Baaghi TV

Category: کھیل

  • 21سال بعد انضمام الحق اورثقلین مشتاق نے سابق کرکٹرسلیم ملک کی ٹیم میں واپسی کی حمایت کردی

    21سال بعد انضمام الحق اورثقلین مشتاق نے سابق کرکٹرسلیم ملک کی ٹیم میں واپسی کی حمایت کردی

    لاہور:21سال بعد انضمام الحق اورثقلین مشتاق نے سابق کرکٹرسلیم ملک کی ٹیم میں واپسی کی حمایت کردی،باغی ٹی وی کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق اور ثقلین مشتاق نے سابق کرکٹر سلیم ملک کی 21 سال بعد ٹیم میں وااپسی کا مطالبہ کرکے پاکستان کرکٹ بورڈ کو مشکل میں ڈال دیا ،

    باغی ٹی وی کے مطابق یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب پاکستان کرکٹ بورڈ نے میچ فکسنگ کے الزامات کے شکارہونے والے دوکھلاڑیوں کو ٹیم مین شامل کیا ہے ، ادھرسابق کرکٹرسلیم ملک کا کہنا ہے کہ محمد عامر اور شرجیل کی طرح مجھے بھی پاکستان کرکٹ میں واپسی دی جائے

    ذرائع کےمطابق سلیم ملک کا کہنا ہے کہ عامر ، شرجیل ، سلمان بٹ کو پی ایس ایل میں بھی شامل کیا گیا ،مجھے ہر جگہ نظر انداز کیا جارہا ہے ،ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی سطح پر کوچنگ کرکے پاکستان کی خدمت کرنا چاہتا ہوں ،سلیم ملک نے مزید کہا کہ 2008 میں عدالت نے باقاعدہ مجھے کلین چٹ دے دی تھی ،

    سلیم ملک نے کہا کہ عامر ، شرجیل ، سلمان بٹ کو کلین چٹ ملی ان کو ٹیم میں شامل کیا گیا لیکن عدالت سے کلین چٹ لینے کے باوجود مجھے موقع نہیں دیا جاتا ،چیئرمین کرکٹ بورڈ مجھے ملک کی خدمت کرنے کا موقع دیں

    ادھر سلیم ملک کی حمایت میں سابق کپتان انضمام الحق اور ٹیسٹ کرکٹر ثقلین مشتاق بھی بول پڑے ،سابق کپتان انضمام الحق کا کہنا ہےکہ سلیم ملک پاکستان کے گریٹ کھلاڑی ہیں وہ اپنی پابندی پوری کرچکے ہیں، بھارت نے اظہر الدین کو دوسرا موقع دیا۔ پاکستان سلیم ملک کو دوسری اننگز کھیلنے دے ،سلیم ملک کو اب کرکٹ گراؤنڈز میں کوچنگ کرتے ہوئے نظر آنا چاہیے ،

    ثقلین مشتاق نے بھی سلیم ملک کی ٹیم میں دوبارہ شمولیت کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور کرکٹ بورڈ چیئرمین احسان مانی سے اپیل کرتا ہوں سلیم ملک کو دوبارہ کرکٹ میں آنے دیں، سلیم ملک کو بہت رگڑا لگ چکا ہے اب بس کردینا چاہئے ،
    سلیم ملک گریٹ پلیئر ہیں وہ پاکستان کرکٹ میں دوبارہ آکر اسے بڑا فائدہ دے سکتے ئیں ،

  • راشد لطیف کے بعد ایک اوراہم شخصیت نے کرکٹ کی چُھپی داستانوں سے پردہ ہٹانا شروع کردیا ، اہم رازاگل دیئے

    راشد لطیف کے بعد ایک اوراہم شخصیت نے کرکٹ کی چُھپی داستانوں سے پردہ ہٹانا شروع کردیا ، اہم رازاگل دیئے

    لاہور:راشد لطیف کے بعد ایک اوراہم شخصیت نے کرکٹ کی چُھپی داستانوں سے پردہ ہٹانا شروع کردیا ، اہم رازاگل دیئے ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ کے سابق وکٹ کیپرکپتان راشد لطیف کی طرف سے کرکٹ کے میدان کے چپھے ہوئے رازوں سے پردہ اٹھانے کے بعد اب ایک اوراہم شخصیت نے پاکستان کرکٹ سے متعلق اہم رازافشاں کرکے کھیل کے میدان میں ہلچل مچادی ہے ،

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چئیر مین لیفٹنٹ جنرل (ر) توقیر ضیاء کا کہنا ہے کہ 2003ء ورلڈکپ میں لیجنڈری آل راؤنڈر وسیم اکرم کپتان بننا چاہتے تھے، تاہم جسٹس (ر) ملک محمد قیوم رپورٹ کی وجہ سے ایسا نہیں کیا گیا۔ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ نے بتایا کہ 2003ء ورلڈ کپ میں وسیم اکرم کو کپتان بنانے کے لیے ان پر بڑا دباؤ تھا لیکن آئی سی سی نے جب منع کردیا تو یہ ممکن نہیں تھا۔

    سابق چیئرمین نے مزید بتایا کہ اگرچہ 2003ء ورلڈکپ میں ان کے پسندیدہ کرکٹر وقار یونس کپتان تھے مگر پہلے کپتانی کی پیشکش انضمام الحق کو کی گئی تھی لیکن انہوں نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ وہ وسیم اکرم کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔یاد رہے کہ بعدازاں توقیر ضیاء کی سربراہی میں ہی کام کرنے والے بورڈ میں انضمام الحق وکٹ کیپر راشد لطیف کی جگہ کپتان بننے تھے۔

    2003ء ورلڈکپ میں جہاں وقار یونس کی قیادت میں پاکستان ٹیم نمبیا اور ہالینڈ سے جیتی، وہیں آسڑیلیا ، انگلینڈ اور بھارت نے اسے شکست دی جب کہ زمبابوے سے میچ بارش کی نذر ہوا اور ٹیم پہلے راؤنڈ سے آگے نہ بڑھ سکی۔
    توقیر ضیاء کا کہنا ہے کہ انہیں ورلڈکپ کے نتیجے کا ہمیشہ افسوس رہے گا۔

    جسٹس (ر) عبدالقیوم رپورٹ کے مندرجات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اس رپورٹ سے مکمل طور پر مطمئن نہیں، جسٹس صاحب نے بہت سے کھلاڑیوں کے ساتھ نرمی برتی۔”انہوں نے مجھ خود بتایا کہ کچھ فیورٹ کرکٹرز کو وہ سزائیں نہیں دینا چاہتے۔”توقیر ضیاء کا کہنا تھا کہ جسٹس قیوم رپورٹ میں کھلاڑیوں کو سخت سزائیں نہیں دی گئیں، لیگ اسپنر مشتاق ا حمد پر ایک ضمنی رپورٹ آنی تھی، وہ بھی منظر عام پر نہیں آئی۔

  • غلط بیانی کرنے پر معروف کرکٹرکوعادل رشید کو بہت بڑا جرمانہ

    غلط بیانی کرنے پر معروف کرکٹرکوعادل رشید کو بہت بڑا جرمانہ

    لندن: غلط بیانی کرنے پر معروف کرکٹرکوعادل رشید کو بہت بڑا جرمانہ،اطلاعات کےمطابق انگلینڈ کی ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے اسٹار کھلاڑی عادل رشید کوٹیکس کے گوشواروں کے بارے میں بہت بڑا جرمانہ اس لیے سنایا ہےکہ انہوں نے غلط بیانی کی ہے

    بریڈ فورڈ میں پیدا ہونے والے عادل رشید کے والدین کا تعلق پاکستان کے علاقے میرپورآزاد کشمیر سے ہے۔ٹولر لین کے علاقے میں رہائش پذیرعادل رشید نے 2013 سے 2017 تک چار سال کے دوران اپنے ٹیکس گوشواروں پر ڈیفالٹ کیا۔

    برطانوی میڈیا کا کہنا ہےکہ اس حوالے سے ان لینڈ ریونیو نےعادل رشید کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ایک لاکھ پاؤنڈسے زائد ٹیکس اور ساتھ ہی 36 ہزار پاؤنڈ بطور جرمانہ ادا کریں۔

  • ‘چیف سلیکٹر میرے گھر آئے اور روتے ہوئے کہا میری غلطی نہیں ہے’راشد لطیف نے 21 سال بعد نیا پنڈورابکس کھول دیا

    ‘چیف سلیکٹر میرے گھر آئے اور روتے ہوئے کہا میری غلطی نہیں ہے’راشد لطیف نے 21 سال بعد نیا پنڈورابکس کھول دیا

    کراچی :’چیف سلیکٹر میرے گھر آئے اور روتے ہوئے کہا میری غلطی نہیں ہے’راشد لطیف نے 21 سال بعد نیا پنڈورابکس کھول دیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے سابق وکٹ کیپر بیٹسمین راشد لطیف نے انکشاف کیاہے کہ 1999ء میں 12 سال بعد بھارت کا دورہ کرنے والی ٹیم میں انہیں شامل نہ کرنے پر چیف سلیکٹر خود ان کے گھر آئے اور معافی مانگی۔

    پاکستان کے لیے 1992ء سے 2003ء تک 37 ٹیسٹ اور 166بین الاقوامی ون ڈے کھیلنے والے راشد لطیف کا کہنا ہے کہ مذکورہ دورہ بھارت پر انہیں ٹیم میں جان بوجھ کر شامل نہیں کیا گیا تھا۔17 سال قبل ریٹائر ہونے والے راشد لطیف اپنی منفرد طبعیت اور سچ بات کہنے کے سبب آج بھی کرکٹ کے حلقوں میں قدر و منزلت کی نگاہ سے پہچانے جاتے ہیں۔

    خداداد صلاحیتوں کے حامل وکٹ کیپر راشد لطیف کو 1999ء میں 12سال بعد بھارت کا دورہ کرنے والی 16ارکان پر مشتمل ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ وسیم اکرم کی قیادت میں تین ٹیسٹ کے لیے منتخب ہونےوالی ٹیم کے چیف سلیکٹر وسیم باری نے راشد لطیف کو آصف مجتبی اور شاہد نذیر کےساتھ ریزرو کھلاڑیوں میں رکھا تھا۔

    راشد لطیف کا کہنا تھا کہ "دورہ بھارت میں انہیں منتخب نہ کرنے والے چیف سلیکٹر رات ان کے گھر آئے اور آنسوؤں کے ساتھ روتے ہوئے مجھ سے بولے میری کوئی غلطی نہیں۔1996ء اور2003ء کے ورلڈکپ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے راشد لطیف کا کہنا تھا کہ 2000ء میں سنتھ جیا سوریا جب تین ٹیسٹ کے لیے ٹیم لے کر پاکستان آئے تو پشاور کے دوسرے ٹیسٹ میں سعید انور انہیں کھلانا چاہتے تھے۔

    راشد لطیف کا کہنا تھا کہ سعید انور نے ان سے رابطہ بھی کیا تاہم ٹیم کے حالات دیکھتے ہوئے، انہوں نے دل پر پتھر رکھ کر نہ کھیلنے میں ہی عافیت سمجھی۔ یاد رہے ارباب نیاز اسٹیڈیم پشاور میں کھیلے گئے ٹیسٹ میں قومی ٹیم کو سعید انور کی سربراہی میں 57 رنز سے شکست ہوئی تھی اور عتیق الزماں نے بطور ٹیسٹ وکٹ کیپر ڈیبیو کیا تھا۔

  • ٹی 20 ورلڈ کپ خالی سٹیڈیم  میں کرانے کا فیصلہ

    ٹی 20 ورلڈ کپ خالی سٹیڈیم میں کرانے کا فیصلہ

    ٹی 20 ورلڈ کپ خالی سٹیڈیم میں کرانے کا فیصلہ

    باغی ٹی وی :دنیا بھر میں کورونا وائرس نے جہاں معاشی ، سماجی سرگرمیوں کو متاثر کیا وہاں کھیلوں کی تمام سرگرمیاں بھی منجمد ہو کر رہ گئی ہیں جب لوگ نہ ہوں تو دنیا کا کوئی کام نہں‌چل سکتا. اسی سلسلے سے ٹی 20 کرکٹ ورلڈکپ کے حوالے سے ایک تجویز سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ میگا ایونٹ خالی سٹیڈیمز میں کرایا جائے۔

    کورونا وائرس کی عالمی تباہی کی لپٹ میں ہر کوئی ہے۔ جن لوگوں کو یہ نہیں لگی وہ اس کے خوف میں رہ رہے ہیں اور خوف بالکل حقیقی ہے جس سے کوئی فرار نہیں۔ وبا دنیا کے مختلف ممالک میں تیزی سے ایک انسان سے دوسرے انسان تک پھیل رہی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹی 20 ورلڈکپ کی میزبانی سے بھی آسٹریلیا کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے، ایک تجویز سامنے آئی ہے جس کے مطابق آسٹریلیا میں ہونے والا میگا ایونٹ خالی سٹیڈیمز میں کرایا جائے۔
    کرکٹ آسٹریلیا حکام کا کہنا ہے کہ ‏عالمی وبا کے درمیان ورلڈ کپ کا انعقاد کیسے ہو، جانچ پڑتال کررہے ہیں، ‏ائیرپورٹس اور ہوٹلز میں رکنے کے لیے حکومتی گائیڈ لائن موجود ہے۔

    چیف ایگزیکٹو کرکٹ آسٹریلیا کیون رابرٹس کا کہنا ہے کہ ‏شاید ٹی 20 ورلڈ کپ سے مالی منافع حاصل نہ کر سکیں، ‏صرف نشریاتی حقوق آمدنی حاصل ہو جو تمام بورڈ کیلئے فائدہ مند ہوگی، ہم پر لازم ہے ورلڈ کپ کے انعقاد کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔
    واضح‌رہےکہ کورونا کے باعث رواں سال کے ملتوی ہونے والے ٹوکیو اولمپکس آئندہ برس 23 جولائی سے 8 اگست تک جاپان میں ہی ہوں گے۔

    انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی، انٹرنیشنل پیرالمپک کمیٹی اور ٹوکیو 2020 آرگنائزنگ کمیٹی نے مشترکہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ ٹوکیو اولمپکس 23 جولائی سے 8 اگست 2021 تک ہوں گے۔اس کے علاوہ پیرالمپکس (معذور کھلاڑیوں کا اولمپک) 24 اگست 2021 سے 5 ستمبر 2021 تک ہوں گے۔

    خیال رہےکہ اس سے پہلے ٹوکیو اولیمپکس کو ملتوی کر دیا گیا تھا. آسٹریلیا اور کینڈا نے اپنے دستے ٹوکیواولمپکس میں نہ بھجوانے کا اعلان کردیا تھا.آسٹریلین اولمپک کمیٹی نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی موجودہ صورت حال میں اپنے اتھلیٹکس کو ٹوکیو نہیں بھجوا سکتے۔ اس وقت دنیا ایک مشکل صورت حال سے دوچار ہے اپنے اتھلیٹس کی زندگی خطرے میں نہیں ڈال سکتے ۔

  • قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کا ٹیسٹ کیسے ہوگا ، شیڈیول جاری

    قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کا ٹیسٹ کیسے ہوگا ، شیڈیول جاری

    قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کا ٹیسٹ کیسے ہوگا ، شیڈیول جاری

    باغی ٹی وی :پی سی بی کے بعد پی ایچ ایف کا بھی کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ لینے کا فیصلہ ،قومی ہاکی کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ ویڈیو ریکارڈنگ کے ذریعے لئے جائیں ، کھلاڑیوں کے ویڈیو فٹنس ٹیسٹ 23 اپریل کو ہوں گے .قومی ہاکی ٹیم انتظامیہ نے کھلاڑیوں کو ٹیسٹ کا پلان بھجوادیا .ٹیسٹ میں لینجز، موڈیفائیڈ پلنک اور پش اپس شامل ہوں گے

    برپیز ، باڈی اسکواٹس اور جمپنگ اسکواٹس فٹنس ٹیسٹ کا حصہ ہوں گے.مجموعی طور پر 48 کھلاڑیوں کے ٹیسٹ لیں گے .کھلاڑیوں کو ایک ایک منٹ کی ویڈیو بناکر بھجوانے کا کہا ہے۔ ہیڈ کوچ قومی ہاکی ٹیم خواجہ جنید

    ہرٹیسٹ کی ویڈیو دیکھ کر کھلاڑیوں کی فٹنس کا جائزہ لیں گے ۔ چار کھلاڑی بیرون ملک سے اپنے ویڈیوز بھجوائیں گے ۔

  • عمر اکمل کیس کی سماعت ہو گی کب؟ پی سی بی اور عمر اکمل کو نوٹسز جاری

    عمر اکمل کیس کی سماعت ہو گی کب؟ پی سی بی اور عمر اکمل کو نوٹسز جاری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین ڈسپلنری پینل جسٹس ریٹائرڈ فضلِ میراں چوہان نے 27 اپریل کو کیس کی سماعت کے لیے عمر اکمل اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو نوٹسز جاری کردئیے ہیں۔

    ‏کیس کی سماعت نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں ہو گی۔ اس دوران تمام احتیاطی تدابیر اور سماجی فاصلوں کو سختی سے یقینی بنایا جائے گا۔ ‏ عمر اکمل نے اینٹی کرپشن ٹریبونل میں سماعت کے لیے درخواست نہیں کی تھی۔ عمر اکمل کو پی سی بی کے انٹی کرپشن کوڈ کے آرٹیکل 4.4. 2 کی دو مرتبہ خلاف ورزی پر نوٹس آف چارج جاری کیا گیا تھا ۔‏جب تک ڈسپلنری پینل کے چیئرمین عوامی فیصلے کا اعلان نہیں کر دیتے پی سی بی اس معاملے پرمزید تبصرہ نہیں کرے گا۔‏

    پی سی بی انٹی کرپشن کوڈ کے آرٹیکل2.4.4 کے مطابق کسی بھی فرد کی جانب سے کرپشن کی پیشکش کے بارے میں پی سی بی ویجلنس اینڈ سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ کو (بغیر کسی غیر ضروری تاخیر سے) آگاہ نہ کرنا ہے۔

    آرٹیکل 4.8.1 کے مطابق ان حالات میں انٹی کرپشن ٹربیونل میں سماعت کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ اس کی بجائے ڈسپلنری پینل کے چیئرمین نوٹس آف چارج کا جائزہ لینے کے بعد ایک عوامی فیصلہ جاری کریں گے جس میں جرم کی توثیق کی جائے گی۔اس فیصلے کو جاری کرنے سے قبل چیئرمین ڈسپلنری پینل قومی کرکٹ فیڈریشن، متعلقہ فریق، پی سی بی کے ویجلنس اینڈ سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ اور آئی سی سی کو تحریری نوٹس جاری کریں گے۔

    آرٹیکل 6.2 کے تحت آرٹیکل 2.4.4 کی خلاف ورزی کا جرم ثابت ہونے پر سزا6 ماہ سے تاحیات پابندی مقرر ہے۔

    عمر اکمل کی جانب سے نوٹس آف چارج کا جواب موصول ہوگیا ہ۔ پی سی بی کی تصدیق

     

    واضح رہے کہ عمر اکمل کو 20 فروری 2020 کو عبوری طور پر معطل کیا گیا تھا۔ عمراکمل کواینٹی کرپشن کوڈکےتحت معطل کیاگیا تھا اورانکوائری مکمل ہونے تک وہ کسی طرح کی کرکٹ میں حصہ نہیں لےسکتے۔عمر اکمل کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا حصہ تھے تاہم معطلی کے بعد انہیں ڈراپ کر دیا گیا تھا اور ان کی جگہ متبادل کھلاڑی شامل کیا گیا۔

    https://login.baaghitv.com/pcb-refers-umar-akmal-matter-to-disciplinary-panel-chairman/
  • قومی کھلاڑیوں کے آن لائن فٹنس ٹیسٹ کا آغازہوگیا

    قومی کھلاڑیوں کے آن لائن فٹنس ٹیسٹ کا آغازہوگیا

    قومی کھلاڑیوں کے آن لائن فٹنس ٹیسٹ کا آغاز

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی کھلاڑیوں کے آن لائن فٹنس ٹیسٹ کا آغاز ہوگیا ،حارث سہیل، محمد عباس، اسد شفیق اور سرفراز احمد کے فٹنس ٹیسٹ آج ہوں گے

    شان مسعود، حسن علی، شاداب خان اور عماد وسیم کے فٹنس ٹیسٹ بھی آج ہوں گے،سنٹرل کنٹریکٹ یافتہ دیگر کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ کل لیے جائیں گے ،سنٹرل کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ قومی ٹیم کے اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشنگ کوچ یاسر ملک لے رہے ہیں ،ڈومیسٹک کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ متعلقہ ٹیموں کے ٹرینرز لے رہے ہیں

    واضح رہے کہ فٹنس ٹیسٹ مارچ کے آخر میں ہونا تھے لیکن کورونا وائرس کے باعث یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا ۔بعد ازاں ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق نے ٹرینر یاسر ملک کے ساتھ مل کر کھلاڑیوں کیلئے آن لائن فٹنس ٹیسٹ لینے کا منصوبہ تیار کیا ۔سنٹرل کنٹریکٹ یافتہ کرکٹرز کے علاوہ صوبائی ایسوسی ایشنز کی فرسٹ اور سیکنڈ الیون کے بھی فٹنس ٹیسٹ لینے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور مذکورہ ٹیموں کے کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ کا سلسلہ جاری ہے

    ۔یہ ٹیسٹ ان ٹیموں کے ٹرینرز اور کوچز لے رہے ہیں۔

    قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق نے کہا ہے کہ کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ کے حوالے سے وہ ٹرینر اور کھلاڑیوں کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں اور انہیں تمام ضروری ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں۔ کچھ کھلاڑیوں نے جلد ٹیسٹ لینے کی درخواست کی تھی اس لئے اُن کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ صوبائی ایسوسی ایشنز لے رہی ہیں۔ فٹنس ٹیسٹ کا اصل مقصد گھروں میں محدود کھلاڑیوں کی جسمانی ساخت کو برقرار رکھنا ہے تاکہ جب کھیلوں کی سرگرمیاں بحال ہوں تو وہ پہلے کی طرح فٹ نظر آئیں اور میدان میں انہیں کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑے ۔

  • کھیل کے میدان پھر سجنے لگے ، پاکستان کرکٹ بورڈ نے اہم فیصلہ دے دیا،کل سے کیاہونے جارہا ہے یہ بھی بتادیا

    کھیل کے میدان پھر سجنے لگے ، پاکستان کرکٹ بورڈ نے اہم فیصلہ دے دیا،کل سے کیاہونے جارہا ہے یہ بھی بتادیا

    لاہور:کھیل کے میدان پھر سجنے لگے ، پاکستان کرکٹ بورڈ نے اہم فیصلہ دے دیا،کل سے کیاہونے جارہا ہے یہ بھی بتادیا،اطلاعات کےمطابق ‏کورونا وائرس کے باعث ان دنوں کھیلوں کی سرگرمیاں معطل ہیں اور کھلاڑی گھروں میں محدود ہو کر رہ گئے ہیں، اس دوران دنیا بھر کے کھلاڑی کسی نہ کسی طرح خود کو فٹ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور کچھ کھلاڑی نئے نئے چیلنج متعارف کرا رہے ہیں اور اس کا مقصد بھی انڈور سرگرمیوں میں خود کو مصروف رکھتے ہو ئے فٹنس حاصل کرنا ہے۔

    ‏اس صورت حال میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے کرکٹرز کے آن لائن فٹنس ٹیسٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے، کھلاریوں کی فٹنس ٹیسٹنگ مارچ کے آخر میں ہونا تھی لیکن کورونا وائرس کے باعث فٹنس ٹیسٹنگ ملتوی کر دی گئی تھی اور پھر اس کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق نے ٹرینر یاسر ملک کے ساتھ مل کر کھلاڑیوں کے آن لائن فٹنس لینے کا پلان بنایا اور اس سلسلے میں محدود دستیاب سہولیات کو سامنے رکھتے ہو ئے کھلاڑیوں کو فٹنس ٹیسٹ کے لیئے پلان دیا گیا۔۔

    قومی ٹیم کے سنٹرل کنٹریکٹ یافتہ کرکٹرز کے دو روزہ آن لائن فٹنس ٹیسٹ کل سے شروع ہوں گے اور ایک وقت میں چھ کرکٹرز کے فٹنس ٹیسٹ ہوں گے۔سنٹرل کنٹریکٹ یافتہ کرکٹرز کے علاوہ صوبائی ایسوسی ایشنز کی فرسٹ اور سیکنڈ الیون کے کھلاڑیوں کے بھی فٹنس ٹیسٹ لینے کا فیصلہ کیا گیا تھا، ان ٹیموں کے کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ کا سلسلہ جاری ہے، یہ ٹیسٹ ان ٹیموں کے ٹرینرز اور کوچز لے رہے ہیں۔

    ‏پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق نے ایک پیغام میں کہا ہے کہ کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ پیر سے شروع ہو رہے ہیں، فٹنس ٹیسٹ کے حوالے سے میں اور ٹرینر کھلاڑیوں کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں اور انہیں تمام ضروری ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کچھ کھلاڑیوں نے جلد ٹیسٹ لینے کی درخواست کی تھی اور ان کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ صوبائی ایسوسی ایشنز لے رہی ہیں۔

    مصباح الحق نے کہا کہ فٹنس ٹیسٹ کا اصل مقصد گھروں میں محدود کھلاڑیوں کو اصل شیپ میں برقرار رکھنا ہے تاکہ جب کھیلوں کی سرگرمیاں بحال ہوں تو وہ پہلے کی طرح فٹ ہوں اور میدان میں انہیں کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔قومی ٹیم کے چیف سلیکٹر نے نے اس امید کا اظہار کیا کہ حالات جلد ٹھیک ہوں گے اور کھلاڑی میدانوں میں لوٹیں گے اور سب کو اپنے اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کو ایکشن میں دیکھنے کا موقع ملے گا۔

  • بھارتی لیگ آئی پی ایل بھی کرونا کی نذر

    بھارتی لیگ آئی پی ایل بھی کرونا کی نذر

    بھارتی لیگ آئی پی ایل بھی کرونا کی نذر

    باغی ٹی وی بھارتی حکومت کی جانب سے پابندیوں میں توسیع کے باعث آئی پی ایل کو غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا گیا جس کی وجہ کورونا لاک ڈاؤن کی مدت میں 3 مئی تک اضافہ بتایا گیا ہے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے 29مارچ کو شروع ہونے والا ٹورنامنٹ 15 اپریل تک ملتوی کیا گیا تھا اور بی سی سی آئی نے اس وقت یہ جواز پیش کیا تھا کہ مرکزی حکومت نے عالمی وبا پر قابو پانے کی غرض سے بھارت کیلئے تمام ویزے 15 اپریل تک معطل کر دیئے ہیں جس کی وجہ سے ایونٹ کے متعلق کوئی حتمی رائے نہیں دی جا سکتی۔

    اگرچہ منگل کو بھارتی حکومت کی جانب سے نافذ کردہ 21 روزہ لاک ڈاؤن ختم ہو گیا تھا لیکن بھارتی وزیراعظم نے اس میں 3 مئی تک توسیع کر دی ہے۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کے ذرائع نے موجودہ حالات کے تحت تصدیق کردی ہے کہ آئی پی ایل کو غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا گیا اور فی الوقت اس کیلئے نئی ونڈو پر غور بھی نہیں کیا جا سکا ہے۔

    آئی پی ایل کے چیف آپریٹنگ آفیسر ہیمنگ امین نے ایونٹ میں شریک آٹھ فرنچائز کو مطلع کردیا ہے کہ حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن میں 3 مئی تک توسیع کے بعد ممکن نہیں رہا کہ ٹورنامنٹ کا ریگولر سمر ونڈو میں انعقاد کرایا جا سکے۔

    واضح‌رہےکہ کورونا وائرس نے جہاں دنیا کے معاشی اور سماجی ایونٹ متاثر کیے وہاں بھارتی آئی پی ایل بھی متاثڑ ہوئی . آئی پی ایل سے زیر معاہدہ کرکٹرز معاوضوں سے محروم ہیں اور انڈین کرکٹرز ایسوسی ایشن کے سربراہ اشوک ملہوترا کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے باعث نقصانات ہوئے تو ڈومیسٹک کرکٹرز بھی متاثر ہوں گے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق آئی پی ایل کو 15 اپریل تک ملتوی کردیا گیا تھا تاہم بی سی سی آئی حکام رواں برس کوئی متبادل ونڈو تلاش نہیں کر سکے تو امکان ہے کہ ایونٹ کو منسوخ کر دیا جائیگا۔ اور اب یہ فیصلہ کرنا پڑا.