Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • یو اے ای نے چاند پر لینڈ کرنے والا مشن روانہ کر دیا

    یو اے ای نے چاند پر لینڈ کرنے والا مشن روانہ کر دیا

    یو اے ای کا چاند کی سطح پر اترنے والا روور راشد اسپیس ایکس کے راکٹ کے ذریعے امریکی ریاست فلوریڈا کے لانچ سینٹر سے خلائی سفر پر روانہ کیا گیا۔

    باغی ٹی وی : سی این این کے مطابق اسپیس ایکس فالکن 9 راکٹ 11 دسمبر کو فلوریڈا کے کیپ کیناورل اسپیس فورس اسٹیشن سے لانچ کیا گیا، جو عربوں کے بنائے ہوئے پہلے قمری خلائی جہاز کو خلا میں لے گیا۔

    راشد روور کو دبئی کے محمد بن راشد اسپیس سینٹر (MBRSC) نے متحدہ عرب امارات (UAE) میں بنایا تھا، اور اسے HAKUTO-R لینڈر کے ذریعے پہنچایا جا رہا ہے، جسے جاپانی قمری تلاش کرنے والی کمپنی ispace نے انجنیئر کیا ہے۔ اگر لینڈنگ کامیاب ہو جاتی ہے، تو HAKUTO-R چاند پر کنٹرول لینڈنگ کرنے والا پہلا تجارتی خلائی جہاز بھی بن جائے گا۔

    یہ مشن چاند تک کم توانائی کا راستہ اختیار کر رہا ہے اور اپریل 2023 کے آس پاس پہنچنا ہے وہاں پہنچنے کے بعد، روور اپنے اہم کاموں کو انجام دیتے ہوئےسطح پر ایک قمری دن (زمین پر 14.75 دنوں کے برابر) گزارے گایہ دوسرا قمری دن ثانوی آپریشنز کرنے میں گزارے گا، یہ جانچنے کے لیے کہ آیا روور چاند کے رات کے سخت ماحول سے بچ سکے گا، اس سے پہلے کہ وہ ختم ہو جائے۔

    اس راکٹ میں روور کے ساتھ ساتھ ایک جاپانی کمپنی آئی اسپیس کا لینڈر بھی موجود ہے جو چاند کی سطح سے گرد کو اکٹھا کرکے امریکی خلائی ادارے ناسا کو فروخت کرے گا اس طرح یہ پہلی بار ہوگا جب چاند کو کاروباری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

    لانچ کے 35 منٹ بعد آئی اسپیس لینڈر راکٹ سے الگ ہوگیا جس کے اوپر یو اے ای کا روور بھی موجود تھا لینڈر کے الگ ہونے کے بعد اسپیس ایکس کا فالکن 9 راکٹ کامیابی سے واپس زمین پر لینڈ کرگیا۔

    یو اے ای اس سے قبل مریخ پر مشن کو کامیابی سے بھیج چکا ہے مگر پہلی بار وہ چاند کی سطح پر روور کو اتارنا چاہتا ہے اس روور کا وزن 10 کلوگرام ہے اور اگر یہ کامیابی سے چاند کی سطح پر اتر جاتا ہے تو یہ پہلی بار ہوگا کہ کسی مسلم ملک کا مشن وہاں پہنچنے میں کامیاب ہوگا۔

    اس روور میں 2 ہائی ریزولوشن کیمرے، مائیکرو اسکوپک کیمرے، تھرمل امیج کیمرے اور دیگر ڈیوائسز نصب ہیں اور اس کی مدد سے چاند کی سطح پر تحقیق کی جائے گی ویسے تو لانچ کامیاب رہا ہے مگر چاند پر اترنا بھی آسان نہیں کیونکہ ایسے ایک تہائی سے زیادہ مشنز ناکام رہتے ہیں۔

    اب تک صرف امریکا، چین اور روس کے مشن ہی چاند پر لینڈ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، مگر جاپان اور یو اے ای کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہونے والا ہے۔

    حالیہ برسوں میں بھارت اور اسرائیل کے چاند پر بھیجے جانے والے مشنز کو ناکامی کا سامنا ہوا تھا یہ لینڈر اور روور 5 ماہ میں چاند کی سطح پر پہنچیں گے چاند پر کوئی آب و ہوا نہیں تو لینڈرز کو اترنے کے لیے پیچیدہ طریقہ کار پر عمل کرنا ہوتا ہے۔


    یو اے ای کے نائب صدر اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ راشد روور یو اے ای کے خلائی پروگرام کا حصہ ہے جس کا آغاز مریخ پر پہنچنے سے ہوا۔

  • آلو اور ٹماٹر سمیت دیگر سبزیاں اور قدرتی جڑی بوٹیاں کینسر کا علاج کر سکتی ہیں

    آلو اور ٹماٹر سمیت دیگر سبزیاں اور قدرتی جڑی بوٹیاں کینسر کا علاج کر سکتی ہیں

    ماہرین نے ایک تحقیق میں بتایا ہے کہ آلو اور ٹماٹر سمیت دیگر سبزیوں اور قدرتی جڑی بوٹیوں اور پودوں میں پائے جانے والے خصوصی اجزا کینسر کے علاج میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں ۔

    باغی ٹی وی : طبی جریدے فرنٹیئرز ان فارماکولوجی میں شائع تحقیق کے مطابق پولینڈ اور برطانیہ کے ماہرین نے مختلف تحقیقات کا جائزہ لیا، جن سے یہ دریافت ہوا کہ آلو اور ٹماٹر سمیت مختلف سبزیوں اور پودوں میں پائے جانے والے گلائیکول کلوئیڈز اجزا کینسر کے علاج میں مدد گار ثابت ہوسکتے ہیں۔

    گلائیکول کلوئیڈز دراصل نائٹروجن اورمختلف کیمیکلزکا ایک گروہ ہےجو کہ سبزیوں، پودوں اور جڑی بوٹیوں میں پائے جاتے ہیں گلائیکول کلوئیڈز عام طور پر پانچ مختلف کیمیکل کا گروپ ہوتا ہے،جن میں سولانائن، چاکونین، سولاسونین، سولا مارگین اور ٹماٹین شامل ہیں یہ اجزا عام طور پر ٹماٹر، آلو، بینگن اور کالی مرچوں میں پائے جاتے ہیں، تاہم یہ اجزا مختلف جڑی بوٹیوں اور پودوں میں بھی ہوتے ہیں۔

    ماہرین نے ان ہی اجزا کا کینسر کے علاج اور مرض پر اثر دیکھنے کے لیے تحقیق کی، جس سے معلوم ہوا کہ یہ اجزا موذی مرض کے علاج کے دوران فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔

    تحقیق میں بتایا گیا کہ گلائیکول کلوئیڈز پر مبنی پانچوں اجزا کینسر کے مریض کو کیمو تھراپی کے دوران فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق یہ اجزا صرف کینسر کے سیلز کو نشانہ بناتے ہیں، تاہم یہ صحت مند سیلز کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتے جبکہ کیمو تھراپی کے دوران دوا کینسر کے سیلز سمیت صحت مند سیلز کو بھی نشانہ بناتی ہے، جس کی وجہ سے مریض کمزور پڑ جاتا ہے۔

    اس بات پر ابھی تحقیق ہونا باقی ہے کہ مذکورہ ’گلائیکول کلوئیڈز‘ (glycoalkaloids) اجزا کو کس طرح استعمال کرنے سے کینسر کے علاج فائدہ ہو سکتا ہے تحقیق میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ’گلائیکول کلوئیڈز‘ (glycoalkaloids) براہ راست کینسر کا علاج کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں یا نہیں؟

  • قدیم ترین ڈی این اے سے سائنسدانوں نے 20 لاکھ سال پرانی دنیا دریافت کر لی

    قدیم ترین ڈی این اے سے سائنسدانوں نے 20 لاکھ سال پرانی دنیا دریافت کر لی

    سائنسدانوں نے شمالی گرین لینڈ کے منجمد صحرا سے 20 لاکھ سال پرانا جینیاتی مواد (ڈی این اے) دریافت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : جرنل نیچر میں شائع ہونے والی اس دریافت سے انکشاف ہوتا ہے کہ یہ خطہ لاکھوں سال قبل ہاتھی، قطبی ہرن اور خرگوش سمیت دیگر جانوروں کا گھر تھا یہ خطہ کسی زمانے میں جنگل سے ڈھکا ہوا تھا مگر آج یہاں سبزہ نظر ہی نہیں آتا آج، یہ ایک بنجر آرکٹک ریگستان ہے، لیکن اس وقت یہ درختوں اور پودوں کا ایک سرسبز منظر تھا-

    ایلون مسک نے ٹوئٹر سرچ کو ٹھیک کرنے کیلئے آئی فون ہیکر کی خدمات حاصل کرلیں

    محققین نے بتایا کہ انہوں نے شمالی گرین لینڈ کے ساحلی علاقے Kap Kobenhavn سے حاصل کیے گئے 41 نمونوں میں دنیا کے قدیم ترین جینیاتی مواد کو دریافت کیا نمونے نامیاتی مرکبات سے بھرپور تھے ان کا کہنا تھا کہ ڈی این اے نمونوں سے عندیہ ملتا ہے کہ یہاں متعدد جاندار، پودے اور جرثومے پائے جاتے تھے۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ یہ پہلی بار ہے جب ہم 20 لاکھ سال پرانے ڈی این اے کو دیکھ رہے ہیں جس سے زمانہ قدیم میں گم ہوجانے والی دنیا کا علم ہوتا ہےتحقیق کے دوران جینیاتی مواد سے اس خطے میں کم از کم 102 جانداروں کی موجودگی کے بارے میں علم ہوا۔

    کوپن ہیگن یونیورسٹی کے ماہر ارضیات اور گلیشیئر کے ماہر کرٹ کجر نے کہا کہ "مطالعہ ایک ایسے ماضی کا دروازہ کھولتا ہے جو بنیادی طور پر کھو چکا ہے۔

    روسی زبان بولنے والے ہیکرز کی خلیجی خطوں اور سعودی عرب میں ہیکنگ کی کارروائیاں تیز

    محققین نے مٹی کے نمونوں سے ماحولیاتی ڈی این اے، جسے ای ڈی این اے بھی کہا جاتا ہے، نکالا یہ وہ جینیاتی مواد ہے جسے جاندار اپنے گردونواح میں بہاتے ہیں – مثال کے طور پر، بال، فضلہ، تھوکنے یا گلنے والی لاشوں کے ذریعے۔

    واقعی پرانے ڈی این اے کا مطالعہ کرنا ایک چیلنج ہو سکتا ہے کیونکہ جینیاتی مواد وقت کے ساتھ ساتھ ٹوٹ جاتا ہے اور سائنسدانوں کو صرف چھوٹے چھوٹے ٹکڑے رہ جاتے ہیں۔

    لیکن جدید ترین ٹکنالوجی کے ساتھ، محققین ڈی این اے کے چھوٹے، تباہ شدہ بٹس سے جینیاتی معلومات حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے، کیمبرج یونیورسٹی کے ایک ماہر جینیاتی ماہر ایسکے ولرسلیو نے وضاحت کی۔

    نیچر جریدے میں بدھ کو شائع ہونے والی اپنی تحقیق میں، انہوں نے ڈی این اے کا موازنہ مختلف پرجاتیوں کے ڈی این اے سے کیا، جو مماثلت کی تلاش میں تھے۔

    ناسا نے چاند کی ایک نئی تصویر جاری کر دی

    اس سے قبل ماہرین نے 2006 میں نمونے جمع کرکے ڈی این اے ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی مگر اس وقت انہیں ناکامی کا سامنا ہوا تھا۔

    مگر اس کے بعد سے لاکھوں سال پرانے ڈی این اے کو دریافت کرنے کی ٹیکنالوجی بہتر ہوئی اور سائنسدان 16 سال کی کوششوں کے بعد یہ دریافت کرنے میں کامیاب ہوئے۔

  • واٹس ایپ نے صارفین کیلئے نیا فیچر متعارف کرا دیا

    واٹس ایپ نے صارفین کیلئے نیا فیچر متعارف کرا دیا

    دنیا بھر میں مقبول ایپلیکیشن واٹس ایپ نے صارفین کے لیے ایک نیا فیچر متعارف کرا دیا ہے-

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ صارفین اب اپنے تھری ڈی اواتار بناسکیں گے یہ فیچر پہلے ہی میٹا کی دیگر ایپس فیس بک، انسٹاگرام اور میسنجر میں دستیاب تھا اور اب اسے واٹس ایپ میں متعارف کرایا جارہا ہے۔

    ایس ایم ایس کی سہولت کے 30 برس مکمل ہو گئے

    واٹس ایپ نے ایک بلاگ پوسٹ میں بتایا کہ ان تھری ڈی اواتار کو پروفائل فوٹو کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکے گا اسی طرح صارفین کے اواتار کے مطابق 36 کاسٹیوم اسٹیکرز بھی دستیاب ہوں گے جن کو وہ اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کرسکیں گے۔

    فیچر کو صارفین کے لیے متعارف کرانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہےآئی او ایس اور اینڈرائیڈ صارفین کو بتدریج یہ فیچر دستیاب ہوگا۔

    ایلون مسک نے ٹوئٹر سرچ کو ٹھیک کرنے کیلئے آئی فون ہیکر کی خدمات حاصل کرلیں

    اس فیچر کے استعمال کیلئے فون میں واٹس ایپ کو اوپن کرکے تھری ڈاٹ مینیو سے سیٹنگز میں جائیں تو وہاں Avatars کا سیکشن آپ کو نظر آئے گا (اگر فیچر آپ تک پہنچ گیا ہو تو) اس سیکشن پر کلک کرے آپ اپنی پسند کے تھری ڈی اواتار کو تیار کرسکتے ہیں۔

    اسی طرح آئی او ایس یا اینڈرائیڈ پر کسی چیٹ باکس میں اسٹیکر کے آپشن پر جاکر اس اواتار کے اسٹیکرز دوستوں کو بھیج سکتے ہیں۔

    گوگل نے رواں سال سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی اشیا کی فہرست جاری کردی

  • اگر امریکی کانگریس نے میڈیا بل منظور کیا تو فیس بک سے خبریں ہٹا دیں گے،میٹا

    اگر امریکی کانگریس نے میڈیا بل منظور کیا تو فیس بک سے خبریں ہٹا دیں گے،میٹا

    میٹا نے انتباہ کیا ہے کہ اگر امریکی کانگریس میں ایک مجوزہ بل کی منظوری دی گئی تو فیس بک پر خبروں سے متعلق تمام مواد ہٹا دیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے اس بل میں میڈیا اداروں کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں جیسے گوگل اور فیس بک سے مالی معاملات پر مذاکرات کو آسان بنایا جائے گا۔

    اس معاملے پر بریفنگ دینے والے ذرائع نے بتایا کہ قانون ساز صحافیوں کے مقابلہ اور تحفظ کے ایکٹ کو سالانہ دفاعی بل میں شامل کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ مقامی نیوز انڈسٹری کی جدوجہد میں مدد مل سکے۔

    امریکی ایوان نمائندگان کے اراکین کی جانب سےصحافیوں کےمقابلہ اورتحفظ کےایکٹ ( Journalism Competition and Preservation Act) کو سالانہ دفاعی بل کا حصہ بنانے پر غور کیا جارہا ہے تاکہ مقامی میڈیا انڈسٹری کو مدد فراہم کی جاسکے۔


    میٹا کے ترجمان نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ اگر یہ قانون منظور ہوا تو کمپنی کی جانب سے خبروں کو ہٹانے پر غور کیا جائے گا ہم میڈیا اداروں کو ٹریفک اور سبسکرپشنز بڑھانے میں مدد فراہم کرتے ہیں –

    انہوں نے مزید کہا کہ تجویز یہ تسلیم کرنے میں ناکام ہے کہ پبلشرز اور براڈکاسٹرز پلیٹ فارم پر مواد ڈالتے ہیں کیونکہ "اس سے ان کی نچلی لائن کو فائدہ ہوتا ہے –

    نیوز میڈیا الائنس، ایک تجارتی گروپ جو اخبارات کے پبلشرز کی نمائندگی کرتا ہے، کانگریس پر زور دے رہا ہے کہ وہ اس بل کو دفاعی بل میں شامل کرے، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ مقامی کاغذات بگ ٹیک کے استعمال اور غلط استعمال کے مزید کئی سال برداشت نہیں کر سکتے، اور کارروائی کرنے کا وقت کم ہوتا جا رہا ہے۔

    اسی طرح کے قانون کا اطلاق آسٹریلیا مارچ 2021 میں ہوا تھا جس کے بعد فیس بک نے نیوز فیڈ کو بند کردیا تھا مگر پھر اسے بحال کردیا تھا امریکی بل کے تحت گوگل یا فیس بک پر اگر کسی خبر پر کلک کیا جائے گا تو میڈیا اداروں کو اشتہاری آمدنی میں سے حصہ دینا ہوگا۔

    انڈونیشیا کے صوبے مشرقی جاوا میں آتش فشاں پہاڑ پھٹ پڑا، 2,000 رہائشی نقل مکانی پر…

  • ایلون مسک سے ملاقات کے بعد دنیا کے پہلے خلائی سیاح کا بڑا اعلان کرنے کا فیصلہ

    ایلون مسک سے ملاقات کے بعد دنیا کے پہلے خلائی سیاح کا بڑا اعلان کرنے کا فیصلہ

    دنیا کے پہلے خلائی سیاح جاپانی ارب پتی یوساکوما یزاوا نے ٹوئٹ کیا کہ وہ اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک سے ملاقات کے بعد بہت جلد خلا سے متعلق ‘بڑا اعلان’ کرنے والے ہیں-

    باغی ٹی وی : "روئٹرز” کے مطابق جاپانی ارب پتی یوساکوما یزاوا ایک آن لائن فیشن کمپنی کے بانی ہیں اور انہوں نے دسمبر 2021 میں انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن (آئی ایس ایس) جاکر پہلے خلائی سیاح کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

    وہ 2023 میں ایلون مسک کی کمپنی کے ذریعے چاند کے سفر کی منصوبہ بندی بھی کررہے ہیں، مگر ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ مشن شیڈول کے مطابق روانہ ہوتا ہے یا نہیں۔


    47 سالہ یوساکوما یزاوا نے ٹوئٹ میں بتایا کہ ایلون مسک سے ان کی آن لائن ملاقات ہوئی اور وہ 9 دسمبر کو خلا سے متعلق بڑا اعلان کرنے والے ہیں۔

    جنوبی افریقا میں چرچ جانے والا قافلہ سیلاب میں بہہ گیا؛ 14 افراد ہلاک

    اگر 2023 کو اسپیس ایکس کا چاند پر بھیجے جانے والا مشن روانہ ہوا تو یوساکوما یزاوا وہاں جانے والے پہلے پرائیویٹ مسافر بن سکتے ہیں انہیں ستمبر 2018 میں اسپیس ایکس نے چاند کے پہلے نجی سیاحتی دورے کے لیے منتخب کیا تھا۔

    ایک میوزک بینڈ میں ڈرمر سے مقبولیت حاصل کرنے والے میزاوا، اپنے توجہ حاصل کرنے والے سٹنٹس کی وجہ سے بھی خاصے مشہور ہیں کپڑوں کی آن لائن جاپانی کمپنی زوزو کے بانی میزاوا نے فیشن انڈسٹری سے دولت کمائی اپنی دولت کا بڑا حصہ وہ آرٹ پر خرچ کرتے ہیں-

    ٹِک ٹاک ایپ سے امریکی سلامتی کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں. ایف بی آئی

  • ایس ایم ایس  کی سہولت کے 30 برس مکمل ہو گئے

    ایس ایم ایس کی سہولت کے 30 برس مکمل ہو گئے

    ٹیکسٹ میسج بھیجنے کی سہولت کو 30 برس مکمل ہوگئے ہیں،پہلا پیغام 3 دسمبر 1992 کو برطانیہ کے برکشائر میں ووڈافون کے ایک انجینئر نے موبائل فون پر بھیجا تھا۔

    باغی ٹی وی : برطانوی خبررساں ادارے بی بی سی کے مطابق شارٹ میسج سروس (ایس ایم ایس) کی گزشتہ روز 30 ویں سالگرہ منائی گئی ہے 3 دسمبر 1992 کو دنیا کا پہلا ایس ایم ایس برطانیہ میں ایک بھیجا گیا تھا جس میں میری کرسمس ٹائپ کیا گیا تھا جو ایک ٹیلی کام کمپنی کے ملازم نے یہ ایس ایم ایس اپنے ڈائریکٹر کو بھیجا تھا۔

    یہ میسج کمپیوٹر کے ذریعے ٹائپ کر کے ارسال کیا گیا تھا کیونکہ اس وقت تک ٹیلی فون میں کی بورڈ کی سہولت نہیں تھی جبکہ نیل پاپورتھ کو اپنے اوربیٹل 901 فون پر یہ پیغام موصول ہوا تھا جس کا وزن 2.1 کلوگرام ہے تقریباً 12 معیاری آئی فون 14s کے برابر تھا –

    بتدریج 160 حروف پر مشتمل ایس ایم ایس کا استعمال عام ہوگیا تھا اپنے عروج پر، فون صارفین نے ہر سال اربوں ایس ایم ایس – یا شارٹ میسیج سروس – پیغامات کا تبادلہ کیا، اور 2010 میں لفظ "ٹیکسٹنگ” لغت میں شامل ہوا۔

    سروس اب بھی استعمال کی جاتی ہے، حالانکہ انٹرنیٹ پر مبنی، انکرپٹڈ میسجنگ پلیٹ فارم جیسے واٹس ایپ اور آئی میسیج کہیں زیادہ مقبول ہیں۔

    Statista کے مطابق، برطانیہ میں 2021 میں 40 بلین ایس ایم ایس پیغامات بھیجے گئے، جو 2012 میں 150 بلین سے کم ہیں۔ اس کے برعکس، دنیا بھر میں روزانہ 100 بلین واٹس ایپ پیغامات بھیجے جاتے ہیں۔

    چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت ،امریکہ نے ایٹمی ہتھیارسے لیس جدید جنگی جہازفوج کےحوالے کردیا

    پہلا ایس ایم ایس 1992 میں ارسال کیا گیا مگر اس کا تصور 1980 کی دہائی کے شروع میں سامنے آیا تھا مگر موبائل فون پر اسے بھیجنے میں کئی سال لگے1994 میں نوکیا 2010 نامی ماڈل کے متعارف ہونے کے بعد ایس ایم ایس کا استعمال زیادہ ہونے لگا کیونکہ اس میں آسانی سے پیغام تحریر کرنا ممکن تھا۔

    90 کی دہائی کے موبائل فونز میں نمبروں والے کی بورڈ ہوتے تھے اور ہر نمبر کے ساتھ 2 یا 3 انگلش حروف منسلک ہوتے تھے مثال کے طور پر C لکھنے کے لیے 1 کے ہندسے کو 3 بار ٹائپ کرنا پڑتا تھا۔

    ایس ایم ایس کی 30 ویں سالگرہ کے موقع پر گوگل کی جانب سے میسجز ایپ میں گروپ چیٹس کے لیے اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن فیچر کے اضافے کا اعلان کیا گیا یہ فیچر انفرادی چیٹس کے لیے تو پہلے سے دستیاب تھا مگر اب گروپ چیٹس کے لیے اسے متعارف کرایا جارہا ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ گوگل نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ میسجز ایپ میں صارفین بہت جلد پیغامات پر کسی ایموجی کے ذریعے ری ایکشن کا اظہار کرسکیں گے۔

    یورپی یونین قیمتوں کی حد کو مقرر کرکے اپنی توانائی کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہی…

  • شہابی پتھر سے دو نئی معدنیات دریافت

    شہابی پتھر سے دو نئی معدنیات دریافت

    صومالیہ میں گرنے والے غیر معمولی بڑے شہابی پتھر سے دو نئی معدنیات دریافت ہوئی ہیں-

    باغی ٹی وی : مشرقی افریقہ کے ملک صومالیہ کے ایک کم آبادی والے گاؤں میں گرنے والے دو میٹر طویل اور 15 ٹن وزنی شہابی پتھر کا ایک ٹکڑا کاٹ کر جامعہ البرٹا کے پروفیسر کرِس ہرڈ اور ان کےساتھیوں نے اس کا مشاہدہ کیا اوربتایا کہ اس میں دو بالکل نئی معدن موجود ہے اور تیسری نئی معدن کا شبہ بھی ہے جو سائنس کے لیے بالکل نئی ہوسکتی ہے۔

    ناسا نے چاند کی ایک نئی تصویر جاری کر دی

    یہ شہابی پتھر صومایہ کے صوبے ہیران کے گاؤں ال علی میں گرا تھا اور اسی مناسبت سے اسے ’ال علی‘ کا کا نام دیا گیا ہے صومالیہ کے اس خطےمیں برسوں سے شہابی پتھر ملتے رہے ہیں اس سے 70 گرام ٹکڑا توڑ کر کینیڈا بھجوایا گیا تھا جس کےحیران کن نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ اس پتھر پر لوہا غالب ہے تاہم اس میں نئی معدنیات ملی ہیں۔

    ڈاکٹرکرس کےمطابق یہ ایک غیرمعمولی دریافت ہےکیونکہ ان میں ایلالائٹ اورایلکنسٹینٹونائٹ نامی معدنیات ہیں جنہیں اس سےقبل مصنوعی طور پرتجربہ گاہ میں بنایا گیا تھا لیکن اب آسمانی پتھر میں یہ قدرتی حالت میں ملی ہیں تاہم اب سائنسداں اسی شہابی پتھرکےمزید کچھ گوشے دیکھ رہے ہیں اور ان کا مفصل جائزہ لیں گے۔

    روسی زبان بولنے والے ہیکرز کی خلیجی خطوں اور سعودی عرب میں ہیکنگ کی کارروائیاں تیز

    اس دریافت سے سائنسدانوں کو شہاب ثاقب اور الکا کی تشکیل کے بارے میں کچھ اہم اشارے مل سکتے ہیں ان معدنیات کی دریافت کا اعلان کینیڈا میں یونیورسٹی آف البرٹا کے سیاروں کے ماہر ارضیات کرس ہرڈ نے 21 نومبر کو اسپیس ایکسپلوریشن سمپوزیم میں کیا۔

    ہرڈ کا کہنا ہے کہ جب بھی آپ کو کوئی نیا معدنیات ملتا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اصل ارضیاتی حالات، چٹان کی کیمسٹری اس سے مختلف تھی جو پہلے ملی تھی یہی چیز اس کو دلچسپ بناتی ہے-

    اربوں سال قبل مریخ 300 میٹر گہرے سمندروں سے ڈھکا ہوا تھا،تحقیق

  • ٹک ٹاک کا 3000 افراد کو نوکریاں دینے کا اعلان

    ٹک ٹاک کا 3000 افراد کو نوکریاں دینے کا اعلان

    جہاں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اخراجات کو کم کرنے کے لیے ملازمین کو برطرف کر رہی ہیں وہیں ٹِک ٹاک نے ہزاروں افراد کو نوکریاں دینے کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چینی سوشل میڈیا کمپنی نے امریکا سمیت دنیا بھر سے 3000 انجینئروں کو نوکری دینے کا اعلان کیا ہے۔

    میٹا کا 11 ہزار ملازمین کو نوکری سے فارغ کرنے کا فیصلہ

    ٹِک ٹاک ایپلی کیشن امریکا کے نوجوانوں میں دیگر بڑی ایپلیکیشنز کی نسبت زیادہ مقبول ہے اس وقت امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ٹِک ٹاک کے انجینئرز کی تعداد 1000 سے زائد ہے اور کمپنی اس تعداد میں اضافے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    ٹک ٹاک کی جانب سے یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب میٹا اور ٹوئٹر ہزاروں ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کر رہی ہیں جبکہ ٹک ٹاک اس وقت میٹا، ٹوئٹر اور ایمازون سے بڑی ہوتی محسوس ہورہی ہے –

    میٹا اور ٹوئٹر کے بعد ایمازون کا اپنے10 ہزار ملازمین کو برطرف کرنے کا ارادہ

    واضح رہے کہ فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کی مالک کمپنی میٹا نے رواں ماہ 11 ہزار ملازمین کو نوکری سے نکالنے کا اعلان کیا تھا۔ دوسری جانب ایلون مسک کی کمپنی ٹوئٹر سے 7000 میں سے تقریباً نصف افراد کو برطرف کیا گیا تھا جبکہ ایمازون کی جانب سے 10 ہزار نوکریوں کا خاتمہ متوقع ہے۔

  • ایلون مسک نے ٹوئٹر سرچ کو ٹھیک کرنے کیلئے آئی فون ہیکر کی خدمات حاصل کرلیں

    ایلون مسک نے ٹوئٹر سرچ کو ٹھیک کرنے کیلئے آئی فون ہیکر کی خدمات حاصل کرلیں

    ایلون مسک نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر کو ٹھیک کرنے کے لیے ایک آئی فون ہیکر کی خدمات حاصل کرلی ہیں۔

    باغی ٹی وی: جارج ہوٹز کو س سے قبل ایلون مسک کی کمپنی ٹیسلا میں کام کرنے کی پیشکش بھی کی گئی تھی جس کو انہوں نے مسترد کردیا تھا اور اب انہیں ٹوئٹر کے سرچ آپشن کو ٹھیک کرنے کا کام دیا گیا ہے۔

    گوگل نے رواں سال سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی اشیا کی فہرست جاری کردی

    جارج ہوٹز نے کچھ دن قبل ایک ٹوئٹ میں ٹوئٹر کو ٹھیک کرنے کے لیے اپنی خدمات کی پیشکش کی تھی جسے اب ایلون مسک نے قبول کرلیا جارج ہوٹز کو اس خامی کو درست کرنے کے لیے 12 ہفتے دیئے گئے ہیں جو بیشتر انجینئر برسوں میں ٹھیک نہیں کرسکے۔

    جارج ہوٹز نے خودکار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی پر کام کرنے والی ایک کمپنی کی بنیاد رکھی تھی اور انہوں نے ایلون مسک کی جانب سے 12 ہفتوں کی انٹرن شپ کی پیشک قبول کرلی ہے۔

    ضرورت سے زائد سختی بچوں میں شدید ڈپریشن کا سبب بن سکتی ہے،تحقیق

    جارج ہوٹز کے مطابق وہ سوشل میڈیا کمپنی میں طویل عرصے تک نہیں رہنا چاہتے اور 12 ہفتوں کے دوران ایک ہزار مائیکرو سرورز کی صفائی کرنا چاہتے ہیں جارج ہوٹز نے ٹوئٹرصارفین سے بھی پوچھا ہے کہ کیا وہ ٹوئٹر سرچ کو گوگل سرچ کے متبادل کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

    وہ اس سے قبل گوگل، فیس بک اور اسپیس ایکس میں بھی انٹرن کے طور پر کام کرچکے ہیں جبکہ 2015 سے 2018 کے دوران اپنی کمپنی comma.ai کے سی ای او رہے۔

    واضح رہے کہ جارج ہوٹز کو 2007 میں 17 سال کی عمر میں ایک آئی فون کو ہیک کرنے پر شہرت حاصل ہوئی تھی درحقیقت وہ پہلے فرد تھے جو ایک آئی فون کو ان لاک کرنے میں کامیاب ہوئے۔

    زیادہ چکنائی والی غذا شدید جسمانی دائمی درد کو جنم دیتی ہے،تحقیق