Baaghi TV

Category: شوبز

  • خوش قسمت ہوں میرے خاندان نے جہیز کی بجائے میری تعلیم پر خرچ کیا     کومل عزیز خان

    خوش قسمت ہوں میرے خاندان نے جہیز کی بجائے میری تعلیم پر خرچ کیا کومل عزیز خان

    پاکستان کی نوجوان ابھرتی ہوئی خوبرو اداکارہ کومل عزیز کا کہنا ہے کہ خوش قسمت ہوں میرے خاندان نے جہیز کی بجائے میری تعلیم پر خرچ کیا-

    باغی ٹی وی : اداکارہ نے انسٹاگرام پر لائیو سیشن رکھا جس میں اداکارہ نے جہاں مداحوں کے سوالوں کے جواب دلچسپ جواب دیئے وہیں انہیں زندگی میں آگے بڑنے اور کرئیر بنانے کے حوالے سے بھی قیمتی مشوروں سے نوازا-

    کومل عزیز خان نے کیریئر بنانے کے حوالے سے تجویز مانگنے پر نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ اگر ان کے پاس پیسے ہیں تو وہ بیرون ملک سے تعلیم حاصل کریں اور اگر ان کے پاس پیسے کی کمی ہے تو وہ ملکی یونیورسٹیز سے بہتر تعلیم حاصل کریں اور کوشش کرکے بہت زیادہ انٹرن شپس حاصل کرکے تجربہ حاصل کریں اور کتابیں پڑھنے کی کوشش کریں-

    کومل عزیز خان نے ایک سوال کے جواب میں نوجوان لڑکیوں کو مشورہ دیا کہ انہیں تعلیم اور تربیت حاصل کرنے کے بعد پہلے مالی طور پر خود مختار ہونا چاہیے، جس کے بعد وہ اپنی جسمانی اور ذہنی صحت کا بھی خیال رکھیں۔

    اداکارہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جب وہ 15 برس کی تھیں تب سے ہی انہوں نے کاروبار کی تربیت لینا شروع کی تھی اور محض 18 سال کی عمر میں انہوں نے سونے میں سرمایہ کاری کرنا شروع کی۔

    اداکارہ نے بتایا کہ انہوں نے پاکستان سمیت امریکا سے بھی بزنس کی تعلیم حاصل کی اور بزنس پر لکھی بہت ساری کتابیں بھی پڑھیں اور کاروبار کرنا ان کا سب سے بڑا جذبہ ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے بزنس و اکنامکس میں بیچلر کیا ہے جب کہ ان کی بہن ڈاکٹر ہیں اور وہ خوش قسمت ہیں کہ ان کے خاندان نے ان کے جہیز کے بجائے ان کی تعلیم پر خرچ کیا۔

    واضح رہے کہ اسی سیشن میں اداکارہ کا کہنا تھا کہ وہ کسی پاکستانی اداکار سے متاثر نہیں ہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کرنے والی شخصیات سے متاثر ہیں، جو دکھاوے کے بغیر فلاحی کام کرتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے زندگی میں بہت ساری مشکلات کا سامنا کیا، کیوں کہ وہ والد کے جلد فوت ہوجانے اور بغیر بھائی کے پدرشانہ نظام میں پلی بڑھیں ہیں-

    خیال رہے کہ کومل عزیز خان ’عشق بے نام، بساط دل، بھروسہ پیار تیرا، راز الفت اور سہیلیاں جیسے ڈراموں میں کام کر چکی ہیں-

    کسی پاکستانی اداکار سے متاثر نہیں ہوں کومل عزیز خان

  • فیصل قریشی نے ترک ڈرامہ "ارطغرل غازی” کیوں نہیں دیکھا؟

    فیصل قریشی نے ترک ڈرامہ "ارطغرل غازی” کیوں نہیں دیکھا؟

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اور سینئیر اداکار و میزبان فیصل قریشی نے مسلمانوں کی اسلامی فتوحات پر مبنی ترک سیریز ’ارطغرل غازی‘ نہ دیکھنے کی وجہ بتا دی-

    باغی ٹی وی: اداکار ومیزبان فیصل قریشی نے نجی ٹی وی پروگرام میں اداکار اعجاز اسلم کے ہمراہ بطور مہمان شرکت کی دوران شو ارطغرل غازی ڈرامے کے بارے میں بھی گفتگو کی-

    میزبان کی جانب سے ارطغرل غازی دیکھنے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر اداکار فیصل قریشی نے بتایا کہ میں نے تو یہ ڈارمہ دیکھا ہی نہیں-

    ڈرامہ نہ دیکھنے کی وضاحت کرتے ہوئے اداکار نے بتایا کہ میرا مسئلہ یہ ہے کہ مجھے اس طرح کے کوئی بھی ڈرامے یا فلمیں پسند نہیں آتی جن کی دوسری زبان میں ڈبنگ کی گئی ہو یا پھر ڈرامے یا فلم کے ساتھ سب ٹائٹل چل رہے ہوتے ہیں، تو میرے لیے اس طرح کے پروگرامز دیکھنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔

    دوسری جانب اداکار اعجاز اسلم نے اس حوالے سے کہا کہ میں نے ڈرامہ سیریل ’ارطغرل غازی‘ اس وقت دیکھا تھا جب اس کے بارے میں پاکستان میں دور دور تک کسی کو پتہ ہی نہیں تھا، میں نے یہ نیٹ فلکس پر دیکھا تھا اور یہ اچھا ڈرامہ ہے۔

    تُرک ڈراموں سے ہماری ڈرامہ انڈسٹری بہت بہتر ہوئی ہے سمیع خان

    بعد ازاں میزبان کی جانب سے ڈرامے میں ’ارطغرل غازی‘ کا کردار ادا کرنے والے ترک اداکار کی تصویر دکھائی گئی تو فیصل قریشی نے کہا کہ ڈرامہ سیریل ’ارطغرل غازی‘ اچھا پلے ہے اور پاکستانی ان سے بہت پیار کرتے ہیں اور ان لوگوں کو بھی پاکستان سے بہت پیار ہے لہذا ہم چاہتے ہیں یہ پیارومحبت کا رشتہ برقرار رہے۔

    واضح رہے کہ مسلمانوں کی اسلامی فتوحات پر مببی ترک ڈرامہ سیریز ارطغرل غازی کو وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ہدایت پر اردو میں ڈب کر کے سرکاری ٹی وی پر نشر کیا جا رہا ہے ڈرامے کو پاکستان میں بے حد پذیرائی ملی ڈرامے اور کرداروں نے پاکستان میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کی اور کئی ایک اعزا اپنے نام کئے –

    جہاں ڈرامے کو عوام کی جانب سے پسند کیا گیا وہیں شوبز شخصیات بھی منقسم نظر آئیں بعض شوبز شخصیات نے ترک ڈرامہ سیریل کو پسندیدہ اورپاکستان میں خوش آئند قرار دیا جبکہ بعض اداکاروں نے ڈرامےے کو پاکستان بالخصوص پی ٹی وی پر نشر کرنے کی بھر پور مخالفت کی جس کی وجہ سے انہیں شدید تنقید کا بھی سامنا رہا جن میں سر فہرست یاسر حسین اور اداکار شان ہیں-

  • کسی پاکستانی اداکار سے متاثر نہیں ہوں     کومل عزیز خان

    کسی پاکستانی اداکار سے متاثر نہیں ہوں کومل عزیز خان

    پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کی نامور اداکارہ کومل عزیز کا کہنا ہے کہ وہ کسی پاکستانی اداکار سے متاثر نہیں ہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کرنے والی شخصیات سے متاثر ہیں، جو دکھاوے کے بغیر فلاحی کام کرتے ہیں۔

    باغی ٹیوی : اداکارہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر لائیو سیشن کے دوران مداحوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے زندگی میں بہت ساری مشکلات کا سامنا کیا، کیوں کہ وہ والد کے جلد فوت ہوجانے اور بغیر بھائی کے پدرشانہ نظام میں پلی بڑھیں ہیں-

    اداکارہ نے ایک مداح کی جانب سے اپنی مضبوطی سے متعلق پوچھے جانے پر کہا کہ بہت ساری مشکلات جھیلنے اور غربت کی وجہ سے اچھی تعلیم نہ حاصل کرپانے کے باوجود کامیابی حاصل کرنے کی وجہ سے وہ مضبوط بنیں۔

    ایک سوال کے جواب میں کومل عزیز خان نے کہا کہ وہ کسی بھی پاکستانی اداکار سے متاثر نہیں ہیں، کیوں کہ زیادہ تر اداکار پیسے بنانے اور کمانے کی ترغیب دیتے ہیں۔

    اداکارہ نے کہا کہ وہ عبدالستار ایدھی اور ادیب رضوی جیسی انسانیت کی خدمت کرنے والی شخصیات سے متاثر ہیں، جو دکھاوے کے بغیر فلاحی کام کرتے ہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں اداکارہ نے بتایا کہ شوبز میں آنے کے لیے ان کے پاس کوئی سفارش نہیں تھی، وہ اپنی محنت کے بل بوتے پر کیریئر شروع کرنے میں کامیاب ہوئیں۔

    کومل عزیز خان نے اپنے قد کے سوال پر انکشاف کیا کہ وہ 5 فٹ 5 انچ لمبی ہیں اور گوگل پر ان کے قد سے متعلق غلط معلومات دستیاب ہے۔

    ایک مداح نے سوال کیا وہ کشمیر کب آئیں گی جس پر اداکارہ نے کہا وہ بھی آنا چاہتی ہیں آپ مجھے انوائیٹ کریں-

    واضح رہے کہ کومل عزیز خان ’عشق بے نام، بساط دل، بھروسہ پیار تیرا، راز الفت اور سہیلیاں جیسے ڈراموں میں کام کر چکی ہیں-

  • سکینہ سموں کے ساتھ کام کر کے پچھتانا پڑا     آغا علی

    سکینہ سموں کے ساتھ کام کر کے پچھتانا پڑا آغا علی

    پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کے معورف اداکار و میزبان آغا علی کا کہنا ہے کہ انہیں ڈائریکٹر سکینہ سموں کے ساتھ کام کر کے پچھتانا پڑا-

    باغی ٹی وی :اداکارسے حال ہی میں ایک شو میں میزبان نے سوال پوچھا کہ کیا وہ آج تک کسی کے ساتھ کام کرنے پر پچھتائے ہیں جس پر اداکار نے انکشاف کیا کہ وہ ڈرامہ سیریل ’میرے بےوفا‘ میں ڈائریکٹر سکینہ سموں کے ساتھ کام کرکے شدید پچھتائے ہیں ان کا سکینہ سموں کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ خوشگوار نہیں رہا تھا-
    https://www.instagram.com/p/CQH16IoBffU/
    آغا علی نے کہا کہ بہت عجیب ٹائم گزرا تھا ان کے ساتھ کچھ نجی مسائل بھی تھے جس کا وہ تذکرہ نہیں کریں گے۔

    اداکار نے کہا کہ ان کے ساتھ کام کرنا نا صرف ایک تلخ تجربہ تھا بلکہ اس ڈرامے کی شُوٹنگ کا وقت بھی بہت سخت تھا

    واضح رہےکہ 2018 میں نجی ٹی وی چینل پر نشرہونے والےڈرامہ سیریل ’میرے بے وفا‘ میں آغا علی کے ساتھ سارہ خان نے مرکزی کردار ادا کیا تھا-

    خیال رہے کہ اس سے قبل ندا یاسر نے ایک پروگرام میں انکشاف کیا تھا کہ کہ بطور اداکار یاسر کو علیزے شاہ کے ساتھ کام کرنے میں بہت مشکل ہوئی تھی کیونکہ اُن کے ساتھ یاسر کی کیمسٹری نہیں بن پارہی تھی جبکہ بطور ہدایت کار یاسر کو کبھی کسی اداکار کے ساتھ کام کرنے میں مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

    جبکہ یاسر نواز نے کہا تھا کہ میں واقعی علیزے شاہ کے ساتھ کام کرکے پریشان ہوگیا تھا اور میں پچھتانے لگا تھا کہ آخر میں نے اس اداکارہ کے ساتھ کام کیوں کیا۔

    یاسر نواز نے کہا تھا کہ جب ہم کسی فلم یا ڈرامے کے لیے کوئی کردار نبھا رہے ہوتے ہیں تو ہمیں اپنی نجی زندگی کو پیچھے چھوڑ دینا چاہیے اور میں اسی وجہ سے علیزے شاہ کے ساتھ کام کرنے پر خاصا پریشان تھا مجھے ڈرامے کی اقساط بڑھانے کا مشورہ دیا گیا تھا لیکن میں نے ہاتھ جوڑ کر کہا اگر اقساط کم کرنی ہیں تو بتاؤ، اس میں اضافہ نہیں ہوگا۔

    علیزے شاہ کے ساتھ کام کرکے پچھتانا پڑا یاسر نواز

  • موسیقارزلفی کوک اسٹوڈیو کے سیزن 14 کے نئے پروڈیوسر مقرر

    موسیقارزلفی کوک اسٹوڈیو کے سیزن 14 کے نئے پروڈیوسر مقرر

    کوک اسٹوڈیو کے سیزن 14 کیلئے موسیقار زلفی پروڈیوسر کے فرائض سرانجام دیں گے-

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز کوک اسٹوڈیو کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے زلفی کے کوک اسٹوڈیو کے پروڈیوس کرنے کے حوالے سے اعلان کیا گیا-

    ٹوئٹر پر مختصر ٹوئٹ میں زلفی کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا گیا کہ ’شروع کریں؟‘


    اس ٹوئٹ پرردعمل دیتے ہوئے موسیقار زلفی نے مسکراتے ہوئے ایموجی کے ساتھ جواب دیا۔

    زلفی نے اپنے انسٹاگرام پر کوک اسٹوڈیو کی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہاں سے سفر کا آغاز ہوگیا ہے، اس پوسٹ میں انہوں نے ہیش ٹیگ کوک اسٹوڈیو سیزن 14 کا استعمال بھی کیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ سیزن روحیل حیات نے پروڈیوس کیا تھا تاہم روحیل حیات نے مارچ میں کوک اسٹوڈیو سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔

  • ہمیں نبی اکرم ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے زیادہ شادیاں کرنی چاہئیے     فیروز خان

    ہمیں نبی اکرم ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے زیادہ شادیاں کرنی چاہئیے فیروز خان

    اداکار فیروز خان کا کہنا ہے کہ ہمیں بھی نبی اکرم محمد ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے زیادہ شادیاں کرنی چاہئیے۔

    باغی ٹی وی :اداکار فیروز نے احسن خان کے شو ’’ٹائم آؤٹ ود احسن خان‘‘ میں اپنی بہن اداکارہ حمائمہ ملک کے ساتھ شرکت کی جس کا ایک مختصر کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ہے جس میں وہ شادی سے متعلق اپنی رائے دیتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

    شو میں میزبان احسن خان نے فیروز خان سے سوال کیا کہ کیا کبھی وہ پچھتائے کہ وہ ابھی بچے تھے اور انہوں نے بہت جلدی شادی کرلی؟-

    اس سوال کے جواب میں فیروز خان نے کہا نہیں بلکہ مجھے اور ینگ ایج میں جلدی شادی کرنی چاہئے تھی۔ فیروز خان نے اپنی بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا مجھے لگتا ہے شادی سے انسان بہت کچھ سیکھتا ہے اور ایک نہیں بلکہ جس طرح ہمارے نبی محمد ﷺ نے زیادہ شادیاں کی ہیں ہمیں بھی زیادہ کرنی چاہئیں۔

    واضح رہے کہ فیروز خان نے 2018 میں علیزے کے ساتھ شادی کی تھی اور دونوں کا ایک بیٹا محمد سلطان خان ہے تاہم گزشتہ برس فیروز خان اور ان کی اہلیہ کے درمیان علیحدگی کی خبریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں جس فیروز خان اور ان کی اہلیہ علیزے کی جانب سے کوئی ردعمل نہیں دیا گیا اور نہ ہی جوڑی کے درمیان علیحدگی کی تصدیق ہوسکی تھی۔

    اللہ تعالیٰ مجھے اتنا جذبہ او طاقت دے کہ حجاب کی عزت کرسکوں اور لے سکوں حمائمہ ملک

    مذہب کے معامے میں آپ تینوں بہن بھائی خاموش رہیں تو اچھا ہے ،سوشل میڈیا صارفین کی حمیمہ ملک پر تنقید

    فردوس عاشق اعوان کو سپورٹ کرنے پر حمائمہ ملک شدید تنقید کا نشانہ بن گئیں

  • نیوزی لینڈ : کرائسٹ چرچ کی مساجد پر بننے والی فلم کا تنازعہ، وزیراعظم جیسنڈا کا  بیان سامنے آگیا

    نیوزی لینڈ : کرائسٹ چرچ کی مساجد پر بننے والی فلم کا تنازعہ، وزیراعظم جیسنڈا کا بیان سامنے آگیا

    نیوزی لینڈ: کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر 2019 میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے پس منظر میں نیوزی لینڈ کی فلم ساز کی جانب سے فلم بنائے جانے کے تنازعے پر جیسنڈا آرڈرن کا بھی بیان سامنے آ گیا-

    باغی ٹی وی : نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی 2 مساجد، النور مسجد اور لین ووڈ، میں دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ کی جانب سے 15 مارچ 2019 کو کیے جانے والے سفاکانہ حملے پر جیسنڈا آرڈرن کے ردِعمل پر فلم کی تیاری جاری ہے تاہم یہ فلم پروڈکشن کے مرحلے میں ہی تنقید کا شکار ہوگئی ہے –

    فلم ساز اینڈریو نکولو نے حال ہی میں مساجد پر حملوں کے تناظر میں ’دی آر اس‘ فلم بنانے کا اعلان کیا تھا، جس کی مرکزی کہانی مسلمانوں کے ساتھ ظلم کے بجائے نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کی جانب سے مذکورہ واقعے کے بعد کیے جانے والے اقدامات کے گرد گھومتی ہے۔

    فلم کا ٹائٹل ’’They are Us‘‘ ہے جو ان کی تقریر کے دوران ایک جملے سے ہی لیا گیا ہے۔ جیسنڈا آرڈرن نے کہا تھا حملہ آور نہیں، مسلم کمیونٹی ہماری اپنی ہے فلم میں صرف ان کی کاوشیں ہی دکھائی جائیں گی۔

    فلم میں جیسنڈا آرڈرن کا کردار آسٹریلوی اداکارہ روز بیرنی ادا کریں گی جب کہ فلم کی تمام شوٹنگ نیوزی لینڈ میں ہی کی جائے گی۔

    دوسری جانب نیوزی لینڈ میں بسنے والے کچھ مسلمانوں کا کہنا تھا کہ یہ مسلمانوں کے ساتھ ہوئے سانحے کی کہانی ہے فلم کا مرکز حکومت کو نہیں بلکہ یہاں بسنے والے مسلمانوں کو ہونا چاہیے۔

    جبکہ خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق فلم ساز نیوزی لینڈ کی فلم ساز اینڈریو نکولو کی جانب سے مساجد پر حملے کے تناظر میں فلم بنائے جانے کے اعلان کے بعد وہاں کے مسلمانوں نے ناراضی اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور فلم نہ بنانے کا مطالبہ کیا ہے-

    مسلمانوں کی تنظیم ’مسلم ایسوسی ایشن آف سینٹربری‘ نے بھی اپنے بیان میں مذکورہ فلم بنائے جانے کے معاملے پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’مسلمانوں پر اب بھی حملے کیے جانے کے خطرات منڈلا رہے ہیں-

    تنظیم کے مطابق مذکورہ دہشت گردی کے حملے کے بعد وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کا کردار اہم رہا لیکن اب بھی مسلمان خوف محسوس کر رہے ہیں اور مساجد پر حملوں کے تناظر میں فلم بنانا اچھا خیال نہیں۔

    نیوزی لینڈ:کرائسٹ چرچ کی مساجد اور جیسینڈا آرڈرن پر بننے والی فلم تنقید کا شکار

    مسلمانوں کی جانب سے ناراضی کا اظہار کیے جانے کے باوجود تاحال فلم ساز اینڈریو نکولو نے تو کوئی وضاحت جاری نہیں کی ہے تاہم وزیراعظم جیسنڈا کا بیان سامنے آیا ہے-

    نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے کہا ہے کہ مساجد پر حملوں کے تناظر میں بننے والی کسی بھی فلم میں انہیں یا کسی اور کردار کو دکھانے کے بجائے مسلمانوں پر ڈھائے گئے ظلم کو دکھایا جانا چاہیے۔

    خبر رساں ادارے ’ایجنسی فرانس پریس‘ (اے ایف پی) کے مطابق جیسنڈا آرڈرن نے فلم کی کہانی کو غلط قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ مساجد پر حملوں کے تناظر میں بننے والی کسی بھی فلم کی کہانی مسلمانوں کے ساتھ ظلم کے گرد ہونی چاہیے۔

    جیسنڈا آرڈرن نے نیوزی لینڈ کے اخبار کو انٹرویو میں کہا کہ کرائسٹ چرچ کی مساجد پر حملوں کا واقعہ اب بھی یہاں کے عوام کے لیے خوفناک ہے اور اسے لوگ تاحال مکمل طور پر سمجھ بھی نہیں سکے مذکورہ دہشت گردانہ واقعے میں درجنوں مسلمان خاندان متاثر ہوئے، 51 افراد شہید جب کہ 40 سے زائد زخمی ہوئے اور فلم میں ان واقعات کو ہی دکھایا جانا چاہیے۔

    جیسنڈا آرڈرن نے یہ بھی واضح کیا کہ مذکورہ فلم کے حوالے سے ان سے کوئی بھی مشاورت نہیں کی گئی اور نہ ان کی خواہش ہے کہ فلم میں انہیں دکھایا جانا چاہیے۔

    اے ایف پی کے مطابق جیسنڈا آرڈرن کے بیان کے بعد فلم کے متعدد پروڈیوسرز میں سے ایک خاتون پروڈیوسر نے خود کو فلم سے علیحدہ کرتے ہوئے مسلمان کمیونٹی اور وزیر اعظم سے معذرت کرلی۔

    تاہم اب فلم کی کہانی بدلی جائے گی یا اس فیصلے کو ہی واپس لے لیا جائے گا اس بمتعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا-

    واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کی مساجد پر دہشت گردی کے حملوں میں 51 نمازی شہید جب کہ 50 زخمی ہوگئی تھےحملوں کے بعد دہشت گرد بیرنٹن ٹیرنٹ کو گرفتار کرکے ان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ چلایا گیا تھا اور اسے اگست 2020 میں مرتے دم تک قید کی سزا سنائی تھی۔

  • تُرک ڈراموں سے ہماری ڈرامہ انڈسٹری بہت بہتر ہوئی ہے    سمیع خان

    تُرک ڈراموں سے ہماری ڈرامہ انڈسٹری بہت بہتر ہوئی ہے سمیع خان

    پاکستانی اداکار سمیع خان نے کہا ہے کہ غیر ملکی ڈراموں سے ہمیشہ ہماری انڈسٹری کو فائدہ ہوالہٰذا ہمیں ان کی نشریات جاری رکھنی چاہیے۔

    باغی ٹی وی :اداکار سمیع خان نے اپنے بھائی تیفور خان کے ہمراہ ایک نجی ٹی وی چینل کے شو میں شرکت کی اور مختلف سوالوں کے دلچسپ جواب دیئے-

    میزبان نے دورانِ شو اداکار سمیع خان سے سوال کیا کہ کیا آپ پاکستان میں تُرک ڈراموں کی نشریات کے خلاف ہیں؟-

    سمیع خان نے میزبان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہاں! اگر ان ڈراموں کو درست طریقے سے امپورٹ نہیں کیا جائے تو میں ضرور اُن کی نشریات کے خلاف ہوں گا۔

    اداکار نے کہا کہ جب ہم باہر سے کوئی گاڑی وغیرہ درآمد کرتے ہیں تو اس بات کا ضرور خیا ل رکھتے ہیں، اس کی درآمد سے مقامی انڈسٹری کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے، اسی طرح غیر ملکی ڈراموں سے ہماری انڈسٹری کو بھی نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔

    سمیع خان نے کہا کہ اگر غیر ملکی ڈراموں سے ہمیشہ ہماری انڈسٹری کو فائدہ ہوا ہے غیر ملکی ڈرامے معیاری ہیں تو اُنہیں لازمی پاکستان میں نشر کیا جائے، اس سے ہماری انڈسٹری کو فائدہ ہوگا۔

    سمیع خان نے ترک ڈراموں کے حوالے سے کہا کہ تُرک ڈراموں سے بھی ہماری ڈرامہ انڈسٹری بہت بہتر ہوئی ہے لہٰذا ہمیں ان کی نشریات جاری رکھنی چاہیے اسلامی فتوحات پر مبنی شہرہ آفاق تُرک سیریز بہترین ڈرامہ ہے۔

    واضح رہے کہ مسلمانوں کی اسلامی فتوحات پر مببی ترک ڈرامہ سیریز ارطغرل غازی کو وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ہدایت پر اردو میں ڈب کر کے سرکاری ٹی وی پر نشر کیا جا رہا ہے ڈرامے کو پاکستان میں بے حد پذیرائی ملی ڈرامے اور کرداروں نے پاکستان میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کی اور کئی ایک اعزا اپنے نام کئے –

    جہاں ڈرامے کو عوام کی جانب سے پسند کیا گیا وہیں شوبز شخصیات بھی منقسم نظر آئیں بعض شوبز شخصیات نے ترک ڈرامہ سیریل کو پسندیدہ اورپاکستان میں خوش آئند قرار دیا جبکہ بعض اداکاروں نے ڈرامےے کو پاکستان بالخصوص پی ٹی وی پر نشر کرنے کی بھر پور مخالفت کی جس کی وجہ سے انہیں شدید تنقید کا بھی سامنا رہا جن میں سر فہرست یاسر حسین اور اداکار شان ہیں-

  • اللہ تعالیٰ مجھے اتنا جذبہ او طاقت دے کہ حجاب کی عزت کرسکوں اور لے سکوں    حمائمہ ملک

    اللہ تعالیٰ مجھے اتنا جذبہ او طاقت دے کہ حجاب کی عزت کرسکوں اور لے سکوں حمائمہ ملک

    پاکستانی اداکارہ حمائمہ ملک نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اتنا جذبہ اور اتنی طاقت دے کہ وہ حجاب کی عزت کرسکیں اور اسے لے سکیں۔

    باغی ٹی وی : دعا ملک اور حمائمہ ملک نے نجی چینل اے آر وائی نیوزمیں وسیم بادامی کے پروگرام ‘ہر لمحہ پرجوش’ میں بطور مہمان شرکت کی اور اپنی زندگی سے متعلق بات چیت کی دوران گفتگوحجاب سے متعلق بھی بات چیت کی-

    وسیم بادامی کے سوال پر دعا ملک نے بتایا کہ انہیں حجاب لیتے ہوئے 2 سال کا عرصہ ہو چکا ہے۔

    حجاب لینے کی وجوہات سے متعلق دعا ملک نے کہا کہ ‘بس آپ کو رہنمائی حاصل ہوجاتی ہے اور پھر ظاہر بھی بدلا اور باطن بھی بدل گیا’۔

    اداکار فیروز خان اور دعا ملک سے متعلق حمائمہ ملک نے کہا کہ دعا اور فیروز خان کو مرشد ملے جنہوں نے اصلاحی تربیت کی اور اب دونوں اسی راہ پر چل رہے ہیں۔

    حمائمہ نے بتایا کہ’ ڈاکٹر جاوید سے ملاقات کے بعد مجھ میں ٹھہراؤ آیا، روحانی طور پر بہت زیادہ تبدیلیاں رونما ہوئیں اور میں نے سورۃ رحمٰن کی رمیڈی بھی کی ساتھ ہی انہوں نے لوگوں کو بھی سورۃ رحمنٰ کی رمیڈی اپلائے کرنے کا مشورہ دیا-

    حمیمہ ملک نے مزید کہا کہ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اتنا جذبہ اور اتنی طاقت دے کہ زندگی کے چند فیصلے کرنے کے بعد ایک مقام پر پہنچوں جہاں میں حجاب کی عزت کرسکوں اور حجاب لے سکوں یعنی وہ لائف اسٹائل اپناسکوں۔

    مذہب کے معامے میں آپ تینوں بہن بھائی خاموش رہیں تو اچھا ہے ،سوشل میڈیا صارفین کی حمیمہ ملک پر تنقید

    یال رہے کہ حمیمہ ملک ماضی میں بھی حجاب لینے کی خواہش کا اظہار کرچکی ہیں رواں برس مارچ میں ایک انسٹاگرام اسٹوری شیئر کرتے ہوئے انہوں نے تحفے میں اسکارف دینے پر نور بخاری کا شکریہ ادا کیا تھا۔

    حمیمہ ملک نے لکھا تھا کہ ‘اس خوبصورت تحفے کا شکریہ، مجھے یہ اسکارف پہننا بہت اچھا لگا، دعا ہے کہ اللہ آپ کو اپنے پیاروں میں شامل کرے اور اللہ مجھے عمر بھر حجاب کرنے کی قوت دے۔

    ان سے قبل مارچ 2020 میں ان کی بہن دعا ملک نے بھی حجاب لینے کا اعلان کیا تھا اداکار فیروز خان نے بھی شوبز چھوڑ کر مذہبی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کا اعلان کیا تھا اور ایک سال سے بھی کم عرصے میں انہوں نے انڈسٹری میں واپسی کا اعلان کیا تھا اور وہ ان دنوں نجی چینل کے ڈرامے ‘خدا اور محبت’ کے تیسرے سیکوئیل میں اداکاری کررہے ہیں۔

    فردوس عاشق اعوان کو سپورٹ کرنے پر حمائمہ ملک شدید تنقید کا نشانہ بن گئیں

  • شہباز شریف ہمیشہ سےہی میرے پسندیدہ سیاستدان ہیں    علی عباس

    شہباز شریف ہمیشہ سےہی میرے پسندیدہ سیاستدان ہیں علی عباس

    پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کے معروف اداکار علی عباس نے کہا ہے کہ اُنہیں سیاستدانوں میں شہباز شریف پسند ہیں-

    باغی ٹی وی : حال ہی میں اداکار علی عباس نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام’جشنَ کرکٹ‘ میں شرکت کی جہاں اُنہوں نے میزبان مختلف سوالات کے جوابات دیئے۔

    دورانِ پروگرام علی عباس نے سیاستدانوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے ہمیشہ سے ہی شہباز شریف بہت پسند ہیں کیونکہ مجھے اُن کا تقاریر کرنے کا انداز بہت پسند ہے۔‘

    اُنہوں نے اپنے تعلیم کے حوالے سے بتایا کہ ’میں نے وکالت کی ڈگری حاصل کی ہے اور اس شعبے میں ایک سال پریکٹس بھی کرچکا ہوں۔‘

    علی عباس نے کہا کہ ’آصف زرداری ایک اسمارٹ سیاستدان ہیں لہٰذا اگر کبھی موقع ملا تو میں ضرور اُن کے حق میں مقدمہ لڑوں گا۔‘

    واضح رہے کہ علی عباس کا اسی انٹرویو میں کہنا تھا کہ مجھے لگتا ہے ہانیہ عامر اور عاصم اظہر دونوں ہی اپنی جگہ پر بالکل درست ہیں۔
    ’میں چونکہ وکالت پڑھ چکا ہوں تو اگر کبھی اللہ تعالیٰ نے مجھے موقع دیا تو میں ہانیہ اور عاصم کے درمیان جاری تنازعے کو ختم کرنے کے لیے اُن کی صلح کروانا پسند کروں گا۔‘

    یاد رہے کہ اداکار علی عباس کئی سُپر ہٹ ڈراموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دِکھا چکے ہیں جن میں ان کے حالیہ ڈرامے فطرت سمیت دیگر شامل ہیں-

    اللہ نے موقع دیا تو ہانیہ اور عاصم اظہر کی صلح کراؤں گا