Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • واٹس ایپ میں کال ویٹنگ فیچر،ایک تیرسے دوشکار

    اسلام آباد:واٹس ایپ میں کال ویٹنگ فیچر،ایک تیرسے دوشکار،اطلاعات کےمطابق دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی انسٹینٹ میسیجنگ ایپ ‘واٹس ایپ’ میں ایک نئے کمال کے کال ویٹنگ فیچر کو شامل کر دیا گیا ہے ۔

    دہلی:لاشوں کےڈھیرلگ گئے،فیکٹری میں آتش زدگی، 57 افراد ہلاک

    واٹس ایپ انتظامیہ کا کہنا ہےکہ اس کے ذریعے اب واٹس ایپ پر کال کے دوران دیگر کال آنے پر صارف کو کال ویٹنگ نوٹیفکیشن ملنے لگے گا واٹس ایپ پر اب تک کال کے دوران آنے والی دوسری کال کا کوئی نوٹیفکیشن نہیں ملتا تھا والي نئے کال ویٹنگ فیچر کو واٹس ایپ پر استعمال کرنے کیلئے یوزر کو گوگل پلے سٹور پر جاکر واٹس ایپ کو لیٹیسٹ ورژن 2.19.357 ميں ايڈٹ کرنا ہوگا۔

    مجھے آگے کرکے پیچھے ہٹناحرام،مولانا فضل الرحمن نے اپوزیشن پرفتویٰ‌ داغ دیا

    یادرہےکہ واٹس ایپ مسلسل کئی دنوں اپنے پرانے فیچرزتبدیل کرکے نئے شامل کررہا ہے،یہی وجہ ہے کہ اس وقت سوشل میڈیا کا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ذریعہ بھی واٹس ایپ بن گیا ہے

    مجھے آگے کرکے پیچھے ہٹناحرام،مولانا فضل الرحمن نے اپوزیشن پرفتویٰ‌ داغ دیا

  • واٹس ایپ استعمال کرنے والوں کے لیے خوشخبری ، مزید3 بہترین نئے فیچرز

    اسلام آباد :واٹس ایپ استعمال کرنے والوں کےلیے خوشخبری ، اطلاعات کے مطابق موبائل میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے رواں برس صارفین کی سہولت ک لئے جدید سے جدید تر فیچرز متعارف کرواے ہیں ۔ واٹس ایپ نے رواں برس واٹس ایپ اسٹیٹیس اپنے فیس بک اکاونٹ پر شیئر کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر فیچرز بھی متعارف کرائے ہیں جن سے صارفین کو بے حد آسانیاں ہوگئیں ہیں۔

    بھارت کی مکاری جاری، انٹرنیٹ کے ذریعہ حساس معلومات حاصل کرنے کی کوشش

    یہ ہیں کچھ نئے فیچرز جو بہت جلد آپ واٹس ایپ میں استعمال کرسکیں گے۔

    واٹس ای کو بیک وقت صرف ایک ہی ڈیوائس پر استعمال کیا جاسکتا ہے مگر بہت جلد صارفین اپنے اکاﺅنٹ کو کئی ڈیوائسز پر بیک وقت استعمال کرسکی گے۔ رجسٹریشن نوٹیفکیشن کے نام سے واٹس ایپ میں اس نئے فیچر پر کام جاری ہے جو صارفین کو اوریجنل ڈیوائس کے ساتھ سیکنڈری ڈیوائس لاگ ان کی سہولت فراہم کرے گا-

    عمران خان مخلص، سچا اورامانت دارلیڈر، آزادکشمیر

    ڈارک موڈ


    فیس بک میسنجر، گوگل کروم، ٹووئٹر، یوٹیوب اور انسٹاگرام پر ڈارک موڈ متعارف کرانے کے بعد اب واٹس ایپ نے بھی جلد ڈارک موڈ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ابھی یہ فیچر آزمائشی طور پر ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔

    اسلام آباد:جعلی ادویات کا مرکز”شاہین کیمسٹ” سیل ، کسٹم حکام کاآپریشن…

    واٹس ایپ میں پکچر ان پکچر موڈ کو مزید اپلیکشنز تک وسیع کیا جا رہا ہے اور بہت جلد آپ نیٹ فلیکس ٹریلر اپلیکشن کے اندر ہی رہتے ہوئے دیکھ سکیں گے۔

  • روبوٹک مکھیاں،سائنسی دنیا میں انقلاب برپا

    لندن : سائنس کی دنیا انقلاب برپا ، طالب علموں کے ایک گروپ نے نرم پٹھوں والی شہد کی مکھیاں تیار کرلیں جو دو سینٹی میٹر تک اڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق سائنس کے طالب علموں نے ’’روبو بی‘‘ نامی مکھی ایجاد کی جس دیواروں کو بالکل نقصان نہیں پہنچاتی جبکہ یہ لچک دار پٹھوں کی مدد سے اڑ نے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔

    خاتون نے آشناوں کے ساتھ مل کر شوہرکا کام تمام کردیا

    نرم اور لچکدار پٹھوں والی یہ روبوٹک مکھیاں دیوار کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچاتی اورکرنٹ کی مدد سے بالکل اصلی مکھیوں کی طرح اڑنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔ ماہرین کی تیار کردہ مکھی کے دو پر ہیں۔ماہرین نے اسے انقلابی ایجاد قرار دیتے ہوئے بتایا کہ مصنوعی پٹھوں کے پروں کو باآسانی ریموٹ کے ذریعے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ پروجیکٹ میں ہارورڈ مائیکرو لیبارٹری اور ہارورڈ جون اے پاؤلسن اسکون انجینئرنگ اور اپلائیڈ سائنس کے ماہرین شامل تھے۔

    مائیکروسافٹ نے کروم کے مقابلے میں نیا سافٹ وئیرانجن لانے کا اعلان کردیا

    سائنسی ماہرین کا کہنا ہے کہ مکھی کی رفتار کو ریموٹ کے ذریعے آسانی کے ساتھ کنٹرول کیا جاسکتا ہے، مجموعی طور پر یہ ایجاد بہت اہم ہے مگر اس روبوٹ میں کچھ خامیاں بھی موجود ہیں۔یوفینگ چین نامی طالب علم کا کہنا تھا کہ ’’مکھی کی ایجاد مائیکروبائیوٹکس کے شعبے میں بہت اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس کی مددسے لچک دار موبائل روبوٹس بھی تیار کیے جاسکتے ہیں‘

    شہباز شریف زرداری کے مدعی بن گئے

  • مائیکروسافٹ نے کروم کے مقابلے میں نیا سافٹ وئیرانجن لانے کا اعلان کردیا

    نیویارک: سوفٹ ویئر کی ٹیکنالوجی میں نت نئے فیچرز ، بین الاقوامی کمپنیوں میں مقابلے بازی ، اطلاعات کے مطابق مائیکروسافٹ گوگل کے مقبول ترین براﺅزر کروم کے مقابلے میں اپنا ہتھیار متعارف کرانے کے لیے تیار ہے۔درحقیقت مائیکروسافٹ نے کروم کے مقابلے میں ہار نہیں مانی اور اپنے پرانے انٹرنیٹ ایکسپلورر کو ریٹائر کرنے کے بعد ایج براﺅزر کو متعارف کرایا جو صارفین کی توجہ حاصل نہیں کرسکا۔

    شہباز شریف زرداری کے مدعی بن گئے

    مائیکروسافٹ وئیر ذرائع کے مطابق ایج کو نئے لوگو اور متعدد نئے فیچرز کے ساتھ ری ڈیزائن کرکے پھر پیش کیا جارہا ہے۔اب یہ براﺅزر گوگل کے اوپن سورس کرومیم انجن پر کام کرے گا اور صارفین کو 15 جنوری 2020 سے دستیاب ہوگا۔اپ ڈیٹ مائیکرو سافٹ ایج براﺅزر ابھی محدود صارفین کو دستیاب ہے اور کرومیم انجن کی بدولت مائیکروسافٹ نے اس کی کارکردگی کو بہت زیادہ بہتر بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    نجم سیٹھی کے خلاف کرپشن کیس ، جاوید بدر نے تفتیشی کومزید ثبوت فراہم کردیئے

    دوسری طرف ایک بلاگ پوسٹ میں کمپنی کا کہنا تھا ‘ہم نے انٹرنیٹ کو آپ کے انٹرانیٹ سے بنگ مائیکرو سافٹ سرچ کے ساتھ ملا دیا ہے، تاکہ آپ کو اہم ڈیٹا تک ایک براﺅزر اور سرچ سے زیادہ رسائی مل سکے’۔کمپنی کا کہنا تھا ‘ہم زیادہ طاقتور ڈیفالٹ پرائیویسی تحفظ فراہم کررہے ہیں، جبکہ صارفین کو ویب پرسنلائزیشن کا فائدہ بھی حاصل ہوگا، ہم نے ویب سرچ کو براہ راست مائیکرو سافٹ اپلیکشنز سے جوڑ کر اسے زیادہ بہتر بنادیا ہے’۔

    دھرنے میں حامد میر کے ساتھ زیادتی ہوگئی

    مائیکروسافٹ کی طرف سے متوقع نئے براﺅزر کے فیچرز میں سرچ کے ذریعے دفتری ساتھیوں کو تلاش کرنا بھی شامل ہے جبکہ مائیکرو سافٹ نے اینٹی ٹریکنگ فیچر بھی بائی ڈیفالٹ براﺅزر کا حصہ بنایا ہے۔مائیکرو سافت کے مطابق اس سے phishing scam اور میل وئیر سے تحفظ ملے گا جبکہ صارفین ان پرائیویٹ موڈ پر بھی براﺅزنگ کرسکیں گے۔

    بحری جہاز کو نشانہ ؛ پاکستان کا کامیاب میزائل تجربہ

    ایسے صارفین جو تاحال انٹرنیٹ ایکسپلورر 11 یا گوگل کروم استعمال کررہے ہیں، مائیکرو سافٹ کے اپ گریڈ ایج براﺅزر میں پرانے برائزورز تک رسائی کے ٹولز بھی موجود ہوں گے جبکہ ایک نیا کلیکشن فیچر ہوگا جو صارفین کو آسانی سے ویب مواد اکٹھا کرنے میں مدد دے گا جبکہ مائیکروسافٹ ورڈ اور ایکسل جیسی ایپس سے ڈیٹا ایکسپورٹ کرسکیں گے۔

  • ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے فیصل آباد میں زگ زیگ ٹیکنالوجی والا اینٹوں کا بھٹہ فنکشنل ہوگیا

    فیصل آباد ( محمد اویس) حکومت پنجاب کے ویژن کے مطابق ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے فیصل آباد میں مکوانہ کھرڑیانوالہ بائی پاس روڑ پر زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کیا جانے والا اینٹوں کا بھٹہ فنکشنل ہوگیا ہے۔ایڈیشنل کمشنر محبوب احمد اور ایس پی سپیشل برانچ انجم کمال نے زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کئے گئے بھٹہ کے مقام کا دورہ کرکے ٹیکنالوجی کے فوائد سے آگاہی حاصل کی۔بھٹہ مالک حافظ عثمان نے بتایا کہ زگ زیگ ٹیکنالوجی سے دھوئیں کے اخراج میں 40 فیصد کمی آئے گی۔انہوں نے بتایا کہ زگ زیگ ٹیکنالوجی والا بھٹہ سفید دھواں خارج کرتا ہے جو سیاہ دھوئیں کے مقابلے میں کم نقصان دہ ہے۔ انہوں نے بھٹہ کے مقام کا دورہ کرنے پر ایڈیشنل کمشنر محبوب احمد،ایس پی انجم کمال ودیگر کا شکریہ ادا کیا۔ایڈیشنل کمشنر نے کہا کہ ماحول کو آلودگی سے پاک کرنے اور شہریوں کو مختلف بیماریوں سے بچانے کے لئے حکومتی سطح پر موثر اقدامات کئے جا رہے ہیں اور بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کرانا بھی انہی اقدامات کا حصہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ دیگر بھٹہ مالکان کو بھی اس ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے آلودگی کے خاتمے میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ایس پی نے کہا کہ سموگ کے باعث دمہ، سانس کی بیماریاں، آنکھوں کی انفیکشن اور پھیپھڑوں کی بیماریاں پیدا ہورہی ہیں اورزگ زیگ ٹیکنالوجی کی بدولت فضائی آلودگی میں کمی آئے گی۔

  • واٹس ایپ کی "فنگر پرنٹ انلاک” کی خصوصیت اینڈرائیڈ پر کیسے استعمال کر سکتے ہیں؟

    واٹس ایپ نے اعلان کیا ہے کہ اس سال کے اوائل میں اس کے آئی او ایس ورژن میں بائیو میٹرک سیکیورٹی کے اضافے کے بعد اس کی ایپ کو اینڈروئیڈ پر فنگر پرنٹ کے ساتھ لاک کیا جاسکتا ہے۔ خصوصیت کو موڑنے کا مطلب ہے کہ آپ کو اپنے فون کو غیر مقفل کرنے کے بعد بھی ایپ کو غیر مقفل کرنے کے لئے اپنے فنگر پرنٹ کو استعمال کرنے کی ضرورت ہوگی۔ یہ سیکیورٹی کی ایک اضافی سطح کی طرح ہے جو آپ کو کسی بینکنگ ایپ میں مل سکتا ہے۔

    اپ ڈیٹ ابھی ابھی تک تمام خطوں میں دستیاب نہیں دکھائی دیتی ہے لیکن ایک بار اس کے پہنچنے کے بعد واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ آپ ایپ کے رازداری کی ترتیبات کے مینو میں سے اضافی سیکیورٹی کو تبدیل کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔ آپ کے غیر مقفل ہونے کے بعد ایپ کو ایک یا 30 منٹ تک غیر مقفل رہنے کی اجازت دینے کے اختیارات موجود ہیں اور آپ کے پیغامات کے مندرجات کو اطلاعات میں آنے سے روکنے کے لئے ایک ٹوگل بھی موجود ہے۔

    ہم جانتے ہیں کہ یہ خصوصیت اینڈروئیڈ پر آرہی ہے جب سے WABetaInfo نے اطلاع دی ہے کہ یہ اگست میں واپس ایپ کے بیٹا ورژن میں نمودار ہوئی ہے۔ بدقسمتی سے iOS پر یہ خصوصیت ٹچ ID اور فیس ID دونوں کی حمایت کرتی ہے لیکن اینڈرائیڈ کے فنگر پرنٹ انلاک تک محدود نظر آتا ہے کیونکہ واٹس ایپ کے اعلان میں چہرے کے انلاک کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

  • اینڈروئڈ صارفین کو ان خطرناک ایپس کو فوری طور پر ڈیلیٹ کر دینا چاہیے

    ای ایس ای ٹی کے محققین نے گوگل پلے اسٹور سے 42 ایپس کی نشاندہی کی ہے جن میں نقصان دہ ایڈویئر موجود ہیں، ایسی چیز جو آپ کی بیٹری کی زندگی، ڈیٹا کو ختم کرسکتی ہے اور یہاں تک کہ ذاتی معلومات اکٹھا کرسکتی ہے۔ ای ایس ای ٹی کے مالویئر محقق، لوکاس اسٹیفانکو نے ایک بلاگ پوسٹ میں کہا کہ اس کے بعد سے 42 ایپ میں سے ہر ایک کو پلے اسٹور سے ہٹا دیا گیا ہے تاہم انہوں نے اپنی دستیابی کے دوران نہ صرف مشترکہ آٹھ ملین ڈاؤن لوڈز کو جمع کیا بلکہ وہ کچھ پر دستیاب بھی ہیں تیسری پارٹی کے ایپ اسٹورز۔

    یہ انتباہ اس کے گھنٹوں بعد سامنے آیا ہے جب آئی فون صارفین کو اپنے ہینڈ سیٹس سے متعدد ایپس کو حذف کرنے کی دھمکی دی گئی تھی جس نے ایپل ایپ اسٹور میں گھس کر صارفین کی پشت کے پیچھے پیسہ کمایا تھا۔ اور ایک اور اینڈروئڈ ایپ کی انتباہ، جو اسے حذف کرنے کی کوشش کے بعد خود کو دوبارہ انسٹال کرسکتی ہے۔

    اسٹیفانکو نے 21 ایپس کو زیربحث نامزد کیا اور بلاگ پوسٹ میں موجود دیگر 21 کے پیکیج کے ناموں کی تفصیل دی۔

    ان کا نام یہ تھا: اسمارٹ گیلری، سیوی انسٹا، فیس بک کے لئے منی لائٹ، مفت ریڈیو ایف ایم آن لائن، مفت ویڈیو ڈاؤنلوڈر، مفت سوشل ویڈیو ڈاؤنلوڈر، فائل ڈاؤنلوڈر، پانی پینے کے لئے یاد دہانی، آپ کے لئے سمارٹ نوٹ، ڈی یو ریکارڈر، ٹانک کلاسک، ہیروز جمپ، سولوکیوناریو، رنگ ٹون میکر، ویڈیو ڈاؤنلوڈر، رنگ ٹون میکر پرو، باسکٹ بال پرفیکٹ شاٹ، ہائیک ٹاپ، ایم پی 4 ویڈیو ڈاؤنلوڈر، فلیٹ میوزک پلیئر، مفت ٹاپ ویڈیو ڈاؤنلوڈر۔

    اگر آپ کسی بے نام 21 ایپس کو انسٹال کرنے کے بارے میں پریشان ہیں تو آپ یہ چیک کر سکتے ہیں کہ آیا آپ کے فون پر کوئی ایسی ایپ برین جیسی خدمات استعمال کر رہا ہے جو اس کے پیکیج کے نام پر مبنی پروگرام کی نشاندہی کرسکتی ہے۔

    مختصر طور پر ای ایس ای ٹی کے ذریعہ بیان کردہ ہر ایپس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی فہرست میں بیان کردہ کام کرتے ہیں لیکن اس میں ایڈویئر بھی موجود ہے۔ اسٹیفانکو کے مطابق ، زیر غور کچھ ایپس یہ جاننے کے قابل ہیں کہ سیکیورٹی میکانزم کے ذریعہ ان کا تجربہ کیا جارہا ہے یا نہیں۔ آلہ کو غیر مقفل کرنے کے بعد کہا جاتا ہے کہ وہ صارف کے آلے پر فل سکرین اشتہارات کی نمائش کرنے کے اہل ہیں۔

    تشویشناک بات یہ ہے کہ متعدد پروگرام زیربحث تھے جن کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ اپنے آپ کو بھی ڈھال سکتے ہیں۔ خاص طور پر ، جب انہیں کوئی صارف ایڈویئر کے لئے کیا ذمہ دار ہے یہ جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ فیس بک یا گوگل جیسی ایپس کی نقالی کرنے کے قابل تھے۔

    ایپ کے پریشان کن تدبیروں کے بارے میں بتاتے ہوئے ، اسٹیفنکو نے کہا: "اگر صارف یہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ ‘حالیہ ایپس’ کے بٹن کو دباکر اس کی نمائش کے لئے کون سا ایپ ذمہ دار ہے تو ایک اور چال استعمال کی جاتی ہے: ایپ میں فیس بک یا گوگل کا آئیکن دکھاتا ہے۔ ایڈویئر جائز نظر آنے اور شک سے بچنے کے لئے ان دو ایپس کی نقالی کرتا ہے – اور اس طرح جب تک ممکن ہو متاثرہ ڈیوائس پر قائم رہے۔

    "ای ایس سی ٹی” ایڈوئر کے موجودہ ڈویلپر کا پتہ لگانے میں کامیاب تھا۔ اگرچہ ان کا نام نہیں لیا گیا تھا تاہم انہیں دکھایا گیا تھا کہ وہ بھی ایپل کے ایپ اسٹور پر موجود ہیں۔

    یہ پہلا موقع نہیں جب ہم نے اڈویئر سے اینڈروئیڈ استعمال کرنے والوں کے بارے میں سنا ہے۔ اس ماہ کے آغاز میں پلے اسٹور پر مزید 15 ایپس ملی تھیں جن میں بھی ایسا سافٹ ویئر موجود تھا۔

    اگرچہ مذکورہ پروگراموں کو سبھی پلے اسٹور سے ہٹا دیا گیا ہے لیکن شائقین کو یہ جانچنے کی ترغیب دی جاتی ہے کہ آیا ان میں ابھی بھی کوئی انسٹال ہے یا نہیں۔

    اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو مشورہ دیا جاتا ہے کہ آپ انہیں فوری طور پر اپنے آلہ سے ہٹائیں.

  • حکومت پنجاب متبادل انرجی کے لئے سولر ائزیشن کلچر کو فروغ دینے کے لئے اقدامات کررہی ہے

    فیصل آباد(محمد اویس )وزیر توانائی پنجاب ڈاکٹر محمد اختر ملک نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب متبادل انرجی کے لئے سولر ائزیشن کلچر کو فروغ دینے کے سلسلے میں ہمہ جہت اقدامات کررہی ہے اس سلسلے میں پنجاب کے 15ہزار سکولوں کو سولر انرجی پرمنتقل کیا جارہا ہے جبکہ صوبہ کی پبلک یونیورسٹیز میں بغیر سرکاری فنڈزکے اپنی مدد آپ کے تحت دو،دو میگا واٹ کے سولر انرجی پلانٹس قائم کرنے کے لئے منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔انہوں نے یہ بات زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے کیس آڈیٹوریم میں شعبہ انرجی سسٹم انجینئرنگ کے زیراہتمام گرین انرجی ٹیکنالوجیز پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی ڈاکٹر محمد اشرف،ایڈیشنل رجسٹرارپاکستان انجینئرنگ کونسل ڈاکٹر ناصر محمود،چائنیز سائنس دان ڈاکٹر چاؤچینگ،ایم پی اے سعید احمد سعیدی،ممبر سینڈی کیٹ چوہدری اشفاق احمد اوردیگر بھی موجود تھے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو سولر انرجی پر منتقل کرنے سے ہونیوالی بچت تعلیمی سرگرمیوں پر خرچ ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں حکومتیں ”بجلی بچائیں اپنے لئے قوم کیلئے“ کا نعرہ لگاتی تھیں لیکن ان کی حکومت ”بجلی بنائیں اپنے لئے قوم کیلئے“ کا سلوگن متعارف کروا رہی ہے تاکہ ہر گھر سولر پینلز کے ذریعے اپنی توانائی ضروریات پورے کرنے کو رواج دے سکے۔انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت عمران خان کی مخلص‘ دیانتدار اور ویژنری قیادت میں 9بڑے ہسپتال اور 6نئی جامعات قائم کر رہی ہے جبکہ 31منی ہائیڈرل پوائنٹس سمیت تونسہ بیراج پر 135میگاواٹ بجلی منصوبے کیلئے ٹینڈرجاری کر دیئے گئے ہیں جس سے عوام کو سستی اور ماحول دوست بجلی مہیا ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ 8ہزار سکولوں کوسولر انرجی پر منتقل کرنے کا عمل دسمبر تک مکمل ہوجائے گا۔انہوں نے انکشاف کیا کہ لاہور سمیت صوبے کی 9میونسپل کارپوریشنزسالڈ ویسٹ سے بجلی پیدا کرنے جا رہے ہیں جس سے ایک طرف کچرے کو زمین میں دبانے سے زیرزمین پانی کی آلودگی کو روکنے میں مدد ملے گی تو دوسری جانب ماحول دوست اور سستی بجلی پیدا ہونے سے توانائی کے مسائل بھی کم ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے توانائی بحران ختم کرنے کیلئے ماحول دوست اور قابل تجدید منصوبوں کے بجائے ملک میں فرنس آئل اور برآمدی کوئلے سے حاصل ہونیوالی مہنگی بجلی کے منصوبے لگاکر عوام اور حکومت کو اربوں روپے کے گردشی قرضے کے چنگل میں پھنسادیا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ جرمنی 80ہزار میگا واٹ بجلی سولر سے پیدا کر رہا ہے لہٰذا ہمیں بھی اپنی چھتوں اور کھلے میدانوں میں سولر پینل نصب کرکے اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔انہوں نے اہم موضوع پر سیمینار کے انعقاد کو سراہا اور کہا کہ حکومت پنجاب توانائی کے متبادل منصوبوں کے قیام کے لئے نجی شعبے کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ وائس چانسلرزرعی یونیورسٹی پروفیسرڈاکٹر محمد اشرف نے کہاکہ توانائی‘ ماحولیات‘ موسمیاتی تبدیلی‘ فوڈ سیکورٹی ایسے معاملات ہیں جن پر ہر بین الاقوامی فومرز پر بات ہوتی ہے اور پاکستان میں گزشتہ دہائیوں کے دواران پیدا ہونیوالے توانائی بحران کی وجہ سے آج ہزاروں سکول‘ کالجز اور جامعات کو سولرائزڈ کیا جا رہا ہے تاکہ سستی اور ماحول دوست بجلی پیدا کرکے توانائی کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ انہوں نے چین کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں شہروں کے سیوریج فضلہ سے بائیو گیس پلانٹس چلائے جا رہے ہیں لہٰذا وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں بھی اس ٹیکنالوجی کو ترجیحی طو رپر اپنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں سولرتوانائی کے مواقع دنیا کے بیشتر ممالک سے زیادہ ہیں کیونکہ یہاں سورج کی روشنی کی شدت فی کس 1600سے 1700مائیکرومول پر میٹرسکوائرموجود ہے جسے بروئے کار لاکر ہزاروں میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نوبل انعام کے ممکنہ اُمیدوار ڈاکٹر ڈینئل کسیرا نے ایسا مصنوعی پتہ تیار کیا ہے جو ہائیڈروجن اور سن گیس کی تیاری کی بنیاد بنے گا اور وہ توقع رکھتے ہیں کہ اگر اس ہدف کو کامیابی سے حاصل کر لیا گیا تو توانائی کے شعبہ میں نئی جہتیں متعارف ہونگی۔ انہوں نے بتایا کہ ہم زمین کی ذرخیزی کیلئے انتہائی ضروری گوبر کھادسے بائیو گیس پلانٹس چلا کر زمین میں نامیاتی مادوں کی کمی کو بڑھا رہے ہیں لہٰذ ہمیں چین کی طرز پر بائیو گیس چلانے کیلئے سیوریج فضلہ کو بروئے کار لانا چاہئے۔ پاکستان انجینئرنگ کونسل میں ایڈیشنل رجسٹرار ایکریڈی ٹیشن ڈاکٹر ناصر محمود خاں نے کہا کہ ہرچندپاکستان گزشتہ تین دہائیوں کے دوران توانائی کے بحران کا شکار رہا ہے تاہم اس چیلنج کی وجہ سے ہمیں سولر سمیت دوسرے قابل تجدید ذرائع توانائی پر تحقیق کے ساتھ ساتھ مختلف جامعات میں انرجی سٹم انجینئرنگ کے ڈگری پروگرام شروع کرکے باصلاحیت افرادی قوت بھی تیار کر لی ہے جو آنیوالے مہینوں میں ملک سے توانائی بحران کوہمیشہ کیلئے ختم کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ان کے ادارہ نے جائیکا سے 300ملین ڈالرمالیت کے پراجیکٹ کے ذریعے سولر توانائی کا منصوبہ تکمیل کو پہنچایا جو قابل تجدید توانائی کے طلبہ اور ریسرچرز کی تحقیق کیلئے ڈیٹا فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جامعات میں آؤٹ کم بیسڈ لرننگ چاہتے ہیں تاکہ نئے علم اور تجربے سے سوسائٹی کی مشکلات کم کرنے یا لوگوں کیلئے سہولت پیدا کرنے کا کام لیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ واشنگٹن ایکارڈ کا حصہ بننے سے پاکستانی جامعات ے مارکیٹ کا حصہ بننے والے انجینئرز امریکہ‘ کینیڈا اور برطانیہ کے ہم پلہ قرار پائے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کو ترقی پذیر ممالک‘ ا فریقہ اور او آئی سی ممالک میں انجینئرزکی تربیت کیلئے مقرر کیا جا رہا ہے۔ چینی سائنس دان نے کہا کہ قابل تجدید توانائی کے شعبہ میں ہائیڈروجن مستقبل قریب میں توانائی کا بڑا ذریعہ بن کر سامنے آئے گا جس سے روایتی ذرائع توانائی پر انحصار کم ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بائیوماس گیسی فی کیشن اور فوٹوالیکٹرولیسز کے ذریعے ہائیڈروجن پیدا کرنے میں مددلی جا رہی ہے جس سے مستقبل میں توانائی کے شعبہ میں نئی ٹیکنالوجی متعارف کروائی جا سکیں گی۔ کانفرنس سے ڈین کلیہ زرعی انجینئرنگ و ٹیکنالوجی ڈاکٹر اللہ بخش نون‘ انجینئر سید محمد علی بخاری نے بھی خطاب کیا۔اس سے قبل صوبائی وزیر توانائی نے زرعی یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ آف انرجی سسٹم انجینئرنگ کا بھی دورہ کیا اور سولر انرجی سے چلنے والے کولڈ سٹوریج،ملک چلراورڈیری کی مشینوں کے ماڈلز دیکھے اور ڈیپارٹمنٹ کے احاطہ میں کلین اینڈ گرین پنجاب پروگرام کے تحت پودا بھی لگایا۔بعدازاں صوبائی وزیر نے ایکسپو سنٹر میں نمائش کا دورہ کیا اورزرعی یونیورسٹی کی تیار کردہ اشیاء میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
    ۔۔۔///۔۔۔

  • وٹس ایپ کے 5 ایسے فیچرز جو شاید آپ نہیں جانتے

    واٹس ایپ پر نئی خصوصیات ہمیشہ دلچسپ رہتی ہیں۔ جب نئی خصوصیات متعارف کروانے کی بات آتی ہے تو واٹس ایپ قدرے آہستہ ہوتا ہے لیکن اس کے بارے میں زیادہ دیر خبریں پوشیدہ نہیں رہتی ہیں۔ واٹس ایپ اپنے بیٹا ورژن پر باقاعدگی سے خصوصیات کی جانچ کرتا ہے جسے صارفین تجربہ بھی کرسکتے ہیں۔

    اس سال خاص طور پر واٹس ایپ پر آنے والی دلچسپ خصوصیات کی خبروں کی وجہ سے ہلچل مچا رہی ہے۔ حال ہی میں دریافت کردہ واٹس ایپ کی کچھ خصوصیات میں سپلیش اسکرین، خود ساختہ پیغامات، خاموش خاموش حیثیت، نئی گروپ رازداری اور بہت کچھ شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ اینڈروئیڈ اور آئی او ایس کے لئے واٹس ایپ بیٹا پر دستیاب ہیں۔ ناواقف لوگوں کے لئے یہاں واٹس ایپ کی سرفہرست پانچ نئی خصوصیات موجود ہیں جن سے آپ نے یاد کیا ہو۔

    سیلف ڈسٹرکٹنگ میسجز

    یہ ایک دلچسپ خصوصیت ہے جو واٹس ایپ صارفین کو ضرور پُرجوش کردے گی۔ جیسا کہ نام سے پتہ چلتا ہے، واٹس ایپ پر پیغامات اس خصوصیت کی مدد سے خود کو تباہ کر سکتے ہیں۔ واٹس ایپ صارفین خود کو تباہ کرنے والے پیغامات کو آن کر سکتے ہیں اور ایک وقت الاٹ کرسکتے ہیں جس کے تحت تمام پیغامات خود تباہ ہوجائیں گے۔ ‘سب کے لئے حذف کریں’ کے برخلاف، یہ خصوصیت یہ نہیں دکھائے گی کہ پیغام کو حذف کردیا گیا ہے۔ یہ ایسے ہی ہوگا جیسے پیغام کبھی موجود نہیں تھا۔

    ہائڈ میوٹڈ چیٹس

    وہ صارفین جنہیں واٹس ایپ اسٹیٹس کی اپ ڈیٹ پریشان کن لگتی ہیں وہ اس فیچر کو پسند کریں گے۔ واٹس ایپ صارفین کو اسٹیٹس اپ ڈیٹ کو خاموش کرنے دیتا ہے لیکن وہ اب بھی اسکرین کے نیچے نظر آتے ہیں۔ اس فیچر کی مدد سے صارفین خاموش واٹس ایپ اسٹیٹس اپ ڈیٹ کو مکمل طور پر چھپائیں گے۔ وہ انہیں ایک علیحدہ حصے سے بازیافت کرسکتے ہیں۔

    نیو گروپ پرائیویسی

    اس سال کے شروع میں واٹس ایپ نے گروپ دعوت نامہ جاری کیا۔ یہ دوسروں کو واٹس ایپ گروپس میں شامل کرنے سے روکتا ہے۔ صارفین واٹس ایپ گروپس کے لیے یا تو "ہر ایک”، "میرے روابط’ یا ‘کوئی نہیں” منتخب کرسکتے ہیں۔ نئی اپ ڈیٹ تبدیلی لاتی ہے کیونکہ اس نے ‘میرے روابط کی توقع’ کے ساتھ ‘کسی کو نہیں’ تبدیل کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صارفین کو دستی طور پر رابطے منتخب کرنا ہوں گے جن کی وہ گروپوں میں شامل نہیں ہونا چاہتے ہیں۔

    سپلیش اسکرین

    یہ کوئی بڑی خصوصیت نہیں ہے بلکہ واٹس ایپ کے UI کو اپ ڈیٹ کرنا ہے۔ اب جب بھی صارفین واٹس ایپ کھولتے ہیں تو ان کا استقبال اسکرین کے ذریعہ کیا جائے گا جس میں مرکز میں واٹس ایپ کا لوگو دکھایا جاتا ہے۔ سپلیش اسکرین کے نام سے مشہور ، یہ فیچر اینڈروئیڈ اور آئی او ایس پر واٹس ایپ بیٹا صارفین کے لئے دستیاب ہے۔

    ڈارک موڈ

    آنے والی تمام خصوصیات میں سے ، ڈارک موڈ واٹس ایپ صارفین کے ذریعہ بہت زیادہ متوقع ہے۔ واٹس ایپ ڈارک موڈ متعدد بار بیٹا اپ ڈیٹس پر دیکھا گیا ہے۔ واٹس ایپ فی الحال نئے اضافوں کے ساتھ ایپ کے لئے ڈارک موڈ تیار کررہا ہے۔ اس پر کوئی لفظ نہیں ہے کہ واٹس ایپ ڈارک موڈ سب کے سامنے کب آئے گا۔ یہ واٹس ایپ بیٹا صارفین کے لئے بھی دستیاب نہیں ہے۔

  • چائنہ نے چاند پر کیا عجیب چیز ڈھونڈ لی ہے؟

    ہمارے پاس آخر کار اس پراسرار مادے کی واضح تصاویر موجود ہیں جو چین نے چاند کے بہت دور تک پایا ، جسے اگست میں اس نے "جیل کی طرح” کے طور پر بیان کیا تھا۔

    چاند کے سائنسدانوں کے مطابق مٹو کی چمکتی نوعیت، یوٹو 2، کے ذریعہ امیج شدہ، اس مواد کی چمکتی ہوئی نوعیت سے پتہ چلتی ہے کہ یہ ممکنہ طور پر اثر سے پیدا ہوا گلاس ہے۔

    یہ عجیب و غریب مواد جولائی میں یوٹو 2 کے ذریعہ دریافت ہوا تھا جس نے چاند کے علاقے میں سیکڑوں میٹر کا سفر طے کیا ہے جب سے اس کو جنوری میں چانگ لینڈر نے چاند پر پہنچایا تھا۔ چانگ -4 تاریخ کا پہلا سطح کا مشن ہے جو چاند کے دور دراز کی سیر کرتا ہے۔ ڈرائیو ٹیم نے اس سفر کو تھوڑی دیر کے لئے روکنے کا فیصلہ کیا تاکہ روور کو "جیلیٹنس” مادہ پر گہری نظر مل سکے جیسا کہ اسے چین کے چاند کے ایکسپلوریشن پروگرام نے بیان کیا ہے۔

    مادے کی واضح تصویری تصویر کو 8 اکتوبر کو سوشل میڈیا سائٹ ویبو پر حکومت کی طرف سے منظور شدہ سائنس پبلشنگ، ہماری اسپیس نے شیئر کیا تھا۔ اس کو سپیس ڈاٹ کام کے اینڈریو جونز نے دیکھا تھا جو مہینوں سے عجیب و غریب مادے کی اطلاع دے رہا ہے. ناسا گوڈارڈ اسپیس فلائٹ سینٹر کے ماہر ارضیات، ڈین موریٹی نے چمک، اس کے برعکس اور دیگر حسب ضرورت خصوصیات کو ایڈجسٹ کرتے ہوئے تصاویر کو مختلف ورژن میں بڑھایا۔

    ایک ای میل میں موریارٹی نے کہا کہ اس تکنیک کی کچھ حدود ہیں کیوں کہ جے پی ای جی کمپریشن اور کسی بھی پیمانے پر بار کی کمی کی وجہ سے یہ تصاویر متاثر ہوسکتی ہیں۔ اس کے باوجود بڑھائی گئی تصاویر میں پچھلے شکوک و شبہات کی تصدیق کی گئی ہے کہ قمری سطح پر گرنے والے الکاویوں کے ذریعہ یہ مواد شیشے کی شکل میں بنایا جاسکتا ہے جس کی وجہ سے یہ وضاحت ہوگی کہ یہ ایک گڑھے کا وسط کیوں ہے۔ یہ ممکنہ طور پر بیسالٹک چٹان بھی ہوسکتا ہے جو اس وقت سے شروع ہوا جب چاند زیادہ آتش فشاں طور پر متحرک تھا۔

    موریارٹی نے اسپیس ڈاٹ کام کو بتایا ، "ٹکڑوں کی شکل اس علاقے کے دیگر مادوں کی طرح کافی دکھائی دیتی ہے۔” اس سے ہمیں کیا معلوم ہوتا ہے کہ یہ مواد آس پاس کے مادے جیسی ہی تاریخ کا حامل ہے۔ قمری سطح، بالکل آس پاس کی مٹی کی طرح۔ ” الٹا اثرات اور قدیم آتش فشاں دونوں کی وجہ سے شیشے کی باقیات چاند پر نسبتا عام سمجھی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر آتش فشاں پھٹنے سے "سنتری مٹی” کا ایک پیچ جو تین ارب سال قبل پیش آیا تھا، آخری دو خلا بازوں نے چاند پر چلنے کے لئے پایا تھا: یوجین کرینن اور اپالو 17 کے ہیریسن سمٹ۔

    یوٹو 2 اور اس کی مادرشپ چانگ 4 – قمری رات کے سرد درجہ حرارت سے بچنے کے لیے قریب دو ہفتوں کے بند وقت کے بعد جاگ رہے ہیں۔ امید ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ روور جلد ہی اپنے دوسرے عالمگیر ماحول کی مزید تصاویر اور ڈیٹا بھیج دے گا۔