریلیئن ڈالر کے برابر ہے۔ تاہم سائنسدانوں کا ایک دوسرا گروہ اسے اتنا قیمتی نہیں کہتا۔

    یہی وجہ ہے کہ ناسا نے اس بحث کو ختم کرنے کے لیے اس کی جانب خلائی جہاز بھیجنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ لیکن ماہرین نے نزدیک سونے چاندی سے زیادہ اس کی سائنسی راز اہمیت رکھتے ہیں 16 سائیکے پر تحقیق سے خود ہمیں نظامِ شمسی کے ارتقا اور اس کے دیگر پہلوؤں کو جاننے میں مدد ملے گی۔

    4.6 ارب سال قبل نظام شمسی سے آنے والےبڑے بڑے آگ کے گولوں نے زمین پر زندگی کی…

  • ناسا نےزمین سے 1450 نوری سال کےفاصلے پرموجود ویری ایبل ستاروں کی تصویر جاری کر دی

    ناسا نےزمین سے 1450 نوری سال کےفاصلے پرموجود ویری ایبل ستاروں کی تصویر جاری کر دی

    واشنگٹن: ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ نے دو ویری ایبل ستاروں کی تصویر لی ہے جو زمین سے 1450 نوری سال کے فاصلے پر موجود ستارہ ساز خطے اورائن نیبیولا میں موجود ہیں۔

    باغی ٹی وی : ناسا اور یوروپین اسپیس ایجنسی کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی جاری کی گئی تصویر کے درمیان میں وی 372 اورائنِس نامی ستارہ موجود ہے جبکہ بائیں جانب اوپر کی طرف ایک چھوٹا ویری ایبل ستارہ موجود ہے،ویری ایبل ستارے وہ ستارے ہوتے ہیں جن کی روشنی وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی ہے۔


    وی 372 اورائنِس ایک مخصوص قسم کا ویری ایبل ستارہ ہے جو اورائن واری ایبل کی نام سے جانا جاتا ہےیہ کم عمر ستارے طوفانی کیفیت میں مبتلا ہیں جس کا مشاہدہ ماہرینِ فلکیات نے ان ستاروں کی بے ترتیب روشنی کی مدد سے کیا اورائن ویری ایبل ستاروں کا تعلق عموماً گیس اور غبار کے بادلوں پر مشتمل اورائن نیبیولا سے جوڑا جاتا ہے۔


    یہ تصویر ہبل کے دو آلات کو استعمال کرتے ہوئے بنائی گئی ہے۔ تفصیلی تصویر کے لیے ڈیٹا ایڈوانس کیمرا فار سروے اور وائڈ فیلڈ کیمرا 3 سے انفرا ریڈ اور قابلِ دید طول امواج پر حاصل کیا گیا ہے۔

  • 4.6 ارب سال قبل نظام شمسی سے آنے والےبڑے بڑے آگ کے گولوں نے زمین پر زندگی کی بنیاد رکھی

    4.6 ارب سال قبل نظام شمسی سے آنے والےبڑے بڑے آگ کے گولوں نے زمین پر زندگی کی بنیاد رکھی

    ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نظامِ شمسی کے باہر کے حصے جس میں مشتری، زحل اور یورینس شامل ہیں سے آنے والے بڑے بڑے آگ کے گولوں نے 4.6 ارب سال قبل زمین زندگی کی بنیاد رکھی۔

    باغی ٹی وی: میساچوسیٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) اور امپیریئل کالج لندن کے سائنسدانوں کو ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ یہ قدیم شہابیے کاربنیسیئس کونڈرائٹ سے بنے ہوئے تھے جو پوٹاشیم اور زِنک کے عناصر پر مشتمل تھا پوٹاشیم خلیے کے مائع کو بنانے میں مدد دیتا ہے جبکہ زِنک ڈی این اے کی تخلیق کے لیے اہم جزو ہے۔

    زمین کی اندرونی تہہ نے الٹی جانب گھومنا شروع کردیا ہے،تحقیق

    اتار چڑھاؤ ایسے عناصر یا مرکبات ہیں جو نسبتاً کم درجہ حرارت پر ٹھوس یا مائع حالت سے بخارات میں تبدیل ہوتے ہیں ان میں جانداروں کے ساتھ ساتھ پانی میں پائے جانے والے چھ سب سے عام عناصر شامل ہیں۔ اس طرح، اس مواد کا اضافہ زمین پر زندگی کے ظہور کے لیے اہم رہے گا۔

    اس سے پہلے، محققین کا خیال تھا کہ زمین کے زیادہ تر اتار چڑھاؤ ان سیاروں سے آتے ہیں جو زمین کے قریب بنتے ہیں۔ نتائج سے اس بارے میں اہم سراغ ملتے ہیں کہ زمین زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے درکار خصوصی حالات کو کس طرح سہارا دیتی ہے۔

    حالیہ تحقیق میں سائنسدانوں کو معلوم ہوا کہ ہماری زمین جب تخلیق کے مراحل میں تھی تب اس سے ٹکرائی جانے والی خلائی چٹانوں میں 10فیصد وہ خلائی چٹانیں تھیں جوکاربنیسیئس کونڈرائٹ سےبنی تھیں جبکہ دیگر90 فیصد چٹانیں ایسےنظاموں سے آئیں تھیں جو کاربنیسیئس مواد سے نہیں بنے تھے ان شہابیوں نے زمین کو 20 فی صد پوٹاشیم اور زمین پر موجود زِنک کی نصف مقدار فراہم کی۔

    تحقیق کی سربراہ مصنفہ ڈاکٹرنِکول نائی کےمطابق پوٹاشیم کم غیرمستحکم جبکہ زنک سب سے زیادہ غیر مستحکم عنصر ہے دونوں عناصر غیر مستحکم سمجھے جاتے ہے جو نسبتاً کم درجہ حرارت پر ٹھوس یا مائع صورت سے بھانپ می تبدیل ہوجاتے ہیں۔

    نیا دریافت شدہ سیارچہ زمین کے قریب سے گزرے گا،ناسا

    تحقیق کےسینئر مصنف اور امپیریئل کالج لندن کے پروفیسر مارک ریہکمپر نے ایک بیان میں کہا کہ تحقیق میں حاصل ہونے والی معلومات بتاتی ہے کہ زمین پر موجود زِنک کی نصف مقدار نظامِ شمسی کے بیرونی حصے سے آنے والے مواد نے فراہم کی ہے۔

    امپیریل کالج لندن کے شعبہ ارتھ سائنس اینڈ انجینئرنگ کے سینئر مصنف پروفیسر مارک ریہکا نے کہا: "ہمارے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہےکہ زمین کی زنک انوینٹری کاتقریباً نصف حصہ مشتری کےمدار سےباہر بیرونی نظام شمسی سے مواد کے ذریعے پہنچایا گیا تھا۔ ابتدائی شمسی نظام کی ترقی کے موجودہ ماڈلز کی بنیاد پر، یہ مکمل طور پر غیر متوقع تھا اس کے برعکس، نئے نتائج بتاتے ہیں کہ بیرونی نظام شمسی نے پہلے سوچنے سے کہیں زیادہ بڑا کردار ادا کیا۔

    پروفیسر ریہکا نے مزید کہا کہ بیرونی نظام شمسی کے مواد کی اس شراکت نے زمین کی غیر مستحکم کیمیکلز کی انوینٹری کو قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ایسا لگتا ہے جیسے بیرونی نظام شمسی کے مواد کی شراکت کے بغیر، زمین میں اتار چڑھاؤ کی مقدار اس سے کہیں کم ہوگی جو آج ہم جانتے ہیں – یہ خشک اور ممکنہ طور پر زندگی کی پرورش اور برقرار رکھنے کے قابل نہیں ہے۔

    سبز دم دار ستارہ زمین کے قریب سے 50 ہزار سال بعد دوبارہ گزرے گا

    اس تحقیق کے لیے، محققین نے مختلف ماخذ کے 18 شہابیوں کا جائزہ لیا – گیارہ نظامِ شمسی سے، جو غیر کاربوناسیئس میٹورائٹس کے نام سے جانے جاتے ہیں، اور سات بیرونی نظامِ شمسی سے، جنہیں کاربوناسیئس میٹیورائٹس کہا جاتا ہے۔

    اس مقالے کی پہلی مصنفہ رائیسا مارٹنز، شعبہ ارتھ سائنس اینڈ انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کی امیدوار نے کہا کہ ہم طویل عرصے سے جانتے ہیں کہ زمین میں کچھ کاربونیسیئس مواد شامل کیا گیا تھالیکن ہمارے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مواد نے زمین کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا ہمارے غیر مستحکم عناصر کا بجٹ، جن میں سے کچھ زندگی کے پھلنے پھولنے کے لیے ضروری ہیں۔

    اس کے بعد محققین مریخ کی چٹانوں کا تجزیہ کریں گے جن میں 4.1 سے 3 بلین سال پہلے خشک ہونے سے پہلے پانی موجود تھا-

    پروفیسر ریہکا ایمپر نے کہا کہ بڑے پیمانے پر رائج نظریہ یہ ہے کہ چاند کی تشکیل اس وقت ہوئی جب تقریباً 4.5 بلین سال پہلے ایک بہت بڑا سیارچہ ایک برانن زمین سے ٹکرا گیا۔ چاند کی چٹانوں میں زنک آسوٹوپس کا تجزیہ کرنے سے ہمیں اس مفروضے کو جانچنے اور یہ تعین کرنے میں مدد ملے گی کہ آیا ٹکرانے والے شہابیے نے پانی سمیت اتار چڑھاؤ کو زمین تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    انٹارکٹیکا میں 7.6 کلوگرام وزنی غیرمعمولی آسمانی پتھر دریافت

  • چونٹیاں کینسر کی تشخیص کر سکتی ہیں،تحقیق

    چونٹیاں کینسر کی تشخیص کر سکتی ہیں،تحقیق

    ایک نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ چونٹیاں پیشاب کو سونگھ کر کینسر کی تشخیص کر سکتی ہیں۔

    باغی ٹی وی: پیرس یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ چیونٹیاں پیشاب میں کینسر کی بو کو شناخت کرسکتی ہیں ماضی کی تحقیقوں میں یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ مختلف اقسام کے کینسر پیشاب کی بو کو بدل دیتے ہیں لیکن ماہرین کے سامنے یہ بات پہلی بار آئی ہے کہ چینٹیوں میں کینسر تشخیص کرنے کی یہ صلاحیت موجود ہے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں میں کینسر کے واقعات اور اموات کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے،تحقیق

    جرنل پروسیڈنگز آف دی رائل سوسائٹی بی: بائیولوجیکل سائنسز میں شائع ہونے والی تحقیق میں سائنسدانوں نے بتایا کہ چیٹیوں کو مریضوں میں کینسر کی تشخیص کے لیے سستے طریقے کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    فرانس کی سوربان پیرس نورڈ یونیورسٹی کی پروفیسر اور تحقیق کی مصنفہ پیٹریزیا ڈیٹورے نے بتایا کہ چیونٹیوں کو صحت مند افراد اور کینسر کے مریضوں کے درمیان فرق کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ان کی تربیت کرنا آسان ہے، یہ تیزی سے سیکھتی ہیں، بہت کارآمد ہوتی ہیں اور ان کو رکھنا مہنگا نہیں ہوتا۔

    4 ہزار 300 سال پرانی ممی دریافت

    یہ تحقیق پروفیسر ڈیٹورے اور ان کے ساتھیوں کی گزشتہ تحقیق پر مبنی ہے جس میں دیکھا گیا تھا کہ چیونٹیاں لیب میں بنائے گئے کینسر کے خلیوں کو سونگھنےکی صلاحیت رکھتی ہیں۔

    حال میں کی جانے والی تحقیق میں محققین نے 70 چیونٹیوں کو کینسر کی رسولیوں اور بغیر کینسر والے چوہوں کا پیشاب سُنگھایا تین تجربوں کے بعد چیونٹیوں میں یہ صلاحیت پیدا ہوگئی کہ وہ صحت مند چوہوں اور کینسر زدہ چوہوں کے درمیان فرق کر سکیں۔

    محققین نے بتایا کہ چیونٹیوں کے سونگھنے کا نظام بہت حساس ہوتا ہے اور ہم نےانہیں کینسر کی بو سونگھنے کی تربیت دی تھی اب محققین کی جانب سے انسانوں پر یہ ٹرائل کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

    سابقہ تحقیقی رپورٹس میں یہ دریافت ہوا تھا کہ کتے بھی پیشاب کی بو سے کینسر کو شناخت کرسکتے ہیں، مگر اس نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ چیونٹیوں میں یہ صلاحیت کتوں سے زیادہ بہتر ہوتی ہے۔

    نئی قسم کا ڈائنا سور برآمد:جرمنی ماہرین حیوانات کا دعویٰ