Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • ایلون مسک نے ٹوئٹر سی ای او کا عہدہ چھوڑنے کیلئے شرط رکھ دی

    ایلون مسک نے ٹوئٹر سی ای او کا عہدہ چھوڑنے کیلئے شرط رکھ دی

    ٹوئٹر کےسربراہ ایلون مسک کا کہنا ہے کہ جیسے ہی کو ئی بیوقوف ملا جو ٹوئٹر کے چیف ایگزیکٹو بننا چاہتا ہو تو عہدہ چھوڑ دوں گا۔

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر کے سی ای او نے گزشتہ دنوں صارفین سے رائے مانگی تھی کہ کیا انہیں ٹوئٹر کی سربراہی چھوڑ دینی چاہیے؟ اس کےساتھ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اس رائے شماری کے نتائج پر عمل کریں گے۔

    گوگل نے ڈاکٹروں کی مشکل رائٹنگ اور نسخہ سمجھنے کیلئےفیچر پر کام شروع کر دیا

    جس کے بعد تقریباً ایک کروڑ سے زیادہ افراد کی جانب سے ٹوئٹر کے سی ای او کے عہدے کو چھوڑنے کے لیے ووٹ دیے گئے اس پول میں 57 فیصد سے زائد افراد نے ان کو ٹوئٹر کے سی ای او کا عہدہ چھوڑنے کا مشورہ دیا تھا جبکہ تقریباً 43 فیصد افراد نے اس کے مخالف ووٹ دیا۔

    پول کے نتائج سامنے آنے پر پہلے ایلون مسک کی جانب سے مکمل خاموشی اختیار کی گئی تاہم اب انہوں نے اس پول کے نتائج پر ردعمل دیا ہے-

    ٹوئٹرمیں بڑی تبدیلی، ڈیوائس لیبل نامی فیچر ختم کردیا گیا

    انہوں نے کہا ہے کہ جیسے ہی مجھے یہ عہدہ قبول کرنے والا کوئی بے وقوف شخص ملا میں سی ای او کے عہدے دے مستعفٰی ہو جاؤں گا۔ اس کے بعد میں صرف سافٹ ویئر اور سرور ٹیمز چلاؤں گا۔
    https://twitter.com/WallStreetSilv/status/1604624058162765824?s=20&t=s67JqhAhoOAx9wJNhqRIuw
    پول کے دوران ایک ٹویٹ میں جب مسک کو کہا گیا کہ انھوں نے پہلے ہی نئے سی ای او کا انتخاب کر لیا ہے تو انھوں نے جواب دیا تھا کہ کسی کو وہ ملازمت نہیں چاہیے جو ٹوئٹر کو زندہ رکھ سکے،کوئی جانشین نہیں ہے-


    ایلون مسک نے اس سے قبل بھی ٹوئٹر پر مختلف معاملات میں پول کروا کر عوامی رائے لی ہے اور وہ ہمیشہ ہی اس پر عمل پیرا رہے ہیں سوال یہ پید اہوتا ہے کہ کیا ایلون مسک واقعی ٹوئٹر کی سربراہی چھوڑ دیں گے؟-

    جی میل میں سکیورٹی فیچر کا اضافہ

  • جی میل میں سکیورٹی فیچر کا اضافہ

    جی میل میں سکیورٹی فیچر کا اضافہ

    گوگل کی جانب سے جی میل کو اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن فیچر متعراف کرانے کی تیای کی جا رہی ہے-

    باغی ٹی وی : گوگل کی جانب سے ایک بلاگ پوسٹ میں بتایا گیا کہ کمپنی کی جانب سے اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کا فیچر جی میل سروس کا حصہ بنایا جارہا ہے یہ کمپنی پہلے ہی گوگل ڈرائیو، ڈاکس، شیٹس، سلائیڈز اور میٹ میں اس فیچر کا اضافہ کرچکی ہے اور اب جی میل کے لیے اسے متعارف کرایا جارہا ہے۔

    کمپنی کے مطابق میں کلائنٹ سائڈ انکرپشن کا استعمال یقینی بناتا ہے کہ ای میل کے باڈی میں موجود حساس ڈیٹا اور منسلکات گوگل کے سرورز کے لیے ناقابل فہم ہیں۔ صارفین ان کیز تک رسائی کے لیے انکرپشن کیز اور شناختی سروس پر کنٹرول برقرار رکھتے ہیں۔

    مگر تمام صارفین کو اس فیچر تک رسائی حاصل نہیں ہوسکے گی کلائنٹ سائیڈ انکرپشن (ای 2 ای ای) نامی اس فیچر کو جی میل کے ویب ورژن میں متعارف کرایا جارہا ہے اور گوگل ورک اسپیس صارفین اس کے ذریعے انکرپٹڈ ای میلز بھیج سکیں گے۔

    ٹوئٹرمیں بڑی تبدیلی، ڈیوائس لیبل نامی فیچر ختم کردیا گیا

    یہ فیچر ان ایبل ہونے کے بعد ای میل میں موجود مواد گوگل سرورز پر ڈی کرپٹڈ نہیں ہوسکے گا گوگل نے سپورٹ ویب سائٹ میں بتایا کہ صارفین اپنی انکرپشن کیز کو استعمال کرکے ڈیٹا کو انکرپٹ کرسکیں گے۔

    مگر جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ یہ فیچر تمام صارفین کے لیے دستیاب نہیں ہوگا بلکہ گوگل ورک اسپیس انٹرپرائز پلس، ایجوکیشن پلس اور ایجوکیشن اسٹینڈرڈ استعمال کرنے والے صارفین اسے استعمال کرسکیں گے۔

    یہ سروسز استعمال کرنے والے صارفین 20 جنوری 2023 تک اس فیچر کے بیٹا ورژن کے لیے اپلائی کرسکتے ہیں۔

    یہ فیچر بائی ڈیفالٹ ان ایبل نہیں ہوگا بلکہ صارف کو خود جاکر ایسا کرنا ہوگا۔

    ملازمت کی جگہ دائمی جوڑوں کی بیماری کے امکانات میں اضافہ کر سکتی ہے،تحقیق

  • گوگل نے ڈاکٹروں کی مشکل رائٹنگ اور نسخہ سمجھنے کیلئےفیچر پر کام شروع کر دیا

    گوگل نے ڈاکٹروں کی مشکل رائٹنگ اور نسخہ سمجھنے کیلئےفیچر پر کام شروع کر دیا

    ڈاکٹروں کی ایک بڑی تعداد جلد بازی میں دواؤں کے نسخے لکھتی ہے، جس سے ان کے مریضوں کے لیے یہ سمجھنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے کہ وہ کیا لکھ رہے ہیں۔ یہ مسئلہ کئی دہائیوں سے چل رہا ہے اور بہت سی ٹیک فرموں نے اسے بہت کم کامیابی کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کی ہے۔

    باغی ٹی وی : اب گوگل ان ناقابل فہم تحریروں کا ترجمہ کرنے میں مصروف ہے۔ سرچ کمپنی نے پیر کو بھارت میں اپنی سالانہ کانفرنس میں اعلان کیا کہ وہ ڈاکٹروں کی لکھائی کو سمجھنے کے طریقے تلاش کرنے کے لیے فارماسسٹ کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

    گوگل کی جانب سے ایونٹ کے دوران اس فیچر کی آزمائش بھی کی گئی جس سے اندازہ ہوا کہ وہ ڈاکٹروں کے تحریر کردہ نسخوں کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    گوگل کے ایک ایگزیکٹو نے بتایا کہ فیچر، فی الحال ایک ریسرچ پروٹو ٹائپ ہے اور ابھی تک عوام کے لیے تیار نہیں، صارفین کو نسخے کی تصویر لینے یا فوٹو لائبریری سے اپ لوڈ کرنا ہو گی ایک بار تصویر پر کارروائی ہونے کے بعد، ایپ نوٹ میں مذکور دوائیوں کا پتہ لگاتی ہے اور ان کو ہائی لائٹ کرتی ہے-

    ایلون مسک دنیا کے امیر ترین شخص کے اعزاز سے محروم ہوگئے

    کمپنی نے ایک بیان میں کہا، "یہ ہاتھ سے لکھی ہوئی طبی دستاویزات کو ڈیجیٹائز کرنے کے لیے ایک معاون ٹیکنالوجی کے طور پر کام کرے گی جس میں انسانوں کو فارماسسٹ کی مدد سے شامل کیا جائے گا، تاہم اس ٹیکنالوجی کے ذریعے فراہم کردہ آؤٹ پٹ کی بنیاد پر کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔”

    لبتہ کمپنی نے یہ نہیں بتایا کہ اس فیچر کو کب تک صارفین کے لیے متعارف کرایا جائے گا گوگل کے مطابق ابھی بھی اس حوالے سے کافی کام ہونا باقی ہے اور اس کے بعد یہ سسٹم حقیقی دنیا کے لیے تیار ہوگا۔

    زمین پر پانی کی پیمائش کیلئےاہم مشن پر روانہ

    خیال رہے کہ گوگل لینس اے آئی ٹیکنالوجی سے لیس ایسا ٹول ہے جو اشیا (مصنوعات، پودوں یا جانوروں) کو شناخت اور زبانوں کے ترجمے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے گوگل لینس ایپ کو ابھی بھی آن لائن تحریروں کو کاپی پیسٹ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

  • ٹوئٹرمیں بڑی تبدیلی، ڈیوائس لیبل نامی فیچر ختم کردیا گیا

    ٹوئٹرمیں بڑی تبدیلی، ڈیوائس لیبل نامی فیچر ختم کردیا گیا

    ایلون مسک نے اس سال اکتوبر میں 44 بلین ڈالر کا معاہدہ مکمل کرنے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم سنبھالنے کے بعد سے مائیکروبلاگنگ سائٹ ٹوئٹر تقریباً ہر روز متعدد تبدیلیوں سے گزر رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : 8 ڈالرز ماہانہ فیس کے عوض بلیو ٹک اور دیگر تبدیلیاں اب تک ٹوئٹر میں کی جاچکی ہیں ،مسک خود انٹرنیٹ صارفین کو ٹویٹر پر کی گئی تبدیلیوں کے بارے میں اپ ڈیٹ کرتے رہتے ہیں۔ اس طرح کی ایک اور پیشرفت میں، انہوں نے بتایا کہ ٹویٹر نے اب ٹوئٹس سے ڈیوائس کا لیبل ہٹا دیا ہے۔

    ایلون مسک نے سی این این، نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کے صحافیوں کے اکاونٹس…

    ٹوئٹر میں اب تک ویب، اینڈرائیڈ یا آئی فون سے ٹوئٹ کیے جانے صارفین کو علم ہوجاتا تھا کہ یہ ٹوئٹ کس ذریعے سے کی گئی مگر اب ٹوئٹر میں ڈیوائس لیبل نامی اس فیچر کو ختم کردیا گیا ہے۔


    ‘پوبٹی’ نامی ایک ٹویٹر ہینڈل نے ایک پوسٹ میں کہا کہ ٹویٹر نے یہ دیکھنے کی صلاحیت کو ہٹا دیا ہے کہ ٹویٹ کس ڈیوائس سے آیا ہے (آئی فون کے لئے ٹویٹر، اینڈرائیڈ کے لئے ٹویٹر) جس پر ایلون مسک نے جواب دیتے ہوئے تصدیق کی۔

    ٹوئٹر میں اب ٹوئٹ کرنے پر دیگر افراد کو علم نہیں ہوسکے گا کہ یہ میسج اینڈرائیڈ، آئی فون یا ویب کہاں سے پوسٹ کیا گیا۔

    خیال رہے کہ یہ فیچر اکثر اینڈرائیڈ فونز بنانے والی کمپنیوں کے لیے شرمندگی کا باعث بن جاتا تھا جو اپنے فون کی تشہیر کے لیے آئی فون سے ٹوئٹ کرتی تھیں۔

    شہری نے ایلون مسک کے بیٹے کی گاڑی کا پیچھا کر کے گاڑی روک لی

    اس سے قبل ایلون مسک نے اعلان کیا تھا کہ ٹوئٹر میں میوٹ اور بلاک سگنلز کو بلیو ویری فائیڈ کے لیے ضم کیا جارہا ہے ایلون مسک کی جانب سے 17 دسمبر کو ان صحافیوں کے اکاؤنٹس بھی بحال کردیا گیا تھا جن کو 16 دسمبر کو معطل کیا گیا تھا۔

    پچھلے ہفتے، مسک نے اپنی ٹویٹر بلیو پریمیم پیشکش کو دوبارہ فروخت کرنا شروع کیا، جو صارفین کو ان کے ناموں سے نیلے رنگ کا تصدیقی بیج فراہم کرتا ہے، ایک ہفتوں کے وقفے کے بعد، کیونکہ کچھ صارفین معروف اکاؤنٹس کی نقالی کرنے کے لیے ادا شدہ سروس کا استعمال کر رہے تھے۔

    ایلون مسک نے صحافیوں کے معطل ٹوئٹر اکاؤنٹس کو بحال کردیا

  • ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نےزندگی کیلئے موافق سیاروں کا ایک جتھہ دریافت کر لیا

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نےزندگی کیلئے موافق سیاروں کا ایک جتھہ دریافت کر لیا

    واشنگٹن: ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے سیاروں کا ایک جتھہ دریافت کیا ہے جو ممکنہ طور پر زندگی کے لیے موافق ہوسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : ماہرینِ فلکیات نے سات سیاروں پر مشتملTRAPPIST-1 نامی ایک نظام کا مشاہدہ کیا ہے جس میں یہ سیارے ایک سورج جیسے ستارے کے گرد گھوم رہے ہیں۔

    قدیم ترین ڈی این اے سے سائنسدانوں نے 20 لاکھ سال پرانی دنیا دریافت کر لی

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے زمین سے 39 نوری سال کے فاصلے پر موجود اس نظام کی نشان دہی کی اور اس کے متعلق اہم تفصلات حاصل کیں۔

    ان تفصیلات میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ سیارے اپنے مرکزی ستارے کے ایک ایسے خطے میں موجود ہیں جو قابلِ سکونت ہے۔ قابلِ سکونت خطہ وہ علاقہ ہوتا ہے جہاں پانی مائع صورت میں موجود رہ سکتا ہے اور ماہرین فلکیات انہیں اس مطالعہ کے لیے سب سے مشہور تجربہ گاہ سمجھتے ہیں کہ نظام شمسی سے باہر کے سیاروں کو زندگی کے لیے کیا موزوں بنا سکتا ہے۔

    یہ ایک ایسی خصوصیت ہوتی ہے جو کسی سیارے پر زندگی کی نشو نما کے لیے انتہائی ضروری ہوتی ہے سائنس دانوں کو امید ہے اس سسٹم سے مستقبل میں کاربن ڈائی آکسائیڈ یا میتھین پر مشتمل دیگر آثار بھی ہاتھ لگیں گے۔

    یو اے ای نے چاند پر لینڈ کرنے والا مشن روانہ کر دیا

    ماہرین کے مطابق یہ ساتوں سیارے اپنے مرکزی ستارے سے اتنے فاصلے پر موجود ہیں جتنا فاصلہ سورج اور نظامِ شمسی کے پہلے سیارے عطارد کے درمیان ہے۔

    اب تک کے نتائج ابتدائی ہیں اور ابھی تک اس بات کی نشاندہی نہیں کرتے ہیں کہ ان سیاروں میں اصل میں کس قسم کے ماحول ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر ان میں کاربن ڈائی آکسائیڈ یا میتھین جیسے دلچسپ مالیکیولز پر مشتمل گھنے ماحول ہیں، تو 10 بلین امریکی ڈالر کی دوربین آنے والے مہینوں اور سالوں میں ان کا پتہ لگانے کے قابل ہو جائے گی۔ کوئی اور رصد گاہ اتنی طاقتور نہیں ہے کہ ان ماحول کو دیکھ سکے۔

    TRAPPIST-1 سیاروں کا نظام، جو 2017 میں تیار کیا گیا تھا، ماہرین فلکیات کو ایک ستارے کے گرد گردش کرنے والی زمین کے سائز کی دنیاؤں کی تشکیل اور ارتقا کو سمجھنے کے متعدد مواقع فراہم کرتا ہے۔ ستارہ نسبتاً ٹھنڈا ہے، اور سات سیارے اس کے قریب مرکری سورج کے مقابلے میں واقع ہیں۔

    شہابی پتھر سے دو نئی معدنیات دریافت

  • زمین پر پانی کی پیمائش کیلئےاہم مشن پر روانہ

    زمین پر پانی کی پیمائش کیلئےاہم مشن پر روانہ

    امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا اور فرانس کی خلائی ایجنسی کی جانب سے مشترکہ سیٹلائٹ کو ایک نیا مشن دیکر خلا میں بھیجا گیا ہے جس کا مقصد زمین کے اس حصے کی پیمائش کرنا ہے جہاں سب سے زیادہ پانی موجود ہے۔

    باغی ٹی وی : ناسا اور فرانسیسی خلائی ایجنسی سینٹر National d’Études Spatiales (CNES) کے لیے بنایا گیا ایک سیٹلائٹ ہمارے سیارے کی سطح پر موجود تقریباً تمام پانی کا مشاہدہ کرنے کے لیے جمعے کو PST کی صبح 3:46 بجے زمین کے نچلے مدار کی طرف روانہ ہواسرفیس واٹر اینڈ اوشین ٹوپوگرافی (SWOT) خلائی جہاز میں کینیڈین اسپیس ایجنسی (CSA) اور یو کے اسپیس ایجنسی کے تعاون بھی ہیں۔

    جوہری فیوژن توانائی کے حصول میں انتہائی اہم پیشرفت

    بین الاقوامی سطحی پانی اور سمندری ٹوپوگرافی (ایس ڈبلیو او ٹی) کے عنوان سے سیٹلائٹ کو ایک ایسا مشن سونپا گیا ہے جو پہلی بار زمین پر سمندروں، جھیلوں، دریاؤں اور ندیوں کے پانی کی پیمائش کرے گا۔

    اس یشن کے لیے امریکی ریاست کیلیفورنیا کےاسپیس ایکس سے فیلکن 9 راکٹ نے آڑان بھری تھی جس کے پہلے مرحلے میں راکٹ دوبارہ سے زمین پر کامیابی سے لینڈ بھی ہوا سیٹلائٹ دنیا کی 90 فیصد سے زیادہ سطح پر پانی کا سروے کرے گا اور میٹھے پانی کے ساتھ ساتھ سمندروں میں موجود پانی کی پیمائش بھی کرے گا۔

    یو اے ای نے چاند پر لینڈ کرنے والا مشن روانہ کر دیا

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ایس ڈبلیو او ٹی کی پیمائش سے حاصل ہونے والی معلومات یہ ظاہر کرے گی کہ سمندر کس طرح موسمیاتی تبدیلی پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ساتھ ہی گلوبل وارمنگ جھیلوں، دریاؤں اور آبی ذخائر کو کیسے متاثر کرتی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق سیٹلائٹ کی مدد سے حاصل ڈیٹا معاشرے کو سیلاب اور پانی سے متعلق دیگر آفات کے لیے بہتر تیاری کرنے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔

    سیٹلائٹ کے اس ڈیٹا سے سائنسدانوں کو یہ پتا چلانے میں آسانی ہوگی کہ کیسے زمین کی سطح اور سمندروں کے بڑھتے درجہ حرارت میں تبادلہ ہوتا ہے اور یہ گلوبل وارمنگ کو کیسے تیز کرتے ہیں۔

    جنوب مغربی امریکہ کی آب و ہوا مسلسل گرم اور خشک،بوٹانیکل گارڈن تتلیوں کے لیےبہترین جائے 

  • ایلون مسک دنیا کے امیر ترین شخص کے اعزاز سے محروم ہوگئے

    ایلون مسک دنیا کے امیر ترین شخص کے اعزاز سے محروم ہوگئے

    ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک دنیا کے امیر ترین شخص کے اعزاز سے محروم ہوگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : 2021 سے ایلون مسک دنیا کے امیر ترین شخص قرار دیئے جارہے تھے اور یہ اعزاز انہوں نے ایمازون کے بانی جیف بیزوس سے لیا تھا تاہم اب فوربز اور بلومبرگ دونوں کی امیر ترین افراد کی رئیل ٹائم فہرست میں ایلون مسک کی جگہ فرانس سے تعلق رکھنے والے برنارڈ آرنلٹ کو دنیا کا امیر ترین شخص قرار دیا گیا ہے برنارڈ آرنلٹ کے اثاثوں میں حالیہ مہینوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، وہ اکتوبر میں 137 ارب ڈالرز کے مالک تھے۔

    جوہری فیوژن توانائی کے حصول میں انتہائی اہم پیشرفت

    فوربز کی فہرست میں پرتعیش اشیا بنانے والی کمپنی ایل وی ایم ایچ کے سی ای او برنارڈ آرنلٹ نے پہلے 7 دسمبر اور پھر 8 دسمبر کو کچھ گھنٹوں کے لیے ایلون مسک کو پیچھے چھوڑا تھا مگر ٹیسلا کے بانی دوبارہ دنیا کے امیر ترین شخص بن گئے تھے۔

    فوربز کی رئیل ٹائم بلین ائیر لسٹ کے مطابق اس وقت 73 سالہ برنارڈ آرنلٹ 188.6 ارب ڈالرز کے ساتھ دنیا کے امیر ترین شخص ہیں اس کے مقابلے میں ایلون مسک اس وقت 176.8 ارب ڈالرز کے مالک ہیں۔

    اسی طرح بلومبرگ کی بلین ائیر لسٹ کے مطابق برنارڈ آرنلٹ 171 ارب ڈالرز کے ساتھ دنیا کے امیر ترین شخص ہیں جبکہ ایلون مسک 164 ارب ڈالرز کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں تیسرے نمبر پر بھارتی بزنشس مین گوتم ایڈنی چوتھت نمبر پر ایمازون کے بانی جیف بیزوس اور لسٹ میں پانچویں نمبر پر بل گیٹس ہیں-

    انگلینڈ کے سابق آل راؤنڈر اینڈریو فلنٹوف کار حادثے میں زخمی

    ایلون مسک ستمبر 2021 سے فوربز جبکہ جنوری 2021 سے بلومبرگ کی فہرست میں دنیا کے امیر ترین شخص کا اعزاز اپنے نام کیے ہوئے تھے نومبر 2021 میں ایلون مسک کے اثاثے 340 ارب ڈالرز تک پہنچ گئے تھے مگر ایک سال سے زائد عرصے کے دوران ان کی دولت میں 58 فیصد تک کمی آئی ہے۔

    ایلون مسک کی دولت میں 2022 کے دوران 100 ارب ڈالرز سے زیادہ کی کمی آچکی ہے جس کی وجہ ٹیسلا کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں کمی آنا ہے اسی طرح ٹوئٹر کی 44 ارب ڈالرز سے خریداری سے بھی ان کے اثاثوں میں کمی آئی۔

    سعودی عرب اور برطانیہ کے درمیان فوجی تعاون کے معاہدے پر دستخط:ایران کوسخت تشویش

  • جوہری فیوژن توانائی کے حصول میں انتہائی اہم پیشرفت

    جوہری فیوژن توانائی کے حصول میں انتہائی اہم پیشرفت

    کیلیفورنیا: امریکا کے حکومتی سائنسدانوں نے فیوژن توانائی کے حصول میں ایک انتہائی اہم کامیابی حاصل کی ہے۔

    باغی ٹی وی : جوہری توانائی کے حصول میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، نئی تحقیق کےمطابق جوہری فیوژن (ایسا عمل جس میں ٹھوس مادہ تبدیل ہو کر مائع بن جاتا ہے) تقریباً لامحدود توانائی کے حصول کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

    ایس ایم ایس کی سہولت کے 30 برس مکمل ہو گئے

    واضح رہے کہ ہمارا سورج نیوکلیائی فیوژن (عملِ گداخت) کے ذریعے توانائی پیدا کرتا ہے جس میں ہائیڈروجن ایٹم باہم مل کر ہیلیئم بناتے ہیں۔ اس عمل میں غیرمعمولی توانائی حاصل ہوتی ہے۔

    امریکی ریاست کیلیفورنیا میں قائم لارنس لِیورمور نیشنل لیبارٹری کے سائنس دانوں نے حال ہی میں پہلی بار ایک فیوژن ری ایکشن میں اضافی توانائی کی پیداوار حاصل کی ہے جو خرچ کی جانے والی توانائی سے زیادہ ہے۔

    لارنس لیورمور نیشنل لیبارٹری میں واقع نیشنل اگنیشن فیسلٹی (این آئی ایف) نے لیزر استعمال کرتے ہوئے پہلے 2.1 ملین جول توانائی خرچ کی اور اس سے 2.5 ملین جول توانائی حاصل کی۔

    تحقیق میں شامل ماہرین نے جوہری فیوژن کے تجربے کو کاربن سے پاک توانائی کے حصول میں اہم کامیابی قرار دیا ہے۔

    ناسا نے چاند کی ایک نئی تصویر جاری کر دی

    کیلی فورنیا یونیورسٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ انہوں نے تقریباً لامحدود،محفوظ اور صاف توانائی کےذریعے کو دریافت کرنے میں پیش رفت کی ہے اس میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر مضر گیسیں خارج نہیں ہوتیں جبکہ پیٹرول، کوئلے اور دیگر ذرائع کی توانائی سے مضر گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ہوتا ہے جس سے ہمارے موسمیاتی توازن اور ماحول پر شدید منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

    لیبارٹری تجربے میں اگنیشن(ignition) نامی جوہری فیوژن کے رد عمل سے زیادہ توانائی حاصل ہوئی، جوہری فیوژن میں ہائیڈ روجن جیسے ہلکے عناصر کو ایک ساتھ توڑنے کے عمل سے توانائی کا بہت بڑا اخراج ہوتا ہے۔

    اگرچہ روایتی بجلی گھروں کی طرح فیوژن پاور اسٹیشن کی منزل ابھی بہت دور ہے لیکن دنیا میں رکازی (فاسل) ایندھن سے اجتناب اور صاف توانائی کے حصول میں اسے ایک اہم پیشرفت قرار دیا جارہا ہے۔

    واضح رہے کہ جوہری فیوژن پر تحقیق کا آغاز 1950 سے ہوا،محققین مثبت توانائی حاصل کرنے کا مظاہرہ کرنے سے اب تک قاصر رہے ہیں۔

    آرٹیمس مشن 21 نومبر کو چاند کے مدار میں داخل ہوجائے گا،ناسا

  • جنوب مغربی امریکہ کی آب و ہوا مسلسل گرم اور خشک،بوٹانیکل گارڈن تتلیوں کے لیےبہترین جائے پناہ

    جنوب مغربی امریکہ کی آب و ہوا مسلسل گرم اور خشک،بوٹانیکل گارڈن تتلیوں کے لیےبہترین جائے پناہ

    مختلف پھولوں، پودوں اور نباتات سے بھرے بوٹانیکل گارڈن (نباتاتی باغ) بڑے پارک کے مقابلے میں تتلیوں کے لیے ایک بہترین جائے پناہ اور گھر ثابت ہوتے ہیں کیونکہ جنوب مغربی امریکہ کی آب و ہوا مسلسل گرم اور خشک ہوتی جا رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : اس ضمن میں مسلسل 20 برس تک 10 ہزار سے زائد نباتاتی باغوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ تتلیوں کے لیے نباتاتی باغ زیادہ اہم ہوتے ہیں یا پھر شہروں کے عام باغات زیادہ موزوں ہوتے ہیں۔

    برطانیہ میں شدید برفباری سے مواصلات کا نظام بری طرح متاثر ،ڈیڑھ سو پروازیں منسوخ

    انسیکٹس نامی جرنل میں شائع رپورٹ کے مطابق امریکا کے کئی پرہجوم شہروں مثلاً ٹکسن، فینکس، پام ڈیزرٹ، کیلیفورنیا، نیو میکسکو، ایل پاسو اور ٹیکساس وغیرہ میں مصرف عمارتوں کے درمیان میں موجود بوٹانیکل گارڈن میں تتلیوں کی اقسام اور تعداد کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان میں سے پام ڈیزرٹ کو چھوڑ کر باقی تمام شہروں میں سالانہ 11 انچ بارش ہی ہوتی ہے۔

    اگرچہ عام باغ اور پارک کے مقابلے میں بوٹانیکل گارڈن بہت چھوٹے ہوتے ہیں لیکن ان میں دیگر کے مقابلے میں تتلیوں اور ان کی اقسام قدرے زیادہ دیکھی گئی ہیں۔ یعنی نباتاتی باغات میں اگر تتلیوں کا تنوع دیکھا جائے تو وہ 86 فیصد تک ہوسکتا ہے۔

    بچوں کی جھیل میں ڈوب کر ہلاکت کی خبرنے براہ راست نشریات کے دوران میزبان کو جذباتی کردیا

    پوری دنیا میں تتلیوں اور شہد کی مکھیوں کی آبادی تیزی سے کم ہورہی ہے جس پر ماہرین پریشان ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پوری دنیا میں ہر سال ڈیڑھ فیصد تتلیاں ختم ہورہی ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ کمی مونارک تتلیوں میں ہوئی ہیں جس کی عالمی تعداد 90 فیصد تک کم ہوئی ہے۔ اس کیفیت میں شہروں کے نباتاتی باغ ان کے لیے بہترین جائے پناہ بن سکتے ہیں جہاں وہ پھلتی پھولتی ہیں۔

    یہی وجہ ہے کہ ماہرین نے انہیں تتلیوں کی سبز جائے پناہ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب نباتاتی باغ معدومیت کے شکار پودوں اور درختوں کو بچانے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ آب و ہوا میں تبدیلی، فضائی آلودگی اور قدرتی پناہ گاہوں کے خاتمے سے تتلیوں کی بقا کو شدید خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔

    آئی ایل ٹی ٹونٹی کا آفیشل ترانہ ” ہلہ ہلہ “ ریلیز

  • ملازمت کی جگہ دائمی جوڑوں کی بیماری کے امکانات میں اضافہ کر سکتی ہے،تحقیق

    ملازمت کی جگہ دائمی جوڑوں کی بیماری کے امکانات میں اضافہ کر سکتی ہے،تحقیق

    لندن: ماہرین نے ایک نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ جس جگہ آپ نوکری کرتے ہیں وہاں کی ہوا آپ کو رہیومیٹائڈ آرتھرائیٹس میں مبتلا ہونے کے امکانات میں اضافہ کر سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی : اینلز آف دی رہیومیٹکس ڈیزیز نامی ایک جرنل میں حال ہی میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ملازمت کی جگہ زہریلے بخارات، گیسز اور محلول کے دھوئیں یا غبار میں سانس لینا لوگوں میں دائمی آٹو امیون جوڑوں کی بیماری کے امکانات بڑھا سکتا ہے۔

    تحقیق کے لیے محققین نے 4000 افراد سے زائد افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا جو ایک سوئڈش مطالعے کے لیے اکٹھا کیا گیا تھا۔ ان تمام افراد میں 1996 سے 2017 کے درمیان تازہ تازہ اس بیماری کی تشخیص ہوئی تھی۔

    ٹیم نے ان تمام افراد کی نوکریوں کے متعلق چھان بین کی تاکہ یہ اندازہ لگا سکیں ان کی نوکریوں کی جگہ پر 32 ایجنٹس کے بخارات میں سے کونسا موجود تھا۔

    تحقیق سے معلوم ہوا کہ دھوئیں اور گرد و غبار میں سانس لینے کا تعلق اس بیماری کے خطرات میں اضافے سے تھا۔ مزید یہ کہ سیگریٹ نوشی یا جینیاتی عوامل کے سبب لاحق خطرات میں بھی یہ چیز اضافہ کرتی ہے۔

    پوری نیند خواتین کو عملی زندگی میں کامیاب بنا سکتی ہے. تحقیق

    محققین کا کہنا تھا کہ 32 میں سے 17 ایجنٹس، جن میں ایسبیسٹوس، کوارٹز، ڈیزل کا دھواں، پیٹرول کا دھواں، کاربن مونو آکسائیڈ اور فنگیسائڈز شامل ہیں، کا تعلق اے سی پی اے مثبت رہیومیٹائڈ آرتھررائٹس سے تعلق تھا۔

    تحقیق میں محققین نے دیکھا کہ ملازمت کی جگہ پر موجود اس قسم کے کسی آلودگی میں سانس لینے کا تعلق رہیومیٹائڈ آرٹھرائٹس کی ایک قسم میں مبتلا ہونے کے امکانات میں 25 فی صد اضافے سے ہے جو اینٹی سیٹریولینیٹڈ پروٹین اینٹی باڈیز(اے سی پی اے) کی موجودگی میں مزید بد تر ہوجاتی ہے مردوں میں اس بیماری کے خطرات میں 40 فی صد تک اضافہ دیکھا گیا۔

    محققین کا کہنا تھا کہ اے سی پی اے مثبت رہیومیٹائڈ آرتھررائٹس میں مبتلا افراد کو بدتر طبی صورتحال کا سامنا ہوتا ہے اور وقت کے ساتھ ان کے جوڑ بہت خرابی سے گزرتے ہیں۔

    حاملہ خواتین کو سموگ سیزن میں خصوصی احتیاط کی ضرورت

    رہیومیٹائڈ آرتھرائیٹس ایک دائمی آٹو امیون بیماری ہوتی ہے جس کی وجہ سے جوڑوں میں سوزش اور تکلیف ہو جاتی ہے۔ آٹو امیون بیماریاں وہ بیماریاں ہوتی ہیں جس میں جسم کا قدرتی نظام صحت مند اور متاثر خلیوں کو بلا امتیاز ختم کرنا شروع ہو جاتا ہے۔