پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی مشاورت سے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوسرا ٹیسٹ میچ، جو پہلے کراچی کے نیشنل بینک اسٹیڈیم میں منعقد ہونا تھا، راولپنڈی منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے لیے نیشنل بینک اسٹیڈیم میں جاری تعمیراتی کام کے پیش نظر کیا گیا ہے۔دوسرا ٹیسٹ میچ اب 30 اگست سے 3 ستمبر تک راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ اس سے قبل پہلا ٹیسٹ 21 اگست سے راولپنڈی میں ہی شروع ہوگا۔ پی سی بی کے مطابق، یہ فیصلہ کرکٹ کے شائقین کو دونوں ٹیسٹ میچوں کا لائیو ایکشن دیکھنے کا بھرپور موقع فراہم کرے گا، جو پاکستان کرکٹ کے مصروف بین الاقوامی سیزن کا آغاز بھی ہوگا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے بتایا کہ نیشنل بینک اسٹیڈیم کراچی میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 کے لیے تعمیراتی کام جاری ہے۔ پی سی بی نے تعمیراتی ماہرین سے رہنمائی حاصل کی، جنہوں نے مشورہ دیا کہ کھیل کے اوقات کے دوران تعمیراتی کام جاری رہ سکتا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں ہونے والی صوتی آلودگی کرکٹرز کو پریشان کر سکتی ہے۔ مزید برآں، تعمیراتی کام سے اٹھنے والا دھواں کھلاڑیوں، آفیشلز، براڈ کاسٹرز اور میڈیا کی صحت اور تندرستی پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
پی سی بی نے ان وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے، تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت اور آپریشنل اور لاجسٹک معاملات کا جائزہ لینے کے بعد دونوں ٹیسٹ میچز کو راولپنڈی منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پی سی بی نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان ٹیم اس سیزن میں 21 اگست سے 5 اپریل تک کل 9 ٹیسٹ، 14 ٹی ٹوئنٹی اور کم از کم 17 ون ڈے میچز کھیلے گی۔
راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں ہونے والے دونوں ٹیسٹ میچوں کے ٹکٹوں کی فروخت کے حوالے سے اہم معلومات بھی جاری کی گئی ہیں:
– ٹکٹیں آن لائن PCB.tcs.com.pk پر دستیاب ہیں۔
– ٹکٹ بوتھ ایوی ایشن گراؤنڈ، بالمقابل ریسکیو 1122، راول روڈ، راولپنڈی میں 19 اگست کو صبح 11 بجے فعال ہوگا۔
– پبلک کار پارکنگ ایوی ایشن گراؤنڈ، ریسکیو 1122 کے بالمقابل، راول روڈ پر دستیاب ہوگی۔ اس کے علاوہ، گورنمنٹ گریجویٹ کالج سیٹلائٹ ٹاؤن، سکستھ روڈ پر بھی پارکنگ کی سہولت ہوگی۔
دریں اثنا، اسلام آباد میں پاکستان شاہینز اور بنگلہ دیش ‘اے’ کے درمیان سیریز جاری ہے۔ پہلا چار روزہ میچ ڈرا ہونے کے بعد، دوسرا چار روزہ میچ 20 اگست کو اسلام آباد کلب میں شروع ہوگا، جس کے بعد 26، 28 اور 30 اگست کو تین 50 اوورز کے میچز کھیلے جائیں گے۔یہ فیصلہ پاکستان کرکٹ کے لیے ایک اہم قدم ہے، جس سے شائقین کو براہ راست کرکٹ دیکھنے کا موقع ملے گا اور کھلاڑیوں کی صحت و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ پی سی بی امید کرتا ہے کہ نیشنل بینک اسٹیڈیم کراچی چیمپئنز ٹرافی 2025 کے لیے تیار ہوگا، اور شائقین کو مستقبل میں یہاں عالمی معیار کی کرکٹ دیکھنے کا موقع ملے گا۔
Category: کھیل
-

پاکستان اور بنگلہ دیش کا دوسرا ٹیسٹ میچ کراچی سے راولپنڈی منتقل
-

گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم کا لاہور کے سفاری پارک کا دورہ، پودا لگایا اور عوام کو محنت کی اہمیت کا پیغام دیا
پاکستان کے معروف ایتھلیٹ اور گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم نے لاہور کے سفاری پارک کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ماحولیات کی بہتری کے لیے پودا لگایا۔ اس موقع پر ڈی جی وائلڈ لائف پنجاب مدثر ریاض بھی موجود تھے، جنہوں نے ارشد ندیم کو 20 لاکھ روپے کا چیک پیش کیا۔سفاری پارک میں پودا لگانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ارشد ندیم نے کہا کہ اگر ہم محنت اور لگن سے کوئی بھی کام کریں تو اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا صلہ ضرور دیتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ہم سب ایک پیج پر رہیں اور متحد ہو کر کام کریں تو ہم بڑے سے بڑے چیلنجز کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ارشد ندیم نے اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے ان کی حوصلہ افزائی کی، جس کے باعث وہ عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ارشد ندیم نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ کی حمایت اور رہنمائی نے انہیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔
ڈی جی وائلڈ لائف پنجاب مدثر ریاض نے بھی اس موقع پر ارشد ندیم کی کامیابیوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ارشد ندیم نے گولڈ میڈل جیت کر تاریخ رقم کی ہے، اور یہ پاکستان کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔ مدثر ریاض نے کہا کہ پاکستان میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے اور ایسے نوجوانوں کو سپورٹ کی ضرورت ہے تاکہ وہ عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کر سکیں۔ارشد ندیم کا سفاری پارک میں پودا لگانا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ نہ صرف کھیلوں میں بلکہ معاشرتی بھلائی کے کاموں میں بھی سرگرم ہیں۔ ان کا یہ اقدام عوام کو ماحولیات کے تحفظ اور درختوں کی اہمیت کے بارے میں شعور دینے کے لیے ہے۔ -

سال گزر گیا،ارشد ندیم کے جونیئر یاسر سلطان کو وزیراعظم کا اعلان کردہ انعام نہ ملا
پاکستان نمبر دو جیولین تھرور محمد یاسر سلطان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے 2023ء میں ایشین برانز میڈل جیتنے پر 50 لاکھ روپے کا اعلان گھر پر کیا تھا لیکن ایک سال گزر گیا مجھے انعام ابھی تک نہیں ملا۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے یاسر سلطان کا کہنا تھا کہ میرے والد روزانہ پوچھتے ہیں، میں کال کرتا ہوں مجھے جواب نہیں ملتا، میں ایشیا کا برانز اور سِلور میڈلسٹ ہوں،میں چکر لگا لگا کر تھک چکا ہوں، گھر جا کر جیسے ارشد ندیم کو انعام دیا گیا ایسے ہی مجھے ملنا چاہیے، آج ہمارے لیے دُگنی خوشیوں کا دن ہے، ارشد ندیم نے ملک کا نام روشن کیا ہے، میرا مقصد بھی یہی ہے میں ارشد ندیم کا جونیئر ہوں،ہم سے یکساں برتاؤ نہیں کیا جاتا، مجھے باہر جا کر کھیلنے کی آفرز ہیں، دبئی اور کئی ممالک سے آفرز ہیں، ٹریننگ کے لیے مجھے باہر جانے کا موقع نہیں دیا گیا، ہمیں عزت دی جائے ہم گھر چلانے کے پیسے نہیں مانگتے۔
یاسر سلطان ارشد ندیم کے ساتھ پریکٹس کیا کرتے تھے،یاسر سلطان کا کہنا تھا کہ جو انعام کا اعلان کیا وہ دیا جائے، سہولیات دی جائیں، میری درخواست ہے یکساں سلوک کریں اور سپورٹ کریں، ان حالات کے باوجود اگلے اولمپکس میں میں نظر آؤں گا، فیڈریشن کو بھی اس حوالے سے کہا ہے انہوں نے بھی مجھ سے درخواست مانگی لیکن کچھ نہیں کیا گیا۔
اس موقع پر یاسر سلطان کے والد محمد سلطان کا کہنا تھا کہ سال سے زیادہ ہوگیا اب تک ایک پیسہ حوصلہ افزائی کے لیے نہیں دیا گیا، وزیراعظم سے درخواست ہی کرسکتے ہیں، میں ڈرائیور ہوں، گاؤں تک پہنچنا مشکل ہے، راستہ بنانے کی اپیل کی تھی لیکن راستہ تک نہیں بنا،چھوٹی نوکری میں سب اپنی اولاد کے لیے کیا ہے، نوکری کا بھی کہا تھا لیکن نہ چیک ملا نہ نوکری، وہ بڑے لوگ ہیں اور ان کی بڑی باتیں ہیں،ہمارا علاقہ وزیراعظم کے حلقے میں آتا ہے، یہ شاید ہمیں کیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں، میری 30 ہزار تنخواہ ہے جو کر سکتا تھا کیا ہے۔
واضح رہے کہ ارشد ندیم نے پیرس اولمپکس میں پاکستان کو 40 سال بعد گولڈ میڈل جتوایا ہے، یہ انفرادی مقابلوں میں پاکستان کا پہلا گولڈ میڈل بھی ہے ،ارشد ندیم کی اس تاریخی کامیابی پر پوری قوم جشن منا رہی ہے، اور ان کی محنت، عزم اور لگن کی بدولت پاکستان نے ایک بار پھر عالمی سطح پر اپنا لوہا منوایا ہے۔ ارشد ندیم نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے کھیلوں کے شائقین کے دلوں میں اپنی جگہ بنالی ہے۔ارشد ندیم کی اس شاندار کامیابی نے پوری قوم کو خوشی سے سرشار کر دیا ہے، اور ان کے اس کارنامے کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی محنت، عزم اور لگن نے انہیں اولمپکس کے سب سے بڑے اسٹیج پر نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے سامنے سرخرو کیا ہے۔
چینی سفیر کی جانب سے ارشد ندیم کو مبارکباد
اللہ کی مدد،ارشد ندیم نے تاریخ رقم کر دی،سارے ریکارڈ توڑ دیئے
مولانا فضل الرحمان کی ارشد ندیم کو گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد
جنرل (ر ) عارف حسن عہدے پر ہوتے تو آج ہم جشن نہ منا رہے ہوتے،مبشر لقمان
ارشد ندیم نے اپنی محنت سے اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتا۔بلاول
ارشدندیم کو قومی اسمبلی میںخراج تحسین ،سحر کامران نے کی قرارداد پیش
سینیٹ اجلاس میں ارشد ندیم کو مدعو کرنے کا فیصلہ
ارشد ندیم نے گولڈ میڈل جیتا وہ بھی میرا بیٹا ہے،بھارتی جیولین تھرور نیرج چوپڑا کی والدہ
گولڈ میڈل پاکستانی قوم کے نام کرتا ہوں، ارشد ندیم
بیٹے کو گلے لگانے کیلئے بے چین ہوں،والدہ ارشد ندیم
افواج پاکستان کے سربراہان کی ارشد ندیم کو گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد
پیرس اولمپکس: ارشد ندیم نے پاکستان کو 40 سال بعد اولمپک گولڈ مڈل جتوا دیا
کرکٹر بننا تھالیکن عدم سہولت کی وجہ سے کرکٹ چھوڑی،ارشد ندیم
کوشش ہے کہ نیرج چوپڑا سے دوستی طویل عرصے تک چلتی رہے،ارشد ندیم
-

تائیکوانڈو چیمپئن شپ میں طلائی تمغہ جیتنے پرصدر کی عامر خان کو مبارکباد
صدر آصف علی زرداری نے پاکستانی کھلاڑی عامر خان کو تھائی لینڈ میں ہونے والی 7ویں تائیکوانڈو چیمپئن شپ میں طلائی تمغہ جیتنے پر مبارکباد دی ہے اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے
ساتویں انٹرنیشنل چیمپین شپ، پاکستان کے ایک اور قومی ہیرو نے گولڈ میڈل حاصل کرلیا۔تائیکوانڈو کے بین الاقوامی کھلاڑی عامر خان کا تعلق مینگورہ سے ہے، عامر خان نے ساتویں انٹرنیشنل چیمپین شپ تائیکوانڈو میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔مقابلے کے تین راونڈ میں انہوں نے پہلے انڈیا، دوسرے میں نیپال اور فائنل میں فلپائن کے کھلاڑی کو شکست دی ہے
عامر خان کو پاکستان کی دیگر اہم شخصیات نے بھی مبارکباد دی ہے اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے،
-

سابق برطانوی کرکٹر گراہم تھورپ نے ڈپریشن کی وجہ سے خود کشی کی تھی،انکشاف
سابق برطانوی کرکٹر گراہم تھورپ کے اہل خانہ نے انکشاف کیا ہے کہ انکی موت طبعی نہیں تھی بلکہ لیجنڈ کھلاڑی نے ڈپریشن کی وجہ سے خود کشی کی تھی
خبر رساں ادارے کے مطابق گراہم تھورپ کے اہل خانہ نے انکشاف کیا کہ گراہم تھورپ نے بے چینی اور ڈپریشن سے کئی سال لڑنے کے بعد اپنی جان لے لی، ان کا خیال تھا کہ ان کی بیوی اور بچے اس کے بغیر زیادہ بہتر زندگی گزار سکیں گے.گراہم تھورپ کی موت 55 برس کی عمر میں ہوئی تھی،انکے چار بچے ہیں، انہوں نے مئی 2022 میں خود کو مارنے کی کوشش کی تھی جس کےبعد بروقت طبی امداد سے ان کی زندگی تو بچ گئی لیکن وہ شدید بیمار ہو گئے تھے، تاہم صحت یاب ہو نےکے بعد 4 اگست کو اس نے اپنی جان لے لی۔
آج گراہم تھورپ کی اہلیہ امانڈا اور ان کی دو بیٹیاں کٹی، 22 سالہ، اور ایما 19 سالہ نے ڈپریشن کے حوالہ سے بات چیت کی، گراہم تھورپ کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ میرا شوہر ایک بیوی اور دو بیٹیاں ہونے کے باوجود بہتر نہیں ہوا ،وہ ہم سے پیار کرتا تھا اور ہم سب اس سے پیار کرتے تھے لیکن وہ ان دنوں میں بہت بیمار تھا اور اسے واقعی یقین تھا کہ ہم اس کے بغیر بہتر زندگی گزار سکیں گے،شوہر کی موت کے بعد ہم تباہ ہو گئے ہیں، وہ ڈپریشن اور اضطراب کا شکار رہا، جو کبھی کبھار بہت شدید ہو جاتا تھا۔ ہم نے بطور خاندان اس کی مدد کی اور اس نے بہت سے علاج کرنے کی کوشش کی لیکن بدقسمتی سے وہ صحتیاب نہ ہوئے،
گراہم کی دو بیٹیوں نے انکشاف کیا کہ وہ کرکٹر کے طور پر اپنی لیجنڈری حیثیت کے بارے میں شاذ و نادر ہی بات کرتے تھے ،برطانوی لیجنڈ کھلاڑی گراہم نے خاندان نے اب گراہم تھورپ کی یاد میں ایک دماغی صحت کے حوالے سے آگہی کے لئے فاؤنڈیشن شروع کرنے کا پروگرام بنایا ہے،

‘گراہم ایسے شخص کے طور پر مشہور تھے جو میدان میں ذہنی طور پر بہت مضبوط تھے اور وہ اچھی جسمانی صحت میں تھے۔ لیکن دماغی بیماری ایک حقیقی بیماری ہے اور کسی کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔گراہم کی بیٹی کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں اس کے بارے میں بات کرنے میں کوئی شرم نہیں آتی۔’چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے اور یہ کوئی بدنما داغ نہیں ہے۔ یہ خبروں کو شیئر کرنے کا وقت ہے، چاہے یہ کتنی ہی خوفناک کیوں نہ ہو۔’اسے زندگی سے پیار تھا اور وہ ہم سے پیار کرتا تھا لیکن وہ کوئی راستہ نہیں دیکھ سکتا تھا’۔اس طرح سے بہادری سے بات کرنے سے لاکھوں لوگ سمجھ جائیں گے کہ کیا ان کا کوئی عزیز بھی ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار ہے،

-

آگے بھی پاکستان کے لیے میڈل جیتنے کی کوشش کروں گا۔ارشد ندیم
پیرس اولمپکس میں پاکستان کے لیے گولڈ میڈل جیتنے والے قومی ہیرو ارشد ندیم کا کہنا ہے کہ لوگوں کا پیار دیکھ کر مجھے نیند نہیں آرہی
اپنے آبائی علاقے پہنچنے پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ارشد ندیم کا کہنا تھا کہ2016 میں پہلا انٹرنیشنل ایونٹ کھیلا، 8 اگست کو محنت کا پھل ملا، ٹوکیو اولمپکس کے بعد پیرس اولمپکس کے لیے بھرپور محنت کی،سرجری کے بعد انجری کا بھی شکار ہوا تھا، لوگوں سے ملا رہا ہوں، اتنا پیار دیا تو لوگوں کا بھی حق بنتا ہے، جب رن اپ اسٹارٹ کیا بہت اچھا محسوس کر رہا تھا، انجری سے بچنے کےلیے بھی کوشش کرتا رہا، دوسری تھرو کے وقت ذہن میں تھا کہ لگ جائے، اگر دوسری تھرو نہ لگتی تو تیسری میں پریشر ہوتا ہے، میرے کوچ نے ٹریننگ پر بہت محنت کی، ڈاکٹر نے ری ہیب میں مدد کی،
کوشش ہے کہ نیرج چوپڑا سے دوستی طویل عرصے تک چلتی رہے،ارشد ندیم
ارشد ندیم نے بھارتی ایتھلیٹ نیرج بارے بات کرتے ہوئے کہا کہ نیرج سے بہت اچھی دوستی ہے، میدان میں اپنے اپنے ملک کے لیے پرفارم کرتے ہیں، کوشش ہے کہ نیرج چوپڑا سے دوستی طویل عرصے تک چلتی رہے،2012ء میں کافی ایونٹس کھیلے، کامیابیاں بھی حاصل کیں، واپڈا نے مجھ سمیت دیگر قومی ہیروز کو بھی نوکری فراہم کی، سب کا شکریہ اد ا کرتا ہوں، جیسے وطن واپس پہنچا سب نے بہت اچھے سے استقبال کیا، جب اپنے گاؤں پہنچا آس پاس کے گاؤں اکٹھے تھے، دیکھ کر بہت خوشی ہوئی، میڈل جیتنے کے بعد امی اور گھر والوں سے فون پر بات کی،میری صحت تندرستی کے لیے دعائیں کرتے رہیں، آگے بھی پاکستان کے لیے میڈل جیتنے کی کوشش کروں گا۔دوسری جانب ارشد ندیم کے والدکا کہنا ہے کہ میں اس گاؤں میں بھٹے پر اینٹیں بناتا تھا، میں نے محنت مزدوری کرکے ارشد کو پالا لیکن کسی سے بھیک نہیں مانگی ،دوران انٹرویو ارشد ندیم کے والد جذباتی ہو گئے اور انکی آنکھوں میں آنسو آ گئے، ارشد ندیم کے والد کا کہنا تھا کہ یہ میری اوقات کے آنسو ہیں.
گولڈ میڈل جیت کر پاکستان کے قومی ہیر و ارشد ندیم لاہور پہنچ گئے،شاندار استقبال
واضح رہے کہ ارشد ندیم نے پیرس اولمپکس میں پاکستان کو 40 سال بعد گولڈ میڈل جتوایا ہے، یہ انفرادی مقابلوں میں پاکستان کا پہلا گولڈ میڈل بھی ہے ،ارشد ندیم کی اس تاریخی کامیابی پر پوری قوم جشن منا رہی ہے، اور ان کی محنت، عزم اور لگن کی بدولت پاکستان نے ایک بار پھر عالمی سطح پر اپنا لوہا منوایا ہے۔ ارشد ندیم نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے کھیلوں کے شائقین کے دلوں میں اپنی جگہ بنالی ہے۔ارشد ندیم کی اس شاندار کامیابی نے پوری قوم کو خوشی سے سرشار کر دیا ہے، اور ان کے اس کارنامے کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی محنت، عزم اور لگن نے انہیں اولمپکس کے سب سے بڑے اسٹیج پر نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے سامنے سرخرو کیا ہے۔
چینی سفیر کی جانب سے ارشد ندیم کو مبارکباد
اللہ کی مدد،ارشد ندیم نے تاریخ رقم کر دی،سارے ریکارڈ توڑ دیئے
مولانا فضل الرحمان کی ارشد ندیم کو گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد
ایک میڈل انکو بھی دے دیں،جس نے قوم کی جان چھوڑ دی،خواجہ آصف
جنرل (ر ) عارف حسن عہدے پر ہوتے تو آج ہم جشن نہ منا رہے ہوتے،مبشر لقمان
ارشد ندیم نے اپنی محنت سے اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتا۔بلاول
ارشدندیم کو قومی اسمبلی میںخراج تحسین ،سحر کامران نے کی قرارداد پیش
سینیٹ اجلاس میں ارشد ندیم کو مدعو کرنے کا فیصلہ
ارشد ندیم نے گولڈ میڈل جیتا وہ بھی میرا بیٹا ہے،بھارتی جیولین تھرور نیرج چوپڑا کی والدہ
گولڈ میڈل پاکستانی قوم کے نام کرتا ہوں، ارشد ندیم
بیٹے کو گلے لگانے کیلئے بے چین ہوں،والدہ ارشد ندیم
افواج پاکستان کے سربراہان کی ارشد ندیم کو گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد
پیرس اولمپکس: ارشد ندیم نے پاکستان کو 40 سال بعد اولمپک گولڈ مڈل جتوا دیا
-

کراچی : اٹھائیسویں چیف آف دی نیول اسٹاف اوپن گالف چیمپئن شپ
رائل پام گالف کلب کے احمد بیگ نے 28ویں چیف آف دی نیول اسٹاف (سی این ایس) اوپن گالف چیمپئن شپ میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پروفیشنل کیٹیگری میں پہلی پوزیشن حاصل کرلی۔ احمد بیگ نے 12 انڈر پار کے ساتھ اپنی فتح کو یقینی بنایا، جس نے انہیں اس سال کے چیمپئن کا اعزاز دلایا۔ترجمان پاک بحریہ کے مطابق، مرگلہ گرینز گالف کلب کے شبیر اقبال، جو دفاعی چیمپئن بھی تھے، 9 انڈر پار کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ شبیر اقبال نے اپنے اعزاز کا دفاع کرنے کی بھرپور کوشش کی، لیکن احمد بیگ کی غیر معمولی کارکردگی کے سامنے کامیاب نہ ہوسکے۔پاکستان نیوی کے محمد عالم نے بھی شاندار کھیل پیش کیا اور 8 انڈر پار کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔
چیمپئن شپ کے دیگر کیٹیگریز میں بھی سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا۔ امیچرز گراس کیٹیگری میں عمر خالد نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میدان مارلیا۔ جبکہ سینئر امیچرز گراس کا ٹائٹل اظہر عباس نے اپنے نام کیا۔اسلام آباد کے محمد طارق نے سینئر پروفیشنل کیٹیگری میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ جونئیر پروفیشنل کیٹیگری میں محمد اشاس نے کامیابی حاصل کی اور اپنی محنت اور مہارت سے سب کو متاثر کیا۔چیمپئن شپ کی مجموعی انعامی رقم ایک کروڑ اکیس لاکھ روپے تھی، جس نے اس ایونٹ کو نہ صرف کھلاڑیوں کے لیے بلکہ گالف کے شائقین کے لیے بھی ایک یادگار تجربہ بنا دیا۔ سی این ایس اوپن گالف چیمپئن شپ ہر سال پاک بحریہ کے زیر اہتمام منعقد کی جاتی ہے اور اس کا شمار پاکستان کے بڑے گالف ایونٹس میں ہوتا ہے۔ -

پیرس اولمپکس،مختصر لباس پہن کر کھلاڑیوں کو توجہ بھٹکانے والی خوبصورت خاتون کو بڑا جھٹکا
پیرس اولمپکس،خوبصورتی اللہ کی طرف سے دی گئی ایک نعمت ہے، کسی خاتون کا بے پناہ خوبصورت ہونا باعث فخر ہوتا ہے لیکن اولمپکس میں ایک خاتون کا خوبصورت ہونا اسکی خامی بن گیا اور اس کو اولمپکس سے باہر کر دیا گیا، خاتون لوانا الونسو جو تیراک ہیں ان کی خوبصورتی کی وجہ سے انکوپیرس اولمپکس بھیج کر ملک نے واپس بلا لیا
پیرس اولمپکس میں پاکستان نے بھی اس بار گولڈ میڈل جیتا، ارشد ندیم نے پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند کیا ،بھارت رواں برس کوئی گولڈ میڈل نہیں جیت سکا اور اسکا پیرس اولمپکس میں سفر ختم ہو گیا ہے،وہیں پیرس اولمپکس 2024 میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا ،پیراگوائے کی تیراک لوانا الونسو کو ان کے ہی ملک نے یہ کہہ کر مقابلے سے آؤٹ کردیا کہ وہ بہت خوبصورت ہیں اسلیے وہ مقابلہ چھوڑیں اور واپسی کا سفر شروع کر دیں،غیر ملکی میڈیا کے مطابق لوانا الونسو خوبصورت ترین خاتون تھیں جس کی وجہ سے اولمپکس میں موجود افراد کی نظریں اسی پر ہوتی تھیں،اسکی خوبصورتی ان کی ٹیم کے کھلاڑیوں کا دھیان بٹا رہی تھی، وہ اولمپک ولیج کے مراعات سے بھی محروم ہوگئی ہیں.
پیرس اولمپکس کے آغاز سے ہی لوانا الونسو کی بے پناہ خوبصورتی شرکا اور دیکھنے والوں کو مسحور کر رہی تھی،ان کے ساتھی ان کے حسن کی تاب لانے سے قاصر تھے اور ان کا دھیان مقابلے کی بجائے لوانا الونسو کی جانب ہی رہتا تھا جس سے مبینہ طور پر ان کی کارکردگی متاثرہو رہی تھی،پیراگوائے کی قومی ٹیم کے منیجر نے اعلان کیا کہ لوانا کے وہاں ہونے کا پورے دستے پر نامناسب اثر پڑ رہا ہے

پیرس اولمپکس کے دوران لوانا کو اولمپکس ولیج بھی فوریخالی کرنے کا کہا گیا حالانکہ دیگر کھلاڑیوں کو اولمپکس کے ختم ہونے تک وہاں رہنے کی اجازت ہےلوانا الونسو واپس پیرا گوئے پہنچ گئی ہے، وطن واپسی پر انہوں نے کوئی بات چیت نہیں کی اور کوئی تبصرہ نہیں کیا تا ہم انہوں نے تیراکی سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا،اس موقع پر انہوں نے اپنے مداحوں کا بھی شکریہ ادا کیا.
لوانا الونسو اور ٹیم پیراگوئے کے پاس پیرس میں ہونے والے اولمپکس کے بارے میں مختلف بیانات ہیں،کچھ کا کہنا ہے کہ اسے زبردستی بھیجا گیا ہے جبکہ کچھ افراد کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوا،

لواناالونسو کے پاس بٹر فلائی اسٹروک میں پیراگوئین کے متعدد ریکارڈ ہیں، پیراگوئین اولمپک کمیٹی نے لوانا الونسو کو ہٹانے کے فیصلے کے لیے مزید کوئی وضاحت پیش نہیں کی۔ صرف اتنا کہا گیا کہ الونسو نے "ایک نامناسب ماحول پیدا کیا”، جس نے ہر قسم کی قیاس آرائیوں کا دروازہ کھول دیا۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق 20 سالہ سوئمر لوانا الونسو پیرس اولمپکس میں خواتین کے 100 میٹر بٹر فلائی ایونٹ کے سیمی فائنل کے لیے 0.24 سیکنڈز کے فرق سے کوالیفائی نہیں کرسکی تھیں ،سیمی فائنل میں کوالیفائی نہ کرنے کے باعث لوانا نے تیراکی سے ریٹائرمنٹ کا بھی اعلان کردیا تھا،لوانا پر اس حوالے سے بھی تنقید کی جارہی ہے کہ وہ اولمپک ولیج میں پراگوئے ٹیم کی جانب سے فراہم کیے گئے لباس کے بجائے مختصر اور چست لباس پہن کر اور دیگر ٹیموں سے ملاقاتیں کرکے اپنے دیگر مد مقابل کھلاڑیوں کی توجہ بھٹکانے کی وجہ بنیں

نامناسب ماحول پیدا کرنے کے باعث اولمپکس ویلیج سے نکالی گئیں پیراگوئے کی خاتون تیراک لوانا الونسو نے معروف برازیلی فٹبالر نیمار جونئیر سے متعلق انکشاف کیا ہے اور کہا کہ انسٹاگرام پر معروف برازیلی فٹبالر نیمار جونئیر نے انہیں پرائیوٹ میسج کرکے پیغام بھیجا تھا، 20 سالہ سوئمر لوانا الونسو نے دعویٰ کیا کہ برازیل کے سابق کپتان اور معروف فٹبالر فٹبالر نیمار جونئیر نے مجھے انسٹاگرام پر میسجز کیے، جو میں یہاں نہیں بتاسکتی،لوانا کا مزید کہناتھا کہ میں نے ملک نہیں چھوڑا نہ مجھے نکالا گیا ہے، غلط معلومات پھیلانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔
دوسری جانب نیمار جونئیر اِن دنوں اپنی چوٹ سے لڑرہے ہیں وہ انجری کے باعث کوپا امریکا ٹورنامنٹ میں بھی برزایل کی نمائندگی سے قاصر رہے تھے،اکتوبر میں ورلڈکپ کوالیفائر میں ایک حریف سے ٹکرانے کے بعد برازیل کی یوروگوئے سے 2-0 کی شکست کے دوران وہ روتے ہوئے اسٹریچر پر گئے تھے
چینی سفیر کی جانب سے ارشد ندیم کو مبارکباد
اللہ کی مدد،ارشد ندیم نے تاریخ رقم کر دی،سارے ریکارڈ توڑ دیئے
مولانا فضل الرحمان کی ارشد ندیم کو گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد
ایک میڈل انکو بھی دے دیں،جس نے قوم کی جان چھوڑ دی،خواجہ آصف
جنرل (ر ) عارف حسن عہدے پر ہوتے تو آج ہم جشن نہ منا رہے ہوتے،مبشر لقمان
ارشد ندیم نے اپنی محنت سے اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتا۔بلاول
ارشدندیم کو قومی اسمبلی میںخراج تحسین ،سحر کامران نے کی قرارداد پیش
سینیٹ اجلاس میں ارشد ندیم کو مدعو کرنے کا فیصلہ
ارشد ندیم نے گولڈ میڈل جیتا وہ بھی میرا بیٹا ہے،بھارتی جیولین تھرور نیرج چوپڑا کی والدہ
گولڈ میڈل پاکستانی قوم کے نام کرتا ہوں، ارشد ندیم
بیٹے کو گلے لگانے کیلئے بے چین ہوں،والدہ ارشد ندیم
افواج پاکستان کے سربراہان کی ارشد ندیم کو گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد
پیرس اولمپکس: ارشد ندیم نے پاکستان کو 40 سال بعد اولمپک گولڈ مڈل جتوا دیا
-

پیرس اولمپکس کے ہیرو ارشد ندیم کے سسر کا منفرد تحفہ: بھینس دینے کا اعلان
پیرس اولمپکس میں پاکستان کے لیے گولڈ میڈل جیتنے والے قومی ہیرو ارشد ندیم کو جہاں پاکستان بھر سے کروڑوں روپے کے انعامات سے نوازا جا رہا ہے، وہیں ان کے سسر محمد نواز نے اپنے داماد کو ایک منفرد تحفہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ محمد نواز نے کہا ہے کہ وہ اپنے داماد کو بھینس تحفے میں دیں گے۔مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد نواز نے ارشد ندیم کی شاندار کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "مجھے اپنے داماد پر فخر ہے اور میں ان کا بھرپور استقبال کروں گا۔ ان کی کامیابی نہ صرف ہمارے خاندان کے لیے بلکہ پورے پاکستان کے لیے باعث فخر ہے۔”جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے داماد کو کیا تحفہ دیں گے تو انہوں نے کہا، "میں اپنے داماد ارشد ندیم کو ایک بھینس تحفے میں دوں گا۔ یہ بھینس ان کے لیے میری طرف سے ایک محبت بھرا تحفہ ہے۔” ان کے اس بیان نے نہ صرف مقامی بلکہ ملکی سطح پر بھی توجہ حاصل کی ہے۔
محمد نواز نے مزید بتایا کہ ان کی 4 بیٹے اور 3 بیٹیاں ہیں، جن میں سب سے چھوٹی بیٹی کی شادی ارشد ندیم سے 6 سال قبل ہوئی تھی۔ ارشد ندیم اور ان کی بیٹی کے 3 بچے ہیں، جن میں 2 بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں۔ "ہمارے دو بچے مقامی اسکول میں جاتے ہیں۔ بچی پہلی جماعت میں ہے جبکہ ایک بیٹے نے ابھی اسکول جانا شروع کیا ہے اور تیسرا بیٹا ابھی چھوٹا ہے،” محمد نواز نے بتایا۔جب ان سے ارشد ندیم کی شادی کے وقت کی زندگی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا، "شادی کے وقت ارشد ندیم چھوٹے موٹے کام کرتے تھے اور گھر پر ہی پریکٹس کرتے تھے۔ انہیں نیزہ بازی کا بہت شوق تھا اور وہ اس میں اپنا نام بنانا چاہتے تھے۔” محمد نواز نے کہا کہ انہیں اپنے داماد سے کبھی کوئی شکایت نہیں رہی۔ "ارشد ندیم جب بھی گھر آتے تھے، جو کچھ بھی کھانے کے لیے ملتا تھا وہ شوق سے کھا لیتے تھے۔”
ارشد ندیم کی کامیابی پر جہاں پاکستان بھر میں جشن منایا جا رہا ہے، وہیں ان کے سسرال والوں کی طرف سے دیے جانے والے منفرد تحفے نے بھی لوگوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ محمد نواز کا یہ اقدام نہ صرف ان کی داماد سے محبت کا مظہر ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح سادہ اور دیہاتی پس منظر رکھنے والے لوگ اپنی خوشیوں کا اظہار کرتے ہیں۔ ارشد ندیم کی کامیابی کا جشن چین میں بھی منایا جا رہا ہے، جہاں ان کے مداحوں نے ان کی فتح پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ -

پاکستانی کوہ پیما ایم مراد سدپارہ براڈ پیک پر زخمی: ریسکیو آپریشن جاری
پاکستان کے معروف کوہ پیما ایم مراد سدپارہ براڈ پیک کی مہم جوئی کے دوران شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ واقعہ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کیمپ ون پر پیش آیا، جہاں ان پر پتھر گرنے سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔ایم مراد سدپارہ پاکستان کے نامور کوہ پیماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ اب تک کے ٹو سمیت 8 ہزار میٹر سے بلند چار پہاڑوں کو سر کر چکے ہیں، جو ان کی مہارت اور تجربے کا ثبوت ہے۔ اس واقعے سے پہلے، سدپارہ نے گزشتہ ہفتے کے ٹو کی بلندی سے ایک اور کوہ پیما کی لاش کو اتارنے کا مشکل کام انجام دیا تھا۔ وہ کے ٹو کی صفائی مہم کی قیادت کر رہے تھے، جو ان کے ماحولیاتی شعور اور کوہ پیمائی کے شعبے میں ان کی خدمات کو ظاہر کرتا ہے۔
بیس کیمپ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، سدپارہ کی حالت تشویشناک ہے۔ پاکستانی کوہ پیماؤں کی برادری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ زخمی کوہ پیما کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے فوری طور پر ریسکیو کیا جائے۔ یہ مطالبہ اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے کہ براڈ پیک جیسے بلند و بالا پہاڑوں پر طبی امداد کی فوری ضرورت ہوتی ہے، اور وقت گزرنے کے ساتھ صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
اس صورتحال کے جواب میں، گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ نے مراد سدپارہ کو ریسکیو کرنے کے لیے انتظامیہ کو فوری ہدایات جاری کی ہیں۔ صوبائی حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے تصدیق کی ہے کہ حکومت مراد سدپارہ کی ریسکیو میں ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی۔ریسکیو آپریشن کے حوالے سے فیض اللہ فراق نے بتایا کہ پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز نے دو مقامی پورٹرز کو براڈ پیک پر پہنچا دیا ہے۔ یہ تجربہ کار پورٹرز مراد سدپارہ کو تلاش کریں گے۔ یہ قدم اس لیے اٹھایا گیا ہے کیونکہ مقامی پورٹرز اس علاقے کی جغرافیائی صورتحال سے بخوبی واقف ہوتے ہیں اور انہیں بلند ترین پہاڑوں پر کام کرنے کا تجربہ ہوتا ہے۔
کوہ پیمائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ براڈ پیک جیسے پہاڑوں پر ریسکیو آپریشن انتہائی مشکل اور خطرناک ہوتے ہیں۔ موسم کی تیزی سے بدلتی صورتحال، آکسیجن کی کمی، اور انتہائی سرد درجہ حرارت جیسے عوامل اس کام کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔ اس لیے، ریسکیو ٹیم کو انتہائی احتیاط اور مہارت سے کام کرنا ہوگا۔پاکستان کی کوہ پیمائی کی برادری اس واقعے سے شدید پریشان ہے۔ کئی معروف کوہ پیماؤں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغامات میں مراد سدپارہ کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے اور حکومت سے ان کی فوری ریسکیو کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر کوہ پیمائی کے خطرات اور اس شعبے میں بہتر حفاظتی اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور ریسکیو آپریشن کی پیش رفت سے متعلق تازہ ترین معلومات فراہم کرتے رہیں گے۔ امید کی جا رہی ہے کہ جلد ہی مراد سدپارہ کو حفاظت سے نیچے لایا جائے گا اور انہیں مناسب طبی امداد فراہم کی جائے گی۔