سندھ :مون سون کے دوران طلبہ کو ممکنہ حادثات سے محفوظ رکھنے کیلئے 6 ہزار 220 مخدوش سکولوں میں تدریسی سرگرمیاں روکنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق مون سون کا موسم خستہ حال اور خطرناک عمارتوں کیلئے انتہائی حساس ہے، جس کے باعث صوبے میں ہزاروں سکولوں کی عمارتوں کو مخدوش قرار دے کر وہاں تعلیمی عمل معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
محکمہ تعلیم سندھ کے مطابق متاثرہ سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کو قریبی متبادل سکولوں میں منتقل کیا جائے گا تاکہ بارشوں کے دوران کسی بھی ممکنہ حادثے سے انہیں محفوظ رکھا جاسکے۔
محکمہ تعلیم نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ مخدوش سکولوں کے قریب مناسب متبادل تعلیمی اداروں کی نشاندہی کرکے طلبہ کو وہاں منتقل کرنے کے انتظامات کیے جائیں۔
رپورٹس کے مطابق مخدوش سکولوں کی تعداد بدین، میرپورخاص اور تھرپارکر اضلاع میں سب سے زیادہ ہے۔
محکمہ تعلیم کے اس فیصلے کے باعث صوبے بھر میں ہزاروں طلبہ کے اپنی ہی سکول عمارتوں میں تعلیم جاری رکھنے کا سلسلہ متاثر ہوگا۔ تاہم حکام کی جانب سے تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ سکولوں کی مرمت کا کام کب شروع ہوگا، اسے مکمل ہونے میں کتنا وقت لگے گا اور طلبہ اپنے اصل سکولوں میں کب واپس جا سکیں گے۔
