Baaghi TV

Category: موسم

  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کا امکان

    ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کا امکان

    ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کا امکان

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات نے وفاقی دارالحکومت سمیت بالائی پنجاب، بالائی خیبر پختونخوا اور جنوب مشرقی سندھ اور کشمیرمیں تیزہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی ہے۔

    آج لاہور، سیالکوٹ، گجرات، گوجرانوالہ اورنارووا ل میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان۔ لیہ، بھکر اورڈی جی خان میں بعض مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی، بدین، تھرپارکر، نگرپارکر، عمرکوٹ، ٹھٹھہ، شہید بینظیر آباد اور سکھرمیں بارش ہوگی۔ میرپورخاص، سانگھڑ اور مٹھی میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان۔

    پشاور، ایبٹ آباد، دیر، مانسہرہ، سوات، بونیر، مردان، کوہاٹ، کرم، بنوں، لسبیلہ، خضدار، بارکھان اور گردونواح میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش متوقع ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق خلیج بنگال سے آنےوالا ہوا کے کم دبائو کا سسٹم اندرون سندھ موجود ہے۔

    کراچی کے مختلف علاقوں میں رات گئے وقفے وقفے سے بونداباندی ہوئی ہے۔ صدر، آئی آئی چندریگر روڈ، گلستان جوہر، کلفٹن اور ملیرمیں بوندا باندی سے موسم خوشگوار ہوگیا۔

    سپرہائی وے، سرجانی، سہراب گوٹھ ، فیڈرل بی ایریا، خداداد کالونی اور طارق روڈ میں بھی بونداباندی ہوئی۔

    بارش برسانے والا مون سون کا سسٹم کراچی میں داخل ہونے کا امکان نہیں۔ ہوا کے کم دباو کا سسٹم ٹھٹہ بدین اور میر پورخاص سے ہوتا ہوا مٹھی میں داخل ہوا ہے۔

    اندرون سندھ میں تیز بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ کراچی میں ہلکی بوندہ باندی کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔

    گزشتہ24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہا۔ تخت بائی، بالاکوٹ، دیر،ڈی آئی خان، اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، گلگت بلتستان اور کشمیر میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی۔

  • سندھ حکومت نے ممکنہ بارشوں کے پیش نظر صوبے بھر میں الرٹ جاری کردیا

    سندھ حکومت نے ممکنہ بارشوں کے پیش نظر صوبے بھر میں الرٹ جاری کردیا

    سندھ حکومت نے ممکنہ بارشوں کے پیش نظر صوبے بھر میں الرٹ جاری کردیا

    باغی ٹی وی : محکمہ صحت سندھ نے سندھ بھر میں ممکنہ بارشوں کے پیش نظر اسپتالوں میں ہائی الرٹ جاری کردی . سندھ کے تمام سرکاری اسپتالوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا
    اس سلسلے میں کہا گیا ہے کہ اسپتالوں میں ڈاکٹرز و عملہ کی موجودگی 24 گھنٹے ممکن بنائی جائے,
    تمام ڈاکٹرز و اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیںِ . اسپتالوں میں جہاں ضرورت ہے وہاں عملہ کا اضافہ کی جائے,

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ہوا کے کم دباؤ کے زیر اثر جمعرات (شام یا رات) سے ہفتہ تک سندھ ، جنوبی پنجاب اور مشرقی بلوچستان میں مون سون ہوائیں شدت کے ساتھ داخل ہوں گی۔ جس کے باعث جمعرات کی شام یا رات سے ہفتہ تک کراچی، حیدر آباد، ٹھٹھہ ، بدین، تھرپارکر ، عمرکوٹ ، میرپورخاص ، سانگھڑ ، ٹنڈو اللہ یار ، مٹیاری ، ٹنڈو محمد خان ، جامشورو ، دادو اور شہیدبینظیرآباد میں تیز ہواؤں ، آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہو سکتی ہے ۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اس دوران کراچی اور حیدرآباد سمیت کہیں کہیں پر موسلادھار بارش کی بھی متوقع ہے جس کی وجہ سے اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ ہے ۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق جمعہ اور ہفتہ کے روز بہاولپور، رحیم یار خان،خیرپور ، سکھر، لاڑکانہ ، قمبر شہداد کوٹ ، جیکب آباد ، کشمور ، گھوٹکی ، قلات ، جعفرآباد ، جھل مگسی ، خضدار ، لسبیلہ اور آواران میں بھی کہیں کہیں پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے

  • کہاں برسے گا بادل اور کہاں ہوگی شدت کی گرمی، جانیے موسم کی رپورٹ میں

    کہاں برسے گا بادل اور کہاں ہوگی شدت کی گرمی، جانیے موسم کی رپورٹ میں

    کہاں برسے گا بادل اور کہاں ہوگی شدت کی گرمی، جانیے موسم کی رپورٹ میں

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد، راوالپنڈی سمیت پنجاب کے بیشتر علاقوں میں آج بارش کا امکان ہے۔ چکوال، جہلم ،اٹک، فیصل آباد، بہا ولنگر، ساہیوال میں آج بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    لاہور، خوشاب، نارووال، سیالکوٹ ، گوجرانوالہ، گجرات اور منڈی بہاؤالدین میں بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق مری، ٹوبہ ٹیک سنگھ، میانوالی، سرگودھا، بھکر، لیہ، ڈی جی خان اور ملتان میں گرد آلود ہواؤں کے ساتھ بارش متوقع ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی، ٹھٹھہ اور میرپور خاص میں بھی بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے.پشاور، ایبٹ آباد، کوہاٹ، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، وزیرستان، صوابی، مردان، بونیر،چارسدہ، نوشہرہ اور سوات میں بارش کا امکان ہے، ایبٹ آباد ،مانسہرہ اور کرم میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔

  • ملک بھرمیں کہاں ہوگی بارش اور کہاں آئے گی آندھی طوفان

    ملک بھرمیں کہاں ہوگی بارش اور کہاں آئے گی آندھی طوفان

    ملک بھرمیں کہاں ہوگی بارش اور کہاں آئے گی آندھی طوفان

    باغی ٹی و ی : محکمہ موسمیات نے راوالپنڈی، چکوال، جہلم ،اٹک، فیصل آباد، بہا ولنگر، ساہیوال میں آج بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔

    لاہور، خوشاب، نارووال، سیالکوٹ ، گوجرانوالہ، گجرات اور منڈی بہاؤالدین میں بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق مری، ٹوبہ ٹیک سنگھ، میانوالی اور سرگودھا میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    بھکر، لیہ، ڈی جی خان اور ملتان میں گرد آلود ہواؤں کے ساتھ بارش متوقع ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی، تھرپارکر، ٹھٹھہ، میرپور خاص اور سانگھڑ میں بھی بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

  • کراچی کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش سے موسم خوشگوار لیکن بجلی غائب

    کراچی کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش سے موسم خوشگوار لیکن بجلی غائب

    کراچی کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش سے موسم خوشگوار لیکن بجلی غائب

    باغی ٹی وی :کراچی کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش سے موسم خوشگوار ہو گیا جبکہ کئی علاقوں‌ سے بجلی غائب ہو گئی. محکمہ موسمیات کے مطابق بارش کا سلسلہ کل تک جاری رہے گا۔

    کراچی میں مون سون کے تیسرے سپیل کے دوران مختلف علاقوں میں بارش پر شہریوں نے سکھ کا سانس لیا۔ سرجانی ٹاون، کلفٹن، بوٹ بیسن، گڈاپ، گارڈن، فیڈرل بی ایریا، جمشید روڈ میں ہلکی بارش ہوئی۔ بارش کے بعد گلشن اقبال، لیاقت آباد، نارتھ کراچی کے علاوہ ناگن چورنگی، کریم آباد، لانڈھی اور بفرزون میں بجلی غائب ہو گئی۔ سہراب گوٹھ، ملیر، یونیورسٹی روڈ، لیاری میں بھی شہری بجلی کو ترستے رہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں 20 ملی میٹر تک بارش ہو سکتی ہے جبکہ بارش کا سلسلہ کل تک جاری رہنے کا امکان ہے، شہر کا موجودہ درجہ حرارت 33 ڈگری ہے۔ بارش کے ساتھ تیز ہوائیں بھی چلیں گی

  • ملک بھر میں آج گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان

    ملک بھر میں آج گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان

    باغی ٹی وی : ملک بھر میں آج گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں آج تیز ہواوَں اور گرج چمک کے ساتھ با رش کا امکان ہے جبکہ پنجاب کے دیگر علاقوں لاہور، نارووال، سیالکوٹ، گوجرانوالہ ڈیرہ غازی خان (ڈی جی خان)، ملتان اور بہاولپور میں بھی تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔

    خیبر پختونخوا کے اضلاع پشاور، کوہستان، ایبٹ آباد، مانسہرہ، مردان اور بنوں سمیت دیگر علاقوں میں تیز ہواوَں کے ساتھ بارش کی پیش گوئی ہے۔ کوہاٹ اور وزیرستان میں بھی تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہو سکتی ہے۔

    بلوچستان کے علاقوں ژوب، زیارت، لورالائی، موسیٰ خیل، سبی، لسبیلہ آواران، خضدار اور گردو نواح میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔کشمیر اور گلگت بلتستا ن میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے ساتھ بارش متوقع ہے۔

  • برکھا برسنے سے موسم خوشگوار ہوگیا

    برکھا برسنے سے موسم خوشگوار ہوگیا

    لاہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں بادل برسے جس سے موسم خوشگوار ہو گیا۔

    باغی ٹی وی :باغوں کے شہر لاہور میں صبح سویرے کالی گھٹائیں چھا گئیں جس کے بعد کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش ہوئی جس سے گرمی اور حبس میں کمی آ گئی۔ موسم بھی سہانا ہو گیا۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے آج اسلام آباد، بالائی خیبرپختونخوا، مشرقی بلوچستان، کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی تیز بارش کا امکان ہے، جموں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 36، سری نگر 29 اور لیہہ 21 ڈگری سینٹی گریڈ رہے گا۔
    ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہیگا ۔ تاہم بالائی خیبرپختونخوا، بالائی پنجاب، مشرقی بلوچستان، زیریں سندھ کشمیراورگلگت بلتستان میں تیز ہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان۔

  • لاہور اور گردو نواح‌ کے علاقوں میں بارش موسم خوشگوار ہو گیا

    لاہور اور گردو نواح‌ کے علاقوں میں بارش موسم خوشگوار ہو گیا

    لاہور اور گردو نواح‌ کے علاقوں میں بارش موسم خوشگوار ہو گیا

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات نے بالائی پنجاب اور اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں آندھی اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا تھا۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق بدھ کے روز ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہیگا۔ تاہم بالائی پنجاب، اسلام آباد، بالائی خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، کشمیر اور اس سے ملحقہ پہاڑی علاقوں میں آندھی اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    جمعرات کے روز ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہیگا۔ تاہم بالائی پنجاب، بالائی خیبر پختونخوا، زیریں سندھ، کشمیر اور گلگت بلتستان میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران گلگت بلتستان کشمیر اور خیبرپختونخوا میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی جبکہ ملک کے دیگر علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہا۔

    سب سے زیادہ بارش گوپس 02، استور، بگروٹ 01، دیر اور بالا کوٹ میں 01 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ گزشتہ روز ریکارڈ کیے گئے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کے مطابق نوکنڈی، دادو 45، دالبندین، بھکر اور رحیم یار خان میں 44 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

  • ملک کے بیشتر علاقوں میں آج موسم گرم اور مرطوب رہنے کی پیشین گوئی

    ملک کے بیشتر علاقوں میں آج موسم گرم اور مرطوب رہنے کی پیشین گوئی

    ملک کے بیشتر علاقوں میں آج موسم گرم اور مرطوب رہنے کی پیشین گوئی

    باغی ٹی وی روپورٹ کے مطابق : بارش کے بعد موسم خوشگوار ہو گیا لیکن گرمی نے پھر زور پکڑ لیا . محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بیشتر علاقوں میں آج موسم گرم اور مرطوب رہے گا تاہم اسلام آباد، بالائی پنجاب، بالائی خیبرپختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    صوبہ سندھ کے کچھ علاقوں میں بھی بارش کا امکان ہے۔ کراچی میں آج بھی ہلکی بارش ہو گی جبکہ سکھر میں گرد آلود ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔

    سب سے زیادہ بارش سندھ کے علاقے روہڑی میں 56 ملی میٹر، لاڑکانہ میں 27 ملی میٹر، سکھر میں 20 ملی میٹر، جیکب آباد اور کراچی میں 2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔زشتہ روز سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا، کشمیر، گلگت بلتستان اور بلوچستان کے بیشتر حصوں میں آندھی اورگرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی۔

    پنجاب کے ضلع فیصل آباد میں 44 ملی میٹر، ساہیوال میں 30 ملی میٹر،جھنگ میں 15 ملی میٹر، اوکاڑہ میں 13 ملی میٹر، نور پور تھل اور منگلا میں 6 ملی میٹر، قصور میں 04 ملی میٹر، لاہور میں 2 ملی میٹر اور اسلام آباد میں ایک ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

    خیبر پختونخوا کے علاقے دیر میں 10 ملی میٹر، میر کھانی میں 8 ملی میٹر، کالام میں 4 ملی میٹر، دروش میں 3 ملی میٹر، بونیر میں 2 ملی میٹر، مالم جبہ اور مردان میں ایک ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

    کشمیر کے ضلع مظفرآباد میں 3 ملی میٹر اور گلگت بلتستان کے علاقے گوپس میں 3 میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

  • محکمہ ماحولیات کی موسمیاتی تبدیلیوں کی پالیسی کے مسودے پر ماہرین سے مشاورت

    محکمہ ماحولیات کی موسمیاتی تبدیلیوں کی پالیسی کے مسودے پر ماہرین سے مشاورت

    حیدرآباد(مورخہ 8 جولائی 2020): حکومت سندھ کے ترجمان اور وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے قانون، ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب کی ہدایات پر صوبے میں موسمیاتی تبدیلی کی پالیسی کے مسودے پر ماہرین سے مشارت جاری ہے اور اس ضمن میں محکمہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی حکومت سندھ نے مہران یونیورسٹی برائے انجینئرنگ و ٹیکنالوجی جامشورو کے پاک امریکہ تحقیقی مرکز برائے آبی امور کے تعاون سے پالیسی کے مسودے پر یونیورسٹی کیمپس میں مشاورتی اجلاس منعقد کیا جس میں آبی و زرعی امور، ماحولیاتی معاملات اور موسمیاتی حفاظتی شعبے کے ماہرین اور محققین نے شرکت کی۔

    اجلاس کے آغاز میں ادارہ تحفظ ماحولیات حکومت سندھ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل وقار حسین پھلپوٹو نے خطبہ استقبالیہ دیا جبکہ پانی کے معیار کے معروف ماہر اور مذکورہ تحقیقی مرکز کے پروفیسر رسول بخش مہر نے مذکورہ پالیسی کے مسودے پر حاضرین کو تفصیلی پریزینٹیشن دی۔
    ا نہوں نے مسودے کی بہتری کے لیے تجویر کیا کہ زیر بحث پالیسی میں سندھ کے تمام علاقوں کو ان کی ماحولیاتی و موسمیاتی خصوصیات کے حساب سے ان میں علیحدہ علیحدہ ناگزیر موسمیاتی تبدیلیوں سے نبردا ٓزما ہونے کی استعداد پیدا کی جائے اور اس کے تمام مندرجات کو پائیدار ترقی کے عالمی اہداف کے عین مطابق بنایا جائے۔

    مشاورت میں حصہ لیتے ہوئے مذکورہ تحقیقی مرکز کے ڈاکٹر بخشل لاشاری نے کہا کہ متعلقہ شعبہ جات کے تمام اعداد و شمار کی روشنی میں زیر نظر پالیسی مرتب کی جائے اور اگر موجودہ مسودے میں کوئی اعداد و شمار موجود نہیں ہیں تو انہیں فوری اکٹھا کیا جائے ساتھ ہی ساتھ ایسے تمام اقدامات کو پالیسی میں واضح کیا جائے جن کے ذریعے موسمیاتی تبدیلیوں کے مختلف شعبہ جات پر پڑنے والے اثرات کا تدارک کیا جائے گا اور خاص طور پر شعبہ انسانی صحت کو اس ضمن میں اولین ترجیحات کے شعبوں میں رکھا جائے۔
    معروف ماحولیاتی مشیر ڈاکٹر عبدالخالق انصاری نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم سے کم کرنے کے لیے جس طریقے کو اختیار کیا جائے گا اس کی وضاحت کے ساتھ پالیسی میں تشریح کی جائے اس کے علاوہ کاربن کے اخراج کو روکنے کے تمام روایتی اور جدید طریقوں کو بھی پالیسی پر عملدرآمد کے دوران متعارف کرانے کی یقین دہائی کرائی جائے۔

    سندھ کی زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام سے تعلق رکھنے والے ماہر زرعی امور ڈاکٹر اسماعیل کنبھر کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو زائل کرتے ہوئے آگے بڑھنے کے عمل میں خواتین کی شرکت بھی یقینی بنائے جائے کیونکہ کسی بھی باشعور معاشرے کی نصف آبادی کو نظرا نداز کرتے ہوئے بنائی گئی پالیسی کی کامیابی بہت مشکل ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ مویشیوں پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا بھی جامع احاطہ کیا جائے اور دیہی ترقی کی سرگرمیوں کو بھی محفوظ اور پائیدار بنانے کی حکمت عملی کو شامل کیا جائے۔
    ایس اے وی کے ڈاکٹر الطاف سیال نے مذکورہ پالیسی کو بہتربنانے کے لیے تجویز دی کہ صوبے کے عالمی طور پر تسلیم شدہ قدرتی اثاثوں اور ذرائع کی بحالی، حفاظت اور فروغ کے لیے بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ قدرت کے قیمتی ذرائع کو اپنی اصل شکل میں قائم رکھتے ہوئے ماحولیاتی توازن کو مزید بگڑنے سے بچایا جاسکے۔

    سی ایس سی کے ذولفقار ہالیپوٹو نے پالیسی کے مسودے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے دیہی اور شہری علاقوں کو موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایسے تمام اقدامات لینے کی ضرورت ہے جس سے ترقی کا عمل بھی متاثر نہ ہو اور قدرت کا بنایا ماحولیاتی توازن بھی اپنی اصل شکل میں موجود رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے زمینی پانی کے زیاں کو روکنے کی تجاویز کو بھی مذکورہ پالیسی سے مطابقت رکھنے کی تجویر دی۔
    مہران انجینئرنگ یونیورسٹی کے ڈاکٹر تنویر پھلپوٹو نے کہا کہ کاربن کو فضاء میں شامل ہونے سے روکنے کے مجوزہ طریقوں کو بھی پالیسی میں شامل کیا جائے تاکہ موسمیاتی حدت کی تخفیف میں سندھ بھی اپنا کردار ادا کرسکے اس کے علاوہ سندھ کی جھیلوں کی دگرگوں ماحولیاتی حالت کے سدھار کے لیے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت پر بھی انہوں نے خاص طور پر زور دیا۔ ساتھ ہی ساتھ ماحولیاتی امور کو زیادہ سے زیادہ نصاب میں شامل کرنے کی تجویز بھی دی۔

    انجینئر عبدلملک نے جنگلات کی حفاظت اور بہتری، این جی او سافکو کے صدر سلیمان ابڑو نے موسمیاتی تبدیلی کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات،ڈاکٹر زبیر احمد نے کاربن کے اخراج کا حساب رکھنے اور سندھ یونیورسٹی کے شعبہ ماحولیات کے ڈاکٹر امان اللہ مہر نے ماحولیاتی شعور اجاگر کرنے کی تجاویز پیش کیں۔
    واضح رہے کہ محکمہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی حکومت سندھ کی جانب سے سندھ موسمیاتی تبدیلی کی پالیسی کے مسودے پر ماہرین کی مشاورت جاری ہے جس کے تحت مختلف نجی، سرکاری اور غیر سرکاری اداروں اور ماہرین موسمیاتی تبدیلی کی رہنمائی، مشاورت اور مدد سے پورے سندھ میں مذکورہ شعبے کے تنظیمی ڈھانچے کے خدو خال بنانے کے ساتھ ساتھ اس کے لیے افرادی قوت کے انتخاب اور ان کی استعداد میں اضافے کے علاوہ مذکورہ عنوان پر عوامی شراکت کے فروغ کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔