Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • نیا دریافت شدہ سیارچہ زمین کے قریب سے گزرے گا،ناسا

    نیا دریافت شدہ سیارچہ زمین کے قریب سے گزرے گا،ناسا

    ایک نیا دریافت شدہ سیارچہ اس ہفتے زمین کے بہت قریب سے گزرے گا-

    باغی ٹی وی: امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 2023 بی یو (2023 BU) نامی سیارچہ زمین کے سب سے زیادہ گزرنے والے سیارچوں میں سے ایک ہوگا۔

    شہابی پتھر سے دو نئی معدنیات دریافت

    2023 BU کی پیمائش 12 اور 28 فٹ چوڑائی (3.8 سے 8.5 میٹر) کے درمیان ہے، اور اسے ابھی ہفتہ (21 جنوری) کو ماہر فلکیات Gennadiy Borisov نے کریمیا میں MARGO آبزرویٹری میں دریافت کیا تھا۔

    ای ایس ٹی (2117 GMT)، خلائی چٹان زمین کی سطح سے صرف 2,178 میل (3,506 کلومیٹر) کی اونچائی پر زمین سے چاند کے اوسط فاصلے کے 3 فیصد سے بھی کم کے اندر ہوگی مقابلے کے لیے، زیادہ تر جیو سٹیشنری سیٹلائٹ تقریباً 22,200 میل (35,800 کلومیٹر) مدار میں گردش کرتے ہیں-

    ناسا نے چاند کی ایک نئی تصویر جاری کر دی

    یہ سیارچہ پاکستانی وقت کے مطابق 27 جنوری کو صبح ساڑھے 5 بجے جنوبی امریکا کے اوپر سے گزرے گا اور اس وقت ہمارے سیارے کی سطح سے محض 3600 کلومیٹر اوپر ہوگا، یعنی سیٹلائیٹس کے قریب ہوگا زمین کے اکثر سیٹلائیٹس 160 سے 2 ہزار کلومیٹر کی بلندی پر گردش کرتے ہیں مگر ناسا کے مطابق سیارچے کا ہمارے سیارے سے ٹکرانے کا خطرہ نہیں۔

    ناسا نے کہا کہ اگر سیارچہ زمین کے بہت زیادہ قریب آگیا تو یہ جل جائے گا اور اس کے چھوٹے ٹکڑے شہاب ثاقب کی شکل میں سطح تک پہنچیں گےناسا کی جیٹ Propulsion لیبارٹری کے ماہر Davide Farnocchia نے بتایا کہ یہ سیارچہ زمین کے بہت زیادہ قریب آنے والا ہے، درحقیقت یہ زمین کے سب سے زیادہ قریب آنے والے چند سیارچوں میں سے ایک ثابت ہوگا۔

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نےزندگی کیلئے موافق سیاروں کا ایک جتھہ دریافت کر…

    یہ سیارچہ حجم کے لحاظ سے کسی ڈیلیوری ٹرک (delivery truck) جتنا بڑا ہے اور اسے سب سے پہلے کریمیا کے شوقیہ خلا باز Gennady Borisov نے دیکھا تھا جس کے بعد ناسا کے ماہرین کی جانب سے اس کے راستے کا تعین کیا گیا۔

    ناسا کے مطابق اس سیارچے کا راستہ زمین کے قریب سے گزرنے کے دوران کشش ثقل سے نمایاں طور پر متاثر ہوا۔

  • واٹس ایپ نےتصاویر، ویڈیوز کا نیا فیچر پیش کر دیا

    واٹس ایپ نےتصاویر، ویڈیوز کا نیا فیچر پیش کر دیا

    میٹا کی زیرملکیت دنیا بھر میں مقبول میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے اپنے آئی فون صارفین کی دیرینہ خواہش پوری کر دی-

    باغی ٹی وی :واٹس ایپ بیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ نے اب تصاویر، ویڈیوز اور کسی بھی قسم کے میڈیا کو فارورڈ کرنے کے ساتھ کیپشن کے فیچر کو ویب اور اینڈرائیڈ کے بعد آئی فون صارفین کے لیے بھی پیش کردیا۔

    واٹس ایپ نےصارفین کی آسانی کیلئےتصاویر اورویڈیوزکا نیافیچرمتعارف کرا دیا

    رپورٹ کے مطابق اس فیچر کے تحت آئی فون صارفین کسی بھی قسم کا میڈیا یعنی تصاویر، ویڈیوز ، گرافکس انٹرچینج فارمیٹ (GIF) اور ڈاکیومنٹس کو فارورڈ کرتے ہوئے ‘کیپشن’ بھی درج کرسکیں گے۔

    اس سے قبل یہ فیچر ویب ورژن اور اینڈرائیڈ صارفین کے لیے متعارف کرایا گیا تھا جسے اب آئی فون استعمال کرنے والے صارفین کے لیے بھی پیش کردیا گیا ہے۔

    اس فیچر کو پیش کیے جانے کے بعد اب اگر آپ کسی قسم کا میڈیا ایک چیٹ سے دوسری چیٹ میں بھیجنا چاہتے ہیں تو اس کے ساتھ ‘کیپشن’ لکھا جا سکے گا اگر صارف چاہے تو لکھا ہوا کیپشن ڈیلیٹ کرکے دوبارہ نیا کیپشن بھی درج کرسکے گا۔

    علاوزہ ازیں واٹس ایپ کے اسٹیٹس فیچر میں مزید اپ ڈیٹس متعارف کرا دی گئیں ہیں اب صارفین اپنے اسٹیٹس میں اپنی ریکارڈ آواز کو بھی بطور آڈیو اسٹیٹس لگا سکیں گےواٹ ایپ کے بیٹا ورژن میں ایک نیا فیچر شامل کیا گیا جسے استعمال کرتے ہوئے صارفین اپنی ریکارڈ شدہ آڈیو کو اپنے اسٹیٹس پر لگا سکیں گے لیکن یہ اپ ڈیٹس ابھی منتخب اینڈرائیڈ بیٹا ٹیسٹرز پر دستیاب ہے۔

    ٹوئٹرمیں بڑی تبدیلی، ڈیوائس لیبل نامی فیچر ختم کردیا گیا

    رپورٹ کے مطابق میسجنگ ایپلی کیشن صارفین کو یہ اختیار دے گی کہ وہ فیصلہ کرسکیں کہ ان کے وائس اسٹیٹس کون کون سنتا ہے اور صارفین اپنی آواز کی ریکارڈنگ پر بھی کنٹرول رکھ سکیں گے کیونکہ فیچر کی مدد سے اسٹیٹس پبلک کرنے سے قبل ڈیلیٹ کا آپشن بھی دستیاب ہو گا۔

    صارفین اپنی 30 سیکنڈ کی آواز ریکارڈ کر کے اسٹیٹس پر لگا سکیں گے جو 24 گھنٹے تک موجود رہے گی اور مقررہ وقت کے بعد ختم ہو جائے گی۔ اسٹیٹس فیچر میں ہونے والی یہ اپ ڈیٹ آنے والے ہفتوں میں دیگر واٹس ایپ صارفین کے لیے بھی دستیاب ہو گی۔

    قبل ازیں واٹس ایپ میں اگست 2021 میں پیش کیا گیا ‘ویو ونس’ فیچر زیادہ بہتر بناتے ہوئے میسجز کے اسکرین شاٹ لینا ناممکن بنا دیا ہے اس فیچر کے تحت بھیجی جانیوالی تصویر یا ویڈیو ایک بار کھلنے کے بعد چیٹ سے مکمل طور پر غائب ہوجاتی ہے۔

    واٹس ایپ میں اگست 2021 ‘ویو ونس’ کا فیچر موجود ہے،اس فیچر کے تحت بھیجی جانیوالی تصویر یا ویڈیو ایک بار کھلنے کے بعد چیٹ سے مکمل طور پر غائب ہوجاتی ہے،مگر اس فیچر میں ایک سکیورٹی کمزوری موجود تھی اور وہ تھی ویو ونس کے تحت بھیجی جانے والی تصاویر کا اسکرین شاٹ لینا ممکن تھا۔

    واٹس ایپ نے صارفین کیلئے نیا فیچر متعارف کرا دیا

    واٹس ایپ کی جانب سے ایک ٹوئٹ میں بتایا گیا کہ اب ویو ونس کے تحت بھیجے جانے والے میسجز کے اسکرین شاٹس لینا ممکن نہیں ہوگا اس فیچر پر کئی ماہ سے کام کیا جارہا تھا اور اسے اکتوبر 2022 میں بیٹا ورژن میں پیش کیا گیا تھا،مگر اب اسے تمام صارفین کے لیے متعارف کرایا جارہا ہے۔


    کمپنی کے مطابق اگر اب کوئی صارف ویو ونس کے تحت بھیجے گئے کسی میسج کا اسکرین شاٹ لینے یا ریکارڈ کرنے کی کوشش کرے گا تو اسکرین بلیک ہوجائے گی یہاں تک کہ تھرڈ پارٹی ایپ سے بھی ایسے پیغامات کا اسکرین شاٹ لینا ممکن نہیں ہوگا۔

    خیال رہے کہ ویو ونس کو متعارف کراتے ہوئے واٹس ایپ نے کہا تھا کہ اس فیچر کو حساس معلومات جیسے وائی فائی پاس ورڈ کی تصویر بھیجنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے،مگر اسکرین شاٹ لینے کے باعث صارفین کی سکیورٹی کو خطرہ لاحق ہوسکتا تھا جس کی روک تھام اب کی جارہی ہے۔

    ایس ایم ایس کی سہولت کے 30 برس مکمل ہو گئے

  • مصر می‌ نو عمر لڑکے کی ممی سے سونے کا دل دریافت

    مصر می‌ نو عمر لڑکے کی ممی سے سونے کا دل دریافت

    قاہرہ: قدیم مصری تہذیب سے دریافت شدہ ایک ممی کو کھولے بغیر معلوم ہوا ہے کہ اسے 49 قیمتی تعویز گنڈوں سے سجایا گیا تھا-

    باغی ٹی وی: نوعمر لڑکے کو 2300 سال قبل ممی میں ڈھالا گیا تھا 1916 میں دریافت ہونے والی یہ ممی قاہرہ کے عجائب گھر میں کھلے بغیر رکھی تھی اور 300 قبل مسیح میں بطلیموسی عہد میں بنائی گئی تھی-

    اب جامعہ قاہرہ کی سحرسلیم اورانکےساتھیوں نے اسے ڈجیٹل انداز میں پرت در پرت کھولا ہےاس میں ایکسرے، سی ٹی (کمپیوٹر ٹوموگرافی) کے ساتھ ساتھ ہائی ریزولوشن کے سینکڑوں ایکسرے لئے گئے تو معلوم ہوا کہ 21 اقسام کے 49 قیمتی تعویز اور گنڈے بھی جسم میں لگائے گئے ہیں۔

    ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کی تیاری

    Mummy gold
    ممی کوایکسرے اور دیگر آلات سے دیکھا گیا ہے چونکہ مصری، بلیوں کی طرح بھنوروں کو بھی مقدس تصور کرتے تھے اور اسی وجہ سے ایک سونے کا بھنورا بنا کر اسے دل کے قریب لگایا گیا ہے اسے غالباً دوسرے دل کے طور پر نصب کیا گیا ہے۔

    لڑکے کے سینے کے جوف میں تین سینٹی میٹر سونے کا دل لگایا گیا تھاالٹی ران میں ایک چیرا لگا کر دو انگلیوں کی شکل کا ایک اور تعویز بھی رکھا گیا ہےجبکہ جسم کے دیگر مقامات پر سونے، قیمتی پتھر اور نیم قیمتی معدنیات وغیرہ کی بنی اشیا بھی موجود ہیں۔

    سبز دم دار ستارہ زمین کے قریب سے 50 ہزار سال بعد دوبارہ گزرے گا

    پروفیسر سحر کے مطابق دل اور دیگر اشیا کو دوسری دنیا کے سفر اور تحفظ کے لیے پہنائے گئے ہیں اس لڑکے کے اہلِ خانہ نے لڑکے کے تحفظ کے لیے بہت خرچ کیا ہوگا اسے قیمتی سینڈل بھی پہنائے گئے ہیں تاکہ یہ تابوت سے باہرآکر بحفاظت سفر کرسکے۔

  • گیس کے چولہے پر کھانا بنانا صحت کیلئے آلودہ شہر میں رہنے سے زیادہ نقصان دہ ہے

    لندن: ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ گیس پر کھانا بنانا صحت کے لیے آلودہ شہر میں رہنے سے زیادہ نقصان دہ ہے۔

    باغی ٹی وی : سائنسدانوں کے مطابق ٹیلی ویژن پرشیف برقی چولہوں کے متبادل استعمال کرتے ہیں لیکن اس سے نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور پارٹیکیولیٹ میٹر(ٹریفک کے دھوئیں میں موجود ذرات) بنتے ہیں یہ بخارات پھیپھڑوں کونقصان پہنچاتےہیں اور خون میں داخل ہوسکتے ہیں جس سے امراضِ قلب، کینسر اور الزائمرز کے خطرات میں اضافہ ہوتا ہے۔

    1550 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر پھیلا برفانی تودہ انٹار کٹیکا سے الگ ہوگیا

    بچے اور بوڑھے افراد کو ان چولہوں سے زیادہ خطرہ ہوتا ہےجبکہ ایک تحقیق کےمطابق گیس کے چولہے گھر کی فضا مصروف شاہراہوں سے زیادہ آلودہ کر دیتے ہیں۔

    نیو سائنٹسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق تحقیق میں شامل بچے بیگ میں لگے آلودگی کے مانیٹر کے ساتھ اسکول گئے امپیرئل کالج لندن کی پروفیسر فرینک کیلی کا کہنا تھا کہ باہر سے زیادہ گھر میں شام کے وقت بچوں کو آلودگی سامنا تھا جس وقت ان کے والدین کھانا بنا رہے تھے۔

    ایک اور تحقیق کے مطابق گیس کے چولہے امریکا میں ہر آٹھ میں سے ایک بچے میں دمے کا سبب ہوتے ہیں۔

    پروفیسر کیلی، جو اس تحقیق کا حصہ نہیں تھیں، کا کہنا تھا کہ یہ چولہے گھر کی فضا آلودہ کرنے کا بڑا سبب ہیں۔ یہ دمے اور دیگر صحت کے مسائل کا سبب ہوسکتے ہیں اور ان کو بد تر کر سکتے ہیں یہ مسئلہ ان گھروں میں زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے جہاں مناسب ہواداری کا انتظام نہیں ہوتا۔

    گیس کے چولہے شہر کی مصروف سڑکوں کی سطح سے کئی گنا زیادہ اندر کی ہوا میں اضافہ کرتے ہیں۔

    سبز دم دار ستارہ زمین کے قریب سے 50 ہزار سال بعد دوبارہ گزرے گا

    ایک اور تحقیق سے پتا چلا ہے کہ جنوبی کیلیفورنیا کے رہائشی گیس کے چولہے کا استعمال کرتے ہوئے معمول کے مطابق نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور فارملڈہائیڈ کی سطح کے سامنے آتے ہیں جو امریکی حکام کی طرف سے مقرر کردہ بیرونی آلودگی کے لیے حفاظتی حد سے تجاوز کرتے ہیں۔

    کوپن ہیگن یونیورسٹی کے پروفیسر اسٹیفن لوفٹ نے کہا کہ کوئی یہ بحث کر سکتا ہے کہ گیس کے چولہے سے منسلک خطرہ آلودہ شہر میں رہنے سے زیادہ ہو سکتا ہے گیس ککر بھی گلوبل وارمنگ کو ہوا دے رہے ہیں۔ امریکہ میں ہونے والی ایک تحقیق میں پتا چلا ہے کہ امریکہ میں چولہے سے نکلنے والی میتھین کا آب و ہوا پراثرپڑتا ہےجو تقریباً 500,000 پٹرول کاروں سےکاربن ڈائی آکسائیڈ کےاخراج کے مقابلے میں ہوتا ہے۔

    2025 تک، برطانیہ میں کوئی بھی نیا گھر فوسل فیول ہیٹنگ کے ساتھ نہیں بنایا جائے گا، ایک ایسا اقدام جس کا تقریباً یقینی طور پر مطلب ہوگا کہ ان کے پاس الیکٹرک انڈکشن چولہے ہوں گے امریکہ میں، صدر جو بائیڈن کا مہنگائی میں کمی کا ایکٹ گھرانوں کو گیس سے انڈکشن سٹو پر جانے کے لیے $1,340 تک کی سبسڈی فراہم کرے گا۔

    دنیا کے سمندروں کی سطح بلند کرنے میں گرین لینڈ کا بڑا کردار

  • سبز دم دار ستارہ زمین کے قریب سے 50 ہزار سال بعد دوبارہ گزرے گا

    سبز دم دار ستارہ زمین کے قریب سے 50 ہزار سال بعد دوبارہ گزرے گا

    سبز دم دار ستارہ زمین کے قریب سے 50 ہزار سال بعد دوبارہ گزرنے والا ہے۔

    باغی ٹی وی: دم دار ستارہ C/2022 E3 (ZTF)، جسے ‘گرین دم دار ستارہ’ بھی کہا جا رہا ہے، یکم فروری کو ہمارے سیارے کے قریب سے گزرے گا۔

    C/2022 E3 نامی اس دم دار ستارے کو مارچ 2022 میں امریکا کے کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین نے دریافت کیا تھا، اس وقت وہ سورج سے 37 کروڑ 70 لاکھ میل کی دوری پر موجود تھا۔

    992 سال بعد نیا چاند زمین کے قریب ترین ہو گا

    ماہرین کے تخمینے کے مطابق یہ دم دار ستارہ ہمارے سورج کے مدار میں ہر 50 ہزار سال بعد داخل ہوتا ہے، یعنی یہ آخری بار زمین کے قریب سے اس وقت گزرا تھا جب ہمارے سیارے میں پتھر کا عہد چل رہا تھا اب یہ دم دار ستارہ یکم اور 2 فروری کو زمین کے سب سے زیادہ قریب ہوگا اور 2 کروڑ 70 لاکھ میل دوری سے گزرے گا۔

    درحقیقت دم دار ستارے نے آخری بار 50,000 سال پہلے اندرونی نظام شمسی کا دورہ کیا تھا، اس وقت کے ارد گرد پتھر کے زمانے کے انسانوں کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ پہلی بار کسی زبان میں بات شروع کر دی تھی۔

    اور اس کے مدار کی نوعیت کی وجہ سے، یہ کبھی بھی اندرونی نظام شمسی کا دورہ نہیں کر سکتا ہے یعنی یہ انسانیت کے لیے C/2022 E3 (ZTF) کو دیکھنے کا آخری موقع ہو سکتا ہے۔

    خوش قسمتی سے آسمان پر نظر رکھنے والوں کے لیے، 2023 کے بہترین دم دار ستارے کے طور پر جس چیز کی تعریف کی جا رہی ہے اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے اب بھی کافی مواقع موجود ہیں۔

    زمین جیسا سیارہ دریافت

    دم دار ستارے بنیادی طور پر گرد اور برف کی ایسی گیندیں ہوتی ہیں جو سورج کے بڑے بیضوی مداروں کے گرد گھومتی رہتی ہیں جب دم دار ستارے سورج کے قریب آتے ہیں تو ان کے جسم گرم ہوجاتے ہیں جبکہ برفانی سطح گیس میں تبدیل ہوجاتی ہے اور گرد پھیل جاتی ہےان سب عناصر سے بادل سا بنتا ہے جس کے پیچھے گرد کی دم ہوتی ہے۔

    C/2022 E3 کی تصاویر پہلے ہی سامنے آچکی ہیں جس میں اس کے اردگرد سبز جگمگاہٹ نظر آئی ہے اور خیال کیا جارہا ہے کہ اس رنگت کی وجہ diatomic کاربن نامی مالیکیول ہے یہ مالیکیول شمسی ریڈی ایشن کی الٹرا وائلٹ شعاعوں میں سبز روشنی خارج کرتا ہے۔

    یہ دم دار ستارہ آنے والے دنوں میں دوربین کی بجائے آنکھوں سے دیکھنا بھی ممکن ہوگا مگر ایسی جگہوں پر جہاں تاریکی بہت زیادہ ہو اور روشنی کی آلودگی نہ ہونے کے برابر ہو۔

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے کائنات کے ابتدائی دور میں بنتے ستاروں کی تصویر جاری کردی

    ویسے دوربین یا ٹیلی اسکوپ سے اسے زیادہ آسانی سے دیکھنا ممکن ہے جبکہ آن لائن بھی ورچوئل ٹیلی اسکوپ پراجیکٹ کے یوٹیوب چینل پر اسے دیکھا جاسکتا ہے مگر اسے دیکھنے کا وقت زیادہ طویل نہیں، اگرچہ اگلے ہفتے اس کا بہترین نظارہ ہوسکے گا مگر فروری کے وسط میں یہ مدھم ہونا شروع ہوجائے گا اور پھر دوبارہ واپسی کے سفر پر روانہ ہوجائے گا۔

  • 1550 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر پھیلا برفانی تودہ انٹار کٹیکا سے الگ ہوگیا

    1550 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر پھیلا برفانی تودہ انٹار کٹیکا سے الگ ہوگیا

    1550 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر پھیلا برفانی تودہ انٹار کٹیکا کی برنٹ آئس شیلف سے الگ ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی: برٹش انٹارکٹک سروے (بی اے ایس) نے بتایا کہ 1550 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر پھیلا برفانی تودہ 22 جنوری کو برنٹ آئس شیلف سے ٹوٹ کر الگ ہوگیا تھا اور اب یہ امکان ہے کہ وہ بحیرہ ودل میں بہنے لگے گا۔

    انٹارکٹیکا میں 7.6 کلوگرام وزنی غیرمعمولی آسمانی پتھر دریافت


    خیال رہے کہ لاہور کا رقبہ 1772 اسکوائر کلومیٹر ہے، یعنی یہ برفانی تودہ اس سے کچھ زیادہ چھوٹا نہیں۔


    بی اے ایس کے مطابق برفانی تودے کی علیحدگی سے قبل ایک دراڑ نمایاں ہوئی تھی جس کے بعد وہ آئس شیلف سے علیحدہ ہوا یہ واقعہ بی اے ایس کے ہیلے ریسرچ اسٹیشن کے قریب پیش آیا اور وہاں موجود عملے کے 21 افراد محفوظ رہے۔

    برطانیہ :چھوٹے طیارے میں ہائیڈروجن-الیکٹرک انجن کی کامیاب آزمائشی پرواز

    ایک دہائی قبل بی اے ایس کے ماہرین نے آئس شیلف میں بڑی دراڑوں کو دیکھا تھا اور اب جاکر یہ برفانی تودہ الگ ہوا ہے بی اے ایس کی ڈائریکٹر ڈیم جین فرانسس کے مطابق ماہرین کو پہلے ہی ایسا ہونے کی توقع تھی۔


    انہوں نے بتایا کہ برفانی تودے کی علیحدگی موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ نہیں اور ایسا قدرتی طور پر ہوا دراڑ چوڑی ہونے پر 2016 میں ہیلے اسٹیشن کو 23 کلومیٹر دور منتقل کیا گیا تھا اور 2017 سے وہاں صرف نومبر سے مارچ (جب انٹار کٹیکا میں موسم گرما ہوتا ہے)کے دوران عملے کو تعینات کیا جاتا ہے۔

    گزشتہ 2 سال کے یہ دوسری بار ہے جب اس خطے میں ایک بڑا برفانی تودہ الگ ہوا ہے اس سے قبل مئی 2021 میں دنیا کا سب سے بڑا برفانی تودہ انٹارکٹیکا کے رونی آئس شیلف سے الگ ہوکر سمندر میں بہنے لگا تھا اس برفانی تودے کا رقبہ 4320 اسکوائر کلومیٹر تھا، یعنی وہ لاہور سے دوگنا سے بھی زیادہ بڑا تھا-

    دنیا کے سمندروں کی سطح بلند کرنے میں گرین لینڈ کا بڑا کردار

  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا 6 فیصد ملازمین کو برطرف کرنے کا فیصلہ

    گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا 6 فیصد ملازمین کو برطرف کرنے کا فیصلہ

    واشنگٹن: سرچ انجن گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ نے اپنے 6 فیصد ملازمین کو برطرف کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مطللب 12 ہزار ملازمین کو نوکری سے نکالا جائے گا-

    باغی ٹی وی: نیویارک ٹائمز کے مطابق الفابیٹ کی جانب سے بنیادی طور پر یہ فیصلہ ٹیکنالوجی سیکٹر کے سکڑنے کی وجہ سے کیا گیا ہے اس ٹیکنالوجی سیکٹر کو مصنوعی ذہانت سے نہ صرف منسلک کیا جانے لگا ہے بلکہ آئی ٹی سیکٹر سے تعلق رکھنے والی مصنوعات کی مانگ میں بھی تسلسل کے ساتھ کمی ریکارڈ کی جانے لگی ہے۔

    اسپاٹی فائی کا دنیا بھرمیں 6 فیصد ملازمین کو نکالنے کا اعلان

    امریکہ میں آئی ٹی سیکٹر سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے نہ صرف ملازمتوں کے مواقع کم ہو رہے ہیں بلکہ جو افراد اس وقت نوکریوں پر ہیں انہیں بھی ہر وقت بیروزگار ہونے کا خوف لاحق رہنے لگا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق الفابیٹ کے سی ای او کے طور پر 2019 میں ذمہ داریاں سنبھالنے والے سندر پیچائی کا کہنا ہے کہ الفابیٹ کو گزشتہ دو سالوں کے دوران ایک بالکل مختلف معاشی و اقتصادی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے اور یہ وہی وقت ہے کہ جب لوگوں کو ملازمتیں دے کر اس ادارے میں بھرتی کیا گیا تھا گوگل صارفین، ڈیولپرز اور کاروبار کے لیے مکمل طور پر ایک بالکل نئے تجربے کی تیاری کر رہی ہے اور وہ مصنوعی ذہانت ہے۔

    عالمی مالیاتی بحران میں شدت: امریکی بینکوں میں بڑے پیمانے میں برطرفیوں کی تیاریاں

    واضح رہے کہ مائیکرو سافٹ نے بھی رواں ہفتے میں یہ اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے ادارے سے 10 ہزار ملازمتیں ختم کرنے پہ مجبور ہے اور اس کی بنیادی وجہ کساد بازاری ہے۔ مائیکرو سافٹ سے نکالنے جانے والے افراد کی تعداد وہاں کام کرنے والے ملازمین کا پانچ فیصد ہے۔

    مائیکرو سافٹ نے کہا تھا کہ اقتصاد بازاری اسے 10 ہزار نوکریاں ختم کرنے پر مجبور کر رہی ہے جو اس کمپنی میں کام کرنے والوں کی مجموعی تعداد کا پانچ فیصد بنتا ہے

    الفابیٹ جسے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے امریکہ میں لیڈر تسلیم کیا جاتا ہے کو مائیکرو سافٹ کی جانب سے چیلنج درپیش ہے کیونکہ وہ ورچوئل طور پر کوئی بھی ایسا مواد تیار کر سکتی ہےجس کے بارے میں صارفین سوچ سکتے ہیں اور ٹیکسٹ باکس میں ٹائپ کر سکتے ہیں۔

    گوگل کامزید 12,000 ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان

  • انٹارکٹیکا میں  7.6 کلوگرام وزنی غیرمعمولی آسمانی پتھر دریافت

    انٹارکٹیکا میں 7.6 کلوگرام وزنی غیرمعمولی آسمانی پتھر دریافت

    براعظم انٹارکٹیکا میں ماہرین نےغیرمعمولی آسمانی پتھر (میٹیورائٹس) دریافت کیا ہے جس کا وزن 7.6 کلوگرام ہے-

    باغی ٹی وی : انٹارکٹیکا ایک دشوار گزار اور سخت سردی میں گھرا مقام ہے لیکن اسی نیلگوں برف میں آسمانی پتھر کی بڑی تعداد نہ صرف یہاں گرتی ہے بلکہ انہیں سفید برفیلی چادر میں باآسانی ڈھونڈ نکالا جاسکتا ہے پھر وہاں موسمیاتی شدت کم ہے اور سیاہ پتھر زیادہ ٹوٹ پھوٹ کے شکار نہیں ہوتے۔

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے کائنات کے ابتدائی دور میں بنتے ستاروں کی تصویر جاری کردی

    برف میں گرنے کے بعد آسمانی پتھر عموماً باہر کی جانب نمایاں دکھائی دیتے ہیں اور یوں ان کو تلاش کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔ اب ماہرین کی بین الاقوامی ٹیم نے ایک ساتھ پانچ شہابی پتھر اٹھائے ہیں جن میں سے ایک کا وزن تقریباً 17 پاؤنڈ ہے۔

    اگرچہ انٹارکٹیکا میں شہابیوں کو تلاش کرنا آسان ہو سکتا ہے، لیکن براعظم اس کے منجمد ٹھنڈے حالات اور دور دراز مقام کے ساتھ اس پار سفر کرنا بالکل آسان نہیں ہےاس تلاش میں شامل ٹیم نےکئی دن جنگل میں کیمپنگ کرتےہوئے پیدل اور سنو موبائل سے چلتے ہوئے گزارے۔

    شُترمُرغ کے 4000 سال قدیم انڈے دریافت

    جامعہ شکاگو کے فیلڈ میوزیئم سے وابستہ ماریہ والدیزنے دیگر ممالک کے سائنسدانوں کے ساتھ مل کر یہ شہابی پتھر دریافت کئے ہیں جن کا تجزیہ اب رائل بیلجیئن انسٹی ٹیوٹ آف نیچرل سائنسِس میں کیا جائے گا۔ تاہم ان کے چھوٹے ٹکڑے کرکے بین الاقوامی ٹیم میں تقسیم کئے جائیں گے اور ہر ایک ٹیم مختلف پہلو سے اس کا مطالعہ کرے گی۔

    الینوائے کے فیلڈ میوزیم سے تعلق رکھنے والی کاسموکیمسٹ ماریا ویلڈیس کہتی ہیں، "جب شہابیہ کی بات آتی ہے تو اس کے سائز سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اور یہاں تک کہ چھوٹے مائیکرو میٹیورائٹس بھی سائنسی اعتبار سے ناقابل یقین حد تک قیمتی ہو سکتے ہیں۔” "لیکن یقیناً، اس جیسا بڑا شہابیہ پانا نایاب ہے، اور واقعی دلچسپ ہے۔

    توقع ہے اس پر تحقیق سے مزید انکشافات سامنے آئیں گے۔

    زمین جیسا سیارہ دریافت

  • برطانیہ :چھوٹے طیارے میں ہائیڈروجن-الیکٹرک انجن کی کامیاب آزمائشی پرواز

    برطانیہ :چھوٹے طیارے میں ہائیڈروجن-الیکٹرک انجن کی کامیاب آزمائشی پرواز

    ماحولیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر ایوی ایشن انڈسٹری پر بھی گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کو کم کرنے کا دباؤ بڑھ رہا تھا اور اب ایوی ایشن انڈسٹری نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے ہائیڈروجن-الیکٹرک انجن کی پرواز کا کامیاب تجربہ کرلیا ہےجس سےکاربن کا اخراج صفرہو جائے گا۔

    باغی ٹی وی: برطانیہ میں زیرو ایویا (ZeroAvia) نامی کمپنی کی جانب سےتیار کردہ دو انجن کا 19 سیٹر چھوٹا طیارہ 10 منٹ کی تجرباتی پرواز کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد دنیا کا سب سے پہلا بڑا طیارہ بن گیا ہے جس نے ہائیڈروجن-الیکٹرک پاور پر کامیاب پرواز مکمل کی ہے مائع ہائیڈروجن کا استعمال کرتے ہوئے، ٹیکنالوجی پرواز کے دوران کاربن کے اخراج کو ختم کرتی ہے۔

    بلند معیار کے اسٹیریوائیر بڈز قیمتی اور خوبصورت بالیاں بھی

    زیرو ایویا کی یہ پرواز برطانیہ کی ہائی فلائیر 2 (HyFlyer II) پراجیکٹ کا حصہ ہے، جس کا مقصد 300 ناٹیکل میل کے مفاصلے تک 9 سے 19 سیٹر طیاروں کیلئے زیرو کاربن اخراج والی 600 کلو واٹ پاور ٹرین تیار کرنا ہے۔

    زیرو ایویا 2020 میں 250 کلو واٹ ہائیڈروجن الیکٹرک پاور ٹرین کے ذریعے 6 سیٹر طیارے کی کامیاب پرواز کے بعد سے اب تک چھوٹے انجنوں پر مشتمل 30 پروازیں مکمل کر چکی ہے-

    ایک اندازے کے مطابق عالمی سطح پر ایوی ایشن انڈسٹری کا کاربن اخراج میں کل حصہ 2.5 فیصد ہے اور یہ تجربہ کاربن اخراج کو کم ترین سطح پر لانے کی کوششوں کا ایک حصہ ہے جبکہ ہائیڈروجن کو طیاروں کیلئے ایک بہترین متبادل ایندھن قرار دیا جاتا ہے کیوں کہ ہائیڈروجن، فاسل فیولز کے مقابلے میں گرین ہاؤس گیسز کی پیداور میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں کرتا۔

    چین: لامحدود وقت تک ہوا میں رہنے والے لیزرڈرون کا تجربہ کامیاب

    ہائیڈروجن کو ہوائی جہازوں کے لیے ایندھن کے ایک امید افزا حل کے طور پر شناخت کیا گیا ہے کیونکہ یہ جلانے پر کوئی گرین ہاؤس گیسیں پیدا نہیں کرتا ہے۔ تاہم، جب تک کہ ہائیڈروجن کو قابل تجدید توانائی کا استعمال کرتے ہوئے پیدا نہ کیا جائے، اسے بنانے کا عمل فوسل ایندھن پر انحصار کرتا ہے۔

    ڈورنیئر 228 کو مکمل سائز کے پروٹو ٹائپ ہائیڈروجن الیکٹرک پاور ٹرین کے ساتھ دوبارہ تیار کیا گیا تھا، جس میں ہوائی جہاز کے بائیں بازو پر دو فیول سیل اسٹیک تھے۔ لیتھیم آئن بیٹری پیک نے ٹیک آف کے دوران سپورٹ کو بڑھا دیا، جبکہ سیٹیں ہٹا کر کیبن کے اندر ہائیڈروجن ٹینک اور فیول سیل پاور جنریشن سسٹم رکھے گئے تھے۔

    آدھی طاقت فیول سیلز سے آتی ہے اور آدھی بیٹری پیک سے، کمپنی کے نمائندے نے پرواز کے بعد کی پریس کانفرنس میں تصدیق کی دائیں بازو میں ایک باقاعدہ انجن تھا، حفاظتی وجوہات کی بناء پرحالانکہ اسے پرواز کے دوران استعمال نہیں کیا گیا تھا۔

    2022 میں سمندروں نے لگاتار چوتھے سال درجہ حرارت کا ریکارڈ توڑدیا

    Cotswold ہوائی اڈے سے شروع ہو کر، ہوائی جہاز نے ٹیکسی، ٹیک آف، مکمل پیٹرن کا سرکٹ اور لینڈنگ سب کچھ ہائیڈروجن الیکٹرک انجن پر کیا۔ اس کی رفتار 120 ناٹ یا 139 میل فی گھنٹہ تھی کمپنی نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ "تمام سسٹمز نے توقع کے مطابق کارکر دگی کا مظاہرہ کیا۔

    تجارتی پرواز کے لیے، یقیناً، ہائیڈروجن ٹینک اور فیول سیل پاور جنریشن سسٹم طیارے کے باہر رکھے جائیں گے۔ کمپنی کا مقصد اب کنفیگریشن کو حتمی شکل دینا اور سال کے آخر تک اسے سرٹیفیکیشن کے لیے پیش کرنا ہے۔

  • درختوں سے جنگلی حیات کا ڈی این اے جمع کرنے والا ڈرون

    درختوں سے جنگلی حیات کا ڈی این اے جمع کرنے والا ڈرون

    زیورخ: سوئٹزرلینڈ میں ٹیکنالوجی کے ایک مشہور ادارے کے ماہرین نے ڈرون نما ایک اڑن مشین بنائی ہے جو گھنے جنگل کے درختوں پر رہنے یا عارضی مسکن بنانے والے پرندوں اور دیگر جانوروں کے ڈی این اے جمع کرسکتا ہے اس کے علاوہ یہ خود درختوں کے تنوع کے بارے میں بھی ہماری معلومات بڑھا سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: جنگلات کی حیاتیاتی تنوع کو سمجھنا ان کے تحفظ یا بحالی کے لیے بہت ضروری ہے جانوروں کے پیچھے چھوڑے گئے "بیرونی ڈی این اے” کو اکٹھا کرنا یہ معلوم کرنےکا ایک اچھا طریقہ ہے کہ وہاں کیا رہتا ہےبغیر انہیں دیکھے یا ایک ہی وقت میں وہاں موجود ہو اور سوئس محققین کا یہ ڈرون درختوں کے اعضاء سے نمونے لینے کو زیادہ محفوظ اور آسان بناتا ہے۔

    میٹھے پانی کی ایک مچھلی کھاناایک مہینے تک آلودہ پانی پینے کے برابر ہے،تحقیق

    سائنس روبوٹکس میں شائع ہونے والے ایک مقالے میں، انہوں نے ڈرون پر مبنی حل تجویز کیا: ایک فضائی روبوٹ جو اونچی شاخوں تک اڑ سکتا ہے اور شاخ یا خود کو نقصان پہنچائے بغیر ان سے نمونے چھین سکتا ہے۔

    ای ٹی ایچ زیورخ اور سوئس فیڈرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے مشترکہ طور پر یہ مشین بنائی ہے جس سے درختوں کی صحت، تنوع اور وہاں موجود جانوروں کی معلومات مل سکیں گی کیونکہ ہمارے ڈیٹا بیس میں اب بہت ساری مخلوقات کا ڈی این اے جمع ہوچکا ہے۔

    ایک گھنے جنگل میں ہر درخت کو دیکھنا اور اس پر رہائش پذیر مخلوق کا ریکارڈ رکھنا ایک امرِ محال ہے تاہم وہاں موجود نئے اور پرانے ڈی این اے سے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ یہاں کون سے جانور بستے ہیں یا بیٹھتے ہیں۔ مثلاً کسی پرندے کی بیٹ، اس کے پروں کے ٹکڑے یا پنجوں سے اترے ہوئے خلیات بتاسکتے ہیں کہ وہ کس نوع سے تعلق رکھتا ہے۔

    چین: لامحدود وقت تک ہوا میں رہنے والے لیزرڈرون کا تجربہ کامیاب

    ڈرون تھوڑا سا جدیدیت پسند لائٹ فکسچر کی طرح لگتا ہے، جس میں خوبصورتی سے تیار کردہ لکڑی کا فریم اور پلاسٹک کی شیلڈنگ، اور اس کی نچلی سطحوں پر چپکنے والی ٹیپ یا "ہمیڈیفائیڈ کاٹن” کی پٹیاں لگائی گئی ہیں۔ عام طور پر سازگار پوزیشن کی طرف رہنمائی کے بعد، یہ نمونے لینے کے لیے شاخ کے اوپر منڈلاتا ہے اور کسی بھی حرکت جیسے جھومنے یا اچھالنے، اس کے نقطہ نظر کو ہم آہنگ کرنے کی نگرانی کرتا ہے۔ جب یہ رابطہ کرتا ہے، تو یہ کافی دباؤ کے ساتھ ڈھیلے ای ڈی این اے مواد کو پٹیوں میں منتقل کرنے کا سبب بنتا ہے، لیکن اتنا نہیں کہ یہ شاخ کو راستے سے باہر دھکیل دے۔ بنیادی طور پر، یہ درخت پر ٹیک لگاتا ہے۔

    ڈرون پر ویلکرو جیسی چپکن پٹی لگی ہے جو تنوں اور پتوں سے رگڑ کر وہاں کےنمونےجمع کرتی ہےپھر انہیں تجربہ گاہ لایا جاتا ہے اور وہاں ان اشیا میں سے ڈی این اے کا تجزیہ کیا جاتا ہے جسے ای (انوائرمینٹل) ڈی این اے کا نام دیا گیا ہے۔

    یوں درخت کی اپنی کیفیت اور دیگر جاندار کا احوال معلوم ہوجاتا ہے لیکن اس کے لیے ڈرون بنانا ایک چیلنج تھا اوراس کے لیے پیچیدہ پروگرامنگ کی بھی ضرورت تھی جو بار بار کی کوششوں سے ممکن ہوئی۔

    جب ڈرون کو سات درختوں پر آزمایا گیا تو 21 جانداروں کے ڈی این اے دیکھے گئے جن میں پرندے، حشرات اور ممالیہ بھی شامل ہیں۔

    تین سیکنڈ میں آواز نقل کرنے ولا سوفٹ ویئر