Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • واٹس ایپ کا صارفین کیلئے نیا فیچر متعارف کرانے کا اعلان

    واٹس ایپ کا صارفین کیلئے نیا فیچر متعارف کرانے کا اعلان

    دنیا بھر میں مقبول میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے اپنے صارفین کے لیے ایک نیا فیچر متعارف کرایا ہے-

    باغی ٹی وی : میٹا کی زیرملکیت کمپنی مسلسل نئے فیچرز تیار کرنے میں مصروف رہتی ہے تاہم اب بھی کمپنی نے اینڈرائیڈ بیٹا ورژن میں ایک نیا فیچر متعارف کرایا ہے جس سے صارفین کسی بھی موضوع پر رائے شماری (پول) کراسکیں گے یہ فیچر گروپس کے ساتھ ساتھ ون ٹو ون چیٹ میں بھی استعمال کیا جاسکے گا۔

    واٹس پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ویب بیٹا انفو WABetaInfo کی رپورٹ کے مطابق بیٹا ورژن کے کچھ صارفین کو اس فیچر تک رسائی ملی ہے تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ فیچر کس مقصد کے لیے استعمال ہوسکے گا۔

    رپورٹ کے مطابق ویسے تو واٹس ایپ میں پول کا مقصد سمجھ نہیں آتا مگر یہ لوگوں کی جانب سے مختلف چیزوں کے بارے میں رائے حاصل کرنے کا ایک اچھا طریقہ ہوگا۔

    ویب بیٹا انفو کے مطابق ایک پول میں 12 آپشن شامل کیے جاسکیں گے اور ووٹ ڈالنے پر واٹس ایپ کی جانب سے اسے خودکار طور پر اپ ڈیٹ کردیا جائے گا یہ فیچر ابھی بیٹا ورژن میں دیا گیا ہے تو تمام صارفین کے لیے اسے کب تک متعارف کرایا جاتا ہے، ابھی یہ کہنا مشکل ہے۔

    قبل ازیں واٹس ایپ کے نئے اینڈرائیڈ بیٹا ورژن میں میسجز کو ایڈٹ کا فیچر متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا یہ وہ فیچر جس کا عرصے سے صارفین کو انتظار تھا کیونکہ ابھی کسی میسج میں کوئی غلطی ہوجائے تو اسے ڈیلیٹ کرنے کے سوا کوئی اور آپشن نہیں ہوتا۔

    WABetaInfo کی ایک رپورٹ کے مطابق اینڈرائیڈ کے نئے بیٹا ورژن میں عندیہ دیا گیا ہے کہ یہ فیچر کس طرح کام کرے گا اس فیچر کے تحت کسی میسج کو بھیجنے کے بعد اسے 15 منٹ کے اندر ایڈٹ کرنا ممکن ہوگا جب کوئی میسج ایڈٹ کیا جائے گا تو وقت کے ساتھ ایک لیبل کے ذریعے اس میں تبدیلی کو واضح کیا جائے گا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اس حوالے سے کافی عرصے سے کوئی اپ ڈیٹ سامنے نہیں آئی تھی مگر کمپنی نے اس پر کام جاری رکھا اور جلد اسے صارفین کے لیے متعارف کرایا جاسکتا ہے تاہم یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ یہ فیچر کب تک صارفین کو دستیاب ہوسکتا ہے مگر امید ہے کہ آنے والے مہینوں میں اسے متعارف کرایا جاسکتا ہے۔

  • مگرمچھوں کے خون میں زہریلے کیمیائی اجزا کی موجودگی کا انکشاف

    مگرمچھوں کے خون میں زہریلے کیمیائی اجزا کی موجودگی کا انکشاف

    امریکی ریاست شمالی کیرولائنا کے کیپ فیئر دریا کے اطراف میں موجود مگرمچھوں کے خون میں 14 زہریلے کیمیائی اجزا کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کے مطابق ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ شمالی کیرولائنا کے فائیٹ وِل میں واقع کیمورس پلانٹ سے دریائے کیپ فیئر میں خارج ہونے والے پی ایف اے ایس کی اعلیٰ سطح ممکنہ طور پر مقامی مگرمچھوں کو خود سے قوت مدافعت کے امراض سے بیمار کر رہی ہے جو کہ انسانی بیماریوں جیسے لیوپس کی طرح دکھائی دیتی ہے۔

    ریپٹائلز کے خون میں ’پرفلوروالکائلس اور پولی فلورو الکائلس (پی ایف ایز)‘ کی سطح پر کی جانے والی اس تحقیق نے سائنس دانوں کی تشویش میں اضافہ کیا ہے کہ یہ کیمیا ان جانوروں کے جینیاتی اور مدافعتی نظام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

    جمعرات کو فرنٹیئرز ان ٹاکسیکولوجی جرنل میں شائع ہوا،کے مطابق کیپ فیئر واٹرشیڈ میں مچھلیوں کے خون کا تجربہ کیا گیا جو کئی دہائیوں سے کیمورز کی آلودگی کا شکار ہیں۔ جبکہ مگرمچھوں کے خون میں زہریلے مادے PFAS مرکبات اور مدافعتی بیماری انتہائی میں اعلی سطح دکھائی۔

    نارتھ کیرولائنا اسٹیٹ یونیورسٹی کے محقق اور مطالعہ کے شریک مصنف سکاٹ بلیچر نے کہا کہ یہ واقعی اس نقصان کو نمایاں کرتا ہے جو ہم پی ایف اے ایس سے ماحولیاتی نظام میں دیکھ رہے ہیں، اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم ابھی ان کے اثرات کی سطح کوکھو جنا شروع کر رہے ہیں یہ خیال کہ وہ آس پاس جا رہے ہیں اور مستقبل قریب کے لیے پانی کے نظام کو آلودہ کر رہے ہیں، واقعی حیران کن ہے۔

    پروفیسر اسکاٹ بلیچر کا یونیورسٹی کی جانب سے ایک نیوز ریلیز میں کہنا تھا کہ مگرمچھ کبھی کبھار کسی انفیکشن میں مبتلا ہوتے ہیں۔ انہیں زخم لگتے ہیں لیکن وہ جلد صحت یاب ہوجاتے ہیں۔

    دنیا میں اگلی وبا گلیشیرز کے پگھلنے کی وجہ سے آسکتی ہے،تحقیق

    انہوں نے کہا کہ انفیکشن زدہ زخموں کا مناسب طریقے ٹھیک نہ ہونا ایک تشویش ناک بات تھی۔ اس ہی وجہ سے پی ایف ایز کے افشا ہونے اور مگرمچھوں کے مدافعتی نظام کے درمیان تعلق کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔

    امریکا کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف انوائرنمنٹل ہیلتھ سائنسز کے مطابق پی ایف ایز ہماری روز مرہ کی متعدد اشیاء میں موجود ہوتے ہیں جن میں برتن، شیمپو، کاسمیٹکس وغیرہ شامل ہیں۔

    اسکاٹ بلیچر کی رہنمائی میں کام کرنے والی ٹیم نے 2018 سے 2019 کے درمیان کیپ فیئر دریا کے اطراف میں موجود 49 مگرمچھوں کے خون کے نمونے لے کر ان کی صحت کا معائنہ کیا ان کےخون کے نمونوں کا موازنہ دریا سے 48.28 کلو میٹر کے فاصلے پر موجود واکاما جھیل کے 26 مگرمچھوں کے خون کے نمونوں سے کیا گیا۔

    ٹیکساس مین گوگل کے خلاف بغیر اجازت بائیو میٹرک ڈیٹا استعمال کرنے پر مقدمہ درج

    محققین نے 23 پی ایف ایز کو دیکھا اور دونوں گروہوں کے خون کے نمونوں میں کیمیا کی اقسام اور سطح کی موجودگی میں واضح فرق پایا۔

    اسکاٹ بلیچر کا کہنا تھا کہ سائنس دانوں نے کیپ فیئر دریا کے نمونوں میں اوسطاً 10 مختلف پی ایف ایز کی نشان دہی کی۔ جبکہ واکاما جھیل کے مگرمچھوں میں اوسطاً پانچ مختلف پی ایف ایز موجود تھے۔

    ’پرفلوروالکائلس اور پولی فلورو الکائلس مادہ، تقریباً 12,000 کیمیکلز پر مشتمل ہے جو اکثر مصنوعات کو پانی، داغ اور گرمی کے خلاف مزاحمت کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔انہیں "ہمیشہ کے لیے کیمیکلز” کہا جاتا ہے کیونکہ یہ قدرتی طور پر نہیں ٹوٹتے، اور کینسر، جگر کے مسائل، تھائرائیڈ کے مسائل، پیدائشی نقائص، گردے کی بیماری، قوت مدافعت میں کمی اور صحت کے دیگر سنگین مسائل کا باعث بنتے ہیں-

    قطرچینی پانڈوں کا تحفہ حاصل کرنے والا مشرق وسطیٰ کا پہلا ملک بن گیا

  • دنیا میں اگلی وبا گلیشیرز کے پگھلنے کی وجہ سے آسکتی ہے،تحقیق

    دنیا میں اگلی وبا گلیشیرز کے پگھلنے کی وجہ سے آسکتی ہے،تحقیق

    کینیڈین سائنسدانوں نے دنیا بھر کے لوگوں کیلئے وارننگ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں اگلی وبا گلیشیرز کے پگھلنے کی وجہ سے آسکتی ہے-

    باغی ٹی وی: دی گارجئین کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کے خبردار کیا ہے کہ نئے اعداد و شمار کے مطابق اگلی وبائی بیماری چمگادڑوں یا پرندوں سے نہیں بلکہ برف پگھلنے والے مادے سے آسکتی ہے۔

    دنیا کے پرندوں کی تقریباً نصف اقسام کی آبادی کم ہو رہی ہے،رپورٹ

    ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کے نتیجے میں پگھلتے گلیشیئرز ممکنہ طور پر اگلی مہلک عالمی وبا کا سبب ہوسکتے ہیں۔

    سائنسدانوں نے قطب شمالی کی جھیل ہیزن سے حاصل کیے گئے نمونوں کا معائنہ کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح موسمیاتی تغیر کسی دوسرے جاندار میں وائرس کے منتقل ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔ سیکڑوں سالوں سے گلیشیئرز میں جمے ہوئے مہلک وائرس عالمی درجہ حرارت کے بڑھنے کے سبب دوبارہ فعال ہوسکتے ہیں۔

    نتائج سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے جیسے جیسے عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے، اس بات کا زیادہ امکان ہوتا ہے کہ گلیشیئرز اور پرما فراسٹ میں بند وائرس اور بیکٹیریا مقامی جنگلی حیات کو دوبارہ بیدار اور متاثر کر سکتے ہیں، خاص طور پر جب ان کی رینج بھی قطبوں کے قریب ہو جاتی ہے۔

    مثال کے طور پر، 2016 میں شمالی سائبیریا میں اینتھراکس کی وبا پھیل گئی جس نے ایک بچے کی جان لے لی اور کم از کم سات دیگر افراد کو متاثر کیا، اس کی وجہ ہیٹ ویو تھی جس نے پرما فراسٹ کو پگھلا دیا اور ایک متاثرہ قطبی ہرن کی لاش میں وائرس دریافت کیا گیا اس سے پہلے خطے میں آخری وبا 1941 میں پھیلی تھی۔

    دیوارمیں چُھپے 1000 سال سے زائد عرصہ پُرانے 44 سونے کے سِکے دریافت

    منجمد وائرس سے لاحق خطرے کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے، کینیڈا کی اوٹاوا یونیورسٹی کے ڈاکٹر سٹیفن ایرس بروسو اور ان کے ساتھیوں نے جھیل ہیزن سے مٹی اور تلچھٹ کے نمونے اکٹھے کیے، جہاں مقامی گلیشیئرز سے چھوٹے، درمیانے اور بڑی مقدار میں پگھلا ہوا پانی بہہ رہا تھا-

    اس کے بعد، انہوں نے ان نمونوں میں آر این اے اور ڈی این اے کو ترتیب دیا پروسیڈنگز آف دی رائل سوسائٹی بی میں شائع ہونے والی تحقیق نے تجویز کیا کہ نئے میزبانوں میں وائرس کے پھیلنے کا خطرہ ان مقامات پر زیادہ ہوتا ہے جہاں برفانی پگھلنے والے پانی کی بڑی مقدار بہتی ہوتی ہے ایسی صورت حال جس کا امکان آب و ہوا کے گرم ہونے کے ساتھ ساتھ بڑھ جاتا ہے۔

    ٹیم نے اس بات کا اندازہ نہیں لگایا کہ انہوں نے جن وائرسز کی نشاندہی کی ہے ان میں سے کتنے پہلے نامعلوم تھے جو وہ آنے والے مہینوں میں کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور نہ ہی انہوں نے اس بات کا اندازہ لگایا کہ آیا یہ وائرس انفیکشن کو متحرک کرنے کے قابل تھے۔

    مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

    تاہم، دوسری حالیہ تحقیق نےتجویز کیا ہےکہ نامعلوم وائرس گلیشیئر برف میں گھوم سکتے ہیں، اور کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، پچھلے سال، امریکہ کی اوہائیو سٹیٹ یونیورسٹی کے محققین نے اعلان کیا کہ انہیں چین میں تبتی سطح مرتفع سے لیے گئے برف کے نمونوں میں 33 وائرس سے جینیاتی مواد ملا ہے جن میں سے 28 نوول ہیں۔ ان کے محل وقوع کی بنیاد پر، وائرس کا تخمینہ لگ بھگ 15,000 سال پرانا تھا۔

    2014 میں، Aix-Marseille میں فرانس کے نیشنل سینٹر فار سائنٹیفک ریسرچ کے سائنسدانوں نے سائبیرین پرما فراسٹ سے الگ تھلگ ایک بڑے وائرس کو دوبارہ زندہ کرنے میں کامیاب کیا، اور اسے 30,000 سالوں میں پہلی بار دوبارہ متعدی بنا دیا۔ اس تحقیق کے مصنف جین مشیل کلیوری نے اس وقت بی بی سی کو بتایا تھا کہ برف کی ایسی تہوں کو بے نقاب کرنا "تباہی کا ایک نسخہ” ہو سکتا ہے۔

    سائنسدانوں نے دنیا کے تنہا ترین درخت سے امیدیں باندھ لیں

  • سچ بولنے والے بچے بدتمیز اور خطرناک سمجھے جاتے ہیں،تحقیق

    سچ بولنے والے بچے بدتمیز اور خطرناک سمجھے جاتے ہیں،تحقیق

    ایک حالیہ تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ جو بچے ’کھرا سچ‘ بولتے ہیں، انہیں والدین یا دوسرے افراد ’بدتمیز‘ سمجھتے ہیں –

    باغی ٹی وی : جرنل آف مورل ایجوکیشن میں شائع تحقیق کے مطابق ماہرین نے بچوں کے سچ اور جھوٹ بولنے کے سماجی زندگی پر پڑنے والے اثرات کے لیے 267 بچوں اور بالغ افراد پر تحقیق کی تحقیق میں شامل 171 افراد بالغ تھے، جن کی عمریں 18 سال سے 67 سال تک تھیں جب کہ دو درجن کے قریب افراد کی عمر 6 سال سے 15 تک تھی اور باقی افراد بھی درمیانی عمر کے نابالغ افراد تھے۔

    دنیا کے پرندوں کی تقریباً نصف اقسام کی آبادی کم ہو رہی ہے،رپورٹ

    جن میں سے نصف خواتین تھیں اور تمام افراد کو ویڈیوز دکھا کر ان سے سوال و جوابات کیے گئے جب کہ ویڈیوز کے بعد ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ اگر وہ کسی کے والدین ہوتے تو اپنے ہی دیئے گئے جواب پر کیا رد عمل دیتے؟-

    تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن بچوں نے ’دو ٹوک الفاظ‘ میں سچ بولا، انہیں زیادہ ’بدتمیز‘ اور خطرناک سمجھا گیا اور ایسے ہی بچوں کے لیے والدین نے بتایا کہ ان کے ایسے کھرے سچ بولنے کی وجہ سے انہیں بعض اوقات شرمندگی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق جیسا کہ کوئی بچہ اپنے والدین یا دوسرے رشتے داروں یا دوستوں کی جانب سے ملنے والے کسی تحفے کو ناپسند کرتے ہوئے کوئی لحاظ کیے بغیر دو ٹوک الفاظ میں بولتا ہےکہ اسے مذکورہ تحفہ پسند نہیں، وہ بیکاراور خراب ہے’ تو ایسے کھرے سچ پر والدین کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ ایسے جواب پر ان بچوں کو ’بدتمیز‘ بھی سمجھا جا سکتا ہے۔

    سائنسدانوں نے زمین پر نیا سمندر دریافت کر لیا؟

    تحقیق میں شامل ماہرین نے بتایا کہ پھر بھی، جبکہ والدین اور دوسرے بچوں کو دو ٹوک ایماندارانہ سچ بولنے کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، وہ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ جھوٹ بولنا غلط ہےمگر ان میں وقت کے حساب سے سچ اور جھوٹ بولنے کی صلاحیت کی کمی ہے۔

    ماہرین کا کہنا تھا کہ بچے یہ سمجھ نہیں سکتے کہ سماجی طور پر کون سی باتیں، سچائی یا جھوٹ قابل قبول ہے اور کون سی بات کس طرح کی جائے، جس وجہ سے وہ عام طور پر دو ٹوک الفاظ میں بات کرتے ہیں، جس سے انہیں ’بدتمیز‘ سمجھا جاتا ہے تاہم بچوں کو وقت اور موقع کو دیکھتے ہوئے جھوٹ بولنے کی مہارت سیکھنی ہوگی اور اسی عمل سے ہی ان میں ترقی کے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔

    ماہرین کے مطابق بچوں کو موضوع، وقت اور حالات کو دیکھتے ہوئے دوسروں کا دل یا بھرم رکھنے کے لیے بعض باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا فن سیکھنا ہوگا، انہیں مبہم انداز میں سچ بولنا یا پھر جھوٹ بول کر دوسروں کو مطمئن کرنا سیکھنا ہوگا۔

    رواں سال کا دوسرا اور آخری سورج گرہن 25 اکتوبر کو ہوگا

  • ملک بھر میں مندروں اور گوردواروں سےمتعلق رہنمائی کیلئے موبائل ایپ کی تیاری شروع

    ملک بھر میں مندروں اور گوردواروں سےمتعلق رہنمائی کیلئے موبائل ایپ کی تیاری شروع

    لاہور: متروکہ وقف املاک بورڈ نے ملک بھر میں مندروں اور گوردواروں سے متعلق معلومات کی فراہمی اور ان کے لوکیشن بارے رہنمائی کے لئے موبائل ایپ کی تیاری شروع کردی ہے۔

    باغی ٹی وی: موبائل ایپ کی مدد سے ملکی اورغیرملکی سیاحوں کو سکھوں اورہندوؤں کےمقدس مقامات تک پہنچنے اوران سےمتعلق جاننے میں رہنمائی ملے گی۔

    سپریم کورٹ کا حمزہ شہباز کی طلبی کا اخبار میں اشتہار جاری کرنے کا حکم

    متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین حبیب الرحمن گیلانی نے نجی خبررساں ادارے کو بتایا کہ اس ایپ میں تمام تاریخی اورقدیم مندروں سے متعلق معلومات ہوں گی۔سکھوں اور ہندؤں کے مقدس مقامات کی تصاویر اور مستند معلومات فراہم کی جائیں گی ان اقدامات کا مقصد پاکستان میں مذہبی سیاحت کو فروغ دینا ہے-

    ایف بی آر کو چھوٹے تاجروں پر فکس ٹیکس عائد کرنے کی تجویز

    متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین نے بتایا کہ اس ایپ میں یہ سہولت بھی ہوگی کسی بھی مقدس مذہبی مقام کے ایک سے دو کلومیٹر اطراف میں جو بھی اہم تاریخی اورمذہبی مقامات ہوں گے ان سے متعلق بھی رہنمائی مل سکے گی۔ اس کے لئے ان مقامات تک پہنچنے کے لیے ڈیجیٹل میپ میسرہوگا۔

    حبیب الرحمن گیلانی نے کہا کہ سیاحوں کو متوجہ کرنے اوران کی رہنمائی کے لئے ڈیجیٹل پلیٹ فارمزکا استعمال انتہائی ضرروی ہے۔ دوسرے مرحلے میں اس موبائل ایپ میں سکھوں اورہندوؤں کے مقدس مقامات کے تھری ڈی تصاویراورویڈیوزبھی شیئر کی جائیں گی تاہم اس کےلئے ابھی ہم کوئی سپانسراورکمپنی تلاش کررہے ہیں جو اس حوالے سے کام کرسکے-

    عدالت امدادی سرگرمیوں میں مداخلت نہیں کرے گی،چیف جسٹس

  • ثابت کر دیا ہم زمین کے محافظ کے طور پر سنجیدہ ہیں،سربراہ ناسا

    ثابت کر دیا ہم زمین کے محافظ کے طور پر سنجیدہ ہیں،سربراہ ناسا

    ناسا کا زمین کو سیارچوں کی ٹکر سے محفوظ رکھنے کا تاریخی مشن کامیاب ہو گیا۔

    باغی ٹی وی : تجرباتی اسپیس شپ کی ٹکر نے سیارچے کا راستہ کامیابی کے ساتھ بدل دیا۔ ناسا کا ڈارٹ کرافٹ 26ستمبر کو سیارچے سے ٹکرایا تھا۔

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

    سربراہ ناسا بل نیلسن نے کہا ہے کہ ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ ناسا زمین کے محافظ کے طور پر سنجیدہ ہے۔ ڈارٹ مشن کی کامیابی انسانیت کیلئے اہم سنگ میل ہے پہلی بار انسانیت نے کسی آسمانی چیز کی حرکت کو تبدیل کیا ہے۔

    واضح رہے کہ اس تجرے کے تحت خلائی جہاز یا مصنوعی سیارہ ، زمین کی طرف آنے والے کسی سیارچے سے ٹکرا کر اس کا مدار تبدیل کر دے گا یہ تجربہ مستقبل میں کسی سیارچے کے زمین سے ٹکرانے کا خطرہ ٹالنے کے لیے کیا گیا ہے-

    ڈارٹ اسپیس کرافٹ 23 ہزار 500 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سیارچے سے ٹکرایا تھا ، اس مشن کا مقصد زمین کو کسی خطرناک خلائی چٹان کے ٹکراؤ سے محفوظ رکھنے کی جانچ پڑتال کرنا ہے۔

    رواں سال کا دوسرا اور آخری سورج گرہن 25 اکتوبر کو ہوگا

    خلا میں موجود ایک بڑے پتھر سے خلائی جہاز ٹکرانے کا یہ تجربہ زمین سے تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ کلومیٹر دور کیا گیا اس سارے مشن کو خلائی جہاز پر موجود کیمرے سے عکس بندی بھی کی گیا تھا جس سیارچے کو خلائی جہاز نے ہدف بنایا اس کو ڈیمورفوس کا نام دیا گیا ہے جبکہ اس مشن کو ڈارٹ مشن کہا جاتا ہے۔

    تصادم کے نتیجے میں سیارچے میں گڑھے کا پڑنا، خلاء میں چٹانوں کے ٹکڑے اور مٹی کا اڑنااور سب سے اہم چیز سیارچے کا مدار بدلنا متوقع تھا تاہم، ناسا کو زمین پر لگی ٹیلی اسکوپ سے ڈائمورفس اور اس کے جڑواں سیارچے ڈائیڈِموس کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کے بعد تصادم کے سبب سامنے آنے والے نتائج کو معلوم کرنے میں کم از کم دو ماہ تک کا عرصہ لگے گا اگر مشن کامیاب ہوا یعنی سیارچے کے مدار کا راستہ بدل گیا تو یہ طریقہ زمین کی جانب بڑھنے والے سیارچوں کی روک تھام کے لیے اہم دفاعی ہتھیار ثابت ہوسکے گا۔

    نظام شمسی کا سب سے برا سیارہ 70 سال بعد زمین کے سب سے قریب

  • مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

    مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

    یونیورسٹی آف کیمبرج کی رہنمائی میں کی جانے والی تحقیق میں پہلی بار ایسے شواہد سامنے آئے جن کےمطابق مریخ کے جنوبی قطب میں برف کے نیچے مائع پانی موجود ہے۔

    باغی ٹی وی : 2018 میں، یورپی مریخ ایکسپریس کے مدار نے پایا کہ مریخ کے جنوبی قطب کو ڈھکنے والی برف کی سطح ڈوبتی اور بڑھتی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کےنیچےمائع پانی چھپا ہوا ہےلیکن اس وقت تمام سائنسدان اس بات کے قائل نہیں تھےمریخ انتہائی ٹھنڈا ہے، اورذیلی برفانی پانی سیارے پر مائع شکل میں موجود ہونے کے لیے،حرارت کا ایک ذریعہ ہونا پڑےگا،جیسا کہ جیوتھرمل توانائی،مارس ایکسپریس کی دریافت کے وقت، کچھ سائنس دانوں کا خیال تھا کہ خلائی جہاز کےذریعے ناپے جانے والے عجیب ریڈار سگنل کی وضاحت کسی اور چیز سے ہوسکتی ہے –

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

    لیکن حال ہی میں، یونیورسٹی آف کیمبرج کےمحققین کی سربراہی میں سائنسدانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نےبرف سےڈھکےہوئے علاقے، جسے الٹیمس اسکوپیلی کہا جاتا ہے، ایک مختلف تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے تحقیقات کیں اوریہ نتیجہ اخذ کیا کہ مائع پانی کی موجودگی، درحقیقت، ممکنہ وضاحت ہے-

    یونیورسٹی آف شیفیلڈ سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے مصنف ڈاکٹر فرانسس بُچر نے ایک بیان میں کہا کہ یہ تحقیق مریخ پر مائع پانی کی موجودگی کے حوالے سے بہترین اشارہ دیتی ہے کیوںکہ زمین پر گلیشیئر کے نیچے موجود جھیلوں کو ڈھونڈنے کے لیے جن دو اہم اشاروں کو دیکھا جاتا ہے، وہ مریخ پر پائے گئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اتنے ٹھنڈے درجہ حرارت میں مائع حالت میں رہنے کے لیے جنوبی قطب کے نیچے موجود پانی کو انتہائی نمکین ہونے کی ضرورت ہوگی، جس کے سبب اس میں کسی مائیکروبائل کی زندگی مشکل ہوگی۔تاہم، یہ چیزسائنس دانوں کو پُر امیدکرتی ہے کہ ماضی میں جب یہاں کا موسم کم مشکل ہوگا تو یہاں زندگی کے قابل زیادہ ماحول ہوتے ہوں گے۔

    نظام شمسی کا سب سے برا سیارہ 70 سال بعد زمین کے سب سے قریب

    کیمبرج یونیورسٹی میں جغرافیہ کے پروفیسر نیل آرنلڈ نے کہا کہ "نئے ٹوپوگرافک شواہد، ہمارے کمپیوٹر ماڈل کے نتائج، اور ریڈار ڈیٹا کا امتزاج اس بات کا بہت زیادہ امکان بناتا ہے کہ آج مریخ پر ذیلی برفانی مائع پانی کا کم از کم ایک علاقہ موجود ہے۔

    بین الاقوامی تحقیقی ٹیم، جس میں فرانس کی یونیورسٹی آف نونٹ اور آئرلینڈ کی یونیورسٹی کالج ڈبلن کے محققین بھی شامل تھے، نے آئس کیپ کے اوپر کی سطح کی اسپیس کرافٹ لیزر ایلٹی میٹر پیمائشوں کا استعمال کیا۔

    جس کے بعد محققین نے بتایا کہ یہ اشکال کمپیوٹر ماڈل کی ان پیش گوئیوں سے مشابہت رکھتی ہیں جن میں بتایا گیا کہ آئس کیپ کے نیچے موجود پانی کس طرح سطح کو متاثر کرتا ہے۔

    مریخ کے قطبین پر زمین کی طرح پانی کے برف کی موٹی تہہ ہیں۔ جن کا کُل حجم اندازاً گرین لینڈ کی برف کی چادر کے برابر ہے۔

    نظام شمسی کے چھٹے سیارے زحل کے گرد چھلّے کیسے بنے؟

  • سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی  خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

    امریکی خلائی ادارے ناسا کا زمین کو سیارچوں کی ٹکر سے محفوظ رکھنے کے تاریخی مشن کیلئے زمین سے بھیجا گیا تجرباتی ڈارٹ اسپیس کرافٹ سیارچے ڈیمورفس سے ٹکرا گیا ۔

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق ڈارٹ اسپیس کرافٹ 23 ہزار 500 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سیارچے سے ٹکرایا، اس مشن کا مقصد زمین کو کسی خطرناک خلائی چٹان کے ٹکراؤ سے محفوظ رکھنے کی جانچ پڑتال کرنا ہے۔

    ناسا کا پہلا سیاروی دفاعی اسپیس کرافٹ،26 ستمبر کو خلائی چٹان سے ٹکرائے گا


    خلا میں موجود ایک بڑے پتھر سے خلائی جہاز ٹکرانے کا یہ تجربہ زمین سے تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ کلومیٹر دور کیا گیا ہےاس سارے مشن کو خلائی جہاز پر موجود کیمرے سے عکس بندی بھی کی گیا ہے جس سیارچے کو خلائی جہاز نے ہدف بنایا اس کو ڈیمورفوس کا نام دیا گیا ہے جبکہ اس مشن کو ڈارٹ مشن کہا جاتا ہے۔

    آج صبح 4 بج کر 14 منٹ پر اسپیس کرافٹ اور سیارچے کے درمیان ہونے والے تصادم کی تصدیق چند سیکنڈوں بعد ہو گئی جس کا جشن جان ہوپکنز یونیورسٹی اپلائیڈ سائنس لیبارٹری میں مشن کی ٹیم نے منایا –


    تصادم کے نتیجے میں سیارچے میں گڑھے کا پڑنا، خلاء میں چٹانوں کے ٹکڑے اور مٹی کا اڑنااور سب سے اہم چیز سیارچے کا مدار بدلنا متوقع تھا۔

    رواں سال کا دوسرا اور آخری سورج گرہن 25 اکتوبر کو ہوگا

    تاہم، ناسا کو زمین پر لگی ٹیلی اسکوپ سے ڈائمورفس اور اس کے جڑواں سیارچے ڈائیڈِموس کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کے بعد تصادم کے سبب سامنے آنے والے نتائج کو معلوم کرنے میں کم از کم دو ماہ تک کا عرصہ لگے گا اگر مشن کامیاب ہوا یعنی سیارچے کے مدار کا راستہ بدل گیا تو یہ طریقہ زمین کی جانب بڑھنے والے سیارچوں کی روک تھام کے لیے اہم دفاعی ہتھیار ثابت ہوسکے گا۔

    ناسا کا کہنا ہے کہ جس خلائی پتھر کو نشانہ بنایا گیا وہ زمین سے ٹکرانے کے راستے یا مدار میں نہیں ہے اور نہ ہی یہ تجربہ اس پتھر کو حادثاتی طور پر یا غلطی سے زمین کی طرف بھیجے گا۔

    خلا میں موجود سب سے بڑی ٹیلی سکوپ جیمز ویب سمیت دیگر خلائی دور بینوں کے ذریعے اس تجربے کو دیکھا گیا ہے، سائنسدانوں کے مطابق اس تجربے میں خلائی جہاز، سیارچے کے مرکز سے صرف 17 میٹر ہٹ کے ٹکرایا ہے۔

    نظام شمسی کا سب سے برا سیارہ 70 سال بعد زمین کے سب سے قریب

    ڈائمورفس سے اسپیس کرافٹ ٹکرانے کے بعد ناسا پُرامید ہے کہ اس سیارچے کا مدار چھوٹا ہوگا، یعنی اس کا ڈائڈِموس کے گرد چکر لگانے کا دورانیہ 10 منٹ کم ہوا گا جو ابھی 11 گھنٹے اور 55 منٹ ہے۔

    سائنسدان پہلے ہی ایسے بیشتر سیارچوں کو شناخت کرچکے ہیں جو زمین کو تباہ کرسکتے ہیں، مگر فی الحال ان میں سے کوئی بھی ہمارے سیارے کے لیے خطرہ نہیں مگر سائنسدانوں کو ڈر ہے کہ ہزاروں چھوٹے سیارچوں میں کوئی ایک کسی دن زمین کی جانب بڑھ سکتا ہے اور اس کا ٹکراؤ تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔

    ڈارٹ اسپیس کرافٹ کو امریکا کی جونز ہوپکنز یونیورسٹی نے تیار کیا اور اسے ڈیمورفس کی جانب نومبر 2021 میں روانہ کیا گیا تھا یہ 548.8 کلوگرام وزنی اسپیس کرافٹ 32 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز کی لاگت سے بنایا گیا تھا۔

    100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت

  • برطانیہ میں ٹک ٹاک کو بھاری جرمانے کا سامنا

    برطانیہ میں ٹک ٹاک کو بھاری جرمانے کا سامنا

    لندن: برطانیہ میں بچوں کے پرائیویسی کے تحفظ کو یقینی نہ بنانے پر ٹک ٹاک کو 27 ملین پاؤنڈزجرمانے کا سامنا ہوسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی :برطانوی میڈیا کے مطابق انفارمیشن کمشنر آفس (آئی سی او) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ٹک ٹاک کو نوٹس جاری کیا گیا ہے جو ممکنہ جرمانے کی سزا سنائے جانے کی کارروائی کا آغاز بھی ہے۔

    پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی پر جنوبی کوریا نے گوگل اور میٹا کمپنیوں پر جرمانہ…

    آئی سی او کی تحقیقات میں دریافت کیا گیا کہ ٹک ٹاک کی جانب سے 13 سال سے کم عمر بچوں کے ڈیٹا کو والدین کی اجازت کے بغیر پراسیس کیا جاتا ہے ٹک ٹاک شفاف طریقے سے اپنے صارفین کی تفصیلات فراہم کرنے میں ناکام رہی تھی۔

    آئی سی او کے مطابق ڈیجیٹل سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کا قانونی فرض ہے کہ وہ صارفین کے تحفظ کو یقینی بنائیں، ہماری عبوری تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ٹک ٹاک کمپنی ایسا کرنے میں ناکام رہی ہے۔

    صارفین جو 24 اکتوبر سے واٹس ایپ استعمال نہیں کرسکیں گے

    تحقیقات سے عندیہ ملا ہے کہ ٹک ٹاک نے مئی 2018 سے جولائی 2020 کے دوران یوکے ڈیٹا پروٹیکشن قانون کی خلاف ورزی کی۔

    انفارمیشن کمشنر جان ایڈورڈز نے کہا کہ ہم سب چاہتے ہیں کہ بچے ڈیجیٹل دنیا کو سیکھنے اور اس کا تجربہ کرنے کے قابل ہوں، لیکن ڈیٹا پرائیویسی کے مناسب تحفظات کے ساتھ۔

    اگر سوشل میڈیا کمپنی اس حوالے سے اپنا دفاع کرنے میں ناکام رہی تو اس پر 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالرز تک کا جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔

    دوسری جانب ٹک ٹاک کے ایک ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ہم برطانیہ میں پرائیویسی کے تحفظ کے لیے آئی سی او کے کردار کا احترام کرتے ہیں، مگر ہم ابتدائی تحقیقات کے نتائج سے اتفاق نہیں کرتے اور اس حوالے سے آئی سی او کے سامنے اپنا مؤقف بیان کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    ایپل نے آئی فون 14متعارف کرا دیا, جسمیں سیٹلائٹ کنکٹیویٹی اور کار کریش ڈٹیکشن…

  • 100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت

    100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت

    برمنگھم:سائنسدانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے بدھ کو اعلان کیا کہ انہوں نے صرف 100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت کیے ہیں۔ یہ دونوں ہمارے اپنے سیارےسےنمایاں طور پر بڑے ہیں اور ان میں سے ایک زندگی کے لیے موزوں بھی ہو سکتا ہے جن میں سے ایک کا ماحول ممکنہ طور پرزمین سے مشابہ ہوسکتا ہے۔

    ڈائنو سار کو ناپید کرنے والا شہاب ثاقب وسیع آتشزدگی کا سبب بنا

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق، سپر ارتھ نظام شمسی میں ایکسپوپلینیٹ کا ایک منفرد طبقہ ہے جو ہمارے سیارے سے زیادہ بڑے ہیں وہ گیس اور چٹان کے کچھ امتزاج سے بنتے ہیں اور زمین کی کمیت سے 10 گنا زیادہ ہو سکتے ہیں۔ناسا کے ٹرانزٹنگ ایکسپوپلینیٹ سروے سیٹلائٹ اوریونیورسٹی آف لیج کی سرچ فارہیبی ایبل سیاروں ایکلیپسنگ الٹراکول اسٹارز (SPECULOS) کے ذریعے دریافت ہونے والی یہ دریافتیں فلکیات اور فلکیاتی طبیعیات کے جریدے میں شائع کی جائیں گی۔

    LP 890-9 ستارے کے گرد دو ایگزو پلینٹ LP 890-9b اور LP 890-9c موجود ہیں جن میں قبل الذکر سیارہ پہلے ناسا کے ٹرازِٹنگ ایگزو پلینٹ سروے سیٹلائیٹ (TESS) نے دریافت کیا تھا۔

    2 بہت بڑے بلیک ہولز کے درمیان آئندہ 3 سال کے اندر تصادم متوقع


    اس سیارے کی درجہ بندی یونیورسٹی آف برمنگھم میں نصب اسپیکیولوس (SPECLOOS) ٹیلی اسکوپ نے کی جس نے بعد ازاں دوسرے سیارے کو دریافت کیا LP 890-9b زمین سے 30 فی صد بڑا سیارہ ہے جس کا رداس 5,200 میل سے زیادہ ہے اور یہ اپنے مرکزی ستارے گرد چکر 2.7 دنوں میں مکمل کر لیتا ہے۔

    تاہم، LP 890-9c زمین سے 40 فی صد بڑا ہے اور اس کے مدار کا دورانیہ قدرے بڑا ہے۔ یہ اپنے مرکزی ستارے کے گرد 8.5 دنوں میں چکر مکمل کرتا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سیارے کے اور ستارے درمیانہ فاصلہ اس سیارے کو زندگی کے لیے سازگار بناتا ہےاسپیکیولوس ٹیلی اسکوپ کا مقصد ہمارے نظامِ شمسی سے باہر ایسے چٹیل سیارے ڈھونڈنا ہے جس کا ماحول زندگی کے لیے سازگار ہو۔

    ڈارٹ اسپیس کرافٹ 26 ستمبر کو سیارچے سے ٹکرائے گا،ناسا

    اسپیکیولوس ٹیم، جس نے دوسرے سیارے کی دریافت میں مدد دی، کی رہنمائی کرنے والے پروفیسر امورے ٹرائیڈ کا کہنا تھا کہ ہیبیٹیبل زون ایک ایسا خیال ہے جس کے تحت وہ سیارہ جس کے ارضیاتی اور ماحولیاتی صورت زمین کے مشابہ ہوتا ہے اور اس کی سرزمین پر درجہ حرارت پانی کو اربوں سالوں تک مائع حالت میں رہنے دیتا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ دریافت ہمیں سیارے کے متعلق مزید مشاہدات کرنے کا موقع دیتی ہے کہ آیا اس کا کوئی ماحول ہے اور اگر ایسا ہے تو کیا وہ زندگی گزارنے کے قابل ہے کہ نہیں۔

    گرین لینڈ میں پگھلنے والی برف سطح سمندرمیں ایک فِٹ تک کا اضافہ کرسکتی ہے، تحقیق