Baaghi TV

Category: کھیل

  • مودی سرکار کی مسلم دشمنی کی ایک اور جھلک،پٹوڈی ٹرافی کا نام تبدیل

    مودی سرکار کی مسلم دشمنی کی ایک اور جھلک،پٹوڈی ٹرافی کا نام تبدیل

    انگلینڈ اور ویلز کرکٹ بورڈ (ECB) نے پٹوڈی ٹرافی کو ریٹائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پٹوڈی ٹرافی پہلی مرتبہ 2007 میں بھارت کے انگلینڈ کے دورے کے دوران متعارف کرائی گئی تھی، جب دونوں ممالک کے درمیان 3 میچوں پر مشتمل ٹیسٹ سیریز کھیلا گیا تھا۔ ہر بار جب بھارت کرکٹ ٹیم انگلینڈ کا دورہ کرتی ہے، تو اس سیریز کے فاتح کو پٹوڈی ٹرافی دی جاتی تھی۔

    پٹوڈی ٹرافی کا نام پٹوڈی خاندان کے نام پر رکھا گیا تھا۔ اس ٹرافی کا آغاز ایک تاریخی پس منظر رکھتا ہے کیونکہ اَفتخار علی خان پٹوڈی وہ واحد شخص تھے جنہوں نے بھارت اور انگلینڈ دونوں کے لیے انٹرنیشنل کرکٹ کھیلا۔ ان کے بیٹے، منصور علی خان پٹوڈی، بھارت کے عظیم ترین کپتانوں میں شمار کیے جاتے ہیں، جنہوں نے 1961 سے 1975 تک بھارت کی قیادت کی اور 46 ٹیسٹ میچز کی قیادت کی۔پٹوڈی ٹرافی 2007 میں متعارف کرائی گئی تھی، جو کہ 1932 میں بھارت اور انگلینڈ کے درمیان پہلے ٹیسٹ میچ کی 75ویں سالگرہ تھی۔

    اب جب کہ انگلینڈ کرکٹ ٹیم بھارت کے لیے 5 میچوں پر مشتمل ٹیسٹ سیریز کے لیے روانہ ہو رہی ہے، جو 20 جون سے شروع ہوگی، انگلینڈ کرکٹ بورڈ کی جانب سے پٹوڈی ٹرافی کو ریٹائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے،انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے پٹوڈی خاندان کو اس تبدیلی کے بارے میں آگاہ بھی کر دیا ہے۔ECB کی خواہش ہے کہ بھارت اور انگلینڈ کے ٹیسٹ سیریز کو حالیہ کرکٹ لیجنڈز کے نام پر تبدیل کیا جائے، جیسے کہ "بارڈر گاوسکر ٹرافی” جو 1996 میں بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان سیریز کے دوران متعارف کرائی گئی تھی۔

    پٹوڈی ٹرافی کے خاتمے پر کچھ سیاسی حلقوں میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے مسلمانوں کے حوالے سے پالیسیوں پر تنقید کی جا رہی ہے۔ کچھ حلقوں کا ماننا ہے کہ پٹوڈی ٹرافی کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ مسلمانوں کے خلاف متعصبانہ رویہ کا مظہر ہو سکتا ہے، کیونکہ منصور علی خان پٹوڈی نے بھارت کے لیے کرکٹ کھیلا تھا، جبکہ ان کے والد اَفتخار علی خان پاتودی انگلینڈ کے لیے کھیل چکے تھے۔یہ معاملہ یقیناً ایک نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے، خاص طور پر بھارت اور انگلینڈ کے کرکٹ تعلقات میں تاریخی اہمیت رکھنے والے پٹوڈی ٹرافی کے خاتمے پر۔

    موجودہ بھارتی حکومت، خاص طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں، کرکٹ کی تاریخ اور ان کے اپنے مسلم کرکٹرز کی تاریخ کو نظرانداز کر رہی ہے۔ ای سی بی کی یہ تجویز مسلمانوں کی تاریخ کے حوالے سے غیر منصفانہ اور بدنیتی پر مبنی ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب ماضی میں مسلمان کھلاڑیوں نے کرکٹ میں بھارتی کرکٹ کے میدان میں اہم کردار ادا کیا ہے۔یہ تجویز اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ ایک تاریخی حقیقت کو بدلنا، جس میں مختلف اقلیتی کمیونٹیز کا بھی اہم کردار رہا، ایک طرح سے ان کی قربانیوں اور کامیابیوں کو نظرانداز کرنا ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت اور کرکٹ کی اعلیٰ حکام سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس بات کا جائزہ لیں اور سیریز کے نام میں تبدیلی کرنے کے بجائے ماضی کے مسلمان کرکٹرز کے کردار کو تسلیم کریں۔

    نام کی تبدیلی پر کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مودی حکومت کی مسلم مخالف پالیسیوں کا حصہ ہے۔ ان کا الزام ہے کہ حکومت جان بوجھ کر ان شخصیات کو نشانہ بنا رہی ہے جن کا تعلق مسلم کمیونٹی سے ہے۔تنازع کے بعد، سوشل میڈیا پر بھی بحث چھڑ گئی ہے، جہاں کچھ لوگ حکومت کے فیصلے کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ دیگر اسے مسلم منافرت قرار دے رہے ہیں۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ حکومت تاریخی شخصیات کے نام تبدیل کرکے اپنی سیاسی ایجنڈا کو آگے بڑھا رہی ہے۔حکومت کی جانب سے ابھی تک اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔یہ تنازع بھارت میں مذہبی اور سیاسی تقسیم کو مزید گہرا کرنے کا باعث بن رہا ہے۔

  • شین وارن کی زندگی اور موت، ایک کرکٹ کی لیجنڈ کی داستان

    شین وارن کی زندگی اور موت، ایک کرکٹ کی لیجنڈ کی داستان

    شین وارن، کرکٹ کی تاریخ کے سب سے بڑے سپن بالرز میں سے ایک، نے اپنی زندگی کو ہمیشہ تیز رفتار انداز میں گزارا۔ ان کی زندگی میں اتار چڑھاؤ اور نشیب و فراز کی کہانیاں ہیں جو ایک عظیم کرکٹ کھلاڑی کی زندگی کو پیش کرتی ہیں۔ وارن کی پیدائش 13 ستمبر 1969 کو میلبورن، آسٹریلیا میں ہوئی۔ وہ ایک متوسط طبقے کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور ان کی ابتدائی دلچسپی کرکٹ کے بجائے آسٹریلوی رولز فٹ بال میں تھی۔ شین وارن بچپن میں کرکٹ کے کھیل میں کم ہی دلچسپی رکھتے تھے اور ان کی توجہ فٹ بال پر مرکوز تھی۔

    شین وارن کا کرکٹ کی دنیا میں قدم رکھنے کا آغاز اس وقت ہوا جب انہیں فٹ بال میں اپنی جسمانی حالت کی وجہ سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ 16 سال کی عمر میں، جب وہ فٹ بال میں زیادہ کامیاب نہیں ہو پائے، تو انہوں نے کرکٹ کو اپنے کیریئر کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ وارن نے سب سے پہلے لیگ سپن میں دلچسپی لی اور اس فیلڈ میں خود کو مضبوط کرنے کے لیے سخت محنت کی۔ 1991 میں انہوں نے بھارت کے خلاف آسٹریلیا کے لیے اپنے کرکٹ کیریئر کا آغاز کیا، لیکن یہ 1993 کی ایشیز سیریز میں تھا کہ وہ عالمی شہرت کی بلندیوں پر پہنچے۔1993 میں شین وارن نے جو بال میل گیٹنگ کے خلاف پھینکا، وہ کرکٹ کی تاریخ میں "صدی کی بال” کہلایا گیا۔ اس بال نے شین وارن کو دنیا بھر میں شہرت دلوائی اور وہ کرکٹ کے عظیم ترین سپن بالرز میں شمار ہونے لگے۔ اس کے بعد وارن نے کئی ریکارڈز بنائے اور 700 سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی لیگ اسپن کی مہارت نے انہیں دنیا بھر میں ایک مقبول اور محنتی کھلاڑی بنا دیا۔

    شین وارن نے اپنی زندگی میں جو سب سے بڑی تبدیلی کی، وہ ان کی فٹنس کے حوالے سے تھی۔ ابتدائی طور پر وہ تھوڑا زیادہ وزن رکھتے تھے اور اس وجہ سے ان کی فزیکل حالت ان کی کرکٹ کارکردگی پر اثر انداز ہو رہی تھی۔ لیکن وارن نے اس پر قابو پانے کے لیے ایک سخت ورزش کا آغاز کیا اور خود کو فٹ کر لیا۔ اس کی وجہ سے ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا اور وہ نہ صرف آسٹریلیا میں بلکہ دنیا بھر میں ایک عظیم کرکٹر کے طور پر مشہور ہو گئے۔شین وارن کی زندگی کی ایک اور اہم پہلو ان کی شخصی زندگی تھی۔ وہ ہمیشہ اپنے رومانوی تعلقات اور ذاتی زندگی کے حوالے سے بھی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔ شین وارن کی زندگی میں متعدد رومانوی تعلقات تھے، جن میں سب سے اہم ان کی بچپن کی محبت سیمون وارن تھی، جن سے انہوں نے شادی کی تھی۔ تاہم، اس رومانوی تعلق کی کامیابی نہ ہو سکی اور وہ طلاق لے بیٹھے۔ ان کی ذاتی زندگی میں مسلسل اتار چڑھاؤ اور میڈیا کی توجہ نے ان کی کرکٹ کی کامیابی کو کبھی بھی آرام سے جینے کا موقع نہیں دیا۔

    شین وارن کی زندگی ایک کرکٹ کی دنیا کی ہیرو کے طور پر شروع ہوئی، لیکن ان کا ذاتی اور سماجی رویہ انہیں تنازعات میں بھی پھنسا گیا۔ ان کا شمار ان کھلاڑیوں میں ہوتا تھا جنہوں نے اپنی کامیابی کے ساتھ ساتھ تیز زندگی کی طرف قدم بڑھایا۔ وارن نے منشیات، راک اینڈ رول اور پارٹیوں میں حصہ لیا، جس کے نتیجے میں انہیں "ہالی وڈ وارن” کا لقب ملا۔ ان کے اس طرز زندگی کی وجہ سے ان کی ذاتی زندگی بھی مشکلات کا شکار رہی، اور ان کے کئی معاملات اور تنازعات میڈیا کی سرخیوں میں رہے۔شین وارن کا ایک اور اہم تعلق ان کی منگنی تھی جس کا تعلق معروف سپر ماڈل لیز ہرلی سے تھا۔ لیز ہرلی اس وقت ایک مشہور اداکارہ اور ماڈل تھیں، اور ان کے ساتھ شین وارن کا رشتہ بھی میڈیا کی توجہ کا مرکز رہا۔ یہ رشتہ دراصل ان کی زندگی کے ایک اور تنازعہ کا حصہ تھا، اور اس کی تفصیلات نے دنیا بھر میں شین وارن کو مزید شہرت دلوائی۔

    شین وارن کی موت 4 مارچ 2022 کو تھائی لینڈ میں ہوئی، اور ان کی موت نے دنیا بھر میں ایک غمگین لہر دوڑا دی۔ ان کی موت کا سبب ابتدائی طور پر دل کا دورہ سمجھا گیا، لیکن بعد میں تھائی لینڈ کے ایک سینئر پولیس افسر نے اس حوالے سے ایک حیران کن انکشاف کیا۔ افسر کا کہنا تھا کہ شین وارن کی موت کے حوالے سے تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ آسٹریلوی حکام نے انہیں تھائی لینڈ میں غیر قانونی ویاگرا جیل کو خاموشی سے ہٹانے کی ہدایت دی تھی۔اس انکشاف سے یہ بات سامنے آئی کہ شین وارن کی موت کا ایک ممکنہ سبب ویاگرا کی زیادہ مقدار ہو سکتی ہے، جو ان کے دل کے دورے کا باعث بنی۔ وارن کی موت کے بعد اس بات پر بحث شروع ہو گئی کہ ان کی زندگی میں جتنے تنازعات اور غیر صحت مند طرز زندگی تھے، ان کے اثرات ان کی موت تک پہنچے۔

    شین وارن کی موت کے بعد، ان کے بیٹے جیکسن وارن نے "دل کی بیماریوں سے آگاہی” کے حوالے سے ایک مہم شروع کی، جس کا مقصد لوگوں کو دل کی صحت کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنا تھا۔ یہ مہم میلبورن میں منعقد کی جاتی ہے جہاں لوگ اپنے دل کی صحت کی جانچ کرواتے ہیں اور اس کے بارے میں آگاہی حاصل کرتے ہیں۔شین وارن کی زندگی اور موت ہمیں ایک بڑا سبق دیتی ہے۔ اس کی زندگی نے یہ ثابت کیا کہ شہرت، دولت اور چمک دمک صرف عارضی چیزیں ہیں، لیکن خاندان، استحکام اور صحت اصل میں سب سے اہم ہیں۔ شین وارن کی زندگی ایک مثال ہے کہ انسان کو اپنی ذاتی زندگی پر توجہ دینی چاہیے اور شہرت کی چمک میں نہیں غرق ہونا چاہیے۔

    شین وارن کا اچانک 52 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہونا کرکٹ کی دنیا کا ایک بڑا نقصان ہے۔ ان کی موت کے حالات، جو ویاگرا جیل اور دیگر تنازعات سے جڑے تھے، ایک بڑا پیغام دیتے ہیں کہ عوام کو ایسی غیر منظور شدہ مصنوعات سے محتاط رہنا چاہیے اور اپنی صحت کا خیال رکھنا چاہیے۔شین وارن کی زندگی اور موت کرکٹ کی دنیا میں ایک نیا باب ہے، جس کا اثر دنیا بھر کے کرکٹرز اور مداحوں پر ہمیشہ رہے گا۔

  • شین وارن کی موت بھارتی دوا سے، ہوٹل کے کمرے سے جنسی دوا غائب، تحقیقات پر سوالات

    شین وارن کی موت بھارتی دوا سے، ہوٹل کے کمرے سے جنسی دوا غائب، تحقیقات پر سوالات

    آسٹریلوی کرکٹ لیجنڈ شین وارن کی موت کے تین سال بعد، تھائی لینڈ سے ایک حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق، جس لگژری ولا میں شین وارن نے اپنی آخری راتیں گزاری تھیں، وہاں سے ایک طاقتور جنسی دوا "ویاگرا جیلی” (Kamagra) کی بوتل ملی تھی، جسے مبینہ طور پر تحقیقات کرنے والے پولیس افسران نے خاموشی سے غائب کر دیا۔

    52 سالہ شین وارن مارچ 2022 میں تھائی لینڈ کے جزیرے کوہ ساموئی میں تھے، جہاں انہیں دل کا دورہ پڑا اور وہ چل بسے۔ تھائی لینڈ میں کیے گئے پوسٹ مارٹم میں ان کی موت کو "قدرتی وجوہات” قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ انہیں پیدائشی دل کی کمزوری تھی۔ تاہم، اب ایک سینئر پولیس افسر نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں شین وارن کے کمرے سے "ویاگرا جیلی” کی بوتل ہٹانے کا حکم دیا گیا تھا۔نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے، پولیس افسر نے بتایا، "ہمیں اپنے سینئرز نے بوتل کو ہٹانے کا حکم دیا تھا۔ یہ احکامات اوپر سے آ رہے تھے، اور مجھے لگتا ہے کہ آسٹریلیا کے سینئر حکام بھی اس میں شامل تھے، کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے قومی ہیرو کا انجام اس طرح ہو۔”انہوں نے مزید کہا، "اس لیے، سرکاری رپورٹ میں یہ بتایا گیا کہ انہیں دل کا دورہ پڑا اور اس کی وجہ کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ کوئی بھی کاماگرا کی تصدیق نہیں کرے گا، کیونکہ یہ ایک حساس موضوع ہے۔ اس سب کے پیچھے بہت سے طاقتور پوشیدہ ہاتھ تھے۔”

    پولیس افسر نے یہ بھی بتایا کہ کمرے میں قے اور خون کا دھبہ بھی تھا، لیکن انہیں کاماگرا کو صاف کرنے کا حکم دیا گیا۔شین وارن کی موت کے بعد، تھائی پولیس نے ان کی میت کو جلد از جلد وطن واپس بھیجنے کے لیے تیز رفتار اقدامات کرنے کی تصدیق کی، جس سے اس بات پر مزید سوالات اٹھتے ہیں کہ کیا اس کی موت کی مکمل تحقیقات کی گئی تھیں۔

    کاماگرا، جو بھارت میں تیار کی جاتی ہے اور اس میں ویاگرا کا فعال جزو ہوتا ہے، تھائی لینڈ میں غیر قانونی ہے، لیکن یہ فارمیسیوں اور سڑک کنارے اسٹالز پر بڑے پیمانے پر فروخت ہوتی ہے۔ یہ دوا دل کے مسائل اور دیگر بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے خطرناک ضمنی اثرات کا باعث بن سکتی ہے۔شین وارن کو کوہ ساموئی پہنچنے سے پہلے دل کی بیماری اور دمہ کی شکایت تھی، اور انہوں نے حال ہی میں ایک "مضحکہ خیز” مائع غذا بھی مکمل کی تھی جس کی وجہ سے ان کی جسمانی حالت خراب ہو گئی تھی۔ایک طبی ذرائع نے میل آن لائن کو بتایا، "کاماگرا وہ چیز نہیں ہے جو پیدائشی دل کی کمزوری والے مرد کو لینی چاہیے۔”

    شین وارن کی 15 سالہ بین الاقوامی کیریئر کے دوران، وہ اپنی شاندار کرکٹ کی مہارت کے ساتھ ساتھ اپنی جنسی خواہشات اور پارٹیوں کی طرز زندگی کے لیے بھی جانے جاتے تھے۔ ان کی 10 سالہ شادی ان کی بے وفائی کے الزامات کے درمیان ختم ہو گئی تھی۔کوہ ساموئی میں اپنے آخری قیام کے دوران، شین وارن لگژری سموجانا ولاز ریزورٹ میں ٹھہرے ہوئے تھے اور اپنے تین دوستوں کے ساتھ تھے۔ ولاز، جن میں ان کا اپنا انفینٹی پول بھی تھا، ایک رات کے 1,000 سے 4,000 پاؤنڈ تک کے تھے۔دو مساج کرنے والی خواتین، جنہوں نے شین وارن کو آخری بار زندہ دیکھا تھا، سے تھائی پولیس نے پوچھ گچھ کی۔ تاہم، میل آن لائن نے انکشاف کیا کہ اس کے بعد مساج پارلر کو بند کر دیا گیا اور خواتین کو جزیرے سے چلے جانے کا حکم دیا گیا۔ ان کا موجودہ مقام معلوم نہیں ہے۔

    کوہ ساموئی کے ایک ذرائع نے بتایا، "پولیس نے انہیں جزیرے سے چلے جانے کو کہا، کیونکہ وارن کی موت نے بہت زیادہ بین الاقوامی توجہ مبذول کرائی، جو سیاحت کے لیے اچھی نہیں تھی۔ اب بھی بہت سے سوالات ہیں کہ اصل میں کیا ہوا، اور دونوں خواتین نے سوچا کہ ان کے لیے کم پروفائل رکھنا محفوظ ہوگا۔”شین وارن کو اپنی موت سے پہلے مساج کرنے والی خاتون سے پاؤں کا مساج بھی کرانا تھا، لیکن جب اس نے دروازہ کھٹکھٹایا تو انہوں نے جواب نہیں دیا۔دو مساج کرنے والی خواتین سے مساج کے بعد، شین وارن نے اپنے کمرے سے آسٹریلیا اور پاکستان کے درمیان ٹیسٹ میچ دیکھا اور اس شام اپنے دوستوں سے ملنے والے تھے۔ انہیں ان کے دوست اینڈریو نیوفیتو نے بے ہوش پایا، جو ان کی شام کی منصوبہ بندی سے پہلے ان کے کمرے میں گئے تھے۔

  • آئی پی ایل؛ ہاردک پانڈیا  کو  لاکھوں روپے جرمانہ

    آئی پی ایل؛ ہاردک پانڈیا کو لاکھوں روپے جرمانہ

    انڈین پریمئیر لیگ میں سلو اوور ریٹ پر ممبئی انڈینز کے کپتان ہاردک پانڈیا پر جرمانہ عائد کردیا گیا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز احمد آباد کے نریندر مودی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں ممبئی انڈینز اور گجرات ٹائٹنز ٹیمیں مدمقابل تھیں، اس میچ کے دوران سست اوور ریٹ کی پاداش میں ہاردک پانڈیا پر جرمانہ عائد کیا گیا۔جرمانے کی مد میں ہاردک پانڈیا کو 12 لاکھ روپے ادا کرنے ہوں گے۔قبل ازیں ہاردیک نے 2024 سیزن میں سست اوور ریٹ کے جرمانوں کی وجہ سے ٹورنامنٹ کے افتتاحی میچ سے معطل رہنے کی سزا برداشت کی تھی۔

    واضح رہے کہ آئی پی ایل کے قوانین کے مطابق پہلی خلاف ورزی پر صرف مالی جرمانہ عائد کیا جاتا ہے جبکہ مسلسل خلاف ورزیوں پر کپتان کو میچ سے معطل بھی کیا جاسکتا ہے۔

    کراچی، فائرنگ سے مذہبی سیاسی جماعت کا رہنما جاں بحق

    سوئی سدرن کا عیدالفطر کیلئے گیس کا شیڈول

    کراچی، چاند رات اور عیدالفطر کےسیکیورٹی انتظامات مکمل

    نیوزی لینڈ کیخلاف سیریز میں پاکستان کو بڑا دھچکا

  • نیوزی لینڈ کیخلاف سیریز میں پاکستان کو بڑا دھچکا

    نیوزی لینڈ کیخلاف سیریز میں پاکستان کو بڑا دھچکا

    پاکستان کرکٹ بورڈ( پی سی بی ) کا کہنا ہے کہ پاکستانی بلے باز عثمان خان دوسرے ون ڈے سے باہر ہوگئے۔

    پی سی بی کے مطابق پاکستانی بلے باز عثمان خان دوسرے ون ڈے سے باہر ہوگئے، عثمان خان نیوزی لینڈ کے خلاف دوسرے ون ڈے میں انجری کے باعث شرکت نہیں کریں گے۔ پی سی بی کا کہنا ہے کہ عثمان خان ہیمسٹرنگ انجری کا شکار ہونے کے باعث دوسرا ون ڈے نہیں کھیل سکیں گے، عثمان خان کی ایم آر آئی رپورٹ میں ہلکی نوعیت کے اسٹرین کی تصدیق ہوئی ہے۔خیال رہے کہ عثمان خان پہلے ون ڈے میچ میں فیلڈنگ کے دوران انجری کا شکار ہوئے تھے۔ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان سیریز کا دوسرا ون ڈے 2 اپریل کو کھیلا جائے گا۔

    سندھ حکومت کا زائد کرایوں کے خلاف سخت کریک ڈائون

    آذربائیجان کی پاکستان کو قرض کی پیشکش

    عید کا چاند نظر آتے ہی بازاروں میں رش

  • پاکستانی سات افراد کی جعلی اسکواش کھلاڑی بن کر نیوزی لینڈ کے ویزے کی کوشش

    پاکستانی سات افراد کی جعلی اسکواش کھلاڑی بن کر نیوزی لینڈ کے ویزے کی کوشش

    نیوزی لینڈ کے ویزے کے لیے جعلی دستاویزات کے ذریعے درخواست دینے والے پاکستان کے سات افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان افراد نے خود کو اسکواش کھلاڑی اور معاون عملے کے طور پر پیش کیا تھا اور کرائسٹ چرچ میں ہونے والے 2025 نیوزی لینڈ اوپن جونیئر اسکواش چیمپئن شپ میں شرکت کے لیے ویزا درخواست دی تھی۔

    یہ جعل سازی کا واقعہ 7 فروری کو سامنے آیا، جب ان افراد نے خیبر پختونخواہ کے ڈائریکٹر جنرل سپورٹس کے دستخط شدہ جعلی خط کو نیوزی لینڈ کے قونصل خانہ میں جمع کرایا۔ اس خط میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ڈائریکٹر جنرل تمام اخراجات برداشت کریں گے جب یہ افراد نیوزی لینڈ میں ہوں گے۔یہ خط پانچ کھلاڑیوں اور دو معاون عملے کے ارکان کے بارے میں تھا جو 7 سے 9 مارچ 2025 کو کرائسٹ چرچ میں ہونے والی نیوزی لینڈ اوپن جونیئر اسکواش چیمپئن شپ میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔

    24 فروری کو نیوزی لینڈ کے قونصل خانہ کے ایک عملے نے پاکستان اسکواش فیڈریشن کو ایک ای میل بھیجا، جس میں اس ایونٹ کی تفصیلات اور منتظمین کی صداقت کے بارے میں وضاحت طلب کی گئی تھی۔ای میل میں کہا گیا تھا کہ “براہ کرم جلد از جلد جواب دیں کیونکہ کھلاڑیوں اور معاون عملے کو 3 مارچ تک نیوزی لینڈ پہنچنا ہے۔”جب پاکستان اسکواش فیڈریشن نے ڈائریکٹر جنرل سے رابطہ کیا، تو پتہ چلا کہ جس شخص نے اس خط پر دستخط کیے تھے، وہ نومبر 2023 سے اس عہدے پر نہیں تھا، اور یہ خط جعلی تھا۔اس کے بعد، نیوزی لینڈ نے ان تمام افراد کی ویزا درخواستوں کو مسترد کر دیا۔ اسکواش نیوزی لینڈ کے ترجمان نے ہیرالڈ کو بتایا کہ کمپنی جعلی دستاویزات کے ذریعے ویزے حاصل کرنے کی کوششوں سے آگاہ ہے۔ تاہم، اس معاملے کو متعلقہ حکام نے ان کے علم میں نہیں لایا تھا اور وہ ویزا عمل میں صرف معیاری دعوتی خطوط فراہم کرتے ہیں، جو کبھی کبھار حقیقی درخواست دہندگان کے لیے طلب کیے جاتے ہیں۔

    نیوزی لینڈ کی امیگریشن نے کہا کہ اس نے سات اسکواش کھلاڑیوں کے لیے گروپ وزیٹر ویزا کی درخواست وصول کی تھی تاکہ وہ نیوزی لینڈ اوپن جونیئر اسکواش چیمپئن شپ میں شرکت کر سکیں۔ یہ قسم کا ویزا ان گروپوں کے لیے ہوتا ہے جو ایک ہی مقصد کے لیے ساتھ سفر کرتے ہیں اور ان کے پاس ایک گروپ لیڈر ہوتا ہے۔امیگریشن نیوزی لینڈ نے کہا کہ “ہم تمام درخواستوں کا منصفانہ اور شفاف طریقے سے جائزہ لیتے ہیں اور متعلقہ امیگریشن ضروریات کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں۔”دستاویزات کی تصدیق کے بعد، یہ واضح ہو گیا کہ ان افراد نے ضروری شرائط کو پورا نہیں کیا تھا، اس لیے ان کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔

    اسکواش نیوزی لینڈ نے مزید کہا کہ جیسے دوسرے بین الاقوامی ٹورنامنٹس کی طرح، نیوزی لینڈ جونیئر اوپن بھی مختلف ممالک کے کھلاڑیوں کی دلچسپی کے جواب میں درخواستیں وصول کرتا ہے، اور ہر درخواست کے ساتھ مناسب ویزا حاصل کرنا اور متعلقہ اسکواش فیڈریشن سے اجازت نامہ حاصل کرنا ضروری ہے۔

  • آسٹریلوی کرکٹ شین وارن کی موت  کیسے ہوئی؟تین سال بعد تھائی پولیس اہلکار کے چونکا دینے والے انکشاف

    آسٹریلوی کرکٹ شین وارن کی موت کیسے ہوئی؟تین سال بعد تھائی پولیس اہلکار کے چونکا دینے والے انکشاف

    تھائی لینڈ کے ذرائع نے میل آن لائن کو بتایا ہے کہ لگژری ولا میں جہاں کرکٹ لیجنڈ شین وارن کی موت ہوئی تھی وہاں سے ایک انتہائی مضبوط جنسی دوا ملی تھی لیکن پھر پولیس افسران نے اسے خاموشی سے ختم کر دیا تھا۔

    باغی ٹی وی : 52 سالہ شین وارن مارچ 2022 میں تھائی لینڈ میں اپنے وِلا ’کوہ سموئی‘ میں بے سدھ حالت میں پائے گئے۔ وارن یہاں اپنے دوستوں کے ساتھ چھٹیاں گزارنے آئے ہوئے تھےدوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے-

    تھائی لینڈ پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا تھا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق 52 سالہ شین وارن کی موت کی وجوہات طبعی تھیں اور ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جو ظاہر کریں کہ ان کی موت کی کچھ اور وجوہات تھیں۔

    تھائی لینڈ میں کرائے گئے پوسٹ مارٹم میں اس بات کا تعین کیا گیا کہ جوا کھیلنے اور پارٹیوں سے محبت کے لیے مشہور پلے بوائے کرکٹر کی موت ‘قدرتی وجوہات’ سے ہوئی اور وہ پیدائشی طور پر دل کی کمزوری کا شکار تھے اس نے کسی بھی غلط کھیل کو بھی مسترد کردیا۔

    شین وارن کی عمر 52 برس تھی اور انھوں نے 15 سالہ کریئر کے بعد سنہ 2007 میں بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لی تھی تاہم سنہ 2013 تک وہ فرنچائز ٹی ٹوئنٹی کھیلتے رہے شین وارن نے 145 ٹیسٹ کرکٹ میچ کھیلے تھے جن میں انھوں نے کل 708 وکٹیں حاصل کیں، جو کہ دنیا میں اب تک کسی بولر کی جانب سے لی گئی سب سے زیادہ وکٹوں کی فہرست میں دوسرا نمبر ہے۔

    ان کی منیجمنٹ کمپنی کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ’بہت افسوس کے ساتھ ہم یہ بتا رہے ہیں کہ شین وارن کے مرنے کی وجہ ہارٹ ایٹک لگ رہی ہے، اُن کے خاندان کی جانب سے اس وقت پرائیوسی کا خیال رکھنے کی درخواست کی گئی تھی –

    لیکن اب، اس کی موت کے تین سال سے زیادہ بعد، جائے وقوعہ پر موجود ایک سینئر پولیس افسر نے انکشاف کیا ہے کہ اسے ‘ویاگرا جیلی’ کے نام سے مشہور انتہائی طاقت والی جنسی دوا کی بوتل جس کمرے میں ان کی موت ہوئی وہاں سے ہٹانے کا حکم دیا گیا تھا۔

    کاماگرا (Kamagra)نامی دوا، جو تھائی لینڈ میں کاؤنٹر پر دستیاب ہے، وارن کے جسم کے قریب پڑی ہوئی پائی گئی، جس سے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ ان کی موت کا سبب بننے والے ایک اہم عنصر پر پردہ ڈال دیا گیا ہے۔

    کمرے میں (Kamagra)کی موجودگی کو تھائی لینڈ میں اس کی موت کی پولیس رپورٹ سے خارج کر دیا گیا تھا۔

    اس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میل آن لائن کو بتایا: ‘ہمیں ہمارے سینئرز نے بوتل چھپانے کا حکم دیا تھا یہ احکامات اوپر سے آرہے تھے، اور میرے خیال میں آسٹریلیا کے سینئر حکام بھی اس میں شامل تھے کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی قومی شخصیت کا اس طرح خاتمہ ہو۔

    لہذا، سرکاری رپورٹ سامنے آئی کہ اسے دل کا دورہ پڑا اور اس کی وجہ کیا ہوسکتی ہے اس کے بارے میں کوئی اور تفصیلات نہیں ہیں۔ Kamagra کی تصدیق کے لیے کوئی نہیں آئے گا کیونکہ یہ ایک حساس موضوع ہے اس سب کے پیچھے بہت سے طاقتور نادیدہ ہاتھ تھے۔’

    ذرائع نے مزید کہا: ‘یہ ایک بوتل تھی، لیکن ہم نہیں جانتے کہ اس نے کتنی لی جائے وقوعہ پر قے اور خون بھی تھا، لیکن ہم نے Kamagra دوائی کو صاف کیا جیسا کہ ہمیں بتایا گیا تھا۔’

    اس کی موت کے بعد، تھائی پولیس نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے طریقہ کار کو تیز کریں گے کہ اس کھیل کے عظیم کھلاڑی کی لاش کو جلد از جلد گھر بھیج دیا جائے، اس بات پر مزید قیاس آرائیاں کی گئی ہیں کہ اس کی وجہ سے مکمل تحقیقات کے لیے کتنا غور کیا گیا تھا۔

    Kamagra نامی دوا ہندوستان میں تیار کی جاتی ہے اگرچہ یہ تھائی لینڈ میں غیر قانونی ہے اور ملک کی قومی منشیات کی ایجنسی کے ذریعہ اسے تسلیم نہیں کیا گیا ہے، یہ فارمیسیوں اور سڑک کے کنارے سٹالوں پر بڑے پیمانے پر فروخت کیا جاتا ہے اور ملک میں آنے والے بوڑھے مردوں میں بہت مقبول ہے۔

    یہ گولیاں، زبانی جیلی اور مائع سمیت مختلف شکلوں میں دستیاب ہے۔ بہت سی دکانیں اور بازار مشہور سیاحتی علاقوں جیسے کہ کوہ ساموئی، بنکاک اور فوکٹ میں غیر منظم جنسی ادویات کے انتہائی طاقت ور ورژن £7 سے کم میں فروخت کرتے ہیں۔

    کہا جاتا ہے کہ دل کے مسائل اور دیگر بیماریوں جیسے جگر کے مسائل اور کم بلڈ پریشر میں مبتلا افراد کے لیے اس کے خطرناک ضمنی اثرات ہیں۔

    وارن کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ کوہ ساموئی پہنچنے سے پہلے دل کی بیماری اور دمہ میں مبتلا تھے، تھائی پولیس کے انچارج افسر نے ان کی موت کا اعلان اس وقت کیا تھا۔

    ایک طبی ذریعہ نے میل آن لائن کو بتایا: ‘کامگرا ایسی چیز نہیں ہے جس کو پیدائشی طور پر دل کی کمزوری والے آدمی کو لینا چاہیےدوائی کے خطرناک ضمنی اثرات میں فلشنگ، جلد کی سطح پر خون کے بہنے کی وجہ سے گرمی کا احساس]، سر درد، چکر آنا، دھندلا پن، پٹھوں میں درد، پیٹ کی خرابی اور خارش شامل ہیں – یہ سب خون کے بہاؤ میں اضافے سے منسلک ہیں۔

    15 سال پر محیط ایک شاندار بین الاقوامی کیریئر کے دوران، وارن کو اپنی شاندار کرکٹ کی مہارتوں کے لیے اتنا ہی جانا جاتا تھا جتنا کہ ان کی شاندار جنسی خواہشات اور پارٹی کے طرز زندگی کے لیے۔

    اس کی تین بچوں کی ماں سیمون کالہان ​​کے ساتھ اس کی دس سالہ شادی اس کی بے وفائی کے دعووں کے درمیان ٹوٹ گئی۔ انہوں نے برطانوی ماڈل لز ہرلی سے بھی منگنی کی تھی لیکن یہ جوڑا شادی سے پہلے ہی ٹوٹ گیا۔

    ولا میں آباد ہونے کے بعد، وارن نے اپنے پہلے پورے دن کا پہلا حصہ جزیرے پر اپنے پسندیدہ درزی سے ملنے میں گزارا اور پانچ بلیزر، 10 جوڑے سلیکس، پانچ جوڑے شارٹس اور دیگر پانچ شرٹس کا آرڈر دیا، اتفاق سے شارٹس میں ملبوس، ٹوپی پہنے اور اپنا فون پکڑے ہوئے، وارن آرام سے دکھائی دیا جب وہ فوئر سے گزر کر اپنے کمرے میں واپس آیا۔

    کوہ ساموئی پر لانا ہیلتھ مساج میں کام کرنے والے بووی نے ایک دوست کو بتایا: ‘شین واقعی ایک پیارا آدمی تھایہ دونوں خواتین آخری تھیں جنہوں نے اسے زندہ دیکھا اور تھائی پولیس نے ان کا انٹرویو کیا، جس نے انکشاف کیا کہ وہ تفتیش کے لیے انتہائی اہم تھیں۔

    لیکن میل آن لائن کے مطابق اس کے بعد مساج پارلر کو بند کر دیا گیا اور خواتین کو جزیرہ چھوڑنے کو کہا گیا۔ فی الحال ان کا ٹھکانہ معلوم نہیں ہے۔

    کوہ ساموئی میں ایک ذریعہ نے کہا: ‘پولیس نے انہیں جزیرہ چھوڑنے کو کہا کیونکہ وارن کی موت نے بین الاقوامی سطح پر بہت زیادہ توجہ دی جو کہ سیاحت کے لیے اچھا نہیں تھا۔ ابھی بھی بہت سارے جواب طلب سوالات ہیں کہ اصل میں کیا ہوا اور دونوں خواتین نے سوچا کہ ان کے لیے کم پروفائل رکھنا زیادہ محفوظ ہوگا۔’

    دونوں خواتین سے مساج کے بعد وارن نے اپنے کمرے سے آسٹریلیا کے خلاف پاکستان ٹیسٹ میچ دیکھا اور اس شام کے بعد رات کے کھانے پر اپنے دوستوں سے ملنے والے تھےاسے اس کے دوست اینڈریو نیوفیٹو نے بے ہوش پایا، جو اس کرکٹر کے بارے میں ایک دستاویزی فلم کے ایگزیکٹو پروڈیوسر ہیں جو شام کو ان کی منصوبہ بندی سے پہلے اپنے کمرے میں گیا تھا۔

  • پہلا  ون ڈے،  پاکستان کا ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ

    پہلا ون ڈے، پاکستان کا ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ

    پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان تین میچوں پر مشتمل ون ڈے سیریز کا پہلا میچ نیپیئر میں جاری ہے۔

    پاکستان کے کپتان محمد رضوان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، جس کے تحت نیوزی لینڈ کو بیٹنگ کی دعوت دی گئی۔اس میچ میں پاکستان کی جانب سے عاکف جاوید، محمد علی اور عثمان خان اپنے ون ڈے کیریئر کا آغاز کر رہے ہیں۔ قومی ٹیم کی پلیئنگ الیون میں عبداللہ شفیق، عثمان خان، بابراعظم، محمد رضوان، سلمان علی آغا، طیب طاہر، محمد عرفان خان، نسیم شاہ، حارث رؤف، عاکف جاوید اور محمد علی شامل ہیں۔یاد رہے کہ اس سے قبل کھیلی گئی پانچ میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کو 1-4 سے شکست دی تھی۔

    امارات نےدرہم اور ڈیجیٹل کرنسی کا نیا لوگو جاری کردیا

    پاکستان سمیت دنیا میں سونے کی قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    بجلی قیمت میں کمی، جلد ہی وزیر اعظم اعلان کریں گے، وزیر خزانہ

    پاکستان کا میانمار ،تھائی لینڈ زلزلہ متاثرین سے اظہار یکجہتی

    عیدالفطر سے قبل پٹرول سستا،نوٹیفکیشن آگیا

  • پاکستان کرکٹ کے لیے برطانیہ سے  بری خبر آ گئی

    پاکستان کرکٹ کے لیے برطانیہ سے بری خبر آ گئی

    پاکستانی کرکٹرز اور آفیشلز کے ایجنٹ کی انگلش کرکٹ بورڈ نے رجسٹریشن معطل کر دی،،سینٹرل کنٹریکٹ یافتہ 80فیصد سے زائد کرکٹرز اور کئی سابق اسٹارز کی یہی کمپنی نمائندگی کرتی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کھلاڑیوں کی ایجنسی آئی سی اے کے سربراہ مغیز احمد شیخ انگلش کرکٹ بورڈ میں بطور پلیئر ایجنٹ بھی رجسٹرڈ ہیں، کرکٹ ریگولیٹر کی تحقیقات اور آزاد اینٹی کرپشن ٹریبونل میں سماعت کے بعد انھیں ای سی بی اینٹی کرپشن کوڈ کی چار خلاف ورزیوں کا مرتکب پایا گیا،اینٹی کرپشن ٹریبونل مناسب وقت پر پابندی کے حوالے سے فیصلہ سنائے گا،اسی دوران انگلش بورڈ نے مغیز کی بطور ایجنٹ رجسٹریشن معطل کر دی ہے.

    ماضی میں پاکستان کرکٹ پر سایا کارپوریشن کا راج تھا، اب آئی سی اے بیشتر کرکٹرز اور آفیشلز کی نمائندگی کرتی ہے،25 میں سے 20 سینٹرل کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں کا تعلق اس سے ہی ہے. ان میں عامر جمال، محمد وسیم جونیئر، عبد الله شفیق، عرفات منہاس، حسیب الله، جہانداد خان، کامران غلام، خرم شہزاد، محمد علی، محمد حسنین، محمد ہریرہ، عرفان نیازی، نسیم شاہ، نعمان علی، صاحبزادہ فرحان، صائم ایوب،ساجد خان، شاداب خان ،صفیان مقیم اور طیب طاہر شامل ہیں، امام الحق، محمد حارث، سرفراز احمد، اسامہ میر اورعبدالصمد بھی اسی ایجنٹ سے منسلک ہیں.

    موجودہ ہیڈ کوچ و سلیکٹر عاقب جاوید، محمد حفیظ، وہاب ریاض، عبدالرزاق، کامران اکمل، سہیل تنویر، عمر گل، سعید اجمل اور مصباح الحق کی بھی یہی کمپنی نمائندہ ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ کرکٹ میں سایا کارپوریشن کا بھرپور اثر کم کرنے کیلیے پی سی بی نے اقدامات کیے تھے لیکن پھر دوسری کمپنیہ آئی سی اے حاوی ہو گئی، اس حوالے سے مزید تفصیلات حاصل کرنے کیلیے نمائندہ ’’ایکسپریس‘‘ نے مغیز احمد شیخ سے رابطہ کیا تو انھوں نے کوئی جواب نہ دیا.

    فلسطین کے لیے مظاہرہ، امریکہ نے 300 طلبا کے ویزے منسوخ کردیے

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا ایڈز کے سدباب کیلئے فوری اقدامات کا حکم

    کراچی،یوم القدس کے سلسلے میں اجتماعات اور ریلیاں

    اے ٹی ایم سے پیسے نکلوانے پر اب زیادہ چارجز لگیں گے

  • پی سی بی کے ڈائریکٹر آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن  نے  استعفیٰ دیدیا

    پی سی بی کے ڈائریکٹر آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن نے استعفیٰ دیدیا

    لاہور:پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ڈائریکٹر آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن سمیع الحسن برنی نے استعفیٰ دے دیا۔

    باغی ٹی وی : پی سی بی کے مطابق سمیع برنی نے اپنے فیصلے سے بورڈ کو دسمبر 2024 میں آگاہ کر دیا تھا، پی سی بی میں سمیع الحسن کی مدتِ ملازمت کا اختتام آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی 2025 کے بعد ہوا، سمیع الحسن 13 سال تک آئی سی سی کے ہیڈ آف میڈیا اینڈ کمیو نیکیشنز رہے جس کے بعد 2019 میں بورڈ کو دوبارہ جوائن کیا تھا، وہ اس سے پہلے توقیر ضیاء کے دور میں 2002 سے 2004 تک جنرل مینجر میڈیا رہے۔

    سمیع الحسن کا کہنا تھا کہ پی سی بی کے ساتھ وابستگی میرے لیے اعزاز رہی، مستقبل میں بھی میڈیا برادری سے روابط رہیں گے۔

    عمران خان کو کتابیں فراہم کرنے اور بچوں سے بات کرانے کا حکم

    نومئی کےتین مقدمے،یاسمین راشد کی ضمانت خارج

    میانمار میں زلزلہ،عمارتوں کے گرنے کی اطلاعات