Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • گوگل کا پاکستان میں اے آئی اوور ویوزمیں  اشتہارات کا فیچر متعارف کرانے کا اعلان

    گوگل کا پاکستان میں اے آئی اوور ویوزمیں اشتہارات کا فیچر متعارف کرانے کا اعلان

    گوگل نے رواں برس کے آخر میں، پاکستان سمیت ایشیا بحرالکاہل (APAC) کی مارکیٹوں میں اے آئی اوورویوز(AI Overviews) میں اشتہارات متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے جو انگریزی زبان میں ہوں گے۔ اس اقدام کا مقصد کاروباری اداروں کو گوگل سرچ میں اے آئی کی مدد سے تیار کردہ خلاصوں کے ذریعے صارفین تک براہِ راست پہنچنے کے نئے مواقع فراہم کرنا ہے۔

    اے آئی اوورویوز، جسے اب دنیا بھر میں 1.5 ارب سے زائد افراد استعمال کر رہے ہیں، اہم مارکیٹوں میں مخصوص قسم کے استفسارات میں 10 فیصد سے زیادہ اضافہ کر رہا ہے اور تجارتی نوعیت کے استفسارات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اب جب کہ اشتہارات براہِ راست اِن اوورویوز(overviews) میں شامل کیے جا رہے ہیں، پاکستان میں کاروباری اداروں کو لوگوں سے جُڑنے اور اُن کی فیصلہ سازی میں رہنمائی فراہم کرنے کے مزید مواقع میسر آئیں گے۔

    یہ اشتہارات کاروباری اداروں کو درج ذیل فوائد فراہم کرتے ہیں:
    ● تحقیق سے فیصلہ سازی تک کا سفر کم کریں:اے آئی اوورویوز میں اشتہارات کے ذریعے اپنا کاروبار ان جوابات میں شامل کریں جو صارفین کی دلچسپی اور اطمینان میں اضافہ کر رہے ہیں۔ صارفین سے اس وقت جُڑیں جب وہ گوگل سرچ پر اپنی نئی سرچ کا آغاز کر رہے ہوں۔
    ● صارف کا اگلا قدم بنیں: اپنے اشتہار کو صارف کے سوال اوراےآئی کے فراہم کردہ سیاق و سباق سے ہم آہنگ کریں، تاکہ آپ کا برانڈ اُن کے لیے قدرتی اور فوری انتخاب بن سکے۔
    ● نئے، غیر استعمال شدہ لمحات میں رابطہ قائم کریں:اے آئی اوورویوز صارفین کی پیچیدہ ضروریات اور نئے ابھرتے سوالات کو سمجھتے ہیں، جس سے اشتہارات کو ان لمحات میں صارفین سے جُڑنے کا موقع ملتا ہے جہاں پہلے رسائی ممکن نہ تھی۔

    اے آئی اوورویوز میں اشتہارات گوگل سرچ اور یوٹیوب پر اے آئی سے چلنے والے جدید ٹولز کی نئی نسل کا حصہ ہیں، جنہیں اس تیزی سے بدلتے ہوئے پیچیدہ ڈیجیٹل ماحول میں برانڈز اور مارکیٹرز کو آگے رکھنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ تخلیقی مواد میں تبدیلی سے لے کر سرچ اشتہارات کو نئے انداز میں پیش کرنے تک، گوگل اے آئی کو عملی اقدامات میں تبدیل کر رہا ہے اور مارکیٹرز کو زیادہ اسمارٹ ٹولز براہِ راست فراہم کر رہا ہے۔

    گوگل ساؤتھ ایسٹ ایشیا اور ساؤتھ ایشیا فرنٹیئر کی نائب صدر، سپنا چڈھا نے کہا:”ہم کئی سالوں سے اے آئی پر مبنی اشتہارات کے میدان میں سب سے آگے رہے ہیں۔ جیسے جیسے صارفین کا سفر مزید پیچیدہ اور وسائل محدود ہوتے جا رہے ہیں، ہم مارکیٹرز کو اپنے اب تک کے سب سے جدید ماڈلز فراہم کر رہے ہیں: جو زیادہ ذہین، زیادہ خودکار، اور ذاتی نوعیت کے حامل ہیں۔ اس کا مطلب ہے تیزی، تخلیقی کام ، وسیع تر رسائی، اہم معلومات ، اور بہتر نتائج کا حصول۔“

  • یوٹیوب آمدنی سے متعلق پالیسیوں میں تبدیلی

    یوٹیوب آمدنی سے متعلق پالیسیوں میں تبدیلی

    یوٹیوب کی جانب سے 15 جولائی سے monetization پالیسیوں میں نمایاں تبدیلیاں کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    ان تبدیلیوں کا مقصد غیر معیاری مواد، بار بار پوسٹ کی جانے والی ویڈیوز اور آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) سے تیار کردہ ویڈیوز سے آمدنی کے حصول کو ناممکن بنانا ہے جبکہ اوریجنل اور تخلیقی ویڈیوز کی حوصلہ افزائی کرنا ہے،یوٹیوب پارٹنر پروگرام (وائے پی پی) کو 15 جولائی کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا اور تفصیلی گائیڈلائنز جاری کی جائیں گی، جن میں بتایا جائے گا کہ صارفین کس طرح کے مواد سے پیسے کما سکیں گے اور کونسی ویڈیوز سے آمدنی کا حصول ممکن نہیں ہوگا۔

    یوٹیوب کی آفیشل اپ ڈیٹ کے مطابق پلیٹ فارم ایسی ویڈیوز کو ہدف بنائے گا جو دوسروں کے مواد کی نقل پر مبنی ہوں یا جن میں معمولی ترمیم کر کے انہیں نئے انداز میں پیش کیا گیا ہو اگرچہ یوٹیوب نے "غیر مستند” یا "بار بار دہرائے گئے” مواد کی واضح تعریف نہیں دی، تاہم ماہرین کے مطابق یہ تبدیلیاں خاص طور پر ان چینلز پر اثر انداز ہوں گی جو بغیر چہرے کے گیمنگ ویڈیوز یا AI سے تیار کردہ آوازوں اور کرداروں پر انحصار کرتے ہیں۔

    ابھی نئی پالیسیوں کے بارے میں تو تفصیلات موجود نہیں مگر یوٹیوب پیلپ پیج پر وضاحت کی گئی ہے کہ صارفین کو ہمیشہ اوریجنل اور مصدقہ مواد کو اپ لوڈ کرنے کی ضرورت ہوگی نئی پالیسیوں سے صارفین کو سمجھنے میں مدد ملے گی کہ کونسا مواد اب غیر مستند ہوگا۔

    غییر ضروری فیسوں کے مطالبات، نجی تعلیمی اداروں کیلئے سخت گائیڈ لائنز جاری

    کچھ صارفین کو خدشہ ہے کہ اس سے ان کی مختلف اقسام کی ویڈیوز جیسے ری ایکشن ویڈیوز سے ہونے والی آمدنی متاثر ہوسکتی ہے،مگر یوٹیوب کے عہدیدار Rene Ritchie نے بتایا کہ ایسا نہیں ہوگا یہ تبدیلیاں وائے پی پی پالیسیوں میں معمولی اپ ڈیٹس کی طرح ہوں گی اور ان کا مقصد غیر معیاری مواد کی شناخت کرنا ہے،جس طرح کے مواد سے آمدنی ممکن نہیں، وہ برسوں سے وائے پی پی پالیسیوں کے تحت monetization کا اہل نہیں۔

    اے آئی ٹیکنالوجی میں پیشرفت کی بدولت یوٹیوب میں اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز کی تعداد بڑھ رہی ہے اور کمپنی کی جانب سے بنیادی طور پر غیر معیاری کا لیبل اے آئی ویڈیوز کے لیے ہی استعمال کیا جا رہا ہےاس حوالے سے صورتحال 15 جولائی کو واضح ہوگی جب پالیسی گائیڈلائنز کو باضابطہ طور پر جاری کیا جائے گا۔

    لیاری واقعہ: ایس بی سی اے کے دفتر پر چھاپہ، 6 افسران زیر حراست

    ایسے میں پاکستانی یوٹیوبرز بھی جو اپنی ویڈیوز میں آے آئی یا گیمنگ ویڈیوز کا استعمال کرتے ہیں اس پالیسی سے خطرے میں پڑگئے ہیں کیونکہ گیمنگ ویڈیوز پر مبنی اور اے آئی سے تیار کردہ آوازوں پر مبنی کئی یوٹیوب چینلز موجود ہیں جو پاکستانی ہیں، جبکہ کئی ایسے یوٹیوب چینلز بھی موجود ہیں جو غیر مستند اور دہرائے گئے مواد پر مبنی ہیں جو اس پالیسی کے باعث اپنی مونیٹائزیشن کھو سکتے ہیں۔

  • خبر رساں ایجنسی ’روئٹرز‘ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پربھارت میں پابندی عائد

    خبر رساں ایجنسی ’روئٹرز‘ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پربھارت میں پابندی عائد

    بین الاقوامی خبررساں ادارے ”روئٹرز“ کا آفیشل ”ایکس“ اکاؤنٹ بھارت میں بلاک کر دیا گیا ہے-

    رپورٹس کےمابق خبر رساں ایجنسی ’روئٹرز‘ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پربھارت میں پابندی عائد کر دی گئی ہے،جو کہ آزادی اظہار رائے اور آزادی صحافت پر ایک اور سنگین قدغن ہے بھارتی حکومت کی جانب سے اسے ”قانونی مطالبے“ کی بنیاد پر روکا گیا ہے، تاہم اس اقدام کی وجوہات تاحال ظاہر نہیں کی گئیں۔

    ”روئٹرز“ نے تاحال اس پابندی پر باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ادارہ ”تھامسن رائٹرز“ کے تحت کام کرنے والا ”رائٹرز“ 200 سے زائد مقامات پر اپنے 2,600 سے زیادہ صحافیوں کے ذریعے دنیا بھر میں خبروں کی ترسیل کرتا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کا یہ قدم دراصل تنقید برداشت نہ کرنے کی پالیسی کا تسلسل ہے، جس کے تحت پہلے بھی بی بی سی، الجزیرہ، دی وائر، دی کاروان، اور دیگر آزاد صحافتی اداروں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے روئٹرز کا بھارت میں بلاک کیا جانا نہ صرف اظہار رائے کے بنیادی انسانی حق کی خلاف ورزی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھارت کی جمہوریت پسندی کے دعووں کو بھی مشکوک بنا دیتا ہے۔

    آزادی صحافت کے عالمی نگراں ادارے ”رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز“ کی درجہ بندی میں بھارت پہلے ہی خطرناک ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے، اور رائٹرز جیسے عالمی ادارے کو بلاک کرنا اس صورت حال کو مزید تشویشناک بنا رہا ہےصحافتی حلقے اس اقدام کو ایک آمریت زدہ ذہنیت کا عکاس قرار دے رہے ہیں، جہا ں حکومت سچ کو چھپانے کے لیے عالمی اداروں کو بھی خاموش کرانے سے دریغ نہیں کر رہی۔

  • مائیکروسافٹ پاکستان سے انخلا نہیں کر رہا، شراکت داری کی طرف منتقلی کا فیصلہ

    مائیکروسافٹ پاکستان سے انخلا نہیں کر رہا، شراکت داری کی طرف منتقلی کا فیصلہ

    وزارت آئی ٹی و ٹیلی کام نے وضاحت کی ہے کہ مائیکروسافٹ کی تنظیمِ نو کے باوجود کمپنی نے پاکستان سے وابستگی برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق مائیکروسافٹ پاکستان میں اپنے لائژن آفس کے مستقبل پر غور ضرور کر رہا ہے، تاہم یہ اقدام پاکستان سے انخلا نہیں بلکہ شراکت داری پر مبنی ایک نئے ماڈل کی طرف پیش رفت ہے۔وزارت کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کی آمدنی کے حامل ماڈلز کی جانب منتقلی کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس کے تحت کمپنیاں اپنے بین الاقوامی آپریشنز کو نئی ساخت دے رہی ہیں، مائیکروسافٹ بھی اسی عالمی رجحان کا حصہ ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ مائیکروسافٹ نے پاکستان میں اپنے لائسنسنگ اور کمرشل معاہدوں کے انتظامات یورپ منتقل کیے ہیں، تاہم پاکستان میں تکنیکی تعاون اور سرمایہ کاری کے حوالے سے شراکت داری کا تسلسل برقرار رکھا جائے گا۔

    خیبر پختونخوا سینیٹ انتخابات ، تحریک انصاف کو 3 کنفرم نشستوں سے محرومی کا خدشہ

    کراچی میں عمارت گرنے سے 22 افراد جاں بحق، ریسکیو آپریشن جاری

    کراچی میں عمارت گرنے سے 22 افراد جاں بحق، ریسکیو آپریشن جاری

    مقبوضہ کشمیر میں شراب کی دکانوں کے خلاف 3 روزہ ہڑتال کا اعلان

    ٹیکساس میں بدترین سیلاب، 27 افراد ہلاک، 20 سے زائد لڑکیاں لاپتا

    مسجد اقصیٰ ہماری ریڈ لائن ہے، حماس کا سخت مؤقف

  • گوگل کو جی میل اشتہارات پر فرانس میں 525 ملین یوروز جرمانے کا سامنا

    گوگل کو جی میل اشتہارات پر فرانس میں 525 ملین یوروز جرمانے کا سامنا

    دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل کو فرانس میں جی میل پر ذاتی نوعیت کے اشتہارات دکھانے پر 525 ملین یوروز کے ممکنہ بھاری جرمانے کا سامنا ہے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کی ڈیٹا پروٹیکشن اتھارٹی (CNIL) نے الزام عائد کیا ہے کہ گوگل نے فرانسیسی پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صارفین کی رضامندی کے بغیر جی میل میں ٹریکنگ کوکیز اور ذاتی نوعیت کے اشتہارات کا استعمال کیا۔یہ جرمانہ اگر عائد ہو جاتا ہے تو یہ کمیشن نیشنل ڈی ایل انفارمیٹیک ایٹ ڈیس لبرٹیس کی جانب سے اب تک کا سب سے بڑا جرمانہ شمار کیا جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق فرانس میں جی میل استعمال کرنے والے صارفین طویل عرصے سے ان اشتہارات پر شکایات کرتے رہے ہیں جو ای میلز کی طرز پر ظاہر ہوتے ہیں اور صارفین کو کنفیوژن میں مبتلا کرتے ہیں۔گوگل کا مؤقف ہے کہ یہ اشتہارات جی میل کے مفت ماڈل کا حصہ ہیں، تاہم فرانسیسی ادارہ یہ تحقیقات کر رہا ہے کہ آیا یہ عمل صارف کی پیشگی منظوری کے بغیر کیا جا رہا ہے۔

    ڈیٹا پرائیویسی قوانین کے مطابق ای میلز کی طرح نظر آنے والے اشتہارات صارفین کے اعتماد کو مجروح کرتے ہیں اور پرائیویسی کے حوالے سے تشویش پیدا کرتے ہیں۔دوسری جانب گوگل کے خلاف گوگل پلے اسٹور پر موجود کچھ ایپس کے ذریعے صارفین کا ڈیٹا چوری کیے جانے کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے، جس نے کمپنی کے ڈیٹا سیکیورٹی اقدامات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    گوگل کو اب یورپی پرائیویسی قوانین کی پاسداری اور صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کی قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔

    وفاقی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کا نوٹیفکیشن جاری

    محمد حفیظ پاکستان چیمپئنز کے نئے کپتان مقرر

    بھارت کے ہمالیائی خطے میں مون سون کی تباہ کاریاں، 69 افراد ہلاک، 110 زخمی

    ایئر انڈیا کا پائلٹ پرواز سے قبل بے ہوش، فوری اسپتال منتقل

    شام کا اسرائیل سے 1974 کے علیحدگی معاہدے کی بحالی پر آمادگی کا اظہار

  • 2025 میں 8,500 کاروباری صارفین سائبر حملوں کا شکار ہوئے

    2025 میں 8,500 کاروباری صارفین سائبر حملوں کا شکار ہوئے

    عالمی شہرت یافتہ سائبر سیکیورٹی کمپنی کیسپر اسکائی نے انکشاف کیا ہے کہ 2025 کے دوران اب تک 8,500 سے زائد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے ایسے سائبر حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں جن میں جعلی سافٹ ویئر کو مقبول آن لائن پروڈکٹیویٹی ٹولز کی شکل میں پیش کیا گیا۔

    کمپنی کی رپورٹ کے مطابق چیٹ جی پی ٹی، مائیکرو سافٹ آفس، زوم اور ڈیپ سیک جیسے مشہور پلیٹ فارمز کے نام اور لوگو استعمال کر کے بدنیتی پر مبنی سافٹ ویئر تیار کیے گئے، جنہیں استعمال کرنے والے صارفین غیر ارادی طور پر وائرس اور میلویئر کا شکار بن گئے۔کیسپر اسکائی کا کہنا ہے کہ 2025 کے دوران اب تک کمپنی نے 4,000 سے زیادہ منفرد نقصان دہ اور ناپسندیدہ فائلوں کا سراغ لگایا، جنہیں معروف ایپس کا نقلی چہرہ دے کر پھیلایا جا رہا ہے۔

    رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ صرف چیٹ جی پی ٹی سے مشابہت رکھنے والی 177 نئی میلویئر فائلز پائی گئیں، جو 2024 کے مقابلے میں 115 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ اسی طرح 83 نقصان دہ فائلز کو ڈیپ سیک جیسے معروف اے آئی ٹول کے طور پر پیش کیا گیا۔

    کیسپر اسکائی نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی ٹولز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے ساتھ ساتھ سائبر حملہ آوروں کی سرگرمیاں بھی تیز ہو رہی ہیں، اور صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ صرف مصدقہ ذرائع سے ہی سافٹ ویئر ڈاؤن لوڈ کریں اور اپنے سیکیورٹی سسٹمز کو اپڈیٹ رکھیں۔

    بلوچستان اور آزاد کشمیر ،دانش اسکولز کے لیے 19 ارب 25 کروڑ روپے منظور

    پنجاب میں غیر قانونی فلنگ اسٹیشنز کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز

    امریکا نے ایرانی تیل ، حزب اللہ کے مالیاتی ادارے پر نئی پابندیاں عائد کر دیں

    امریکا نے ایرانی تیل ، حزب اللہ کے مالیاتی ادارے پر نئی پابندیاں عائد کر دیں

    جاسوسی کے الزامات، ایران سے ایک ماہ میں 2 لاکھ 30 ہزار افغان ملک بدر

  • ایک بڑے سیارچے کا زمین کی بجائے چاند سے  ٹکرانے کا خطرہ بڑھ گیا

    ایک بڑے سیارچے کا زمین کی بجائے چاند سے ٹکرانے کا خطرہ بڑھ گیا

    سائنسدانوں نےایک بڑے سیارچے کا چاند سے ٹکرانے کا امکان ظاہر کیا ہےجس کے بارے میں پہلے خیال کیا جا رہا تھا کہ وہ زمین سے ٹکرا سکتا ہے-

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ سیارچہ 2032 میں چاند سے ٹکراتا ہے تو چاند کے ملبے کے ٹکڑے زمین کا رخ کر سکتے ہیں،ایسٹرائیڈ 2024 وائے آر 4 نامی سیارچے کو چلی کی ایک ٹیلی اسکوپ نے سب سے پہلے دسمبر 2024 میں دیکھا تھابعد ازاں جنوری 2025 میں کہا گیا تھا کہ اس بات کا 1.3 فیصد امکان ہے کہ یہ سیارچہ 22 دسمبر 2032 کو زمین کے کسی حصے سے ٹکرا جائے گا،مگر بعد میں سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ اس سیارچے کا زمین سے ٹکرانے کا امکان نہ ہونے کے برابر یا 0.0017 فیصد ہے مگر اب کہا جا رہا ہے کہ زمین کی بجائے چاند سے اس کے ٹکرانے کا خطرہ بڑھ گیا ہے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے ڈیٹا کے مطابق 4.3 فیصد امکان ہے کہ یہ سیارچہ چاند سے ٹکرا سکتا ہے۔

    شاہ رخ کا اپنی ٹیم کیلئے 2 پاکستانی کھلاڑیوں سے معاہدہ

    تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر یہ سیارچہ 2032 میں ٹکراتا ہے تو یہ 5 ہزار برسوں میں اس سے ٹکرانے والا سب سے بڑا سیارچہ ہوگا، جس کے نتیجے میں زمین پر شہاب ثاقب کی بارش ہوسکتی ہے اگرچہ چاند کے ملبے کا بیشتر حصہ زمین میں داخل ہوتے وقت جل کر راکھ ہو جائے گا اور انسانوں کے لیے خطرہ نہیں بنے گا، مگر کچھ مواد زمین کے مدار میں داخل ہوکر سیٹلائیٹس، اسپیس کرافٹس اور خلا بازوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے چاند کی سطح پر ٹکرانے کا موازنہ ایک بڑے جوہری دھماکے سے کیا جا سکتا ہے۔

    امریکی فوجی اڈوں پر حملہ:قطر نے ایرانی سفیر کو طلب کر لیا

    ابھی یہ سیارچہ سورج کے گرد گھوم رہا ہے اور زمین سے بہت دور ہے اور اس وجہ سے اس کی ٹریکنگ مناسب طریقے سے نہیں کی جاسکتی جبکہ 2028 تک اس کے نظر آنے کا امکان بھی نہیں،2028 میں ماہرین کی جانب سے اس کے حجم اور راستے کا دوبارہ تعین کی جائے گا۔

  • واٹس ایپ پر بھی کمائی کا موقع، جلد مونیٹائزیشن پروگرام متعارف کرائے جانے کا امکان

    واٹس ایپ پر بھی کمائی کا موقع، جلد مونیٹائزیشن پروگرام متعارف کرائے جانے کا امکان

    معروف میسجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ پر جلد صارفین کو یوٹیوب اور فیس بک کی طرح کمائی کا موقع ملنے والا ہے، میٹا کی جانب سے مونیٹائزیشن پروگرام متعارف کرائے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ کے اسٹیٹس یا اسٹوری سیکشن میں اشتہارات دکھائے جائیں گے اور اسی سیکشن میں واٹس ایپ چینلز کے لیے کمائی کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ میٹا نے حال ہی میں واٹس ایپ میں اشتہارات شامل کرنے کا اعلان کیا ہے اور اب کمپنی ایپلی کیشن کی تاریخ کی سب سے بڑی تبدیلی کے طور پر مونیٹائزیشن فیچر متعارف کرانے جا رہی ہے۔

    ابتدائی طور پر یہ فیچر واٹس ایپ بزنس یا بڑے فالوورز رکھنے والے چینلز کو دیا جائے گا، بعد ازاں بتدریج دیگر صارفین کو بھی اس تک رسائی دی جائے گی۔ ممکنہ طور پر چینلز کی مونیٹائزیشن کے لیے فالوورز کی کم از کم تعداد کی شرط بھی رکھی جائے گی۔ذاتی اکاؤنٹس کو فی الحال مونیٹائزیشن پروگرام میں شامل کیے جانے کا امکان نہیں، تاہم ایسے اکاؤنٹس میں بھی اشتہارات نظر آ سکتے ہیں، خاص طور پر ان صارفین کو جنہوں نے واٹس ایپ چینلز کو فالو کیا ہوگا۔

    خطے کی کشیدگی: قطر نے فضائی حدود عارضی طور پر بند کردی

  • چین کا سیٹلائٹ انٹرنیٹ اسٹارلنک سے 5 گنا تیز

    چین کا سیٹلائٹ انٹرنیٹ اسٹارلنک سے 5 گنا تیز

    چینی سائنسدانوں نے سیٹلائٹ انٹرنیٹ میں انقلابی پیشرفت کرتے ہوئے 1 گیگابٹ فی سیکنڈ (Gbps) کی رفتار حاصل کی ہے جو کہ ایلون مسک کی اسٹارلنک سروس سے پانچ گنا زیادہ تیز ہے۔

    سیٹلائٹ لیزر ڈاؤن لنک ٹیکنالوجی تیز ترین انٹرنیٹ کی صلاحیت رکھتی ہے، تاہم زمین کی فضا میں موجود بے ترتیبی (turbulence) اس کے سگنلز کو بکھیر کر کمزور اور دھندلا بنا دیتی ہے جو زمین پر پہنچتے ہوئے کئی سو میٹر کے دائرے میں پھیل جاتے ہیں،یہ کامیابی ایک 2-واٹ لیزر کے ذریعے حاصل کی گئی، جو زمین سے 36,705 کلومیٹر کی بلندی پر موجود ایک سیٹلائٹ سے مواصلاتی سگنلز بھیج رہا تھا۔

    چینی ماہرین کی ایک ٹیم نے، جس کی قیادت پروفیسر وو جیان (پیکنگ یونیورسٹی آف پوسٹس اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن) اور لیو چاؤ (چائنیز اکیڈمی آف سائنسز) کر رہے تھے، اس چیلنج کا حل ”AO-MDR سینرجی“ نامی طریقے سے پیش کیا ہے، یہ نیا طریقہ فضا سے پیدا ہونے والی مداخلت کو کم کر کے سگنل کی کوالٹی کو برقرار رکھتا ہے۔

    جنوب مغربی چین کے شہر لیجیانگ میں ایک تجرباتی مرکز میں 1.8 میٹر کے دوربین کے ذریعے ایک غیر معروف سیٹلائٹ پر اس نظام کا کامیاب تجربہ کیا گیا دوربین کے اندر 357 مائیکرو مررز کا استعمال کر کے بگڑے ہوئے لیزر سگنلز کو درست کیا گیا جس سے فضا کی وجہ سے ہونے والی خرابی کم ہو گئی۔

    اس کے علاوہ ایک جدید آلہ جسے ”ملٹی-پلین لائٹ کنورٹر (MPLC)“ کہا جاتا ہے، استعمال کر کے آنے والی روشنی کو آٹھ مختلف چینلز میں تقسیم کیا گیا، پھر ان میں سے تین بہترین سگنلز کو ایک خاص الگورتھم ”پاتھ-پکنگ“ کے ذریعے ایک ساتھ ملا کر سگنل کو مزید مضبوط بنایا گیا۔

    تحقیق کے مطابق AO-MDR طریقے سے نہ صرف رفتار میں اضافہ ہوا بلکہ سگنل کی درستگی بھی بہتر ہوئی۔ جہاں روایتی طریقے سے 72 فیصد درست سگنل حاصل ہوتے تھے، وہاں اب یہ شرح 91.1 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو کہ خلا سے زمین تک قیمتی ڈیٹا کے قابلِ اعتماد ترسیل کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔

  • ایلون مسک کی کمپنی کے اسٹار شپ راکٹ کی نویں آزمائشی پرواز بھی ناکام

    ایلون مسک کی کمپنی کے اسٹار شپ راکٹ کی نویں آزمائشی پرواز بھی ناکام

    ایلون مسک کی اسپیس ایکس کمپنی کے اسٹار شپ راکٹ کی نویں آزمائشی پرواز بھی ناکام ہوگئی۔

    ایلون مسک کی اسپیس ایکس کمپنی کے اسٹار شپ راکٹ کی نویں آزمائش پرواز کی گئی تاہم اس بار بھی راکٹ اپنے ہدف تک نہ پہنچ سکا،دنیا کے سب سے بڑے اور طاقتور راکٹ ’اسٹار شپ‘ نے منگل کی شام ٹیکساس کے اسپیس ایکس اسٹار بیس سے کامیابی سے پرواز بھری، سٹار شپ راکٹ نے پرواز کے 30 منٹ بعد ہی خلا میں اپنا کنٹرول کھو دیا اور طے شدہ وقت سے پہلے ہی راکٹ فضا میں داخل ہوا، جس کے بعد راکٹ بحر ہند میں پھٹ گیا،جس کے بعد ایلون مسک کا مریخ پر انسان بھیجنے کا خواب ایک بار پھر مؤخر ہو گیا۔

    اڑان بھرنے کے کچھ دیر بعد اس میں مسائل آنے لگے۔ راکٹ کا پہلا حصہ جسے بوسٹر کہتے ہیں، پانی میں گِر کر محفوظ انداز میں واپس آنا تھا، مگر وہ ہوا میں ہی پھٹ گیا دوسرا حصہ جسے اسٹار شپ کہا جاتا ہے، خلا میں اپنی منزل کی طرف گیا، لیکن وہاں جا کر اس کا کنٹرول ختم ہو گیا آخر میں یہ حصہ بھی بحرِ ہند میں جا گِرا۔

    ایلون مسک نے اس ناکامی کے باوجود کہا،’اگلے تین تجرباتی مشنز کی رفتار تیز کی جائے گی، ہر 3 سے 4 ہفتوں میں ایک لانچ کیا جائے گا۔

    https://x.com/elonmusk/status/1927549975463895248

    اس حوالے سے امریکی ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ اسٹارشپ 9 ویں مشن کی بےضابطگی سے آگاہ ہیں، فی الحال اس کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    واضح رہے کہ ایلون مسک انسانوں کو مریخ پر بسانا چاہتے ہیں اور اس بارے میں وہ برسوں سے بات بھی کر رہے ہیں۔