آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ جاری،بنگلہ دیش سے شکست کے بعد پاکستان 59 سال کی بدترین پوزیشن پر چلا گیا
بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے کہا کہ پاکستان بدھ کے روز تقریباً چھ دہائیوں میں اپنی ٹیسٹ رینکنگ میں گر کر بدترین سطح پر پہنچ گیا ہے،منگل کو راولپنڈی میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ میں بنگلہ دیش نے پاکستان کو چھ وکٹوں سے شکست دی،اور سیریز جیت لی،بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے کہا کہ بنگلہ دیش کے خلاف شکست کے بعد پاکستان ٹیسٹ رینکنگ میں چھٹے سے آٹھویں نمبر پر آ گیا ہے،
آئی سی سی نے کہا کہ یہ 12 ٹیموں کے ٹیبل میں "1965 کے بعد سے ان کی سب سے کم درجہ بندی ہے”، جس میں آسٹریلیا سرفہرست ہے اس کے بعد ہندوستان اور انگلینڈ ہیں۔بنگلہ دیش تازہ ترین درجہ بندی میں نویں نمبر پر ہے۔بابر اعظم ٹیسٹ فارمیٹ میں مسلسل ناقص کارکردگی کی وجہ سے ٹیسٹ رینکنگ میں پانچ سال بعد ٹاپ 10 سے باہر ہوگئے ہیں اب بابر اعظم کا 12واں نمبر ہے، دسمبر 2019 کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ بابر اعظم آئی سی سی ٹیسٹ کرکٹ کے 10 بہترین بلے بازوں کی لسٹ سے آؤٹ ہوئے ہیں،بابر اعظم سوشل میڈیا پر تو مشہور لیکن میدان میں زیرو ثابت ہوتے ہیں، بابر اعظم کی توجہ کھیل کی بجائے کہیں اور ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ بابر اعظم نے بنگلہ دیش کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی چار اننگز کے دوران بیٹنگ کرتے ہوئے محض 64 رنزاسکور کیےبابراعظم نے دسمبر 2022 سے لے کر اب تک ٹیسٹ فارمیٹ میں کوئی بھی سینچری بھی اسکور نہیں کی جبکہ آخری 16 اننگز میں وہ کوئی ففٹی تک نہ بنا سکے،
کامران اکمل کا کہنا تھا کہ ٹیم اس وقت کنفیوز ہے، کیا ٹیم ہونی چاہے، پرفارمنس نہیں ہے، غلطیاں سب اپنی ہیں، بنگلہ دیش جو سب سے باٹم کی ٹیم ہے وہ ہمیں ہرا کر چلی گئی، ہمارا گراف نیچے جا رہا ہے، غلطیوں کی وجہ سے ایسا ہو رہا، اچھی کرکٹ کیوں نہیں ملی، یہ بہت المیہ ہے.
کراچی : پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن (پی سی ایف) کے زیر سرپرستی، سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے اشتراک سے نیشنل ڈیفنس اینڈ ایئر فورس ڈے سائیکل ریس کا انعقاد 8 ستمبر 2024 کو کراچی سے حیدرآباد تک ہوگا۔ اس ایونٹ کا مقصد نہ صرف سائیکلنگ کو فروغ دینا ہے بلکہ پاکستان کی مسلح افواج کے ساتھ یکجہتی کا اظہار اور ہمارے عظیم شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنا بھی ہے۔ریس میں ایلیٹ اور امیچر مرد سائیکل سوار حصہ لیں گے، جبکہ ایلیٹ خواتین کے لیے بھی اوپن سائیکل ریس کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس ریس میں پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن کے تمام ملحقہ یونٹوں کی نمائندگی کرنے والے سائیکلسٹس شامل ہوں گے۔ ان سائیکلسٹس کا تعلق ملک بھر سے ہے، جو پاکستان میں سائیکلنگ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور مسابقتی جذبے کو اجاگر کرنے کے لیے اہم کردار ادا کریں گے۔ یہ سائیکل ریس 8 ستمبر کی صبح 9 بجے کراچی میں سوئی سدرن کے ہیڈ آفس سے شروع ہوگی۔ ریس کا اختتام حیدرآباد ٹول پلازہ پر ہوگا، جہاں تمام شرکاء اپنے ہنر کا مظاہرہ کریں گے اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں گے۔
اس تقریب میں پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن کے صدر سید اظہر علی شاہ، سوئی سدرن گیس کمپنی کے عہدیداران، اور دیگر معززین کی شرکت متوقع ہے۔ سیکرٹری سوئی سدرن اسپورٹس بورڈ، آصف انصاری کو پی سی ایف نے چیئرمین آرگنائزنگ کمیٹی جبکہ سوئی سدرن کے سردار نزاکت علی کو آرگنائزنگ سیکرٹری نامزد کیا ہے۔ہمیشہ کی طرح، پی سی ایف کے ٹیکنیکل عہدیداروں اور کمیشنرز کی ایک نامزد ٹیم اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ریس کے دوران تمام حفاظتی اقدامات پر عمل ہو۔ اس ریس کو منصفانہ اور مسابقتی بنانے کے لیے تمام قواعد و ضوابط کی پابندی کی جائے گی۔اس ریس کا مقصد سائیکلنگ کو ایک قومی کھیل کے طور پر فروغ دینا ہے۔ یہ مقابلہ نہ صرف سائیکلسٹس کے درمیان مسابقت کو فروغ دے گا بلکہ انہیں ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرے گا جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکیں۔سوئی سدرن کے سائیکلسٹ علی الیاس نے حال ہی میں الماتی، قازقستان میں منعقدہ ایشین سائیکلنگ چیمپیئن شپ میں پاکستان کے لئے دو طلائی تمغے حاصل کرکے پاکستان کے سائیکلنگ میدان میں ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ ان کی یہ شاندار کامیابی اس ریس میں حصہ لینے والے دیگر سائیکلسٹس کے لیے ایک حوصلہ افزا پیغام ہے۔
پی سی ایف اور سوئی سدرن گیس کمپنی دونوں ہی اس قومی سائیکل ریس کے بہترین انعقاد کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ ایونٹ پاکستان میں سائیکلنگ کے فروغ کے لیے ایک مثبت قدم ہوگا اور قومی یکجہتی کی مثال قائم کرے گا۔ اس سے نہ صرف کھیل کے میدان میں ترقی ہوگی بلکہ عوام کے دلوں میں حب الوطنی کا جذبہ بھی بیدار ہوگا۔
یونیورسٹی کے کھلاڑیوں نے کل 233 تمغے حاصل کیے ہیں، جن میں سال 2023-24 کے دوران مختلف قومی اور بین الاقوامی چیمپئن شپ میں 32 طلائی، 56 چاندی اور 145 کانسی کے تمغے شامل ہیں۔
یہ نمایاں کامیابی ایچ ای سی کے عزم اور لگن کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایچ ای سی اعلیٰ تعلیمی اداروں میں طلبہ کو تعلیم کی تکمیل کے ساتھ ساتھ کھیلوں میں بہتر کارکردگی دکھانے کی سہولیات کی فراہمی کویقینی بناتا ہے۔ ایچ ای سی، جامعات کے طلبہ کوکھیلوں میں شرکت کرنے اور ان کو بہترین کھیل دکھانے کے لیے ٹریننگ کی فراہمی بذریعہ کوچزیقینی بناتا ہے، یہی نہیں، ان کھلاڑیوں کو میرٹ اور جانچ پڑتال کے بعد انعامی رقم اور وظائف بھی جامعات کی وساطت سے باقاعدگی سے تقسیم کیے جاتے ہیں۔جامعات میں زیر تعلیم ایچ ای سی کی خواتین کھلاڑیوں نے قومی چیمپئن شپ میں 17 طلائی، 25 چاندی اور 21 کانسی کے تمغے جیت کر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا جبکہ خواتین کھلاڑیوں نے بین الاقوامی چیمپئن شپ میں 2 چاندی کے اور تین کانسی کے تمغے بھی حاصل کیے۔ ایچ ای سی کے ان نوجوان کھلاڑیوں نے 34ویں نیشنل گیمز میں پیشہ ورانہ کھلاڑیوں کا مقابلہ کیا اور 8 طلائی کے، 17 چاندی کء اور 93 کانسی کے تمغے حاصل کرکے بہترین ٹرن آؤٹ ٹرافی کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔
ایچ ای سی اور تعلیمی برادری کھیلوں کے اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے جامعات کے طلباء کو بے مثال مواقع فراہم کرنے کے لیے چیئرمین ایچ ای سی اور یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی بھرپور سرپرستی میں مسلسل کام کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان یونیورسٹی سپورٹس بورڈ کے آئین اور رولز میں بھی ترمیم کی گئی ہے جس کے تحت ایچ ای سی نے انعامی رقوم میں بھی نظر ثانی کی گئی ہے۔ مزید برآں، پرائم منسٹرز یوتھ پروگرام کے تحت ایچ ای سی ملک بھر کی نجی یونیورسٹیوں میں 12 سپورٹس اکیڈمیاں قائم کر رہا ہے تاکہ کھیلوں کا انفراسٹرکچر قائم کیا جا سکے جو کھلاڑیوں کی ترقی اور پیشہ ور کھلاڑیوں میں تبدیلی کے لیے چوبیس گھنٹے استعمال ہو سکیں۔اس کے علاوہ، 15 سے 25 سال کی عمر کے نوجوانوں میں کھیلوں کی مہارت، ہم آہنگی اور ٹیم ورک کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے مختلف کھیلوں میں ملک گیر ٹیلنٹ ہنٹ مہم کو بھی کامیابی کے ساتھ انجام دیا جا رہا ہے۔پاکستانی کھیلوں کے بہتر مستقبل کے لیے ایچ ای سی اپنا متحرک کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
بنگلہ دیش میں قتل کے مقدمے میں نامزد کھلاڑی اور عوامی لیگ کے سابق رکن اسمبلی شکیب الحسن پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتنے کے بعد دیگر کھلاڑیوں کے ہمراہ بنگلہ دیش واپس نہیں جا رہے
بنگلہ دیشی ٹیم کی واپسی کے لیے کراچی ائیرپورٹ پہنچ گئی ہے، کھلاڑی اور آفیشلز رات گئے اسلام آباد سے کراچی پہنچے تھے جہاں انہوں نے رات کو کراچی کے ہوٹل میں قیام کیا،بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم اور آفیشلز دو مختلف پروازوں سے وطن واپس جا رہے ہیں، بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کراچی سے دبئی اور دوحہ کے راستے بنگلہ دیش پہنچے گی،تاہم ائیرپورٹ ذرائع کا بتانا ہے کہ بنگلا دیش کرکٹ ٹیم کے سینئر کھلاڑی شکیب الحسن بنگلہ دیش واپس نہیں جا رہے، شکیب الحسن فی الحال کراچی سے دبئی چلے گئے ہیں، شکیب الحسن رات کو ٹیم سے الگ ہو کر تنہا کراچی سے دبئی گئے ہیں،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ میں ویڈیو بنانے لگا تھا اور بتانا تھا کہ بنگلہ دیش سے پاکستان ہار جائے گا،لیکن پھر میں نے کہا کہ اللہ کرے جیت جائے، پھر صبح تک کا میں نے انتظار کیا، صبح ایک ویڈیو بھی ریکارڈ کی اور بتایا کہ لگتا ہے کہ دو گھنٹے کے بعد یہ ختم ہوجانا ہے معاملہ ہمارا، ہولڈ کر لی میں نے وہ ویڈیو، ہمت نہیں ہو رہی تھی، انسان پاکستان کا برا سوچ نہیں سکتا جو پاکستانی ہو، دوسرا پاکستان کے خلاف شرط نہیں لگا سکتا یہ بہت مشکل کام ہے
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کمال کی بات ہے کہ بنگلہ دیش سے ہم پہلا ٹیسٹ میچ ہار گئے، بنگلہ دیش سے ہم سیریز ہار گئے،ہوم سیریز ہار گئے، اس سے پہلے ہم امریکہ، آئرلینڈ، افغانستان سے ہارے، یہ سب ایک سال میں ہوا، جب انڈیا میں ورلڈ کپ ہو رہا تھا اور سایہ کارپوریشن کا بھانڈا میں نے پھوڑا تھا تو "آلو” نے بڑی باتیں کی تھی اور کچھ لوگ اس کے فیور میں آکر وی لاگ کر رہے تھے، یہ کھیل نہیں تم لوگوں نے بنایا ہوا ہے پیسے کمانے کا،بھائی جان نے ریزائن کر دیا کہ جب تک میرے اوپر ثابت نہیں ہوتا میں نہیں آؤں گا، میں نے تو اس وقت چھ کھلاڑیوں کے نام دیئے تھے، کل ذکا اشرف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ 166 کھلاڑی سایہ کارپوریشن کے کنٹریکٹ میں ہیں، تو انہوں نے ہی ٹیم میں ہونا ہے پھر ٹیم میں سٹہ،جوا، لڑائیاں ،جھگڑے چلنے ہیں، پھر ٹیم ایک نہیں ہونی، بڑا واویلا مچا تھا پھر ذکا اشرف نے کہا کہ ہمیں موقع دینا چاہئے انکوائری کر رہا ہوں ،کیا نتیجہ نکلا، یہ بورڈ بھی کرمنل ہے کیونکہ یہ جھوٹ بولتے، دھوکہ دیتے ہیں،نیشنل سٹیڈیم، قذافی سٹیڈیم کو گرا کر دوبارہ بنائیں گے کیونکہ اربوں کے ٹھیکے ہیں، اب اگلے ماہ انگلینڈ نے آنا ہے اور کوئی میڈیا رائٹس لینے کو تیار نہیں ہے، یہ بنگلہ دیش سے ہار میں کافی چیزیں ہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کرکٹ کیا ہوئی،کیا نہیں ہوئی شاہین آفریدی نے 127 پر گیند پھینکی، یہ باتیں توکوئی کرکٹر کرے گا تو بہتر ہو گا، وہ عاقب جاوید،ظہیر عباس و دیگرکریں ، میں کچھ اور باتیں بتانے لگا ہوں، بنگلہ لیگ کو ن کون کھیل رہا تھا، میں اب چیلنج کر رہا ہوں کتنے پیسے یہ لیگلی پاکستان میں لے کر آئے، بنگلہ لیگ دنیا کی سب سے کرپٹ لیگ ہے،ہر کھلاڑی بتائے گا آنے والے میچز،سیریز کی بکنگ ،پیمنٹ وہیں پر ہوتی ہیں، آج اگر ایف آئی اے انکوائری کر لے، محسن نقوی کے انڈر ہے، وہ انکوائری کروائیں کہ کتنے کھلاڑی ہیں جن کے دبئی اوریو کے میں اکاؤنٹس ہیں، پھر آئیں میرے اوپر کیس کریں، کیس تو ہم آپ کے اوپر کریں گے، تم نے ہر وقت ملک کو بے عزت کروایا، سوال پوچھو توسیلفیاں کھنچوانے کے ڈالر لیتے ہو، یہ ورلڈ کپ کھیلنے گئے تھے، کتنے کھلاڑیوں نے باہر کی نیشنلٹی کے لئے اپلائی کیا ہوا، سب پتہ ہے، انہوں نے سب پیسہ باہر رکھا ہوا، محسن نقوی وزیر داخلہ بھی ہیں کر لیں انکوائری ، دودھ کا دودھ ،پانی کا پانی ہو جائے گا اور وہ جو اپنے آپ کو کنگ کہتا تھا کنگ اس وقت تھا جب کراچی کنگ کے لئے کھیلتا تھا اب تو کوئین بھی نہیں کہہ سکتے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں نے کہا تھا کہ سایہ کارپوریشن سب کو لے ڈوبے گی، آئیں ناں کیس کریں، میں یہیں بیٹھا ہوں، تین چار ہفتے بعد انگلینڈ کی ٹیم آ رہی ہے، کوچز کو پی سی بی بزنس کلاس ٹکٹ دے رہی ہے، یہ چھٹیوں پر باہر جا رہے ہیں، تین ہفتے کا انگلینڈ ٹیم کے آنے سے قبل کیمپ لگنا چاہئے لیکن نہیں ہماری ڈیل ہی ایسی نہیں ہیں،اب پتہ چل گیا میں کہہ رہا تھا کہ یہ منہ کالا کروانے والے پلیئر ہیں اورپھر ان کے فین جو پاکستان سے عشق کرتے ہیں وہ انکے جھوٹ سے مرعوب ہو جاتے ہیں،بنگلہ دیش نے اس طرح مارا، ذرا شرم کر لیتے، چالیس چالیس کی عمر میں آ کر سیکھنا ہے آپ لوگوں نے تو بڑا کب ہونا ہے.
راولپنڈی ٹیسٹ میں بنگلادیش ٹیم کے ہاتھوں قومی ٹیم کی شکست کے بعد سوشل میڈیا پر افواہوں اور میمز کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ وائٹ بال کپتان بابر اعظم کی ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کی خبریں تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔بابر اعظم کی بنگلادیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں ناقص کارکردگی کے باعث انہیں شدید تنقید کا سامنا ہے، اور سوشل میڈیا پر ان کی ریٹائرمنٹ کے حوالے سے جعلی پوسٹیں اور میمز گردش کرنے لگی ہیں۔ ان میں سے کچھ پوسٹس اور میمز اس قدر حقیقی معلوم ہوئیں کہ کرکٹ شائقین بھی دھوکہ کھا گئے۔بابر اعظم کی مسلسل ناکامیوں کی وجہ سے ان کے ناقدین نے ان کی ریٹائرمنٹ کا مطالبہ شروع کر دیا ہے۔ دوسرے ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں وہ محض 11 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے تھے، جبکہ انہوں نے پچھلی 106 ٹیسٹ اننگز میں صرف 331 رنز بنائے ہیں، جن میں کوئی نصف سنچری شامل نہیں ہے۔سوشل میڈیا پر کرکٹ شائقین دو حصوں میں تقسیم ہو گئے ہیں؛ ایک طرف کچھ صارفین بابر اعظم کو ریٹائرمنٹ کا مشورہ دے رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف کچھ لوگ ان سے مزید محنت کرکے بہتر کارکردگی دکھانے کی توقع کر رہے ہیں۔
پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان شان مسعود نے بنگلہ دیش سے سیریز میں تاریخی وائٹ واش پر مایوسی کا اظہار کیا ہے
پریس کانفرنس کرتے ہوئے شان مسعود کا کہنا تھا کہ ہوم سیزن کی شروعات شکست سے ہوئی ہے، جس پر مایوسی ہے،ہم نے اس سیریز کا 10 مہینے تک انتظار کیا تھا اور دونوں میچز میں بنگلہ دیش ٹیم کو آؤٹ کر سکتے تھے، لیکن ایسا نہ کر سکے، ہم اچھا کھیل پیش نہ کرنے پر قوم سے معافی چاہتے ہیں، پاکستان نے سیریز میں بہت غلطیاں کیں اور بنگلہ دیش نے ہم سے زیادہ ڈسپلن سے کرکٹ کھیلی، شکست پر بہت مایوسی ہوئی ہے، ٹیسٹ کرکٹ میں بولر اور بیٹرز کےلیے فٹنس بہت اہم ہوتی ہے ، فٹنس کا معیار بہتر کرنے کی ضرورت ہے، ہم نے دو بہترین مواقع ضائع کردیے اور ٹیسٹ کرکٹ میں ہمیں اپنی مینٹل اور فزیکل فٹنس کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے،فٹنس چار پانچ دن کی ہوتی ہے، ہم نے کافی بار اس سیریز میں دیکھا،ہمیں اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے، جب ہم دس ماہ بعد ٹیسٹ میچ کھیلیں گے اور بیچ میں ریڈ بال نہیں کھیلیں گے تو ہمیں سب کو توجہ دینی ہو گی،
شان مسعود کا مزید کہنا تھا کہ ہم ہوم سیریز کے لیے پُرچوش تھے، مگر اس سیریز کا نتیجہ بھی آسٹریلیا کی سیریز کی طرح ہی نکلا،میری کپتانی میں یہ چوتھی مرتبہ ہے کہ ہم حریف ٹیم پر سبقت لیے ہوئے تھے اور میچ ہار گئے، دوسری اننگز میں دباؤ ہوتا ہے جس پر پاکستان کو کام کرنا ہو گاپاکستان کو وکٹیں یکے بعد دیگرے گرنے پر کام کرنا ہو گا، کپتانی تبدیلی کے لیے قبول کی تھی، جتنا بھی وقت ملے گا بطور کپتان اپنا 100 فیصد دوں گا، میلبرن ٹیسٹ ہمارے ہاتھ میں تھا جو نہیں جیت پائے،پاکستانی کھلاڑیوں کو ریڈ بال کا تجربہ دینا ہو گا، شاہین آفریدی نے گزشتہ چند عرصے سے تینوں فارمیٹس کی کرکٹ کھیلی ہے، نسیم شاہ کئی ماہ بعد کم بیک کر رہے ہیں، تمام صورتِ حال کو دیکھنا پڑے گا، پاکستان کے کئی کھلاڑیوں کو ٹیسٹ کرکٹ کھیلے 10 ماہ ہو گئے، خرم شہزاد بد قسمتی سے آج بولنگ کے لیے دستیاب نہیں تھے، پاکستان نے مکمل کوشش کی، میچز نہیں پکڑ پائے، میر حمزہ اور محمد علی نے لمبے اسپیل کروائے، ٹیسٹ کرکٹ سب سے بڑا فارمیٹ ہے جس میں تجربہ چاہیے، ٹیسٹ کرکٹ زیادہ کھیلنی پڑے گی، ڈومیسٹک کرکٹ بھی زیادہ کھیلنی ہو گی۔
شان مسعود کا مزید کہنا تھا کہ قوم سے ہاتھ کھڑا کر کے معذرت کرتے ہیں،ہم اچھا نہیں کھیلے، پاکستان کی کرکٹ کو بہتر کرنا چاہتے ہیں، مداحوں سے ہمیشہ پیار ملا ہے، نتیجے پر بہت افسوس ہے، پچ اور ٹیم پر کبھی سوال نہیں اٹھایا، پچ کو تبدیل کرنے کی کوشش کی، فلیٹ وکٹیں بناتے تو پھر بات کی جاتی، ہمیں نظر آ رہا ہے کہ کہاں بہتری لانے کی ضرورت ہے
دوسری جانب بنگلادیشی کپتان نجم الحسین شانتو نے جیت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیریز میں ہمارے فاسٹ بولرز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ،جیت کا سہرا تمام کرکٹرز کے سر ہے،مہدی حسن میراز محنتی کرکٹر ہیں اور وہ تسلسل کے ساتھ اچھی کارکردگی دے رہے ہیں، سیریز میں بھی مہدی حسن میراز نے شاندار کارکردگی دکھائی۔
بنگلہ دیش نے پاکستان کو دوسرے ٹیسٹ میچ میں چھ وکٹوں سے شکست دے دی، بنگلہ دیش ٹیسٹ سیریز جیت گیا،
بنگلہ دیشی ٹائیگرز نے پاکستانی شاہینوں کو ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش کر دیا،سیریز دو صفر سے اپنے نام کرلی۔گرین شرٹس کو ہوم گراؤنڈ پر سیریز کی شکست نے پاکستان ٹیم کی کارکردگی کو بے نقاب کردیا، دوسرا ٹیسٹ بھی بنگلہ دیش نے 6 وکٹوں سے جیت لیا ۔انتہائی کشیدہ ملکی سیاسی صورتحال میں بنگالی ٹائیگرزکا مورال تمام سیریز کےدوران ہائی رہا،بنگلا دیش نے سیریز میں دو صفر سے کلین سوئپ کیا، پاکستان کرکٹ ٹیم تاریخ میں دوسری مرتبہ اپنی سرزمین پر حریف کے ہاتھوں وائٹ واش کا سامنا کرنا پڑا ، بنگلا دیش نے دونوں میچز باآسانی جیتے، دوسرے ٹیسٹ میں 185 رنز کے ہدف کے تعاقب میں مہمان ٹیم بنگلہ دیش نے چار وکٹوں کے نقصان پر ہدف حاصل کرلیا،بارش اور خراب روشنی کے باعث چوتھے دن کا کھیل جلد ختم کردیا گیا تھا اور آج مہمان ٹیم نے اپنی اننگز 42 رنز سے آگے بڑھائی۔
ٹیسٹ میچ کے پہلے دن کا کھیل بارش کی وجہ سے منسوخ ہوگیا تھا اور ٹاس بھی نہ ہوسکا تھا پھر دوسرے دن پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 274 رنز بنائے جس کے جواب میں مہمان ٹیم 262 رنز بنا کر 12 رنز کے خسارے میں چلی گئی تھی، پاکستان ٹیم نے 12 رنز کی برتری کے ساتھ اپنی دوسری اننگز آگے بڑھائی اور 172 رنز پر ڈھیر ہوگئی اور یوں بنگلا دیش کو جیت کے لیے 185 رنز کا ہدف ملا۔
اس سے قبل پنڈی میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں بھی بنگلادیش نے قومی ٹیم کو دس وکٹوں سے شکست دی تھی
قومی کرکٹ ٹیم کے سابق چیف سلیکٹر محمد وسیم نے انکشاف کیا ہے کہ بابراعظم انتہائی ضدی ہیں اور سلیکشن کمیٹی کی طرف سے تجویز کردہ اسکواڈ میں تبدیلیوں کو نہیں مانتے
ایک انٹرویو میں محمد وسیم کا کہنا تھا کہ اسکواڈ میں تبدیلیوں کے حوالے سے بابراعظم کو سمجھانا بہت مشکل تھا کیوں کہ وہ ضدی تھے اور مزاحمت کرتے تھے، بابر ٹیم یا اسکواڈ میں تبدیلیاں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے،ٹی20 ورلڈکپ کے دوران آل راؤنڈر عماد وسیم کی انجری چھپائی گئی، ہم ہمیشہ اعظم خان کے فٹنس لیول کے بارے میں بات کرتے ہیں لیکن عماد بھی اسی مسئلے کا شکار ہیں،عماد کو اسی وجہ سے اسکواڈ سے ڈراپ کیا گیا تھا کہ وہ اپنی فٹنس پر کام کرسکیں۔
محمد وسیم کا مزید کہنا تھا کہ میں کسی کا نام نہیں لوں گا لیکن ٹیم میں چار کوچز کی وجہ سے مختلف گروپس بن چکے ہیں جو کینسر کی شکل اختیار کررہے ہیں، اگر وہ اسکواڈ کا حصہ ہیں تو پاکستان جیت نہیں سکتا، میں نے انہیں ٹیم سے ہٹانے کی کوشش کی لیکن ٹیم انتظامیہ نے انہیں واپس بلا لیا
بنگلہ دیش اور پاکستان کی ٹیموں کے مابین راولپنڈی میں ٹیسٹ میچ کھیلا جا رہا ہے،
دوسرے ٹیسٹ میچ کے چوتھے دن پاکستان کی بیٹنگ لائن ناکام رہی، پاکستان کی پوری ٹیم 172 رنز پر آؤٹ ہو گئی،پاکستان نے مہمان ٹیم بنگلہ دیش کو جیت کے لئے 185 رنز کا ہدف دے دیا،پاکستان کے کھلاڑی عبداللہ شفیق 3، خرم شہزاد صفر، صائم ایوب 20، شان مسعود 28 ،بابر اعظم 11 ، سعود شکیل 2، محمد رضوان 43، محمد علی صفر، ابرار احمد دو اورمیر حمزہ 4 رنز بناکر آؤٹ ہوئے،جبکہ سلمان علی آغا 47 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔
راولپنڈی میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ کے چوتھے دن کا آغاز پاکستان نے دو وکٹوں کے نقصان کے ساتھ 21 رنز کی برتری سے کیا،کھیل کے تیسرے دن پاکستان کی دو وکٹیں چوتھے اوور میں گرگئی تھیں، عبد اللہ شفیق 3 اور خرم شہزاد بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے،کھیل کے تیسرے دن پہلے گھنٹے پاکستانی بولرز چھائے رہے اور 6 کھلاڑیوں کو پویلین بھیج دیا مگر پھر وکٹ کیپر بیٹر لٹن داس کے 138 اور مہدی حسن کے 78 رنز کی بدولت بنگلادیشی ٹیم پہلی اننگز میں 262 رنز بنا سکی اور 12 رنز کے خسارے میں چلی گئی،ان دونوں بیٹرز نے ساتویں وکٹ پر 165 رنزکی شراکت لگائی، پاکستان کی جانب سے خرم شہزاد نے 6 جب کہ میر حمزہ اور سلمان علی آغا نے 2 ، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
دوسری جانب بنگلا دیشی بیٹر لٹن داس نے کہا ہے کہ دوسرے ٹیسٹ کی وکٹ بیٹنگ کو مدد نہیں کر رہی ہے، ابتدا میں صرف 26 رنز پر 6 کھلاڑی آؤٹ ہوئے تو کچھ دباؤ ضرور تھا مگر مہدی حسن میراز نے مثبت سوچ کے ساتھ بیٹنگ کی اور پاکستانی بولنگ لائن کا دباؤ کم کیا،