Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی  خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

    امریکی خلائی ادارے ناسا کا زمین کو سیارچوں کی ٹکر سے محفوظ رکھنے کے تاریخی مشن کیلئے زمین سے بھیجا گیا تجرباتی ڈارٹ اسپیس کرافٹ سیارچے ڈیمورفس سے ٹکرا گیا ۔

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق ڈارٹ اسپیس کرافٹ 23 ہزار 500 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سیارچے سے ٹکرایا، اس مشن کا مقصد زمین کو کسی خطرناک خلائی چٹان کے ٹکراؤ سے محفوظ رکھنے کی جانچ پڑتال کرنا ہے۔

    ناسا کا پہلا سیاروی دفاعی اسپیس کرافٹ،26 ستمبر کو خلائی چٹان سے ٹکرائے گا


    خلا میں موجود ایک بڑے پتھر سے خلائی جہاز ٹکرانے کا یہ تجربہ زمین سے تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ کلومیٹر دور کیا گیا ہےاس سارے مشن کو خلائی جہاز پر موجود کیمرے سے عکس بندی بھی کی گیا ہے جس سیارچے کو خلائی جہاز نے ہدف بنایا اس کو ڈیمورفوس کا نام دیا گیا ہے جبکہ اس مشن کو ڈارٹ مشن کہا جاتا ہے۔

    آج صبح 4 بج کر 14 منٹ پر اسپیس کرافٹ اور سیارچے کے درمیان ہونے والے تصادم کی تصدیق چند سیکنڈوں بعد ہو گئی جس کا جشن جان ہوپکنز یونیورسٹی اپلائیڈ سائنس لیبارٹری میں مشن کی ٹیم نے منایا –


    تصادم کے نتیجے میں سیارچے میں گڑھے کا پڑنا، خلاء میں چٹانوں کے ٹکڑے اور مٹی کا اڑنااور سب سے اہم چیز سیارچے کا مدار بدلنا متوقع تھا۔

    رواں سال کا دوسرا اور آخری سورج گرہن 25 اکتوبر کو ہوگا

    تاہم، ناسا کو زمین پر لگی ٹیلی اسکوپ سے ڈائمورفس اور اس کے جڑواں سیارچے ڈائیڈِموس کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کے بعد تصادم کے سبب سامنے آنے والے نتائج کو معلوم کرنے میں کم از کم دو ماہ تک کا عرصہ لگے گا اگر مشن کامیاب ہوا یعنی سیارچے کے مدار کا راستہ بدل گیا تو یہ طریقہ زمین کی جانب بڑھنے والے سیارچوں کی روک تھام کے لیے اہم دفاعی ہتھیار ثابت ہوسکے گا۔

    ناسا کا کہنا ہے کہ جس خلائی پتھر کو نشانہ بنایا گیا وہ زمین سے ٹکرانے کے راستے یا مدار میں نہیں ہے اور نہ ہی یہ تجربہ اس پتھر کو حادثاتی طور پر یا غلطی سے زمین کی طرف بھیجے گا۔

    خلا میں موجود سب سے بڑی ٹیلی سکوپ جیمز ویب سمیت دیگر خلائی دور بینوں کے ذریعے اس تجربے کو دیکھا گیا ہے، سائنسدانوں کے مطابق اس تجربے میں خلائی جہاز، سیارچے کے مرکز سے صرف 17 میٹر ہٹ کے ٹکرایا ہے۔

    نظام شمسی کا سب سے برا سیارہ 70 سال بعد زمین کے سب سے قریب

    ڈائمورفس سے اسپیس کرافٹ ٹکرانے کے بعد ناسا پُرامید ہے کہ اس سیارچے کا مدار چھوٹا ہوگا، یعنی اس کا ڈائڈِموس کے گرد چکر لگانے کا دورانیہ 10 منٹ کم ہوا گا جو ابھی 11 گھنٹے اور 55 منٹ ہے۔

    سائنسدان پہلے ہی ایسے بیشتر سیارچوں کو شناخت کرچکے ہیں جو زمین کو تباہ کرسکتے ہیں، مگر فی الحال ان میں سے کوئی بھی ہمارے سیارے کے لیے خطرہ نہیں مگر سائنسدانوں کو ڈر ہے کہ ہزاروں چھوٹے سیارچوں میں کوئی ایک کسی دن زمین کی جانب بڑھ سکتا ہے اور اس کا ٹکراؤ تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔

    ڈارٹ اسپیس کرافٹ کو امریکا کی جونز ہوپکنز یونیورسٹی نے تیار کیا اور اسے ڈیمورفس کی جانب نومبر 2021 میں روانہ کیا گیا تھا یہ 548.8 کلوگرام وزنی اسپیس کرافٹ 32 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز کی لاگت سے بنایا گیا تھا۔

    100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت

  • برطانیہ میں ٹک ٹاک کو بھاری جرمانے کا سامنا

    برطانیہ میں ٹک ٹاک کو بھاری جرمانے کا سامنا

    لندن: برطانیہ میں بچوں کے پرائیویسی کے تحفظ کو یقینی نہ بنانے پر ٹک ٹاک کو 27 ملین پاؤنڈزجرمانے کا سامنا ہوسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی :برطانوی میڈیا کے مطابق انفارمیشن کمشنر آفس (آئی سی او) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ٹک ٹاک کو نوٹس جاری کیا گیا ہے جو ممکنہ جرمانے کی سزا سنائے جانے کی کارروائی کا آغاز بھی ہے۔

    پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی پر جنوبی کوریا نے گوگل اور میٹا کمپنیوں پر جرمانہ…

    آئی سی او کی تحقیقات میں دریافت کیا گیا کہ ٹک ٹاک کی جانب سے 13 سال سے کم عمر بچوں کے ڈیٹا کو والدین کی اجازت کے بغیر پراسیس کیا جاتا ہے ٹک ٹاک شفاف طریقے سے اپنے صارفین کی تفصیلات فراہم کرنے میں ناکام رہی تھی۔

    آئی سی او کے مطابق ڈیجیٹل سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کا قانونی فرض ہے کہ وہ صارفین کے تحفظ کو یقینی بنائیں، ہماری عبوری تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ٹک ٹاک کمپنی ایسا کرنے میں ناکام رہی ہے۔

    صارفین جو 24 اکتوبر سے واٹس ایپ استعمال نہیں کرسکیں گے

    تحقیقات سے عندیہ ملا ہے کہ ٹک ٹاک نے مئی 2018 سے جولائی 2020 کے دوران یوکے ڈیٹا پروٹیکشن قانون کی خلاف ورزی کی۔

    انفارمیشن کمشنر جان ایڈورڈز نے کہا کہ ہم سب چاہتے ہیں کہ بچے ڈیجیٹل دنیا کو سیکھنے اور اس کا تجربہ کرنے کے قابل ہوں، لیکن ڈیٹا پرائیویسی کے مناسب تحفظات کے ساتھ۔

    اگر سوشل میڈیا کمپنی اس حوالے سے اپنا دفاع کرنے میں ناکام رہی تو اس پر 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالرز تک کا جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔

    دوسری جانب ٹک ٹاک کے ایک ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ہم برطانیہ میں پرائیویسی کے تحفظ کے لیے آئی سی او کے کردار کا احترام کرتے ہیں، مگر ہم ابتدائی تحقیقات کے نتائج سے اتفاق نہیں کرتے اور اس حوالے سے آئی سی او کے سامنے اپنا مؤقف بیان کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    ایپل نے آئی فون 14متعارف کرا دیا, جسمیں سیٹلائٹ کنکٹیویٹی اور کار کریش ڈٹیکشن…

  • 100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت

    100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت

    برمنگھم:سائنسدانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے بدھ کو اعلان کیا کہ انہوں نے صرف 100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت کیے ہیں۔ یہ دونوں ہمارے اپنے سیارےسےنمایاں طور پر بڑے ہیں اور ان میں سے ایک زندگی کے لیے موزوں بھی ہو سکتا ہے جن میں سے ایک کا ماحول ممکنہ طور پرزمین سے مشابہ ہوسکتا ہے۔

    ڈائنو سار کو ناپید کرنے والا شہاب ثاقب وسیع آتشزدگی کا سبب بنا

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق، سپر ارتھ نظام شمسی میں ایکسپوپلینیٹ کا ایک منفرد طبقہ ہے جو ہمارے سیارے سے زیادہ بڑے ہیں وہ گیس اور چٹان کے کچھ امتزاج سے بنتے ہیں اور زمین کی کمیت سے 10 گنا زیادہ ہو سکتے ہیں۔ناسا کے ٹرانزٹنگ ایکسپوپلینیٹ سروے سیٹلائٹ اوریونیورسٹی آف لیج کی سرچ فارہیبی ایبل سیاروں ایکلیپسنگ الٹراکول اسٹارز (SPECULOS) کے ذریعے دریافت ہونے والی یہ دریافتیں فلکیات اور فلکیاتی طبیعیات کے جریدے میں شائع کی جائیں گی۔

    LP 890-9 ستارے کے گرد دو ایگزو پلینٹ LP 890-9b اور LP 890-9c موجود ہیں جن میں قبل الذکر سیارہ پہلے ناسا کے ٹرازِٹنگ ایگزو پلینٹ سروے سیٹلائیٹ (TESS) نے دریافت کیا تھا۔

    2 بہت بڑے بلیک ہولز کے درمیان آئندہ 3 سال کے اندر تصادم متوقع


    اس سیارے کی درجہ بندی یونیورسٹی آف برمنگھم میں نصب اسپیکیولوس (SPECLOOS) ٹیلی اسکوپ نے کی جس نے بعد ازاں دوسرے سیارے کو دریافت کیا LP 890-9b زمین سے 30 فی صد بڑا سیارہ ہے جس کا رداس 5,200 میل سے زیادہ ہے اور یہ اپنے مرکزی ستارے گرد چکر 2.7 دنوں میں مکمل کر لیتا ہے۔

    تاہم، LP 890-9c زمین سے 40 فی صد بڑا ہے اور اس کے مدار کا دورانیہ قدرے بڑا ہے۔ یہ اپنے مرکزی ستارے کے گرد 8.5 دنوں میں چکر مکمل کرتا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سیارے کے اور ستارے درمیانہ فاصلہ اس سیارے کو زندگی کے لیے سازگار بناتا ہےاسپیکیولوس ٹیلی اسکوپ کا مقصد ہمارے نظامِ شمسی سے باہر ایسے چٹیل سیارے ڈھونڈنا ہے جس کا ماحول زندگی کے لیے سازگار ہو۔

    ڈارٹ اسپیس کرافٹ 26 ستمبر کو سیارچے سے ٹکرائے گا،ناسا

    اسپیکیولوس ٹیم، جس نے دوسرے سیارے کی دریافت میں مدد دی، کی رہنمائی کرنے والے پروفیسر امورے ٹرائیڈ کا کہنا تھا کہ ہیبیٹیبل زون ایک ایسا خیال ہے جس کے تحت وہ سیارہ جس کے ارضیاتی اور ماحولیاتی صورت زمین کے مشابہ ہوتا ہے اور اس کی سرزمین پر درجہ حرارت پانی کو اربوں سالوں تک مائع حالت میں رہنے دیتا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ دریافت ہمیں سیارے کے متعلق مزید مشاہدات کرنے کا موقع دیتی ہے کہ آیا اس کا کوئی ماحول ہے اور اگر ایسا ہے تو کیا وہ زندگی گزارنے کے قابل ہے کہ نہیں۔

    گرین لینڈ میں پگھلنے والی برف سطح سمندرمیں ایک فِٹ تک کا اضافہ کرسکتی ہے، تحقیق

  • اداسی محسوس ہو تو  دریا یا نہر پر چلے جانا مزاج کو بہتر کر سکتا ہے،تحقیق

    اداسی محسوس ہو تو دریا یا نہر پر چلے جانا مزاج کو بہتر کر سکتا ہے،تحقیق

    ندن: ماہرین نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ جب آپ اداس محسوس کر رہے ہوں تو سیر کے لیے دریا یا نہر پر چلے جانا آپ کے مزاج کو بہتر کر سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : 31 اگست 2022 کو پلس ون ( Plos One journal) نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں مزید کہا گیا کہ نہریں اور دریا کی سیر 24 گھنٹے تک آپ کی صحت کو بہتر بنا سکتی ہیں۔

    گرین لینڈ میں پگھلنے والی برف سطح سمندرمیں ایک فِٹ تک کا اضافہ کرسکتی ہے، تحقیق

    کنگز کالج لندن میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق ایسی جگہیں جہاں پانی اور سبزہ زار سمیت جنگلی حیات موجود ہو اس کا ہماری صحت پر صرف سبز ماحول کی نسبت زیادہ بہتر اثرات ہوتے ہیں۔

    محققین نے اربن مائنڈ نامی ایک فون ایپ کا استعمال کرتے ہوئے ہزاروں لوگوں کی جگہ اور ذہنی صحت کے متعلق اس وقت کے احساسات اکٹھے کیے اس تحقیق میں مجموعی طور پر 299 افراد کے 7,975 جائزے مکمل کیے، جن میں سے 87 افراد ذہنی مسائل میں مبتلا تھے-

    پروفیسر اینڈریا میکلی نے کہا کہ نہروں اور ندیوں میں نہ صرف پانی ہوتا ہے بلکہ درختوں اور پودوں کی بھی کثرت ہوتی ہے، جس کا مطلب ہےکہ سبزے اور پانی سے جُڑے کئی گُنا فوائد کی وجہ سے یہ ماحول ذہنی صحت کو بہتر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ نہریں اور دریا متعدد جنگلی حیات کا مسکن ہوتے ہیں اور ایک دوسرے مطالعے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جنگلی حیات کے بھی ذہنی صحت پر مثبت اثرات ہوتے ہیں-

    اپنی نوعیت کی منفرد تحقیق کے نتائج میں ذہنی صحت اور دریاؤں اور نہروں کی سیر کے درمیان مثبت تعلق پایا گیا۔ تحقیق میں اس ماحول کا دیگر ماحول کی نسبت تحفظ کا احساس اور سماجی شمولیت کے حوالےسے مثبت تجربہ بھی پایا گیا۔

    رشتہ دار نہ ہونے کےباوجود 2 افراد کی شکلیں ایک جیسی کیوں ہوتی ہیں؟

    وہ لوگ جنہوں نے آبی ذخائر کے قریب زیادہ وقت گزارا انہوں نے دیگر تمام مقامات کے مقابلے میں حفاظت اور سماجی شمولیت کے جذبات کا اظہار کیا، جیسے گھر کے اندر، باہر شہری ماحول میں، یا پانی سے محروم علاقوں کے قریب۔عمر، جنس، تعلیمی سطح اور دماغی صحت کے مسئلے کی تشخیص سمیت متغیرات پر غور کرنے کے بعد بھی یہ ربط برقرار رہا۔

    مطالعہ میں بتایا گیا کہ ذہنی صحت کے مسائل کو منظم کرنے کے لیے سماجی تجویز کردہ پروگراموں میں دریاؤں اور نہروں کے دورے کو شامل کیا جانا چاہیے۔

    میکلی نے مزید کہا، یہ نتائج اس بات کا ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ ہم پانی اور بہبود کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور اس تجویز کی حمایت کرتے ہیں کہ نہروں اور دریاؤں کے دورے سماجی تجویز کردہ اسکیموں کا حصہ بن سکتے ہیں، جو دماغی صحت کی حمایت میں کردار ادا کرتے ہیں۔

    زیادہ سوچنا دماغ میں زہریلے کیمیکلز کی نشوونما کا باعث بن سکتا ہے،تحقیق

    مطالعہ کے نتائج میں نوٹ کیا گیا کہ شہری اور دیہی مناظر کی منصوبہ بندی اور تخلیق کرنے کے لیے جو تمام باشندوں کی ذہنی صحت کو سپورٹ کرتے ہیں، ان ماحولیاتی نظام کے اثرات کے بارے میں زیادہ گہرے علم کی ضرورت ہوگی۔

    شرکاء نے اپنے اسمارٹ فونز پر اربن مائنڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کی اور مخصوص تحقیقی مطالعہ تک رسائی کے لیے پاس کوڈ ‘واٹر’ درج کیا۔ انہیں متعدد اسکرینیں دکھائی گئیں جن میں ان کی باخبر رضامندی کی درخواست کرنے سے پہلے مطالعہ کے اہداف کی تفصیل دی گئی تھی۔

    اس کے بعد، شرکاء کو ایک بنیادی سروے مکمل کرنے کی ضرورت تھی جس میں ان سے ان کی عمر، جنس، نسل، تعلیم کی سطح اور دیگر سماجی-آبادیاتی تفصیلات کے ساتھ ساتھ ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔

    شرکاء سے 14 دنوں میں، تقریباً 2 منٹ تک جاری رہنے والا ایک مختصر ماحولیاتی لمحاتی جائزہ (EMA) مکمل کرنے کی درخواست کی گئی۔ EMAs کے لیے پش نوٹیفیکیشنز شرکاء کو روزانہ تین بارمختلف وقفوں میں تقسیم کیے گئے-

    تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں،تحقیق

  • زمین سے 100 سال کے نوری فاصلے پرسمندر سے ڈھکا سیارہ دریافت

    زمین سے 100 سال کے نوری فاصلے پرسمندر سے ڈھکا سیارہ دریافت

    ماہرین فلکیات نے زمین سے تقریباً 100 نوری سال کے فاصلے پر ڈریکو کونسٹیلیشن(جھرمٹ) میں گہرے سمندر کا حامل ایک سیارہ دریافت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : یہ دریافت کینیڈا کی یونیورسٹی آف مونٹریال کے محقق ڈاکٹر چارلس کیڈیکس کی رہنمائی میں کام کرنے والی ایک بین الاقوامی ٹیم نے کی جو آسٹرونومیکل جرنل میں شائع ہوئی۔

    نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت

    TOI-1452b نامی یہ ایگزو پلانیٹ ہے یعنی یہ نظامِ شمسی سےماورا ایک سیارہ ہے۔ یہ زمین سے 100 نوری سال کے فاصلے پر ہے اور زمین سے تھوڑا بڑا ہے یونیورسٹی آف مونٹریال کے محققین نے اس بات کا تعین کیا ہے کہ یہ سیارہ ’گولڈی لاک زون‘ میں واقع ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں مائع پانی کے وجود کے لیے درجہ حرارت نہ تو زیادہ گرم ہوتا ہے نہ ٹھنڈا ہوتا ہے۔

    لہٰذا، ماہرینِ فلکیات کا خیال ہے کہ یہ سیارہ سمندر سے ڈھکا ہوا ہے واضح رہے کہ گولڈی لاک اصطلاح ایک کہانی سے لی گئی ہے اور یہ خلا میں ایسے مقام کے لیے استعمال ہوتی ہے جہاں نہ سیارہ اپنے سورج سے مناسب فاصلے پر ہوتا ہے، اس کا درجہ حرارت نہ زیادہ گرم ہوتا ہے اور نہ ہی بہت سرد ہوتا ہے۔

    ماہرین کےمطابق یہ ایگزو پلانیٹ ایک قریبی بائینری ایم ڈوارف( بونے) ستارے کے گرد گھومتا ہے۔

    یونیورسٹی آف مونٹریال کے فلکی طبیعیات کے پی ایچ ڈی کے طالب علم چارلس کیڈیکس کے مطابق TOI-1452b اب تک کے دریافت ہونے والے سیاروں میں سمندر کے سب سے زیادہ آثار والا سیارہ ہے۔ اس کا ریڈیس اور وزن اس کی کثافت دھات اور چٹانوں سے بنے سیاروں کی نسبت بہت کم ظاہر کرتے ہیں جیسے کہ زمین-

    سرخ سیارے پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا تفصیلی نقشہ تیار

    TOI-1452 b پہلی بار ماہرین فلکیات کی توجہ خلاء میں 2018 سے فعال ناسا کی TESS ٹیلی اسکوپ نے سائنس دانوں کو اس ایگزو پلینٹ کے وجود کے متعلق آگاہ کیااسپیس کرافٹ کے ذریعے حاصل ہوا-

    ستارہ TOI-1452 b مدار ایک بائنری ستارے کے نظام کا حصہ ہے، اور ٹیس کے پاس اس نظام میں انفرادی ستاروں کو حل کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ یونیورسٹی کی آبزرویٹری ڈو مونٹ میگنٹک (OMM) رصد گاہ، تاہم، نئے تجزیاتی طریقوں کے ساتھ، اس بات کی تصدیق کرنے میں کامیاب رہی کہ TOI-1452 b موجود ہے۔

    او ایم ایم نے اس سگنل کی نوعیت کی تصدیق کرنے اور سیارے کے رداس کا اندازہ لگانے میں اہم کردار ادا کیا،” مسٹر سیڈیکس نے کہا یہ کوئی معمول کی جانچ نہیں تھی۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ TESS کے ذریعے پتہ چلا سگنل واقعی TOI-1452 کے گرد چکر لگانے والے ایک سیارہ کی وجہ سے ہوا تھا، جو اس بائنری سسٹم کے دو ستاروں میں سب سے بڑا ہے۔

    تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں،تحقیق

    ہوائی میں کینیڈا-فرانس-ہوائی ٹیلی سکوپ پر نصب ایک آلے نے پھر سیارے کی کمیت کی پیمائش کی۔

    زمین کے برعکس، جو زیادہ تر پتھریلا اور دھاتی سیارہ ہے جس کی سطح کا تقریباً 70 فیصد حصہ پانی پر محیط ہےایسا لگتا ہے کہ TOI-1452 b بڑے پیمانے پر، لیکن مکمل طور پر نہیں، پانی سے بنا ہوا ہےجس کا تقریباً 30% حصہ مائع سے آتا ہےیہ ایک طرح کا گہرا عالمی سمندر ہے جو زمین کے سمندروں کےمقابلے میں زحل کے چاند اینسیلاڈس کی برفیلی پرت کےنیچےموجود گہرے پانیوں سے مشابہت رکھتا ہے پانی ہمارے سیارے کی کمیت کا 1 فیصد سے بھی کم حصہ بناتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا تھا کہ اس سیارے کے متعلق مزید معلومات تب حاصل ہوگی جب جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ اس کے اطراف کے ماحول کا جائزہ لے گی ایگزو پلینٹ ایسے سیارے ہوتے ہیں جو نظامِ شمسی سے باہر وجود رکھتے ہیں۔

    یہ ابھی تک یقین نہیں ہے کہ TOI-1452 b ایک سمندری دنیا ہے، اور اس کے پانیوں میں اجنبی زندگی کی دریافت کے امکانات کے لیے اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے، لیکن محققین نے نوٹ کیا کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ کو جلد ہی اسرار کو عبور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس عجیب نئی آبی دنیا کی-

    ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار

  • ذیابیطس سے بینائی سے محروم ہونیوالوں کیلئے کم لاگت والا نیا لیزر علاج دریافت

    ذیابیطس سے بینائی سے محروم ہونیوالوں کیلئے کم لاگت والا نیا لیزر علاج دریافت

    سان فرانسسكو: ایک نئی تحقیق کے مطابق ذیابیطس کےنتیجےمیں بینائی سے محروم ہوجانے والے مریضوں کے لیے کم لاگت والا اور مؤثر نیا لیزر علاج دریافت ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : ذیابیطس کے نتیجے میں بینائی سے محروم مریضوں کے علاج پر تحقیق کرنے والے ایک نئے کلینیکل ٹرائل نے لیزر علاج کی ایک قسم کو متعارف کرایا ہے، جو مریضوں اور صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والوں کے لیے بہترین آپشن پیش کرتا ہے-

    تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں،تحقیق

    تاہم فی الحال ڈائیبیٹک میکیولر اوئیڈِما(ڈی ایم او) میں مبتلا افراد کو متعدد علاج میسر ہیں جن میں دو قسم کے لیزر علاج اور آنکھوں کےانجیکشنز شامل ہیں۔

    اس وقت ذیابیطس میکیولر اوئیڈِما (DMO) والے لوگوں کو علاج کے کئی اختیارات پیش کیے جاتے ہیں، بشمول دو قسم کے لیزر علاج اور آنکھوں کے انجیکشن۔ ڈی ایم او ذیا بیطس کےمریضوں کی بینائی کو پیش آنے والا سب سے عام مسئلہ ہے جس میں 2 کروڑ 70 لاکھ سے زائد افراد مبتلا ہیں۔

    ڈی ایم او تب ہوتا ہے جب ریٹینا میں موجود خون کی رگیں رسنے لگتی ہیں اور بالکل سامنے کا منظر دکھانے والے حصے ’میکیولا‘ پر مواد جمع ہوجاتا ہے۔رگوں کا رسنا تب شروع ہوتا ہےجب بلند بلڈ شوگر خون کی رگوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔

    محققین عطیہ کیے گئے گردے کا بلڈ گروپ بدلنے میں کامیاب

    ڈی ایم او کی شدت کا تعین اکثر میکولا کی موٹائی کی پیمائش کے ذریعے کیا جاتا ہے، جو بدلے میں پیش کردہ علاج کا تعین کرے گا۔ زیادہ شدید DMO والے مریضوں (400 مائیکرون یا اس سے زیادہ موٹائی کے ساتھ) کا علاج آنکھوں میں انجیکشن لگا کر کیا جاتا ہے، جسے asanti-VEGFs کہا جاتا ہے۔

    ہلکے DMO والے مریضوں (400 مائیکرون سے کم موٹائی کے ساتھ) کا علاج میکولر لیز سے کیا جا سکتا ہے، جو معیاری تھریشولڈ لیزر یا سب تھریشولڈ مائکرو پلس لیزر ہو سکتا ہے۔ سابقہ ​​ریٹنا پر جلن یا داغ پیدا کرتا ہے۔ مؤخر الذکر، جو کہ ایک جدید ترین ٹیکنالوجی ہے، ریٹینا پر جلنے یا داغ یا کسی بھی قسم کی نظر آنے والی تبدیلی یا نشان چھوڑے بغیر کام کرتی ہے۔

    اوپھتھیمولوجی نامی جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق میں معلوم ہوا کہ سب تھریش ہولڈ مائیکرو پلس لیزر مریض کی بینائی کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر تھی۔ اس لیزر سے ریٹینا پر جلن بھی نہیں ہوتی ہے۔

    اس لیزرعلاج کےلیے متواتر کلینک جانے کی بھی ضرورت نہیں ہےاور اس کی قیمت آنکھوں میں لگائےجانے والے انجیکشنز کی نسبت بہت کم ہے۔ ان انجیکشنز کی قیمت لیزر علاج سے دس گُنا زیادہ ہے۔

    زیادہ سوچنا دماغ میں زہریلے کیمیکلز کی نشوونما کا باعث بن سکتا ہے،تحقیق

  • نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت

    نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت

    واشنگٹن: ناسا کی جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے ہمارے نظامِ شمسی سے باہر موجود ایک سیارے کے ماحول میں پہلی بار کاربن ڈائی آکسائیڈ کی دریافت کی ہے۔

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق 700 نوری سال کے فاصلے پر سورج جیسے ستارے کے گرد گردش کرنے والے ایک گیسی سیارے کی اس مشاہدے سے سیارے کی ساخت اور تشکیل کے بارے میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں ٹیلی اسکوپ کی جانب سے کی جانے والی اس دریافت سے یہ بات سامنے آتی ہے خلاء میں موجود یہ مشاہدہ گاہ ممکنہ طور پر زندگی کے متحمل چھوٹے اور چٹیل سیاروں کے باریک ماحول میں موجود گیس کی نشان دہی اور پیمائش کرسکتی ہے۔

    سرخ سیارے پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا تفصیلی نقشہ تیار


    ماہرین کے مطابق WASP-39 bایک گرم گیس کا گولا ہے جو زمین سے 700 نوری سال کے فاصلے پر موجود سورج جیسے ایک ستارے کے گرد گھوم رہا ہے اس سیارے کا وزن مشتری کے ایک چوتھائی وزن (تقریباً زحل کے برابر) کے برابر ہے جبکہ اس کا قطر مشتری سے 1.3 گُنا بڑا ہے۔

    اس سیارے کے یوں پھولے ہوئے ہونے کی وجہ اس کا شدید درجہ حرارت ہے، جو سائنس دانوں کے اندازے کے مطابق تقریبا 1,600 ڈگری فارن ہائیٹ یا 900 ڈگری سیلسیس تک ہے۔


    ہمارے نظامِ شمسی کے دیگر گیس کے گولوں کے برعکس WASP-39 b اپنے مرکزی ستارے کے بہت قریب گردش کرتا ہے۔ اس سیارے اور اس کے ستارے کے درمیان فاصلہ، سورج اور عطارد کے درمیان فاصلے کا آٹھواں حصہ ہے۔ یہ سیارہ اپنے ستارے کے گرد ایک چکر چار زمینی دنوں میں مکمل کر لیتا ہے۔


    اس سیارے کی دریافت 2011 میں زمین پر نصب ٹیلی اسکوپ سے ہوئی تھی ناسا کی ہبل اور سپٹزر خلائی دوربینوں سمیت دیگر دوربینوں کے پچھلے مشاہدات نے سیارے کی فضا میں پانی کے بخارات، سوڈیم اور پوٹاشیم کی موجودگی کا انکشاف کیا تھا تاہم، اپنی مثال آپ انفراریڈ سینسٹیویٹی کی حامل جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے اب اس سیارے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی موجودگی کی تصدیق کردی ہے۔

    نا سا ماہرین کے مطابق منتقل کرنے والے سیارے جیسے WASP-39 b، جن کے مدار کا اوپر سے بجائے کنارے پر مشاہدہ کرتے ہیں، محققین کو سیاروں کے ماحول کی تحقیقات کے لیے مثالی مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔

    ٹرانزٹ کے دوران، کچھ ستاروں کی روشنی سیارے سے مکمل طور پر گرہن ہوتی ہے (مجموعی طور پر مدھم ہونے کی وجہ سے) اور کچھ سیارے کے ماحول سے منتقل ہوتی ہے۔

    چونکہ مختلف گیسیں رنگوں کے مختلف امتزاج کو جذب کرتی ہیں، محققین طول موج کے طول موج میں منتقل ہونے والی روشنی کی چمک میں چھوٹے فرق کا تجزیہ کر سکتے ہیں تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ ماحول کس چیز سے بنا ہے۔ فلایا ہوا ماحول اور بار بار آمدورفت کے امتزاج کے ساتھ، WASP-39 b ٹرانسمیشن سپیکٹروسکوپی کے لیے ایک مثالی ہدف ہے۔

    ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار

  • سائنسدانوں کا ایک صدی قبل معدوم ہوئےتسمانین ٹائیگر کودوبارہ وجود میں لانے کا اعلان

    سائنسدانوں کا ایک صدی قبل معدوم ہوئےتسمانین ٹائیگر کودوبارہ وجود میں لانے کا اعلان

    امریکی سائنسدانوں نے تسمانین ٹائیگر کو معدوم ہونے کے تقریباً 100 سال بعد دوبارہ وجود میں لانے کے منصوبے کا انکشاف کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تسمانین ٹائیگرکا سائنسی نام تھائلاسائن ہے، اس کی نسل 1930ء کی دہائی میں معدوم ہونے سے قبل لاکھوں سال سے کرہ ارض پر موجود تھی اس کی نسل کو تقریباً ایک صدی قبل معدوم ہونے کے بعد بہت نقصان پہنچا تھا۔

    1 کروڑ 80 لاکھ سال قبل زمین پر پائے جانیوالے دیو ہیکل مگرمچھوں کی نئی اقسام دریافت

    سائنسدانوں کے مطابق تھائلاسائن ماضی میں آسٹریلیا اور نیو گنی کی سرزمین پر بڑی تعداد میں موجود تھے لیکن 3000 سال قبل یہ اس علاقےسے معدوم ہوگئے۔ باقی ماندہ تعداد تسمانیہ کے جزیرے تک محدود رہ گئی جنہیں شکار کر کے 20 ویں صدی کی ابتدا میں ختم کردیا گیا۔

    طویل عرصے سے یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ ان کے معدوم ہونے میں انسانوں اور کتوں کا بڑا حصہ ہے اس نسل کا آخری جانور ہوبرٹ کے چڑیا گھر میں 1936ء میں مرا تھا تاہم اب امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں قائم ایک اسٹارٹ اپ کولوسل بائیو سائنسز نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسٹیم سیل ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اس جانور کو دوبارہ وجود میں لانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

    سعودی عرب میں سمندری چھپکلی کی 80 ملین سال پرانی باقیات دریافت

    کولوسل بائیوسائنسز نے دعویٰ کیا ہے کہ تھائلاسائن کے واپس آنے سے نہ صرف دنیا کو ایک مشہور جانور واپس ملے گا بلکہ اس میں تسمانیہ اور آسٹریلیا کی ماحولیات میں توازن قائم کرنے کی صلاحیت بھی ہوگی-

    کولوسل بائیو سائنسزنے میلبورن یونیورسٹی کے ساتھ مل کر معدوم ہونے والی نسلوں کو واپس لانے کے ایک پرجوش منصوبے پر کام کیا ہے۔

    یونیورسٹی کی تھائلاسائن انٹیگریٹڈ جینیاتی بحالی ریسرچ لیب کے سربراہ ڈاکٹر اینڈریو پاسک نے کہا کہ ‘یہ مرسوپیئل ریسرچ کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے اور ہمیں اس خواب کو حقیقت بنانے کے لیےکولوسل کے ساتھ مل کر کام کرنے پر فخر محسوس ہوتا ہےاس پروجیکٹ سے حاصل ہونے والی ٹیکنالوجی اور اہم سیکھنے سے مرسوپیل کے تحفظ کی کوششوں کی اگلی نسل پر بھی اثر پڑے گا۔

    مزید برآں، تسمانیہ کے زمین کی تزئین میں تھائلاسائن کو دوبارہ پھیلانا حملہ آورجانوروں کی وجہ سے اس قدرتی رہائش گاہ کی تباہی کو نمایاں طور پر روک سکتا ہے۔

    دنیا کا واحد زہریلا پرندہ دریافت

  • ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار

    ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار

    امریکی خلائی ادارہ ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار ہے اور اس کے لیے نیا طاقتور راکٹ تیار کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ناسا کے نئے اسپیس لانچ سسٹم (ایس ایل ایس) نامی نیا میگا راکٹ کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر کے لانچ پیڈ پر پہنچایا جارہا ہے یہ راکٹ وہاں سے 29 اگست کو چاند کے مشن پر بھیجا جائے گا۔

    چاند پر پہلا قدم رکھنے والے خلاءبازوں کے قدموں کے نشان 53 سال بعد بھی موجود


    پہلے مشن میں انسانوں کو نہیں بھیجا جائے گا مگر مستقبل کے مشنز میں انسانوں کو 5 دہائیوں کے بعد چاند پر بھیجا جائے گا۔


    یہ نیا راکٹ لگ بھگ 100 میٹر لمبا ہے جسے 16 اگست کی شب (مقامی وقت کے مطابق) لانچ پیڈ کی جانب بھیجا گیا جس کو منزل پر پہنچنے کے لیے 11 گھنٹے کا وقت لگے گا۔

    ناسا ایک بار پھر چاند پرمشن روانہ کیلئے تیار

    اس راکٹ سے آرٹیمس 1 نامی مشن کو بھیجا جائے گا تاکہ مستقبل کے انسانی مشنز کے لیے سسٹم کی آزمائش ہوسکے آرٹیمس 1 کے بغیر انسانوں کے اولین مشن میں ناسا کے اورین اسپیس کرافٹ اور یورپین ایجنسی کے سروس موڈیول کو چاند پر بھیجا جائے گا اس مشن میں اون بھرا کھلونا بھی خلاباز کے طور پر سوار ہوگا۔


    ناسا کو توقع ہے کہ اس مشن کی کامیابی کے بعد آرٹیمس 2 مشن کو 2024 تک بھیجا جاسکے گا جس میں خلابازوں کو چاند پر پہنچایا جائے گا اس کے بعد 2025 میں آرٹیمس 3 مشن کو بھیجا جائے گا ان مشنز کی کامیابی کے بعد ناسا کی جانب سے 2030 کی دہائی میں انسانوں کو مریخ پر بھیجا جائے گا۔


    واضح رہے کہ قبل ازیں یورپین اسپیس ایجنسی نے اعلان کیا تھا کہ شوان دی شیپ (برطانیہ کا ایک معروف ٹی وی کردار) نئے اسپیس لانچ سسٹم کی پہلی پرواز کا حصہ ہوگی، جس سے آرٹیمس پروگرام کا آغاز ہوگا اسی پروگرام کے تحت آئندہ چند برسوں میں چاند پر انسانوں کی واپسی ہوگی۔

    کائناتی تتلی : آپس میں ٹکراتی دو کہکشاؤں کی خوبصورت تصویر جاری

    ناسا نے زمین سے 50 کروڑ نوری سال کے فاصلے پرکہکشاں کی رنگین تصاویر جاری کر دیں

  • محققین عطیہ کیے گئے گردے کا بلڈ گروپ بدلنے میں کامیاب

    محققین عطیہ کیے گئے گردے کا بلڈ گروپ بدلنے میں کامیاب

    برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے ماہرین نے ایسے 3 گردوں کا بلڈ گروپ بدلنے میں کامیابی حاصل کی جو انتقال کرجانے والے افراد نے عطیہ کیے تھے۔

    باغی ٹی وی : ماہرین کو توقع ہے کہ اس پیشرفت سے گردوں کے ٹرانسپلانٹ کے لیے سپلائی میں اضافہ ہوسکے گا، بالخصوص ایسے افراد کے لیے جن کے لیے عطیہ کیے گئے گردوں کے میچ ہونے کا امکان کم ہوتا ہے۔

    گردوں کو صحتمند رکھنے والی چند غذائیں

    تحقیق میں شامل پروفیسر مائیک نکلسن اور پی ایچ ڈی۔ طالبہ سیرینا میک ملن نے اس مقصد کے لیے normothermic perfusion machine نامی ڈیوائس کو انسانی گردوں سے منسلک کیا تاکہ اس عضو میں آکسیجن ملے خون کی گردش یقینی ہونے سے اسے زیادہ عرصے تک محفوظ رکھ جاسکے۔

    بعد ازاں خون کو ایک انزائمے کے ساتھ خارج کردیا گیا، یہ انزائمے ایک مالیکیولر قینچی کی طرح کام کرتے ہوئے بلڈ گروپ کا تعین کرنے والے عناصر کو ختم کرکے اسے سب سے عام قسم O ٹائپ میں بدل دیتا ہے۔

    A بلڈ گروپ والے شخص کا گردہ B بلڈ گروپ والے شخص میں ٹرانسپلانٹ نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی دوسرے طریقے سے۔ لیکن خون کی قسم کو یونیورسل O میں تبدیل کرنے سے مزید ٹرانسپلانٹ ہونے کا موقع ملے گا کیونکہ O کسی بھی بلڈ گروپ والے لوگوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    میک ملن نے کہا کہ "ہمارے اعتماد میں واقعی اضافہ ہوا جب انزائمے کے استعمال سے گردوں میں خون کے گروپ کا تعین کرنے والے اینٹی جینز بہت تیزی سے ختم ہوگئے اس کے بعد ہم جانتے تھے کہ یہ عمل ممکن ہے اور پھر ہم نے انسانی گردوں پر اس کی آزمائش کی۔

    ملن نے کہا کہ اس مقصد کے لیے B بلڈ گروپ والے انسانی گردوں میں مشین کا استعمال کرتے ہوئےبی گردوں میں انزائمے کو شامل کیا گیا ہم نے دیکھا کہ چند گھنٹوں میں وہ O قسم میں تبدیل ہو گیا-

    گُردوں کے امراض جدید تحقیق کی روشنی میں

    یہ دریافت نسلی اقلیتی گروہوں کے لوگوں کےلیے خاص طور پراثر انداز ہوسکتی ہے جو اکثر کاکیشین مریضوں کے مقابلے میں ٹرانسپلانٹ کے لیے ایک سال طویل انتظار کرتے ہیں۔

    اقلیتی برادریوں کے لوگوں کے پاس B قسم کا خون ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے اور ان آبادیوں کی طرف سے عطیہ کرنے کی موجودہ شرح کم ہونے کے باعث گردے کافی نہیں ہوتے کہ عطیہ کئے جا سکیں 2020/21 میں، اعضاء کےکل عطیات کاصرف 9فیصد سیاہ فام اور اقلیتی نسلی عطیہ دہندگان سے آیا جب کہ سیاہ اور اقلیتی نسلی مریض گردے کی پیوند کاری کی انتظار کی فہرست میں 33 فیصد ہیں۔

    اب کیمبرج ٹیم کی جانب سے یہ دیکھا جائے گا کہO گروپ میں منتقل کیے جانے والے گردے کسی مریض کے جسم میں کیسے کام کرتے ہیں-

    پرفیوژن مشین انہیں لوگوں میں ٹیسٹ کرنے سے پہلے ایسا کرنے کی اجازت دیتی ہے، کیونکہ وہ گردے لے سکتے ہیں جو O قسم میں تبدیل ہو چکے ہیں، مختلف خون کی اقسام کو متعارف کرانے کے لیے مشین کا استعمال کر سکتے ہیں اور یہ مانیٹر کر سکتے ہیں کہ گردہ کس طرح کا رد عمل ظاہر کر سکتا ہے، جس میں ٹرانسپلانٹ کے عمل کو نقل کیا جا سکتا ہے۔

    خون میں کولیسٹرول۔لیول کیسے کم کر سکتے ہیں?

    ٹرانسپلانٹ سرجری کے پروفیسر نکلسن نے کہا کہ عطیہ کیے گئے گردے کی پیوند کاری کی جانے والی سب سے بڑی پابندیوں میں سے ایک یہ حقیقت ہے کہ آپ کے خون کے گروپ کے مطابق ہونا ضروری ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کے خلیوں پر اینٹی جینز اور مارکر موجود ہیں جو A یا B ہو سکتے ہیں۔ آپ کا جسم قدرتی طور پر ان کے خلاف اینٹی باڈیز تیار کرتا ہے جو آپ کے پاس نہیں ہیں۔

    "بلڈ گروپ کی درجہ بندی کا تعین نسلی بنیادوں پر بھی کیا جاتا ہے اور نسلی اقلیتی گروہوں میں بی قسم کے نایاب ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہےخون کے گروپ کو یونیورسل O قسم میں کامیابی کے ساتھ منتقل کرنے کے بعد، ہمیں اب یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ہمارے طریقے طبی ترتیب میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اور بالآخر ٹرانسپلانٹیشن تک لے جایا جاتا ہے۔

    کڈنی ریسرچ یو کے میں ریسرچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر آئسلنگ میک موہن نے کہا،مائیک اور سرینا جو تحقیق کر رہے ہیں وہ ممکنہ طور پر گیم چینج کرنے والی ہے۔ ٹیم نے اتنے کم وقت میں جو پیشرفت کی ہے اسے دیکھنا ناقابل یقین حد تک متاثر کن ہے۔ ، اور ہم اگلے اقدامات دیکھنے کے لیے پرجوش ہیں۔

    مٹر میں چھپے صحت کے راز

    میک موہن نے کہا کہ ایک تنظیم کے طور پر، ہم اس تحقیق کو فنڈ دینے کے لیے پرعزم ہیں جو علاج کو تبدیل کرتی ہے اور صحت کی ناہمواریوں سے نمٹتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اقلیتی نسلی گروہوں کےلوگ ٹرانسپلانٹ کے لیے زیادہ انتظار کر سکتے ہیں کیونکہ ان کے خون کی قسم کے دستیاب اعضاء کے ساتھ میچ ہونے کا امکان کم ہوتا ہے۔ یہ تحقیق اقلیتی نسلی گروہوں سے تعلق رکھنے والے 1,000 سے زیادہ لوگوں کے لیے امید کی کرن پیش کرتی ہے جو گردے کے انتظار میں ہیں ۔

    خون کی دوسری اقسام کو دوبارہ متعارف کرانے کی جانچ کرنے کے بعد، کیمبرج ٹیم یہ دیکھے گی کہ طبی ترتیب میں اس نقطہ نظر کو کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اتنے کم وقت میں بہت ترقی کر کے وہ مستقبل کے لیے پر امید ہیں۔

    مائیک اور سرینا کے کام پر مکمل دستاویز آئندہ مہینوں میں برٹش جرنل آف سرجری میں شائع ہوں گے فی الوقت یہ تحقیق کسی جریدے میں شائع نہیں کی گئی-

    کیا موٹے لوگ زمین کے لئے خطرہ ہیں?