Baaghi TV

Category: شوبز

  • پولیس وردی پہننے پر مقدمہ کی درخواست،صبا قمر کا ردعمل آ گیا

    پولیس وردی پہننے پر مقدمہ کی درخواست،صبا قمر کا ردعمل آ گیا

    اداکارہ صبا قمر زمان نے اپنے خلاف مقدمے کی درخواست کے بعد پہلی بار خاموشی توڑ دی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق صبا قمر کے خلاف لاہور کی سیشن کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اداکارہ نے بغیر اجازت پولیس کی وردی پہنی،یہ معاملہ اس وقت سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آیا جب ایک زیر گردش ویڈیو میں صبا قمر کو ڈریسنگ روم میں ایس پی کی وردی پہنے دیکھا گیا، اس کے بعد اداکارہ نے میگزین کی ایک پوسٹ ری شیئر کی جس میں انہوں نے صبا قمر کا دفاع کیا،میگزین کے ایڈیٹر ان چیف نے نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ ڈیئر کیا آپ توقع کر رہے تھے کہ وہ پولیس افسر کا کردار دلہن کے لباس یا لان کے سوٹ کے ساتھ ادا کریں گی، کیونکہ کردار ہمیشہ رول کے مطابق لباس پہنتے ہیں، نہ کہ آپ کی بے وقوفانہ تخلیق کے مطابق۔

    اس بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے صبا قمر نے مزاحیہ انداز اپناتے ہوئے لکھا کہ اوہ خدایا! آج کل میں بہت زیادہ مشہور ہوگئی ہوں،جس کے ساتھ انہوں نے مسکراتے ہوئے ایموجیز بھی شامل کیے۔

    واضح رہے کہ یہ درخواست وکیل آفتاب باجوہ نے شہری وسیم زوار کی جانب سے دائر کی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کسی بھی فرد کو سرکاری اجازت کے بغیر پولیس کی وردی یا ایس پی کے عہدے کا بیج استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔

  • بنگالی گلوکارہ   کو کنسرٹ کے دوران مبینہ ہراسانی کا سامنا

    بنگالی گلوکارہ کو کنسرٹ کے دوران مبینہ ہراسانی کا سامنا

    مغربی بنگال کی معروف بنگالی گلوکارہ لگنجیتا چکرورتی کو ایک کنسرٹ کے دوران مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے کا واقعہ پیش آیا، جس کے بعد سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا ہے۔

    یہ واقعہ مشرقی مدناپور کے بھگوان پور علاقے میں واقع ایک نجی اسکول میں پیش آیا، جہاں لگنجیتا چکرورتی اپنی لائیو پرفارمنس دے رہی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق، ایک شخص نے اس وقت اسٹیج پر چڑھ کر ہنگامہ کیا جب گلوکارہ نے اپنا مشہور گانا "جاگو ماں” پیش کیا۔پولیس نے واقعے کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ الزام ہے کہ اس شخص نے گلوکارہ کو اس بنیاد پر نشانہ بنایا کہ انہوں نے ایک "سیکولر” گانا گانے کے بجائے مبینہ طور پر "مذہبی” گانا پیش کیا۔عینی شاہدین کے مطابق، ملزم نے نہ صرف اسٹیج پر چڑھ کر بدتمیزی کی بلکہ گلوکارہ کو دھمکانے کی بھی کوشش کی۔

    اس واقعے کے بعد گانے کے موضوع پر بھی بحث شروع ہو گئی۔ خود لگنجیتا چکرورتی اور گیت کے نغمہ نگار ریتم سین نے وضاحت پیش کی ہے کہ "جاگو ماں” کسی دیوی یا مذہبی عقیدے پر مبنی گانا نہیں ہے۔”لگنجیتا کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔ اس گانے کے بول کسی دیوی کے بارے میں نہیں ہیں بلکہ یہ ماں اور مادریت کے تصور پر مبنی ہے، جو نسوانی طاقت کی علامت ہے۔” یہ گانا آنے والی بنگالی فلم "دیوی چودھورانی” کی تشہیر کے لیے تیار کیا گیا ہے اور یہ فلمی کردار پر مبنی ہے، نہ کہ دیوی درگا پر۔

    "دیوی چودھورانی” ایک تاریخی ڈرامہ فلم ہے جس کی ہدایت کاری سبھرجیت مترا نے کی ہے۔ فلم میں معروف اداکار پروسن جیت چٹرجی اور سربانتی چٹرجی مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ فلم بنکم چندر چٹرجی کے مشہور ناول پر مبنی ہے۔

    واقعے کو یاد کرتے ہوئے لگنجیتا چکرورتی نے بتایا "میں اپنا ساتواں گانا ختم کر چکی تھی اور آٹھواں شروع کرنے سے پہلے سامعین سے بات کر رہی تھی۔ میں نے ابھی ‘جاگو ماں’ گایا تھا اور اس کے بارے میں وضاحت دے رہی تھی کہ اچانک ایک شخص دوڑتا ہوا اسٹیج پر آیا۔ اس کے چہرے سے لگ رہا تھا کہ وہ مجھے مارنا چاہتا ہے۔””جب اسے اندازہ ہوا کہ وہ مجھے نقصان نہیں پہنچا سکتا تو اسے پیچھے کھینچا گیا۔ اسی دوران وہ چیختے ہوئے بولا، ‘بس بہت ہو گیا جاگو ماں، اب کوئی سیکولر گانا گاؤ’۔”

    اس واقعے کے بعد فنکاروں، دانشوروں اور عام شہریوں نے اس حرکت کی شدید مذمت کی ہے۔ کئی لوگوں نے اسے فنکاروں کی آزادی اور اظہارِ رائے پر حملہ قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ایسے واقعات کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

  • نورا فتحی کی گاڑی کو خوفناک حادثہ

    نورا فتحی کی گاڑی کو خوفناک حادثہ

    معروف ڈانسر نورا فتحی ایک خوفناک ٹریفک حادثے کا شکار ہو گئیں –

    بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب نورا فتحی اپنی ٹیم کے ہمراہ امریکا کے مشہور ڈی جے ڈیوڈ گوئٹا کے کنسرٹ میں شرکت کے لیے روانہ ہو رہی تھیں،اسی دوران ایک تیز رفتار کار نے نورا فتحی کی گاڑی کو زور دار ٹکر مار دی یہ تصادم اتنا خوفناک تھا کہ اداکارہ کی گاڑی ایک سائیڈ سے تباہ ہوگئی،جبکہ نشے میں دھت شخص فرار ہو گیا-

    نورا فتحی پچھلی سیٹ پر بیٹھی تھیں اور ان کا سر اگلی سیٹ سے ٹکرانے کے باعث بری طرح زخمی ہوگیا انھیں فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا ہےنورا فتحی کو خون میں لت پت اسپتال کی ایمرجنسی میں لے جایا گیا جہاں ان کا فوری طور پر سی ٹی اسکین کرایا گیا، ڈاکٹرز نے تصدیق کی کہ نورا فتحی کے دماغ کو شدید اندرونی جھٹکا لگا ہے اداکارہ کو مکمل آرام کا مشورہ بھی دیا گیا۔

    تاہم نورا فتحی نے ڈاکٹروں کے سخت آرام کے مشورے پر عمل کرنے کے بجائے اسپتال سے ڈسچارج ہوکر سیدھا کنسرٹ میں جانے کو ترجیح دی،نورا فتحی اسی حالت میں سن برن فیسٹیول 2025 میں اسٹیج پر آ کر پرفارم کیا نورا فتحی کی پیشہ ورانہ احساسِ ذمہ دری اور جرات پر مداحوں نے انہیں آئرن لیڈی کا خطاب دیا، حادثے میں تباہ ہونے والی گاڑی کی تصاویر بھی دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔

  • لیونارڈو ڈی کیپریو کا اپنی فلم ’’ٹائی ٹینک‘‘ دوبارہ نا دیکھنے کا انکشاف

    لیونارڈو ڈی کیپریو کا اپنی فلم ’’ٹائی ٹینک‘‘ دوبارہ نا دیکھنے کا انکشاف

    ہالی ووڈ اداکار لیونارڈو ڈی کیپریو نے جینیفر لارنس کے ساتھ ایک تفصیلی گفتگو میں انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اپنی یادگار اور تاریخ ساز فلم ’’ٹائی ٹینک‘‘ کو کبھی دوبارہ نہیں دیکھا۔

    جینیفر لارنس نے گفتگو کے دوران جب ڈی کیپریو سے براہِ راست سوال کیا کہ کیا انہوں نے ’’ٹائی ٹینک‘‘ دوبارہ دیکھی ہے؟، تو اداکار نے سادہ انداز میں جواب دیا کہ ’نہیں‘، انہوں نے یہ فلم برسوں سے نہیں دیکھی،وہ عمومی طور پر اپنی فلمیں دیکھنے کے عادی نہیں، چاہے وہ کتنی ہی مشہور کیوں نہ ہوں۔

    ڈی کیپریو کے اس بیان پر جینیفر لارنس نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ کبھی ’’ٹائی ٹینک‘‘ جیسی فلم کا حصہ ہوتیں تو شاید بار بار دیکھتیں اس پر ڈی کیپریو نے مسکراتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی اداکاری کو دوبارہ دیکھنے میں خاص دلچسپی نہیں ہوتی، کیونکہ وہ ہر فلم کے بعد آگے بڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

    ڈی کیپریو نے بتایا کہ وہ فلم کی شوٹنگ کے دوران پلے بیک یا اپنی کارکردگی دیکھنے کے حق میں نہیں ہوتے اور زیادہ تر کردار کے احساس اور لمحے پر بھروسا کرتے ہیں ان کے مطابق ایک اداکار کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ موجودہ منظر میں سچا رہے، نہ کہ بعد میں خود کو اسکرین پر جانچتا رہے۔

    واضح رہے کہ ’ٹائی ٹینک‘‘ نے 1997 میں ریلیز کے بعد نہ صرف باکس آفس پر تاریخ رقم کی بلکہ لیونارڈو ڈی کیپریو کو عالمی سطح پر سپر اسٹار بنا دیا،فلم میں جیک ڈاسن کا کردار آج بھی ان کے کیریئر کی پہچان سمجھا جاتا ہے، مگر خود اداکار کا کہنا ہے کہ وہ ماضی کی کامیابیوں میں الجھنے کے بجائے نئے کرداروں اور کہانیوں پر توجہ دیتے ہیں۔

  • کرینہ کے ساتھ تعلقات کے ابتدائی دنوں میں عدم تحفظ اور حسد کا سامنا رہا،سیف

    کرینہ کے ساتھ تعلقات کے ابتدائی دنوں میں عدم تحفظ اور حسد کا سامنا رہا،سیف

    بالی وڈ کے معروف اداکار سیف علی خان نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران اپنی ذاتی زندگی سے متعلق ایک اہم اور کھلا اعتراف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اہلیہ کرینہ کپور کے ساتھ تعلقات کے ابتدائی دنوں میں وہ عدم تحفظ اور حسد جیسے جذبات کا شکار رہے۔

    سیف علی خان کا کہنا تھا کہ اس دور میں ان کے لیے اس صورتحال کو سمجھنا آسان نہیں تھا، خاص طور پر اس وجہ سے کہ کرینہ کپور اُس وقت اپنے کیریئر کے عروج پر تھیں۔سیف علی خان نے بتایا کہ کرینہ کپور کے ساتھ ڈیٹنگ ان کے لیے ایک بالکل نیا اور مختلف تجربہ تھا۔ ماضی کے تعلقات کے برعکس کرینہ نہ صرف بالی وڈ کی سب سے بڑی اسٹارز میں شمار ہوتی تھیں بلکہ وہ مسلسل فلموں میں مصروف رہتی تھیں، جہاں انہیں مختلف اداکاروں کے ساتھ کام کرنا پڑتا تھا۔ کامیابی، شہرت اور عوامی توجہ کا یہ دباؤ سیف کے لیے ابتدا میں خاصا مشکل ثابت ہوا۔

    اداکار نے اعتراف کیا کہ جب کرینہ دوسرے مرد اداکاروں کے ساتھ فلموں میں کام کرتی تھیں تو وہ اندرونی طور پر حسد اور عدم تحفظ محسوس کرتے تھے۔ سیف علی خان کے مطابق، اُس وقت یہ جذبات ان کے لیے الجھن کا باعث بنے رہے کیونکہ وہ اس قسم کے تعلقات کے عادی نہیں تھے، جہاں ان کی ساتھی زندگی کے ہر پہلو میں اس قدر نمایاں اور عوامی شخصیت ہو۔سیف علی خان نے انکشاف کیا کہ ایک موقع پر انہیں مشورہ دیا گیا کہ وہ اس صورتحال کو اس طرح دیکھیں جیسے وہ خود کسی ہیرو کو ڈیٹ کر رہے ہوں۔ ان کے بقول، یہ جملہ ان کے ذہن میں نقش ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سوچ کے ساتھ انہیں یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ فلمی دنیا میں کام کے دوران حریف اداکار بھی دراصل دوست بن جاتے ہیں، اور یہ ایک پیشہ ورانہ تقاضا ہے۔

    انٹرویو کے دوران ایک سوال کے جواب میں سیف علی خان نے مزید کہا کہ اُس وقت ان تمام جذبات سے نمٹنے کے لیے پختگی، اعتماد اور وقت کی ضرورت تھی۔ ان کے مطابق، یہ تمام خوبیاں صرف سچی وابستگی، باہمی سمجھ بوجھ اور مضبوط رشتے کے ذریعے ہی پروان چڑھتی ہیں، جو وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوتا جاتا ہے۔

    واضح رہے کہ کرینہ کپور اور سیف علی خان نے 2012 میں شادی کی تھی۔ آج یہ جوڑا بالی وڈ کے مقبول ترین اور مضبوط رشتوں میں شمار ہوتا ہے۔ ان کے دو بیٹے ہیں، جن میں بڑے بیٹے تیمور علی خان اور چھوٹے بیٹے جہانگیر علی خان شامل ہیں۔

  • بھارتی اداکارہ نے پہلگام حملے کو بھارت کی ہی سازش قرار دیدیا

    بھارتی اداکارہ نے پہلگام حملے کو بھارت کی ہی سازش قرار دیدیا

    نئی دہلی: بھارتی اداکارہ جیا بھٹا چاریہ نے پہلگام حملے کو بھارت کی ہی سازش قرار دے دیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مشہور بھارتی ٹی وی سیریل “کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی” میں اداکاری کے باعث شہرت حاصل کرنے والی اداکارہ جیا بھٹاچاریہ نے پہلگام حملے کو بھارت کی ہی سازش قرار دیتے ہوئے بھارتی حکومت اور سپریم کورٹ پر سخت تنقید کی۔

    جیا بھٹا چاریہ نے کہا کہ اگر اتنی ہی سیکیورٹی فراہم کی جاتی جتنی دہلی میں آوارہ کتوں کے حق میں ہونے والے احتجاج کے دوران کی گئی تو لوگوں کو نام پوچھ کر قتل نہ کیا جاتااداکارہ نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آیا یہ واقعہ محض غفلت تھا یا کسی منظم سازش کا حصہ؟ اور حکومت سے اس پر جواب طلب کیا،کہا کہ سپریم کورٹ کے کندھے پر بندوق رکھ کر شکار کیا جا رہا ہے عوام کو بتایا جائے کہ حکومت دراصل کس کے ساتھ کاروبار کر رہی ہے۔

    بھارتی حکومت یا متعلقہ اداروں کی جانب سے تاحال اداکارہ کے بیان پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

  • بھارتی اداکار انوج سچ دیوا پر پارکنگ تنازع کے دوران حملہ

    بھارتی اداکار انوج سچ دیوا پر پارکنگ تنازع کے دوران حملہ

    ممبئی: بھارتی ڈرامہ انڈسٹری کے معروف اداکار انوج سچ دیوا اور ان کے پالتو کتے کے ساتھ پارکنگ تنازع کے دوران ایک شخص نے حملہ کر دیا ہے۔ یہ واقعہ بھارتی سوسائٹی میں پیش آیا، جس کی تصدیق اداکار نے خود انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کر کے کی۔

    انسٹاگرام پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص غیر اخلاقی زبان استعمال کرتے ہوئے کہہ رہا ہے: "تو مجھے کتے سے کٹوائے گا؟” ویڈیو کے پس منظر میں کتے کے بھونکنے کی آوازیں بھی مسلسل سنائی دے رہی ہیں۔ویڈیو میں یہ بھی واضح ہے کہ حملہ آور شخص ایک ڈنڈا اٹھا کر انوج سچ دیوا کے سر پر مارتا ہے اور ساتھ ہی اداکار کو جان سے مار دینے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔

    اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے انوج سچ دیوا کو قانونی کارروائی کرنے کی فوری ہدایت دی ہے۔ صارفین نے حملہ آور کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کے حق میں رائے دی ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔واضح رہے کہ انوج سچ دیوا بھارتی ڈراموں "یہ رشتہ کیا کہلاتا ہے” اور "نبھانا ساتھیا” میں اداکاری کے جوہر دکھا چکے ہیں اور بھارتی ٹی وی کی مشہور شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔

  • پاکستانی فلم ویلکم ٹو پنجاب نے عالمی ایوارڈ جیت لیا

    پاکستانی فلم ویلکم ٹو پنجاب نے عالمی ایوارڈ جیت لیا

    پاکستانی فلم ویلکم ٹو دی پنجاب نے باکو فلم فیسٹیول میں بہترین آڈینس ایوارڈ جیت لیا-

    آذربائیجان میں 7 سے 10 دسمبر 2025 تک منعقد ہونے والے باکو سنیما بریز فلم فیسٹیول میں پاکستان نے شرکت کی،فیسٹول کے دوران تین پاکستانی فلموں کی خصوصی نمائش کی گئیں، فیسٹیول کے دوران پاکستان فلم ڈے کے موقع پر پیش کی جانے والی فلم ویلکم ٹو دی پنحاب نے بہترین آڈینس ایوارڈ اپنے نام کیا،اس فلم کے پروڈیوسر صفدر ملک جبکہ ہدایت کار شہزاد رفیق ہیں، یہ ایوارڈ عالمی سطح پر پاکستانی سینما کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا ثبوت ہے، اس سے قبل بھی پاکستانی فلموں نے 2025 میں متعدد عالمی پلیٹ فارمز پر نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔

    محمد اورنگزیب کی سعودی نائب وزیرِ خزانہ سے ملاقات

    اس سے قبل چین میں منعقد ہونے والے ایس سی او فلم فیسٹیول میں فلم نایاب نے بہترین جیوری کرٹک ایوارڈ جبکہ فلم دیمک نے بہترین ایڈیٹنگ ایوارڈ اپنے نام کیے، روس میں ہونے والے یوریشیا فلم فیسٹیول میں پاکستان کی معروف اداکارہ سونیا حسین کو بہترین پرفارمنس ایوارڈ سے نوازا گیا-

    پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن نے ایگزیکٹیو ڈی جی ڈی ای ایم پی ثمینہ فرزین، ڈائریکٹر فلم سیکشن سیدہ سائرہ رضا اور ڈپٹی ڈائریکٹر سمیعہ چنا کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ انہی کی محنت کی بدولت پاکستان نے عالمی سطح پر مسلسل چوتھی کامیابی حاصل کی-

    غیر ملکی کرنسی کی خریدوفروخت کرنے والوں کی شناخت کی تصدیق نادرا سے لازمی قرار

  • رنویر سنگھ کی فلم ’’دھریندر‘‘ کو خلیجی ممالک میں پابندی کا سامنا

    رنویر سنگھ کی فلم ’’دھریندر‘‘ کو خلیجی ممالک میں پابندی کا سامنا

    رنویر سنگھ کی فلم ’’دھریندر‘‘ پر خلیجی ممالک میں پابندی عائد کر دی گئی-

    خلیجی ممالک بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور یو اے ای میں دھریندر کو ریلیز نہیں کیا گیاکیونکہ فلم کو ’’اینٹی پاکستان‘‘ تصور کیا جا رہا تھااس سے پہلے بھی اسی نوعیت کی فلموں کو اس ریجن میں مشکلات کا سامنا رہا ہے ٹیم نے پھر بھی کوشش کی لیکن تمام ممالک نے فلم کے موضوع کی منظوری نہیں دی، یہی وجہ ہے کہ دھریندر کسی بھی خلیجی ملک میں ریلیز نہیں ہوسکی۔

    یہ پہلا موقع نہیں ہے جب خلیجی ممالک میں بھارتی فلموں پر پابندی لگائی گئی ہو 2024 میں ریتھک روشن اور دپیکا پڈوکون کی فلم فائٹر کو بھی ابتدا میں تمام خلیجی ممالک میں پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا، سوائے یو اے ای کے، فلم میں پلواما حملے کی عکاسی پر پاکستان کے بعض حلقوں نے اعتراضات اٹھائے اور اسے ’’اینٹی پاکستان پروپیگنڈا‘‘ قرار دیاریلیز کے ایک روز بعد یو اے ای نے بھی ’فائٹر‘ کی نمائش معطل کر دی فلم سازوں نے مسئلہ حل کرنے کے لیے فلم کا دوبارہ ترمیم شدہ ورژن جمع کرایا، مگر یو اے ای کی وزارت نے اسے بھی مسترد کر دیا۔

    اسی سال اکشے کمار کی ’اسکائی فورس‘ اور جان ابراہیم کی ’دی ڈپلومیٹ‘ کو بھی مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک میں پابندی کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ دونوں فلموں کا موضوع پاکستان سے جڑا تھااس سے قبل آرٹیکل 370 (2024) کو بھی جی سی سی سے سرٹیفکیشن نہیں ملا تھا ’ٹائیگر 3‘ (2023) کو عمان، کویت اور قطر میں بین کیا گیا، جبکہ ’دی کشمیر فائلز‘ (2022) کو بھی کئی خلیجی ممالک نے نمائش کی اجازت نہیں دی تھی البتہ بعد میں یو اے ای نے اسے صرف بالغ ناظرین کے سرٹیفکیٹ کے ساتھ ریلیز کیا۔

  • سنگیتا سے بھتہ طلبی،دھمکیاں،شیرا کوٹ تھانے میں مقدمہ درج

    سنگیتا سے بھتہ طلبی،دھمکیاں،شیرا کوٹ تھانے میں مقدمہ درج

    لاہور: فلم انڈسٹری کی معروف ہدایتکارہ سنگیتا سے بھتہ طلب کرنے، دھمکیاں دینے اور شوٹنگ کے دوران ہنگامہ آرائی پر شیراکوٹ تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق ایک نامزد ملزم سمیت آٹھ افراد نے نہ صرف بھتہ طلب کیا بلکہ دھمکیاں دینے کے بعد شوٹنگ کا عمل بھی زبردستی رکوا دیا۔ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب سنگیتا اپنی پروڈکشن کی شوٹنگ میں مصروف تھیں۔ اسی دوران متعدد افراد وہاں پہنچے، عملے کو خوف و ہراس کا نشانہ بنایا، شوٹنگ کروانے سے منع کیا اور موقع پر توڑ پھوڑ بھی کی۔ اس ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں نہ صرف قیمتی آلات متاثر ہوئے بلکہ پروڈکشن کو مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے جبکہ نامزد اور نامعلوم ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ تھانے کے مطابق ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے گا تاکہ ہدایتکارہ اور ان کی ٹیم کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔