Baaghi TV

Category: کھیل

  • ورلڈ کپ سیمی فائنل:بھارتی بورڈ نے آئی سی سی کی اجازت کے بغیر  پچ تبدیل کردی

    ورلڈ کپ سیمی فائنل:بھارتی بورڈ نے آئی سی سی کی اجازت کے بغیر پچ تبدیل کردی

    ممبئی: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ون ڈے ورلڈکپ 2023 کے پہلے سیمی فائنل میں بھارتی کرکٹ بورڈ پر اپنی مرضی کے مطابق پچ تبدیل کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: برطانوی خبر رساں ادارے ڈیلی میل کے مطابق بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے آئی سی سی کی اجازت کے بغیر سیمی فائنل کی پچ بدل ڈالی، بھارتی کرکٹ بورڈ پر سیمی فائنل میں اپنے اسپنرز کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کا الزام لگایا گیا ہے، سیمی فائنل ایسی پچ پر ہورہا ہے جو پہلے ہی دو بار استعمال ہو چکی ہے۔

    آئی سی سی ایونٹس میں پچز گورننگ باڈی کے کنسلٹنٹ اینڈی ایٹکنسن کی نگرانی میں تیار کی جاتی ہیں جو ہوم بورڈ کے ساتھ پیشگی رضامندی ظاہر کرتے ہیں کہ اسکوائر پر موجود نمبر والی پٹیوں میں سے کون سی پچ میچ کے لیے استعمال کی جائے گی۔

    کپل دیو بابر اعظم کی حمایت میں بول پڑے

    برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا کہ ٹورنامنٹ اپنے عروج پر پہنچنے کے ساتھ ہی اس معاہدے کو نظر انداز کر دیا گیا ہے اور سیمی فائنل ایک ایسی پچ پر کھیلا جائے گا جو پہلے ہی دو بار استعمال کی جا چکی ہے جس سے ممکنہ طور پر بھارت کے عالمی معیار کے اسپنرز کو مدد ملے گی کیونکہ وہ 2011 کے بعد پہلی بار 50 اوورز کے ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچنا چاہتے ہیں۔

    ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق نیوزی لینڈ اور بھارت کے درمیان سیمی فائنل اسٹیڈیم کی پچ نمبر 7 پر ہونا تھا جس پر ابھی تک ورلڈکپ کا کوئی میچ نہیں کھیلا گیا بھارتی بورڈ نے پچ نمبر6 پر میچ کرانے کا فیصلہ کیا جس پر پہلے ہی 2 میچ کھیلے جاچکے ہیں پچ نمبر 6 پر بھارت کا سری لنکا اور انگلینڈ کا جنوبی افریقا سے میچ ہوا تھا، پچ نمبر 6 پر بھارت نے سری لنکن ٹیم کو 55 رنز پر آؤٹ کر کے یک طرفہ میچ اپنے نام کیا تھا،فائنل میں پہنچنے کی صورت میں بھارتی بورڈ کی جانب سے نریندرا مودی اسٹیڈیم احمد آباد کی پچ بھی مرضی سے تبدیل کی جاسکتی ہے۔

    بابراعظم کی کپتانی ختم، استعفیٰ نہ دیا تو بورڈ نے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا

    انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان ٹورنامنٹ کا افتتاحی میچ پہلے سے طے شدہ پچ نمبر 6 پر کھیلا گیا تھا لیکن اگلے تین میچوں میں سے کوئی بھی شیڈول کے مطابق نہیں تھا اور ایٹکنسن نے آئی سی سی کو ایک ای میل میں کہا تھا کہ یہ تبدیلیاں مناسب نوٹس یا پیشگی انتباہ کے بغیر کی گئی ہیں،یہ معاملہ اس وجہ سے پیچیدہ تھا کہ انہیں آئی سی سی کے سینئر ایونٹس منیجر نے وینیو پر بتایا کہ 14 اکتوبر کو بھارت اور پاکستان کے درمیان میچ شیڈول کے مطابق پچ نمبر 7 پر ہوا تھا جب کہ وہ دراصل پچ نمبر 5 تھی۔

    ڈیلی میل کے مطابق ایٹکنسن نے سفارش کی کہ فائنل بھی پچ نمبر 5 پر کھیلا جائے، جسے صرف ایک بار استعمال کیا گیا ہے حالانکہ انہیں پچھلے ہفتے معلوم ہوا کہ دو بار استعمال ہونے والی پچ نمبر 6 کو منظوری مل سکتی ہے جس سے بھارتی اسپنرز دوبارہ میدان میں آسکتے ہیں۔

    سابق کر کٹرز کی منفی تنقید سے ٹیم حوصلہ ہار جاتی ہیں،رمیز راجا

  • بابراعظم کی کپتانی ختم، استعفیٰ نہ دیا تو بورڈ نے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا

    بابراعظم کی کپتانی ختم، استعفیٰ نہ دیا تو بورڈ نے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا

    بابراعظم کی کپتانی ختم، استعفیٰ نہ دیا تو بورڈ نے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا
    آئی سی سی ورلڈ کپ میں شکست،بابر اعظم کو لے ڈوبی، پی سی بی نے بابراعظم کو کپتانی سے فارغ کرنے کا فیصلہ کر لیا، نجی ٹی وی کے مطابق ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی 20 کپتان بابر اعظم اب بطور کھلاڑی کھیلیں گے،نجی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ ذرائع کا کہنا ہے کہ بابر اعظم بطور کپتان استعفیٰ دینگے تو بورڈ قبول کر لے گا تاہم دوسرے آپشن کے طور پر بورڈ نے بابر اعظم کو کپتانی سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے،

    دورہ آسٹریلیا میں شان مسعود ٹیسٹ کپتان بننے کے مضبوط امیدوار ہیں جبکہ دورہ نیوزی لینڈ میں ٹی 20 قیادت کیلئے شاہین آفریدی مضبوط امیدوار ہیں، 2024 آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 میں پاکستان کے کپتان شاہین آفریدی ہونگے

    بابر اعظم کی کپتانی میں پاکستان آئی سی سی اور ایشین کرکٹ کونسل کا کوئی ٹائٹل نہیں جیت سکا

    قبل ازیں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی ڈائریکٹر میڈیا عالیہ رشید کا کہنا تھا کہ کرکٹ ٹیم کے کپتان کی تبدیلی سے متعلق ابھی کچھ کہنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ابھی اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا،مقامی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عالیہ رشید کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کل ہمیں بابر اعظم سے خود کوئی فیصلہ سننے کو مل جائے۔

    سابق کپتان شاہد آفریدی نے بابر اعظم کی کپتانی کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ٹیم کی قیادت جاری رکھنے کی حمایت کا بھی اظہار کیا ہے، بالخصوص آسٹریلیا کے خلاف آئندہ ٹیسٹ سیریز میں۔ایک مقامی تقریب میں حال ہی میں میڈیا سے بات چیت کے دوران، آفریدی نے اعتراف کیا کہ لوگوں نے بابر کی کپتانی پر ان کے تبصروں پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا اور اس بات پر زور دیا کہ وہ ان کے بہت بڑے مداح ہیں۔تاہم سابق آل راؤنڈر نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حمایت کے باوجود 28 سالہ کھلاڑی نے خود کو کپتان اور قائد کے طور پر ثابت نہیں کیا۔

    قبل ازیں پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق آل راؤنڈر عبدالرزاق نے بابر اعظم کو خود ہی کپتانی چھوڑ دینے کا مشورہ دیا، انہوں نے کہا کہ ویرات کوہلی نے بھی کپتانی چھوڑ کر اچھا پرفارم کیا ہے۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں عماد وسیم اور محمد عامر نے بھی اظہار خیال کیا۔ عماد وسیم نے بھی کہا کہ جب آپ ورلڈ کپ ہار جائیں تو آپ کو خود کپتانی سے استعفیٰ دے دینا چاہیے، بابر اعظم ہماری ٹیم کا کپتان ہے اُس کی عزت اپنی جگہ ہے۔

    بابراعظم شادی کا جھانسہ دے کر10 سال تک زیادتی کرتا رہا:میں نے بابرکی خاطربڑی قربانیاں دیں :حامزہ نے سارےپردے فاش کردیے

    بابراعظم کس طرح حامزہ کوبلیک میل کرتے رہے:پردے میں ہونے والی گفتگو،رازونیاز کی باتیں سامنے آگئیں

    بابراعظم کی حامیزہ کے ساتھ جنسی زیادتی،بلیک میلنگ:پی سی بی”مٹّی پاو”کہہ کرمظلوم کی بجائےظالم کے ساتھ کھڑی ہوگئی

    بابر اعظم پر الزام عائد کرنیوالی خاتون نے اب کس پر ہراساں کرنے کا الزام لگا دیا؟

    پاکستان کی نمائندگی کرنا اعزاز،لیکن کس چیز کو "مس” کر رہے ہیں؟ بابر اعظم نے بتا دیا

    بابر اعظم پر الزام،خاتون کی درخواست پر عدالت کا بڑا حکم آ گیا

    بابر اعظم پر زیادتی کا الزام لگانیوالی لڑکی پر قاتلانہ حملہ

  • سابق کر کٹرز کی منفی تنقید سے ٹیم  حوصلہ ہار جاتی ہیں،رمیز راجا

    سابق کر کٹرز کی منفی تنقید سے ٹیم حوصلہ ہار جاتی ہیں،رمیز راجا

    پاکستان کے سابق کرکٹر رمیز راجہ نے کہا ہے کہ بری پرفارمنس کی ذمہ داری اُن ناقدین پر بھی عائد ہوتی ہے جو ٹیم کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے ان پر تنقید کرنے کا موقع ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں۔
    رمیز راجہ نے کہا ایک خاص چینل پر ہمارے سابق کرکٹرز بیٹھ کر سمجھتے ہیں کہ ان سے زیادہ کرکٹ کی کسی کو سمجھ نہیں ہے۔ یہ دعائیں کررہے ہوتے ہیں کہ پاکستان ٹیم ہارے اور ہماری ہیڈلائنز لگیں کہ دیکھا ہم تو یہ پہلے ہی کہہ رہے تھے۔

    رمیز راجہ نے کہا کہ ہمارے سابق کرکٹرز تنقید کرتے ہوئے خونخوار ہوجاتے ہیں۔ جب تک ہم اس رویے کو ختم نہیں کریں گے ہمیشہ پاکستان ٹیم دباؤ میں رہے گی۔
    رمیز راجہ نے کہا اب انکوائری ہوگی کچھ سابق کھلاڑیوں کو بلایا جائے گا اور کچھ صحافی جن کو کرکٹ کا کچھ پتا نہیں وہ بھی آجائیں گے اپنا ایجنڈا لیکر کہ فلاں نے یہ کردیا اور فلاں نے وہ کردیا۔ اس طرح پاکستان کی کرکٹ ٹھیک نہیں ہوگی بلکہ مزید خراب ہوگی۔

  • صاف اور شفاف الیکشن کرا دیں تو عوام کا لاڈلا سامنے آجائیگا،شاہد خاقان عباسی

    صاف اور شفاف الیکشن کرا دیں تو عوام کا لاڈلا سامنے آجائیگا،شاہد خاقان عباسی

    سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے ۔ ملکی حالات الیکشن میں دھاندلی سے کبھی بھی درست نہیں ہو سکتے، شفاف الیکشن کرادیں عوام کا اصل لاڈلا سامنے آجائے گا۔ 2018 کے الیکشن میں تاریخ کی سب بڑی چوری ہوئی۔
    نجی ٹی وی کے ساتھ گفتگو کرتے انہوں نے کہا کہ میں نے سیاست عزت اور خود داری سے کی ہے، میں ایسی ہی سیاست چاہتا ہوں۔ میری کسی سے کوئی ناراضگی نہیں ہے۔ موجودہ حالات میں نے ٹکٹ کے لیے اپلائی ہی نہیں کیا۔
    شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستان کا ائین بنا کر ہم اس پر جھگڑتے رہتے ہیں۔ تمام پارٹیوں کے سربراہوں کو مل کر بیٹھنا ہوگا۔جب تک بیٹھ کر آگے کا تعین نہیں کرینگے الیکشن کا کوئی مقصد نہیں رہ جاتا۔ میں کسی لاڈلے کے حق میں نہیں ہوں۔ صاف اور شفاف الیکشن کرا دیں تو عوام کا لاڈلا سامنے آجائیگا۔
    انہوں نے کہا کہ کولیشن گورنمنٹ ذمہ داری کی حکومت ہوتی ہے۔معشیت میں سیاسی انتشار ہو تو معیشت نہیں چلتی۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ دونوں پراعتماد جماعتیں ہیں۔جسے سیاست میں جہاں سے مفاد ملے گا وہ اس کی بات کریگا۔ صدر صاحب کا ایک رول ہے انہیں اس کے اندر رہنا چاہیے۔
    سائفر کیس میں عمران خان کے بجائے جنرل باجوہ کیخلاف کارروائی کی جائے، ہم 9 مئی والوں کے ساتھ نہیں : علیمہ خان
    انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن 16مہینے اقتدار میں رہی، ان پر لگا لیبل ختم نہیں ہوا۔ آج ایک ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، سب کو اکٹھا ہونا ہوگا۔1970میں عوام کا لاڈلا تھا جسے لاڈلا بننے نہیں دیا گیا۔ لاڈلا وہ ہوتا ہے جو عوام کا لاڈلا ہو۔ میں اقتدار برائے اقتدار کا قائل نہیں ہوں کچھ اصول ہونے چاہیئں۔
    رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ "باپ ” کے معاملے پر نہیں پڑنا چاہتا،جب تک سب اکٹھے نہیں بیٹھیں گے ملک آگے نہیں بڑھے گا۔سب سے بڑی چوری 2018 کے الیکشن میں ہوئی۔ ہواؤں کے رخ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔

  • پی ایس ایل 9 کب ہونا ہے؟

    پی ایس ایل 9 کب ہونا ہے؟

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے نویں ایڈیشن کا ڈرافٹ نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ کے اختتام کے فوراً بعد 14 دسمبر کو لاہور میں ہونا ہے۔ ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کی گورننگ کونسل کا اجلاس منگل کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں منعقد ہوا جس کی صدارت پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین ذکاء اشرف نے کی۔ تمام چھ HBL پی ایس ایل فرنچائزز کے نمائندوں نے، پی سی بی حکام کے ساتھ، ایک نتیجہ خیز اور گہرائی سے بحث میں حصہ لیا جس میں مختلف موضوعات کا احاطہ کیا گیا، بشمول آئندہ PSL9 ایڈیشن کے آپریشنل اور لاجسٹک پہلوؤں کا۔ فروری 2024 میں ہونے والے عام انتخابات کے اعلان کے پیش نظر،ایچ بی ایل پی ایس ایل 9 کے لیے صحیح تاریخوں اور مقامات کو حتمی شکل دینے کے لیے حکومت پاکستان سے فوری طور پر باضابطہ مشورہ طلب کرنے کے لیے اتفاق ہوا۔
    پی سی بی وزارت داخلہ کو باضابطہ خط لکھ کر اس بارے میں رہنمائی طلب کرے گا کہ آیا انتخابی مدت کے دوران پی ایس ایل 9 کی پاکستان میں میزبانی کرنا ممکن ہے یا اسے کسی دوسرے ملک، غالباً متحدہ عرب امارات میں منتقل کیا جانا چاہیے۔ مقام کا حتمی فیصلہ حکومت کی ہدایت پر ہوگا۔
    نواں ایڈیشن عارضی طور پر 8 فروری سے 24 مارچ 2024 تک شیڈول ہے۔

  • بابر اعظم کے حوالے سے ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے،عالیہ رشید

    بابر اعظم کے حوالے سے ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے،عالیہ رشید

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی ڈائریکٹر میڈیا عالیہ رشید نے کہا ہے کہ کرکٹ ٹیم کے کپتان کی تبدیلی سے متعلق ابھی کچھ کہنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ابھی اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا،
    ایک مقامی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عالیہ رشید کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کل ہمیں بابر اعظم سے خود کوئی فیصلہ سننے کو مل جائے۔ چیئرمین پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی ذکا اشرف کی سابق کھلاڑیوں سے ملاقات کے حوالے سے ترجمان پی سی بی کا کہنا تھا کہ کرکٹ میں میرٹ کو آگے لایا جائے گا۔ بورڈ سمجھتا ہے جس کا کام ہے اسی سے لیا جائے۔ کوشش کر رہے ہیں کہ بورڈ میں کرکٹرز زیادہ سے زیادہ آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سسٹم چلانے کےلیے کرکٹرز سے بہتر رائے کوئی اور نہیں دے سکتا۔ چیئرمین مشاورت کر رہے ہیں کہ کس کھلاڑی کو کیا ذمہ داریاں دی جائیں گی.انہوں نے کہا کہ چیئرمین سے سابق کرکٹرز کی ملاقات پر ابھی حتمی رائے سامنے نہیں آئی نظام بہتر کرنے کے لیے چیئرمین کھلاڑیوں سے بات کریں،عالیہ رشید کا کہنا تھا کہ وہاب ریاض کا نام لیا جارہا ہے لیکن چیف سلیکٹر کےلیے حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ یونس خان کراچی اکیڈمی میں اچھا کام کر سکتے ہیں، وہ کراچی میں آزادانہ کام کریں۔

  • ہمیشہ کر کٹ کھیلنے کے لئے پر جوش ہوں،شعیب ملک

    ہمیشہ کر کٹ کھیلنے کے لئے پر جوش ہوں،شعیب ملک

    پاکستانی کرکٹر شعیب ملک نے پاکستان کے لیے دوبارہ کھیلنے پر غور کرنے سے قبل وضاحت دینے کی خواہش ظاہر کر دی ہے.ایک مقامی تقریب میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے، شعیب ملک نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ وہ بہترین جسمانی فام میں ہیں اور بڑے جوش و خروش کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ کرکٹر کی نظریں اس وقت ذاتی سنگ میل پر ہیں، جس کا مقصد کرس گیل کے مزید 2000 رنز کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑنا ہے۔
    شعیب ملک نے کہا کہ میرا ہدف کرس گیل کے ریکارڈ تک پہنچنا ہے جس کے لیے دنیا کا بلے باز بننے کے لیے 2000 رنز درکار ہیں۔ مجھے اپنی جسمانی فٹنس سے کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔جبکہ ان کی توجہ ایک اہم بیٹنگ ریکارڈ کے حصول پر مرکوز ہے، ملک نے قومی اسکواڈ میں اپنی ممکنہ شمولیت کے حوالے سے وضاحت کی ضرورت پر زور دیا۔ "اگر مجھے وضاحت دی جائے گی اور کھیلنے کے لیے کہا جائے گا، تو میں ضرور غور کروں گا،” ملک نے زور دے کر کہا کہ کرکٹ حکام کی طرف سے واضح بات چیت ان کی واپسی میں فیصلہ کن عنصر ہوگی۔آل راؤنڈر نے واضح کیا کہ کھیل جاری رکھنے کا ان کا محرک صرف 2024 ورلڈ کپ کے ارد گرد مرکوز نہیں ہے۔
    انہوں نے کہا۔ایسا نہیں ہے کہ میں کرکٹ کھیل رہا ہوں کیونکہ میں 2024 کے ورلڈ کپ میں کھیلنا چاہتا ہوں۔ میں کرکٹ کھیل رہا ہوں کیونکہ مجھے کرکٹ کھیلنا اچھا لگتا ہے اور میں کرکٹ کھیل سکتا ہوں،”

  • بابر اعظم سے بہت توقعات تھیں ،شاہد آفریدی

    بابر اعظم سے بہت توقعات تھیں ،شاہد آفریدی

    سابق کپتان شاہد آفریدی نے بابر اعظم کی کپتانی کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ٹیم کی قیادت جاری رکھنے کی حمایت کا بھی اظہار کیا ہے، بالخصوص آسٹریلیا کے خلاف آئندہ ٹیسٹ سیریز میں۔ایک مقامی تقریب میں حال ہی میں میڈیا سے بات چیت کے دوران، آفریدی نے اعتراف کیا کہ لوگوں نے بابر کی کپتانی پر ان کے تبصروں پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا اور اس بات پر زور دیا کہ وہ ان کے بہت بڑے مداح ہیں۔تاہم سابق آل راؤنڈر نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حمایت کے باوجود 28 سالہ کھلاڑی نے خود کو کپتان اور قائد کے طور پر ثابت نہیں کیا۔
    شاہد آفریدی نے کہا کہ ہم نے بہت سی غلطیاں دیکھی ہیں۔لیکن میں بابر کا بہت بڑا پرستار ہوں اور اسی طرح بہت سے دوسرے بھی ہیں۔ بابر کی کپتانی پر تنقید کرنے پر لوگوں نے مجھے تنقید کا نشانہ بنایا کہ آپ بابر کی کپتانی کے پیچھے پڑے ہیں۔ بابر ہمیشہ سے میرے لیے چھوٹے بھائی کی طرح رہا ہے۔” میں چاہتا تھا کہ بابر سرفہرست کپتانوں کی فہرست میں رہے۔ وہ 3-4 سال سے کپتانی کر رہے ہیں۔ اس دور میں ان کی کپتانی پر کبھی تلوار نہیں لٹکی۔ ہم سب نے اس کا ساتھ دیا۔ ہم نے سوچا کہ 3-4 سالوں میں اس کی گرومنگ اسے بہتر بنا دے گی۔ وہ خود کو کپتان اور لیڈر ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔شاہد آفریدی نے اس بات پر زور دیا کہ کامیاب قیادت کو صرف چند افراد پر انحصار نہیں کرنا چاہیے، بلکہ ایک متحد ٹیم کے طور پر آگے بڑھنے کے لیے ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنے والے اداکاروں کا تعاون شامل ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ لیڈر کو مضبوط ہونا ہوتا ہے اسے سب کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے۔ لیڈر کے پاس ایک یا دو کھلاڑی نہیں ہوتے۔ اس کے پاس 7-8 پرفارمرز ہوتے ہیں جو انہیں ساتھ لے کر آگے بڑھتے ہیں۔اس کے باوجود، آفریدی کا خیال ہے کہ کپتانی میں کوئی تبدیلی نہیں ہونی چاہیے، خاص طور پر ٹیسٹ کرکٹ میں کیونکہ آسٹریلیا کا دورہ بالکل قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا سیریز ایک اہم ایونٹ ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ کپتانی کے حوالے سے، میں نہیں سمجھتا کہ کوئی تبدیلی نہیں ہونی چاہیے، خاص طور پر ٹیسٹ کرکٹ میں۔ بابر اعظم کو قیادت کرتے رہنا چاہیے،
    خیال رہے کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹیسٹ 14 دسمبر کو پرتھ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔

  • قومی ٹیم کے سابق کر کٹرز کا پی سی بی چئیر مین سے ملاقات

    قومی ٹیم کے سابق کر کٹرز کا پی سی بی چئیر مین سے ملاقات

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی انتظامی کمیٹی کے چیئرمین ذکا اشرف ایک نئے چیف سلیکٹر کی تلاش میں ہیں . پاکستان کے سابق کرکٹرز یونس خان، محمد حفیظ، وہاب ریاض اور سہیل تنویر نے چیئرمین پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی ذکا اشرف سے آج قذافی سٹیڈیم لاہور میں ملاقات کی۔

    چیف سلیکٹر انضمام الحق کے استعفیٰ کی منظوری کے بعد سابق ٹیسٹ کرکٹر توصیف احمد نے دورہ آسٹریلیا کے لیے ٹیم کے انتخاب کی ذمہ داری سنبھالی۔ تاہم اب پی سی بی نے عبوری چیف سلیکٹر توصیف احمد کی سربراہی میں قائم سلیکشن کمیٹی کو توڑ دیا ہے۔ اب پی سی بی کے سربراہ یونس خان یا محمد حفیظ کو نیا چیف سلیکٹر بنانے پر غور کر رہے ہیں۔ آسٹریلیا کے ٹیسٹ ٹور کے بعد، پاکستان ویسٹ انڈیز اور امریکہ میں جون میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل 19 ٹی ٹوئنٹی کھیلے گا۔
    پاکستان نے اپنا واحد ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2009 میں یونس خان کی قیادت میں جیتا تھا۔ دوسری جانب محمد حفیظ کا ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں قابل تعریف کپتانی کا ریکارڈ ہے۔
    جیسا کہ فیصلہ سازی کا عمل سامنے آتا ہے، نئی سلیکشن کمیٹی کے حوالے سے باضابطہ اعلان جلد متوقع ہے۔ پی سی بی کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ مقرر کردہ چیف سلیکٹر جدید دور کی کرکٹ کے متحرک منظر نامے سے درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اچھی طرح سے لیس ہوں۔

  • غیر ملکی کوچز کی تبدیلی کا امکان،بابراعظم کی کپتانی بھی خطرے میں

    غیر ملکی کوچز کی تبدیلی کا امکان،بابراعظم کی کپتانی بھی خطرے میں

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے غیر ملکی کوچز اسٹاف کو تبدیل کرنے پر غور شروع کردیا ہے جبکہ بابراعظم کی کپتانی خطرے میں پڑ گئی ہے-

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر کرکٹ مکی آرتھر پی سی بی ہیڈ کوارٹر جائیں گے، مکی آرتھر سمیت کوچ گرانٹ بریڈ برن اور بیٹنگ کوچ اینڈریو پوٹیک کی چھٹی کا امکان ہے،پی سی بی نے غیر ملکی کوچز کی جگہ ملکی کوچز رکھنے پر اتفاق کیا ہے اور اسی سلسلے میں سابق کپتانوں سے چیئرمین پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی ذکا اشرف کی ملاقاتوں کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے-

    ذکا اشرف نے سابق کپتان یونس خان، محمد حفیظ اور سہیل تنویر کو ملاقاتوں کے لئے قذافی اسٹیڈیم بلایا، اہم بیٹھک میں قومی کرکٹ ٹیم کو مستقبل میں بہتر کرنے کے لئے تجاویز دی جائیں گی،چیئرمین پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی سابق کرکٹرز سے ملاقات کے بعد قومی کرکٹ کے حوالے سے اہم فیصلے کریں گے۔

    کپل دیو بابر اعظم کی حمایت میں بول پڑے

    قومی کرکٹ ٹیم ڈائریکٹر مکی آرتھر دبئی سے واپسی کے بعد ذکا اشرف سے ملاقات کریں گے اور اس موقع پر وہ کرکٹ ٹیم اور کپتان کی کارکردگی کی رپورٹ پیش کریں گے جس ے بعد قومی ٹیم کے مفاد میں فیصلے کیے جائیں گے،جبکہ 17 نومبر کو ذکا اشرف آئی سی سی اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت جائیں گے اور بھارت روانگی سے قبل ذکا اشرف ٹیم مینجمنٹ اور کپتان بابراعظم سے ملاقات کریں گے جس میں ایشیاکپ اور ورلڈکپ کی کارکردگی پر بات چیت ہوگی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کرکٹ ٹیم کے جنوبی افریقی بولنگ کوچ مورنی مورکل نے استعفیٰ دے دیا تھا۔

    عبدالرزاق کوایشوریا رائے کے بارے میں ریمارکس پر شدید تنقید کا سامنا