Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • آج سے مریخ کا زمین سے رابطہ کچھ دنوں کے لیے منقطع

    آج سے مریخ کا زمین سے رابطہ کچھ دنوں کے لیے منقطع

    زمین اور مریخ کے درمیان تمام ریڈیو رابطے کچھ دنوں کے لیے منقطع ہو جائیں گے، کیونکہ سورج دونوں سیاروں کے درمیان آ رہا ہے، یہ ایک قدرتی مظہر ہے جسے سولر کنجکشن کہا جاتا ہے اس دوران مریخ پر موجود تمام روبوٹک مشنز سے براہِ راست رابطہ عارضی طور پر معطل کردیا جائے گا۔

    ناسا کے مطابق، 29 دسمبر 2025 سے 9 جنوری 2026 تک کسی بھی مریخی مشن کو نئی ہدایات نہیں بھیجی جائیں گی اس دوران سورج کی انتہائی گرم، برقی چارج شدہ گیسیں جو پلازما کہلاتی ہیں، ریڈیو سگنلز میں خلل ڈال سکتی ہیں، جس سے کسی بھی کمانڈ کے خراب ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایک معمولی رکاوٹ یا بگ، کسی سطر کے ایک بِٹ کو بھی بدل دے، تو پورا سسٹم متاثر ہو سکتا ہے، اور اربوں ڈالر کے مشن خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

    گزشتہ دو دہائیوں سے مریخ کے گرد مدار میں گھومنے والے سیٹلائٹس، سطح پر اترے لینڈرز اور متحرک روورز مسلسل سرخ سیارے کا مشاہدہ کررہے ہیں ان مشنز نے مریخ کی فضا، موسم، ارضیاتی ساخت اور وہاں ممکنہ قدیم زندگی کے آثار کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کیں، تاہم سولر کنجنکشن کے دوران یہ تمام مشنز عملی طور پر خود مختار ہوجاتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ سولر کنجنکشن کے دوران مریخ پر موجود خلائی مشینیں زمین سے ہدایات لیے بغیر خود ہی کام کرتی ہیں۔

    راولپنڈی میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع

    سولر کنجنکشن شروع ہونے سے پہلے ناسا کے ماہرین مریخ پرموجود ہر خلائی مشین کو پہلے ہی ایک مکمل منصوبہ بھیج دیتے ہیں، جس میں تقریباً دو ہفتوں تک کے تمام کام طے کیے جاتے ہیں، ان ہدایات کے مطابق خلائی مشینیں خود فیصلہ کرتی ہیں کہ کون سے آلات عارضی طور پر بند رکھنے ہیں، کہاں توانائی بچانی ہے اور کون سا سائنسی ڈیٹا اکٹھا کر کے محفوظ کرنا ہے، تاکہ زمین سے رابطہ نہ ہونے کے باوجود مشن محفوظ طریقے سے اپنا کام جاری رکھ سکے۔

    کچھ مشنز اس دوران اپنے حساس آلات عارضی طور پر بند کردیتے ہیں تاکہ کسی ممکنہ نقصان سے بچا جاسکے، جبکہ بعض روورز اور مدار گرد مشینیں ڈیٹا اکٹھا کرتی رہتی ہیں اور اسے اپنی اندرونی یادداشت میں محفوظ کرلیتی ہیں چند مشنز محدود پیمانے پر سگنل بھیجتے بھی رہتے ہیں، اس آگاہی کے ساتھ کہ اس کا کچھ حصہ زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہوسکتا ہے۔

    کنسرٹ میں پرفارمنس کے دوران شائے گل زخمی ہو گئیں

    اس پورے عمل میں سب سے اہم اصول یہی ہے کہ زمین سے کوئی نئی ہدایت نہ بھیجی جائے۔ ماہرین کے مطابق اگر کمانڈ کے کسی ایک بٹ میں بھی خرابی آگئی تو برسوں کی محنت اور اربوں ڈالر کی لاگت سے تیار کردہ مشن کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

    آج کل مریخ پر موجود خلائی گاڑیاں خاصی حد تک خودمختارہو چکی ہیں۔ وہ خود دیکھ سکتی ہیں کہ سب کچھ ٹھیک کام کر رہا ہے یا نہیں، اور اگر کوئی خرابی ہو جائے تو خود کو محفوظ حالت میں لے آتی ہیں زمین سے نئے حکم ملے بغیر بھی وہ پہلے سے بنے منصوبے کے مطابق اپنا کام جاری رکھتی ہیں۔

    اسرائیل کی ابو عبیدہ کو شہید کرنے کی ویڈیو پھر سے وائرل

    ناسا کے ماہرین اس کو ایسے سمجھاتے ہیں جیسے والدین کسی ذمہ دار بچے کو چند دن کے سفر پر بھیج دیں۔ تمام تیاری پہلے کر لی جاتی ہے، اور پھر اس پر بھروسا کر کے اسے خود کام کرنے دیا جاتا ہےمشن پر کام کرنے والی ٹیموں کے لیے یہ وقت ایک طرح کا امتحان بھی ہوتا ہے، کیونکہ انہیں اپنی خلائی مشینوں کو کچھ دنوں کے لیے خود پر چھوڑنا پڑتا ہے، اور ساتھ ہی یہ روزانہ کی مسلسل نگرانی سے ایک مختصر آرام کا موقع بھی بن جاتا ہے۔

    دوسری جانب یہ وقفہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ چاہے ہماری ٹیکنالوجی کتنی ہی جدید کیوں نہ ہو، قدرت کے کچھ قوانین ایسے ہیں جن کے سامنے انسان کو انتظار کرنا پڑتا ہے-

  • روس کا چاند پر نیوکلیئر پاور پلانٹ تعمیر کرنے کا اعلان

    روس کا چاند پر نیوکلیئر پاور پلانٹ تعمیر کرنے کا اعلان

    روس 2036 تک چاند پر ایک نیوکلیئر پاور پلانٹ تعمیر کرے گا-

    عالمی میڈیا کے مطابق روس کی سرکاری خلائی ایجنسی کا اس مقصد کے لیے دیگر خلائی کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ طے پا گیاسرکاری خلائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ آئندہ دہائی میں چاند پر ایک پاور پلانٹ تعمیر کریں گے ،منصوبے میں سرکاری جوہری کمپنی روس ایٹم اور ملک کے معروف جوہری تحقیقی ادارے شامل ہوں گے،پاور پلانٹ کا مقصد روس کے قمری پروگرام کو توانائی فراہم کرنا ہے،روس سے قبل امریکا نے بھی چاند پر نیوکلیئر ری ایکٹر لگانے کا اعلان کیا تھا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل ناسا نے اگست میں 2030 تک چاند پر ایک جوہری ری ایکٹر لگانے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

    تحریک تحفظ آئین پاکستان نےحکومت سے بات چیت پر آمادگی ظاہر کردی

    پی ٹی آئی جب پہیہ جام ہڑتال کرے گی تب حکومت دیکھ لے گی،خواجہ آصف

    لیبیئن طیارہ حادثہ: کاک پٹ وائس اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈرز بازیاب

  • بھارت کا سب سے بھاری  سیٹلائٹ کامیابی سے خلا میں روانہ

    بھارت کا سب سے بھاری سیٹلائٹ کامیابی سے خلا میں روانہ

    بھارتی خلائی ایجنسی انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے بدھ کے روز اپنی تاریخ کا سب سے وزنی سیٹلائٹ کامیابی سے خلا میں روانہ کر دیا ہے-

    وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے بیان میں کہا کہ LVM3-M6 راکٹ کے ذریعے امریکا میں تیار کردہ AST SpaceMobile کمیونیکیشن سیٹلائٹ کو لو ارتھ آربٹ میں بھیجا گیا یہ سیٹلائٹ 6 ہزار 100 کلوگرام وزنی ہے، جو اب تک بھارت کی سرزمین سے لانچ کیا جانے والا سب سے بھاری پے لوڈ ہے، اس کامیاب مشن سے بھارت کی ہیوی لفٹ لانچ صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور عالمی کمرشل سیٹلائٹ مارکیٹ میں بھارت کا کردار مزید مضبوط ہوگا یہ لانچ بھارت کے خلائی سفر میں ایک قابلِ فخر سنگِ میل ہے اور اس سے مستقبل کے خلائی مشنز کے لیے نئی راہیں ہموار ہوں گی۔

    https://x.com/narendramodi/status/2003677923820335183?s=20

    اسرو نے رواں سال کے آغاز میں CMS-03 کمیونیکیشن سیٹلائٹ بھی خلا میں بھیجا تھا، تاہم حالیہ سیٹلائٹ وزن کے اعتبار سے اس سے کہیں زیادہ بھاری ہے بھارت آنے والے برسوں میں بغیر انسان کے خلائی مشن، انسانی خلائی پرواز اور 2040 تک خلا میں خلاباز کو چاند پر بھیجنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

  • لیموں جیسی شکل کا انوکھا سیارہ دریافت

    لیموں جیسی شکل کا انوکھا سیارہ دریافت

    ناسا کی جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے لیموں جیسی شکل کا انوکھا سیارہ دریافت کر لیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ماہرینِ فلکیات نے ناسا کی جدید جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے ایک نہایت عجیب و غریب سیارہ دریافت کیا ہے جس کی ساخت لیموں سے مشابہ بتائی جا رہی ہےسائنس دانوں کے مطابق اس غیر معمولی سیارے کی خصوصیات ستاروں اور سیاروں کے درمیان موجود روایتی فرق کو دھندلا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

    یونیورسٹی آف شکاگو کے ماہرین فلکیات نے اس سیارے کو PSR J2322-2650b کا نام دیا ہےیہ سیارہ اپنے مرکزی ستارے کے انتہائی قریب گردش کر رہا ہے جہاں اس کا فاصلہ محض 10 لاکھ میل ہے جو زمین اور سورج کے درمیان فاصلے سے تقریباً 100 گنا کم ہے۔

    سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ PSR J2322-2650b کا ایک سال صرف 7.8 گھنٹوں پر مشتمل ہے جو اسے اب تک دریافت ہونے والے تیز ترین مدار والے سیاروں میں شامل کرتا ہےاس سیارے کا مرکزی ستارہ ایک پلسر ہے یعنی ایک انتہائی تیز رفتار گھومنے والا نیوٹرون ستارہ جس کی شدید کششِ ثقل نے سیارے کی ساخت کو بگاڑ کر بیضوی بنا دیا ہے جو دیکھنے میں لیموں کی شکل سے مشابہ ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس سیارے کا ماحول بھی غیر معمولی نوعیت کا حامل ہے جس میں ہیلیئم اور کاربن کی بھاری مقدار پائی جاتی ہےانہی عناصر کی وجہ سے سیارے پر نہایت تیز ہوائیں چلتی ہیں، جو اس کے ماحول کو مزید منفرد بنا دیتی ہیں،PSR J2322-2650b جیسی دریافتیں کائنات کی ساخت اور سیاروں کی اقسام کے بارے میں موجود سائنسی تصورات کو چیلنج کرتی ہیں اور یہ ممکن ہے کہ مستقبل میں ایسے مزید اجسام دریافت ہوں جو ستاروں اور سیاروں کے درمیان فرق کو مکمل طور پر ختم کر دیں۔

  • گوگل اپڈیٹ، اب بول کر راستے کی معلومات حاصل کریں

    گوگل اپڈیٹ، اب بول کر راستے کی معلومات حاصل کریں

    انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی کمپنی گوگل نے میپس ایپ میں اہم اپڈیٹ متعارف کرا دیا ہے، جس کے بعد صارفین صرف آواز کے ذریعے راستے اور ٹریفک کی تمام معلومات حاصل کر سکیں گے۔

    ٹیکنالوجی ویب سائٹ کے مطابق گوگل نے اپنی مشہور ایپ گوگل میپس کو نئے انداز میں اپ ڈیٹ کیا ہے، جس سے یہ محض ایک نقشہ نہیں رہا بلکہ ایک اسمارٹ معاون کی طرح کام کرے گا۔نئے فیچرز کے تحت صارفین بغیر موبائل ہاتھ میں لیے صرف بول کر راستہ تلاش کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ صرف کہیں گوگل، قریب ترین ہسپتال دکھاؤ” یا "قریب پیٹرول پمپ دکھاؤ جہاں پارکنگ ہو” — میپس فوری طور پر معلومات فراہم کر دے گا۔

    اگر راستے میں ٹریفک نہ ہو تو گوگل مناسب روٹ فوراً بتا دے گا، جبکہ اب ایپ ہدایات سڑکوں کے ناموں کے بجائے مشہور مقامات اور عمارتوں کی بنیاد پر دے گی، مثلاً تھائی سیام ریسٹورنٹ کے بعد دائیں مڑیں ،اس سے ڈرائیونگ کے دوران نیوی گیشن مزید آسان ہو جائے گی۔صارفین اگر راستے میں ٹریفک، سڑک بندش یا کسی حادثے کا سامنا کریں تو وہ بھی آواز کے ذریعے رپورٹ کر سکیں گے، جس پر گوگل میپس دیگر ڈرائیورز کو فوری اطلاع دے گا۔

    یہ فیچر فی الحال اینڈرائیڈ صارفین کے لیے دستیاب ہے، جبکہ جلد ہی آئی او ایس اور گوگل آٹو سسٹمز کے لیے بھی متعارف کرایا جائے گا

    سری لنکا سیلاب متاثرین کی مدد، پاک بحریہ کی امدادی سرگرمیاں جاری

    پیٹرولیم مصنوعات سستی، نوٹیفکیشن جاری ہو گیا

    کیلیفورنیا میں سالگرہ کی تقریب پر فائرنگ، 4 افراد ہلاک

  • والدین کو بچوں کے اے آئی چیٹ بوٹس تک رسائی حاصل ہوگی،میٹا کا اعلان

    والدین کو بچوں کے اے آئی چیٹ بوٹس تک رسائی حاصل ہوگی،میٹا کا اعلان

    میٹا نے اعلان کیا ہے کہ وہ بچوں کے زیرِ استعمال رہنے والے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) چیٹ بوٹس تک والدین کو رسائی فراہم کرے گی۔

    خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا اگلے سال کے آغاز سے والدین کے لیے نئے کنٹرول فیچرز متعارف کرانے جا رہی ہے، جن کے ذریعے وہ بچوں کے اے آئی چیٹ بوٹس کے ساتھ ہونے والی گفتگو پر محدود نگرانی رکھ سکیں گے۔میٹا کے مطابق نئے فیچرز میں والدین کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کے مخصوص اے آئی کرداروں کے ساتھ انفرادی چیٹس کو بند کر سکیں۔ تاہم اے آئی اسسٹنٹ بند نہیں کیا جا سکے گا، کیونکہ یہ بچوں کو تعلیمی معلومات اور مفید رہنمائی فراہم کرتا رہے گا، جس میں عمر کے مطابق حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے۔

    کمپنی نے یہ بھی بتایا کہ والدین ضرورت پڑنے پر مخصوص اے آئی چیٹ بوٹس کو بلاک کر سکیں گے، اور انہیں یہ معلومات حاصل ہوں گی کہ ان کے بچے چیٹ بوٹس کے ساتھ کس نوعیت کی گفتگو کر رہے ہیں، البتہ وہ مکمل چیٹ کا مواد نہیں دیکھ سکیں گے۔

    یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب میٹا کو اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں پر منفی اثرات اور اے آئی چیٹ بوٹس کے ممکنہ خطرات کے حوالے سے عالمی سطح پر تنقید کا سامنا ہے۔ بعض مقدمات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان چیٹ بوٹس کی وجہ سے بچوں میں خودکشی کے رجحانات میں اضافہ ہوا ہے

    پیراماؤنٹ نے ایم ٹی وی کے پانچ مشہور میوزک چینلز بند کرنے کا اعلان کر دیا

    برطانوی سوسائٹی کی معروف شخصیت لیڈی انیبل گولڈ اسمتھ انتقال کر گئیں

    وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری کا رپورٹر کو غیر معمولی جواب، سوشل میڈیا پر زیربحث

  • ناسا کا 5 دہائیوں بعد انسان بردار خلائی مشن کو چاند کے مدار پر بھیجنے کا فیصلہ

    ناسا کا 5 دہائیوں بعد انسان بردار خلائی مشن کو چاند کے مدار پر بھیجنے کا فیصلہ

    واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا نے 5 دہائیوں بعد انسان بردار خلائی مشن کو چاند کے مدار پر بھیجنے کا فیصلہ کر لیا۔

    غیرملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق 5 دہائیوں بعد انسان ایک بار چاند کے مدار پر واپسی کیلئے تیار ہے ناسا نے مقررہ وقت سے پہلے ہی چاند کے مدار پر انسان بردار خلائی مشن کو بھیجنے کا اعلان کر دیا۔

    ناسا کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ اس کے آرٹیمس پروگرام کے تحت پہلی انسان بردار پرواز فروری 2026 میں چاند کی جانب بھیجی جاسکتی ہے۔ اور ناسا کا آرٹیمس پروگرام بنیادی طور پر انسانوں کو 5 دہائیوں سے زائد عرصے بعد ایک بار پھر چاند پر واپس بھیجنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

    نومبر 2022 میں آرٹیمس ون مشن چاند پر جاکر زمین پر واپس آنے میں کامیاب رہا تھا، لیکن اس مشن میں کوئی انسان موجود نہیں تھا اس 10 روزہ آرٹیمس ٹو مشن کا مقصد چاند کے گرد انسانوں کو پہنچانا اور پھر واپس لانا ہےخلا باز چاند کی سطح پر قدم نہیں رکھیں گے، یہ 1972 کے بعد پہلی بار ہو گا جب کوئی انسان زمین کے نچلے مدار سے باہر سفر کرے گا۔

    ٹی ٹوئنٹی کی رینکنگ جاری،بابر اور صائم ایوب کی تنزی

    یہ مشن پہلے اپریل 2026 میں بھیجنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ تاہم اب اسے فروری میں بھیجے جانے کا امکان ہےناسا کی قائم مقام ڈپٹی ایسوسی ایڈمنسٹریٹر لکیشا ہاکنس نے کہا کہ آرٹیمس ٹو مشن کو جلد از جلد 5 فروری تک بھیجا جاسکتا ہے۔ تاہم ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ خلا بازوں کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔

    اس کے بعد آرٹیمس تھری مشن کو اسپیس ایکس کے اسٹار شپ راکٹ کے ذریعے چاند پر بھیجا جائے گا، 2027 میں شیڈول آرٹیمس تھری مشن کے تحت انسان دہائیوں بعد پہلی بار چاند کی سطح پر قدم رکھیں گے۔

    گوگل نے پاکستان میں اے آئی پلس پلان متعارف کرا دیا

  • گوگل نے پاکستان میں  اے آئی پلس پلان متعارف کرا دیا

    گوگل نے پاکستان میں اے آئی پلس پلان متعارف کرا دیا

    گوگل نے آج پاکستان میں گوگل اے آئی پلس (Google AI Plus) پلان متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ گوگل کا نیا پلان صارفین کو گوگل اے آئی کے ذریعے مزید کام کرنے کے لیے بااختیار بنانے کی غرض سے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ نیا پلان لوگوں کو اپنی پیداواری اور تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھانے میں مدد کرنے کے لیے طاقتور AI ٹولز تک اضافی رسائی فراہم کرتا ہے اور یہ سب نہایت باکفایت قیمت پر دستیاب ہیں۔

    گوگل اے آئی پلس پلان کے تحت پاکستان میں صارفین درج ذیل فوائد حاصل کر سکتے ہیں:
    ● جیمنائی ایپ میں امیج جنریشن اور ایڈیٹنگ یعنی Nano Banana کے لیے زیادہ گنجائش
    ● جیمنائی 2.5 پرو تک مزید رسائی، جو پیچیدہ سوالات کے لیے گوگل کا سب سے طاقتور اے آئی ماڈل ہے
    ● ویڈیو جنریشن ماڈل Veo 3 Fast تک رسائی، جو جیمنائی، Whisk، اور Flow میں دستیاب ہے۔
    ● جی میل، ڈاکس، شیٹس اور دیگر گوگل سروسز میں جیمنائی کا انضمام ۔
    ● فوٹوز، ڈرائیو، اور جی میل میں 200 جی بی اسٹوریج کی سہولت۔

    اے آئی پلس کے حوالے سے گوگل پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر،فرحان قریشی نے کہا: ”پاکستان کا ڈیجیٹل منظر نامہ تیزی سے ترقی کررہا ہے ، اور ہمیں پاکستانیوں کی تخلیقی صلاحیتوں نے متاثر کیا ہے جو انہوں نے اے آئی ٹولز کو اپنانے میں دکھائی ہیں۔ گوگل اے آئی پلس کی صورت میں ہم ان ٹولز کو ملک بھر میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے قابل رسائی بنا رہے ہیں۔ یہ پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کو فروغ دینے کے ہمارے عزم کا بنیادی حصہ ہے تاکہ ہر شخص اپنی پیداواری صلاحیت ، تخلیقی صلاحیت اور سیکھنے کے عمل کو اے آئی کے ذریعے بہتر بنا سکے۔ “اس کے علاوہ ، صارفین، اپنے خاندان کے پانچ دیگر افراد کے ساتھ بھی،ورک اسپیس میں جیمنائی سے لے کر 200 جی بی اسٹوریج تک، تمام فوائد شیئر کرسکتے ہیں۔اس طرح ہر فرد ایک ہی پلان کے تحت بہتر گوگل کا تجربہ حاصل کرسکتا ہے۔

    گوگل اے آئی پلس آج سے پاکستان میں، 1,400 روپے ماہانہ پر دستیاب ہے۔ محدود مدت کے لیے، پہلی مرتبہ سبسکرائب کرانے والے صارفین کو ابتدائی چھ ماہ کے لیے 50فیصد رعایت دی جائے گی۔ گوگل اے آئی پلس کے بارے میں مزید معلومات دستیاب ہے۔

  • رواں سال کا دوسرا سورج گرہن کب ہو گا؟

    رواں سال کا دوسرا سورج گرہن کب ہو گا؟

    رواں سال 2025کا دوسرا سورج گرہن 21 اور 22 ستمبر کی درمیانی شب ہوگا ، پاکستان میں دکھائی نہیں دے گا۔

    محکمہ موسمیات کلائمیٹ ڈیٹا پروسیسنگ سینٹر کے مطابق سال 2025 کے دوسرے سورج گرہن کا آغاز 21ستمبر کو پاکستانی وقت کے مطابق رات 10 بجکر 30 منٹ پر ہوگا اور 22 ستمبر کو رات 12 بجکر 42 منٹ پر سورج گرہن اپنے عروج پر ہوگا جزوی سورج گرہن کا اختتام رات 2 بجکر 55 منٹ پر ہوگا پیسیفیک، اٹلانٹک، انٹارکٹیکا اور آسٹریلیا کے کچھ حصوں میں سورج گرہن دیکھا جاسکے گا،رواں سال کا دوسرا سورج گرہن بھی پاکستان میں دکھائی نہیں دے گا ۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں چاند گرہن کا دلکش نظارہ ہوا تھا۔

    زمین پر سورج گرہن اس وقت لگتا ہے جب چاند دورانِ گردش زمین اور سورج کے درمیان آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے سورج کا مکمل یا کچھ حصہ دکھائی دینا بند ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں چاند کا سایہ زمین پر پڑتا ہے۔ چونکہ زمین سے سورج کا فاصلہ زمین کے چاند سے فاصلے سے 400 گنا زیادہ ہے اور سورج کا محیط بھی چاند کے محیط سے 400 گنا زیادہ ہے، اس لیے گرہن کے موقع پر چاند سورج کو مکمل یا کافی حد تک زمین والوں کی نظروں سے چھپا لیتا ہے۔

    سورج گرہن ہر وقت ہر علاقے میں نہیں دیکھا جا سکتا، اس لیے سائنسدانوں سمیت بعض لوگ سورج گرہن کا مشاہدہ کرنے کے لیے دور دراز سے سفر طے کرکے گرہن زدہ خطے میں جاتے ہیں۔ مکمل سورج گرہن ایک علاقے میں تقریباً 370 سال بعد دوبارہ آ سکتا ہے اور زیادہ سے زیادہ سات منٹ چالیس سیکنڈ تک برقرار رہتا ہے۔ البتہ جزوی سورج گرہن کو سال میں کئی دفعہ دیکھا جا سکتا ہے،یورپ میں دیکھا گیا 1999ء کا مکمل سورج گرہن تاریخ میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا سورج گرہن تھا۔

  • ہڑپہ کی کھدائی کی 100 ویں سالگرہ، پنجاب حکومت کا بڑا اعلان

    ہڑپہ کی کھدائی کی 100 ویں سالگرہ، پنجاب حکومت کا بڑا اعلان

    ڈائریکٹوریٹ جنرل آف آرکیالوجی پنجاب نے ہڑپہ کی کھدائی کی 100 ویں سالگرہ پر صوبے بھر میں نئے سائنسی کھدائی پروگرام کا آغاز کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک نے کہا کہ جدید طریقہ کار سے وادی سندھ کی تہذیب کے مطالعے کی تیاریاں مکمل ہیں کھدائی میں ڈیجیٹل میپنگ، سائنسی تاریخ اور جدید دستاویزی طریقے استعمال ہوں گے جبکہ پروگرام صوبے کے دیگر اہم مقامات تک بھی توسیع پائے گا، دوسرے مرحلے میں گندھارا خطے میں باقاعدہ کھدائی پروگرام شروع کیا جائے گا۔

    دوسری جانب وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کا آرکیالوجی کو علم اور ثقافت سے جوڑنے پر بہت زور ہے سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے بھی عالمی معیار کے مطابق ورثہ مینجمنٹ کو ہدایت جاری کی ہیں، ڈی جی آثار قدیمہ کا کہنا تھا کہ محکمہ آثار قدیمہ کی نئی کھدائیاں، علمی تحقیق اور ورثہ سیاحت کو فروغ دے گا اور پنجاب کو ورثہ پر مبنی سیاحت اور تحقیق کا مرکز بنایا جائے گا۔

    برطانوی ہائی کمشنر کی اسحاق ڈار سے ملاقات، سیلاب متاثرین کے لیے تعاون کا اعلان

    ہڑپہ پاکستان کا ایک قدیم شہر ہے جس کے کھنڈر پنجاب میں ساہیوال سے 35 کلومیٹر مغرب کی طرف چیچہ وطنی شہر سے 15 کلومیٹر پہلے کھدائی کے دوران ملے حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے تقریباً 1200 سال پہلے لکھی جانے والی ہندووں کی کتاب رگ وید سے اس شہر کی تاریخ کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

    رگ وید میں ایک شہر کا نام آیا ہے ’ ہری یوپیہ ‘ سنسکرت میں اس کا مطلب ہے ’ قربانی کے سنہری ستوں والا شہر ‘ ماہرین کا اب اتفاق ہے جن میں ویلز اور ڈی ڈہ کوسامبی شامل ہیں کہ ہری یوپیہ ہڑپہ ہی کا سنسکرت میں نام ہے اگرچہ اس کا اصل نام کچھ اور ہوگا، شاید ہری یوپویا ہو یا کچھ اور ہو اور رگ وید کے مطابق اسی ہری یوپیہ کے قریب آریاؤں کی مقامی باشندوں سے جنگ ہوئی تھی رگ وید میں آیا ہے اندرا نے ورشکھو ( یا ورچکھو ) کی باقیات کو ایسے ملیامیٹ کر دیا کہ جیسے مٹی کا برتن۔ اس نے ورچی وات ( یا ورشی ونت یا ورکی ذات ) لوگوں کے ایک سو تیس مسلح جانبازوں کی پہلی صف کو کچل دیاجس پر باقی بھاگ کھڑے ہوئے ۔

    راولپنڈی غیرت کے نام پر قتل، تفتیشی ٹیم نے مقدمے کا چالان پیش کر دیا

    1921ء میں رائے بہادر دیا رام سہنی نے ہڑپہ کے مقام پر قدیم تہذیب کے چند آثار پائے۔ اس کی اطلاع ہندوستانی محکمہ آثار قدیمہ کو ملی۔ محکمہ کے ڈائریکٹر جنرل سر جان مارشل نے دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے ہڑپہ کی کھدائی کی طرف توجہ دی۔ چنانچہ رائے بہادر دیا رام سہنی، ڈائریکٹر ارنسٹ میکے اور محکمہ اثریات کے دیگر احکام کے تحت کھدائی کا کام شروع ہوا-