Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • روزے اور  الزائمر کی بیماری کے درمیان ایک اہم تعلق دریافت

    روزے اور الزائمر کی بیماری کے درمیان ایک اہم تعلق دریافت

    سائنسدانوں نے وقفے وقفے سے روزہ رکھنے (Intermittent Fasting) اور الزائمر کی بیماری کے درمیان ایک اہم تعلق دریافت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: تحقیق کے مطابق روزانہ مخصوص اوقات میں کھانے کی عادت نہ صرف یادداشت کو بہتر بنا سکتی ہے بلکہ الزائمر کی علامات کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے،روزہ رکھنے کا رجحان دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے یہ نہ صرف دماغی صحت کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ، بلڈ پریشر کو کم کرتا ہے انسولین کی سطح متوازن رکھتا ہے، جس سے ذیابیطس کے مریضوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ جسمانی میٹابولزم کو بہتر بناتا ہے، جس سے وزن میں کمی ممکن ہوتی ہے نیند، ہارمونی نظام اور مجموعی دماغی صحت کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔

    رمضان کے روزے، جن میں مسلمان سال بھر میں ایک مہینے تک روزانہ 14 سے 16 گھنٹے بغیر کھانے پینے کے رہتے ہیں، صرف روحانی عبادت نہیں بلکہ صحت کے لیے بھی بے شمار فوائد رکھتے ہیں جبکہ جدید تحقیق اب یہ ثابت کر رہی ہے کہ وقفے وقفے سے روزہ رکھنا دماغی صحت، نیند کے معیار اور جسم کی قدرتی حیاتیاتی گھڑی (سرکیڈین تال) کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق، روزانہ 10 گھنٹے کی مخصوص مدت میں کھانے سے نہ صرف علمی صلاحیتیں (Cognitive Abilities) بہتر ہو سکتی ہیں بلکہ دماغ میں امائلائیڈ پروٹین کے ذخائر کو کم کیا جا سکتا ہے، جو الزائمر کی ایک بڑی علامت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص صبح 8 بجے ناشتہ کرتا ہے، تو شام 6 بجے تک اسے کھانے سے رک جانا چاہیے۔

    تحقیق میں چوہوں پر کیے گئے تجربات سے معلوم ہوا کہ وقت کی پابندی کے ساتھ کھانے سے ان کی یادداشت اور نیند کے انداز میں بہتری آئی اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ غذا نہ صرف ڈیمنشیا (دماغی کمزوری) سے بچا سکتی ہے بلکہ اس کی علامات کو بھی کم کر سکتی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ تقریباً 80 فیصد الزائمر کے مریضوں میں سرکیڈین تال (Circadian Rhythm) یعنی جسم کی قدرتی حیاتیاتی گھڑی میں خلل پیدا ہو جاتا ہے اس کی وجہ سے انہیں نیند میں دشواری ہوتی ہے اور رات کے وقت ان کی ذہنی حالت مزید بگڑ جاتی ہے۔

    سرکیڈین تال جسم کے 24 گھنٹے کے اندرونی نظام کو کنٹرول کرتا ہے، جس میں نیند، جسمانی درجہ حرارت، میٹابولزم اور ہارمونی نظام شامل ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ الزائمر کے مریض اکثر رات کے غیر متوقع اوقات میں جاگ جاتے ہیں اور الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں، جس سے ان کے زخمی ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ الزائمر کے کئی مریضوں کو رہائشی دیکھ بھال کی ضرورت پیش آتی ہے۔

    یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان ڈیاگو کی نیورو سائنس دان، ڈاکٹر پاؤلا ڈیسپلاٹس (Paula Desplats)، جو اس تحقیق کی سربراہ بھی ہیں نے کہا کہ ہم نے پہلے یہ سمجھا تھا کہ الزائمر کے مریضوں میں سرکیڈین تال کی خرابی نیوروڈیجنریشن (دماغی خلیوں کی تباہی) کا نتیجہ ہے، لیکن اب ہمیں معلوم ہو رہا ہے کہ یہ خرابی خود الزائمر کے آغاز کا ایک سبب بھی ہو سکتی ہے۔’

    تحقیق میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ چوہوں کو شامل کیا گیا، جنہیں الزائمر جیسی علامات لاحق تھیں، جیسے یادداشت کی کمزوری، رات کے وقت بے چینی اور دماغ میں امائلائیڈ پروٹین کے ذخائر۔ ان چوہوں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا، ایک گروپ کو دن بھر کھانے کی آزادی دی گئی،دوسرے گروپ کو روزانہ صرف 6 گھنٹوں کے اندر کھانے کی اجازت تھی، جبکہ باقی 18 گھنٹے وہ روزہ رکھتے۔

    وہ چوہے جو مخصوص کھانے کے اوقات پر عمل پیرا رہے، ان میں الزائمر سے جُڑے درجنوں جینز میں مثبت تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ ان کے علمی امتحانات کے نتائج بہتر ہوئے، نیند کے مسائل کم ہوئے اور ان کے سرکیڈین تال میں بہتری آئی۔

    مزید تحقیق سے معلوم ہوا کہ وقت کی پابندی کے ساتھ کھانے سے نہ صرف نئے امائلائیڈ پروٹین کے بننے کی رفتار کم ہو گئی بلکہ پہلے سے موجود امائلائیڈ تختیاں بھی کم ہونے لگیں، جس کا مطلب ہے کہ دماغ انہیں خود صاف کرنے لگا تھا جس چیز کو سائنس آج دریافت کر رہی ہے یا انکشاف کر رہی ہے، وہ حقیقت میں اسلام میں چودہ سو سال پہلے ہی واضح کر دی گئی تھی۔

  • مشتری سے بھی 12 گنا بڑا سیارہ دریافت

    مشتری سے بھی 12 گنا بڑا سیارہ دریافت

    سائنسدانوں نے نظام شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری سے بھی 12 گنا بڑا سیارہ دریافت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی:Astrophysical جرنل میں شائع تحقیق کے مطابق درحقیقت اس سیارے کے مقابلے میں مشتری بونا سیارہ محسوس ہوتا ہے اور زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ بہت بڑا سیارہ ہمارے سورج سے چھوٹے ستارے کے گرد چکر لگا رہا ہے سائنسدانوں نے اس سیارے کو زمین سے 244 نوری برسوں کے فا صلے پر دریافت کیا اور اسے Gaia-4b کا نام دیا، جس کے ساتھ ایک چھوٹا سیارچہ Gaia-5b بھی موجود ہے جو 134 نوری برسوں کے فاصلے پر موجود ہے۔

    یورپین اسپیس ایجنسی کے Gaia اسپیس کرافٹ نے اس سیارے کو دریافت کرنے میں مدد فراہم کی، اس اسپیس کرافٹ کا ایندھن حال ہی میں ختم ہوگیا تھا اور اس کی مدد سے سائنس دانوں کو اس عظیم الجثہ سیارے کا اشارہ ملا، جس کے بعد دیگر سائنسی آلات کی مدد سے اس کی تصدیق کی گئی، اگرچہ Gaia اسپیس کرافٹ کے سائنسی مشاہدے کا سلسلہ 15 جنوری 2025 کو ختم ہوگیا تھا مگر اس کے ڈیٹا میں کافی کچھ چھپا ہوا ہے اور ان تمام تفصیلات کو بتدریج سامنے لایا جائے گا۔

    موسمیاتی تبدیلی پر قابو پانے کیلئے ایک آزاد اور مضبوط عدلیہ کی ضرورت ہے،جسٹس منصور

    یورپین اسپیس ایجنسی سے تعلق رکھنے والے محقق میتھیو اسٹیڈنگ نے بتایا کہ سیارے کی دریافت پرجوش کر دینے والی ہے، درحقیقت ہمارا تو ماننا ہے کہ یہ مستقبل میں Gaia اسپیس کرافٹ کے ڈیٹا سے سامنے آنے والے رازوں کا محض آغاز ہےاب تک سائنسدان مجموعی طور پر کائنات میں 5800 سیاروں کو دریافت کرچکے ہیں جبکہ ہزاروں ایسے ہیں جن کے بارے میں چھان بین کی جا رہی ہے جس کے بعد باضابطہ طور پر انہیں سیاروں کے طور پر قبول کیا جائے گا۔

    کلائمیٹ چینج ایک بڑا چیلنج ہے، صو بو ں کو ان کا شئیر دینا چاہیے، علی امین گنڈا پور

    ایک تخمینے کے مطابق کائنات میں اربوں کھربوں کہکشائیں موجود ہیں تو سیاروں کی تعداد ہمارے اندازوں سے بھی زیادہ ہوگی، سائنس دانوں نے Gaia-4b کو سپر مشتری قرار دیا ہے جو سرد گیس سے بنا ہے اور اپنے ستارے کے گرد چکر زمینی 570 دنوں میں مکمل کرتا ہے۔

    سائنسدانوں کے خیال میں اس سیارے کا حجم اپنے ستارے کے 64 فیصد رقبے کے برابر ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ کسی چھوٹے ستارے کے مدار میں گھومنے والے چند بڑے سیاروں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔

    امریکا سے وطن واپس پہنچنے والے بھارتیوں کے تہلکہ خیز انکشافات

  • چین کا چاند پر پانی کی تلاش کیلئے  روبوٹک ”فلائر ڈیٹیکٹر“ بھیجنے کا اعلان

    چین کا چاند پر پانی کی تلاش کیلئے روبوٹک ”فلائر ڈیٹیکٹر“ بھیجنے کا اعلان

    بیجنگ: چین نے 2026 میں چاند کے جنوبی قطب پر ایک روبوٹک ”فلائر ڈیٹیکٹر“ بھیجنے کا اعلان کیا ہے، جو وہاں پانی کی تلاش کرے گا۔

    باغی ٹی وی : چینی خبر رساں ادارے ”ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ“ کے مطابق چین اگلے سال اپنے Chang’e-7 مشن کے حصے کے طور پر قطب قمری پر پانی کی تلاش کے لیے ایک سمارٹ روبوٹک "فلائنگ ڈیٹیکٹر” تعینات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے – جو پانچ سالوں میں انسانوں کو چاند پر اتارنے کے ملک کے ہدف میں ایک قدم ہے۔

    چینی خلائی ماہرین نے پیر کو سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے اڑنے والے روبوٹ کے منصوبوں کا انکشاف کیاچینی خلائی ماہرین نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ یہ مشن مستقبل میں چاند پر ایک تحقیقاتی اسٹیشن کے قیام کے لیے بنیادی کام انجام دے گا فلائنگ روبوٹ ”چانگ ای-7“ مشن کا حصہ ہوگا، جس میں ایک آربیٹر، ایک لینڈر، ایک قمری روور اور ایک فلائنگ روبوٹک ڈیٹیکٹر شامل ہوگا، یہ مشن چاند کے ان دائمی سائے والے گڑھوں میں پانی کی موجودگی اور تقسیم کی تصدیق کرے گا، جہاں سورج کی روشنی کبھی نہیں پہنچتی –

    بل گیٹس نے اپنی گرل فرینڈ سے تعلقات کے بارے خاموشی توڑ دی

    مشن کے نائب چیف ڈیزائنر تانگ یوہوا کے مطابق، چانگ ای-7 مشن کا مقصد چین کی قمری تحقیقاتی صلاحیتوں کو جانچنا ہے کہ آیا وہ چاند کے کسی بھی حصے میں پہنچ سکتی ہے اگر چاند پر پانی کی برف کی شکل میں کامیابی سے نشاندہی ہو گئی تو اس سے زمین سے پانی لانے کے اخراجات اور وقت میں نمایاں کمی آئے گی اس کے نتیجے میں، چاند پر انسانی بیس کے قیام اور مریخ یا دیگر خلائی مشنز کے لیے مزید تحقیق میں آسانی ہوگی۔

    تانگ یوہوا کے مطابق، یہ فلائنگ ڈیٹیکٹر ایک ”انتہائی ذہین روبوٹ“ ہوگا، جو چاند کی سطح پر مختلف ڈھلانوں پر بار بار اترنے اور واپس اڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے، بالکل ایسے جیسے کوئی انسان اونچائی سے چھلانگ لگانے کے بعد اپنے گھٹنوں کو موڑتا ہے۔ یہ روبوٹ لیگ ٹریکٹری پلاننگ اور جوائنٹ ڈریون موومنٹ کے ذریعے چاند کی سطح پر نقل و حرکت کرے گا۔

    خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کا پولیو ٹیم پر ایک بار پھر حملہ

    چین کے قمری تحقیقاتی پروگرام کے چیف ڈیزائنر وو وی رین نے وضاحت کی کہ چانگ ای-7 مشن کو منفی 100 ڈگری سیلسیس سے بھی کم درجہ حرارت اور چاند کی پیچیدہ سطح جیسے سخت چیلنجز کا سامنا ہوگا اس مشن کے لیے تیار کیا گیا ”موبائل ہاپر“ روشنی والے علاقوں سے اندھیرے گڑھوں تک چھلانگ لگا کر وہاں کی تفصیلی جانچ کرے گا۔

    رپورٹس کے مطابق، یہ فلائنگ ڈیٹیکٹر ایک ہی جست میں درجنوں کلومیٹر تک سفر کر سکتا ہے اس کا ملٹی لیگڈ ڈیزائن اسے چاند کی ناہموار سطح پر مؤثر طریقے سے چلنے میں مدد دے گا، جس سے چانگ ای-7 چاند کے ان حصوں تک پہنچ سکے گا جہاں سورج کی روشنی کبھی نہیں پہنچتی اور جہاں ممکنہ طور پر برف موجود ہو سکتی ہے۔

    پاکستان کا چین سے پولیس کے لیے جدید ٹیکنالوجی و آلات لینے کا فیصلہ

    اس کا راکٹ پاورڈ سسٹم اسے چاند کے بغیر ہوا والے ماحول میں کام کرنے کے قابل بنائے گا اس کے جسم میں چار فیول ٹینکس اور ایک چھوٹے تھرسٹرز کا دائرہ موجود ہوگا، جو اسے مختلف مقامات پر اترنے اور اڑنے کی صلاحیت فراہم کرے گا مشن کے دوران یہ فلائنگ ڈیٹیکٹر کم از کم تین بار پاورڈ لیپس کرے گا، اس کے بعد طویل مدتی قمری تحقیق کے لیے سولر پاور پر منتقل ہو جائے گا۔

    پانی کی تلاش کے علاوہ، چانگ ای-7 مشن چاند پر طویل مدتی انسانی قیام کے لیے مختلف ٹیکنالوجیز اور حالات کا بھی جائزہ لے گاچین 2028 میں چانگ ای-8 مشن لانچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جو چانگ ای-7 کے ساتھ مل کر ایک خودکار قمری تحقیقاتی نیٹ ورک قائم کرے گا، جس سے 2030 تک انسان بردار قمری مشن کی راہ ہموار ہوگی۔

    عمران خان کا افغان قیادت کیلئے خصوصی پیغام

  • واٹس ایپ میں نیا اسرائیلی وائرس پھیلنے کا انکشاف

    واٹس ایپ میں نیا اسرائیلی وائرس پھیلنے کا انکشاف

    واٹس ایپ کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ پیراگون سلوشنز نامی ایک اسرائیلی کمپنی نے واٹس ایپ استعمال کرنے والے تقریباً 100 صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے فون ہیک کیے ہیں۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ مالکان نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ہیکرز نے گریفائٹ نامی ایک طاقتور ٹول کا استعمال کیا جو صارف کے کسی بھی چیز پر کلک کیے بغیر ڈیوائسز میں داخل ہو سکتا ہے۔

    واٹس ایپ نے دعویٰ کیا کہ صحافیوں اور کارکنوں سمیت تقریباً 90 افراد کے فونز کو ممکنہ طور پر ہیک کیا گیااگرچہ واٹس ایپ نے یہ واضح کہ متاثر ہونے والے افراد کا تعلق کہاں سے ہے، حکام نے صرف اتنا بتایا کہ اسرائیل کمپنی کا ہدف سول سوسائٹی اور میڈیا کے ارکا ن تھے، واٹس ایپ نے ذمہ دار کمپنی پیراگون کے خلاف بھی ایک انتباہی خط بھیج کر اور انہیں جوابدہ ٹھہرانے کے لیے قانونی آپشنز کی تلاش میں کارروائی کی۔

    میرپورماتھیلو: رونتی کچے میں پولیس آپریشن، جوابی کارروائی میں ڈاکوؤں کا حملہ ناکام

    پیراگون سلوشنز، ایک کمپنی جس کا دفتر ورجینیا، امریکہ میں ہے، گریفائٹ نامی ایک طاقتور جاسوسی ٹول بنانے کے لیے مقبول ہے یہ ٹول پیگاسس نامی ایک اور معروف جاسوسی سافٹ ویئر سے ملتا جلتا ہے ایک بار جب گریفائٹ کسی ڈیوائس پر انسٹال ہو جاتا ہے، تو اسے کنٹرول کرنے والا ہر چیز تک رسائی حاصل کر سکتا ہے، جن میں واٹس ایپ اور سگنل جیسی نجی ایپس کے ذریعے بھیجے گئے پیغاما ت بھی شامل ہیں۔

    واٹس ایپ کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ کمپنی متاثرہ صارفین کی مدد کرنے اور مستقبل میں اسی طرح کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے اپنی سیکیورٹی کو مزید بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

    کراچی،شادی ودیگر تقریبات کے دوران ہوائی فائرنگ پر پابندی عائد

    خبررساں ایجنسی کے مطابق اس معاملے پر پیراگون نے کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

  • واٹس ایپ میں بڑی تبدیلی کا اعلان

    واٹس ایپ میں بڑی تبدیلی کا اعلان

    میٹا نے واٹس ایپ میں ایک بڑی تبدیلی کا اعلان کیا، جس کے بعد صارفین اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹ کو اکاؤنٹ سینٹر میں ایڈ کرسکیں گے۔

    میٹا کا اکاؤنٹس سینٹر ایک ہب کی طرح کام کرتا ہے جہاں میٹا کے کوئسٹ اکاؤنٹس کے ساتھ فیس بک اور انسٹاگرام کو بھی کنٹرول کیا جاتا ہے۔اکاؤنٹس سینٹر میں فیس بک اور انسٹاگرام کے بعد واٹس ایپ کے اضافے سے صارفین کو یہ سہولت دستیاب ہوگی کہ وہ اپنے واٹس ایپ اسٹیٹس کو بطور اسٹوریز فیس بک اور انسٹا گرام پر بھی کراس پوسٹ کرسکیں۔اس طرح صارفین کو اپنا واٹس ایپ اسٹیٹس الگ سے فیس بک یا انسٹا گرام ایپ اوپن کرکے پوسٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس کے ساتھ سنگل سائن آن فیچر بھی شامل کیا جارہا ہے جس کے بعد صارفین ایک اکاؤنٹ سے ہی میٹا کی متعدد ایپس پر لاگ اِن ہوسکیں گے۔

    رپورٹس کے مطابق صارفین کو اختیار ہوگا کہ وہ اپنی مرضی سے اکاؤنٹس سینٹر سے لنک ہوسکیں، بائی ڈیفالٹ یہ آپشن ڈس ایبل ہوگا۔میٹا کی جانب سے یہ بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ واٹس ایپ صارفین کے پیغامات اور کالز کو پہلے کی طرح اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کا تحفظ حاصل رہے گا اور اکاؤنٹس سینٹر میں شامل ہونے کے باوجود ان تک کسی کی رسائی ممکن نہیں ہوگی۔یاد رہے کہ میٹا اکاؤنٹس سینٹر 2020 میں اس خیال سے متعارف کرایا گیا تھا کہ صارفین کمپنی کی تمام ایپس کو ایک ہی جگہ سے کنیکٹ کرسکیں، اور اب تک اکاؤنٹ سینٹر سے صرف فیس بک، انسٹاگرام اور میٹا کوئیسٹ اکاؤنٹس کو کنٹرول کیا جارہا تھا۔

    عبدالعلیم خان کی کھاریاں اسلام آباد موٹروے کو 6 لین کرنے کی ہدایت

    عرب امارات سے تجارت میں اضافہ کے خواہشمند ہیں، گورنرسندھ

    کراچی: بدترین ٹریفک جام، شہری پریشان

    سندھ ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ججز کیلئے 12 ناموں کی منظوری

    پسند کی شادی ،شوہر نے بیوی کو قتل کردیا

  • 21  اور 25 جنوری  کو  آسمان پر 6 سیاروں کا دلکش نظارہ  کر سکیں گے

    21 اور 25 جنوری کو آسمان پر 6 سیاروں کا دلکش نظارہ کر سکیں گے

    اسلام آباد: 21 جنوری اور 25 جنوری کو آپ آسمان پر 6 سیاروں کا دلکش نظارہ کر سکیں گے-

    باغی ٹی وی: ماہرین فلکیات کے مطابق 6 میں سے 4 سیاروں یعنی زہرہ، مشتری، زحل اور مریخ کو دیکھنے کے لیے آپ کو دوربین کی بھی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ کھلی آنکھوں سے انہیں سورج غروب ہونے کے بعد دیکھا جاسکتا ہے البتہ نیپچون اور یورینس کو دیکھنے کے لیے دوربین کی ضرورت ہوگی زہرہ اور زحل تو ایک دوسرے کے بہت زیادہ قریب موجود ہوں گے۔

    سیاروں کی اس طرح کی قطار بہت زیادہ غیرمعمولی نہیں مگر متعدد سیاروں کو ایک ساتھ دیکھنے کا موقع ہر سال نہیں ملتا، جس وجہ سے یہ پلینٹ پریڈ بہت خاص ہے اگر آپ سیاروں کو آسمان پر دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کا بہترین وقت سورج غروب ہونے کے 45 منٹ بعد ہوگا زہرہ اور زحل جنوب مغرب میں جگمگا رہے ہوں گے جبکہ مشتری جنوب مشرقی آسمان پر چھایا ہوا ہوگا اور مریخ مشرق میں نظر آئے گا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ حلف برداری،پاکستان سے کون کون شریک ہوا

    سیاروں کے نظر آنے کا یہ سلسلہ 3 گھنٹوں تک برقرار رہے گا جس کے بعد زہرہ اور زحل مغرب میں غروب ہو جائیں گےان سیاروں کے بہترین نظارے کے لیے شہروں کی روشنی سے دور کسی تاریک جگہ کا رخ کریں اور جنوب مشرقی افق پر نظر رکھیں۔

    زہرہ آسمان پر چاند کے بعد دوسرا روشن ترین نظارہ پیش کرتا ہے اور اس کی جگمگاہٹ زحل سے 110 گنا زیادہ ہوگی یہ دونوں سیارے حیران کن حد تک ایک دوسرے کے قریب ہوں گے اور دوربین یا آنکھوں سے بھی دنگ کر دینے والا نظارہ پیش کریں گے۔

    پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس منجمد کئے جائیں،اکبر ایس بابر کی الیکشن کمیشن سے استدعا

    نیپچون زحل اور زہرہ کے بالکل اوپر ہوگا جبکہ یورینس کو آپ مشتری کے اوپر دریافت کرسکتے ہیں مریخ 2022 کے بعد اب سب سے زیادہ روشن ہے، یعنی زمین براہ راست مریخ اور سورج کے درمیان آچکی ہے اور اس وجہ سے سرخ سیارہ مشرق میں زیادہ جگمگاتا نظر آرہا ہے سیاروں کی یہ پریڈ یہاں ختم نہیں ہو جائے گی بلکہ 31 جنوری کو چاند بھی ان کے ساتھ شامل ہو جائے گا جو زحل سے محض ایک ڈگری دور نظر آئے گا یکم فروری کو چاند زہرہ کے قریب ہو جائے گا جس سے رات کو آسمان پر ایک اور خوبصورت نظارہ دیکھنے کو ملے گا۔

    سعودی جیلوں سے 2019 سے 2024 تک 7 ہزار 208 پاکستانی رہا

  • اسکیننگ کے بعد واٹس ایپ پر ریورس امیج  فیچر کی تیاری

    اسکیننگ کے بعد واٹس ایپ پر ریورس امیج فیچر کی تیاری

    انسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ پر ’اسکیننگ‘ کے بعد ’امیج ریورس سرچ‘ کے فیچر کی آزمائش بھی شروع کردی گئی۔

    باغی ٹی وی کےمطابق خبر سامنے آئی ہے کہ ایپلی کیشن پر ’امیج ریورس سرچ‘ کی بھی آزمائش شروع کردی گئی اور محدود صارفین کو اس تک رسائی دے دی گئی۔گزشتہ ہفتے خبر سامنے آئی تھی کہ واٹس ایپ پر صارفین کی سہولت کے لیے دستاویزات اور تصاویر کو اسکین کرنے کے فیچر کی آزمائش شروع کردی گئی۔واٹس ایپ کی اپڈیٹس پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ کے مطابق واٹس ایپ کے محدود صارفین کو ’ریورس امیج سرچ‘ کے آپشن تک رسائی دی گئی ہے۔مذکورہ فیچر کے تحت صارفین گوگل ریورس امیج کی طرح تصاویر کو سرچ کر سکیں گے۔مذکورہ فیچر کا مقصد تصاویر کی تحقیق کرنا ہے، تاکہ صارفین موصول ہونے والی تصویر سے متعلق مزید معلومات حاصل کر سکیں۔فیچر کے تحت صارفین موصول ہونے والی تصویر کو واٹس ایپ کے چیٹ باکس میں ہی کلک کرکے ویب ورژن پر سرچ کر سکیں گے۔فیچر کے تحت صارفین جیسے ہی مطلوبہ تصویر پر کلک کریں گے ازخود موبائل یا ڈیسک ٹاپ پر ویب ورژن کھل جائے گا، جہاں تصویر سے ملتی جلتی دیگر تصاویر اور پوسٹس بھی نظر آنے لگیں گی۔مذکورہ فیچر تک فوری طور پر محدود صارفین کو رسائی دی گئی ہے، اگلے مرحلے میں اس کی آزمائش کو بڑھایا جائے گا، جس کے بعد اسے رواں برس کی پہلی سہ ماہی تک پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

    کراچی میں سردی بڑھنے کی پیش گوئی

    برآمدات میں 10.52 فیصد کا اضافہ

    پاک بحریہ کا کامیاب آپریشن، 1 ملین ڈالر کی منشیات برآمد

  • ناسا کے خلائی جہاز کی سورج کے انتہائی قریب پرواز

    ناسا کے خلائی جہاز کی سورج کے انتہائی قریب پرواز

    امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے خلائی جہاز نے سورج کے انتہائی قریب پرواز کر کے تاریخ رقم کر دی۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سائنسدانوں کو پارکر سولر پروب سے گزشتہ رات سگنل موصول ہوا،س سے پہلے خلائی جہاز سورج سے خارج ہونے والے انتہائی شدید درجہ حرارت اور بے تحاشہ تابکاری کو برداشت کرتے ہوئے سورج کی بیرونی فضا میں38 لاکھ میل کے فاصلے پر پرواز کر رہا تھا، اس دوران اس کا زمین سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔

    اس حوالے سے امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ خلائی جہاز محفوظ اور معمول کے مطابق کام کر رہا ہے ناسا کے مشن سے یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ سورج درحقیقت کام کیسے کرتا ہے۔

    پنجاب وائلڈلائف کو لاہور چڑیا گھر کی نیلامی میں بڑی کامیابی

    واضح رہے کہ امریکی خلائی ادارے ناسا کا تیار کردہ پارکر سولر پروب انسانوں کی تیار کردہ تیز ترین سواری ہے اس نے انسانوں کی تیار کردہ تیز ترین چیز کا ریکارڈ 4 لاکھ 30 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرکے قائم کیا ہے اس سے پہلے بھی یہ ریکارڈ پارکر سولر پروب کے پاس ہی تھا جو اس نے کچھ عرصے قبل 3 لاکھ 97 ہزار 736 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرکے قائم کیا تھاسورج کی حرارت سے تحفظ فراہم کرنے والی شیلڈ سے لیس یہ مشن سورج کی سطح کے 38 لاکھ میل قریب گیا۔

    امبانی خاندان گائے کی کس خاص نسل کا دودھ پیتا ہے؟

    اس مشن کو سورج کی باہری کرہ ہوائی یا کورونا کے سفر کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو طاقتور شمسی طوفانوں کے ذریعے زمین پر اثرات مرتب کرتا ہے،ہمارے نظام شمسی کے ستارے کو سمجھنے کے لیے یہ ائیر کرافٹ سورج کے قریب ترین گیا۔

    24 دسمبر کو یہ مشن سورج کے قریب گیا مگر اس کی جانب سے 27 دسمبر کو زمین پر ایک beacon tone بھیج کر محفوظ ہونے کی تصدیق کی جائے گی سورج کے قریب ترین جانے کے لیے لگ بھگ 10 فٹ لمبے ائیر کرافٹ نے سورج کے مدار میں 22 چکر لگائے، ہر چکر کے ساتھ یہ سورج کے کورونا کے قریب تر ہوگیا اور اس دوران پارکر سولر پروب کی رفتار میں بھی مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔

    چاہتے ہیں اگلے چار سال میں توانائی کا شعبہ بحران سے نکل آئے،اویس لغاری

    خیال رہے کہ حجم کے لحاظ سے سورج ہمارے سیارے سے 3 لاکھ 33 ہزار گنا زیادہ بڑا ہے، تو اس کے گرد چکر لگانے کے لیے بہت زیادہ رفتار کی ضرورت ہوتی ہے تو سورج کے قریب جاتے ہوئے اس مشن نے 4 لاکھ 30 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرکے نیا ریکارڈ بنایا۔

    4 لاکھ 30 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن زمین کے گرد 17 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چکر لگا رہا ہےاسی طرح اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ نے 2021 میں لگ بھگ 21 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کیا تھاسورج کے قریب ترین جانے کے سفر کے دوران اس مشن نے سورج کے کورونا کے بارے میں اہم ڈیٹا بھی اکٹھا کیا۔

    نیو ایئر نائٹ: پنجاب پولیس کا سکیورٹی پلان مکمل

  • خلا میں   140 کھرب سمندروں سے بھی زیادہ  بڑا پانی کا  ذخیرہ  دریافت

    خلا میں 140 کھرب سمندروں سے بھی زیادہ بڑا پانی کا ذخیرہ دریافت

    سائنسدانوں کو کائنات کے ایک دور دراز حصے میں پانی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ملا ہے۔

    باغی ٹی وی: رپورٹ کے مطابق پانی کا یہ ذخیرہ ایک خاص قسم کے ستارے کے گرد چکر لگا رہا ہے جسے کواسر(quasar) کہا جاتا ہے جو 12 بلین نوری سال کی ناقابل یقین حد تک فاصلے پر موجود ہے پانی کا یہ ذخیرہ اس وقت سے خلا میں سفر کر رہا ہے جب کائنات بہت چھوٹی تھی، یہ دور دراز پانی کا ذخیرہ ناقابل یقین حد تک بڑا ہے، جس میں زمین کے تمام سمندروں سے تقریباً 140 کھرب سمندروں سے بھی زیادہ پانی موجود ہے یہ ایک بہت بڑے بلیک ہول کے قریب واقع ہے جو ہمارے سورج سے تقریباً 20 بلین گنا بڑا ہے۔

    ایران کا واٹس ایپ پر پابندی ختم کرنے کا فیصلہ

    سائنسدانوں کے مطابق خلا میں ایک بہت بڑا بلیک ہول اے پی ایم 08279+5255 نامی کواسر سے گھرا ہوا ہے، جو کہ ایک ہزار ٹریلین سورج کے برابر توانائی کی ایک بڑی مقدار جاری کرتا ہےاس کواسر میں پوری کائنات کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ دور معلوم پانی کا ذخیرہ ہے۔

    خلائی تحقیقات کے ادارے ناسا کے سائنسدان بریڈ فورڈ نے کہا کہ اس کواسر کی خاص بات یہ ہے کہ یہ بہت زیادہ مقدار میں پانی بنا رہا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پانی پوری کائنات میں ابتداء سے ہی عام ہے۔

    ہم وزارت تعلیم کی رجسٹریشن کے تحت رہنا چاہتے ہیں، جامعہ بنوریہ عالمیہ

    کواسر پہلی بار 50 سال قبل دریافت کیا گیا تھا، اس وقت طاقتور دوربینوں کی مدد سے خلا کے دور دراز حصوں میں پراسرار روشنی کو دیکھا گیا تھا،تحقیق سے معلوم ہوا کہ وہ چیزیں عام ستارے نہیں تھے وہ ناقابل یقین حد تک روشن ہیں اور بہت دور کہکشاؤں کے مراکز میں پائے جاتے ہیں وہ اس قدر چمکتے ہیں کہ وہ ان کہکشاؤں میں موجود تمام ستاروں کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں، ان کے مرکز میں بڑے بڑے بلیک ہولز موجود ہیں، جو سورج سے لاکھوں یا اربوں گنا زیادہ گرم ہیں جیسے جیسے ان کے ارد گرد گیس اور دھول گھومتی ہے، وہ زیادہ سے زیادہ گرم ہوتے جاتے ہیں، بہت زیادہ توانائی خارج کرتے ہیں۔

    ہم وزارت تعلیم کی رجسٹریشن کے تحت رہنا چاہتے ہیں، جامعہ بنوریہ عالمیہ

  • مرسڈیز میں بچوں کی حفاظت کے پیش نظر سینسرز نصب

    مرسڈیز میں بچوں کی حفاظت کے پیش نظر سینسرز نصب

    نئی مرسڈیز کار میں جدید ٹیکنالوجی بچوں کے اندر چھوڑے جانے کے ممکنہ جان لیوا خطرے کو کم کرنے میں مدد کرے گی۔

    باغی ٹی وی: اس کا چائلڈ پریزنس ڈیٹیکشن (سی پی ڈی) سسٹم کیبن میں سانس لینے والے کسی بھی شخص کا پتہ لگانے کے لیے سینسرز کا استعمال کرتا ہے اور اسے خصوصاً بچوں کی حفاظت کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے، جو خاص طور پر گرم موسم میں خطرناک ہو سکتا ہے۔

    آنے والے CLA کوپ میں ٹیکنالوجی گاڑی میں موجود بچے کو ان کے مخصوص سانس لینے کے انداز کے ذریعے پتہ لگاتی ہے، جبکہ کیمرے یہ جانچتے ہیں کہ آیا ان کے ساتھ کوئی بڑا ہے یا نہیں۔ اس کے سینسر اتنے حساس ہیں کہ وہ سوئے ہوئے نوزائیدہ بچے کو بھی اٹھا سکتے ہیں۔

    کار کے بند ہونے پر سسٹم ایک یاد دہانی پیش کرتا ہے۔ اگر ڈرائیور گاڑی کو چھوڑ کر لاک کر دیتا ہے جس میں بچہ ابھی بھی اندر ہو تو مالک کے اسمارٹ فون پر الرٹس بھیجے جاتے ہیں۔

    اگر کیبن کا درجہ حرارت ایک نازک نقطہ سے بڑھ جاتا ہے تو، ایئر کنڈیشنگ شروع ہو جاتی ہے، اور اردگرد لوگو ں کو خبردار کرنے کے مقصد سے کار کا ہارن اور لائٹس فعال ہو جاتی ہیں اگر بچہ کار میں ہو تو مرسڈیز SOS کال سینٹر کو مطلع کیا جاتا ہے اور ہنگامی خدمات کو الرٹ کیا جاتا ہے۔

    یہ نظام سابق وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون جیسے والدین کے لیے کارآمد ثابت ہو سکتا ہے، جنہوں نے 2012 میں اپنی اس وقت کی آٹھ سالہ بیٹی نینسی کو 15 منٹ کے لیے ایک پب میں چھوڑ دیا تھا کھڑی کار کا اندرونی حصہ دس منٹ میں 10C تک گرم ہو سکتا ہے جب جسم کا بنیادی درجہ حرارت 40C تک پہنچ جاتا ہے تو ہیٹ اسٹروک ہوتا ہے جو جان لیوا ہو سکتا ہے بچوں کے جسم بڑوں کے مقابلے تین سے پانچ گنا زیادہ تیزی سے گرم ہوتے ہیں۔

    مرسڈیز کے ترجمان نے کہا: ‘ریڈیو ٹیکنالوجی جانداروں کے سانس لینے کے نمونوں کا پتہ لگاتی ہے۔ یہ اس بات سے قطع نظر کیا جاتا ہے کہ وہ انسان ہیں یا جانور۔ تاہم، ہماری توجہ صفر سے چھ سال کی عمر کے بچوں کو پہچاننے پر ہے، جو نازک حالات میں اپنی مدد کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔‘‘

    سان ہوزے سٹیٹ یونیورسٹی میں ماہر موسمیات جان نول کے مطابق، امریکہ میں گاڑی میں چھوڑے جانے کے بعد ہر سال اوسطاً 15 سال سے کم عمر کے 37 بچے ہیٹ اسٹروک سے مر جاتے ہیں، رائل سوسائٹی فار دی پریونشن آف ایکسیڈنٹ نے کہا کہ برطانیہ کے اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔