Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • 992 سال بعد نیا چاند زمین کے قریب ترین ہو گا

    992 سال بعد نیا چاند زمین کے قریب ترین ہو گا

    ماہرین فلکیات کے مطابق 992 سال بعد نیا چاند زمین کے سب سے زیادہ قریب پہنچے گا۔

    باغی ٹی وی: ایک رپورٹ کے مطابق 992 سال بعد پہلی بار 21 جنوری 2023 کو نیا چاند زمین کے قریب ترین آئے گا،21 جنوری کو نیا چاند زمین سے 2 لاکھ 21 ہزار 561 میل دور ہوگا اور ایسا آخری بار 3 دسمبر 1030 کو ہوا تھا۔

    میٹھے پانی کی ایک مچھلی کھاناایک مہینے تک آلودہ پانی پینے کے برابر ہے،تحقیق

    رپورٹ میں ناسا کی Jet Propulsion Laboratory کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کے بعد یہ بات بتائی گئی آئندہ نیا چاند 20 جنوری 2368 کو زمین کے اتنے قریب آئے گا۔

    اگلی بار جب نیا چاند زمین کے اتنا قریب آئے گا تو وہ اب سے 345 سال کا ہو گا، یہ 1337 سالوں میں سب سے قریب ترین نیا چاند بن جائے گا۔

    صدیوں بعد چاند امین کے اتنا قریب اس لئے آرہا ہے کیونکہ چاند زمین کے گرد یکساں دائرے میں نہیں گھوم رہا چاند کا مدار بیضوی ہے اور اسی وجہ سے چاند اور زمین کا درمیانی فاصلہ ہر ماہ بتدریج بدلتا رہتا ہے۔

    چاند کے مدار میں وہ مقام جہاں چاند زمین سے بہت کم دوری پر آجاتا ہے، اسے پیریگی کہتے ہیں جبکہ دور دراز کے مقام کو اپوجی کہا جاتا ہے۔

    اگر پیریجی یا اپوجی نئے چاند یا پورے چاند کے ساتھ موافق ہوتا ہے جب زمین، چاند اور سورج سیدھ میں ہوتے ہیں تو چاند کے قریب ترین اور سب سے زیادہ فاصلے زیادہ ہو جاتے ہیں یہ سپر مون اور مائیکرو مون کے مظاہر کی طرف جاتا ہے، جہاں چاند خاص طور پر قریب یا دور ہوتا ہے۔

    موسمیاتی شدت: 2023 گزشتہ سال سے زیادہ تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے،ماہرین کا انتباہ

    سب سے زیادہ زمین چاند کی دوری اس وقت ہوتی ہے جب زمین سورج کے اپنے قریب ترین مقام کے قریب ہوتی ہے، جسے پیری ہیلین کہتے ہیں۔ فی الحال، پیری ہیلین جنوری کے شروع میں آتا ہے۔

    ہم نے 2000 سال کے عرصے میں نئے چاند پر زمین اور چاند کے قریب ترین فاصلے کا جائزہ لیا، اور تین نئے چاند ملے جہاں فاصلہ 356,570 کلومیٹر (221,562 میل) سے کم تھا۔

    ہمارے حسابات نے طویل عرصے کے دوران چاند کی پوزیشن کے لیے دستیاب بہترین اعداد و شمار کا استعمال کیا۔ یہ DE431 نامی ڈیٹا کا ایک سیٹ ہے، جسے کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں جیٹ پروپلشن لیبارٹری نے تیار کیا ہے۔

    تین قریب ترین نئے چاند، 1000 کرنٹ ایرا سے 3000 کرنٹ ایرا

    3 دسمبر 1030 کو چاند کا زمین سے قریب ترین فاصلہ 356,562 کلومیٹر ( 221,557 میلز ) تھا،21 جنوری 2023 کو نیا چاند زمین سے 356,568 کلومیٹر یعنی 2 لاکھ 21 ہزار 561 میل دور ہوگا،اس کے بعد 20 جنوری 2368 کو چاند زمین سے 356,559 کلو میٹر(221,555) ملیز دور ہو گا-

    واضح رہے کہ اس اعداد و شمار کے مطابق ان فاصلوں کے درمیان صرف چند کلومیٹر کا فرق ہے۔ یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ تین تاریخیں پیری ہیلین (دسمبر اور جنوری کے آس پاس) کے قریب آتی ہیں۔

    بلند معیار کے اسٹیریوائیر بڈز قیمتی اور خوبصورت بالیاں بھی

    ایک موازنہ کے طور پر، زمین اور چاند کا سب سے دور فاصلہ عام طور پر تقریباً 405,000 کلومیٹر (252,000 میل) ہے۔

    تو یہ 11ویں صدی کے بعد سب سے قریب ترین نیا چاند ہو گا اور اس لیے سب سے بڑا بھی۔

    عملی طور پر، ہم کچھ بھی نہیں دیکھ پائیں گے، کیونکہ نئے چاند کو غیر مرئی مرحلے کے طور پر جانا جاتا ہے: یہ وہ جگہ ہے جہاں چند دنوں کے لیے چاند نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔

    سپر مون اور مائیکرو مون کا جوار پر تھوڑا سا اثر پڑتا ہے۔ اور، یقینا، چاند کے ساتھ کوئی بھی چیز ہمیں حیرت اور تجسس سے بھرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    گراناڈا، اسپین میں گزشتہ سال کی یوروپلینیٹ سائنس کانگریس کے ایک سیشن میں، ٹائم اینڈ ڈیٹ نے اس ایونٹ کو اب اور 2040 کے درمیان سیاروں کے سات قابل ذکر قریبی نقطہ نظروں میں سے ایک کے طور پر اجاگر کیا۔

    پیرو کے نیشنل پارک سے چھپکلی کی نئی قسم دریافت

    زمین سے چاند کی سب سے زیادہ دوری 4 جنوری 2023 کو ہی دیکھنے میں آئی تھی جب زمین سورج کے قریب تھی لگ بھگ ایک ہزار سال بعد نیا چاند زمین کے قریب ترین آرہا ہے مگر وہ ہمیں نظر نہیں آسکے گا، البتہ 22 جنوری کو آپ آسمان پر زہرہ اور زحل کو ضرور ایک دوسرے سے جڑے ہوئے دیکھ (دوربین سے) سکتے ہیں۔

    اسی طرح نئے چاند کے ساتھ نئے چینی سال کا آغاز بھی ہوگا اور یہ خرگوش کا سال ہے۔

  • میٹھے پانی کی ایک مچھلی کھاناایک مہینے تک آلودہ پانی پینے کے برابر ہے،تحقیق

    میٹھے پانی کی ایک مچھلی کھاناایک مہینے تک آلودہ پانی پینے کے برابر ہے،تحقیق

    واشنگٹن: ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سال میں میٹھے پانی کی ایک مچھلی کھانا ایک مہینے تک ’فار ایور کیمیکلز‘ سے آلودہ پانی پینے کے برابر ہے۔

    باغی ٹی وی : ریاستہائے متحدہ میں جنگلی پکڑی گئی، میٹھے پانی کی مچھلیاں سمندروں میں تجارتی طور پر پکڑی جانے والی مچھلیوں کے مقابلے میں زہریلے فلورو الکائل اور پولی فلورو الکائل(PFAS )”ہمیشہ کے لیے کیمیکلز” سے کہیں زیادہ آلودہ ہیں، اور وفاقی اعداد و شمار کے ایک نئے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ بڑی جھیلوں کی مچھلیوں میں سب سے زیادہ مقدار پائی جاتی ہے۔

    زمین جیسا سیارہ دریافت

    پرفلورو الکائل اور پولی فلورو الکائل(پی ایف ایز) مرکبات المعروف ’فارایور کیمیکلز‘کئی صورتوں میں ہماری روز مرہ زندگی کا حصہ ہوتے ہیں لیکن یہ مرکبات کینسر اور دیگر صحت کے مسائل سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔

    پبلک ہیلتھ ایڈووکیٹ انوائرنمنٹل ورکنگ گروپ (EWG) کے ہم مرتبہ جائزہ لینے والے مطالعے میں یہ بھی پایا گیا کہ میڈین پی ایف اے ایس کی سطح سے آلودہ امریکی میٹھے پانی کی مچھلی کا ایک سرونگ کھانا ایک ماہ تک ہر روز انتہائی آلودہ پانی پینے کے مترادف ہوسکتا ہے۔

    EWG کے ساتھ حکومتی امور کے سینئر نائب صدر سکاٹ فیبر نے کہا کہ نتائج "دم توڑ دینے والے” ہیں۔

    اس تحقیق کے لیے انوائرنمنٹل ورکنگ گروپ (ای ڈبلیو جی) کے محققین نے امریکا بھر سے میٹھے پانی کے ذخیروں سے پکڑی جانے والی مچھلیوں کے گوشت کے 500 نمونوں کا تجزیہ کیا۔

    تجزیے میں یہ تخمینہ لگایا گیا کہ ان کیمیکلز سے آلودہ مچھلیوں کو کھانا ایک مہینے تک پی ایف ایز سے آلودہ (48 حصے فی 10 کھرب) پانی پینے کے برابر ہے۔

    ہرفرد موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کی روک تھام کیلئے کردار ادا کرسکتا ہے،بل گیٹس

    تحقیق کے میں دیکھا گیا کہ مچھلیوں میں پی ایف ایز کی اوسط مقدار 9500 نینو گرام فی کلوگرام تھی لیکن سُپیریئر، مشیگن، ہیورن جیسی بڑی جھیلوں سے پکڑی جانے والی مچھلیوں میں یہ مقدار بڑھ کر 11 ہزار 800 نینو گرام فی کلو گرام تک پہنچ گئی تھی۔

    پی ایف ایز کی یہ مقدار کمرشلی طور پر پکڑ کر فروخت کی جانے والی مچھلیوں میں پائی جانے والی مقدار کی نسبت 280 گُنا زیادہ ہے۔

    ای ڈبلیو جی کے سینئر سائنس دان اور تحقیق کے سربراہ مصنف ڈاکٹر ڈیوڈ اینڈریو کے مطابق وہ لوگ جو میٹھے پانی کی مچھلی کھاتے ہیں بالخصوص وہ لوگ جو باقاعدگی سے مچھلی پکڑتے ہیں اور کھاتے ہیں، ان کے جسم میں خطرناک حد تک پی ایف ایز کی موجودگی کا خدشہ ہے۔

    فی الوقت پی ایف ایز تقریباً 12 ہزار صورتوں میں موجود ہیں جن کے فائر فائیٹنگ فوم،فرائی پان پر کی جانے والی نان-اسٹکنگ کوٹنگ اور ٹیکسٹائل سمیت کئی استعمال ہیں۔

    چین: لامحدود وقت تک ہوا میں رہنے والے لیزرڈرون کا تجربہ کامیاب

    نئی تحقیق میں 2013 سے مختلف ادوار میں ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (EPA) اور فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) کی طرف سے کئے گئے تین مطالعات کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔

    ای پی اے نے 501 نمونوں میں سے ایک کے علاوہ تمام پایا جس میں اس نے پی ایف اے ایس کی سطح کو بلند کیا تھا۔ کھیتی ہوئی میٹھے پانی کی مچھلیوں میں عام طور پر جنگلی پکڑی جانے والی مچھلیوں کے مقابلے پی ایف اے ایس کی سطح نمایاں طور پر کم ہوتی ہے، جس کے بارے میں تحقیق کے ایک مصنف ڈیوڈ اینڈریوز نے کہا کہ یہ فارمز آلودہ دریاؤں یا جھیلوں کی بجائے تالابوں کو بھرنے کے لیے زمینی پانی کو بطور ذریعہ استعمال کرنے کی وجہ سے ہوسکتے ہیں۔

    باس اور کیٹ فش کی کئی پرجاتیوں میں سب سے زیادہ سطح پائی گئی، جبکہ سب سے کم رشتہ دار سطح چنوک اور کوہو سالمن میں پائی گئی۔ شہری علاقوں کے قریب پکڑی جانے والی مچھلیوں کی سطح عام طور پر زیادہ ہوتی ہے۔

    ایمیزون جنگلات کی تباہی سے ہمالیہ اورانٹارکٹک کی برف میں بھی کمی ہوسکتی ہے

  • بلند معیار کے اسٹیریوائیر بڈز قیمتی اور خوبصورت بالیاں بھی

    بلند معیار کے اسٹیریوائیر بڈز قیمتی اور خوبصورت بالیاں بھی

    جرمنی کی ایک کمپنی نے خواتین کے لیے نئے فیشن کے تحت ایئربڈز کو کانوں کی بالیوں میں لگا دیا ہے،ان بالیوں میں جڑے دونوں موتیوں میں 2 اسپیکرز چھپے ہوئے ہیں جو آواز کو کانوں میں منتقل کرتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: نووا کمپنی کے مطابق ایئربڈز سونے، چاندی اور سچے موتی کی صورت میں دستیاب ہیں اور ان کے ساتھ چارجنگ کیس بھی فروخت کیا جا رہا ہے۔ کانوں کے زیور کے ساتھ ساتھ ان میں بلند معیار کے اسٹیریو ایئربڈز بھی چھپے ہیں۔

    ایئررنگ میں کِلپ لگایا گیا ہے جس کے پیچھے مائیکرو اسپیکر موجود ہے۔ اگر ایئررنگ کان سے دور بھی رہے تب بھی ایک خاص رخ سے کانوں میں آواز پڑتی رہتی ہے۔

    کمپنی کے مطابق اس ٹیکنالوجی سے آپ کے اردگرد کی آوازوں کی ایک تہہ بنتی ہے جس سے گانے سنتے ہوئے بھی آپ آس پاس کی آوازیں سن سکتے ہیں اس ٹیکنالوجی کے باعث نوائز کینسلیشن کی ضرورت نہیں رہتی۔

    اسپیکرز تو کانوں سے باہر ہوتے ہیں مگر اس ڈیوائس کے لیے استعمال کی جانے والی ساؤنڈ ٹیکنالوجی کے باعث آپ جو سن رہے ہوتے ہیں اس کا علم دیگر افراد کو نہیں ہوتا۔

    سنگل چارج پر آڈیو ائیر رنگز سے آپ ساڑھے 3 گھنٹے تک گانے سن سکتے ہیں یا ڈھائی گھنٹے تک کسی سےبات کرسکتے ہیں کیونکہ اس میں چار حساس مائیک بھی لگے ہیں۔ اس میں ایک باریک بٹن سے آپ میوزک اور فون پر گفتگو کے آپشن کا انتخاب کرسکتے ہیں۔

    ائیر رنگ کیس ہی اس کا چارجنگ کیس بھی ہےجبکہ اس ڈیوائس میں ایک بٹن بھی موجود ہےجس سےآڈیو پلے بیک اورفون کالزکوکنٹرول کیا جاسکتا ہے یہ ڈیوائس گولڈ اور سلور رنگوں میں دستیاب ہے جس کی قیمت 695 یورو رکھی گئی ہے،پہلے یورپ اور پھر جاپان میں ان کی فروخت شروع کی جائے گی جو اگلے چند ماہ میں متوقع ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اس کا ڈیزائن سونی کے اوپن اسٹائل لنک بڈز سے مشابہہ ہے لیکن یہ بات درست نہیں کیونکہ پہنے جانے کے بعد کوئی بھی نہیں کہہ سکتا یہ اسمارٹ فون سے جڑے ایئربڈز ہیں بلکہ دیکھنے میں یہ کانوں کے زیور ہی لگتے ہیں اور یہی اس ڈیزائن کا کمال ہے۔

  • مسلسل فاسٹ فوڈ کی عادت جگر کے لیے انتہائی مضر ثابت ہوسکتی ہے،تحقیق

    مسلسل فاسٹ فوڈ کی عادت جگر کے لیے انتہائی مضر ثابت ہوسکتی ہے،تحقیق

    مسلسل فاسٹ فوڈ کی عادت جگر کے لیے انتہائی مضر ثابت ہوسکتی ہے،گزشتہ 50 برسوں میں فاسٹ فوڈ پوری دنیا میں خوب بڑھا ہے اور اب بھی لوگ طرح طرح کے امراض کےشکار بن رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی: یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا میں واقع کیک اسکول آف میڈیسن کی جانب سے شائع کرائی گئی تحقیق میں کہا گیا کہ فاسٹ فوڈ کھانے کی طویل عادت جگر میں چربی چڑھا سکتی ہے اس صورت میں ’نان الکحلک فیٹی لیور ڈیزیز‘ (این اے ایف ایل ڈی) نہ صرف ظاہر ہوسکتی ہے بلکہ مزید پیچیدہ بن کر جان لیوا بھی ہوسکتی ہے۔

    غذا جو بڑھتی عمر کیساتھ دل و دماغ کی حفاظت کرتی ہے

    تحقیق سے وابستہ سائنسدان ڈاکٹر عینی کرداشیئن کہتی ہیں کہ اگر کوئی اپنے روزمرہ حراروں (کیلوریز) کا پانچواں حصہ فاسٹ فوڈ سے لیتا ہےتو جلد یا بدیر ان کے جگر کو مختلف چکنائیاں گھیرلیتی ہیں۔

    اس ضمن میں 2017 اور 2018 کے صحت و غذائیت کے سروے کا جائزہ بھی لیا گیا ہے امریکہ میں ہر سال اس موزوں پر سب سے بڑا عوامی سروے بھی ہوتا ہے جس میں انکشاف ہوا ہے کہ جگرمیں چکنائیوں کا جمع ہونا، ہیپاٹائٹس، جگر کی ناکاکردگی بلکہ سرطان کی وجہ بھی بن رہا ہے یا بن سکتا ہے۔

    رات دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    ماہرین نے اس فہرست میں برگر کے علاوہ میٹھی اشیا، ڈونٹس اور پیزا وغیرہ کو بھی شامل کیا ہے۔ اس تحقیقی سروے میں کل 4000 سے زائد افراد کو شامل کیا گیا ہے ان میں سے 52 فیصد افراد فاسٹ فوڈ کھانے کے عادی تھےجو افراد اپنے ضروری غذائی حراروں کی صرف 20 سے 29 فیصد مقدار فاسٹ فوڈ سے حاصل کررہے تھے وہ سب جگر پر اضافی چربی میں متبلا پائے گئے جسے این اے ایف ایل ڈی کہا جاتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق جو فربہ افراد میں جگر پر چربی کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے اور انہیں مشورہ دیا گیا ہے کہ فاسٹ فوڈ کی مقدار اور عادت میں کسی بھی طرح کمی کریں۔ فربہ افراد کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کی شکایت بھی کرتے نظرآئےیہی وجہ ہے کہ ماہرین نے عوام کو فاسٹ فوڈ سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے۔

    انار ایک سُپر فوڈ،ذیابیطس کو روکتا ہے اور دل کی حفاظت کرتا ہے،نظام ہاضمہ کو مضبوط کرتا ہے

  • زمین جیسا سیارہ دریافت

    زمین جیسا سیارہ دریافت

    واشنگٹن: ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے اپنا پہلا سیارہ دریافت کر لیا اور اس چٹانی سیارے کا حجم تقریباً ہماری زمین جیسا ہی ہے۔

    باغی ٹی وی : LHS 475 b نامی یہ ایگزو پلینٹ 99 فیصد زمین کے قطر کے برابر ہےتاہم، زمینی سطح ہونے کے باوجود سائنسدانوں کو یہ نہیں معلوم کہ آیا اس کا کوئی ماحول ہے کہ نہیں۔ ایگزو پلینٹ ان سیاروں کو کہا جاتا ہے جو نظامِ شمسی سے باہر موجود ہوتے ہیں۔

    شُترمُرغ کے 4000 سال قدیم انڈے دریافت


    اگرچہ ماہرین کی ٹیم یہ نہیں بتاسکتی کہ وہاں کیاموجودہےلیکن اس بات کی نشاندہی ضرورکرسکتی ہےکہ وہاں کیاموجودنہیں ہے سائنسدانوں نے اس سیارے میں میتھین کی موٹی تہہ کی موجودگی نہ ہونے کے امکانات ظاہر کیے ہیں۔


    زمین سے 41 نوری سال کے فاصلے پر موجود اس سیارے کا درجہ حرارت زمین کے مقابلے میں کچھ سو ڈگری زیادہ ہے اور یہ اپنے مرکزی ستارے کے گرد دو دن میں چکر مکمل کر لیتا ہے۔


    ایسے ایگزو پلینٹ خلائی دور بینوں سے اب تک چھپے ہوئے تھے لیکن اس کی دریافت کے بعد یہ بات ایک بار پھر ثابت ہوگئی کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی ٹیکنالوجی کتنی جاندار ہے۔

    تین سیکنڈ میں آواز نقل کرنے ولا سوفٹ ویئر


    واشنگٹن میں ناسا ہیڈکوارٹرز کے آسٹروفزکس ڈویژن کے ڈائریکٹر مارک کلیمپِن نے ایک بیان میں کہا کہ زمین کے حجم کے چٹانی سیارے سے ملنے والے ان ابتدائی مشاہداتی نتائج سے مستقبل میں جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے ذریعے چٹانی سیاروں کے ماحول کے مطالعے کے متعدد امکانات کا باب کھلتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ ٹیلی اسکوپ ہمیں ہمارے نظامِ شمسی سے باہر موجود زمین کے جیسے سیاروں کے متعلق نئے فہم سے قریب سے قریب تر لے جارہی ہے، زمین کے سائز کے، چٹانی سیارے کے یہ پہلے مشاہداتی نتائج ویب کے ساتھ چٹانی سیارے کے ماحول کا مطالعہ کرنے کے لیے مستقبل کے بہت سے امکانات کے دروازے کھولتے ہیں ویب ہمیں ہمارے نظام شمسی سے باہر زمین جیسی دنیا کی نئی تفہیم کے قریب اور قریب لا رہا ہے، اور مشن ابھی ابھی شروع ہو رہا ہے۔

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے کائنات کے ابتدائی دور میں بنتے ستاروں کی تصویر جاری کردی

  • ہرفرد موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کی روک تھام کیلئے کردار ادا کرسکتا ہے،بل گیٹس

    مائیکرو سافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے پیشگوئی کی ہے کہ ہر فرد موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کی روک تھام کے لیے کردار ادا کرسکتا ہے-

    باغی ٹی وی : 2015 میں پیرس میں ہونے والے ماحولیاتی معاہدے میں دنیا بھر کے رہنماؤں نے عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے پر اتفاق کیا تھا تاہم اب بل گیٹس نے پیشگوئی کی ہے کہ دنیا درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کے ہدف کو حاصل نہیں کرسکے گی۔

    سمندری سیپی سے تیار ماحول دوست ہیلمٹ


    یہ پیشگوئی بل گیٹس نے سوشل میڈیا سائٹ ریڈیٹ میں بات کرتے ہوئے کی تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس حوالے سے ہونے والے کام میں کافی تیزی آئی ہے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے ناقص کوششوں کی وجہ سے انسانی حالات میں بہتری کے لیے ہونے والی پیشرفت بھی سست رفتار ہوگئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ دنیا کے کچھ حصوں میں 10 فیصد سے زیادہ بچے 5 سال کی عمر سے پہلے ہلاک ہوجاتے ہیں جبکہ 30 فیصد سے زیادہ افراد کو مناسب مقدار میں خوراک دستیاب نہیں تمام تر حالات کے باوجود مجھے اب بھی یقین ہے کہ ہم بھیانک نتائج سے بچ سکتے ہیں-

    خیال رہے کہ بل گیٹس نے ایک جوہری کمپنی ٹیرا پاور کی بنیاد رکھی ہے جبکہ بریک تھرو انرجی نامی کمپنی کے ذریعے موسمیاتی تبدیلیوں کی روک تھام کے لیے متعدد جدید ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کی ہے جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں پر ایک کتاب بھی تحریر کی ہے،علاوہ ازیں بل گیٹس نے مصنوعی گوشت کی تیاری کے لیے بھی متعدد کمپنیوں کو سرمایہ فراہم کیا ہے۔

    واٹس ایپ نےصارفین کی آسانی کیلئےتصاویر اورویڈیوزکا نیافیچرمتعارف کرا دیا

    انہوں نے بتایا کہ مصنوعی گوشت سے تیار ہونے والی مصنوعات کا شیئر تو ابھی نہ ہونے کے برابر ہے مگر یہ گوشت کے متبادل ہونے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی بہتری کے لیے اہم ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی حالات کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ماحول دوست مصنوعات سستی ہوں، یہی واحد راستہ ہے جس سے ہم دنیا بھر کے ممالک سےتبدیلی لانےکا مطالبہ کرسکتے ہیں، اگر ان مصنوعات کی لاگت زیادہ ہوتوہم کامیاب نہیں ہوسکتےہر فرد موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کی روک تھام کے لیے کردار ادا کرسکتا ہے آپ ایک ووٹر، خریدار اور ایک ورکر ہیں، ان تمام کرداروں میں آپ اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں-

    انہوں نے بتایا کہ میرے پاس امریکہ میں 1/4000 سے بھی کم کھیتی ہے۔ میں نے ان فارموں میں سرمایہ کاری کی ہے تاکہ انہیں مزید پیداواری بنایا جا سکے اور مزید ملازمتیں پیدا کی جا سکیں۔ اس میں کوئی بڑی اسکیم شامل نہیں ہے – درحقیقت یہ تمام فیصلے پیشہ ورانہ سرمایہ کاری ٹیم کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔

    جرمنی کا پاکستان کو 2 کروڑ 80 لاکھ یورو کی امداد فراہم کرنے کا اعلان

    بہت امیر لوگوں کو میرے خیال میں انہیں بہت زیادہ ٹیکس ادا کرنا چاہئے اور انہیں وقت کے ساتھ ساتھ اپنی دولت کو چھوڑ دینا چاہئے۔ یہ میرے لیے بہت پورا کرنے والا رہا ہے اور یہ میرا کل وقتی کام ہے مجھے حیرت ہے کہ ٹیکس میں مزید اضافہ نہیں کیا گیا۔ مثال کے طور پر کیپیٹل گین کی شرحیں عام آمدنی کی شرح کے برابر ہوسکتی ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ بہت سارے لوگوں کے لیے چیزیں مشکل ہیں۔

    واضح رہے کہ بل گیٹس سے قبل اکتوبر 2022 میں اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کیجانب سے جاری ایک رپورٹ میں بھی کہا گیا تھا کہ درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کا ہدف حاصل کرنا لگ بھگ ناممکن ہے۔

    واٹس ایپ نے اپنے صارفین کی سہولت کے لیے یا فیچر متعارف کرا دیا

  • شُترمُرغ کے 4000 سال  قدیم انڈے دریافت

    شُترمُرغ کے 4000 سال قدیم انڈے دریافت

    تل ابیب: ماہرین کو 4000 سال سے زائد پُرانا شترمرغ کا انڈہ ملا ہے-

    باغی ٹی وی : اسرائیل کے محکمہ آثار کے مطابق ریگستانی علاقے نگیوو میں ایک مقام پر شترمرغ کے ہزاروں برس قدیم انڈوں کی باقیات ملی ہیں اور اس کے پاس ہی آگ لگانے کے لیے بنایا جانے والا ایک گڑھا بھی ملا ہے۔

    ایمیزون جنگلات کی تباہی سے ہمالیہ اورانٹارکٹک کی برف میں بھی کمی ہوسکتی ہے

    ماہرین کا خیال ہے کہ یہاں انسانوں نے عارضی پڑاؤ کیا تھا جو 200 مربع میٹر وسیع تھا یہاں سے گزرنے والے خانہ بدوشوں نے شترمرغ کے انڈوں کو پکا کر کھایا ہوگا کیونکہ ساتھ ہی آگ سے جھلسے ہوئے چھوٹے بڑے پتھر بھی ملے ہیں علاوہ ازیں شترمرغ کےشکستہ انڈے بھی پائے گئے ہیں جو سب سے اہم دریافت ہے انسانی تاریخ میں شترمرغ کے انڈے کے یہ قدیم ترین آثار ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ یہاں سے کوچ کرنے کے بعد ریگستانی مٹی نے تھوڑے ہی عرصے میں پوری جگہ پرایک دبیز چادر کی شکل اختیار کرلی تھی اور اب ہزاروں سال بعد اسے ماہرین نے دوبارہ دریافت کیا ہے-

    جنوب مغربی امریکہ کی آب و ہوا مسلسل گرم اور خشک،بوٹانیکل گارڈن تتلیوں کے لیےبہترین…

    کھدائی کے ڈائریکٹر لارین ڈیوس نے کہا کہ ماہرین آثار قدیمہ نے پتھر کے اوزار اور مٹی کے برتنوں کے ٹکڑوں کا بھی پتہ لگایا، لیکن یہ کہ انڈے "واقعی خاص تلاش” تھے،19ویں صدی تک اس علاقے میں جنگلی شتر مرغ عام تھے۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ اس خطے میں شترمرغ اسی طرح عام تھے جیسے آج گائے اور دیگر جانور پائے جاتے ہیں انیسویں صدی کے اوائل میں شترمرغ یہاں سے غائب ہوگئے تھے بعض انڈے بہت اچھی حالت میں ہیں جن کا بغورمطالعہ کیا جائے گا۔

    دوسری جانب قدیم انسانی حیات میں شترمرغ اور ان کے انڈوں کی اہمیت بھی سامنے آئی ہے۔ شترمرغ کے ایک انڈے میں مرغی کے 25 انڈوں کے برابر غذائیت ہوتی ہے پھر اس میں زائد سفیدی اور زردی کی وجہ سے لوگ اسے پسند کیا کرتےہوں گے علاوہ ازیں انڈے کے خول کو آرائش اور دیگر امور میں بھی استعمال کیا جاتا تھا۔


    واضح رہے کہ عموماً آثارِ قدیمہ سے انڈے نہیں ملتے اور یوں یہ ایک اہم دریافت ہے۔

    ماہرین فلکیات کا زمین کےمدارمیں گردش کرتےسیٹلائٹس پرگہری تشویش کا اظہار

  • چین: لامحدود وقت تک ہوا میں رہنے والے لیزرڈرون کا تجربہ کامیاب

    چین: لامحدود وقت تک ہوا میں رہنے والے لیزرڈرون کا تجربہ کامیاب

    چینی انجینیئروں نےڈرون ٹیکنالوجی میں ایک حیرت انگیز خاصیت پیدا کی ہے کہ وہ زمین سے پھینکی گئی لیزر سے توانائی بنا کر کئی ہفتے بلکہ کئی ماہ تک زمین پر اترے بغیر ہوا میں سفر کرسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: شمال مغربی چین میں محققین کی ایک ٹیم کا کہنا ہے کہ اس نے ہائی انرجی لیزر بیم استعمال کرنے کا ایک طریقہ تیار کیا ہے، ڈرون کو تباہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ انھیں ہمیشہ کے لیے ہوا میں رکھنے کے لیے۔

    تین سیکنڈ میں آواز نقل کرنے ولا سوفٹ ویئر

    چین سمیت کئی ممالک ڈرون مخالف ہتھیاروں کے طور پر طاقتور لیزر سسٹم تیار کر رہے ہیں۔ لیکن چیان یانگ میں واقع نارتھ ویسٹرن پولی ٹیکنیکل یونیورسٹی (این پی یو) کے پروفیسر لی زیلونگ اور ان کے ساتھیوں نے ڈرون لیزر تعلقات کو دوسرے زاویے سے دیکھا۔

    نارتھ ویسٹرن پولی ٹیکنکل کالج سے وابستہ ماہرین نے ریموٹ چارجنگ پر مبنی ڈرون بنائے ہیں جو لیزر سے چارج ہوتے رہیں گے اور ان میں بیٹری بدلنے یا چارج کرنےکی ضرورت نہیں پڑے گی۔

    اس کے لیے ہر ڈرون کے نیچے فوٹولیکٹرک کنورٹرلگایا گیا ہے جو لیزر کی مدد سے قوت لیں گے اوربےتار انداز میں اپنےاندربجلی بھریں گے۔ تاہم اب بھی اس میں توانائی ضائع ہورہی ہے۔ لیزر سے بجلی بنانے کا عمل 50 سے 85 فیصد تک ہی مؤثر ہوتا ہ یعنی 100 فیصد میں سے اتنے فیصد بجلی ہی بنائی جاسکتی ہے۔ پھر جب یہ لیزر (ڈرون کے) کنورٹرپرپڑتی ہے تو اس میں مزید 50 فیصد کمی ہوسکتی ہے۔

    2022 میں سمندروں نے لگاتار چوتھے سال درجہ حرارت کا ریکارڈ توڑدیا

    تاہم 24 گھنٹے نگرانی کرنے والے ڈرون کے لیے یہ عمل قابلِ قبول ہے ہوسکتا ہے۔ لیزر شعاع کو ٹھیک فوٹوالیکٹرک کنورٹر پر مرکوز رکھنے کے لیے سائنسدانوں نے ’انٹیلی جنٹ وژول ٹریکنگ الگورتھم‘ بنایا ہے جو ہوا، دھند اور دیگر رکاوٹوں کا خیال بھی رکھتا ہے۔ یہ الگورتھم لیزر کو اپنے ہدف تک پھینکتا ہے۔

    نارتھ ویسٹرن پولی ٹیکنکل کالج کے سائنسدانوں نے ایک چھوٹا کواڈکاپٹرآزمایا ہے انہوں نے دن، رات، ایک ہال کے اندر اور کھلی فضا میں لیزر سے ڈرون اڑایا ہے جو لگ بھگ 10 میٹر کی بلندی تک گیا۔ اس پر فرش پر لگے ایک متحرک اسٹیشن سے لیزر ڈالی گئی تھی۔ تاہم ڈیزائن بہتر کرکے ڈرون کو مزید بلندی پر بھی لیزر سے چلایا جاسکتا ہے۔

    چینی سائنسدانوں کے مطابق اس کے عسکری اور شہری دونوں طرح کے لاتعداد استعمالات ہوسکتے ہیں۔

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے کائنات کے ابتدائی دور میں بنتے ستاروں کی تصویر جاری کردی

  • دورانِ حمل خطرناک پیچیدگیوں کی نشاندہی کرنے والا خون کا ٹیسٹ

    دورانِ حمل خطرناک پیچیدگیوں کی نشاندہی کرنے والا خون کا ٹیسٹ

    بیجنگ: ماہرین کے مطابق حمل کی مہلک پیچیدگیوں کے ابتدائی اشاروں کی پیٹ میں ہوتی تبدیلیوں اور ایک خون کے ٹیسٹ کے ذریعے نشاندہی کی جاسکتی ہے۔

    باغی ٹی وی:اسکریننگ ٹیسٹ کا نتیجہ نارمل ہو سکتا ہے اور اس مسئلے سے محروم ہو سکتا ہے جو موجود ہے۔ حمل کے دوران، خواتین کو عموماً یہ اسکریننگ ٹیسٹ پیش کیے جاتے ہیں تاکہ عورت یا اس کے بچے کے لیے پیدائشی نقائص یا دیگر مسائل کی جانچ کی جا سکے۔ قبل از پیدائش کی جانچ کے بارے میں آپ کو جو بھی خدشات ہیں اس کے بارے میں اپنے ڈاکٹر سے بات کریں۔

    یو اے ای کی پہلی چاند گاڑی نےخلا میں ایک ماہ کامیابی سے مکمل کرلیا

    چین کی نِنگبو یونیورسٹی کی جانب سے ایک نیا ٹیسٹ تیار کیا گیا ہے جس کی مدد سے پری ایکلیمپسیا (دورانِ حمل بلند فشار خون ہونا)، جیسٹیشنل ڈائبیٹیز (دورانِ حمل ہونے والی ذیابیطس) اور انٹرا ہیپٹک کولیسٹیسِس (دورانِ حمل ہونے والا جگر کا ممکنہ طورپرمہلک عارضہ) جیسی صورتوں کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔

    نامعلوم وجوہات کے سبب حمل پیٹ کے بیکٹیریا کو متاثر کرتا ہے اور سائنس دانوں نے اس بات کو مزکورہ بالا حمل کی تینوں پیچیدگیوں کی نشاندہی کرنے کے لیے استعمال کیا ہے پری ایکلیمپسیا ہر سال تقریباً سات فی صد حاملہ خواتین کو متاثر کرتی ہے اور رحمِ مادر میں 5 لاکھ سے زائد بچوں کی اموات کا سبب بنتی ہے۔

    جیسٹیشنل ڈائیبیٹیز تقریباً 10 فی صد حاملہ خواتین کو متاثر کرتی ہے اور بچوں کو ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرے سے دوچار کرتی ہے۔ جبکہ انٹرا ہیپٹِک کولیسٹیسِس تقریباً سات فی صد بچوں کی قبل از پیدائش اموات کا سبب بنتی ہے۔

    اگرچہ ان اسباب کے متعلق مکمل معلومات نہیں ہے لیکن مرض کی جلدی تشخیص اور علاج ان تینوں پیچیدگیوں کے زندگی بھر رہنے والے اثرات یا ماں یا بچے کو موت سے بچانے کے لیے اہم ہوسکتے ہیں۔

    تحقیق کے سینئر مصنف ڈاکٹر رونگ رونگ شوان کا کہنا تھا کہ محققین نے دورانِ حمل چھوٹی چین کے فیٹی ایسڈ کی تقسیم اور ان کا تین مخصوص حمل کی پیچیدگیوں کے درمیان تعلق دیکھا اور ان کا تجزیہ کیا۔

    انہوں نے بتایا کہ یہ فیٹی ایسڈ پیٹ میں قدرتی طور پر موجود بیکٹیریا کا ’میٹابولک پروڈکٹ‘ ہوتے ہیں اور ان کو حمل کی پیچیدگیوں کے ممکنہ اشاروں کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

  • تین سیکنڈ میں آواز نقل کرنے ولا سوفٹ ویئر

    تین سیکنڈ میں آواز نقل کرنے ولا سوفٹ ویئر

    مائیکرو سافٹ نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک اے آئی سافٹ ویئر بنایا ہے جو صرف تین سیکنڈ تک کسی کی بھی آواز سن کر اس کی ہوبہو نقل بناتا ہے۔

    باغی ٹی وی: انسانی آواز نقل کرنے والے اس سافٹ ویئر کا نام وال ای، اے آئی رکھا گیا ہے اب یہ ماڈل ٹیکسٹ ٹو اسپیچ ہے یعنی لکھے الفاظ کو آواز میں بدلتا ہے۔

    وائر اور بجلی کے بغیر چلنے والے ٹی وی تیار

    یہ دنیا میں کسی بھی شخص کی آواز کی نقل کرسکتا ہے جس کے لیے اسے تین سیکنڈ کی آڈیو فائل درکار ہوگی۔ تاہم مزید بہتری کے لیے قدرے طویل آڈیو فائل کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ سافٹ ویئر اس حد تک مؤثر ہے کہ یہ آواز کے زیروبم اور آواز کے جذباتی اتارچڑھاؤ کی بھی نقالی کرسکتا ہے۔

    وال ای سے کسی بھی شخصیت سے وہ الفاظ ادا کروائے ہیں جو اس نے کبھی نہیں کہے۔ اس سے جعلی آڈیوز اور فیک ریکارڈنگ کا ایک نیا سیلاب بھی آسکتا ہے اور طرح طرح کےمسائل جنم لےسکتے ہیں۔

    مائیکروسافٹ کےمطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی اس کے الگورتھم کو انگریزی زبان کی 60 ہزار گھنٹوں کی آواز پر تربیت فراہم کی گئی ہے۔ ان میں کہانی سنانے والے اور کتاب پڑھنے والوں کی آواز بھی شامل ہیں۔

    جی میل میں سکیورٹی فیچر کا اضافہ

    تاہم ریکارڈ کی گئی آواز کے نمونے یا واٹس ایپ پیغامات پر اس کا معیار کچھ گرسکتا ہے تاہم اگر کوئی وال ای پر براہِ راست اچھے مائیک سے آواز ریکارڈ کرتا ہے تو سافٹ ویئر کےنتائج حقیقت سے قریب تر ہوتے ہیں۔

    آزاد تجزیہ نگاروں نے کہا ہے کہ مائیکروسافٹ کےدعووں کے برعکس سافٹ ویئر نے بہت واجبی صلاحیت دکھائی۔

    تاہم مائیکروسافٹ نے کہا ہے کہ اس کے کچھ فوائد بھی ہوسکتے ہیں۔ اگر کوئی فنکار فلم کی ڈبنگ درمیان میں چھوڑ کر کہیں اور مصروف ہوجاتا ہے تو اس کی ڈبنگ سافٹ ویئر سے کی جاسکتی ہے اس طرح کےچھوٹے امور وال ای اے آئی اچھی طرح نبھا سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل مائیکرو سافٹ مشہور مصوروں کی پینٹنگ کی نقل کرنے والا ایک اور پروگرام ڈیل ای بنا چکا ہے۔

    ٹک ٹاک کی نئے فیچر کی آزمائس