Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • واٹس ایپ نے میسجز کو ڈیلیٹ کرنے کا دورانیہ بڑھا دیا

    واٹس ایپ نے میسجز کو ڈیلیٹ کرنے کا دورانیہ بڑھا دیا

    دنیا کی مقبول ترین میسجنگ ایپلیکیشن واٹس ایپ نے صارفین کی سہولت کے لئے مزید نئے فیچر پر کام شروع کر دیا-

    باغی ٹی وی : میٹا کی زیرملکیت واٹس ایپ دنیا کا مقبول ترین میسنجر ہے جس کے صارفین کی تعداد 2 ارب سے زیادہ ہے یہی وجہ ہے کہ واٹس ایپ اپنے صارفین کی سہلوت اور فرمائشوں پر آئے دن نت نئے فیچرز متعارف کراتی ہے اور اب اس بار ایپلیکیشن نے اپنے ‘ڈیلیٹ فار ایوری ون (Delete for everyone)’ کے فیچر میں بڑی تبدیلی کردی ہے۔


    واٹس ایپ کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ویب بیٹا انفو کے مطابق اب چیٹ میں بھیجے گئے پیغامات کو ڈیلیٹ کرنے کا دورانیہ بڑھا دیا گیا ہے یعنی اب میسجز ڈیلیٹ کرنے کی وقت کی حد 2 دن اور 12 گھنٹے ہوگی، یعنی دو دن بعد بھی آپ بھیجے گئے میسجز ڈیلیٹ کرسکیں گے جبکہ اپ ڈیٹ سے قبل واٹس ایپ کے میسجز میں ڈیلیٹ فار ایوری ون فیچر کی حد 1 گھنٹہ، 8 منٹ اور 16 سیکنڈ تھی –

    رپورٹ کے مطابق یہ اپ ڈیٹ فی الحال کچھ بِیٹا صارفین کے لیے جاری کی گئی ہے، جب کہ آہستہ آہستہ اس فیچر تک تمام صارفین کی رسائی ممکن ہوگی۔


    اس کے علاوہ واٹس ایپ ڈیلیٹ فار ایوری ون فیچر کی مزید بہتری کے لیے بھی کام کر رہا ہے جس کے تحت اگر آپ گروپ ایڈمن ہیں تو مستقبل میں گروپس میں کسی بھی پیغام کو حذف کرنے کے اہل ہوں گے۔

    قبل ازیں واٹس ایپ میں گروپس چیٹ کے حوالے سے چند نئے فیچرز کا اضافہ کیا گیا ہے ان فیچرز سے واٹس ایپ میں کسی گروپ کال کے حوالے سے صارف کو زیادہ اختیار دیا گیا ہے۔

    واٹس ایپ کے سربراہ ول کیتھکارٹ نے ان فیچرز کی تفصیلات ایک ٹوئٹ میں شیئر کیں انہوں نے بتایا تھا کہ اب گروپ کال کے دوران اگر کوئی فرد اپنا مائیک میوٹ کرنا بھول جائے تو ہوسٹ یا کال میں شامل کوئی بھی فرد اسے میوٹ کرسکے گا تاکہ بات چیت متاثر نہ ہو۔


    اسی طرح گروپ کال میں اگر کوئی نیا فرد شامل ہوگا تو واٹس ایپ کی جانب سے الرٹ بھیجا جائے گا تاکہ ہر ایک کو اس کا علم ہوسکے ایک گروپ کال میں 32 افراد کو شامل کیا جاسکتا ہے اسی طرح کال کے دوران مخصوص افراد کو میسجز بھیجنا بھی اب ممکن ہوگا۔

    ان نئے فیچرز سے واٹس ایپ زوم، گوگل میٹ اور مائیکرو سافٹ ٹیمز کا ایک اچھا متبادل ثابت ہوگا جبکہ قبل ازیں واٹس ایپ نے گروپ اراکین کی تعداد کو 256 سے بڑھا کر 512 کر دیا تھا۔

  • ایک ہفتہ قبل جرائم کی پیش گوئی کرنیوالے مصنوعی ذہانت کے الگورتھم کا کامیاب تجربہ

    ایک ہفتہ قبل جرائم کی پیش گوئی کرنیوالے مصنوعی ذہانت کے الگورتھم کا کامیاب تجربہ

    شکاگو: سائنس دانوں نے90 فیصد درستگی کے ساتھ ایک ہفتہ قبل جرائم کی پیش گوئی کرنے والے مصنوعی ذہانت کے الگورتھم کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : "ڈیلی سائنس” کے مطابق امریکا کی شیکاگو یونیورسٹی کے محققین نے یہ ماڈل ماضی کے جرم کے ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے 1000 مربع فٹ کے رقبے میں جرائم کی پیش گوئی کے لیے تیار کیا۔ یہ ٹیکنالوجی امریکا کے آٹھ بڑے شہروں میں آزمائی گئی جن میں شیکاگو، لاس اینجلس اور فلیڈیلفیا شامل ہیں۔

    چینی خلائی جہاز نے پورے مریخ کی تصاویر کھینچ لیں

    مشین لرننگ اور مصنوعی ذہانت میں پیشرفت نے حکومتوں کی دلچسپی کو جنم دیا ہے جو جرائم کی روک تھام کے لیے پیشین گوئی کرنے والی پولیسنگ کے لیے ان ٹولز کو استعمال کرنا چاہیں گی۔ جرم کی پیشن گوئی کی ابتدائی کوششیں متنازعہ رہی ہیں، تاہم، کیونکہ وہ پولیس کے نفاذ میں نظامی تعصبات اور جرائم اور معاشرے کے ساتھ اس کے پیچیدہ تعلق کے لیے ذمہ دار نہیں ہیں۔

    شکاگو یونیورسٹی کے ڈیٹا اور سماجی سائنسدانوں نے ایک نیا الگورتھم تیار کیا ہے جو پرتشدد اور املاک کے جرائم پر عوامی ڈیٹا سے وقت اور جغرافیائی مقامات کے نمونوں کو سیکھ کر جرائم کی پیش گوئی کرتا ہے۔ ماڈل تقریباً 90% درستگی کے ساتھ ایک ہفتہ پہلے مستقبل کے جرائم کی پیشین گوئی کر سکتا ہے۔

    نظامِ شمسی کے قریب زمین جیسے دو چٹانی سیارے دریافت

    ایک الگ ماڈل میں، تحقیقاتی ٹیم نے واقعات کے بعد گرفتاریوں کی تعداد کا تجزیہ کرکے اور مختلف سماجی اقتصادی حیثیت کے ساتھ محلوں کے درمیان ان شرحوں کا موازنہ کرکے جرائم کے خلاف پولیس کے ردعمل کا بھی مطالعہ کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ امیر علاقوں میں جرائم کے نتیجے میں زیادہ گرفتاریاں ہوئیں، جب کہ پسماندہ علاقوں میں گرفتاریاں کم ہوئیں۔ غریب محلوں میں جرم زیادہ گرفتاریوں کا باعث نہیں بنتا، تاہم، پولیس کے ردعمل اور نفاذ میں تعصب کی نشاندہی کرتا ہے۔

    یونیورسٹی آف شیکاگو کے پروفیسر اِشانو کا کہنا تھا کہ سائنس دانوں نے شہری ماحول کا ایک ڈیجیٹل جڑواں بنایا ہے۔ اگر اس میں ماضی میں ہونے والے وقوعات کا ڈیٹا ڈالا جائے تو یہ آپ کو بتادے گا کہ مستبقل میں کیا ہونے جارہا ہے۔ یہ جادوئی نہیں ہے، اس کی حدود ہیں تاہم سائنس دانوں نے اس کی تصدیق کردی ہے۔

    یہ آلہ 2002 کی فل مائناریٹی رپورٹ میں دِکھائی گئی ایک ٹکنالوجی کی یاد تازہ کرتا ہے، ایسی ہی ایک مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی جاپان میں شہریوں کو ان علاقوں کے متعلق بتانے کے لیے استعمال کی جارہی ہے جہاں جرائم کا تناسب زیادہ ہے۔

    تازہ ترین تحقیق کی تفصیلات سائنسی جرنل نیچر ہیومن بیہیویئر میں شائع کی گئیں ہیں۔

    ایک چارج پر 1200 کلو میٹر طے کرنے والی مرسیڈیز نے اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا

  • نظامِ شمسی کے قریب  زمین جیسے دو چٹانی سیارے دریافت

    نظامِ شمسی کے قریب زمین جیسے دو چٹانی سیارے دریافت

    شیکاگو: ناسا کے ٹرانزٹنگ ایکسوپلینٹ سروے سیٹلائیٹ (TESS) نے حال ہی میں ہمارے نظامِ شمسی سے قریب ترین دو چٹانی، زمین کے جیسے سیاروں کی دریافت کی ہے۔

    باغی ٹی وی :سیاروں کی دریافت یونیورسٹی آف شیکاگو میں پوسٹ ڈاکٹرل کے فیلو رافیل لوک کی سربراہی میں کام کرنے والی بین الاقوامی محققین کی ٹیم نے ٹیس سے موصول ہونے والے ڈیٹا میں کی محققین کی جانب سے پہلے اس دریافت کے متعلق معلومات امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر پیسیڈینا میں منعقد ہونے والی امیریکن آسٹرونومیکل سوسائیٹی کی 240 ویں میٹنگ میں پیش کی گئیں تھیں۔

    گوگل کا اپنی ہینگ آؤٹس سروس بند کرنے کا اعلان

    محققین کے مطابق یہ ایکسو پلینٹ یعنی نظام شمسی سے باہر یہ دو سیارے زمین سے 33 نوری سال کے فاصلے پر موجود HD 260655 نامی سرخ ڈوارف سیارے کے گرد گھوم رہے ہیں یہ سیارے ہماری زمین کی طرح چٹانی تو ہیں لیکن ہیئت میں زمین سے بڑے ہیں ایک سیارہ زمین سے 1.2 گُنا اپنے ستارے کے گرد چکر لگانے میں صرف 2.8 دن لیتا ہے جبکہ دوسرا سیارہ زمین سے 1.5 گُنا بڑا ہے جس کو ایک مدار مکمل کرنے کے لیے 5.7 دن درکار ہیں۔

    سیاروں کا پیرنٹ ستارہ ایک نام نہاد M بونا ہے، جو سورج کی جسامت اور چمک کے دسویں حصے کا ایک چھوٹا ستارہ ہے۔ پھر بھی، سیاروں کی سطحوں پر درجہ حرارت بالترتیب 818 ڈگری فارن ہائیٹ (437 ڈگری سیلسیس) اور 548 ڈگری فارن ہائیٹ (287 ڈگری سینٹی گریڈ) تک پہنچ جاتا ہے۔

    میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (MIT) میں فلکیات میں پوسٹ ڈاکٹریٹ محقق اور اس دریافت کے پیچھے سرکردہ سائنسدانوں میں سے ایک مشیل کونیموٹو نے بیان میں کہا کہ ہم اس حد کو رہائش پذیر زون سے باہر سمجھتے ہیں پھر بھی، یہ دو سیارے ہمارے نظام شمسی سے باہر زمین جیسی دنیاؤں کے بارے میں مزید جاننے کا ایک دلچسپ نیا موقع فراہم کریں گے-

    دنیا کا سب سے بڑا بیکٹریا دریافت

    Kunimoto نے کہا کہ اس نظام کے دونوں سیاروں کو اپنے ستارے کی چمک کی وجہ سے ماحول کے مطالعہ کے لیے بہترین اہداف میں شمار کیا جاتا ہے۔” "کیا ان سیاروں کے ارد گرد اتار چڑھاؤ سے بھرپور ماحول موجود ہے؟ اور کیا پانی یا کاربن پر مبنی انواع کے آثار ہیں؟ یہ سیارے ان دریافتوں کے لیے بہترین ٹیسٹ بیڈ ہیں۔

    محققین ستارے کے نظام کا مطالعہ جاری رکھتے ہوئے امید کرتے ہیں کہ اس میں اور بھی سیارے ہوسکتے ہیں، جن میں سے کچھ، شاید، ہمارے سیارے سے تھوڑا دور ہوسکتے ہیں۔

    TESS مشن کے MIT کے تحقیقی سائنسدان اوردریافت کےشریک مصنف، Avi Shporer نے بیان میں کہا نظام میں مزید سیارے ہو سکتے ہیں بہت سے ملٹی پلینٹ سسٹمز ہیں جو پانچ یا چھ سیاروں کی میزبانی کر رہے ہیں، خاص طور پر چھوٹے ستاروں کے ارد گرد۔ اس کی طرح امید ہے کہ ہم مزید تلاش کریں گے، اور شاید کوئی قابل رہائش زون میں ہو۔

    خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

    واضح رہے کہ 2018 میں خلاء میں نظامِ شمسی سے باہر موجود سیاروں کی تلاش کے لیے بھیجا جانے والا اسپیس کرافٹ ٹرانزٹ طریقہ کار استعمال کرتا ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت یہ فاصلے پر موجود ستارے کا مشاہدہ کرتا رہتا ہے اور انتظار کرتا ہے کب اس کی روشنی میں خلل آئے جو اس بات ثبوت کا ہوتی ہے کہ اس ستارے گرد گھومنے والے سیارے ٹیس اور اس ستارے کے درمیان سے گزر رہے ہیں۔

    یہ اسپیس کرافٹ 200 سے زائد مصدقہ ایکسو پلینٹ دریافت کر چکا ہے، جس کے بعد ماہرینِ فلکیات کی دریافتوں کی تعداد 5000 سے تجاوز کر گئی ہے-

    بوڑھی جلد کو جوان کرنے کا سائنسی طریقہ دریافت

  • ایک چارج پر 1200 کلو میٹر طے کرنے والی مرسیڈیز نے اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا

    ایک چارج پر 1200 کلو میٹر طے کرنے والی مرسیڈیز نے اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا

    مرسیڈیز کی الیکٹرک گاڑی نے ایک چارج پر 1200 کلو میٹر طے کرکے اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا۔

    باغی ٹی وی : ویژن (EQXX) ای کیو ایکس ایکس نے جرمنی کے شہر اسٹٹ گاٹ سے برطانیہ کے شہر سِلوراسٹون تک کا سفر ریکارڈ 15 گھنٹے سے کم وقت میں طے کیا۔ برقی گاڑی نے یہ کارنامہ 100 کلو واٹ آور کی بیٹری کے ساتھ انجام دیا یہ بیٹری پیک ٹیسلا کے ماڈل ایس میں بھی استعمال کی گئی ہے۔

    ترکیہ فن لینڈ اور سوئیڈن کی نیٹو میں شمولیت پر رضامند

    مرسیڈیز کی کار نے ٹیسلا کی نسبت دُگنا فاصلہ جدید ایرو ڈائنامکس استعمال کیے گئے کم وزن مواد، اور بیٹری میں جدت کی وجہ سے طے کیا۔ ویژن ای کیو ایکس ایکس نے ایک ماہ قبل جرمنی سے جنوبی فرانس تک بغیر ری چارج کے 1000 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا تھا۔

    جاپان : ٹوکیو میں ہیٹ ویو کا 150 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

    دونوں سفرحقیقی ٹریفک کی موجودگی میں کیے گئے جبکہ حالیہ ٹرپ میں درجہ حرارت اور موٹر وے ٹریفک کی اضافی مشکلات کا سامنا بھی تھاجرمنی تا برطانیہ 14.5 گھنٹے کی ڈرائیو کرنے والے مرسیڈیز کے ایڈم ایلسوپ کا کہنا تھا کہ اسٹٹ گاٹ سے سِلوراسٹون تک ایک چارج میں پہنچنا ٹیکنالوجی کے بہتر ہونے کا حقیقی ثبوت ہے۔

    امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات دوحہ میں شروع

    واضح رہے کہ مرسیڈز بینز 2030 تک اپنی تمام گاڑیاں برقی ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جبکہ آئل کمپنی ایکسون کے سی ای او کے مطابق 2040 تک فروخت ہونے والی تمام مسافر گاڑیوں کا برقی ٹیکنالوجی پر منتقل ہوجانا متوقع ہے۔

  • گوگل کا اپنی ہینگ آؤٹس سروس بند کرنے کا اعلان

    گوگل کا اپنی ہینگ آؤٹس سروس بند کرنے کا اعلان

    گوگل نےہینگ آؤٹس استعمال کرنے والے صارفین کو پیغام دیا ہے کہ وہ گوگل چیٹ پرمنتقل ہوجائیں –

    باغی ٹی وی : گوگل کی جانب سے ایک بلاگ پوسٹ میں بتایا گیا کہ ہینگ آؤٹس سروس کو نومبر میں ریٹائر کردیا جائے گا ہینگ آؤٹس موبائل ایپ استعمال کرنے والے افراد سے چیٹ ایپ پر سوئچ کرنے کا کہا جائے گا۔

    روس صدی سے زائد عرصےمیں پہلی بارغیر ملکی قرضوں میں ڈیفالٹ قرار

    کمپنی نے بتایا کہ اسی طرح ویب براؤزر پر جی میل کے ذریعے ہینگ آؤٹس استعمال کرنے والے افراد کو جولائی میں چیٹ پر اپ گریڈ کردیا جائے گا صارفین کا چیٹ ڈیٹا خودکار طور پر ہینگ آؤٹس سے گوگل چیٹ پر منتقل ہوجائے گا۔

    کمپنی نے صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ ڈیٹا ایکسپورٹ ٹول گوگل ٹیک آؤٹ کو استعمال کرکے ہینگ آؤٹس سے اپنا ڈیٹا نومبر سے قبل ڈاؤن لوڈ کرلیں۔

    واضح رہے کہ گوگل ہینگ آؤٹس کو 2013 میں متعارف کرایا گیا تھا جو اس وقت گوگل پلس کے اندر چیٹ پلیٹ فارم تھا بعد ازاں گوگل نے اس پلیٹ فارم کو دیگر سروسز جیسے جی میل کا حصہ بنا دیا تھا۔

    2017 میں گوگل چیٹ کو متعارف کرایا گیا جو کاروباری صارفین کے لیے میسجنگ ٹول تھا گوگل کی جانب سے ہینگ آؤٹس سے چیٹ پر لوگوں کو منتقل کرنے کی وجہ سکیورٹی کے ساتھ ساتھ مختلف قوانین بھی ہیں۔

    امریکا اور یورپی یونین قوانین کے مطابق گوگل چیٹ میں صارفین کو نقصان دہ لنکس سے زیادہ ٹھوس تحفظ فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ 2 کی بجائے ایک سروس پر کام کرنا بھی زیادہ آسان ہوتا ہے۔

    اردن کی عقبہ بندرگاہ میں زہریلی گیس کا سلنڈرپھٹنے سے 13 افراد ہلاک ،200 سے زائد زخمی

  • بوڑھی جلد کو جوان کرنے کا سائنسی طریقہ دریافت

    بوڑھی جلد کو جوان کرنے کا سائنسی طریقہ دریافت

    یروشلم: سدابہار جوانی کا راز ڈھونڈنے کے لئے انسان صدیوں سے کوشاں تھا اور اکیسویں صدی میں آ کر میڈیکل سائنس پہلی بار اس میدان میں ایک غیر معمولی پیش رفت کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے تاریخ میں پہلی بار سائنسدان بڑھتی ہوئی عمر کا پہیہ پیچھےکی جانب گھمانے میں کامیاب ہوگئے ہیں جس میں ایک اہم پیشرفت 20 برس کی مسلسل تحقیق کے بعد اسرائیل سے سامنے آئی ہے۔

    باغی ٹی وی : اسرائیلی شہر حائفہ میں واقع ریمبام ہیلتھ کیئرکیمپس اور ٹیکنیون اسرائیل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نے مسلسل دو عشروں تک غور و تحقیق کے بعد انسانوں کو کم ازکم بیرونی طور پر جوان رکھنے کا سائنسی طریقہ دریافت کیا ہے۔

    دہی خواتین کی صحت کیلئے بے حد مفید قرار

    اس ضمن میں چوہوں پر تجربات کے شاندار نتائج سامنے آئے ہیں جو انسانوں پر بھی قابلِ اطلاق ہیں تاہم مستقبل میں ان سےانسانی اعضا کو بھی جوان رکھنا ممکن ہوسکے گااس تحقیق میں کئی بین الاقوامی ماہرین بھی شامل ہیں جن کے کام کی تفصیلات سائنس ایڈوانسِس نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔ اس تحقیق میں بوڑھے چوہے کی جلد کا ایک ٹکڑا لیا گیا اور اس کی تمام پرتوں کی سالماتی (مالیکیولر) ساخت کو تبدیل کیا گیا ہے۔

    جوان چوہوں کو لیا گیا جو’سیویئر کمبائنڈ امیونوڈیفشنسی ڈیزیز‘ (ایس سی آئی ڈی) کے شکار تھے۔ اس کیفیت میں بی اور ٹی لمفوسائٹس بھی متاثر ہوجاتے ہیں۔ ان چوہوں میں بوڑھے انسانوں کے خلیات شامل کیے گئے کیونکہ اہم ہدف انسانی جلد ہی تھی۔ ماہرین کی مسلسل کوشش سے نہ صرف جلد میں خون کی نئی رگیں بنیں بلکہ جگہ جگہ سے بدلی رنگت ٹھیک ہونے لگی اور عمر رسیدگی کے بایومارکر بھی کم ہوئے۔

    خون کا ٹیسٹ جس سے 19 سال پہلے ہی ٹائپ 2 ذیابیطس کا سراغ لگایا جاسکتا ہے

    ماہرین کے مطابق اس ضمن میں جلد ایک بہترین تحقیقی مقام تھی کیونکہ دنیا بھر میں جلد کو جوان رکھنے پر کام ہو رہا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ بڑھاپے کے آثار سب سے پہلے جلد پر ہی ظاہر ہوتے ہیں۔

    اسی ٹیم نے پہلے بھی ایس سی آئی ڈی کے شکار جوان چوہوں میں بوڑھے افراد کی جلد شامل کی تھی اور افادیت ناپنے کے لیے ویسکولر اینڈوتھیلیئل گروتھ فیکٹر اے (وی ای جی ایف اے) کو ناپا تھا۔ یہ ایک طبی پیمانہ ہے جو تجربہ گاہ میں انسانی اعضا کی جوانی اور تازگی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

    تاہم ماہرین نے کہا ہے کہ انسانی جلد کے بوڑھے خلیات اور جلد میں جوانی کے آثار سے واضح ہوتا ہے کہ یہ عمل درست سمت میں ایک قدم ہے اور کم ازکم ہم ایک تھراپی کے تحت انسانی جلد کو بڑھاپے کے اثرات سے بچاتے ہوئے دوبارہ جوان کرسکتے ہیں۔

    مسلسل بے خوابی اور خراب نیند سے فالج کا خدشہ بڑھ سکتا ہے نئی تحقیق

  • وٹامن کی گولیا ں پیسے کا ضیاع  ہیں،ورزش اور غذا سے ہی صحت و تندرستی ممکن ہے،امریکی ماہرین

    وٹامن کی گولیا ں پیسے کا ضیاع ہیں،ورزش اور غذا سے ہی صحت و تندرستی ممکن ہے،امریکی ماہرین

    نیو یارک: سائنس دانوں اور غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزش اور غذا سے ہی صحت و تندرستی ممکن ہے وٹامن سپلیمنٹ کا مجموعہ آپ کو تندرست نہیں رکھ سکتا-

    باغی ٹی وی : سائنسدانوں کے مطابق اس بات کے واضح ثبوت نہیں ملے کہ ملٹی وٹامن اور مائیکرو نیوٹرینٹ سپلیمنٹ کے امراضِ قلب اور کینسر کو ٹال سکتے ہیں ایک وٹامن، دو یا پھر بہت سارے وٹامن کے مجموعوں کے ان دو امراض میں کمی یا بچاؤ کے ’واضح ثبوت‘ نہیں ملے البتہ حاملہ خواتین کو ہی کچھ فائدہ ہوسکتا ہے لوگ وٹامن کو جادوئی گولیاں سمجھتے ہیں جو کہ درست نہیں ان کے اثرات نہیں ہوتے بلکہ یہ رقم کا ضیاع ہے-

    سینے کی جلن اور تیزابیت کا سبب بننے والی غذائیں

    اس ضمن میں سائنسدانوں کی ٹیم نے کل 54 تحقیقات اور مطالعوں پر غور کیا ہے جو برس ہا برس جاری رہیں اور ان پر خاصی رقم بھی صرف کی گئی تھی سائنسدانوں نے واضح کیا کہ ہم وٹامن سپلیمںٹ سے منع نہیں کررہے بلکہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ان سے زیادہ امیدیں نہ لگائی جائیں۔

    ماہرین نے کہا ہے کہ بعض سپلیمںٹ کینسر کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔ بیٹا کیروٹین والی گولیاں ممکنہ طور پر پھیپھڑے کے سرطان کی وجہ بن سکتی ہیں جبکہ وٹامن ای کے امراضِ قلب سے بچاؤ یا سرطان سے بچانے میں کوئی خاص کردار سامنے نہیں آسکا ہے۔

    نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے شعبہ ادویہ سے وابستہ ڈاکٹر جیفرے لنڈر کہتے ہیں کہ ورزش اور محتاظ غذا کے زیادہ بہتر اثرات ہوتے ہیں

    موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ،لوگوں کی ننید کا دورانیہ کم ہو گیا

    ماہرین نے کہا ہے کہ پھل اور سبزیاں کھانا انسانوں کے لیے انتہائی مفید ہے اور وہ کینسر اور امراضِ قلب کے خطرات کم کرسکتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دواؤں کے مقابلے میں پھلوں اور سبزیوں میں وٹامن، مفید اجزا، فائبر اور دیگر فائٹوکیمیکلز ہوتے ہیں جو ملکر صحت کو بہتر رکھتےہیں۔ اس کے مقابلے میں الگ تھلگ وٹامن اپنی تاثیر کھودیتا ہے تاہم حاملہ خواتین میں فولک ایسڈ کے زبردست فوائد ہوتےہیں جنہیں لازمی قرار دینے پر زور دیا گیا ہے۔ فولک ایسڈ بچے کی تندرست نشوونما میں اہم کردار کرتا ہے۔

    رپورٹ کی شریک مصنفہ ڈاکٹر جینی جیا کا کہنا ہے کہ طرزِ زندگی بدل کر امراض سے بچا جاسکتا ہے۔ انہوں نے سادہ اور مناسب صحت بخش غذا پر زور دیا کیونکہ امریکی صنعتی غذاؤں کی ترجیح میں صحت کا عنصر شامل نہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ورزش پر بھی زور دیا جسے انہوں نے جادوئی نسخہ قرار دیا۔

    پھلوں اور سبزیوں کےاستعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پرقابوپایا جا سکتا ہے ،تحقیق

  • انسٹاگرام پرعمر کی جانچ کے لئے مصنوعی ذہانت کا آپشن پیش

    انسٹاگرام پرعمر کی جانچ کے لئے مصنوعی ذہانت کا آپشن پیش

    کیلیفورنیا:انسٹاگرام صارفین کے لیے ان کی عمر کی تصدیق کے لیے نئے طریقوں کی جانچ کر رہا ہے، جس میں ایک تھرڈ پارٹی کمپنی یوٹی کا بنایا ہوا اے آئی ٹول بھی شامل ہے، جو صرف اپنے چہرے کو اسکین کرکے اندازہ لگاتا ہے کہ آپ کی عمر کتنی ہے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق میٹا کمپنی نے بالخصوص چھوٹے بچوں کو ناخوشگوار آن لائن تجربات سے بچانے کے لیے عمر کی شناخت کے نئے آپشن اور ٹول پیش کئے ہیں ان میں مصنوعی ذہانت یا اے آئی کو بھی استعمال کیا جائے گا فی الحال میٹا نے کسی شخص کی عمر معلوم کرنے کیلئے دو طریقوں کا انکشاف کیا ہے جس کے ساتھ صارفین کو آن لائن اپنی شناخت کے ثبوت پیش کرنے ہوں گے۔

    واٹس ایپ نے گروپ وائس کال میں نئے فیچرز متعارف کرا دیئے

    سرکاری طور پر، انسٹاگرام اکاؤنٹ کے لیے سائن اپ کرنے کے لیے آپ کی عمر کم از کم 13 سال ہونی چاہیے، لیکن برسوں تک کمپنی نے اس اصول کو نافذ کرنے کے لیے بہت کم کوشش کی۔ 2019 تک، اس نے نئے صارفین سے ان کی تاریخ پیدائش پوچھنے کی زحمت بھی نہیں کی-

    اس معلومات کی تصدیق کرنے کی کوشش کرنے دیں۔ پرائیویسی اور چائلڈ سیفٹی ماہرین کی جانب سے انگاروں پر تنقید کرنے کے بعد، اگرچہ، انسٹاگرام نے زیادہ سے زیادہ عمر کی توثیق کی خصوصیات کے ساتھ ساتھ کم عمر صارفین کو بڑوں سے الگ کرنے کے طریقے متعارف کرائے ہیں-

    میٹا میں ڈیٹا گورنسس کی سربراہ ایریکا فنِکل نے بتایا کہ جب ہمیں13 سے 17 برس کے صارفین کا پتا چلتا ہے تو ہم مناسب اقدامات کے تحت ان کا دائرہ مختصر کرتے ہیں، ان میں اکاؤنٹ کو پرائیوٹ رکھنے، بالغان سے غیرضروری گفتگو میں کمی اور اشتہارات تک رسائی میں احتیاط کی جاتی ہے-

    فی الحال، انسٹاگرام صارفین سے اپنی عمر کی تصدیق صرف اس وقت کرنے کے لیے کہتا ہے جب نوجوان اپنی تاریخ پیدائش میں ترمیم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ انھیں 18 سال یا اس سے زیادہ دکھایا جائے۔ اپنی عمر کی تصدیق کے لیے، صارفین مختلف شناختی کارڈز کی تصاویر بھیج سکتے ہیں تاہم یہ تجربہ امریکا میں ہی جاری کیا گیا ہے اور شاید بعد میں اسے دیگر ممالک تک وسیع کیا جائے گا۔

    ایپل اور گوگل معاشرے اور صارفین کے لئے اچھے نہیں،بانی پروٹون میل

    انسٹاگرام نے یوٹی نامی کمپنی سے رابطہ کیا ہے جو آن لائن صارفین کی عمر کی تصدیق بھی کرتی ہے۔ اسی طرح جب 18 برس سے کم عمر کے صارفین انسٹاگرام پر اپنی ویڈیو یا سیلفی اپ لوڈ کریں گے یوٹی کا مصنوعی ذہانت پر مبنی پروگرام چہرے کے خدوخال دیکھ کر عمر کا اندازہ کرے گا۔ اس عمل میں مصنوعی ذہانت اور ڈیپ لرننگ بھی شامل ہوگی۔ اگر صارف کی عمر 18 برس سے کم ہوگی تو یوٹی اور میٹا اس عکس یا ویڈیو کو ازخود ہٹادیں گے۔

    دوسرا آپشن یہ ہے کہ صارف تین مشترکہ دوستوں کی عمر معلوم کرے گا اور اس کا نگراں کم ازکم 18 برس کا کوئی فرد ہوگا۔

    گزشتہ برس انسٹاگرام نے بچوں کے لیے اپنی منفرد ایپ پیش کرنے کا اعلان کیا تھا جس پر بہت شدید تنقید کی گئی تھی۔ انسٹاگرام نے بتایا کہ انسٹاگرام کڈزکے لیےوالدین کی رضامندی لازمی تھی اوراس میں اشتہارات سےپاک صاف ستھرا مواد ہی دکھایا جاتا تھالیکن اس کے باوجود انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پر شدید تنقید کی تھی-

    دنیا کا سب سے بڑا بیکٹریا دریافت

  • دنیا کا سب سے بڑا بیکٹریا دریافت

    دنیا کا سب سے بڑا بیکٹریا دریافت

    سائنسدانوں نے دنیا کا سب سے بڑا بیکٹیریا دریافت کیا ہے جو انسانی آنکھ سے بغیر مائیکروسکوپ کی مدد سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس عجیب و غریب بیکٹیریا کی لمبائی تقریبا 1 سینٹی میٹر ہے جو اس سے پہلے دریافت شدہ بڑے بیکٹیریوں سے 50 گنا ہے سفید لمبے دھاگے کے مانند یہ بیکٹریا سمندر کی طے میں موجود بوسیدہ مینگرو کے پتوں کی سطح پر پایا گیا۔

    لارنس برکلے نیشنل لیبارٹری کی سائنسدان جین میری وولنڈ نے اس دریافت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایسا ہے کہ جیسے ہم ایک ایسے انسان کے سامنے کھڑے ہوں جس کا قد ماؤنٹ ایورسٹ کے برابر ہویہ جاندار سمندری حیاتیات کے پروفیسر اولیویر گروس نے مینگروو ماحولیاتی نظام میں ہم آہنگی کے بیکٹیریا کی تلاش کے دوران دریافت کیا تھا۔

    گروس نے کہا کہ جب میں نے انہیں دیکھا تو میں حیران رہ گیا، میں نے اس کو مائیکروسکوپک تجربات کئے تاکہ معلوم ہو کہ یہ ایک ہی خلیہ ہے۔

    دوسری جانب سائنس دانوں نے ایک مچھلی نما روبوٹ تیار کیا ہے جو پانی میں تیر کر مائیکرو پلاسٹک کو تیزی سے اکٹھا کرسکتا ہے یہ چھوٹا سا مچھلی نما روبوٹ اپنے جسم اور دم کو ہلا کر پانی میں حرکت کرتا ہے جسے استعمال کرتے ہوئے سمندروں سے پلاسٹک کی آلودگی کو کم کرنے میں مدد حاصل کی جاسکتی ہے۔

    اس کی لمبائی آدھا انچ کے برابر ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ چھوٹی چھوٹی سی دراڑوں اور ایسی جگہوں سے پلاسٹک کو اکٹھا کر سکتا ہے جہاں تک رسائی ممکن نہیں ہوتی چین کی سِچوان یونیورسٹی کی ایک ٹیم کی جانب سے بنائے جانے والے اس روبوٹ کی توانائی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے بلکہ یہ نیئر انفراریڈ کی جھلکیوں سے حرکت کرتا ہے۔ ہمارے اطراف موجود روشنی نیئر انفراریڈ کا سب سے چھوٹا حصہ ہے۔

    جب اس روبوٹ کی دم پر روشنی پڑتی ہے تو یہ پانی کی سطح سے نیچے کی جانب مڑ جاتی ہے اور جب روشنی پڑنا بند ہوتی ہے تو واپس اپنی جگہ پر آجاتی ہے، اس طرح روبوٹ پانی میں تیرتا ہوا آگے بڑھ جاتا ہے یہ روبوٹ اپنے سائز سے تین گُنا زیادہ کا فاصلہ ایک سیکنڈ میں طے کرسکتا ہے جو ایک سافٹ بحری روبوٹ کے لیے ریکارڈ ہے۔

    جب یہ تیرتا ہے تو پولیسٹائرین مائیکرو پلاسٹکس اس کی سطح سے چپک جاتے ہیں اور یہ انہیں دوسری جگہ منتقل کر دیتا ہے۔ یہ روبوٹ مستقبل میں سمندر سے اندازاً 24 ہزار ارب مائیکرو پلاسٹک کے ٹکڑوں کو نکالنے میں مدد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

  • ایپل لیپ ٹاپ کی  ایک اور  نئی ٹیکنالوجی،

    ایپل لیپ ٹاپ کی ایک اور نئی ٹیکنالوجی،

    ایپل لیپ ٹاپ کی ایک اور نئی ٹیکنالوجی،

    باغی ٹی وی: امریکی پیٹنٹ آفس نے درجنوں نئی اختراعات کے حق ملکیت (پیٹنٹ) ایپل کمپنی کو دییے ہیں۔ ان میں پہلے تو انگلیوں کی حرکات و سکنات محسوس کرنے والے سینسر اور ایپل میک بک کا تبدیل ہونے والا انٹرفیس ساتھ ساتھ سب سے بڑھ کر آئی فون کے چارجر کو بھی میک بک لیپ ٹاپ کا حصہ بنایا جائے گا۔

    مزید تفصیلات کے مطابق آگاہ کیا جاتا ہے کہ یہ تمام سہولیات کو مستقبل کے لیپ ٹاپ میں شامل کیا جاۓ گا۔لیکن ایسا کب ہو گا فل وقت تو بتانا مشکل ہے۔ لیکن خیال رہے کہ ایپل کمپنی کو تفویض شدہ پیٹنٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ میک بک میں انگلیوں کو محسوس کرنے والا شفاف سسٹم اسکرین پر سیدھی اور خمیدہ لائن کھینچنے میں مدد بھی دے گا ۔

    مزید معلومات کے مطابق معلوم ہوتا ہے کہ اس پر ایک خاص جگہ کو مخصوص کیا گیا ہے ۔اس خاص جگہ پر آئی فون کو رکھا جاۓ گا۔ اس حوالے سے تکنیکی ماہرین سے مزید پتا چلتا ہے کہ یہ ایک مقام میک بک کے کی بورڈ کے نیچے ہتھیلی ٹکانے والے جگہ پر ہے جس کے نیچے وائرلیس چارجر کی کوائل لگائی گئی ہے۔ اور امکان یہ کیا جا سکتا ہے کہ اس پر آئی فون رکھ کر چارج کیا جاسکے گا۔اس طرح ہمیں پتا چلتا ہے اور ہم اندازہ بھی کر سکتے ہیں کہ اس طرح تو پہلی مرتبہ ایپل لیپ ٹاپ میں آئی فون کا چارجر شامل ہو گا۔

    مزید ایک اور پیٹنٹ میں واضحکیا گیا ہے کہ بند میک بک کے اوپر ایک جانب تو ہتھیلی کا بایومیٹرک سینسر بھی لگایا گیا ۔ لیکن یہ صارف کے دل کی دھڑکن کے ساتھ ساتھ درجہ حرارت خون میں آکسیجن کی سطح اور دیگر جسمانی کیفیات بھی نوٹ کرسکے گا۔ اور اہم بات یہ کہ اس نئی ٹیکنالوجی کورونا وبا کے تناظر میں وضع کیا تھا۔