Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • انسٹاگرام پرعمر کی جانچ کے لئے مصنوعی ذہانت کا آپشن پیش

    انسٹاگرام پرعمر کی جانچ کے لئے مصنوعی ذہانت کا آپشن پیش

    کیلیفورنیا:انسٹاگرام صارفین کے لیے ان کی عمر کی تصدیق کے لیے نئے طریقوں کی جانچ کر رہا ہے، جس میں ایک تھرڈ پارٹی کمپنی یوٹی کا بنایا ہوا اے آئی ٹول بھی شامل ہے، جو صرف اپنے چہرے کو اسکین کرکے اندازہ لگاتا ہے کہ آپ کی عمر کتنی ہے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق میٹا کمپنی نے بالخصوص چھوٹے بچوں کو ناخوشگوار آن لائن تجربات سے بچانے کے لیے عمر کی شناخت کے نئے آپشن اور ٹول پیش کئے ہیں ان میں مصنوعی ذہانت یا اے آئی کو بھی استعمال کیا جائے گا فی الحال میٹا نے کسی شخص کی عمر معلوم کرنے کیلئے دو طریقوں کا انکشاف کیا ہے جس کے ساتھ صارفین کو آن لائن اپنی شناخت کے ثبوت پیش کرنے ہوں گے۔

    واٹس ایپ نے گروپ وائس کال میں نئے فیچرز متعارف کرا دیئے

    سرکاری طور پر، انسٹاگرام اکاؤنٹ کے لیے سائن اپ کرنے کے لیے آپ کی عمر کم از کم 13 سال ہونی چاہیے، لیکن برسوں تک کمپنی نے اس اصول کو نافذ کرنے کے لیے بہت کم کوشش کی۔ 2019 تک، اس نے نئے صارفین سے ان کی تاریخ پیدائش پوچھنے کی زحمت بھی نہیں کی-

    اس معلومات کی تصدیق کرنے کی کوشش کرنے دیں۔ پرائیویسی اور چائلڈ سیفٹی ماہرین کی جانب سے انگاروں پر تنقید کرنے کے بعد، اگرچہ، انسٹاگرام نے زیادہ سے زیادہ عمر کی توثیق کی خصوصیات کے ساتھ ساتھ کم عمر صارفین کو بڑوں سے الگ کرنے کے طریقے متعارف کرائے ہیں-

    میٹا میں ڈیٹا گورنسس کی سربراہ ایریکا فنِکل نے بتایا کہ جب ہمیں13 سے 17 برس کے صارفین کا پتا چلتا ہے تو ہم مناسب اقدامات کے تحت ان کا دائرہ مختصر کرتے ہیں، ان میں اکاؤنٹ کو پرائیوٹ رکھنے، بالغان سے غیرضروری گفتگو میں کمی اور اشتہارات تک رسائی میں احتیاط کی جاتی ہے-

    فی الحال، انسٹاگرام صارفین سے اپنی عمر کی تصدیق صرف اس وقت کرنے کے لیے کہتا ہے جب نوجوان اپنی تاریخ پیدائش میں ترمیم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ انھیں 18 سال یا اس سے زیادہ دکھایا جائے۔ اپنی عمر کی تصدیق کے لیے، صارفین مختلف شناختی کارڈز کی تصاویر بھیج سکتے ہیں تاہم یہ تجربہ امریکا میں ہی جاری کیا گیا ہے اور شاید بعد میں اسے دیگر ممالک تک وسیع کیا جائے گا۔

    ایپل اور گوگل معاشرے اور صارفین کے لئے اچھے نہیں،بانی پروٹون میل

    انسٹاگرام نے یوٹی نامی کمپنی سے رابطہ کیا ہے جو آن لائن صارفین کی عمر کی تصدیق بھی کرتی ہے۔ اسی طرح جب 18 برس سے کم عمر کے صارفین انسٹاگرام پر اپنی ویڈیو یا سیلفی اپ لوڈ کریں گے یوٹی کا مصنوعی ذہانت پر مبنی پروگرام چہرے کے خدوخال دیکھ کر عمر کا اندازہ کرے گا۔ اس عمل میں مصنوعی ذہانت اور ڈیپ لرننگ بھی شامل ہوگی۔ اگر صارف کی عمر 18 برس سے کم ہوگی تو یوٹی اور میٹا اس عکس یا ویڈیو کو ازخود ہٹادیں گے۔

    دوسرا آپشن یہ ہے کہ صارف تین مشترکہ دوستوں کی عمر معلوم کرے گا اور اس کا نگراں کم ازکم 18 برس کا کوئی فرد ہوگا۔

    گزشتہ برس انسٹاگرام نے بچوں کے لیے اپنی منفرد ایپ پیش کرنے کا اعلان کیا تھا جس پر بہت شدید تنقید کی گئی تھی۔ انسٹاگرام نے بتایا کہ انسٹاگرام کڈزکے لیےوالدین کی رضامندی لازمی تھی اوراس میں اشتہارات سےپاک صاف ستھرا مواد ہی دکھایا جاتا تھالیکن اس کے باوجود انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پر شدید تنقید کی تھی-

    دنیا کا سب سے بڑا بیکٹریا دریافت

  • دنیا کا سب سے بڑا بیکٹریا دریافت

    دنیا کا سب سے بڑا بیکٹریا دریافت

    سائنسدانوں نے دنیا کا سب سے بڑا بیکٹیریا دریافت کیا ہے جو انسانی آنکھ سے بغیر مائیکروسکوپ کی مدد سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس عجیب و غریب بیکٹیریا کی لمبائی تقریبا 1 سینٹی میٹر ہے جو اس سے پہلے دریافت شدہ بڑے بیکٹیریوں سے 50 گنا ہے سفید لمبے دھاگے کے مانند یہ بیکٹریا سمندر کی طے میں موجود بوسیدہ مینگرو کے پتوں کی سطح پر پایا گیا۔

    لارنس برکلے نیشنل لیبارٹری کی سائنسدان جین میری وولنڈ نے اس دریافت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایسا ہے کہ جیسے ہم ایک ایسے انسان کے سامنے کھڑے ہوں جس کا قد ماؤنٹ ایورسٹ کے برابر ہویہ جاندار سمندری حیاتیات کے پروفیسر اولیویر گروس نے مینگروو ماحولیاتی نظام میں ہم آہنگی کے بیکٹیریا کی تلاش کے دوران دریافت کیا تھا۔

    گروس نے کہا کہ جب میں نے انہیں دیکھا تو میں حیران رہ گیا، میں نے اس کو مائیکروسکوپک تجربات کئے تاکہ معلوم ہو کہ یہ ایک ہی خلیہ ہے۔

    دوسری جانب سائنس دانوں نے ایک مچھلی نما روبوٹ تیار کیا ہے جو پانی میں تیر کر مائیکرو پلاسٹک کو تیزی سے اکٹھا کرسکتا ہے یہ چھوٹا سا مچھلی نما روبوٹ اپنے جسم اور دم کو ہلا کر پانی میں حرکت کرتا ہے جسے استعمال کرتے ہوئے سمندروں سے پلاسٹک کی آلودگی کو کم کرنے میں مدد حاصل کی جاسکتی ہے۔

    اس کی لمبائی آدھا انچ کے برابر ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ چھوٹی چھوٹی سی دراڑوں اور ایسی جگہوں سے پلاسٹک کو اکٹھا کر سکتا ہے جہاں تک رسائی ممکن نہیں ہوتی چین کی سِچوان یونیورسٹی کی ایک ٹیم کی جانب سے بنائے جانے والے اس روبوٹ کی توانائی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے بلکہ یہ نیئر انفراریڈ کی جھلکیوں سے حرکت کرتا ہے۔ ہمارے اطراف موجود روشنی نیئر انفراریڈ کا سب سے چھوٹا حصہ ہے۔

    جب اس روبوٹ کی دم پر روشنی پڑتی ہے تو یہ پانی کی سطح سے نیچے کی جانب مڑ جاتی ہے اور جب روشنی پڑنا بند ہوتی ہے تو واپس اپنی جگہ پر آجاتی ہے، اس طرح روبوٹ پانی میں تیرتا ہوا آگے بڑھ جاتا ہے یہ روبوٹ اپنے سائز سے تین گُنا زیادہ کا فاصلہ ایک سیکنڈ میں طے کرسکتا ہے جو ایک سافٹ بحری روبوٹ کے لیے ریکارڈ ہے۔

    جب یہ تیرتا ہے تو پولیسٹائرین مائیکرو پلاسٹکس اس کی سطح سے چپک جاتے ہیں اور یہ انہیں دوسری جگہ منتقل کر دیتا ہے۔ یہ روبوٹ مستقبل میں سمندر سے اندازاً 24 ہزار ارب مائیکرو پلاسٹک کے ٹکڑوں کو نکالنے میں مدد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

  • ایپل لیپ ٹاپ کی  ایک اور  نئی ٹیکنالوجی،

    ایپل لیپ ٹاپ کی ایک اور نئی ٹیکنالوجی،

    ایپل لیپ ٹاپ کی ایک اور نئی ٹیکنالوجی،

    باغی ٹی وی: امریکی پیٹنٹ آفس نے درجنوں نئی اختراعات کے حق ملکیت (پیٹنٹ) ایپل کمپنی کو دییے ہیں۔ ان میں پہلے تو انگلیوں کی حرکات و سکنات محسوس کرنے والے سینسر اور ایپل میک بک کا تبدیل ہونے والا انٹرفیس ساتھ ساتھ سب سے بڑھ کر آئی فون کے چارجر کو بھی میک بک لیپ ٹاپ کا حصہ بنایا جائے گا۔

    مزید تفصیلات کے مطابق آگاہ کیا جاتا ہے کہ یہ تمام سہولیات کو مستقبل کے لیپ ٹاپ میں شامل کیا جاۓ گا۔لیکن ایسا کب ہو گا فل وقت تو بتانا مشکل ہے۔ لیکن خیال رہے کہ ایپل کمپنی کو تفویض شدہ پیٹنٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ میک بک میں انگلیوں کو محسوس کرنے والا شفاف سسٹم اسکرین پر سیدھی اور خمیدہ لائن کھینچنے میں مدد بھی دے گا ۔

    مزید معلومات کے مطابق معلوم ہوتا ہے کہ اس پر ایک خاص جگہ کو مخصوص کیا گیا ہے ۔اس خاص جگہ پر آئی فون کو رکھا جاۓ گا۔ اس حوالے سے تکنیکی ماہرین سے مزید پتا چلتا ہے کہ یہ ایک مقام میک بک کے کی بورڈ کے نیچے ہتھیلی ٹکانے والے جگہ پر ہے جس کے نیچے وائرلیس چارجر کی کوائل لگائی گئی ہے۔ اور امکان یہ کیا جا سکتا ہے کہ اس پر آئی فون رکھ کر چارج کیا جاسکے گا۔اس طرح ہمیں پتا چلتا ہے اور ہم اندازہ بھی کر سکتے ہیں کہ اس طرح تو پہلی مرتبہ ایپل لیپ ٹاپ میں آئی فون کا چارجر شامل ہو گا۔

    مزید ایک اور پیٹنٹ میں واضحکیا گیا ہے کہ بند میک بک کے اوپر ایک جانب تو ہتھیلی کا بایومیٹرک سینسر بھی لگایا گیا ۔ لیکن یہ صارف کے دل کی دھڑکن کے ساتھ ساتھ درجہ حرارت خون میں آکسیجن کی سطح اور دیگر جسمانی کیفیات بھی نوٹ کرسکے گا۔ اور اہم بات یہ کہ اس نئی ٹیکنالوجی کورونا وبا کے تناظر میں وضع کیا تھا۔

  • آکاس بیل کے پودے سے زخموں کو مندمل کرنے والا قدرتی مرہم تیار

    آکاس بیل کے پودے سے زخموں کو مندمل کرنے والا قدرتی مرہم تیار

    ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ آکاس(امربیل) بیل کی نسل کے پودے پر گوند بردار بیریوں میں موجود گوند سے زخموں کو مندمل کرنے والا قدرتی مرہم بنایا جاسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : اس پودے کو مسلٹو کہا جاتا ہے جو درختوں پر بطور پیراسائٹ پیدا ہوتے ہیں اور اس پر چھوٹے سفید بیر اگتے ہیں۔ اس کے پھول کرسمس آرائش پر بھی کام آتے ہیں لیکن بیریوں میں موجود خاص گوند ’وِسکِن‘ کے نئے خواص دریافت ہوئے ہیں مِک گِل یونیورسٹی کے پروفیسر میتھیو ہیرنگٹن نے جرمن ماہرین کے تعاون سے اس پر غور کیا تو اس میں باریک سہ ابعادی (تھری ڈائمینشنل) ساخت دکھائی دی۔

    خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

    ماہرین نے اس کے ریشوں کو دھات، شیشے اور پلاسٹک پر لگایا تو وہ مضبوطی سے چپکے۔ پھرانکشاف ہوا کہ اگر اس گوند میں تھوڑی نمی بڑھائی جائے تو یہ پھیل جاتا ہے اور کمزورہوکر چپکنے کی صلاحیت کھودیتا ہے۔ ایک جانب تو اس کے چپکنے کی صلاحیت سامنے آئی تو دوسری جانب اس سے چھٹکارا پانے کا طریقہ بھی معلوم ہوا تو دوسری جانب یہ ہرطرح سے حیاتیاتی طور پر موزوں (بایو کمپیٹیبل) بھی ہے۔

    اگلے مرحلے میں مسلٹو بیریوں کی گوند کو کچھ بدل کر جانوروں کے زخموں پر آزمایا گیا اور اس کی پتلی پرت کسی پٹی کی طرح زخم کے دونوں کناروں سے جڑگئی جس کے بہترین نتائج سامنے آئے ہیں۔ اگلے مرحلے میں اس پر مزید تحقیق کرکے اسے انسانوں پر آزمایا جائے گا۔

    دنیا کے سب سے بڑے طیارے نے بلندی کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا

    آکاس بیل (cuscuta reflexa) موسم سرما کے ختم ہوتے ہیں درختوں پر نمودار ہوتی ہے۔ یہ جن درختوں پر پھیلتی ہے انہیں سکھا دیتی ہے۔ اس کی جڑ نہیں ہوتی، درختوں پر ہی پیچ در پیچ پھیلتی ہے۔ جیسے درخت نے کیسری رنگ کی چادر اوڑھ لی ہے۔ یہ کانٹے دار درختوں پر زیادہ پھیلتی ہے۔ اس (cuscuta reflexa) کا رنگ پیلا ہوتا ہے مگر شروع میں گہرے سبز رنگ کے ساتھ پیلا پن ملا ہوتا ہے۔ سوکھنے پر یہ سیاہی مائل ہوجاتی ہے۔ یہ عام طور پر بیری، کیکری یا جانڈ پر پھیل جاتی ہے۔ جس درخت پر بھی اسے چھوڑ دیا جائے ہیں بڑھنا شروع کر دیتی ہے۔ ہندوستان و پڑوسی دیشو کے جنگلات میں زیادہ تر ملتی ہے-

    ماہرین کی تحقیق یہ کہتی ہے کہ باریک دھاگوں، ریشوں کی شکل والی اس جڑی بوٹی کا کیمیائی مزاج سخت گرم، انتہائی کڑوا ہے۔ اس کے طبی فوائد کا تو کچھ خاص اندازہ نہیں لیکن ماہرین کے بیان کردہ حقائق سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جڑی بوٹی نہ نگلی جاتی ہے نہ اُگلی جاسکتی ہے۔

    تاہم اب ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ اس کی نسل کے پودے مسلٹو پر گوند بردار بیریوں میں موجود گوند سے زخموں کو مندمل کرنے والا قدرتی مرہم بنایا جاسکتا ہے۔

    1 کروڑ 80 لاکھ سال قبل زمین پر پائے جانیوالے دیو ہیکل مگرمچھوں کی نئی اقسام دریافت

  • 1 کروڑ 80 لاکھ سال قبل زمین پر پائے جانیوالے دیو ہیکل مگرمچھوں کی نئی اقسام دریافت

    1 کروڑ 80 لاکھ سال قبل زمین پر پائے جانیوالے دیو ہیکل مگرمچھوں کی نئی اقسام دریافت

    نیروبی: محققین نے 1 کروڑ 80 لاکھ سال قبل زمین پر پائے جانے والے دیو ہیکل مگرمچھوں کی دو نئی اقسام دریافت کیں ہیں –

    باغی ٹی وی :امریکا کی یونیورسٹی آف آئیووا کے سائنس دان 2007 سے نیروبی میں میوزیم آف کینیا میں متعدد قدیم مگرمچھوں کی اقسام کا معائنہ کر رہے ہیں رواں مای کے شروع میں جرنل انیٹمِکل میں شائع کردہ مقالے کے مطابق تحقیق کے مصنف پروفیسر کرسٹوفر بروشو کا کہنا تھا کہ یہ وہ بڑے شکاری جانور ہیں جن سامنا ہمارے آبا و اجداد نے کیا۔

    برطانیہ سے 9 فٹ لمبے کنکھجورے کی باقیات دریافت

    پروفیسر بروشو نے بتایا کہ دریافت ہونے والی اقسام آج کے مگرمچھوں کی طرح موقع پرست شکاری تھی۔ قدیم انسانوں کے لیے دریا میں جھک کر پانی پینا انتہائی خطرناک ہوگا ان کے جبڑے سے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ بڑی مسکراہٹ رکھتے ہیں لیکن اگر انہیں موقع ملتا تو آپ کا پورا چہرہ نوچ ڈالتے۔

    محققین کے مطابق موجودہ مگرمچھ کی قسم بمشکل چار سے پانچ فِٹ لمبی ہوتی ہے لیکن دریافت ہونے مگرمچھوں کی اقسام کے حوالے سے خیال کیا جا رہا ہے کہ ان کی لمبائی 12 فِٹ تک تھی۔

    کِن یینگ قسم مشرقی افریقا کے وادی کے علاقے میں ابتدائی سے وسطی مائیوسین دور میں آباد ہوگی۔ یہ علاقہ آج کے دور کا کینیا ہے۔

    قبل ازیں محققین نے سعودی عرب میں رینگنے والے سمندری جانداروں کی80 ملین سال پرانی باقیات دریافت کی تھیں محققین کو بحیرہ احمر ڈویلپمنٹ کمپنی اور سعودی جیولوجیکل کی شراکت سے کیے گئے سروے کے دوران یہ باقیات ملیں تھیں اس منصوبے کے تحت کی جانے والی کھدائی کے دوران سمندری چھپکلی کی ہڈیاں دریافت ہوئیں ماہرین کے خیال میں یہ ہڈیاں 80 ملین سال قبل موجود جانداروں کی ہیں۔

    ڈائنو سار سے بھی قدیم اور دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت

    قبل ازیں امریکی سائنسدانوں نے نیواڈا کے پہاڑوں میں ایک دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت کیے تھے محققین کا کہنا تھا کہ اس کے رکازات تقریباً 24 کروڑ سال قدیم ہیں اس کی کھوپڑی چھ فٹ سے بھی زیادہ لمبی ہے جس کی بنیاد پر ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ یہ سمندری جانور کم از کم 56 فٹ لمبا رہا ہوگا۔

    محققین کا کہنا تھا کہ اس قدیم و معدوم جانور کا تعلق سمندری جانوروں کے’اکتھیوسار‘(Ichthyosaur) قبیلے سے ہے جسے ’سمندری ڈائنوسار‘ بھی کہا جاتا ہےتاہم اب تک اکتھیوسارز کے رکازات بہت کم ملے ہیں جو اگرچہ 25 کروڑ سال پرانے ہیں لیکن جسامت میں خاصے کم ہیں۔

    نو دریافتہ اکتھیوسار، جسے ’سمبوشپونڈائلس ینگورم‘ (Cymbospondylus youngorum) کا نام دیا گیا ، ان سب سے جسامت میں بڑا ہونے کے علاوہ ڈائنوساروں سے زیادہ قدیم بھی ہے دیوقامت ڈائنوسار کے سب سے پرانے رکاز 21 کروڑ 50 لاکھ سال قدیم ہیں لیکن یہ اکتھیوسار ان کے مقابلے میں بھی ڈھائی کروڑ سال قدیم ہے۔

    طویل عرصے کی محتاط چھان بین اور تجزیئے کے بعد، آخرکار ماہرین یہ جاننے میں کامیاب ہوگئے کہ ’ینگورم‘ کا ارتقاء خشکی پر چلنے والے کسی جانور سے ہوا تھا لیکن یہ ڈائنوسار سے بہت مختلف تھا یہ 24 کروڑ 70 لاکھ سال سے 23 کروڑ 70 لاکھ سال تک قدیم ہے جس کی لمبائی تقریباً 56 فٹ رہی ہوگی اب تک اتنی بڑی جسامت والا اتنا قدیم جانور کوئی اور دریافت نہیں ہوا ہے-

    انڈے سے نکلنے کو تیار ڈائنو سار کا فوسل دریافت

  • آج کا دن سال کا طویل ترین دن اور مختصر ترین رات

    آج کا دن سال کا طویل ترین دن اور مختصر ترین رات

    آج 21 جون منگل کو سال کا طویل ترین دن ہے جبکہ رات مختصر ترین ہو گی اور کل بروز بدھ 22 جون سے دن کا دورانیہ کم جبکہ راتیں طویل ہونا شروع ہو جائیں گی۔

    باغی ٹی وی : ماہرین فلکیات کے مطابق 21 جون2022 کو سال کا طویل ترین دن جبکہ مختصر ترین رات ہوہے اس روز دن کا دورانیہ تقریباً 14گھنٹے جبکہ رات10گھنٹوں کی ہو گی آج کے دن ناروے کے شمالی علاقوں میں سورج غروب ہی نہیں ہوگا۔

    علی وزیرخرابی صحت کے باعث سینٹرل جیل سے جناح اسپتال منتقل

    ماہرینِ فلکیات کے مطابق 21 جون کو زمین کا جھکاؤ سورج کی جانب زیادہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے سورج زیادہ دیر تک روشن رہتا ہے، اس دوران موسم گرما کی شدت بھی برقرار رہے گی جبکہ رات مختصر ترین ہوگی۔

    سال کے طویل ترین دن کو خط سرطان یا Summer Solstice کہا جاتا ہے اور مانا جاتا ہے کہ اس کے بعد موسم گرما کا حقیقی آغاز ہوتا ہے اور اس حوالے سے مختلف رسومات بھی ادا کی جاتی ہیں۔

    خط سرطان سے مراد زمین کی وہ کیفیت ہے جب قطب شمالی سورج کی جانب جھکا ہوتا ہے اور سورج خط استوا سے سب سے زیادہ دور ہوتا ہے اس کے نتیجے میں زمین پر شمالی نصف کرے میں سال کا طویل ترین دن (وہ دن جب سورج کی روشنی کا دورانیہ سب سے زیادہ ہوتا ہے) اور مختصر ترین رات ہوتی ہے۔

    کراچی اسلام آباد سمیت بڑے شہروں میں سیلاب کا خطرہ ہے،وفاقی وزیرماحولیاتی تبدیلی

    یکم جولائی کے بعد دن کا دورانیہ بتدریج کم ہو نا شروع ہو جاتا ہے اور 22ستمبر کو دن اور رات کا دورانیہ تقریباً برابر ہوتا ہے جبکہ اس کے بعد راتوں کے دورانیے میں اضافہ اور دن کا دورانیہ مختصر ہونا شروع ہو جاتا ہے22دسمبر سال کا مختصر ترین دن اور رات طویل ترین ہوتی ہے۔

    پاکستان میں سورج کی خط استوا سے سب سے زیادہ دوری کا وقت دوپہر 2 بج کر 14 منٹ ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ سال کا طویل ترین دن بدلتا رہتا ہے، جیسے 2023 تک 21 جون کو ایسا ہوگا مگر 2024 اور 2024 میں 22 جون طویل ترین دن ہوگا۔

    22 جون کے بعد دن کے دورانیے میں بتدریج کمی آنا شروع ہوگی اور دسمبر کے تیسرے عشرے میں شمالی نصف کرے میں سال کا مختصر ترین دن اور طویل ترین رات ہوگی سال کے طویل ترین دن کے موقع پر پاکستان میں دن کا دورانیہ مقامات کے لحاظ سے 14 سے 15 گھنٹے کے درمیان ہوگا۔

    دنیا میں سب سے طویل دن امریکی ریاست الاسکا کے وسطی حصے میں ہوگا جہاں دن کی روشنی کا دورانیہ 21 گھنٹے 41 منٹ تک ہوگا اس کے مقابلے میں ایکواڈور کے دارالحکومت Quito میں لوگوں کو کوئی خاص فرق محسوس نہیں ہوگا کیونکہ دن کی روشنی میں محض 7 منٹ کا اضافہ ہوگا۔

    پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ٹرینوں کے کرائے بھی بڑھ گئے

    دوسری جانب جنوبی نصف کرے میں آج سال کا مختصر ترین دن اور طویل ترین رات ہوگی اور وہاں موسم سرما کا باقاعدہ آغاز ہوگا۔ قطب جنوبی کے مرکزی مقام یعنی براعظم انٹار کٹیکا میں آج کل24 گھنٹے تاریکی کا راج ہے۔

    کچھ ممالک میں اس حوالے سے دلچسپ روایات بھی موجود ہیں جیسے یورپی ملک سوئیڈن میں اسے مڈ سمر کہا جاتا ہے اور ہمیشہ جمعے کو منایا جاتا ہے یعنی وہاں سال کا طویل ترین دن 24 جون کو قرار دیا جائے گااس موقع پر وہاں میلوں کا انعقاد ہوتا ہے۔

    برطانیہ کے تاریخی مقام اسٹون ہینج میں بھی اس موقع پر لوگ جمع ہوتے ہیں اور مختلف سرگرمیوں کا حصہ بنتے ہیں خط سرطان کو زرخیری سے بھی منسلک کیا جاتا ہے کیونکہ اس عرصے میں فصلوں کی کاشت میں اضافہ ہوتا ہے۔

    کورونا وبا ختم نہیں ہوئی ہجوم والی جگہوں پر شہری احتیاط کریں ،قومی ادارہ صحت

  • عام عادت جو موت کا سبب بن سکتی ہے

    عام عادت جو موت کا سبب بن سکتی ہے

    موجودہ دور میں بیشتر افراد دن بھر میں زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں تاہم نئی بین الاقوامی طبی تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ دن بھر میں صرف 6 سے 8 گھنٹے بیٹھ کر گزارنے سے جلد موت اور امراض قلب کا خطرہ 12 سے 13 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : نئی تحقیق اس دلیل میں مزید وزن ڈال رہی ہے کہ زیادہ دیر تک بیٹھنا آپ کی صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہےسائمن فریزر یونیورسٹی اور چائنیز اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز کی مشترکہ تحقیق میں 21 ممالک سے تعلق رکھنے والے ایک لاکھ سے زیادہ افراد کا جائزہ لیا گیا تھا تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اگر ایک فرد دن بھر میں 8 گھنٹے سے زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتا ہے تو جلد موت اور امراض قلب کا خطرہ 20 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

    مطالبات منظور، خیبرپختونخوا کے اساتذہ کا بنی گالہ کے باہر دھرنا ختم

    سائمن فریزر یونیورسٹی کے ہیلتھ سائنسز کے پروفیسر سکاٹ لیئر اور بیجنگ کی چائنیز اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز کے وی لی کی مشترکہ قیادت میں یہ مطالعہ جرنل جاما کارڈیالوجی میں شائع ہوا ہے تحقیق میں شامل افراد کا جائزہ 11 سال تک لیا گیا تھا تاکہ بیٹھنے کے وقت اور صحت پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا جاسکے اگرچہ تمام ممالک میں بیٹھنا مسئلہ تھا، خاص طور پر کم آمدنی والے اور کم درمیانی آمدنی والے ممالک میں ایسا تھا۔

    یہاں سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ آپ کتنے بیٹھیں گے،” لیئر کہتے ہیں۔ "اگر آپ کو بیٹھنا ہی ہے، تو دن کے دوسرے اوقات میں زیادہ ورزش کرنا اس خطرے کو دور کردے گا۔”

    تحقیق میں کہا گیا کہ حیرت کی بات نہیں، جو لوگ جسمانی طور پر بہت کم سرگرم ہوتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں ان میں جلد موت اورامراض قلب کا خطرہ 50 فیصد تک بڑھ جاتا ہے اس کے مقابلے میں ایسے افراد جو زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں مگر چند گھنٹے جسمانی طور پر سرگرم رہتے ہیں، ان میں یہ خطرہ گھٹ کر 17 فیصد ہوجاتا ہے۔

    محققین نے کہا کہ بیٹھنے کا وقت جتنا کم ہو، بہتر ہے، اگر آپ کو کئی گھنٹے بیٹھ کر گزارنے ہیں تو دن کے دیگر اوقات میں ورزش کو معمول بناکر جلد موت کے خطرے کو کم کر سکتے ہیں جو لوگ دن میں 4 گھنٹے سے زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں، وہ بیٹھنے کے وقت میں سے 30 منٹ ورزش کے لیے نکال کر جان لیوا امراض کا خطرہ 2 فیصد تک کم کرسکتے ہیں۔

    اس تحقیق میں کم آمدنی والے ممالک میں ایک خاص ایسوسی ایشن کا پتہ چلا، جس کی وجہ سے محققین نے قیاس کیا کہ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ زیادہ آمدنی والے ممالک میں بیٹھنا عام طور پر اعلی سماجی و اقتصادی حیثیت اور بہتر تنخواہ والی ملازمتوں سے وابستہ ہوتا ہے۔

    سینے کی جلن اور تیزابیت کا سبب بننے والی غذائیں

    لئیر نے کہا کہ طبی ماہرین کو کم بیٹھنے اور زیادہ سرگرمی پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ یہ ایک کم لاگت مداخلت ہے جس سے بہت زیادہ فائدہ ہو سکتا ہےلیکن جب کہ معالجین کو سرگرمی کے ساتھ بیٹھنے کا مقابلہ کرنے کے بارے میں پیغام پہنچانے کی ضرورت ہے، افراد کو اپنے طرز زندگی کا بہتر انداز میں جائزہ لینے اور اپنی صحت کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے کیونکہ اس وقت دنیا بھر میں زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے والے افراد میں درمیانی عمر میں شرح اموات 8.8 فیصد ہے، جو تمباکو نوشی (10.6 فیصد) کے قریب ہے۔

    محققین کے مطابق یہ ایک عالمی مسئلہ ہے جس کا حل بہت سادہ ہے، بس اپنی کرسی سے اٹھنے کی ہمت کرلیں کرسی سے اٹھنے کے لیے وقت طے کرنا ایک بہترین آغاز ہے-

  • خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

    خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

    جرنل برین میں شائع ہونےوالی تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے یعنی خواتین مردوں سے زیادہ گرم دماغ ہوتی ہیں کیونکہ ان کے دماغ کا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر جانے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی : "ڈیلی میل” کے مطابق برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی میں مالیکیور بائیولوجی کی ایم آر سی لیبارٹری کے محققین کو ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ خواتین کا دماغ مردوں کی نسبت 0.4 ڈگری سیلسیئس زیادہ گرم ہوتا ہے۔

    کسی خونی اور فسادی احتجاج کی اجازت نہیں ہو گی،وفاقی وزیر اطلاعات

    تحقیق کے مطابق دماغ کے زیادہ درجہ حرارت میں یہ فرق ممکنہ طور پر خواتین کے مخصوص ایام کی وجہ سے ہو سکتا ہے اس تحقیق کے لئے محققین نے 20 سے 40 سال کے درمیان 40 رضا کاروں کا انتخاب کیا مطالعے میں ایڈنبرگ کے رائل انفرمری میں ان رضاکاروں کے دماغوں کو ایک دن کے وقفے سے صبح، دوپہر اور شام کے آخر حصے میں اسکین کیا گیا۔

    صحت مند انسانی دماغ کے درجہ حرارت کی پہلی چار جہتی تصویر بنانے والے محققین نے تحقیق میں دیکھا کہ انسانی دماغ کا اوسط درجہ حرارت جو پہلے 38.5 ڈگری سیلسیئس خیال کیا جاتا تھا اب اس سے زیادہ تھا لیکن دماغ کی ساخت کی گہرائی میں درجہ حرارت تواتر کے ساتھ 40 ڈگری سیلسیئس سے زیادہ پایا گیا مشاہدے میں آنے والا سب سے زیادہ درجہ حرارت 40.9 ڈگری سیلسیئس تھا۔

    مسلح افراد کی کھلے عام رات کے اندھیرے میں ڈکیتی کی واردات

    جبکہ سائنس دانوں نے تحقیق میں 20 برس سے زیادہ کے شرکاء میں درجہ حرارت میں اضافے کو بھی دیکھا۔ یہ اضافہ دماغ کے اندر کے حصے میں دیکھا گیا جہاں اوسط اضافہ 0.6 ڈگری سیلسیئس تھا جسم کے دوسرے کسی حصے میں اس درجہ حرارت کا ہونا عموماً بخار کی علامت سمجھا جاتا ہے لیکن محققین کا کہنا ہے کہ یہ دماغ کے صحت مند ہونے کی نشانی ہو سکتی ہے۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ دماغ کو ٹھنڈا رکھنے کی صلاحیت ختم ہوتی جاتی ہے۔

    کیمبرج یونیورسٹی کے گروپ لیڈر ڈاکٹر جان او نیل نے کہا کہ میرے لیے ہمارے مطالعے سے سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ صحت مند انسانی دماغ اس درجہ حرارت تک پہنچ سکتا ہےجس کی تشخیص جسم میں کسی اور جگہ بخار کے طور پر کی جائے گی ماضی میں دماغی چوٹوں والے لوگوں میں اس طرح کے اعلی درجہ حرارت کی پیمائش کی گئی ہے، لیکن یہ فرض کیا گیا تھا کہ یہ چوٹ کا نتیجہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ یقین کرنے کی اچھی وجہ ہے کہ یہ روزانہ کی تبدیلی طویل مدتی دماغی صحت کے ساتھ منسلک ہے – ایسی چیز جس کی ہم آگے تحقیق کرنے کی امید کرتے ہیں۔

    امید ہے ٹاسک فورس کی آمد کے بعد پاکستان گرے لسٹ سے نکل جائے گا،بلاول بھٹو

  • ایپل اور گوگل  معاشرے اور صارفین کے لئے اچھے نہیں،بانی پروٹون میل

    ایپل اور گوگل معاشرے اور صارفین کے لئے اچھے نہیں،بانی پروٹون میل

    جنیوا: انٹرنیٹ کمپنی پروٹون چیف اینڈی یین نے دعویٰ کیا ہے کہ ایپل اور گوگل کا کاروباری سانچہ صارفین اور معاشرے کے لیے اچھا نہیں ہے۔

    باغی ٹی وی :"انڈیپینڈنٹ کے مطابق "تجویز کردہپروٹون میل نامی اِنکریپٹڈ ای میل اور پروٹون وی پی این چلانے والی کمپنی پروٹون میل کے سی ای او اینڈی یین کا کہنا تھا کہ ٹِم برنرس-لی کے یہ ویب بنانے کی وجہ ’نگران سرمایہ دارنہ نظام‘ کا کاروباری سانچہ نہیں تھا۔

    برنرس-لی ستمبر 2011 سے مشاورتی بورڈ میں بیٹھتے آ رہے ہیں ’نگران سرمایہ دارانہ نظام‘ سے مراد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے ڈیٹا اکٹھا کیا جانا ہے تاکہ وہ اپنے صارفین پر مبنی پروفائلوں کو بنا سکیں اور تیسری فریق کمپنیوں کو بہتر اشتہاراتی معلومات فراہم کر سکیں۔

    ‘سروییلنس کیپٹلزم’ سے مراد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں ہیں جو ڈیٹا اکٹھا کرتی ہیں تاکہ وہ اپنے صارفین پر پروفائل بنا سکیں اور فریق ثالث کمپنیوں کو اشتہارات کی بہتر معلومات فراہم کر سکیں گوگل اور فیس بک کافی عرصے سے صارفین کی پرائیویسی کی قیمت پر ٹارگٹڈ اشتہارات سے منافع کما رہے ہیں جبکہ ایپل اپنا سرچ ایڈ کا اشتہاراتی کاروبار کھڑا کر رہا ہے۔

    پروٹون نے حال ہی میں اپنی ایپ اِیکو سسٹم میں دو نئی ایپلی کیشن پروٹون ڈرائیو اور پروٹون کلینڈر کا اعلان کیا ہے۔ یہ ایپس صارفین کو اِنکریپٹڈ سروسز پیش کرتی ہیں اور کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ ایپل اور گوگل کی جانب سے پیسوں کے عوض دی جانے والی خدمات سے زیادہ خفیہ ہے-

    مسٹر ین کا کہنا ہے کہ صارفین دیگر مسابقتی خدمات کی ایک حد کے لیے بھی پوچھ رہے ہیں: آن لائن دستاویزات، پاس ورڈ مینیجر، چیٹ ایپس، اور بہت کچھ، جو کہ بڑھتے ہوئے پروٹون پیکج کا حصہ بن سکتے ہیں۔

    نیو جرسی: امریکی پاکستانی نے ڈسٹرکٹ جج کا منصب سنبھال لیا

    مسٹر ین کہتے ہیں، "بڑی حد تک، مصنوعات اور خدمات ختم ہو چکی ہیں تین ماحولیاتی نظام ہیں، بنیادی طور پر: مائیکروسافٹ ہے، گوگل ہے، ایپل ہے۔ اور فیس بک، شاید، اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کس سے پوچھتے ہیں۔ رازداری کو ایک ماحولیاتی نظام کی ضرورت ہے۔ آپ آس پاس کے زیادہ تر صارفین سے بات کرتے ہیں اور آپ ان سے پوچھتے ہیں: ‘کیا آپ کو ویب کے بارے میں گوگل کا وژن پسند ہے؟’ ایک بار جب انہیں معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ کیا ہے، تو وہ گھبرا جاتے ہیں۔

    اس دعوے کے باوجود، گوگل کی مصنوعات بے حد مقبول ہیں گوگل سرچ سب سے زیادہ استعمال ہونے والا سرچ انجن ہے اور کروم سب سے عام ویب براؤزر ہے، جبکہ اینڈرائیڈ اسمارٹ فون پلیٹ فارم بھی عالمی سطح پر سب سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم، مسٹر ین کا دعویٰ ہے کہ ایسا مقابلہ کی کمی کی وجہ سے ہوا ہے۔

    مسٹر ین کہتے ہیں، "اگر آپ کسی سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ زیادہ رازداری اور سیکیورٹی چاہتے ہی ہر کوئی یہ چاہتا ہے”، لیکن صارفین کو یہ معلوم نہیں ہوگا کہ ان کے پاس کوئی انتخاب ہےجس طرح سے اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ڈیوائسز پر تمام ڈیفالٹ سیٹ کر رہے ہیں – ایک واضح طور پر مسابقتی انداز میں – ایک موبائل پہلی دنیا میں آپ اور کیا جانتے ہیں؟

    مسٹر ین کا کہنا ہے کہ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ صارفین کو یہ قبول کرنا چاہیے کہ وہ "کچھ چیزیں ترک کر رہے ہیں” کیونکہ "گوگل نے کئی بلین خرچ کیے ہیں اور اس کا آغاز 20 سال کا تھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ خلا بند ہونا شروع ہو جاتا ہے۔”

    سری لنکا نے آئی ایم ایف سے پھر امیدیں جوڑ لیں

    پروٹون کو امید ہے کہ یورپ سے قانون سازی انہیں چھوٹے حریفوں اور ایپل اور گوگل کے درمیان فرق کو ختم کرنے میں مدد کرے گی، جن کا اسمارٹ فون کی جگہ پر ڈوپولی ہے۔

    ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ، جو صارفین کو آزادانہ طور پر اپنے براؤزر، ورچوئل اسسٹنٹس یا سرچ انجنوں کا انتخاب کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے آلات سے پہلے سے لوڈ کردہ سافٹ ویئر کو ان انسٹال کرنے کا حق اور کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کو پہلے رکھنے کے لیے ان کے پلیٹ فارم کے استعمال پر پابندی لگانے کی اجازت دے گا۔ مسٹر ین کا کہنا ہے کہ "کینڈی اسٹور میں ایک بچہ ہونے کے ناطے”۔ "لیکن سوال یہ بنتا ہے کہ کیا یورپ، حقیقت میں اسے نافذ کر سکتا ہے اور ایک مختصر وقت میں فرق پیدا کر سکتا ہے؟”

    مسٹر ین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے فیصلے ضروری ہیں، بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو صرف چھوٹے حریفوں پر قبضہ کرنے سے روکنے کے لیے – ایسا کچھ جو ایپل نے کئی بار کیا ہے اس کے لیے ایک گالی ہےبڑی ٹیک کمپنیاں اتنی بڑی ہیں کہ اگر وہ آج آپ سے مقابلہ نہیں کرتی ہیں، تو وہ پانچ، چھ سالوں میں آپ سے مقابلہ کریں گی۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کس صنعت میں ہیں۔ وہ صنعت تباہ ہونے والی ہے-

    "اگر ہم موجودہ راستے کو جاری رکھتے ہیں، تو ہم امریکہ اور چین کی چار یا پانچ کمپنیوں کے زیر کنٹرول دنیا میں ختم ہو جائیں گے، اور ہم سب کی فلاح و بہبود ہو گی تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کی صنعت سے ہم آہنگ رہنے کے لیےنہ صرف قانون سازی میں تبدیلیاں بلکہ ذہنیت کی تبدیلی کی بھی ضرورت ہوگی۔ "ریگولیشن ہمیشہ اتنا پیچھے کیوں ہے؟ ہمیں صرف قانون سازی کرنے اور پھر ایک نسل کے لیے دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں ہر سال انہیں اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ٹیکنالوجی کی رفتار سے آگے بڑھنے کے لیے قوانین کی ضرورت ہے-

    امریکہ جرمنی میں قربتیں بڑھنے لگیں

  • واٹس ایپ نے گروپ وائس کال میں  نئے فیچرز متعارف کرا دیئے

    واٹس ایپ نے گروپ وائس کال میں نئے فیچرز متعارف کرا دیئے

    کیلیفورنیا: دنیا بھر کی معروف ترین میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے اپنی گروپ وائس کال میں متعدد نئے فیچرز اپ ڈیٹ کردیئے۔

    باغی ٹی وی: حال ہی میں واٹس ایپ نے اینڈرائیڈ سےآئی فون پر واٹس ایپ ڈیٹامنتقلی کے متعلق اپ ڈیٹ جاری کی تھی اب ایپ کی جانب سے گروپ وائس کال میں نئی تبدیلیاں سامنے لائی گئیں ہیں گروپ کال فیچر میں نئے ٹولز شامل کرنے کا مقصد گفتگو کے دوران پیش آنے والی مشکلات سے نمٹنا ہے۔

    واٹس ایپ پر دوستوں کیساتھ ماضی کے بہترین گیمزکھیلیے

    تبدیلیوں کے بعد اب جب کوئی شخص گروپ وائس کال میں شامل ہوگا تو ایک بینر نوٹی فیکیشن ظاہر ہوگا جو یہ بتائے گا کہ کوئی شخص کال میں شامل ہوا ہے یہ بڑی چیٹس میں بھی ہوگا اور تب بھی ہوگا اگر کسی کا نام اسکرین پر ظاہر ہونے والی لسٹ میں موجود نہ ہو۔

    قبل ازیں واٹس ایپ نے صارفین کے لیے نئی پرائیویسی کنٹرول سیٹنگز متعارف کرا ئی جس کو استعمال کرتے ہوئے اب صارفین کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ وہ جس کو چاہیں گے اس کو اپنی پروفائل پکچر، اپنے متعلق معلومات، لاسٹ سین اور واٹس ایپ اسٹیٹس دیکھائیں گے-

    حالیہ ٹویٹ میں واٹس ایپ کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ کمپنی نے اپنے صارفین کے لیے سخت پرائیویسی کنٹرول سیٹنگز جاری کردیں ہیں۔ اب تک صارفین اپنا واٹس ایپ اسٹیٹس، لاسٹ سین اور اپنے متعلق معلومات پر تین قسم کی پرائیویسی کا اطلاق کر سکتے ہیں 1) سب کے دیکھنے کے لیے دستیاب، 2) صرف آپ کے کانٹیکٹس دستیاب 3) مکمل طور پر پوشیدہ۔

    واٹس ایپ میں نئی سیکیورٹی خامی کی نشاندہی ،لاکھوں صارفین کے اکاؤنٹس نشانے پر

    لیکن اب ایک نیا آپشن شامل کیا گیا ہے جس کے مطابق صارف اپنے کچھ کانٹیکٹس سے اپنی پروفائل پکچر وغیرہ پوشیدہ رکھ سکیں گے جبکہ یہ سب چیزیں باقیوں کے لیے عیاں رہیں گی۔ یہ بلیک لسٹ کرنے کی ہی ایک نئی شکل ہے ان سیٹنگز کے لیے اسکرین پر اوپری حصے میں دائیں جانب تین نقطوں پر ٹیپ کریں، سیٹنگز میں جائیں پھر اکاؤنٹ میں اور پھر پرائیویسی میں جاکر سیٹننگ کر لیں۔

    واٹس ایپ کی جانب سے یہ نیا فیچر گزشتہ برس بِیٹا ٹیسٹرز کے لیے جاری کیا گیا تھا لیکن اب کمپنی نے یہ فیچر عام صارفین کے لیے جاری دیا گیا ہے۔

    واٹس ایپ جلد ایک اور فیچر بھی متعارف کرائے گا جس میں دیگر لوگوں کی آواز بند کی جاسکے گی اس کا مطلب ہے کہ کال میں شامل افراد کے اطراف سے آنے والے شور کو بھی خاموش کرایا جاسکے گا۔

    واٹس ایپ کے مالک مارک زکر برگ خود کونسی ایپ استعمال کرتے ہیں؟ تفصیلات سامنے آ گئیں