Baaghi TV

Category: کھیل

  • پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان ندا ڈار نے ایک اہم مرحلے کو عبور کرلیا

    پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان ندا ڈار نے ایک اہم مرحلے کو عبور کرلیا

    ندا ڈار نے پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی تاریخ میں اہم سنگ میل حاصل کیا ہے، جب وہ پہلی خواتین کرکٹر بن گئیں جنہوں نے 150 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے ہیں۔
    ان کا یہ سنگ میل ایشیا کپ میں بھارت کے خلاف ہونے والے میچ میں حاصل ہوا۔پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ محمد وسیم نے میچ سے قبل ندا ڈار کو ان کی محنت اور مضبوطی پر سوینئر دیا۔ انہوں نے ٹیم کی دستخط شدہ شرٹ بھی پیش کی جو ان کے اس اہم لمحے کو سیمول کرتی ہے۔اس میچ میں ویمنز ایشیا کپ، بھارت کی ویمنز کرکٹ ٹیم نے پاکستان ویمنز کو 7 وکٹوں سے شکست دے دی، جس کے باوجود ندا ڈارکے اس اہم مرحلے نے پاکستانی کرکٹ کے ایک نیا سفر کی شروعات کو نئی روشنی میں چمکا دیا۔

  • پی سی بی کا بڑا فیصلہ: بابر، رضوان اور شاہین کو کینیڈین ٹی20 لیگ کی اجازت نہیں

    پی سی بی کا بڑا فیصلہ: بابر، رضوان اور شاہین کو کینیڈین ٹی20 لیگ کی اجازت نہیں

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے اپنے تین اہم کھلاڑیوں بابر اعظم، محمد رضوان اور شاہین شاہ آفریدی کو کینیڈا کی گلوبل ٹی20 لیگ میں شرکت کی اجازت نہیں دی ہے۔ بورڈ نے ان کھلاڑیوں کے لیے این او سی (نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ) جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پی سی بی کے ترجمان نے بتایا کہ یہ فیصلہ پاکستان کرکٹ کے آنے والے مصروف سیزن اور کھلاڑیوں کے ورک لوڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، "بابر اعظم، محمد رضوان اور شاہین شاہ آفریدی تینوں فارمیٹ کے کھلاڑی ہیں اور پاکستان ٹیم کو آنے والے سیزن میں ان کی خدمات کی ضرورت ہوگی۔”بورڈ کا مؤقف ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ یہ تینوں کرکٹرز سیزن کے آغاز میں مکمل طور پر فٹ اور تازہ دم ہوں۔ یہ فیصلہ کھلاڑیوں کی صحت اور کارکردگی کو برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔
    دوسری جانب، پی سی بی نے افتخار احمد، محمد عامر، آصف علی اور محمد نواز کو کینیڈین لیگ میں کھیلنے کی اجازت دے دی ہے۔ ان کھلاڑیوں کے لیے این او سی جاری کر دی گئی ہے۔ آنے والے مہینوں میں پاکستان کو کئی اہم سیریز اور ٹورنامنٹس کھیلنے ہیں، جن میں ورلڈ کپ بھی شامل ہے۔ ایسے میں اہم کھلاڑیوں کو آرام دینا اور انہیں زیادہ کھیلنے سے بچانا ضروری ہے۔تاہم، کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ اس فیصلے سے کھلاڑیوں کو بین الاقوامی لیگز میں تجربہ حاصل کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ مختلف حالات میں کھیلنا کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو بڑھاتا ہے۔پی سی بی کے اس فیصلے پر کھلاڑیوں کی جانب سے ابھی تک کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ بورڈ جلد ہی پاکستان کرکٹ ٹیم کے آنے والے شیڈول کا اعلان کرے گا، جس سے یہ واضح ہو جائے گا کہ کھلاڑیوں کو کن سیریز اور ٹورنامنٹس کے لیے تیار رہنا ہے۔

  • سری لنکا کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان دھمیکا نروشنا گھر میں قتل

    سری لنکا کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان دھمیکا نروشنا گھر میں قتل

    سری لنکا کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان دھمیکا نروشنا کو گولی مار کرقتل کر دیا گیا

    سری لنکن کے کھلاڑی دھمیکا نروشنا کو منگل کی شب انکے گھر گولیاں مار کر قتل کیا گیا،میڈیا رپورٹس کے مطابق کھلاڑی پر جب گولیاں چلائی گئیں تو انکی اہلیہ اپنے دو بچوں کے ساتھ گھر میں موجود تھیں،سابق کپتان دھمیکا نروشنا پر 12 بور گن سے فائرنگ کی گئی، واقعہ کی اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی،مقتول کرکٹر کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں

    سری لنکا کی پولیس نے کھلاڑی کے قتل پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس کے ترجمان نہال تھلڈووا نے کہا، "شوٹنگ میں ملوث مشتبہ شخص کی گرفتاری کے لیے تحقیقات جاری ہیں جو کہ گینگ دشمنی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ نیروشنا تین ماہ قبل اسی علاقے میں اپنے قریبی دوست داسن مانواڈو کے قتل کے بعد ملک سے فرار ہونے کے بعد واپس سری لنکا آیا تھا۔

    پولیس نروشنا کی موت اور 2016 میں فرسٹ کلاس کرکٹر اور جنوبی علاقہ کے کرکٹ کے سابق منتظم ایچ پریماسیری کے قتل کے درمیان ممکنہ تعلق کی بھی تلاش کر رہی ہے۔ پریماسیری کو ان کی رہائش گاہ کے قریب گولی مار دی گئی تھی، اور شبہ ہے کہ اس کے قتل کا تعلق گال انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلوں میں شامل بین الاقوامی میچ فکسنگ ریکیٹ سے تھا۔گال اپنی انڈرورلڈ سرگرمیوں اور گینگ سے متعلق قتل کے لیے جانا جاتا ہے، جس میں متعدد متاثرین کرکٹ سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ تناظر نروشنا کے قتل کی تحقیقات کی پیچیدگی میں اضافہ کرتا ہے۔

    نروشنا کو سری لنکا کے یوتھ سسٹم سے باہر آنے والے بہترین تیز بلےباز آل راؤنڈرز میں سے ایک کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ نروشنا نے 2001 سے 2004 کے درمیان گال کرکٹ کلب کے لیے کل 12 فرسٹ کلاس گیمز اور 8 لسٹ اے میچز کھیلے۔ ایک عمدہ آل راؤنڈر، جو بلے اور گیند دونوں سے ہی ڈلیور کر سکتا تھا، نروشنا نے 300 سے زیادہ رنز بنائے، اپنے کیریئر کے دوران 19 وکٹیں حاصل کی تھیں،

  • پاکستان میں ہونے والی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا بجٹ تیار

    پاکستان میں ہونے والی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا بجٹ تیار

    لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے آئندہ سال پاکستان میں منعقد ہونے والی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے لیے بجٹ کو حتمی شکل دے دی ہے۔ یہ بجٹ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے ساتھ مشاورت کے بعد تیار کیا گیا ہے۔پی سی بی کے ذرائع کے مطابق، یہ بجٹ آئی سی سی کے چیف فنانس آفیسر انکر کھنہ اور پی سی بی کے سی ایف او جاوید مرتضی کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اس بجٹ کو 22 جولائی کو سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں ہونے والے آئی سی سی کے اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
    اس سلسلے میں، پی سی بی کے سربراہ محسن نقوی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر سلمان نصیر 18 جولائی کو کولمبو روانہ ہوں گے، جہاں وہ 19 جولائی سے شروع ہونے والی آئی سی سی کی سالانہ میٹنگز میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔یاد رہے کہ پاکستان کو 19 فروری سے 9 مارچ 2025 تک آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کرنی ہے۔ اس اہم ٹورنامنٹ کی تیاریوں کے سلسلے میں، پچز اور گراؤنڈز کو آئی سی سی کے کیورٹر اینڈی ایٹکسن کی ہدایات کے مطابق تیار کیا جا رہا ہے۔پی سی بی کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم اس ٹورنامنٹ کی کامیاب میزبانی کے لیے پرعزم ہیں۔ بجٹ کی منظوری کے بعد ہم تیاریوں کو مزید تیز کر دیں گے۔”
    یہ ٹورنامنٹ پاکستان کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ یہ 1996 کے بعد پہلا موقع ہے جب پاکستان کسی بڑے آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی کرے گا۔ اس سے نہ صرف پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ بہتر ہوگی بلکہ ملک میں کرکٹ کے فروغ کو بھی فائدہ پہنچے گا۔کرکٹ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس ٹورنامنٹ کی کامیاب میزبانی سے پاکستان کو مستقبل میں مزید بڑے کرکٹ ایونٹس کی میزبانی کے مواقع مل سکتے ہیں۔ پی سی بی اور حکومت پاکستان دونوں اس ایونٹ کو ہر لحاظ سے کامیاب بنانے کے لیے پرعزم نظر آتے ہیں۔

  • پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم ٹی 20 ایشیا کپ میں شرکت کے لیے سری لنکا پہنچ گئی

    پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم ٹی 20 ایشیا کپ میں شرکت کے لیے سری لنکا پہنچ گئی

    پاکستان کی 15 رکنی قومی ویمنز کرکٹ ٹیم ٹی 20 ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے سری لنکا پہنچ گئی ہے۔ یہ ایونٹ 19 سے 28 جولائی تک دمبولا میں کھیلا جائے گا۔قومی ٹیم کی قیادت ندا ڈار کر رہی ہیں اور ٹیم کراچی سے دبئی کے راستے کولمبو پہنچ کر دمبولا روانہ ہوئی۔ گروپ اے میں شامل پاکستان ویمنز ٹیم اپنا پہلا میچ 19 جولائی کو روایتی حریف اور دفاعی چیمپئن بھارت کے خلاف کھیلے گی۔پاکستانی سکواڈ میں شامل کھلاڑیوں میں کپتان ندا ڈار، عالیہ ریاض، ڈائنا بیگ، فاطمہ ثنا، گل فیروزہ، ارم جاوید، منیبہ علی، ناجیہ علوی، نشرہ سندھو، عمائمہ سہیل، سعدیہ اقبال، سدرا امین، سیدہ عروب شاہ، تسمیہ وہاب اور طوبہ حسن شامل ہیں۔

    ٹورنامنٹ میں 8 ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں، جنہیں دو گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ گروپ اے میں پاکستان، بھارت، نیپال اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں جبکہ گروپ بی میں بنگلہ دیش، ملائشیا، تھائی لینڈ اور میزبان سری لنکا شامل ہیں۔ فائنل میچ 28 جولائی کو کھیلا جائے گا۔پاکستانی ٹیم کی تیاری مکمل ہے اور ٹیم کے کپتان ندا ڈار نے کہا ہے کہ ہماری ٹیم مکمل طور پر تیار ہے اور ہم اپنی بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے پرعزم ہیں۔ ایشیا کپ میں شریک ٹیموں کے درمیان مقابلہ سخت ہوگا، لیکن ہماری ٹیم اس چیلنج کے لیے تیار ہے۔ایشیا کپ ٹی 20 ٹورنامنٹ خواتین کرکٹ کے میدان میں ایک اہم ایونٹ ہے اور پاکستانی ٹیم کی کارکردگی پر سب کی نظریں ہوں گی۔ امید ہے کہ قومی ٹیم اپنے شائقین کی توقعات پر پورا اترے گی اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔

  • آئی سی سی کا سالانہ اجلاس: عالمی کرکٹ کے مستقبل کا فیصلہ کولمبو میں ہوگا

    آئی سی سی کا سالانہ اجلاس: عالمی کرکٹ کے مستقبل کا فیصلہ کولمبو میں ہوگا

    عالمی کرکٹ کی سب سے بڑی تنظیم، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا سالانہ اجلاس 19 سے 22 جولائی تک پہلی بار ایشیا میں، کولمبو شہر میں منعقد ہونے جا رہا ہے۔ یہ خبر سری لنکا کرکٹ بورڈ نے جاری کی ہے۔اس اہم اجلاس میں دنیا بھر سے 108 رکن ممالک کے 220 نمائندے شرکت کریں گے۔ اجلاس کے ایجنڈے میں سب سے اہم نکتہ کرکٹ کو 2028 کے لاس اینجلس اولمپکس میں شامل کرنے کا مسئلہ ہے۔ اس کے علاوہ، ذرائع کے مطابق چیمپئنز ٹرافی کے مستقبل پر بھی بات چیت ہونے کا امکان ہے۔پاکستان کی نمائندگی چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی اور سی ای او پی سی بی سلمان نصیر کریں گے۔ دونوں اعلیٰ حکام 18 جولائی کو سری لنکا روانہ ہوں گے۔کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اجلاس عالمی کرکٹ کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ کرکٹ کو اولمپکس میں شامل کرنے سے اس کھیل کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور نئے ممالک میں اس کی ترویج کا راستہ کھل سکتا ہے۔
    دوسری جانب، چیمپئنز ٹرافی کے حوالے سے فیصلے بھی بڑی دلچسپی سے دیکھے جا رہے ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے اس ٹورنامنٹ کے مستقبل پر سوالات اٹھتے رہے ہیں اور اس اجلاس میں اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ ہونے کی توقع ہے۔سری لنکا کرکٹ بورڈ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ وہ اس اجلاس کی میزبانی پر فخر محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کے ملک کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے اور وہ تمام مہمانوں کی مکمل مہمان نوازی کریں گے۔کرکٹ مداح اب اس اجلاس کے نتائج کا بےصبری سے انتظار کر رہے ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس اجلاس سے نکلنے والے فیصلے عالمی کرکٹ کو نئی سمت دیں گے اور اس کھیل کو مزید مضبوط بنائیں گے

  • محسن نقوی کی زیر صدارت اجلاس،  ٹیم کی کارکردگی کی بہتری کیلئے فیصلے

    محسن نقوی کی زیر صدارت اجلاس، ٹیم کی کارکردگی کی بہتری کیلئے فیصلے

    چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی کے کرکٹ اور ٹیم کی کارکردگی کی بہتری کیلئے بڑے فیصلے سامنے آئے ہیں

    چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی کی زیر صدارت 3 گھنٹے طویل اجلاس ہوا،نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے بورڈ روم میں منعقدہ اجلاس میں کرکٹ کی بہتری کیلئے مختلف تجاویز کا جائزہ لیاگیا،ہائی پرفارمنس سنٹرز کی اپ گریڈیشن۔ پاکستانی کوچز کا معیار بڑھانے کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو ہوئی،وائیٹ بال کے ہیڈ کوچ گیری کرسٹن۔ ریڈ بال کے ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی۔ چیف آپریٹنگ آفیسر پی سی بی سلمان نصیر۔ ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ عثمان واہلہ۔ اسٹنٹ کوچ اظہر محمود۔ سلیکشن کمیٹی کے اراکین محمد یوسف۔ اسد شفیق۔ بلال افضل۔ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس سنٹرز ندیم خان اور ڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ عبداللہ خرم نیازی نے اجلاس میں شرکت کی

    گیری کرسٹن اور جیسن گلیسپی بھی سلیکشن کمیٹی میں شامل کر دیئے گئے،ہر کھلاڑی کا ہر 3 ماہ بعد فٹنس ٹیسٹ لازمی ہو گا،کھلاڑی کو لازما ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنا ہوگی،ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کے طریقہ کار کو سلیکشن کمیٹی حتمی شکل دے گی،سنٹرل کنٹریکٹ کی رقم فی الحال کم نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا،سنٹرل کنٹریکٹ کی مدت ایک برس کے لئے ہو گی،کنٹریکٹ کا کھلاڑیوں کی پرفارمنس اور فنٹس پر ہر برس جائزہ لیا جائے گا،سنٹرل کنٹریکٹ کی مختلف کیٹگریز میں کھلاڑیوں کی شمولیت وضع کردہ طریقہ کارکے تحت ہو گی،لیگزکھیلنے کے لئے این او سیز کے اجراء کا ٹیکنیکل طریقہ کار طہ کیا جائے گا،طریقہ کار پر پورا اترنےوالے کھلاڑیوں کو این او سیز کا اجراء کیا جائے گا ،فٹنس اور پرفارمنس کے معیار پر پورا اترنے والے کھلاڑیوں کو آگے آنے کا موقع ملے گا،معیار پر پورا نہ اترنے والے کھلاڑیوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہو گی،

    ڈسپلن کی پابندی نہ کرنے والے کھلاڑیوں کی ٹیم میں جگہ نہیں ہو گی۔محسن نقوی
    چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کاکہنا تھا کہ ڈسپلن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔نظم و ضبط کی خلاف ورزی کرنے والے کھلاڑی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی ہو گی۔ ٹیم کے اندر یونٹی اور اتفاق نظر آنا چاہیے۔ گروپنگ کرنے والے کھلاڑیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ گروپنگ پر مینجمنٹ کو سخت ایکشن لینا چاہیے۔ ڈسپلن کی پابندی نہ کرنے والے کھلاڑیوں کی ٹیم میں جگہ نہیں ہو گی۔ ڈسپلن کی خلاف ورزی پر کسی بھی کھلاڑی کے بارے میری سفارش بھی نہ مانی جائے۔

    ہائی پرفارمنس سنٹرز کی اپ گریڈیشن اور کوچز کی ٹریننگ کا معیار بڑھانے کا پلان طلب کر لیا گیا،محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد اور پشاور میں بھی ہائی پرفارمنس سنٹرز بنائے جائیں گے۔ گیری کرسٹن اور جیسن گلیسپی اس ضمن میں حتمی رپورٹ پیش کریں گے،شاہینز اور انڈر 19 ٹیموں کے لئے الگ کوچز رکھنے اور تسلسل کے ساتھ ٹورنامنٹس کرانے کا مکمل پروگرام مرتب کرنے کی ہدایت کی گئی،وویمنز کرکٹ ٹیم کو بہتر بنانے اور سنٹرل کنٹریکٹ پر نظر ثانی کے حوالے سے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس سنٹرز کو ٹاسک دیا گیا،ڈومیسٹک کنٹریکٹ کا جائزہ لینے کے لئے محمد یوسف ۔ اسد شفیق۔ عثمان واہلہ اور ندیم خان کو ذمہ داری دے دی گئی،سکولز کرکٹ کے فروغ کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ہدایت دی گئی، ڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ سے جامع پلان طلب کر لیا گیا،پچز کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے فوری کام شروع کرنے کی ہدایت کی گئی، محسن نقوی کا کہنا تھا کہ نئے ٹیلنٹ پر سرمایہ کاری سے بہترین کھلاڑی سامنے آئیں گے۔ نئےکھلاڑیوں پر بھرپور سرمایہ کاری کریں گے۔گیری کرسٹن اور جیسن گلیسپی مکمل بااختیار ہیں۔ ان پر پورا اعتماد ہے۔گیری کرسٹن اور جیسن گلیسپی کو فری ہینڈ دیا ہے ۔ امید ہے کہ دونوں بہترین نتائج دیں گے۔

    سری لنکن کپتان مستعفی،ہمارے والے اب بھی لابنگ میں مصروف

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

  • محمد حارث پاکستان شاہینز  وائٹ بال ٹیم کا کپتان مقرر

    محمد حارث پاکستان شاہینز وائٹ بال ٹیم کا کپتان مقرر

    پاکستان کے وکٹ کیپر بیٹر محمد حارث کو پاکستان شاہینز وائٹ بال ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا ہے،
    پاکستان شاہینز 4 سے 18 اگست تک ہونے والے اس دورے میں پچاس اوورز کے دو میچوں کے علاوہ نو ٹیموں کی ٹاپ اینڈ نامی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں بھی حصہ لے گی۔

    پاکستان شاہینز پہلے ہی سے ڈارون میں موجود ہے جہاں اسے بنگلہ دیش اے کے خلاف دو چار روزہ میچ کھیلنے ہیں جو 19 سے 22 جولائی تک اور 26 سے 29 جولائی تک کھیلے جائیں گے۔ اس کے علاوہ پاکستان شاہینز 50 اوور کے میچ ناردن ٹیریٹری (این ٹی) اور بنگلہ دیش اے کے خلاف بالترتیب 4 اور6 اگست کو کھیلے گی۔پاکستان شاہینز 9 اگست سے شروع ہونے والی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں بھی حصہ لے گی جس میں شریک دیگر ٹیمیں اے سی ٹی کومیٹس۔ بنگلہ دیش اے ۔ میلبرن رینیگیڈز۔ میلبرن اسٹارز ۔ پرتھ اسکارچرز – ناردرن ٹیریٹری سٹرائک – ایڈیلیڈ سٹرائکرز اور تسمانیہ ہیں۔

    پاکستان شاہینز مسلسل دوسرے سال ڈارون میں ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شرکت کرے گی۔ پچھلے سال اسے فائنل میں این ٹی اسٹرائیک نے 46 رنز سے ہرایا تھا جبکہ پاکستان شاہینز نے ون ڈے میچز میں پاپوا نیوگنی کو224 رنز سے اور ناردن اسٹرائیک کو 84 رنز سے ہرایا تھا۔

    صاحبزادہ فرحان کی قیادت میں پاکستان شاہینز کی ٹیم گزشتہ روز آسٹریلیا کے شہر ڈارون پہنچی تھی جہاں وہ بنگلہ دیش اے کے خلاف چار روزہ دو میچز کھیلیں گے،اس دورے پر دو ون ڈے اور نوٹیموں پر مشتمل وائٹ بار سیریز بھی ہوگی، جس کے لیے پی سی بی نے پاکستان شاہینز کی وائٹ بال ٹیم کا اعلان کرتے ہوئے محمد حارث کو کپتان مقرر کردیا ہے،شاہینز کی ریڈ بال ٹیم میں سات تبدیلیاں کی گئی ہیں، ریڈ بال اسکواڈ میں شامل کامران غلام، خرم شہزاد، مہران ممتاز، محمد علی، مبصر خان، طیب طاہر اور عمر امین وائٹ بال ٹیم کا حصہ نہیں ہوں گے، ان کی جگہ عبدالفصیح، عرفات منہاس، عارف یعقوب، جہانداد خان، محمد حارث،محمد عمران جونیئر اور عثمان خان شامل ہیں ۔ عثمان خان نے امریکا میں کھیلے جانے والے ورلد کپ میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی،

    محمد حارث نے آخری بار کولمبو میں اے سی سی مینز ایمرجنگ ٹیمز ایشیا کپ 2023 میں پاکستان شاہینز کی کپتانی کی تھی، فائنل میں پاکستان شاہینز نے بھارت کو 128 رنز سے شکست دے کر ٹائٹل کا کامیابی سے دفاع کیا تھا،

    اسکواڈ ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔ محمد حارث ( کپتان ) عبدالفصیح ، عرفات منہاس، عارف یعقوب، فیصل اکرم،
    حسیب اللہ ( وکٹ کیپر ) ، محمد عرفان خان، جہانداد خان، کاشف علی، محمد حریرہ ، محمد عمران جونیئر، عمیربن یوسف، صاحبزادہ فرحان، شاہنواز دھانی اور عثمان خان۔
    پلیئر سپورٹ اسٹاف ۔ عبدالرحمن ( ہیڈ کوچ ) ، محمد مسرور ( اسسٹنٹ کوچ / منیجر) ۔ محمد اسد (فزیو تھراپسٹ)، عمران اللہ (ٹرینر) اور عثمان ہاشمی (انالسٹ )۔

    وائٹ بال میچوں کا شیڈول۔
    4 اگست – 50 اوورز کا میچ بمقابلہ ناردن ٹیریٹری ( این ٹی ) ۔

    6 اگست – 50 اوورز کا میچ بمقابلہ بنگلہ دیش اے۔

    10 اگست۔ بمقابلہ پرتھ اسکارچرز۔ ( ٹاپ اینڈ ٹی ٹوئنٹی سیریز )۔

    11 اگست۔ بمقابلہ میلبرن اسٹارز ( ٹاپ اینڈ ٹی ٹوئنٹی سیریز ) ۔

    13 اگست۔ تسمانیہ ( ٹاپ اینڈ ٹی ٹوئنٹی سیریز ) ۔

    15اگست۔ میلبرن رینیگیڈز ( ٹاپ اینڈ ٹی ٹوئنٹی سیریز )۔

    16اگست۔ بمقابلہ بنگلہ دیش اے ( ٹاپ اینڈ ٹی ٹوئنٹی سیریز )

    17اگست۔ اے سی ٹی کومیٹس ( ٹاپ اینڈ ٹی ٹوئنٹی سیریز ) ۔

    سری لنکن کپتان مستعفی،ہمارے والے اب بھی لابنگ میں مصروف

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

  • تینوں فارمیٹ کھیلنے والے کھلاڑی لیگز نہیں کھیل سکیں گے:پی سی بی

    تینوں فارمیٹ کھیلنے والے کھلاڑی لیگز نہیں کھیل سکیں گے:پی سی بی

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے سٹار کرکٹرز کو انجریز اور تھکاوٹ سے بچانے کی نئی پالیسی متعارف کرا دی ہے، تین فارمیٹ ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی 20کھیلنے والے کھلاڑی لیگز نہیں کھیل سکیں گے۔پی سی بی سربراہ ، ہیڈکوچز اور شعبہ انٹرنیشنل کرکٹ آپریشنز کی ملاقات میں اس بات پر اتفاق ہوا ہے،بابر اعظم، شاہین، آفریدی، محمد رضوان، نسیم شاہ کو لیگز کے لیے فی الوقت این او سی نہ دیا جائے گا ، لیگز کھیلنے سے کھلاڑیوں پر کام کا زیادہ بوجھ پڑنے کے ساتھ فٹنس ایشوز بھی ہو سکتے ہیں ، ذرائع کا کہنا ہے کہ نسیم شاہ کو دی ہینڈرڈ، محمد رضوان، بابر اعظم ، شاہین آفریدی کے گوبل کینیڈا لیگ کے لیے این او سی نہیں ملے گا۔دوسری جانب پاکستان شاہینز برسبین پہنچ گئی، پاکستان شاہینز مقامی وقت کے مطابق رات دس بجے ڈارون پہنچے گی۔ پاکستان شاہینز آسٹریلیا کے دورے پر بنگلہ دیش اے خلاف دو چار روزہ میچوں کی سیریز کھیلے گی،دو چار روزہ میچوں کے علاوہ پاکستان شاہینز دو ون ڈے میچز اور ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں بھی حصہ لے گی۔

  • سری لنکن کپتان مستعفی،ہمارے والے اب بھی لابنگ میں مصروف

    سری لنکن کپتان مستعفی،ہمارے والے اب بھی لابنگ میں مصروف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں ٹیم کی ناقص کارکردگی پر سری لنکا کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان ونندو ہسارنگا نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ہسارنگا کا کہنا ہے کہ ٹیم کے مفاد میں یہی ہے کہ میں کپتانی سے سبکدوش ہوکر بطور عام پلیئر کھیلوں، میں بطور عام پلیئر سری لنکن ٹیم کی بہتری میں اپنا کردار ادا کرتا رہوں گا۔اب شاید صرف پاکستانی کپتان بابر اعظم ہی بچے ہیں جو ورلڈکپ میں اتنی بری پرفارمنس کے باوجود بھی غیرت نہیں کھا رہے ورنہ دنیا بھر کی ٹیمز کے پلیئر ز نے خراب کارکردگی کے بعد استعفی دیے ہیں ۔ بلکہ پورے پور ے بورڈز مستعفی ہوچکے ہیں ۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کاکہنا تھا کہ پر بابر اعظم ابھی لابنگ کر رہے ہیں اپنی خراب کارکردگی اور بدترین کپتانی کا ملبہ بھی دیگر پلیئر ز پر ڈالنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ اپنے پسندیدہ صحافیوں اور بورڈ میں موجود لوگوں کی مدد سے کوچز کی رپورٹ کی صرف وہ چیزیں باہر نکلوا رہے ہیں جس کا فائدہ ان کو اور باقیوں کو نقصان ہو ۔ اس لیے بابر بمقابلہ شاہین پوری ایک کمپین چل پڑی ہے ۔ افسوس کی بات ہے کہ ہمارے یہاں ابھی تک ٹسل چل رہی ہے کہ بابر ٹھیک تھا یا رضوان یا شاہین ۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ٹیم سیاست زدہ ہو چکی ہے ۔ کیونکہ فاسٹ بولر شاہین آفریدی کے حوالے سے خبریں سامنے آئی تھیں کہ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کو ان کے رویے کے حوالے سے شکایت کی گئی تھی کہ ان کا کوچز سے رویہ مناسب نہیں تھا ۔ اس حوالے سے مزید چھان بین کرنے پر معلوم ہوا ہے کہ شاہین آفریدی کی بیٹنگ کوچ محمد یوسف سے تلخی ہوئی تھی جو شدت اختیار کر گئی تھی، واقعہ ورلڈ کپ میں نہیں بلکہ اس سے قبل انگلینڈ کے دورے کے موقع پر پیش آیا تھا ۔ ذرائع کا کہنا ہےکہ ہیڈنگلے میں نیٹ پریکٹس کے دوران بیٹنگ کوچ محمد یوسف، فاسٹ بولر شاہین آفریدی کی نو بالز کی نشاندہی کررہے تھے، بار بار نشاندہی پر شاہین آفریدی ناراض ہوئے اور اس موقع پر دونوں کے درمیان بحث ہوئی جو شدت اختیار کرگئی تھی ۔ بعد ازاں ٹیم منیجمنٹ نے شاہین آفریدی کی سرزنش کی، شاہین آفریدی کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہوا جس پر انہوں نے ٹیم کے سامنے محمد یوسف سے معافی مانگی تھی۔ شاہین آفریدی کی جانب سے معافی مانگنےکے بعد منیجمنٹ نے معاملے کو رفع دفع کردیا تھا۔ پھر سابق فاسٹ بولر سرفراز نواز نے ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی کیلئے شان مسعود کو کپتان برقرار رکھنے اور وائٹ بال فارمیٹ کیلئے محمد رضوان کو کپتان بنانے کی حمایت کی ہے۔ بابراعظم میں اعتماد کم ہے وہ کپتانی کیلئے بہتر انتخاب نہیں۔ پھر سابق کپتان سرفراز احمد نے بھی ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کے لیے محمد رضوان کو کپتان بنانے کا مشورہ دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ محمد رضوان نے ماضی میں کے پی کے کو تمام ڈومیسٹک ایونٹس اپنے کپتانی میں جتوائے ہیں۔ سرفراز احمد نے کہا کہ اگر ہم سسٹم کو صحیح راستے پر رکھنا چاہتے ہیں تو بڑی سرجری کی ضرورت ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سرفراز نواز اور سرفراز احمد دونوں ہی مجھ سے بہتر کرکٹ کو جانتے اور سمجھتے ہیں پر مجھے لگتا ہے کہ کسی نئے لڑکے کو کپتان بنانا چاہیئے کیونکہ یہ تینوں بابر ، شاہین اور راضوان سیاست میں ملوث رہے ہیں ۔ ان میں سے کسی کو بھی دوبارہ کپتان بنایا گیا تو پھر وہ ہی گروپنگ اور سیاست ٹیم میں دوبارہ شروع ہو جائے گا ۔ یہاں ہم کو انڈین ماڈل کو اپنانا چاہیئے جب انھوں نے ٹیم میں پلیئر ز کی بڑھتی سیاست کو کنڑول کرنے کے لیے دھونی کو تمام سینئر پلیئرز پر کپتان لگا دیا اس کے بعد دھونی بھی ثابت کیا کہ ان کی سلیکشن ٹھیک تھی اور انھوں نے ون ڈے سمیت ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ٹائٹل بھی بھار ت کو جتوا کر دیا ۔ پر موجودہ صورتحال میں جس طرح شاہین آفریدی کے رویے پر میڈیا رپورٹس سامنے آنے لگی ہیں، اس سے لگتا ہے کہ شاید اگلا نشانہ وہ بنیں گے ۔کیونکہ کہا جا رہا ہے کہ سلیکشن کمیٹی اور مینجمنٹ کے بعد اب کھلاڑیوں کا نمبر بھی آسکتا ہے، ذرائع کا دعویٰ ہے کوچز کی رپورٹ میں جن کھلاڑیوں کی نشاندہی کی گئی انہیں کارروائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ ان سب میں کپتان بابر اعظم سائیڈ میں آرام سے بیٹھے تماشہ دیکھ رہے ہیں حالانکہ شکستوں کی بڑی ذمہ داری انہی پر عائد ہوتی ہے، وہ بطور قائد اور بیٹر اپنا کردار ادا نہ کر سکے، اصل سوال جواب ان سے ہونے چاہیئں، بابر کو بھی کم از کم شائقین سے معافی تو مانگنا چاہیے تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں اتنا جانتا ہوں کہ گزشتہ ایک دو سال میں وہاب ریاض نے بڑا عروج دیکھا ہے ، نگراں حکومت میں جھنڈے والی گاڑی میں گھومتے رہے،لاہور کی بارش میں ان کے دورے کی تصاویر اور ویڈیوز آپ نے بھی دیکھی ہوں گی۔ جتنی جلدی ان کے عروج کو زوال آیا اتنا بہت کم ہی دیکھا گیا ہے ۔ جب ذکا اشرف چیئرمین پی سی بی بنے تو وہاب کو چیف سلیکٹر کی ذمہ داری سونپ دی گئی، محمد حفیظ سابق بورڈ چیف کے بہت قریب ہیں، ان کے تجویز کردہ ناموں میں وہاب بھی شامل تھے،وہ کمیٹی کا سربراہ بن گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چند ہی روز بعد دونوں میں اختلاف ہو گیا، وہاب میچ فکسنگ میں جیل جانے والے سابق کرکٹر سلمان بٹ کو کمیٹی میں لے آئے، اس پر طوفان برپا ہوگیا،حفیظ کا کہنا تھا کہ سلمان کو فیصلہ سازی کا حصہ نہیں ہونا چاہیے، حکومتی مداخلت پر ذکا اشرف کو فیصلہ تبدیل کرنا پڑا، بعد میں سابق وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے میٹنگ میں جب سلمان کی شمولیت پر سوال کیا تو ورچوئل طور پر شریک حفیظ نے فیصلے کی ذمہ داری وہاب پر ڈال دی، اس سے تعلقات میں اور گہری لکیر آ گئی،سلیکشن معاملات میں بھی اختلافات ہوئے، پھر جب بورڈ میں تبدیلی آئی اور محسن نقوی چیئرمین بن گئے تو حفیظ کو ملاقات کا وقت بھی نہیں ملا اور فارغ کر دیا گیا، شاید ان کے دل میں یہ بات آتی ہو کہ وہاب اس پر کیوں چپ رہا۔ نگراں حکومت میں محسن نقوی کے ساتھ کام کرنے والے وہاب ریاض چیف کے بغیر نئی سلیکشن کمیٹی میں بھی برقرار رہے، ان کی رائے پر ہی ہر فیصلہ ہوا کرتا تھا، پھر ان کے لیے سینئر منیجر کا عہدہ تخلیق کرتے ہوئے برطانیہ اور امریکا بھی بھیج دیا گیا، اس وقت تک وہ پاکستان کرکٹ کی دوسری طاقتور ترین شخصیت تھے، کھلاڑی یہ باتیں کرنے لگے تھے کہ ۔۔وہاب بھائی بدل گئے۔۔ پھر ورلڈکپ آیا اور وہاب بھائی کی قسمت ہی بدل گئی۔ امریکا میں چند ڈالرز دے کر کھلاڑیوں کے ساتھ تقریب میں تصاویر بنوانے کا اشتہار سامنے آیا، رات گئے تک پلیئرز کے ہوٹل سے باہر رہنے کی باتیں افشا ہوئیں۔ وہ کہتے ہیں نا ۔ ۔ تھوڑی میں بہوتا پڑ گیا ۔ کچھ ایسا ہی وہاب کے ساتھ ہوا ہے ۔

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی