Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • بھارت میں جڑواں پہاڑوں پر واقع غاروں میں پہلی صدی قبل مسیح کی درسگاہیں دریافت

    بھارت میں جڑواں پہاڑوں پر واقع غاروں میں پہلی صدی قبل مسیح کی درسگاہیں دریافت

    بھارتی ریاست اڈیشہ کے جڑواں پہاڑوں ادے گیری اور کھنڈا گیری میں واقع غاروں میں درسگاہیں دریافت ہوئیں جن کے بارے ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ یہ پہلی صدی قبل مسیح کی درس گاہیں تھیں-

    باغی ٹی وی : برطانوی خبر رساں ادارے ” انڈپینڈنٹ اردو ” کو ادے گیری اور کھنڈا گیری میں ان آثار قدیمہ کی تاریخی معلومات سیاحوں تک پہنچانے والے ایک مقامی گائیڈ سبھاش چندر پردھان نے بتایا کہ ان کی تعمیر جنگ کلنگا کے بعد ہوئی۔ اس وقت یہاں جین مذہب کے پیروکار موریا سلطنت کے راجہ اشوک سے چھپنے کے لیے آباد ہوئے۔

    ’بلیک بیوٹی‘ نامی شہابی پتھرمیں قدیم ترین مریخی معدنیات موجود

    جنگ کلنگا موریا سلطنت اور کلنگا سلطنت کے درمیان پہلی صدی قبل مسیح کے زمانے میں لڑی گئی تھی، جس کے بعد راجہ کلنگا نے جین مذہب اور اشوک نے بدھ مت اختیار کر لیا تھا جنگ سے پہلے دونوں کا مذہب ایک ہی تھا ان غاروں کا بنیادی مقصد جنگ کے دوران چھپنا تھا مگر بعد میں انہیں درس و تدریس کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔

    یہ دو پہاڑ ہیں ایک ادے گیری اور ایک کھنڈا گیری یہ زلزلے سے پہلے ایک تھے ادے کا مطلب عروج اور گری کا مطلب پہاڑی۔ اس لیے اسے ادے گیری کہتے ہیں کھنڈا کا مطلب میٹھا اس لیے اسے سویٹ ہل بھی کہتے ہیں۔

    یہ ایک یک سنگی ڈھانچہ ہے یہ بھارت کا پہلا مونو لیتھک سٹرکچر ہے جبکہ دوسرا الورا اجنتا ہےاڈیشہ کے ان غاروں میں کئی نقوش ہیں جین مذہب کے مذہبی پیشوا اور مبلغ کے نقوش بھی یہاں ہیں ہر پیشوا کی نشانی بھی ہے رشوناتھ سے لے کر مہاویر 24 پیشواؤں کی مورتیاں بھی ہیں جین مذہب کے ایک پیشوا رشو کی علامت آدی ناتھ یعنی گائے کی سواری اور پیشوا مہاویر کی علامت شیر ہے، جو یہاں غاروں میں بنی ہوئی ہے یہاں باقی جین مبلغوں کی علامتیں بھی ہیں، جو یہاں کے غاروں میں موجود ہیں یہ آثار بتاتے ہیں کہ کلنگا سلطنت کتنی ترقی یافتہ تھی۔

    قازقستان کے ایک غار سے 48 ہزار سال قبل رہنے والے انسان کی باقیات دریافت

    سبھاش کے مطابق یہاں سب سے پہلا غار رانی غار ہے یہ 10 منزلہ تھا جو اب دو منزلہ بچا ہے آٹھ منزلیں زلزلے میں گر گئیں اس میں ہاتھی غار بھی ہے یہاں بھارت کے سب سے طاقت ور راجہ کلنگا کی نشانی ہے۔ پالی زبان۔ برہمنی سکرپٹ۔ کلنگا کی شہری اور فوجی ترقی کی نشانیاں ہیں۔ شانتی مایتری اور پریتی لکھا ہے۔ وہاں سواستک بھی ہے جو رحم دلی معافی اور امن سے عبارت ہے ان غاروں میں سیوریج سسٹم بھی ہے۔ اس کا مطلب ہےکہ یہاں پانی کی ترسیل تھی ٹھنڈے پانی کا بندوبست تھاپانی کے ذریعے پیغام رسانی اورمواصلات کا بندوبست بھی تھا۔ ان کے پاس ٹیکنالوجی تھی ہمارے پاس کچھ نہیں۔

    جین کی مذہبی روایتوں میں ادے گیری اور کھنڈا گیری کی باقیات کی بہت اہمیت ہے۔ یہ دونوں مراکز اب حکومت ہند کے محکمہ آثار قدیمہ کے ماتحت آتے ہیں۔

    آثار قدیمہ کی ویب سائٹ کے مطابق ان غاروں کو بنانے کی وجہ جینی بھکشوؤں کو مراقبہ گاہیں فراہم کرنا تھا جسے بعد میں جین مذہب کی تعلیم کے لیے بطور درس گاہ استعمال کیا گیا محکمے کے نوٹس میں لکھا ہے کہ رتنا گیری اور کھنڈا گیری میں پہلے 117 غاریں تھیں جو زلزلے اور زمانے کی دست و برد کے بعد صرف 33 بچی ہیں۔

    انٹرنیٹ پر جاری تفصیلات کے مطابق جنگِ کلنگ اشوک اعظم کی سلطنت موریہ کی فوج اور سلطنت کلنگ کی فوج کے درمیان ہوئی تھی، موریا سلطنت پر اس وقت اشوکا کی حکومت تھی جو چندر گپت موریا کا پوتا تھا کالنگا ایک جاگیردارانہ ریاست تھی جو مشرقی ساحل پرواقع تھی۔یہ جنگ دنیا کی سب سے بڑی خون خرابے والی جنگوں میں سے ایک ہے۔

    1 کروڑ 80 لاکھ سال قبل زمین پر پائے جانیوالے دیو ہیکل مگرمچھوں کی نئی اقسام دریافت

    یہ جنگ وہ واحد بڑی جنگ تھی جو اشوکا نے تخت سنبھالنے کے بعد لڑی اس جنگ میں اڑھائی لاکھ افراد مارے گئے۔ دراصل کالنگا کی جنگ امن کی بحالی اور اقتدار کے لیے تھی۔ کالنگا ایک خوشحال علاقہ تھا جس میں امن پسند اورہنرمند لوگ رہتے تھے۔ کالنگا کے شمالی علاقے کو اتکلا کہا جاتا تھا۔کالنگا میں کئی بندرگاہیں بنائی گئیں اور اس کی بحریہ بڑے زبردست افراد پر مشتمل تھی۔

    ہندوستان کی تاریخ میں کوئی جنگ اتنی اہمیت کی حامل قرار نہیں دی جاتی جتنی کالنگا کی جنگ ہے۔ ایک تو اس جنگ کی شدت بہت زیادہ تھی اور پھراس کے نتائج بہت حیران کن تھے۔ تاریخ عالم کی بڑی جنگوں میں ایک جنگ کالنگا کی بھی ہے۔ کالنگا کی فوجی طاقت کی ایک اہم وجہ ہاتھیوں کی طاقت تھی۔ چندرگپت موریا کے زمانے کے یونانی سفیر نے بالواسطہ طور پر کالنگا کی فوجی طاقت کی طرف اشارہ کیا تھا۔ اس کے مطابق موریا سلطنت کے پہلے شہنشاہ کے زمانے میں کالنگا کے بادشاہ نے اپنے لیے 60,000 سپاہی باڈی گارڈ کے طور پر رکھے تھے۔ اس کے علاوہ اس کے پاس 1 ہزار گھڑ سوار اور 700ہاتھی تھے۔ اگر بادشاہ کو اپنے اور اپنے محل کے تحفظ کیلئے اتنی بڑی فوج کی ضرورت تھی تو اس سے اندازہ لگایاجا سکتا ہے کہ اپنی ریاست کے تحفظ کیلئے اس کے پاس کتنی بڑی اور طاقتور فوج ہوگی۔

    دراصل تقریباً 150 قبل مسیح میں شہنشاہ کھار بیل نے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ باختر کے ڈیمیٹریس اول کا ہم عصر تھا، موجودہ بھارت کا ایک بڑا حصہ فتح کر لیا کھار بیل ایک جین حکمران تھا۔ اس نے ادے گیری پہاڑی کے اوپر مٹھ (خانقاہوں کے مساوی) تعمیر کی۔ تاریخی دستاویزات میں درج ہے کہ کورکھشیتر کی جنگ سے سالہا سال قبل کلنگا ایک با اختیار ریاست تھی اس وقت کالنگا کا کوئی بادشاہ نہیں تھا۔

    عراق میں شدید خشک سالی کے باعث دریائے دجلہ سے 3,400 سال پرانا شہر نمودار

    اس وقت سلطنت کلنگا ہندوستان کی عظیم قوتوں میں شمار ہوتی تھی۔ میگھا واہانا، جسے چیدی خاندان کہا جاتا ہے، کے راجا کھار بیل کے عہد میں تقریباً پہلی یا دوسری صدی قبل مسیح یہ غار بنائے گئے تھے یہ وہ عہد تھا جب ریاست کلنگا کو سمندری تجارت کی وجہ سے مقامی رسم و رواج میں ناپاک مانا جاتا تھا۔ مورخین کا ماننا ہے کہ خود مختار کلنگا کی بحری تجارت کی وجہ سے موریہ سلطنت کو سیاسی اور تجارتی خطرات لاحق ہوئے ان خطرات کے پیش نظر راجہ اشوک نے جنگ عظیم چھیڑی تھی اور قتل و غارت کی ایک داستان رقم کردی، جس سے شرمندہ ہو کر اشوک نے ہندو دھرم چھوڑ کر بدھ مذہب اختیار کرلیا۔

    حالانکہ وہ کلنگ پر قبضہ نہیں کر پائے بدھ مت اختیار کرنے کے بعد اشوکا کو یہ یقین ہو گیا کہ بدھ مت تمام انسانوں‘ جانوروں اور پودوں کیلئے سودمند ہے۔ اس نے دوسری ریاستوں میں بھی بدھ ازم کو فروغ دیا یہ بات اپنی جگہ بہت حیران کن ہے کہ وہ اشوکا جو ایک سفاک شہنشاہ تھا اور جسے خون کا پیاسا کہا جاتا تھا‘ کالنگا کی فتح کے بعد اسکی کایا کلپ ہو گئی اور وہ پچھتانے لگا کہ اس جنگ میں اتنا انسانی خون کیوں بہا؟ تاریخ میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ ایک فاتح بادشاہ فتح کے بعد اتنا پرملال ہوا کہ اس نے اپنا مذہب ہی تبدیل کر لیا-

    سعودی عرب میں سمندری چھپکلی کی 80 ملین سال پرانی باقیات دریافت

    پہلی صدی قبل مسیح میں چیدی شاہی خاندان نے کلنگا پر حکمرانی شروع کی۔ اس خاندان کے تیسرے حکمراں کھار بیل تھے جن کا شمار اس وقت کے عظیم ترین حکمرانوں میں کیا جاتا ہےکھار بیل کے عہد میں یہ غار بنے تھے۔ غاروں کے فن تعمیر سے چیدی عہد کی طرز تعمیر اور مہارت کا پتہ چلتا ہے۔

    یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ شیشوپال گڑھ (موجودہ ریاست کا ایک علاقہ) کی کھدائی جو مسٹر بی بی لال کی نگرانی میں 1984 میں ہوئی۔ اس میں یہاں سے چیدی خاندان کے عہد کے ایسے نایاب جنگی ہتھیار ملے ہیں جسے صرف رومی فوج استعمال کرتی تھی۔

    مؤرخین کہتے ہیں کہ اس امر سے چیدی حکمرانوں کے بین الاقوامی تعلقات کا پتہ چلتا ہے۔ کھار بیل نے بھی اپنے پیش رؤوں کے مطابق سلطنت کو مضبوط کرنےکی کوشش کی کھاربیل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پیدائشی جینی تھا اور اشوک کی طرح اس نے کوئی دوسرا مذہب اختیار نہیں کیا۔ جین مذہب کی اشاعت کے لیے کھاربیل نے مندروں کی تعمیر کے علاوہ پہاڑ وں کو کٹوا کرغار بنوائے۔

    یہ دونوں پہاڑ، جو کہ پہلے ایک تھے، ہندوستان کی مشرقی ساحل پر واقع اڈیشہ کی راجدھانی بھوبنیشور سے تقریباً سات کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہیں اور سال بھرسیاحوں کی نگاہِ ستائش و حیرت کا مرکز بنےرہتے ہیں ان غاروں کو پہلی مرتبہ 19ویں صدی عیسوی میں برطانوی افسر انڈریو سٹرلنگ نے دریافت کیا تھا۔

    ڈھائی ہزار سال قبل ستاروں کی سیدھ میں بنایا گیا مقدس تالاب

  • سوئٹزرلینڈ میں بجلی ذخیرہ کرنے والی آبی بیٹری فعال

    سوئٹزرلینڈ میں بجلی ذخیرہ کرنے والی آبی بیٹری فعال

    سوئٹزرلینڈ میں 4 لاکھ برقی گاڑیوں کی بیٹری کے برابر بجلی ذخیرہ کرنے والی آبی بیٹری کو فعال کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : دو ارب یورو کا یہ منصوبہ سوئس پہاڑی علاقے کی سطح زمین سے 600 میٹر گہرائی میں بنایا گیا ہے۔ اس منصوبے پر 14 سالوں سے کام جاری تھا۔

    ایک ہفتہ قبل جرائم کی پیش گوئی کرنیوالے مصنوعی ذہانت کے الگورتھم کا کامیاب تجربہ

    ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ نینٹ ڈی ڈرانس کی جانب سے جاری کی جانےو الی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا کہ نئی قابلِ تجدید توانائیوں کے ذرائع کے استعمال میں اضافہ ہوا جن کی پیداوار ناہموار ہوتی ہے، اس اتار چڑھاؤ کے لیے اِزالے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور کھپت میں توازن مستقل طور قائم کیا جاسکے۔

    اس بیٹری کی 2 کروڑ کلو واٹ آور کی گنجائش اس بات کو ممکن بنائے گی کہ قابلِ تجدید ذرائع سے بننے والی اضافی توانائی کو مستقبل کے لیے ذخیرہ کیا جاسکے۔ لہذا یہ برقی گرڈ کے استحکام اور روایتی ایندھن پر انحصار کو کم کرنے میں مدد دے گی۔

    اپنے موبائل کو سائبر حملوں سے کیسے بچا سکتے ہیں؟

    یہ ہائیڈرو بیٹری اضافی توانائی کو استعمال کرتے ہوئے دو مختلف بلندیوں پر بنے دو مختلف ذخائر تک پانی پمپ کر کے کام کرتی ہے۔جب اضافہ بجلی بنتی ہے تو6 پمپ ٹربائنس نچلے حوض سے اوپر موجود حوض میں پانی بھیجتے ہیں ڈھائی کروڑ مکعب میٹر کی گنجائش رکھنے والی اس آبی بیٹری کی توانائی کا اخراج اتنا ہے کہ 9 لاکھ گھروں کو بجلی فراہم کی جاسکتی ہے۔

    واٹس ایپ نے ڈیسک ٹاپ ورژن کی بہتری کیلئے کام شروع کر دیا

  • واٹس ایپ نے ڈیسک ٹاپ ورژن کی بہتری کیلئے کام شروع کر دیا

    واٹس ایپ نے ڈیسک ٹاپ ورژن کی بہتری کیلئے کام شروع کر دیا

    دنیا بھر میں مقبول تریں میسجنگ ایپلیکیشن واٹس ایپ نے صارفین کی سہولت کے لیے نئے فیچر پر کام شروع کردیا۔

    باغی ٹی وی : میٹا کی زیرملکیت واٹس ایپ دنیا کا مقبول ترین میسنجر ہے جس کے صارفین کی تعداد 2 ارب سے زیادہ ہے یہی وجہ ہےکہ واٹس ایپ اپنےصارفین کی پرائیویسی کا خیال رکھتے ہوئےاور فرمائشوں پر آئے دن نت نئے فیچرز متعارف کراتی ہے اور اب اس بار ایپلی کیشن ڈیسک ٹاپ ورژن کی بہتری کے لیے کام کررہی ہے۔

    واٹس ایپ نے میسجز کو ڈیلیٹ کرنے کا دورانیہ بڑھا دیا

    واٹس ایپ پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ویب بیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق اب صارف واٹس ایپ ڈیسک ٹاپ پر بھی میسج کو ‘رپورٹ’ کرسکیں گے۔

    اس سے قبل گزشتہ برس رپورٹ کا آپشن واٹس ایپ اینڈرائیڈ اور آئی فون صارفین کے لیے متعارف کرایا گیا تھا جس کے تحت صارفین نامناسب میسجز کو رپورٹ یعنی واٹس ایپ کو شکایت کرسکتے ہیں۔

    تاہم اب یہ سہولت ڈیسک ٹاپ ورژن کے لیے جلد متعارف کرائی جائے گی، فی الحال ایپ اس پر کام کررہی ہے۔

    اپنے موبائل کو سائبر حملوں سے کیسے بچا سکتے ہیں؟

    اس سے قبل واٹس ایپ نے صارفین کی سہولت کے لئے ‘ڈیلیٹ فار ایوری ون (Delete for everyone)’ کے فیچر میں بڑی تبدیلی کی ہے جس کے تحت چیٹ میں بھیجے گئے پیغامات کو ڈیلیٹ کرنے کا دورانیہ بڑھا دیا گیا ہے یعنی اب میسجز ڈیلیٹ کرنے کی وقت کی حد 2 دن اور 12 گھنٹے ہوگی، یعنی دو دن بعد بھی آپ بھیجے گئے میسجز ڈیلیٹ کرسکیں گے جبکہ اپ ڈیٹ سے قبل واٹس ایپ کے میسجز میں ڈیلیٹ فار ایوری ون فیچر کی حد 1 گھنٹہ، 8 منٹ اور 16 سیکنڈ تھی –

    یہ اپ ڈیٹ فی الحال کچھ بِیٹا صارفین کے لیے جاری کی گئی ہے، جب کہ آہستہ آہستہ اس فیچر تک تمام صارفین کی رسائی ممکن ہوگی۔

    ایک ہفتہ قبل جرائم کی پیش گوئی کرنیوالے مصنوعی ذہانت کے الگورتھم کا کامیاب تجربہ

  • واٹس ایپ نے میسجز کو ڈیلیٹ کرنے کا دورانیہ بڑھا دیا

    واٹس ایپ نے میسجز کو ڈیلیٹ کرنے کا دورانیہ بڑھا دیا

    دنیا کی مقبول ترین میسجنگ ایپلیکیشن واٹس ایپ نے صارفین کی سہولت کے لئے مزید نئے فیچر پر کام شروع کر دیا-

    باغی ٹی وی : میٹا کی زیرملکیت واٹس ایپ دنیا کا مقبول ترین میسنجر ہے جس کے صارفین کی تعداد 2 ارب سے زیادہ ہے یہی وجہ ہے کہ واٹس ایپ اپنے صارفین کی سہلوت اور فرمائشوں پر آئے دن نت نئے فیچرز متعارف کراتی ہے اور اب اس بار ایپلیکیشن نے اپنے ‘ڈیلیٹ فار ایوری ون (Delete for everyone)’ کے فیچر میں بڑی تبدیلی کردی ہے۔


    واٹس ایپ کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ویب بیٹا انفو کے مطابق اب چیٹ میں بھیجے گئے پیغامات کو ڈیلیٹ کرنے کا دورانیہ بڑھا دیا گیا ہے یعنی اب میسجز ڈیلیٹ کرنے کی وقت کی حد 2 دن اور 12 گھنٹے ہوگی، یعنی دو دن بعد بھی آپ بھیجے گئے میسجز ڈیلیٹ کرسکیں گے جبکہ اپ ڈیٹ سے قبل واٹس ایپ کے میسجز میں ڈیلیٹ فار ایوری ون فیچر کی حد 1 گھنٹہ، 8 منٹ اور 16 سیکنڈ تھی –

    رپورٹ کے مطابق یہ اپ ڈیٹ فی الحال کچھ بِیٹا صارفین کے لیے جاری کی گئی ہے، جب کہ آہستہ آہستہ اس فیچر تک تمام صارفین کی رسائی ممکن ہوگی۔


    اس کے علاوہ واٹس ایپ ڈیلیٹ فار ایوری ون فیچر کی مزید بہتری کے لیے بھی کام کر رہا ہے جس کے تحت اگر آپ گروپ ایڈمن ہیں تو مستقبل میں گروپس میں کسی بھی پیغام کو حذف کرنے کے اہل ہوں گے۔

    قبل ازیں واٹس ایپ میں گروپس چیٹ کے حوالے سے چند نئے فیچرز کا اضافہ کیا گیا ہے ان فیچرز سے واٹس ایپ میں کسی گروپ کال کے حوالے سے صارف کو زیادہ اختیار دیا گیا ہے۔

    واٹس ایپ کے سربراہ ول کیتھکارٹ نے ان فیچرز کی تفصیلات ایک ٹوئٹ میں شیئر کیں انہوں نے بتایا تھا کہ اب گروپ کال کے دوران اگر کوئی فرد اپنا مائیک میوٹ کرنا بھول جائے تو ہوسٹ یا کال میں شامل کوئی بھی فرد اسے میوٹ کرسکے گا تاکہ بات چیت متاثر نہ ہو۔


    اسی طرح گروپ کال میں اگر کوئی نیا فرد شامل ہوگا تو واٹس ایپ کی جانب سے الرٹ بھیجا جائے گا تاکہ ہر ایک کو اس کا علم ہوسکے ایک گروپ کال میں 32 افراد کو شامل کیا جاسکتا ہے اسی طرح کال کے دوران مخصوص افراد کو میسجز بھیجنا بھی اب ممکن ہوگا۔

    ان نئے فیچرز سے واٹس ایپ زوم، گوگل میٹ اور مائیکرو سافٹ ٹیمز کا ایک اچھا متبادل ثابت ہوگا جبکہ قبل ازیں واٹس ایپ نے گروپ اراکین کی تعداد کو 256 سے بڑھا کر 512 کر دیا تھا۔

  • ایک ہفتہ قبل جرائم کی پیش گوئی کرنیوالے مصنوعی ذہانت کے الگورتھم کا کامیاب تجربہ

    ایک ہفتہ قبل جرائم کی پیش گوئی کرنیوالے مصنوعی ذہانت کے الگورتھم کا کامیاب تجربہ

    شکاگو: سائنس دانوں نے90 فیصد درستگی کے ساتھ ایک ہفتہ قبل جرائم کی پیش گوئی کرنے والے مصنوعی ذہانت کے الگورتھم کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : "ڈیلی سائنس” کے مطابق امریکا کی شیکاگو یونیورسٹی کے محققین نے یہ ماڈل ماضی کے جرم کے ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے 1000 مربع فٹ کے رقبے میں جرائم کی پیش گوئی کے لیے تیار کیا۔ یہ ٹیکنالوجی امریکا کے آٹھ بڑے شہروں میں آزمائی گئی جن میں شیکاگو، لاس اینجلس اور فلیڈیلفیا شامل ہیں۔

    چینی خلائی جہاز نے پورے مریخ کی تصاویر کھینچ لیں

    مشین لرننگ اور مصنوعی ذہانت میں پیشرفت نے حکومتوں کی دلچسپی کو جنم دیا ہے جو جرائم کی روک تھام کے لیے پیشین گوئی کرنے والی پولیسنگ کے لیے ان ٹولز کو استعمال کرنا چاہیں گی۔ جرم کی پیشن گوئی کی ابتدائی کوششیں متنازعہ رہی ہیں، تاہم، کیونکہ وہ پولیس کے نفاذ میں نظامی تعصبات اور جرائم اور معاشرے کے ساتھ اس کے پیچیدہ تعلق کے لیے ذمہ دار نہیں ہیں۔

    شکاگو یونیورسٹی کے ڈیٹا اور سماجی سائنسدانوں نے ایک نیا الگورتھم تیار کیا ہے جو پرتشدد اور املاک کے جرائم پر عوامی ڈیٹا سے وقت اور جغرافیائی مقامات کے نمونوں کو سیکھ کر جرائم کی پیش گوئی کرتا ہے۔ ماڈل تقریباً 90% درستگی کے ساتھ ایک ہفتہ پہلے مستقبل کے جرائم کی پیشین گوئی کر سکتا ہے۔

    نظامِ شمسی کے قریب زمین جیسے دو چٹانی سیارے دریافت

    ایک الگ ماڈل میں، تحقیقاتی ٹیم نے واقعات کے بعد گرفتاریوں کی تعداد کا تجزیہ کرکے اور مختلف سماجی اقتصادی حیثیت کے ساتھ محلوں کے درمیان ان شرحوں کا موازنہ کرکے جرائم کے خلاف پولیس کے ردعمل کا بھی مطالعہ کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ امیر علاقوں میں جرائم کے نتیجے میں زیادہ گرفتاریاں ہوئیں، جب کہ پسماندہ علاقوں میں گرفتاریاں کم ہوئیں۔ غریب محلوں میں جرم زیادہ گرفتاریوں کا باعث نہیں بنتا، تاہم، پولیس کے ردعمل اور نفاذ میں تعصب کی نشاندہی کرتا ہے۔

    یونیورسٹی آف شیکاگو کے پروفیسر اِشانو کا کہنا تھا کہ سائنس دانوں نے شہری ماحول کا ایک ڈیجیٹل جڑواں بنایا ہے۔ اگر اس میں ماضی میں ہونے والے وقوعات کا ڈیٹا ڈالا جائے تو یہ آپ کو بتادے گا کہ مستبقل میں کیا ہونے جارہا ہے۔ یہ جادوئی نہیں ہے، اس کی حدود ہیں تاہم سائنس دانوں نے اس کی تصدیق کردی ہے۔

    یہ آلہ 2002 کی فل مائناریٹی رپورٹ میں دِکھائی گئی ایک ٹکنالوجی کی یاد تازہ کرتا ہے، ایسی ہی ایک مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی جاپان میں شہریوں کو ان علاقوں کے متعلق بتانے کے لیے استعمال کی جارہی ہے جہاں جرائم کا تناسب زیادہ ہے۔

    تازہ ترین تحقیق کی تفصیلات سائنسی جرنل نیچر ہیومن بیہیویئر میں شائع کی گئیں ہیں۔

    ایک چارج پر 1200 کلو میٹر طے کرنے والی مرسیڈیز نے اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا

  • نظامِ شمسی کے قریب  زمین جیسے دو چٹانی سیارے دریافت

    نظامِ شمسی کے قریب زمین جیسے دو چٹانی سیارے دریافت

    شیکاگو: ناسا کے ٹرانزٹنگ ایکسوپلینٹ سروے سیٹلائیٹ (TESS) نے حال ہی میں ہمارے نظامِ شمسی سے قریب ترین دو چٹانی، زمین کے جیسے سیاروں کی دریافت کی ہے۔

    باغی ٹی وی :سیاروں کی دریافت یونیورسٹی آف شیکاگو میں پوسٹ ڈاکٹرل کے فیلو رافیل لوک کی سربراہی میں کام کرنے والی بین الاقوامی محققین کی ٹیم نے ٹیس سے موصول ہونے والے ڈیٹا میں کی محققین کی جانب سے پہلے اس دریافت کے متعلق معلومات امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر پیسیڈینا میں منعقد ہونے والی امیریکن آسٹرونومیکل سوسائیٹی کی 240 ویں میٹنگ میں پیش کی گئیں تھیں۔

    گوگل کا اپنی ہینگ آؤٹس سروس بند کرنے کا اعلان

    محققین کے مطابق یہ ایکسو پلینٹ یعنی نظام شمسی سے باہر یہ دو سیارے زمین سے 33 نوری سال کے فاصلے پر موجود HD 260655 نامی سرخ ڈوارف سیارے کے گرد گھوم رہے ہیں یہ سیارے ہماری زمین کی طرح چٹانی تو ہیں لیکن ہیئت میں زمین سے بڑے ہیں ایک سیارہ زمین سے 1.2 گُنا اپنے ستارے کے گرد چکر لگانے میں صرف 2.8 دن لیتا ہے جبکہ دوسرا سیارہ زمین سے 1.5 گُنا بڑا ہے جس کو ایک مدار مکمل کرنے کے لیے 5.7 دن درکار ہیں۔

    سیاروں کا پیرنٹ ستارہ ایک نام نہاد M بونا ہے، جو سورج کی جسامت اور چمک کے دسویں حصے کا ایک چھوٹا ستارہ ہے۔ پھر بھی، سیاروں کی سطحوں پر درجہ حرارت بالترتیب 818 ڈگری فارن ہائیٹ (437 ڈگری سیلسیس) اور 548 ڈگری فارن ہائیٹ (287 ڈگری سینٹی گریڈ) تک پہنچ جاتا ہے۔

    میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (MIT) میں فلکیات میں پوسٹ ڈاکٹریٹ محقق اور اس دریافت کے پیچھے سرکردہ سائنسدانوں میں سے ایک مشیل کونیموٹو نے بیان میں کہا کہ ہم اس حد کو رہائش پذیر زون سے باہر سمجھتے ہیں پھر بھی، یہ دو سیارے ہمارے نظام شمسی سے باہر زمین جیسی دنیاؤں کے بارے میں مزید جاننے کا ایک دلچسپ نیا موقع فراہم کریں گے-

    دنیا کا سب سے بڑا بیکٹریا دریافت

    Kunimoto نے کہا کہ اس نظام کے دونوں سیاروں کو اپنے ستارے کی چمک کی وجہ سے ماحول کے مطالعہ کے لیے بہترین اہداف میں شمار کیا جاتا ہے۔” "کیا ان سیاروں کے ارد گرد اتار چڑھاؤ سے بھرپور ماحول موجود ہے؟ اور کیا پانی یا کاربن پر مبنی انواع کے آثار ہیں؟ یہ سیارے ان دریافتوں کے لیے بہترین ٹیسٹ بیڈ ہیں۔

    محققین ستارے کے نظام کا مطالعہ جاری رکھتے ہوئے امید کرتے ہیں کہ اس میں اور بھی سیارے ہوسکتے ہیں، جن میں سے کچھ، شاید، ہمارے سیارے سے تھوڑا دور ہوسکتے ہیں۔

    TESS مشن کے MIT کے تحقیقی سائنسدان اوردریافت کےشریک مصنف، Avi Shporer نے بیان میں کہا نظام میں مزید سیارے ہو سکتے ہیں بہت سے ملٹی پلینٹ سسٹمز ہیں جو پانچ یا چھ سیاروں کی میزبانی کر رہے ہیں، خاص طور پر چھوٹے ستاروں کے ارد گرد۔ اس کی طرح امید ہے کہ ہم مزید تلاش کریں گے، اور شاید کوئی قابل رہائش زون میں ہو۔

    خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

    واضح رہے کہ 2018 میں خلاء میں نظامِ شمسی سے باہر موجود سیاروں کی تلاش کے لیے بھیجا جانے والا اسپیس کرافٹ ٹرانزٹ طریقہ کار استعمال کرتا ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت یہ فاصلے پر موجود ستارے کا مشاہدہ کرتا رہتا ہے اور انتظار کرتا ہے کب اس کی روشنی میں خلل آئے جو اس بات ثبوت کا ہوتی ہے کہ اس ستارے گرد گھومنے والے سیارے ٹیس اور اس ستارے کے درمیان سے گزر رہے ہیں۔

    یہ اسپیس کرافٹ 200 سے زائد مصدقہ ایکسو پلینٹ دریافت کر چکا ہے، جس کے بعد ماہرینِ فلکیات کی دریافتوں کی تعداد 5000 سے تجاوز کر گئی ہے-

    بوڑھی جلد کو جوان کرنے کا سائنسی طریقہ دریافت

  • ایک چارج پر 1200 کلو میٹر طے کرنے والی مرسیڈیز نے اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا

    ایک چارج پر 1200 کلو میٹر طے کرنے والی مرسیڈیز نے اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا

    مرسیڈیز کی الیکٹرک گاڑی نے ایک چارج پر 1200 کلو میٹر طے کرکے اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا۔

    باغی ٹی وی : ویژن (EQXX) ای کیو ایکس ایکس نے جرمنی کے شہر اسٹٹ گاٹ سے برطانیہ کے شہر سِلوراسٹون تک کا سفر ریکارڈ 15 گھنٹے سے کم وقت میں طے کیا۔ برقی گاڑی نے یہ کارنامہ 100 کلو واٹ آور کی بیٹری کے ساتھ انجام دیا یہ بیٹری پیک ٹیسلا کے ماڈل ایس میں بھی استعمال کی گئی ہے۔

    ترکیہ فن لینڈ اور سوئیڈن کی نیٹو میں شمولیت پر رضامند

    مرسیڈیز کی کار نے ٹیسلا کی نسبت دُگنا فاصلہ جدید ایرو ڈائنامکس استعمال کیے گئے کم وزن مواد، اور بیٹری میں جدت کی وجہ سے طے کیا۔ ویژن ای کیو ایکس ایکس نے ایک ماہ قبل جرمنی سے جنوبی فرانس تک بغیر ری چارج کے 1000 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا تھا۔

    جاپان : ٹوکیو میں ہیٹ ویو کا 150 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

    دونوں سفرحقیقی ٹریفک کی موجودگی میں کیے گئے جبکہ حالیہ ٹرپ میں درجہ حرارت اور موٹر وے ٹریفک کی اضافی مشکلات کا سامنا بھی تھاجرمنی تا برطانیہ 14.5 گھنٹے کی ڈرائیو کرنے والے مرسیڈیز کے ایڈم ایلسوپ کا کہنا تھا کہ اسٹٹ گاٹ سے سِلوراسٹون تک ایک چارج میں پہنچنا ٹیکنالوجی کے بہتر ہونے کا حقیقی ثبوت ہے۔

    امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات دوحہ میں شروع

    واضح رہے کہ مرسیڈز بینز 2030 تک اپنی تمام گاڑیاں برقی ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جبکہ آئل کمپنی ایکسون کے سی ای او کے مطابق 2040 تک فروخت ہونے والی تمام مسافر گاڑیوں کا برقی ٹیکنالوجی پر منتقل ہوجانا متوقع ہے۔

  • گوگل کا اپنی ہینگ آؤٹس سروس بند کرنے کا اعلان

    گوگل کا اپنی ہینگ آؤٹس سروس بند کرنے کا اعلان

    گوگل نےہینگ آؤٹس استعمال کرنے والے صارفین کو پیغام دیا ہے کہ وہ گوگل چیٹ پرمنتقل ہوجائیں –

    باغی ٹی وی : گوگل کی جانب سے ایک بلاگ پوسٹ میں بتایا گیا کہ ہینگ آؤٹس سروس کو نومبر میں ریٹائر کردیا جائے گا ہینگ آؤٹس موبائل ایپ استعمال کرنے والے افراد سے چیٹ ایپ پر سوئچ کرنے کا کہا جائے گا۔

    روس صدی سے زائد عرصےمیں پہلی بارغیر ملکی قرضوں میں ڈیفالٹ قرار

    کمپنی نے بتایا کہ اسی طرح ویب براؤزر پر جی میل کے ذریعے ہینگ آؤٹس استعمال کرنے والے افراد کو جولائی میں چیٹ پر اپ گریڈ کردیا جائے گا صارفین کا چیٹ ڈیٹا خودکار طور پر ہینگ آؤٹس سے گوگل چیٹ پر منتقل ہوجائے گا۔

    کمپنی نے صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ ڈیٹا ایکسپورٹ ٹول گوگل ٹیک آؤٹ کو استعمال کرکے ہینگ آؤٹس سے اپنا ڈیٹا نومبر سے قبل ڈاؤن لوڈ کرلیں۔

    واضح رہے کہ گوگل ہینگ آؤٹس کو 2013 میں متعارف کرایا گیا تھا جو اس وقت گوگل پلس کے اندر چیٹ پلیٹ فارم تھا بعد ازاں گوگل نے اس پلیٹ فارم کو دیگر سروسز جیسے جی میل کا حصہ بنا دیا تھا۔

    2017 میں گوگل چیٹ کو متعارف کرایا گیا جو کاروباری صارفین کے لیے میسجنگ ٹول تھا گوگل کی جانب سے ہینگ آؤٹس سے چیٹ پر لوگوں کو منتقل کرنے کی وجہ سکیورٹی کے ساتھ ساتھ مختلف قوانین بھی ہیں۔

    امریکا اور یورپی یونین قوانین کے مطابق گوگل چیٹ میں صارفین کو نقصان دہ لنکس سے زیادہ ٹھوس تحفظ فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ 2 کی بجائے ایک سروس پر کام کرنا بھی زیادہ آسان ہوتا ہے۔

    اردن کی عقبہ بندرگاہ میں زہریلی گیس کا سلنڈرپھٹنے سے 13 افراد ہلاک ،200 سے زائد زخمی

  • بوڑھی جلد کو جوان کرنے کا سائنسی طریقہ دریافت

    بوڑھی جلد کو جوان کرنے کا سائنسی طریقہ دریافت

    یروشلم: سدابہار جوانی کا راز ڈھونڈنے کے لئے انسان صدیوں سے کوشاں تھا اور اکیسویں صدی میں آ کر میڈیکل سائنس پہلی بار اس میدان میں ایک غیر معمولی پیش رفت کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے تاریخ میں پہلی بار سائنسدان بڑھتی ہوئی عمر کا پہیہ پیچھےکی جانب گھمانے میں کامیاب ہوگئے ہیں جس میں ایک اہم پیشرفت 20 برس کی مسلسل تحقیق کے بعد اسرائیل سے سامنے آئی ہے۔

    باغی ٹی وی : اسرائیلی شہر حائفہ میں واقع ریمبام ہیلتھ کیئرکیمپس اور ٹیکنیون اسرائیل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نے مسلسل دو عشروں تک غور و تحقیق کے بعد انسانوں کو کم ازکم بیرونی طور پر جوان رکھنے کا سائنسی طریقہ دریافت کیا ہے۔

    دہی خواتین کی صحت کیلئے بے حد مفید قرار

    اس ضمن میں چوہوں پر تجربات کے شاندار نتائج سامنے آئے ہیں جو انسانوں پر بھی قابلِ اطلاق ہیں تاہم مستقبل میں ان سےانسانی اعضا کو بھی جوان رکھنا ممکن ہوسکے گااس تحقیق میں کئی بین الاقوامی ماہرین بھی شامل ہیں جن کے کام کی تفصیلات سائنس ایڈوانسِس نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔ اس تحقیق میں بوڑھے چوہے کی جلد کا ایک ٹکڑا لیا گیا اور اس کی تمام پرتوں کی سالماتی (مالیکیولر) ساخت کو تبدیل کیا گیا ہے۔

    جوان چوہوں کو لیا گیا جو’سیویئر کمبائنڈ امیونوڈیفشنسی ڈیزیز‘ (ایس سی آئی ڈی) کے شکار تھے۔ اس کیفیت میں بی اور ٹی لمفوسائٹس بھی متاثر ہوجاتے ہیں۔ ان چوہوں میں بوڑھے انسانوں کے خلیات شامل کیے گئے کیونکہ اہم ہدف انسانی جلد ہی تھی۔ ماہرین کی مسلسل کوشش سے نہ صرف جلد میں خون کی نئی رگیں بنیں بلکہ جگہ جگہ سے بدلی رنگت ٹھیک ہونے لگی اور عمر رسیدگی کے بایومارکر بھی کم ہوئے۔

    خون کا ٹیسٹ جس سے 19 سال پہلے ہی ٹائپ 2 ذیابیطس کا سراغ لگایا جاسکتا ہے

    ماہرین کے مطابق اس ضمن میں جلد ایک بہترین تحقیقی مقام تھی کیونکہ دنیا بھر میں جلد کو جوان رکھنے پر کام ہو رہا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ بڑھاپے کے آثار سب سے پہلے جلد پر ہی ظاہر ہوتے ہیں۔

    اسی ٹیم نے پہلے بھی ایس سی آئی ڈی کے شکار جوان چوہوں میں بوڑھے افراد کی جلد شامل کی تھی اور افادیت ناپنے کے لیے ویسکولر اینڈوتھیلیئل گروتھ فیکٹر اے (وی ای جی ایف اے) کو ناپا تھا۔ یہ ایک طبی پیمانہ ہے جو تجربہ گاہ میں انسانی اعضا کی جوانی اور تازگی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

    تاہم ماہرین نے کہا ہے کہ انسانی جلد کے بوڑھے خلیات اور جلد میں جوانی کے آثار سے واضح ہوتا ہے کہ یہ عمل درست سمت میں ایک قدم ہے اور کم ازکم ہم ایک تھراپی کے تحت انسانی جلد کو بڑھاپے کے اثرات سے بچاتے ہوئے دوبارہ جوان کرسکتے ہیں۔

    مسلسل بے خوابی اور خراب نیند سے فالج کا خدشہ بڑھ سکتا ہے نئی تحقیق

  • وٹامن کی گولیا ں پیسے کا ضیاع  ہیں،ورزش اور غذا سے ہی صحت و تندرستی ممکن ہے،امریکی ماہرین

    وٹامن کی گولیا ں پیسے کا ضیاع ہیں،ورزش اور غذا سے ہی صحت و تندرستی ممکن ہے،امریکی ماہرین

    نیو یارک: سائنس دانوں اور غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزش اور غذا سے ہی صحت و تندرستی ممکن ہے وٹامن سپلیمنٹ کا مجموعہ آپ کو تندرست نہیں رکھ سکتا-

    باغی ٹی وی : سائنسدانوں کے مطابق اس بات کے واضح ثبوت نہیں ملے کہ ملٹی وٹامن اور مائیکرو نیوٹرینٹ سپلیمنٹ کے امراضِ قلب اور کینسر کو ٹال سکتے ہیں ایک وٹامن، دو یا پھر بہت سارے وٹامن کے مجموعوں کے ان دو امراض میں کمی یا بچاؤ کے ’واضح ثبوت‘ نہیں ملے البتہ حاملہ خواتین کو ہی کچھ فائدہ ہوسکتا ہے لوگ وٹامن کو جادوئی گولیاں سمجھتے ہیں جو کہ درست نہیں ان کے اثرات نہیں ہوتے بلکہ یہ رقم کا ضیاع ہے-

    سینے کی جلن اور تیزابیت کا سبب بننے والی غذائیں

    اس ضمن میں سائنسدانوں کی ٹیم نے کل 54 تحقیقات اور مطالعوں پر غور کیا ہے جو برس ہا برس جاری رہیں اور ان پر خاصی رقم بھی صرف کی گئی تھی سائنسدانوں نے واضح کیا کہ ہم وٹامن سپلیمںٹ سے منع نہیں کررہے بلکہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ان سے زیادہ امیدیں نہ لگائی جائیں۔

    ماہرین نے کہا ہے کہ بعض سپلیمںٹ کینسر کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔ بیٹا کیروٹین والی گولیاں ممکنہ طور پر پھیپھڑے کے سرطان کی وجہ بن سکتی ہیں جبکہ وٹامن ای کے امراضِ قلب سے بچاؤ یا سرطان سے بچانے میں کوئی خاص کردار سامنے نہیں آسکا ہے۔

    نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے شعبہ ادویہ سے وابستہ ڈاکٹر جیفرے لنڈر کہتے ہیں کہ ورزش اور محتاظ غذا کے زیادہ بہتر اثرات ہوتے ہیں

    موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ،لوگوں کی ننید کا دورانیہ کم ہو گیا

    ماہرین نے کہا ہے کہ پھل اور سبزیاں کھانا انسانوں کے لیے انتہائی مفید ہے اور وہ کینسر اور امراضِ قلب کے خطرات کم کرسکتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دواؤں کے مقابلے میں پھلوں اور سبزیوں میں وٹامن، مفید اجزا، فائبر اور دیگر فائٹوکیمیکلز ہوتے ہیں جو ملکر صحت کو بہتر رکھتےہیں۔ اس کے مقابلے میں الگ تھلگ وٹامن اپنی تاثیر کھودیتا ہے تاہم حاملہ خواتین میں فولک ایسڈ کے زبردست فوائد ہوتےہیں جنہیں لازمی قرار دینے پر زور دیا گیا ہے۔ فولک ایسڈ بچے کی تندرست نشوونما میں اہم کردار کرتا ہے۔

    رپورٹ کی شریک مصنفہ ڈاکٹر جینی جیا کا کہنا ہے کہ طرزِ زندگی بدل کر امراض سے بچا جاسکتا ہے۔ انہوں نے سادہ اور مناسب صحت بخش غذا پر زور دیا کیونکہ امریکی صنعتی غذاؤں کی ترجیح میں صحت کا عنصر شامل نہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ورزش پر بھی زور دیا جسے انہوں نے جادوئی نسخہ قرار دیا۔

    پھلوں اور سبزیوں کےاستعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پرقابوپایا جا سکتا ہے ،تحقیق