Baaghi TV

Category: شوبز

  • صبا قمر نے شادی کی پیشکش قبول کر لی

    صبا قمر نے شادی کی پیشکش قبول کر لی

    پاکستان شوبز انڈستری کی معروف اداکارہ و ماڈل صبا قمر نے شادی کی پیشکش قبول کر لی۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پرصبا قمر نے حال ہی میں اپنے کراچی ساحل پر فوٹو شاٹ کی اپنی دلکش تصویر شیئر کی جس میں انہوں نے لکھا کہ ’اگر یہ ہونا ہے تو ہو جائے گا‘۔

    صبا قمر کی پوسٹ پر بلاگر عظیم خان نے ردعمل دیتے ہوئے انہیں شادی کی پیشکش کی لکھا کہ ’آؤ شادی کرلیتے ہیں اس سال؟‘۔

    شادی کی پیشکش پر صبا قمر نے لکھا ’ قبول ہے‘۔ ساتھ ہی اداکارہ نے رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے محبت کا نشان دل وال ایموجی بھی بنا ڈالا۔

    دونوں شخصیات کی جانب سے شادی کی بات چیت اور رضامندی ظاہر کرنے کے بعد مداحوں نے بھی حیرانی کا اظہار کرتے ہوئےاپنی رائے دینا شروع کردی اور لکھا کہ آپ دونوں کی جوڑی بہترین ہے۔

  • پرائیڈ آف پرفارمنس کا تمغہ میری محنت کا میٹھا پھل ہے   ریشم

    پرائیڈ آف پرفارمنس کا تمغہ میری محنت کا میٹھا پھل ہے ریشم

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی ورسٹائل اور سینیئر اداکارہ ریشم نے تمغۂ حُسن کارکردگی سے نوازے جانے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تمغہ میری محنت کا میٹھا پھل ہے۔

    باغی ٹی وی :اداکارہ ریشم نے فوٹو و ویڈیو شئیرنگ ایپ انسٹاگرام پر صدرِ مملکت سے ایوارڈ وصول کرتے ہوئے تصاویر شیئر کیں اور خوشی کا اظہار کیا۔

    انہوں نے لکھا کہ ’زندگی کا یہ لمحہ ایک خواب سا لگ رہا ہے، لیکن اس خواب کوسچ کیا میرے خدا نے –

    ریشم نے لکھا کہ یہ پرائیڈ آف پرفارمنس کا تمغہ نہیں بلکہ میری محنت کا وہ میٹھا پھل ہے کہ جسے میرے رب نے مجھے چکھنا نصیب کیا۔

    واضح رہے کہ ایوان صدر اور چاروں صوبوں کے گورنر ہاوسز میں اعزازات کی تقسیم کے لیے تقاریب منعقد کی گئیں جن میں صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی اور صوبائی گورنروں نے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات پر گزشتہ سال نامزد ہونے والی شخصیات کو اعزازات سے نوازا جن میں ادکاروں، فن کاروں اور فن و ادب س تعلق رکھنے والوں کی نمایاں تعداد شامل ہے۔

    ان تقاریب میں 23 شخصیات کو ستارہ شجاعت، 8 کو ستارہ امتیاز، 21 کو تمغہ شجاعت، 8 کے لیے تمغہ امتیاز، 6 کو نشان امتیاز، 3 کو ہلال امتیاز، ایک کے لیے ہلال قائد اعظم، ایک کو ستارہ پاکستان، 6 کو ستارہ قائد اعظم، ایک کو تمغہ پاکستان، ایک کو تمغہ قائد اعظم جبکہ 14 شخصیات کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔

    ہمایوں سعید،علی ظفر اورعابدہ پروین سمیت 88 شخصیات کے لئے قومی اعزازات

  • ہمایوں سعید،علی ظفر اورعابدہ پروین سمیت 88 شخصیات کے لئے قومی اعزازات

    ہمایوں سعید،علی ظفر اورعابدہ پروین سمیت 88 شخصیات کے لئے قومی اعزازات

    حسب روایت ہرسال کی طرح اس بار بھی یومِ پاکستان کے موقعے پر فن و ادب اور شوبز سے تعلق رکھنے والی 88 شخصیات کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اورگورنرسندھ عمران اسماعیل نے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دینے پر 23 مارچ (یوم پاکستان) کو سول ایوارڈز سے نواز دیا۔

    باغی ٹی وی :ایوان صدر اور چاروں صوبوں کے گورنر ہاوسز میں اعزازات کی تقسیم کے لیے تقاریب منعقد کی گئیں جن میں صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی اور صوبائی گورنروں نے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات پر گزشتہ سال نامزد ہونے والی شخصیات کو اعزازات سے نوازا جن میں ادکاروں، فن کاروں اور فن و ادب س تعلق رکھنے والوں کی نمایاں تعداد شامل ہے۔

    ان تقاریب میں 23 شخصیات کو ستارہ شجاعت، 8 کو ستارہ امتیاز، 21 کو تمغہ شجاعت، 8 کے لیے تمغہ امتیاز، 6 کو نشان امتیاز، 3 کو ہلال امتیاز، ایک کے لیے ہلال قائد اعظم، ایک کو ستارہ پاکستان، 6 کو ستارہ قائد اعظم، ایک کو تمغہ پاکستان، ایک کو تمغہ قائد اعظم جبکہ 14 شخصیات کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔

    تمغہ برائے حسن کارکردگی حاصل کرنے والے فن کاروں میں اداکار ہمایوں سعید، اداکارہ ریشم، گلوکار علی ظفر،گلو کار محمد علی شہکی، اداکارہ صائمہ شاہ المعرف ریشم، ، اداکارہ سکینہ سموں، گلوکارہ ثریا خان (مہ جبین قزلباش) ، گلوکار کرشن ، نعت خواں اور صوفی گلوکارہ حنا نصراللہ ، روتھ وینی لیکارڈل (سویڈن)خدماتِ پاکستان، پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل تعلیم، نعمت سرحدی(فلمی اداکاری)، ڈائریکٹر رائٹرسرمد صہبائی،کوریوگرافر اندہ مریم مٹھا، اسکواش پلئیرفرحان محبوب،، مذہبی اسکالرمولانا طارق جمیل ، عبدالماجد قریشی رفا عامہ اور محمد فہیم کے نام شامل ہیں۔

    معروف شاعر احمد فراز اورعظیم صوفی گلوکارہ عابدہ پروین ،شہرہ آفاق مصور اور خطاط صادقین نقو، معروف مصور پروفیسر شاکر علی، مصور اور مجسمہ ساز مرحوم ظہورالحق اور ممتاز ادیب جمیل جالبی کو نشان امتیازسے نوازا گیا۔

    فن کے شعبے میں ستارہ امتیاز حاصل کرنے والوں میں اداکارہ بشریٰ انصاری، اداکار طلعت حسین، مصور محمد عمران قریشی، سلطانہ صدیقی اور کارٹونسٹ فاروق قیصر عرف انکل سرگم ،پروفیسر ڈاکٹر فرحان سیف تعلیم، پیر سید لخت حسنین خدماتِ عامہ، بریگیڈیئر رانا عرفان شکیل رامے خدماتِ عامہ ، لیفٹینینٹ کرنل فاروق شہبازخدماتِ عامہ کے نام شامل ہیں۔ جب کہ زیبا شہناز اور اداکارعبدالماجد جہانگیر نے تمغہ امتیاز حاصل کیا۔

    ڈاکٹر طارق شفیع (مرحوم) (برطانیہ) پاکستان کیلئے خدمات پرستارہ قائداعظم سے نوازا گیا-، رچرڈ گیری ہاورٹز (امریکا) کو پاکستان کی کیلئے خدمات ستارہ خدمت جبکہ جین ٹیلر (ڈنمارک) کوپاکستان کی خدمات کیلئے تمغہ پاکستان سے نوازا گیا-

    پروفیسر ڈاکٹر انوارالحسن گیلانی (فارماسوٹیکل) ،ڈاکٹر آصف محمود جاہ خدمات عامہ ،سیدجاوید انورخدماتِ پاکستان کے عوض ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا-

    جبکہ ستارہ شجاعت جواد قمر ،صفیہ (شہید) ،ملک حیات اللہ(شہید) ،ملک سردار خان(شہید) ،حیات اللہ خان، ملک محمد نیاز خان (شہید)، سپاہی اختر خان (شہید)، محمد نوید صادق ،مہر محمد یاسر منظور (شہید)، شفقت اللہ ملک ،پروفیسر ڈاکٹر مصطفیٰ کمال پاشا (شہید)، پروفیسر، حافظ مقصود احمد (شہید)، ڈاکٹر بشیر احمد (شہید)، ڈاکٹر خالد مسعود قیصرانی (شہید)، ڈاکٹر محمد آصف (شہید)، ڈاکٹر شفقت اللہ (شہید)، ڈاکٹر یونس چنہ (شہید)، ڈاکٹر ولایت علی گوپانگ (شہید)، پروفیسر ڈاکٹر محمد جاوید (شہید)، ڈاکٹر منیر خان (شہید)، ڈاکٹر اسامہ، ریاض (شہید)، ملک اشدر (شہید)، ڈاکٹر محمد اخلاق (شہید) کو نوازا گیا-

    تمغہ شجاعت حاصل کرنے والوں میں فدا حسین، علی آفتاب تارڑ ،سید شہزاد حسان، ہارون رشید خان، فخرالدین، میاں خان، لیفٹیننٹ کرنل، محمد فہیم رضا خان، ملک وسید خان، مولوی گل داد خان، ملک اسلم نور خان، محمد رفیع (شہید)، داؤد خان (شہید)، عالم زیب (شہید)، اللہ رکھا (مرحوم)، شکیلہ ناز (شہید)، گُنچا سرتاج (شہید)، اعتزاز احمد گورایا (شہید)، ساجد خان مہمند (شہید)، ایس آئی پی شاہد علی (شہید)، افتخار واحد(شہید)، خدا یار (شہید) اورحسان علی (شہید) شامل ہیں-

    تمغہ امتیاز حاسل کرنے والی شخصیات میں محمد طاہر جاوید، اداکارہ زیبا شہناز ، مصنف حمیداللہ ہاشمی، سماجی کارکن فیصل ایدھی سیدعامر محمود ،کیپٹن (ر) محمد الیاس ،محمد عمر سعید اور فرید احمد خان شامل ہیں-

  • بھارت میں لاک ڈاؤن میں کے دوران مزدوروں کو پیش آنے والی مشکلات پر مبنی دستاویزی فلم

    بھارت میں لاک ڈاؤن میں کے دوران مزدوروں کو پیش آنے والی مشکلات پر مبنی دستاویزی فلم

    بھارتی ہدایت کار ونود کپری نے گزشتہ برس 2020 میں بھارت میں نافذ ہونے والے سخت لاک ڈاؤن کے دوران پیش آنے والی مشکلات پر دستاویزی فلم بنائی ہے۔

    باغی ٹی وی :برطانوی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق ہدایت کار ونود کپری نے گزشتہ برس اپریل میں فلم ‘1232 کلومیٹرز’ کی شوٹنگ کی تھی۔

    یہ فلم، شہروں میں نوکریوں سے فارغ ہونے کے بعد گاؤں میں اپنے گھر جانے والے 7 افراد پر مشتمل ہے، جو ان کی مشکلات، امتیازی سلوک اور ایک ہفتہ طویل سفر کے دوران پیش آنے والے حالات پر مبنی ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ برس مارچ سے جون کے دوران بھارت میں نافذ ہونے والے سخت لاک ڈاؤن سے 10 کروڑ مزدور متاثر ہوئے تھے جو بے روزگاری کے باعث شہروں سے گاؤں واپسی پر مجبور ہوئے تھے۔

    کئی مزدوروں نے شہروں سے گھر تک کا سفر پیدل طے کیا تھا ان کی مشکلات کو ٹی وی پر براہ راست دکھایا گیا تھا جس سے ان کی مدد کی کوششیں تیز ہوگئی تھیں۔

    فلم میں شامل اشیش کمار نے کہا کہ نئی دہلی کے قریب غازی آباد سے مشرقی ریاست بہار میں واقع 1232 کلومیٹر (765 میل) تک کا سفر ناممکن لگ رہا تھا۔

    اشیش کمار نے تھامسن رائٹرز فاؤنڈیشن کو بتایا کہ ‘میں نے جب فلم دیکھی تو ہنسا اور رویا بھی، یہ فلم دیکھ کر میری لاک ڈاؤن کے ان دنوں کی وہ تمام یادیں تازہ ہوگئیں جب کھانا ملنا، مدد اور گھر واپسی تک کا سفر مشکل ہوگیا تھا لیکن مجھے ایک ہیرو کی طرح بھی محسوس ہوا جس نے کچھ حاصل کرلیا تھا اور اس نے مجھے مسکرانے پر مجبور کردیا-

    ہدایت کار ونود کپری نے کہا کہ وہ مہاجر مزدوروں کی مدد کے دوران ان 7 افراد سے ملے اور ان کے سفر کی ریکارڈنگ کا فیصلہ کیا جب وہ 7 افراد گھر واپسی کا سفر کررہے تھے تو انہوں نے گاڑی کے ذریعے ان کا پیچھا کیا اور ریکارڈنگ کی۔

    فلم میں مزدوروں کو گنگا سے گزرتے ہوئے اور ان میں سے ایک کو رات کو سائیکل چلاتے ہوئے تھکن سے بے ہوش ہوتے دکھایا گیا ہے ایک اور منظر میں رشتے داروں کو واپسی کی یقین دہانی کرتے ہوئے فون کالز کرتے بھی دکھایا گیا ہے۔

    ونود کپری نے کہا کہ میں جانتا تھا کہ تاریخ رقم ہورہی ہے اور فلمبندی کے دوان کچھ لمحات انتہائی دلخراش تھے ان مہاجرین کو اکثر ‘وائرس کیریئرز’ کے طور پر دیکھا جاتا اور ان کی مدد سے انکار کیا جاتا۔

    ونود کپری نے کہا کہ سفر کے دوران انہیں کچھ مہربان لوگ بھی ملے، جیسے ایک ٹرک ڈرائیور بھی ملا جو انہیں لفٹ دینے کو تیار ہوگیا تھا راستے میں ایسے ڈھابے بھی آئے جو ان مزدوروں کو مفت میں کھانا دے دیتے۔

    مزدور اشیش کمار اس دستاویزی فلم میں کہتے ہیں کہ ’اگر ہمیں مرنا ہی ہے، تو سڑک پر مریں گے ان کا خاندان گاؤں واپس جانے کے فیصلے کے خلاف تھا، لیکن وہ ان حالات میں شہر کے بجائے اپنے گاؤں میں خود کو زیادہ محفوظ سمجھتے تھے۔

    یہ فلم ‘1232 کلومیٹر’ اسٹرینمگ سروس ڈزنی پلس ہاٹ اسٹار پر 24 مارچ کو ریلیز ہوگی۔

  • روبینہ اشرف کی بیٹی اور اداکارہ منیٰ طارق کا رشتہ پکا ہو گیا

    روبینہ اشرف کی بیٹی اور اداکارہ منیٰ طارق کا رشتہ پکا ہو گیا

    پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کی سینئر اداکارہ و ہدایت کارہ روبینہ اشرف نے اپنی بیٹی اور اداکارہ منیٰ طارق کا رشتہ طے کردیا۔

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اداکارہ روبینہ اشرف اور ان کے شوہر طارق مرزا سے متعلق خبریں سرگرم ہیں کہ انہوں نے اپنی صاحبزادی اداکار ہ منیٰ طارق کا رشتہ عمران شیخ سے طے کیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق روبینہ اشرف نے بیٹی کی بات پکی کرنے کی اطلاع مداحوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے دی جس کے بعد ادکارہ اور ان کے والدین کو مبارکبادیں دی جارہی ہیں۔

    تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ اداکارہ منیٰ طارق کے ہونے والے شوہر کا تعلق کس پیشے سے ہے اور وہ پاکستان میں ہیں یا بیرون ملک مقیم ہیں۔

  • مومل نے لاک ڈاؤن کے دوران اتنے پیسے کمائے جتنے کوئی سال بھر میں نہیں کماسکتا   شہزاد شیخ

    مومل نے لاک ڈاؤن کے دوران اتنے پیسے کمائے جتنے کوئی سال بھر میں نہیں کماسکتا شہزاد شیخ

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے نامور ڈائریکٹر اور سینئیر اداکار جاوید شیخ کے بیٹے اور اداکار شہزاد شیخ نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی بہن اور اداکارہ مومل شیخ نے لاک ڈاؤن کے دوران سال بھر کی کمائی ایک ساتھ کرلی۔

    باغی ٹی وی : اداکارشہزاد شیخ اپنی بہن مومل شیخ کے ہمراہ نجی ٹی وی شو میں شریک ہوئے اور مومل شیخ کے انسٹاگرام بزنس کے بارے میں بتایا۔

    شہزاد شیخ نے بتایا کہ گزشتہ برس کورونا لاک ڈاؤن کے دوران وہ پورا سال گھر میں بیٹھے رہے لیکن مومل نے اسی دوران اتنے پیسے کمائے جتنے کوئی سال بھر میں نہیں کماسکتا۔

    شہزاد نے مزید بتایا کہ لاک ڈاؤن کے دوران کبھی مومل انسٹاگرام پر ڈائپر بیچ رہی تھیں تو کبھی دودھ بیچ رہی تھیں، یوں سمجھ لیں کہ یہ لڑکی پورا سال پیسے کمانے میں لگی رہی۔

    شہزاد شیخ کا کہنا تھا کہ مومل نے اس دوران اپنے بیٹے کو بھی ساتھ ملالیا تھا اور وہ بھی ان کی بنائی ہوئی ویڈیوز میں شامل ہوا کرتا تھا اور مومل بیٹے کے پیسے اور بھی زیادہ لیا کرتی تھیں۔

    واضح رہے کہ مومل شیخ انسٹاگرام آئی ڈی پر لاک ڈاؤن کے دوران بھی مختلف اشتہارات کی ویڈیوز شیئر کرتی رہی ہیں۔

    سائرہ شہروز کی علیحدگی اور صدف سے شادی پر سے متعلق شہزاد اور مومل شیخ کی رائے

  • خطہ عرب کی تاریخی اہمیت پر بنائی جانے والی دستاویزی فلم ’دی آرکیٹیکٹ آف اینشنٹ عریبیہ‘

    خطہ عرب کی تاریخی اہمیت پر بنائی جانے والی دستاویزی فلم ’دی آرکیٹیکٹ آف اینشنٹ عریبیہ‘

    معروف ٹیلی ویژن چینل ڈسکوری چینل اور دی رائل کمیشن آف العلا نے باہمی معاونت سے خطہ عرب کی تاریخی اہمیت پردستاویزی فلم ’دی آرکیٹیکٹ آف اینشنٹ عریبیہ‘ بنائی ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق دستاویزی فلم ’دی آرکیٹیکٹ آف اینشنٹ عریبیہ‘ میں سعودی عرب کے ساب سے قدیم شہر العلا کی تاریخ پر تحقیق کی گئی ہے اس تحقیق کو پس منظر میں بیان کرنے کے لیے اکیڈمی ایوارڈ، گولڈن گلوب ایوارڈ اور ایمی ایوارڈ سمیت کئی بین الااقوامی ایوارڈز حاصل کرنے والے جیرمی آئرنز کو چنا گیا ہے۔ دستاویزی فلم میں سعودی ماہرین آثار قدیمہ اور تاریخ دانوں کے اس علاقے سے متعلق نئے تاریخی رازوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جو اس سے قبل منظر عام پر نہیں آئے تھے۔

    ڈاکومینٹری کے دوران علاقے میں ہزاروں مقامات کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ریکارڈ بھی کیا گیا تاکہ انسانی تاریخ کے مختلف ٹکڑوں کو جوڑتے ہوئے انسانی تہذیب کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا جا سکے۔

    قدیم سعودی شہر العلا
    ڈاکومینٹری ڈسکوری چینل اور دی رائل کمیشن آف العلا کی باہمی معاونت سے بنائی گئی ہے۔

    رائل کمیشن آف العلا کی ڈائریکٹر ربیکا فوٹی کا کہنا ہے کہ ’ہم حیجرہ جیسے اہم مقامات کے حوالے سے معلومات رکھتے ہیں لیکن مجھے امید ہے کہ اس ٹیم کی ڈاکومینٹری ہمیں ان قبل از تاریخ چیزوں سے آگاہ کرے گی جو ہم نہیں جانتے جب معاشرے زیادہ پیچیدہ ہو رہے ہیں۔

    ’دی آرکیٹیکٹ آف اینشنٹ عریبیہ‘ نامی یہ ڈاکومینٹری مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب کے وقت کے مطابق 31 مارچ کو رات نو بجے دکھائی جائے گی۔

    خیال رہے کہ سعودی عرب کے شمال مغربی شہر مدینہ کے علاقے میں واقع العلا شہر کبھی لوبان کی تجارت کے وسیع راستے پر ایک اہم مرکز ہوا کرتا تھا یہ راستہ بحیرہ روم سے بھارت اور شمالی افریقہ تک پھیلا ہوا تھا۔ اب اس کی آبادی پانچ ہزار سے کچھ زیادہ نہیں لیکن سعودی عرب اسے ثقافت و سیاحت کے اعتبار سے اہم مقام کے طور پر دیکھتا ہے۔

  • کیا انسانی تہذیب میں پتھروں سے تعمیر ہونے والی پہلی عمارت سعودی عرب کے قدیم شہر العلا میں کی گئی؟

    کیا انسانی تہذیب میں پتھروں سے تعمیر ہونے والی پہلی عمارت سعودی عرب کے قدیم شہر العلا میں کی گئی؟

    معروف ٹی وی ڈسکوری چینل کی جانب سے کی جانے والی اہم تحقیقی سرگرمیوں نے سعودی شہر العلا کی طویل تاریخ کے رازوں کو منکشف کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے انڈیپینڈنٹ اردو کی رپورٹ کے مطابق انسانی تاریخ و ترقی پر تحقیق کے حوالے سے معروف ٹیلی ویژن چینل ڈسکوری کے مطابق انسانی تہذیب میں پتھروں سے تعمیر ہونے والی پہلی عمارت سعودی عرب کے قدیم شہر العلا میں کی گئی۔

    چینل کی ماہرین تاریخ پر مشتمل ٹیم نے خطہ عرب کی تاریخی اہمیت پر بنائی جانے والی دستاویزی فلم ’دی آرکیٹیکٹ آف اینشنٹ عریبیہ‘ میں اس بات کا انکشاف کیا-

    اس تحقیق کو پس منظر میں بیان کرنے کے لیے اکیڈمی ایوارڈ، گولڈن گلوب ایوارڈ اور ایمی ایوارڈ سمیت کئی بین الااقوامی ایوارڈز حاصل کرنے والے جیرمی آئرنز کو چنا گیا ہے۔

    دستاویزی فلم میں سعودی ماہرین آثار قدیمہ اور تاریخ دانوں کے اس علاقے سے متعلق نئے تاریخی رازوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جو اس سے قبل منظر عام پر نہیں آئے تھے یہ ڈاکومینٹری ڈسکوری چینل اور دی رائل کمیشن آف العلا کی باہمی معاونت سے بنائی گئی ہے۔

    ڈاکومینٹری کے دوران علاقے میں ہزاروں مقامات کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ریکارڈ بھی کیا گیا تاکہ انسانی تاریخ کے مختلف ٹکڑوں کو جوڑتے ہوئے انسانی تہذیب کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا جا سکے۔

    فائل فوٹو اے ایف پی
    خیال رہے کہ العلا سعودی عرب کے شمال مغربی علاقے میں ایک وسیع نخلستان ہے۔ یہ خطہ تین ہزار سال پرانی تہذیبوں کے دوران اس خطے کا ایک سفری اور رہائشی مرکز رہا ہےحالیہ تاریخ میں کی جانے والی اہم تحقیقی سرگرمیوں نے العلا کی طویل تاریخ کے رازوں کو منکشف کیا ہے۔

    عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق ڈاکومینٹری کے ایڈیٹر اور ایگزیکٹیو پروڈیوسر رابرٹ کیروان کا کہنا ہے کہ ’العلا میں عکس بندی کے لیے گزارا جانے والا وقت زندگی تبدیل کر دینے والا تھا۔ ایسا صرف میرے لیے نہیں بلکہ پورے عملے کے لیے تھا۔ میں نے اتنا خوبصورت علاقہ پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

    اس علاقے میں موجود پتھر سے تیار کردہ ہزاروں تعمیرات کو ہزاروں سال سے چھوا نہیں گیا ہم قدیم تاریخ کے بھوتوں کے درمیان گھوم رہے تھے اور محسوس کر رہے تھے کہ وہ اپنی کہانی سنانا چاہتے ہیں۔

    رائل کمیشن آف العلا کی ڈائریکٹر ربیکا فوٹی کا کہنا ہے کہ ہم حیجرہ جیسے اہم مقامات کے حوالے سے معلومات رکھتے ہیں لیکن مجھے امید ہے کہ اس ٹیم کی ڈاکومینٹری ہمیں ان قبل از تاریخ چیزوں سے آگاہ کرے گی جو ہم نہیں جانتے جب معاشرے زیادہ پیچیدہ ہو رہے ہیں۔

    ماہرین آثار قدیمہ نے اس خوبصورت علاقے سے متعلق رازوں سے پردہ اٹھانا شروع کر دیا ہے یہاں جاننے کو بہت کچھ ہے اور ہم پرجوش ہیں کہ ہم اس ڈاکومینٹری کے ذریعے دنیا کو اپنے کام سے آگاہ کر سکیں گے۔

    ’دی آرکیٹیکٹ آف اینشنٹ عریبیہ‘ نامی یہ ڈاکومینٹری مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب کے وقت کے مطابق 31 مارچ کو رات نو بجے دکھائی جائے گی۔

    واضح رہے کہ سعودی عرب کے شمال مغربی شہر مدینہ کے علاقے میں واقع العلا شہر کبھی لوبان کی تجارت کے وسیع راستے پر ایک اہم مرکز ہوا کرتا تھا یہ راستہ بحیرہ روم سے بھارت اور شمالی افریقہ تک پھیلا ہوا تھا۔ اب اس کی آبادی پانچ ہزار سے کچھ زیادہ نہیں لیکن سعودی عرب اسے ثقافت و سیاحت کے اعتبار سے اہم مقام کے طور پر دیکھتا ہے۔

    سعودی حکومت نے اس مقام اور اس کے دیواروں میں بند تاریخی شہر کو دنیا کے سب سے بڑے ایسے عجائب گھر میں تبدیل کرنے کے منصوبے تیار کیے ہیں جہاں ماضی کی جھلک دکھائی جائے گی سعودی حکومت کو امید ہے کہ اس علاقے کو دیکھنے کے لیے سالانہ لاکھوں لوگ آئیں گے۔

  • پرتگالی حملوں کو روکنے والے مسلمان امیر البحرپر مبنی فیچر فلم نے بھارت کا قومی ایوارڈ اپنے نام کر لیا

    پرتگالی حملوں کو روکنے والے مسلمان امیر البحرپر مبنی فیچر فلم نے بھارت کا قومی ایوارڈ اپنے نام کر لیا

    دنیا بھر میں پھیلنے والی کورونا وبا کی وجہ سے بھارت کے 67ویں نیشنل ایوارڈز کی تقریب منعقد نہیں ہوسکی تھی جو بھارتی وزارت اطلاعات کی جانب سے گزشتہ روز منعقد کی گئی اور اس میں بہترین فنکاروں سمیت بہترین فلمز کے ایوارڈز بھی دیئے گئے۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی خبر رساں ادارے بی بی سی اردو نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے اس مرتبہ بہترین فیچر فلم کا ایوارڈ ملیالی زبان کی فلم ‘مرکڑ: دی لائن آف عربین سی’ کو ملا ہے۔

    یہ فلم 16 ویں صدی میں انڈین ساحلی شہر کیلیکٹ (موجودہ دور کے کوژیکوڈ، کیرالہ) پر پرتگالیوں کے حملے کے خلاف وہاں کے مسلمان امیر البحر محمد علی، کنجلی مرکڑ چہارم کے بارے میں ہے۔

    یہ جنوبی انڈیا کی سب سے اہم تجارتی بندرگاہوں میں سے تھی اور یہاں کے تحفظ کے لیے بحری فوجوں نے اہم کردار ادا کیا۔

    پرتگالیوں کو اس ایک صدی طویل جنگ میں بالآخر 1600 میں کامیابی حاصل ہوئی مگر اس دوران چار کنجلی مرکڑوں نے اتنے عرصے تک کامیابی سے اس جگہ کا دفاع کیے رکھا۔

    واضح رپے کہ یہ فلم معروف فلم ساز پریادرشن نے لکھی ہے اور اُنھوں نے ہی ہدایتکاری بھی کی ہے بالی وڈ سٹار سنیل شیٹی بھی اس فلم میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

    اس فلم کو ویسے تو مارچ 2020 میں ریلیز ہونا تھا تاہم کوویڈ 19 کے باعث اس کی ریلیز تاخیر کی شکار ہوئی اور اب یہ 13 مئی 2021 کو نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔

    کنگنا رناوت نے بہترین اداکارہ کا قومی ایوارڈ اپنے نام کر لیا

  • لوگ جن باتوں کو چھپاتے ہیں میں وہ بولتی ہوں   متھیرا

    لوگ جن باتوں کو چھپاتے ہیں میں وہ بولتی ہوں متھیرا

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی متنازع اداکارہ و ہوسٹ متھیرا کا کہنا ہے کہ عورت اور مرد ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں، کوئی ایک دوسرے سے برتر نہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی ویب سائٹ انڈیپینڈنٹ اردو کو دیئے گئے انٹرویو میں اداکارہ متھیرا کا کہنا تھا کہ فیمنزم اچھی چیز ہے، عورت مارچ تو ٹھیک ہے لیکن اس مارچ کے دوران پلے کارڈز میں جو باتیں لکھی ہوتی ہیں ان میں سے کچھ ٹھیک نہیں ہوتیں عورت مارچ کے بعض بینرز ضرورت سے زیادہ ہوتے ہیں۔

    متھیرا نے کہا کہ عورت اور مرد ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں کوئی ایک دوسرے سے برتر نہیں۔

    ہمیشہ تنازعات میں گھرے رہنے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر متھیرا نے کہا کہ میں سچی باتیں کرتی ہوں، میں وہ سچ بولتی ہوں جو دوسرے نہیں بولتے، لوگ جن باتوں کو چھپاتے ہیں میں وہ بولتی ہوں۔ لوگ اب باتوں کو چھپاتے ہیں اور جب یہ باتیں سامنے آتی ہیں تو انہیں ہضم کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

    متھیرا کا کہنا تھا کہ کیرئیر کے دوران امتحان آتے رہے ہیں اور مختلف معاملات شہرت کی وجوہات بنتے ہیں، انسان کو جب شہرت ملتی ہے تو اسے پتہ بھی نہیں چلتا اور اگر نہیں ملنی ہوتی تو ایڑی چوٹی کا زور لگالیں نہیں ملے گی۔

    کم کارڈیشیئن بننے کی کوشش کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ بھی ایک عورت ہیں اور کم کارڈیشیئن کو پسند کرتی ہیں مگر اس کی نقل نہیں کرتیں۔ متھیرا کا کہنا ہے کہ شہرت اچانک ملتی ہے، یہ کوشش سے نہیں ملتی۔

    انہوں نے کہا کہ وہ ہرگز پاکستان کی سیکس سمبل نہیں بننا چاہتیں ’ہر شخص مجھے ایک ہی نظر سے دیکھتا ہے، اب اگر لوگوں نے مجھے سیکس سے جوڑ دیا ہے تو اس میں میرا کیا قصور۔‘

    ’مجھے کبھی اس لیے ڈر نہیں لگا کیونکہ میں نے کسی کے پیسے نہیں کھائے۔ میں ملنگ عورت ہوں، میری دنیا ہی الگ ہے اور مجھے آگ سے کھیلنے کا شوق نہیں۔

    متھیرا نے کہا کہ کسی کو چھوٹے کپڑے پہننے پر دھمکیاں نہیں ملتیں پاکستان پرانے خیالات کا ملک ضرور ہے مگر ایسا بھی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی نظریے پر کام نہیں کرتیں، فلسفہ صرف کتابوں میں اچھا لگتا ہے۔

    پاکستان چھوڑنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس ملک میں انہوں نے شہرت اور پیسہ کمایا بلکہ پاکستان کے جو اداکار بھارت گئے انہیں اتنی عزت نہیں ملی، اس ملک نے انہیں بہت کچھ دیا ہے اس لیے وہ یہیں رہنا چاہتی ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ بغاوت نہیں کرتیں، ان کے جیسے کپڑے بہت سی اداکارائیں پہنتی ہیں، کپڑوں سے بغاوت نہیں ہوتی۔

    مذہبی معاملات پر ان کہنا تھا کہ یہ ان کا نجی معاملہ ہے اور وہ اسے نجی زندگی تک محدود رکھنا چاہتی ہیں۔ ’لوگوں کو پارسا بننے کا شوق چھوڑ دینا چاہیے، جو ہیں، ویسے رہیں۔ میں کسی پر رائے زنی نہیں کرتی تو مجھ پر کیوں کی جاتی ہے۔‘

    فلموں میں مزید کام کرنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اکثر وقت پر پیسے نہیں ملتے اس لیے وہ کم کام کرتی ہیں۔

    میری جسامت پر طعنے دینے کے بجائے لوگ اپنی ذات اور اپنے مسائل پر فوکس رکھیں متھیرا