Baaghi TV

Category: سندھ

  • ہم نے 9 لاکھ کیوسک ریلے کے حساب سے تیاری کر رکھی ہے،مراد علی شاہ

    ہم نے 9 لاکھ کیوسک ریلے کے حساب سے تیاری کر رکھی ہے،مراد علی شاہ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہم نے 9 لاکھ کیوسک ریلے کے حساب سے تیاری کر رکھی ہے، ابھی سے ہم نے لوگوں کو ممکنہ متاثرہ علاقوں سے نکالنے کی حکمت عملی پر عمل شروع کر دیا ہے، یہی تیاری بطور انسان ہم کر سکتے ہیں۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ ہمیں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سندھ میں 8 سے 11 لاکھ کیوسک پانی کی آمد متوقع ہے، 9 لاکھ کیوسک کا ریلا ہو تو ہم اسے ’سپر فلڈ‘ کے طور پر دیکھتے اور تیاری کرتے ہیں،ہم نے گڈو، سکھر اور کوٹری بیراج اور بندوں کو محفوظ رکھنا ہے، 2010 کے سیلاب کے بعد ہم نے بندوں پر کافی کام کیا ہے، ساڑھے 5 لاکھ کیوسک پانی ہم ایک ہفتہ قبل گڈو بیراج سے گزار چکے ہیں، اس دوران کوئی ہنگامی صورت حال پیش نہیں آئی، تاہم ہم نے مسلسل مانیٹرنگ جاری رکھی ہے۔

    وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ محکمہ آبپاشی کے حکام پراعتماد ہیں کہ اپ اسٹریم سے آنے والا پانی بیراجوں سے گزار لیں گے، تاہم دریا کے کنارے حفاظتی بندوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے جس سے مسائل آسکتے ہیں، محکمہ آبپاشی تعین کرتا ہے کہ کن مقامات پر بندوں کو مسائل درپیش ہیں،ایسے کمزور مقامات پر پتھر اور مٹی ڈال کر اسے مضبوط بنانے کی کوشش کی جاسکتی ہے، گزشتہ روز میں نے گڈو اور سکھر بیراج کا دورہ کیا تھا، اس دوران کمزور بندوں کا معائنہ کیا، کمزور بند ڈھائی سے 3 لاکھ کیوسک ریلے کے دوران ٹوٹ جاتے تھے، لیکن اس بار 5 لاکھ 50 ہزار کیوسک پانی گزارنے کے بعد بھی یہ بند سلامت ہیں۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان سے پاکستان میں یونیسف کی کنٹری ریپریزنٹیٹو کی ملاقات

    انہوں نے کہا کہ ہمارے سامنے سب سے بڑا چیلنج لوگوں اور مویشیوں کو بچانے کا ہے، ہم نے 9 لاکھ کیوسک ریلے کے حساب سے تیاری کر رکھی ہے، ابھی سے ہم نے لوگوں کو ممکنہ متاثرہ علاقوں سے نکالنے کی حکمت عملی پر عمل شروع کر دیا ہے، یہی تیاری بطور انسان ہم کر سکتے ہیں، ہماری جانب سے مدد مانگنے پر پاک فوج نے اپنے 2 یونٹس کو تعینات کیا ہے، پاکستان نیوی نے بھی اپنی ٹیمیں بھیج دی ہیں، کل میری واپسی کے بعد ایک چینل نے خبر چلائی کہ وزیر اعلیٰ کے جانے کے بعد کیمپ ہٹا دیا گیا، حالانکہ وہ کیمپ صرف بریفنگ دینے کے لیے لگایا گیا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ گھوٹکی میں کراچی سے زیادہ صحافی ہیں، جب میں دورہ کرنے کے لیے گیا تو وہاں صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی، اس کی گواہی شرجیل میمن بھی دیں گے، ہم نے ایک ویڈیو بنائی ہے جس میں کیمپ لگا ہوا ہے، جہاں ڈاکٹرز مریضوں کا معائنہ کر رہے ہیں، دوسری جانب ایک چینل پر خبر چلائی جارہی ہے کہ وزیر اعلیٰ کے جانے کے بعد کیمپ ہٹا دیا گیا، لیکن وہ ویڈیو میں نہیں دکھاؤں گا۔

    صنعا اور الحدیدہ میں اقوام متحدہ کے دفاتر پر چھاپہ،11 یو این اہلکارزیر حراست

    ان کا کہنا تھا کہ آج این ڈی ایم اے کی جانب سے 11 لاکھ کیوسک پانی کی آمد کی اطلاع ملنے کے بعد اب ہم اس حساب سے تیاری کر رہے ہیں، 3 اور 4 ستمبر کو ہم دیکھیں گے پنجند پر پانی کی آمد کے بعد گڈو پر کتنا پانی آئے گا، اس کے بعد 2 دن پانی کو سندھ تک پہنچنے میں لگیں گے6 ستمبر کو یوم دفاع ہے اور 12 ربیع الاول بھی ہے، دیکھیں اس دن کیا صورت حال بنتی ہے، 2014 میں ہم بڑا ریلا سندھ کے بیراجوں سے گزار چکے ہیں، ہم نے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ، محکمہ صحت سمیت تمام متعلقہ اداروں کو فعال کر دیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی حقیقت ہے، لیکن اس وقت ہمارا فوکس آئندہ 15 دن کو خیر و عافیت سے گزارنے پر مرکوز ہے، ماحولیاتی تبدیلی کے نتیجے میں آفات سے نمٹنے کے لیے مربوط پالیسی بنانے کی ضرورت ہے ہم پنجاب کے لوگوں کے ساتھ ہر طرح سے کھڑے ہیں، انہیں جو بھی امداد درکار ہوگی، ہم کرنے کو تیار ہیں۔

    کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق ایک سوال پر مراد علی شاہ نے کہا کہ پنجاب میں سیلاب دریائے چناب، راوی اور ستلج میں آیا، یہ پانی کالا باغ تک نہیں لے جایا جاسکتا تھا، وہ الگ مقام ہے، اس وقت یہ بات کرنا فضول ہے کہ کالا باغ ڈیم ہوتا تو یہ نقصان نہ ہوتا۔

  • دریائے سندھ میں  انتہائی اونچے درجے کا سیلاب آنے کا امکان

    دریائے سندھ میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب آنے کا امکان

    دریائے سندھ میں گڈو اور سکھر بیراج کے مقام پر 5 ستمبر کو انتہائی اونچے درجے کا سیلاب آنے کا امکان ہے،موجودہ صورتحال کے دوران گڈو، سکھر اور کوٹری بیراج میں نچلے درجے کا سیلاب ہے۔

    ےمحکمہ آبپاشی سندھ کے مطابق گڈو بیراج پر اَپ اسٹریم 3لاکھ 18ہزار229 جبکہ ڈاؤن اسٹریم میں 3لاکھ 3ہزار877 کیوسک پانی ریکارڈ کیا گیا،سکھر بیراج پر اَپ اسٹریم 2 لاکھ 85ہزار487 اور ڈاؤن اسٹریم میں اخراج 2لاکھ 34ہزار717 کیوسک رہا کوٹری بیراج پر اَپ اسٹریم 2لاکھ 73ہزار844 جبکہ ڈاؤن اسٹریم میں اخراج 2لاکھ 44ہزار739 کیوسک نوٹ کیا گیا،تریموں پر پانی میں اضافہ ہو کر اَپ اسٹریم 5لاکھ 50ہزار965 ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    فوکل پرسن زبیر چنہ،کا کہنا تھا کہ بیراجوں پر پانی کی آمد اور اخراج کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے، سندھ میں بیراجوں اور دریائی بندوں پر کوئی کمزور مقام موجود نہیں، تمام مقامات کو جدید تقاضوں کے مطابق مضبوط بنا دیا گیا ہے،صوبے میں 102 ایسے پوائنٹس تھے جہاں ماضی کی دہائیوں میں سیلابی صورتحال کے دوران کچھ واقعات پیش آئے تھے، تاہم محکمہ آبپاشی سندھ نے ان 102 پوائنٹس پر بہتری اور مضبوطی کے خصوصی اقدامات مکمل کر لیے ہیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی خطرے سے محفوظ رہا جا سکے۔

    پاکستان ہمیشہ کثیر الجہتی، مذاکرات اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے،وزیراعظم

    انہوں نے بتایا کہ حکومت سندھ نے محض احتیاطی اور پیشگی حکمتِ عملی کے تحت ان تمام مقامات پر عملہ تعینات کر دیا ہے، تمام مقامات پر ضروری مشینری و ساز و سامان بھی فراہم کر دیا گیا ہے، تمام مقامات پر ہر وقت نگرانی جاری ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کا بروقت مقابلہ کیا جا سکے،عوام کو ہر طرح کے خدشات سے محفوظ رکھا جائے گا، حکومت سندھ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

    کے پی ہیلی کاپٹر حادثہ: روسی کمپنی تحقیقات کرے گی

  • ہمارے پاس تمام متاثرہ آبادیوں کے نقشے،  افراد اور مویشیوں کی تفصیلات موجود ہیں،وزیراعلیٰ سندھ

    ہمارے پاس تمام متاثرہ آبادیوں کے نقشے، افراد اور مویشیوں کی تفصیلات موجود ہیں،وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ،ہمارے پاس تمام متاثرہ آبادیوں کے نقشے، وہاں رہنے والے افراد اور مویشیوں کی تفصیلات موجود ہیں یہ معلومات ضلعی انتظامیہ کے حوالے کر دی گئی ہیں

    گڈو بیراج پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس وقت راوی اور تریموں کے مقامات پر پانی کی سطح بلند ہے اگرچہ امید کی جا رہی ہے کہ پانی اتنی شدت کے ساتھ نہیں بڑھے گا، لیکن حکومت نے 9 لاکھ کیوسکس تک کے ممکنہ سپر فلڈ کے لیے پیشگی انتظامات شروع کر دیے ہیں، پانی 9 لاکھ آئے یا 10 لاکھ اس میں کچے کا علاقہ تو ڈوب جائے گا ہمارے پاس تمام متاثرہ آبادیوں کے نقشے، وہاں رہنے والے افراد اور مویشیوں کی تفصیلات موجود ہیں یہ معلومات ضلعی انتظامیہ کے حوالے کر دی گئی ہیں اور انہیں پی ڈی ایم اے کے ساتھ قریبی رابطے میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہےپاک بحریہ کی جانب سے بہت تعاون کیا جا رہا ہے، کمانڈر کوسٹ بھی میرے ساتھ موجود ہیں، جبکہ پاک فوج اور ڈی جی رینجرز سے بھی مسلسل رابطہ ہے، اگر دریائے سندھ میں سپر فلڈ آیا تو کچے کا سارا علاقہ زیرِ آب آ جائے گا، اس صورتحال کے پیش نظر صوبائی حکومت نے کچے کے علاقے کو خالی کرانے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔

    پہلی ترجیح انسانی جانوں، مویشیوں اور بیراجوں کی حفاظت ہے،شرجیل میمن

    انہوں نے واضح کیا کہ ہماری سب سے بڑی ترجیح انسانی جانوں اور مویشیوں کو نقصان سے بچانا ہے ضلعی انتظامیہ لوگوں کے انخلا کی تیاری کر رہی ہے جبکہ پی ڈی ایم اے، پاک بحریہ اور پاک فوج کی 192 کشتیاں کچے کے مختلف علاقوں میں تعینات کر دی گئی ہیں، بند کو ٹوٹنے سے بچانا سب سے بڑا چیلنج ہےپنجاب میں شگاف ڈالنے کی گنجائش موجود ہوتی ہے اور وہاں کی جغرافیائی صورتحال ایسی ہے کہ پانی جلد دوبارہ دریا میں شامل ہو جاتا ہے، لیکن سندھ کی زمین چونکہ دریا سے نیچے ہے اس لیے پانی واپس جانے میں وقت لیتا ہے۔

    پنجاب :مون سون کے نویں اسپیل نے بہت تباہی مچائی،24 گھنٹوں میں مزید خطرہ

    انہوں نے بتایا کہ دریائے سندھ کے رائٹ بینک پر 6 مقامات نہایت حساس ہیں، ان میں سب سے زیادہ خطرہ کے کے بند کو ہے جبکہ لیفٹ بینک پر شاہین بند کو نازک قرار دیا گیا ہے اگر 8 سے 9 لاکھ کیوسکس پانی آیا تو شاہین بند اپنی کمزور ساخت کے باعث برقرار نہیں رہ پائے گا، لیکن اس بند کو بچانا حکومت کی اولین ترجیح ہوگی ہمارے پاس ابھی وقت ہے، کیونکہ تریموں سے نکلنے والا پانی تقریباً 5 دن بعد سندھ تک پہنچتا ہے انہوں نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی کہ جب وہ وقت آئے تو ضلعی انتظامیہ سے مکمل تعاون کیا جائے۔

    موریطانیہ کے ساحل پر تارکینِ وطن کی کشتی الٹ گئی، 70 ہلاک،30 سے زائد لاپتہ

  • دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند، درمیانے درجے کا سیلاب ڈکلیئر

    دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند، درمیانے درجے کا سیلاب ڈکلیئر

    حیدرآباد:پنجاب سے سیلابی پانی سندھ کی طرف بڑھنے لگا جس کے باعث گدو بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونے پر کنٹرول روم سکھر بیراج نے درمیانے درجے کا سیلاب ڈکلیئر کر دیا۔

    فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق گدو بیراج، سکھر بیراج اور کوٹری بیراج پر بدستور درمیانے درجے کا سیلاب ہےگدو بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 22 ہزار 819 کیوسک ہے اور پانی کا اخراج 3لاکھ 7 ہزار 956 کیوسک ریکارڈ کیا جا رہا ہےسکھر بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 3ہزار 480 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 52ہزار 110 کیوسک ریکارڈ کیا گیا،کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 73ہزار844 کیوسک ریکارڈ کیا جا رہا ہے جبکہ پانی کا اخراج 2لاکھ 44ہزار 739 کیوسک ہے۔

    دوسری،جانب،محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف حصوں میں بارش کا امکان ظاہر کرتے ہوئے اربن فلڈنگ کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔

    پہلی ترجیح انسانی جانوں، مویشیوں اور بیراجوں کی حفاظت ہے،شرجیل میمن

    محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد، پنجاب، خیبر پختونخوا اور کشمیر کے مختلف حصوں میں موسلادھار بارش کا امکان ہے جبکہ شام یا رات کے وقت بلوچستان، سندھ اور گلگت بلتستان میں بھی تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے،مختلف شہروں میں یکم سے 3 ستمبر تک شدید بارشیں ہو سکتی ہیں ، یکم سے 3 ستمبر تک دریائے ستلج، راوی اور چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کے علاوہ لاہور، گوجرانوالہ اور گجرات ڈویژن میں اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ ہے۔

    سیلاب متاثرین کی مدد: کے پی حکومت نے وفاق سے تعاون مانگ لیا

  • سندھ: سپر فلڈ کی تیاری، ضلعی انتظامیہ اور مسلح افواج متحرک

    سندھ: سپر فلڈ کی تیاری، ضلعی انتظامیہ اور مسلح افواج متحرک

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نےکہا ہےکہ دریا راوی اور تریموں میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے اور حکومت سپر فلڈ کی تیاری کر رہی ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گڈو بیراج پر میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ دریا راوی اور تریموں میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے اور حکومت سپر فلڈ کی تیاری کر رہی ہے سپر فلڈ کی صورتحال میں 9 لاکھ کیوسکس پانی بہنے کی توقع ہے، تاہم صوبائی حکومت کو امید ہے کہ اتنا پانی نہیں آئے گا،سپر فلڈ کی صورت میں کچے کے علاقے ڈوب سکتے ہیں، اس لیے انتظامیہ نے پورے کچے کو خالی کرانے کی تیاری مکمل کر لی ہے عوام، مویشیوں اور فصلوں کے تحفظ کے لیے ضلعی انتظامیہ کو تمام نقشے، آبادی کی تفصیلات اور مویشیوں کی معلومات فراہم کی گئی ہیں اور انہیں پی ڈی ایم اے کے تعاون کی ہدایت دی گئی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پاک بحریہ اور پاک فوج کی مدد سے 192 کشتیاں کچے کے علاقوں میں تعینات کی جا چکی ہیں اور انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے، طبی امدادی کیمپ بھی فعال کر دیے گئے ہیں، جہاں سانپ کے کاٹنے کے ویکسین سمیت تمام ضروری ادویات موجود ہیں،متاثرین کے لیے وقتی رہائش اور واپسی کے انتظامات بھی مکمل کر لیے گئے ہیں، جبکہ کچے میں ڈوبنے والے گھروں کو دوبارہ اونچے مقامات پر تعمیر کیا جائے گا،24 اگست کو گڈو سے ساڑھے 5 لاکھ کیوسکس پانی گذرا، جس کی وجہ سے کچھ بندوں اور فصلوں کو نقصان ہوا۔ انہوں نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور خوف پھیلانے سے گریز کریں۔

    صوبائی وزیر محکمہ آبپاشی جام خان شورو، سیکریٹری ظریف کھیڑو اور چیف انجنیئر سردار شاہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دی کہ سندھ بند سپر فلڈ کے مطابق تشکیل دیا گیا ہےبند مینوئل گائیڈلائنز کے تحت ہر میل پر چار لاندیاں قائم کی گئی ہیں اور 16 افراد بند کی نگرانی کے لیے گشت پر مامور ہیں۔ یہ عملہ 24 گھنٹے چوکس رہے گا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال پر فوری اقدامات کرے گا۔

    دریائے سندھ کے دائیں کنارے گڈو اور سکھر بیراج کے 820 میل پر 3280 افراد تعینات کیے گئے ہیں جبکہ لیفٹ مارجینل بند، کے کے بند، کے کے فیڈر بند، نیو گھورگھاٹ، ایکس بند، اولڈ توری بند اور ایس بی بند کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہےبائیں کنارے گڈو تا سکھر 516 میل پر 2064 افراد تعینات ہیں، جہاں قادر پور شنک بند، قادر لوپ بند، راونتی بند، بائیجی بند اور آر این بند کو بھی حساس مقامات قرار دیا گیا ہے۔

    ان مقامات پر رات کے گشت، عملہ کی تعیناتی، ضروری مشینری، کمزور جگہوں کی مرمت اور مضبوطی کے کام شامل ہیں۔ کمزور لوکیشنز پر بھاری پتھروں کی فراہمی اور 24 گھنٹے افسران کی موجودگی یقینی بنائی گئی ہےوزیراعلیٰ سندھ نے حفاظتی اقدامات مزید تیز کرنے، حساس بندوں کی کھڑی نگرانی کرنے اور ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل دینے کی ہدایات بھی دی ہیں۔ یہ اقدامات اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہیں کہ انسانی جانوں، مویشیوں، فصلوں اور بیراجوں کو ممکنہ نقصان سے بچایا جا سکے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سپر فلڈ کی ممکنہ صورتحال میں احتیاطی اقدامات کا جائزہ لیا اور ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی پلان پر بریفنگ دی۔ ڈپٹی کمشنر آغا شیرزمان نے وزیراعلیٰ کو متاثرہ علاقوں، انخلا کے انتظامات اور ریلیف کے اقدامات سے تفصیلی آگاہ کیا، سپر فلڈ کی صورت میں 8 یونین کونسلز، 38 دیہات اور 171 گائوں متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جہاں مجموعی طور پر 2 لاکھ 6 ہزار 107 افراد اور 31 ہزار 257 خاندان آباد ہیں۔ ان علاقوں میں 2 لاکھ 68 ہزار 225 مویشی موجود ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ عوام کو ان کے مویشیوں کے ساتھ محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے اور انخلا کے تمام اقدامات کو حتمی شکل دی جائے۔ کندھ کوٹ میں 15 کشتیوں کے ذریعے لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا جائے گا، جبکہ 21 دیگر کشتیوں کی مدد سے کام آسان بنایا جائے گا۔

    ضلعی انتظامیہ نے ریلیف کیمپ قائم کر دیے ہیں، جن میں توری بند، کے کے بند، گھوراغاٹ اور بی ایس فیڈر آر ڈی 45 پر چار میڈیکل کیمپس شامل ہیں۔ متاثرہ افراد کے لیے 30 فیصد حفاظتی بندوں کے نزدیک سرکاری اسکولوں یا عمارتوں میں قیام فراہم کیا جائے گا اور باقی افراد کو ٹینٹ سٹیز/ویلیجز میں محفوظ پناہ دی جائے گی۔ کندھ کوٹ میں 14، کشمور میں 10 سرکاری عمارتیں ریلیف سینٹر میں تبدیل کی گئی ہیں، جبکہ تینوں اضلاع میں ٹینٹ سٹیز بھی قائم کی جائیں گی۔

    صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے کندھ اسپتال میں 24 ڈاکٹرز، 78 پیرامیڈیکل اسٹاف، 20 بستروں اور 2 ایمبولینس، کشمور اسپتال میں 13 ڈاکٹرز، 113 پیرامیڈیکل اسٹاف، 6 بستروں اور ایک ایمبولینس، اور دیگر ہسپتالوں میں بھی ضروری طبی انتظامات مکمل کر دیے گئے ہیں۔ PPHI کے تحت 44 ہیلتھ فیسلیٹیز، 10 KMC سروسز، 10 EPI سینٹرز، 16 لیبر رومز، اور 9 لیبارٹریز بھی خدمات انجام دیں گی۔ ایمرجنسی کے لیے 2 سول ایمبولینس، 7 PPHI ایمبولینس اور 5 ایمبولینس 112 تعینات کی گئی ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، کسی بھی کمی یا غفلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور تمام کمپلین سیل فعال رہیں گے ضرورت پڑنے پر تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا تاکہ انسانی جانوں اور مویشیوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

  • بلاول بھٹو  اور وزیر اعلیٰ سندھ صورتحال کو براہ راست مانیٹر کر رہے ہیں، شرجیل میمن

    بلاول بھٹو اور وزیر اعلیٰ سندھ صورتحال کو براہ راست مانیٹر کر رہے ہیں، شرجیل میمن

    سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ،بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ صورتحال کو براہ راست مانیٹر کر رہے ہیں، ہر 3 گھنٹے بعد ہینڈ آؤٹ جاری ہوگا –

    کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت نے ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فلڈ کنٹرول روم قائم کر دیا ہے جو 24 گھنٹے فعال ہے اور تمام اداروں کے نمائندے وہاں موجود ہیں،تونسہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ بڑھ رہا ہے اور 2 یا 3 ستمبر کو سیلابی ریلا پنجاب سے سندھ میں داخل ہوگا ان کے مطابق سندھ کے 15 اضلاع متاثر ہوسکتے ہیں جبکہ 16 لاکھ سے زائد افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے، پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ پوری طرح الرٹ ہیں، 192 ریسکیو بوٹس اور دیگر انتظامات مکمل ہیں ایمرجنسی کی صورت میں شہری 04199222962، 02199222902 اور 02199222758 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

    سندھ حکومت کا دریائے سندھ میں ممکنہ سیلاب پر ہائی الرٹ

    انہوں نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ صورتحال کو براہ راست مانیٹر کر رہے ہیں، ہر 3 گھنٹے بعد ہینڈ آؤٹ جاری ہوگا جبکہ ضلعی انتظامیہ ممکنہ متاثرہ علاقوں سے لوگوں کی بروقت منتقلی یقینی بنا رہی ہے، موسمیاتی تبدیلی پوری دنیا کا مسئلہ ہے، پاکستان کا کاربن ریشو صرف ایک فیصد ہے لیکن سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

    ایشیا کپ: ٹکٹوں کی آن لائن فروخت کا آغاز ہو گیا

  • سندھ حکومت کا دریائے سندھ میں ممکنہ سیلاب پر ہائی الرٹ

    سندھ حکومت کا دریائے سندھ میں ممکنہ سیلاب پر ہائی الرٹ

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے دریائے سندھ میں منگل اور بدھ کی درمیانی شب ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر صوبائی محکموں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نےکہا کہ دریا کے اطراف بند، نہروں اور بیراجوں کی مسلسل نگرانی کی جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکےترجمان وزیر اعلیٰ ہاؤس کے مطابق وزیر آبپاشی جام خان شورو نے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گڈو بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 83 ہزار اور اخراج 3 لاکھ 50 ہزار کیوسک ہے۔

    سکھر بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 13 ہزار اور اخراج 2 لاکھ 59 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا جبکہ کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 64 ہزار اور اخراج 2 لاکھ 33 ہزار کیوسک ہے، بیراجوں کی موجودہ صورت حال قابو میں ہے تاہم پانی کی سطح میں اضافے کا خدشہ موجود ہے۔

    ایشیا کپ: ٹکٹوں کی آن لائن فروخت کا آغاز ہو گیا

    وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ وہ کچے کے علاقوں میں رہنے والی آبادی کو بروقت آگاہ کریں اور نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھیں،انہوں نے وزرا اور انتظامیہ کو تاکید کی کہ وہ خود فیلڈ میں موجود رہ کر حفاظتی اقدامات کی نگرانی کریں،دریائے سندھ میں پانی کی صورتحال پر یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبے کے کئی نشیبی علاقے بارشوں کے باعث پہلے ہی متاثر ہیں،ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر پانی کی آمد میں مسلسل اضافہ ہوا تو درمیانے درجے کا سیلاب آسکتا ہے۔

    ڈاکٹر طاہر القادری کا 42 ویں عالمی میلاد کانفرنس کے حوالے سے اہم اعلان

  • سیلابی ریلہ سندھ میں کب داخل ہوگا؟

    سیلابی ریلہ سندھ میں کب داخل ہوگا؟

    بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے باعث جہاں پنجاب میں سیلابی صورت حال ہے وہیں دریائے سندھ میں بھی گدو، سکھر اور کوٹری کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔

    فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن کے مطابق تربیلا ڈیم پانی سے مکمل بھر گیا ہے، تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1550 فٹ تک پہنچ گئی ہے جبکہ ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی زیادہ سے زیادہ گنجائش بھی 1550 فٹ ہی ہےمنگلا ڈیم بھی 1222 فٹ تک بھر گیا ہے جہاں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 1242 فٹ ہے۔

    فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ کے اپر کیچمنٹ ایریا میں موسم خشک رہے گا جبکہ زیریں کیچمنٹ ایریا جیسے راولپنڈی ڈویژن میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہو گی،دریائے جہلم کے کیچمنٹ ایریا خشک رہیں گے جبکہ دریائے چناب کے اپر اور زیریں کیچمنٹ ایریا میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے کا امکان ہےدریائے راوی میں لاہور ڈویژن کے زیریں کیچمنٹ ایریا میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے جبکہ دریائے ستلج کے زیریں اور اپر کیچمنٹ ایریا میں موسم خشک رہے گا۔

    انٹرویو میں پوچھے جانے والے سوال،آپ کی تنخواہ کتنی ہونی چاہیے؟کا بل گیٹس نے بہترین جواب بتادیا

    دریائے سندھ میں پانی کی سطح تربیلا، کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر سیلاب کے لیول سے کم ہے جبکہ تونسہ، گدو، سکھر اور کوٹری کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے دریائے سندھ میں گدو اور سکھر کے مقام پر 4 اور 5 ستمبر کو بہت اونچے درجے کا سیلاب ہو گادریائے کابل میں پانی کی سطح سیلاب کے لیول سے کم ہے جبکہ دریائے چہلم میں منگلا اور رسول کے مقام پر پانی کی سطح سیلاب کے درجے سے نیچے ہے۔

    دریائے چناب میں خانکی اور قادر آباد کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ مرالہ اور تریمو کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ دریائے چناب میں پنجند کے مقام پر پانی کا لیول سیلاب سے کم ہے دریائے راوی میں جسر کے مقام پر اونچے جبکہ شاہدرہ اور بلوکی میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

    سگی بیٹی سے زیادتی کا الزام : 12 سال سے جیل میں قید والد بری

    بھارت کی جانب سے ڈیموں سے پانی چھوڑے جانے کے باعث دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہو گاجبکہ دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے، تاہم اگلے 24 گھنٹے میں پانی کی سطح کم ہو جائے گی،دریائے چناب میں تریمو کے مقام پر 29 اگست کی شام انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہو گا جبکہ دریائے چناب میں پنجند کے مقام پر 2 ستمبر کو بہت اونچے درجے کا سیلاب ہو گا۔

  • سندھ کابینہ کے 3 وزرا جامعات کے پرو چانسلر مقرر

    سندھ کابینہ کے 3 وزرا جامعات کے پرو چانسلر مقرر

    سندھ کابینہ کے 3 وزرا کو جامعات کا پرو چانسلر مقرر کردیا گیا، محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

    سندھ کابینہ کے 3 وزرا کو جامعات کا پروچانسلر مقرر کیا گیا ہے، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، وزیر داخلہ، قانون اور پارلیمانی امور سندھ ضیاالحسن لنجار لا یونیورسٹی کے پرو چانسلر ہوں گے۔

    محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ جنرل جامعات کے پرو چانسلر ہوں گے، وزیر آبپاشی سندھ جام خان شورو انجنیئرنگ جامعات کے پرو چانسلر ہوں گے۔

    موت کی جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف رضا مراد نے مقدمہ دائر کروادیا

    قبل،ازیں،رواں سال کی ابتدا میں اساتذہ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن نے سندھ کی جامعات میں بیوروکریٹس کو وائس چانسلر لگانے کے فیصلے کی مخالفت کی تھی،چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار احمد نے وائس چانسلر کے تقرر کے لیے کم از کم ’اہلیت‘ پر عمل کرنا ناگزیز قرار دے دیا تھا، انہوں نے ’ڈان نیوز‘ خصوصی گفتگو میں کہا تھا کہ ضرورت پڑی تو کراچی پہنچ کر وزیر اعلیٰ سندھ سے ملاقات کروں گا، اس اقدام سے تعلیمی معیار پر سنگین نتائج مرتب ہوں گے، جامعات کی تعلیمی آزادی اور انتظامی امور متاثر ہوں گے اور اصلاحات کے بجائے مسائل جنم لیں گے۔

    خیبرپختونخوا: سیلاب متاثرہ اضلاع میں وبائی امراض پھیلنے لگے