Baaghi TV

Category: شوبز

  • میکسیکو کی 25 سالہ فاطمہ بوش نے مس یونیورس کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا

    میکسیکو کی 25 سالہ فاطمہ بوش نے مس یونیورس کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا

    مس یونیورس کے فائنل میں میکسیکو کی 25 سالہ فاطمہ بوش نے تنازعات کے باوجود مس یونیورس 2025 کا ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔

    تھائی لینڈ میں ہونے والے مس یونیورس 2025 کے مقابلے میں 120 ممالک کی حسیناؤں نے حصہ لیا تھا، مقابلے کے دوران میکسیکو کی فاطمہ بوش نے تمام تنازعات اور دباؤ کے باوجود شاندار پرفارمنس سے ناصرف ججز بلکہ دنیا بھر کے ناظرین کو بھی متاثر کیا، فائنل کے نتائج میں تھائی لینڈ کی امیدوار رنر اپ قرار پائیں جبکہ وینزویلا اور فلپائن کی حسینائیں بھی ٹاپ فائیو میں شامل رہیں، مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی 25 سالہ روما ریاض نے کی جبکہ فلسطین کی پہلی حسینہ نادین ایوب بھی مِس یونیورس میں جلوہ گر ہوئیں،مس یونیورس کا ٹائٹل جیتنے والی فاطمہ بوش نے فیشن ڈیزائن کی تعلیم میکسیکو میں حاصل کی ہے، مس یونیورس سماجی مسائل اجاگر کرنے کے لیے بھی سرگرم رہتی ہیں جبکہ ستمبر 2025 میں فاطمہ بوش نے مس میکسکیو کا ٹائٹل بھی اپنے نام کیا تھا۔

    یاد رہے کہ رواں سال مس یونیورس 2025 کا مقابلہ خوبصورتی سے زیادہ تنازعات کی وجہ سے سرخیوں میں رہا تھا، اسکینڈل اس وقت شروع ہوا جب چند ہفتے قبل دوران تقریب مس یونیورس کے ایک اعلیٰ ڈائریکٹر نے فاطمہ بوش کی سب کے سامنے تضحیک کی اور انہیں بے وقوف کہا،جس پر مس میکسیکو کا مؤقف تھا کہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایک عورت کو کیسے عزت دی جاتی ہے اور وہ بھی وہ عورت جو اپنے ملک کی نمائندگی کر رہی ہو، جس کے بعد مقابلہ حسن کی امیدواروں نے فاطمہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے احتجاجاً واک آؤٹ کیا تھا۔

  • مس یونیورس پاکستان روما ریاض کا پاکستانی پرچم لپیٹے وطن سے محبت کا اظہار

    مس یونیورس پاکستان روما ریاض کا پاکستانی پرچم لپیٹے وطن سے محبت کا اظہار

    مس یونیورس پاکستان روما ریاض نے تھائی لینڈ میں ہونے والے مس یونیورس مقابلے کی پریلیمنری راؤنڈ میں شرکت کے بعد پاکستانی پرچم اپنے کندھوں پر لپیٹ کر وطن سے اپنی محبت کا اظہار کیا۔

    انہوں نے اپنے پاکستانی مداحوں کے لیے محبت سے بھرپور پیغام جاری کیا۔،روما ریاض نے انسٹاگرام پر لکھا کہ شکریہ پاکستان، دل کی گہرائیوں سے، میں نے اسٹیج سے اترتے ہی یوں محسوس کیا جیسے ایک دعا میرے لبوں سے خود بخود نکل آئی ہو، انہوں نے دنیا بھر میں موجود پاکستانیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کے پیغام، محبت اور مستقل سپورٹ نے میرا حوصلہ بڑھایا۔‘

    روما ریاض کا کہنا تھا کہ میں نے ہر روپ میں پاکستان کو ساتھ رکھا اور اپنے لباس کے ذریعے ملک کی ثقافت، روایت اور شناخت کو نمایاں کیا ،میرا بُرکینی پہننا پاکستان کی ثقافت اور اکثریتی مذہب کو خراجِ تحسین تھا، جبکہ میرا نیشنل کاسٹیوم پاکستانی دستکاری کی عظمت اور لاہور کی شیش محل روایت کی جھلک پیش کرتا تھا، پریلیمنری راؤنڈ میں پہنا گیا گاؤن پاکستان کے مسیحی اور دیگر اقلیتی برادریوں کے وقار اور فخر کی علامت تھی،میرے ملبوسات صرف لباس نہیں تھے بلکہ ایمان، شناخت اور ایک ایسی لڑکی کی کہانی تھے جو لاکھوں کی نمائندگی کا خواب دیکھتی ہے،یہ سفر کمال کا نہیں، ہمت کا تھا وہ ہمت جس نے دنیا کو اصل پاکستان دکھایا۔

  • گووندا بے ہوش ہو گئے، ہسپتال منتقل

    گووندا بے ہوش ہو گئے، ہسپتال منتقل

    بالی وڈ سپر اسٹار گووندا کو ممبئی میں واقع اپنی رہائش گاہ میں بے ہوش ہوجانے کے بعد اسپتال منتقل کردیا گیا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 61 سالہ گووندا کی گزشتہ رات ان کے گھر پر اچانک طبیعت بگڑگئی جس کے بعد انہیں جوہو کے کریٹیکل کیئر اسپتال میں داخل کروایا گیا ہے،گووندا کے دیرینہ دوست اور قانونی مشیر للت بندل نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ گزشتہ شب انہیں گووندا کے گھر پر بے ہوش ہوجانے کی اطلاع دی گئی ، طبیعت اچانک بگڑنے پر گووندا کو اسپتال منتقل کیا گیا، اس دوران ان کے چند ٹیسٹ بھی کیے گئے جن کے نتائج کا انتظار ہے، گووندا فی الحال ڈاکٹروں کی نگرانی میں ہیں اور ان کی طبیعت بہتر ہورہی ہے‘۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل گووندا لیجنڈری اداکار دھرمیندر کی عیادت کرنے بریچ کینڈی اسپتال پہنچے تھے جس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر سامنے آئی تھی۔

  • خوبصورتی اور ذہنی سکون کا راز ،گووندا کی اہلیہ نے بتا دیا

    خوبصورتی اور ذہنی سکون کا راز ،گووندا کی اہلیہ نے بتا دیا

    ممبئی: دنیا بھر میں کامیاب افراد کی ایک مشترکہ عادت ہے ، صبح سویرے اٹھنا۔ اسی روایت کو بھارتی اداکار گووندا کی اہلیہ سنیٹاآہوجا نے بھی اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنا لیا ہے، جو نہ صرف ان کی صحت بلکہ ان کی چمکدار جلد کا راز بھی بن چکی ہے۔

    ایک حالیہ انٹرویو میں سنیتا اہوجا نے بتایا کہ وہ گزشتہ دو سے تین سالوں سے روزانہ صبح 4 بجے جاگتی ہیں اور اپنی صبح کا آغاز ’امرِت ویلا‘ سے کرتی ہیں ،یہ عادت مجھے میری بیٹی ٹیِنا نے سکھائی۔ وہ ہمیشہ کہتی تھی کہ ‘ممی، آپ کو امرت ویلا شروع کرنا چاہیے۔’ میں نے دو سے تین سال پہلے یہ عادت اپنائی، اب مجھے الارم لگانے کی ضرورت نہیں پڑتی، میں خود بخود جاگ جاتی ہوں۔ پھر میں نہا دھو کر ایک گھنٹہ ’جاپ‘ کرتی ہوں۔”انہوں نے مزید کہا کہ ان کی روزمرہ کی روٹین میں صبح کی سیر بھی شامل ہے۔میں ساڑھے پانچ بجے واک کے لیے جاتی ہوں، ایک گھنٹہ واک کے بعد واپس آتی ہوں، کافی پیتی ہوں،

    امرت ویلا کا تصور صدیوں پرانا ہے اور یہ سکھ اور ہندو فلسفہ میں نہایت اہم مقام رکھتا ہے۔ یہ وقت عام طور پر رات کے پچھلے پہر سے لے کر طلوعِ آفتاب تک ہوتا ہے (تقریباً 3 بجے سے 6 بجے کے درمیان)۔ اس وقت کو عبادت، مراقبہ، غور و فکر اور خود سے جڑنے کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے۔ماہرینِ نفسیات اور نیند کے ماہرین کے مطابق، صبح سویرے جاگنے کی عادت جسمانی و ذہنی صحت پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔تحقیقات سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ سورج نکلنے سے پہلے جاگنے سے ہارمونل توازن بہتر رہتا ہے۔جلد کی قدرتی چمک میں اضافہ ہوتا ہے۔انسان کی دماغی کارکردگی اور پیداواری صلاحیت بڑھتی ہے۔نیند کا معیار بہتر ہوتا ہے اور موڈ مثبت رہتا ہے۔

    سنیتا کا کہنا ہے کہ وہ اس روحانی طرزِ زندگی کو محض مذہبی عمل نہیں بلکہ خود سے محبت اور خود کی دیکھ بھال کا ذریعہ سمجھتی ہیں۔جو بھی عبادت، پوجا پاٹھ یا دھیان آپ صبح چھ بجے سے پہلے کرتے ہیں، وہ آپ کے چہرے پر جھلکتا ہے،

    ماہرینِ صحت بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ صبح کے وقت کی پرسکون فضا، جسم اور دماغ کو ایک خاص قسم کی تازگی عطا کرتی ہے، جو دن بھر کے تناؤ کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔

  • بولی وڈ اداکارہ زرین خان  انتقال کر گئیں

    بولی وڈ اداکارہ زرین خان انتقال کر گئیں

    بولی وڈ اداکار زید خان کی والدہ اور ماضی کی معروف اداکارہ زرین خان طویل علالت اور زائدالعمری سے لاحق پیچیدگیوں کے باعث 81 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔

    خاندانی ذرائع کے مطابق زرین خان کی نمازِ جنازہ ممبئی میں ادا کی گئی، جب کہ ان کی آخری رسومات ہندو مذہبی روایات کے مطابق انجام دی گئیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق زید خان کی جانب سے والدہ کی آخری رسومات ہندو رسومات کے تحت ادا کرنے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں، جن میں وہ جذباتی انداز میں مٹی کا گھڑا اٹھائے نظر آئے۔ویڈیوز کے منظرعام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے حیرت کا اظہار کیا کہ زرین خان کی تدفین ہندو طریقے سے کیوں کی گئی۔ تاہم رپورٹس کے مطابق زرین خان شادی سے قبل ہندو پارسی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، ان کا پیدائشی نام زرین کٹرک تھا۔ 1966 میں سنجے خان سے شادی کے بعد انہوں نے خان سرنیم اختیار کیا، مگر خاندان نے ان کے پیدائشی مذہب کے مطابق رسومات ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔

    زرین خان کی نمازِ جنازہ اور آخری رسومات میں قریبی رشتہ داروں کے ساتھ ساتھ بولی وڈ کی متعدد معروف شخصیات نے بھی شرکت کی۔زرین خان کے شوہر سنجے خان ایرانی نژاد مسلمان گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ دونوں کی ملاقات 1963 کی فلم ترے گھر کے سامنے کے دوران ہوئی تھی۔ زرین خان سے ان کے چار بچے ہیں — سوزین خان، زید خان، سیمون آرورا اور فرح علی خان

    سیکیورٹی خدشات، جعفر ایکسپریس کی آمد و رفت 4 روز کے لیے معطل

    پاک افغان مذاکرات ختم، ثالثوں نے بھی ہاتھ کھینچ لیے،خواجہٰ آصف

    مذاکرات ناکام، افغان طالبان کی ہٹ دھرمی، اندرونی تقسیم اور بیرونی اثرات

  • فلم کے دوران ڈائریکٹر بیڈ تک پہنچ گیا تھا، فرح خان

    فلم کے دوران ڈائریکٹر بیڈ تک پہنچ گیا تھا، فرح خان

    فرح خان کو بالی وڈ میں چار دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن ایک تلخ یاد اب بھی ان کے ذہن میں نقش ہے جب ایک فلم میکر نے انہیں ہراساں کیا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلم ساز سے کوریوگرافر بننے والی فرح نے ٹوئنکل اور کاجول کے کے پروگرام میں کافی موضوعات پر گفتگو کی، اسی شو میں انہوں نے اعتراف کیا کہ ایک فلم کے دوران ڈائریکٹر نے انہیں جنسی ہراساں کیا،انہوں نے بتایا کہ میں اس ڈائریکٹر کی فلم میں کوریوگرافی کررہی تھی، اسی دوران میں اپنے کمرے میں گئی اور بستر پر بیٹھی تھی، وہ فلم ساز گانے پر گفتگو کرنے میرے کمرے میں آیا اور بالکل پاس بیٹھ گیا، اس نازیبا حرکت پر مجھے فوری طور پر اسے اپنے کمرے سے نکالنا پڑا۔

    فرح خان نے دوران انٹرویو میں کہا کہ مجھے ہر حال میں کام کرنا تھا، کیونکہ ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے تھے اور اب میرا یہ ذہن ہے کہ میں اتنے پیسے کماؤں کہ میرے بچوں کو کسی قسم کی کوئی پریشانی نہ اٹھانی پڑے،اس منظر کی عینی شاہد ٹوئنکل کھنہ نے واقعے پر مزید کہا کہ وہ فلم ساز فرح کے پیچھے پڑا تھا، فرح کو چاہیے تھے کہ اسے مارتی پیٹتی، میں اس واقعے کی گواہ ہوں، ایسا واقعی ہوا تھا۔

  • 4 شادیوں والے بھی باہر منہ مار رہے ہوتے ہیں ،حمزہ عباسی

    4 شادیوں والے بھی باہر منہ مار رہے ہوتے ہیں ،حمزہ عباسی

    پاکستانی اداکار حمزہ علی عباسی کا کہنا ہے کہ باہر منہ مارنے کی عادت 4 شادیوں کے بعد بھی ختم نہیں ہوتی، مجھے حیرت ہوتی ہے جب کوئی مسلمان یہ کہتا ہے کہ باہر منہ مارنے سے بہتر ہے میں شادی کرلوں۔

    حال ہی میں اداکار نے ایک پوڈکاسٹ میں بطور مہمان شرکت کی جہاں انہوں نے مختلف امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا،انٹرویو کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے غیر ازدواجی تعلقات پر بات کی اور کہا کہ باہر منہ مارنے کی عادت ختم نہیں ہوتی، 4 شادیوں والے بھی باہر منہ مار رہے ہوتے ہیں کیونکہ شادی اس نیت سے نہیں کی جاتی کہ باہر منہ مارنے سے بہتر ہے شادی کرلوں، شادی ایک عمر بھر کا رشتہ ہوتا ہے، اگر کوئی شخص باہر منہ مارنے کی عادت رکھتا ہے اور اس کا شادی کرنے کا ایک ہی مقصد ہے تو وہ 1 مہینے، 6 مہینے یا سال بعد یہی کرے گا کیونکہ بیوی تو 1 سال بعد پرانی ہو جائے گی، ایسے حضرات جو کہتے ہیں کہ غیر ازدواجی تعلقات سے بہتر ہے شادی کرلوں تو انہیں اپنی اس عادت کو ختم کرنا چاہیے،یہ عادت عموماً مردوں میں ہی ہوتی ہے، مجھے حیرات ہوتی ہے جب کوئی مسلمان یہ کہتا ہے کہ باہر منہ مارنے سے بہتر ہے میں شادی کرلوں، باہر منہ مارنا کبیرہ گناہ میں سے ہے، ایسا کرنے والے کے لیے ابدی جہنم ہے، اسے شادی سے نہ جوڑا جائے بلکہ اگر کسی شخص کی پوری زندگی بھی شادی نہ ہو تو تب بھی اسے باہر منہ مارنے سے باز رہنے کا حکم ہے۔

    حمزہ علی عباسی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اللّٰہ نے مرد کو بے شک 4 شادیوں کی اجازت دی ہے لیکن چند مخصوص حالات میں، اس کے ساتھ ہی اس نے یہ بھی کہا کہ ہوسکے تو ایک شادی ہی کرنا کیونکہ تم 1 سے زائد کے ساتھ انصاف نہیں کر پاؤ گے، باہر منہ مارنے کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے، اس گناہ سے تمام مسلمانوں کو ہر حالت میں باز رہنا چاہیے۔

  • بھارتی اداکارہ کا بھائی میجر (ر) وکرانت کمار یو اے ای میں گرفتار،دہلی ہائیکورٹ میں درخواست

    بھارتی اداکارہ کا بھائی میجر (ر) وکرانت کمار یو اے ای میں گرفتار،دہلی ہائیکورٹ میں درخواست

    دہلی ہائیکورٹ میں بالی ووڈ اداکارہ سلینا جیٹلی کی جانب سے دائر کردہ ایک درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں انہوں نے اپنے بھائی میجر (ریٹائرڈ) وکرانت کمار جیٹلی کی مدد کے لیے عدالت کی مداخلت کی اپیل کی ہے۔ اداکارہ کے مطابق ان کے بھائی کو ستمبر 2024 سے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں مبینہ طور پر قومی سلامتی کے خدشات کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے۔

    عدالت نے وزارتِ خارجہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ سلینا جیٹلی اور ان کے بھائی کے درمیان رابطے کو یقینی بنائے، اور ساتھ ہی میجر وکرانت جیٹلی اور ان کی اہلیہ (جو یو اے ای میں مقیم ہیں) کے درمیان بھی رابطہ بحال کرانے کے اقدامات کرے۔ عدالت نے وزارتِ خارجہ سے اس معاملے پر ایک اسٹیٹس رپورٹ بھی طلب کی ہے۔سماعت کے دوران سلینا جیٹلی خود عدالت میں موجود تھیں۔ بعد ازاں انہوں نے انسٹاگرام پر ایک طویل پیغام میں عدالت کے فیصلے کو "امید کی کرن” قرار دیا۔

    درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ وکرانت جیٹلی بھارتی شہری ہیں، اس لیے حکومت ہند پر لازم ہے کہ وہ انہیں قانونی مدد فراہم کرے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سلینا جیٹلی اپنے بھائی کی واحد قریبی رشتہ دار ہیں۔درخواست میں کہا گیا کہ گزشتہ ایک سال سے اہل خانہ نے بھارتی سفارت خانے، قونصل خانے اور وزیرِ خارجہ سے متعدد بار رابطہ کیا، تاہم تاحال ان کے بھائی کی حالت یا قانونی حیثیت سے متعلق کوئی خاطر خواہ معلومات نہیں دی گئیں۔یہ کیس جسٹس سچن دتّا کی عدالت میں زیرِ سماعت ہے، جب کہ اگلی سماعت 4 دسمبر کو مقرر کی گئی ہے۔

    سماعت کے بعد سلینا جیٹلی نے انسٹاگرام پر دہلی ہائیکورٹ کے باہر سے ایک جذباتی پیغام شیئر کیا کہا،”طویل اور تھکا دینے والے 14 ماہ کے بعد بالآخر مجھے اندھیری سرنگ کے آخر میں روشنی نظر آئی ہے۔ میں دہلی ہائیکورٹ سے باہر آئی ہوں جہاں میری درخواست پر سماعت ہوئی۔”انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے بھائی نو ماہ تک لاپتہ رہے اور بعد ازاں حراست میں لے لیے گئے۔”آپ نے ہمارے لیے لڑائی لڑی بھائی، اب ہماری باری ہے کہ ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہوں۔ عدالت کی ہدایت میرے لیے امید کی کرن ہے۔”انہوں نے حکومت ہند سے اپیل کی کہ وہ ملک کے محافظوں کے لیے آواز اٹھائے "ایک سال سے میں اپنے بھائی کے بارے میں جواب تلاش کر رہی ہوں۔ اب میں اپنی حکومت سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ انہیں محفوظ واپس لائے۔ میرا یقین صرف اپنی حکومت پر ہے، اور مجھے یقین ہے کہ وہ ایک ایسے سپاہی کی حفاظت کرے گی جس نے اپنی جوانی قوم کے نام وقف کی۔”سلینا جیٹلی نے بتایا کہ ان کے بھائی چوتھی نسل کے فوجی ہیں، جنہیں چیف آف آرمی اسٹاف کی جانب سے بہادری کے تمغے سے نوازا گیا تھا۔

    درخواست میں مزید استدعا کی گئی کہ بھارتی حکومت قانونی و مالی امداد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ سفارتی ذرائع سے فوری اقدامات کرے تاکہ وکرانت جیٹلی کو مناسب طبی سہولیات اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دیکھ بھال فراہم کی جا سکے۔عدالت سے یہ بھی گزارش کی گئی کہ بھارتی سفارت خانہ ان کی فلاح و بہبود کی باقاعدہ نگرانی کرے اور یو اے ای حکام کے ساتھ رابطے میں رہے تاکہ زیرِ حراست بھارتی شہری کے حقوق کو بین الاقوامی قانون اور 1963 کے ویانا کنونشن برائے قونصلر تعلقات کے مطابق یقینی بنایا جا سکے۔

  • حاملہ کترینہ کیف کی تصویریں منظر عام پر

    حاملہ کترینہ کیف کی تصویریں منظر عام پر

    بالی ووڈ کی معروف اور خوبصورت اداکارہ کترینہ کیف ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئیں، تاہم اس بار وجہ اُن کی نئی فلم یا فیشن فوٹو شوٹ نہیں بلکہ اُن کی وائرل ہونے والی تصاویر ہیں۔

    بھارتی میڈیا پورٹل نے کترینہ کیف کی چند نجی تصاویر شیئر کی ہیں جن میں وہ اپنے ممبئی کے اپارٹمنٹ کی بالکونی میں کھڑی نظر آرہی ہیں۔ تصاویر میں اُن کے خدوخال سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر حاملہ ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، 42 سالہ اداکارہ اس وقت تین ماہ کی امید سے ہیں۔ان تصاویر کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر مداحوں اور صارفین کی جانب سے مخلوط ردعمل سامنے آیا۔ کئی صارفین نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کترینہ کیف کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا، جبکہ متعدد صارفین نے میڈیا پورٹل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا کہ اس نے ایک خاتون اداکارہ کی ذاتی زندگی اور پرائیویسی کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔

    یاد رہے کہ کترینہ کیف اور وکی کوشل نے 9 دسمبر 2021ء کو راجستھان کے ایک شاندار ریزورٹ میں شاہی انداز میں شادی کی تھی۔ شادی کے کچھ عرصے بعد ہی ان کے والدین بننے کی افواہیں گردش میں آگئی تھیں، تاہم اس وقت دونوں نے ایسی خبروں کی تردید کی تھی۔تاہم حال ہی میں کترینہ کیف نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ کے ذریعے ایک خوشگوار تصویر شیئر کی، جس کے بعد مداحوں نے قیاس آرائیاں شروع کر دیں کہ اداکارہ جلد اپنے پہلے بچے کی خوشخبری سنانے والی ہیں۔

  • لڑکیاں عیاشی اور آزادی کی خاطر شادی نہیں کرنا چاہتی۔غزالہ جاوید

    لڑکیاں عیاشی اور آزادی کی خاطر شادی نہیں کرنا چاہتی۔غزالہ جاوید

    پاکستانی شوبز انڈسٹری کی سینئر اداکارہ غزالہ جاوید کا کہنا ہے کہ آج کل لڑکیاں عیاشی اور آزادی کی خاطر شادی نہیں کرنا چاہتی۔

    حال ہی میں ماضی کی مقبول اداکارہ نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بطور مہمان شرکت کی جہاں انہوں نے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا،دورانِ پروگرام ان سے سوال پوچھا گیا کہ آج کل لڑکیاں شادی کیوں نہیں کرنا چاہتی،میزبان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کل لڑکیوں کی شادی نہ کرنے یا تاخیر سے کرنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ لڑکیاں عیاشی اور آزادی چاہتی ہیں، جس کی وجہ سے وہ شادی سے بھاگتی ہیں، کم عمر میں ہونے والی شادیاں کامیاب ہوتی ہیں، اگر آپ کچھ عرصے پیچھے چلے جائیں تو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ شادیاں زیادہ کامیاب رہیں جس میں لڑکیوں کی جلدی شادی ہوئی، اور بڑی عمر میں ہونے والی شادیاں اتنی کامیاب نہیں رہیں۔

    انہوں نے میرج بیورو والوں کو لڑکے والوں کی جانب سے موصول ہونے والی ڈیمانڈ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میرا بھانجا ڈاکٹر ہے، اس نے اپنے لیے لڑکی ڈھونڈتے ہوئے میرج بیورو والوں کو کہا کہ مجھے کسی ڈاکٹر یا انجینئر سے شادی نہیں کرنی بلکہ لڑکی گریجویٹ ہو تاکہ بچوں کو پڑھا لکھا سکے، ان کی تربیت کرسکے

    سوشل میڈیا پر اداکارہ کے انٹرویو کا مذکورہ ویڈیو کلپ وائرل ہوگیا، جس پر صارفین کڑی تنقید کر رہے ہیں اور کمنٹس میں تبصرہ کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ کیا ڈاکٹر اور انجینئر بچوں کی اچھی تربیت نہیں کرسکتی،ایک اور صارف نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اب انجینئر لڑکیوں کا کیا ہوگا آپ کے بھانجے تو ان سے شادی کرنے سے ہی منع کردیا۔