Baaghi TV

Tag: افغانستان

  • پاکستان افغانستان اور سنٹرل ایشیا تجارت میں تاریخ رقم

    پاکستان افغانستان اور سنٹرل ایشیا تجارت میں تاریخ رقم

    سنٹرل ایشیا روٹ پر نیا سنگ میل طے ،پاکستان افغانستان اور سنٹرل ایشیا تجارت میں تاریخ رقم ہو گئی

    قازقستان سے شروع کیے گئے منصوبے سے ٹرک افغانستان کے راستے پاکستان پہنچ گئے ،سفارتی ذرائع کے مطابق قازقستان اور پاکستان کے درمیان پاکستانی کمپنی نیشنل لاجسٹک سیل کے ساتھ ذریعے تجارت روٹ پر کام کرے گی، نیشنل لاجسٹک سیل پاکستان اور قازقستان کے درمیان تجارت کو محفوظ طریقے سے یقینی بنائے گی۔قازقستان سے پاکستان اور واپس جانے والا کارگو 4,000 کلومیٹر کا سفر طے کیا ،

    سنٹرل ایشیا اور پاکستان کے درمیان 4 ہزار کلومیٹر سب سے کم راستہ ہے قازقستان افغانستان کو آٹے اور اناج کی فراہمی کے لیے ازبکستان کے ساتھ مل کر اپنا تعاون بھی بڑھائے گا ،انہوں نے افغانستان کی سمت ترکمانستان کی سرزمین کے ذریعے سامان کی ترسیل پر 30 فیصد رعایت کے معاہدہ ہوچکا ہے وسطی ایشیا، ہندوستان اور خلیج فارس کو ملانے والے پل کے طور پر، افغانستان قازقستان کو پاکستان کی کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں کا استعمال ہوگا،قازقستان 3 اگست کو آستانہ میں پہلے قازق-افغان بزنس فورم کی میزبانی بھی کرے گا،اجلاس میں میں پاکستان اور افغانستان کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے پر توجہ دی جائے گی۔

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • رواں ہفتے امریکی حکام دوحا میں طالبان کے وفد سےملاقات کریں گے

    رواں ہفتے امریکی حکام دوحا میں طالبان کے وفد سےملاقات کریں گے

    امریکی حکام رواں ہفتے قطر کے دارالحکومت دوحا میں طالبان نمائندوں کے وفد سے ملاقات کریں گے۔

    باغی ٹی وی: امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق فغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائند تھامس ویسٹ اور افغان خواتین، لڑکیوں اور انسانی حقوق کےلیےامریکی نمائندہ خصوصی رینا امیری آستانہ قازقستان میں قازقستان، کرغیزجمہوریہ، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستا ن کے نمائندوں کے ساتھ افغانستان سے متعلق ملاقاتیں کریں گے۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی حکام کی رواں ہفتے دوحا میں طالبان نمائندوں کے وفد سے ملاقات ہوگی جس میں معیشت، سکیورٹی اور خواتین کے حقوق پر بات چیت ہوگی ملاقات میں افغانستان کے لیے انسانی امداد، سلامتی کے مسائل، افغان معیشت کے استحکام اور منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ روکنے کے معاملات پر بھی گفتگو کی جائے گی۔

    مکیش امبانی نے نئی ’بم پروف‘ مرسڈیز کار خرید لی

    امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ افغانستان کے امریکی نمائندہ خصوصی تھامس ویسٹ اور افغان خواتین، لڑکیوں اور انسانی حقوق کی ایلچی رینا امیری طالبان کے وفد سے ملاقات کریں گے تھامس ویسٹ اور رینا امیری 26 سے 31 جولائی تک قازقستان اور قطر کا دورہ کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان اگست 2021 میں امریکی انخلا مکمل ہونے کے بعد دوبارہ اقتدار میں آئے ہیں واشنگٹن اب بھی کابل میں طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کرتا اور اس نے گروپ اور اس کے رہنماؤں کے خلاف پابندیاں عائد کر رکھی ہیں محکمہ خارجہ نے بدھ 26 جولائی کو اپنے بیان میں کہا کہ دوحہ میں ہونے والی ملاقاتیں امریکی موقف میں تبدیلی کا اشارہ نہیں دیں گی۔

    ہزاروں گاڑیوں سے لدے بحری جہاز میں آگ لگ گئی،عملے نےسمندر میں چھلانگ لگا دی

    ترجمان ویدانت پٹیل نے نامہ نگاروں کو بتایا، “ہم بہت واضح ہیں کہ ہم طالبان کے ساتھ مناسب طریقے سے بات چیت کریں گے جب ایسا کرنا ہمارے مفاد میں ہوگا۔ اس کا مطلب طالبان کو تسلیم کرنے یا ان کے معمول پر لانے یا ان کے قانونی ہونے کا کسی بھی قسم کا اشارہ نہیں ہے2021 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے طالبان کو خواتین کی تعلیم پر عائد پابندیوں پر متعدد مسلم اکثریتی ممالک سمیت بین الاقوامی سطح پر مذمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    خواتین کے یونیورسٹی جانے پر پابندی عائد کرے کے علاوہ انہوں نے لڑکیوں کو چھٹی جماعت سے پہلے اسکول جانے سے روک دیا۔ رواں ماہ کے اوائل میں خواتین کے بیوٹی پارلرز پر بھی پابندی عائد کر دی تھی گزشتہ سال کےاواخر میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے طالبان کو متنبہ کیا تھا کہ اگر طالبان نے خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق اپنی پالیسیوں میں تبدیلی نہیں کی تو اس کے نتائج برآمد ہوں گے۔

    جوبائیڈن انتظامیہ کی پناہ گزینوں پر عائد کی گئی پابندیاں معطل

  • پاکستان میں حکام سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے پریس کی آزادی کا کہتے ہیں،امریکا

    پاکستان میں حکام سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے پریس کی آزادی کا کہتے ہیں،امریکا

    واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان نے کہا ہے کہ امریکا تکنیکی اور ترقیاتی اقدامات کے ذریعے پاکستان کے ساتھ روابط جاری رکھے گا۔

    باغی ٹی وی : امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان ویدانت پٹیل نے پریس بریفنگ میں کہا کہ انٹونی بلنکن اوربلاول بھٹو نے مضبوط تجارتی اور سرمایہ کاری کے ذریعے تعلقات بڑھانے پر بات کی، امریکا تکنیکی اور ترقیاتی اقدامات کے ذریعے پاکستان کے ساتھ روابط جاری رکھے گا،پاکستان میں حکام سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے پریس کی آزادی کا کہتے ہیں۔

    ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے افغانستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ جاری سلوک کی مذمت کی، اور واضح کیا کہ کسی امریکی عہدیدار کا دورہ افغانستان کا کوئی پلان نہیں-

    ایل پی جی کی قیمت میں 10روپےفی کلو اضافہ

    واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور پاکستانی معیشت اور افغان امور پر تبادلہ خیال کیا امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق انٹونی بلنکن نے پاکستانی وزیر خارجہ سے گفتگو میں پاک امریکا تعلقات میں تعمیری شراکت داری قائم رکھنےکے عزم کا اعادہ کیا۔

    انٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام دہشت گردی سے شدید متاثر ہوئے ہیں، انسداد دہشت گردی کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے،ترجمان امریکی دفتر خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے روس کی یوکرین کے خلاف جنگ کے اثرات سمیت پرامن اور مستحکم افغانستان پر تبادلہ خیال کیا۔

    ملک میں موسلا دھار بارشوں سے ندی نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقے زیر آب،فصلیں …

    سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں انٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو سے مثبت گفتگو رہی،پاکستان کی معیشت کی بحالی اور علاقائی بالخصوص افغانستان کی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، امریکا پاکستان سے مثبت، جمہوری اور تعمیری تعلقات کی حمایت کرتا ہے۔

  • ژوب حملہ: دہشتگردوں کے امریکی ہتھیار اور سامان استعمال کیے جانے کا انکشاف ہوا

    ژوب حملہ: دہشتگردوں کے امریکی ہتھیار اور سامان استعمال کیے جانے کا انکشاف ہوا

    کالعدم دہشتگرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ژوب حملے میں دہشتگردوں کے امریکی ہتھیار اور سامان استعمال کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق حملے میں دہشتگردوں نے افغانستان میں امریکی فوج کا چھوڑا ہوا اسلحہ استعمال کیا حملے میں 5.56 ایم ایم کیلیبر ایم 16 اسالٹ رائفلیں اور جدید ہیلمٹ، دستانے، بیک پیک اور یونیفارمز استعمال کیے گئے حملہ کرنے والے دہشت گرد جو کہ ہلاک ہو چکے ہیں امریکی یونیفارم میں ملبوس تھے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ وہی اسلحہ و یونیفارم ہے جو امریکی افواج نے افغانستان میں چھوڑا تھا، ٹی ٹی پی کے شر پسند یہ ہتھیار پاکستان کے خلاف استعمال کرتے آئے ہیں بھاری ہتھیاروں سے لیس دہشت گرد امریکی یونیفارم پہن لیں تب بھی بزدلی کی موت ہی مریں گے دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی پاک دھرتی پر ناپاک قدم رکھنے والے تمام پاکستان دشمن عناصر کو منہ کی کھانی پڑے گی سیکیورٹی فورسز پاکستان میں امن دشمنوں کو بے نقاب اور جڑ سے ختم کرنے کے لیے مسلسل سر گرم عمل ہیں۔

    افغانستان کو دہشتگرد حملوں کیلئےمحفوظ مقام کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے،امریکا

    واضح رہے کہ 12 جولائی جو پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر ژوب کی فوجی چھاؤنی پر ہونے والے دہشت گردوں کے حملے میں 5 سیکیورٹی اہلکار شہید جب کہ پانچ شدید زخمی ہوئے تھے۔ سیکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا بعد ازاں کلئیرنس آپریشن کے بعد ہلاک دہشتگردوں کی تعداد 5 ہوگئی، جبکہ 9 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔

    ڈپٹی کمشنر ژوب عظیم کاکڑ کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب شروع ہونے والے اس حملے میں فائرنگ کی زد میں آکر ایک خاتون ہلاک جب کہ 5 شہری بھی زخمی ہوئےکالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ گروپ ’جماعت الاحرار‘ نے ژوب میں کارروائی کی ذمہ داری قبول کی۔

    پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ بدھ کی صبح نامعلوم دہشت گرد ژوب کینٹ پر حملہ آور ہوئے دہشت گردوں نے چھاؤنی میں گھسنے کی کوشش کی جنہیں ڈیوٹی پر مامور سیکیورٹی اہلکاروں نے روکے رکھا اور فائرنگ کے شدید تبادلے کے بعد دہشت گردوں کو باؤنڈری کے ساتھ ایک جگہ پر محصور کر دیا گیا تین دہشتگردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے، کلیئرنس آپریشن کے دوران چار سیکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ پانچ شدید زخمی ہوئے ہیں۔

    غلاف کعبہ تبدیل کر دیا گیا،ویڈیو

    جس کے بعد سیاسی اور عسکری قیادت نے دہشتگرد حملوں پر اپنے شدید تحفظات کا اظہا رکیا ہےگزشتہ روز آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت ہونے والی کورکمانڈرز کانفرنس نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اوردیگر دہشتگرد گروپوں سے ملکی سلامتی کو خطرہ ہے۔

    کور کمانڈرز کانفرنس نے ایک پڑوسی ملک میں کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر گروہوں کو کارروائی کی آزادی، دہشت گردوں کے پاس جدید ترین ہتھیاروں کی دستیابی کو نوٹ کیا گیا اور فورم نے کہا کہ دہشت گردوں کے پاس جدید ترین ہتھیار پاکستان کی سلامتی متاثر کرنے کی بڑی وجوہات ہیں۔

    اس سے قبل آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا کہ افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو کارروائیوں کیلئے حاصل آزادی اور ان کے محفوظ ٹھکانوں پر مسلح افواج کو تشویش ہے، امید ہے افغان حکومت دوحہ معاہدے کے مطابق اپنی سرزمین کسی ملک کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دے گی مسلح افواج کو افغانستان میں ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہوں اور آزادانہ دہشت گرد کارروائیوں پر شدید تحفظات ہیں، توقع ہے کہ عبوری افغان حکومت اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی اور عبوری حکومت حقیقی معنوں میں دوحہ معاہدے میں کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد یقینی بنائے گی۔

    شمالی کوریا نے جاپانی سمندری حدود کے قریب بیلسٹک میزائل فائر کر دیا

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے مزید کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں افغان شہریوں کی شمولیت ایک اور اہم تشویشناک پہلو ہے جس پر فوری توجہ دینے اور اس سے نمٹنے کی ضرورت ہے، اس طرح کے دہشت گرد حملے ناقابل برداشت ہیں، ان حملوں پر سکیورٹی فورسز کی طرف سے مؤثر جوابی کارروائی ہوگی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن بلاامتیاز جاری رہے گا اور مسلح افواج دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک آرام سے نہیں بیٹھیں گی۔ کوئٹہ گیریژن آمد پر کور کمانڈر کوئٹہ نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔

    اسی حوالے سے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ افغان طالبان اپنی حدود کے اندر عسکریت پسندوں کو لگام ڈالنےکی خواہش رکھتے ہوں یا نہیں، پاکستان اپنی سرزمین سے دہشت گردی ختم کرنے کے عزم پر قائم ہے۔

    علاوہ ازیں ٹوئٹر پر ایک بیان میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں50 سے 60 لاکھ افغان شہریوں کو 40 سے 50 سال سے حقوق کے ساتھ پناہ میسر ہے لیکن اس کے برعکس پاکستانیوں کا خون بہانے والے دہشت گردوں کو افغان سر زمین پر پناہ گاہیں میسر ہیں لیکن اب یہ صورت حال مزید جاری نہیں رہ سکتی، پاکستان اپنی سرزمین اور شہریوں کےتحفظ کے لیےاپنے وسائل بروئے کار لائےگا، افغانستان ہمسایہ اور برادر ملک ہونےکا حق نہیں ادا کر رہا، افغانستان دوحہ معاہدے کی پاسداری بھی نہیں کر رہا۔

    عمران خان کے فیک فالورز کے بعد فیک ویوز بھی پکڑے گئے

  • افغانستان کو دہشتگرد حملوں کیلئےمحفوظ مقام کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے،امریکا

    افغانستان کو دہشتگرد حملوں کیلئےمحفوظ مقام کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے،امریکا

    امریکا نے کہا ہےکہ افغان طالبان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ملک کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ نہ بننے دیں۔

    باغی ٹی وی: پریس بریفنگ کے دوران امریکی وزرات خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ افغان طالبان یہ ہر صورت یقینی بنائیں کہ ان کا ملک دہشتگرد حملوں کے لیے استعمال نہ ہو اوروہ اپنی سرزمین کو دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں نہ بننے دیں دہشتگردی کو روکنا طالبان کی ذمہ داری ہے، افغانستان کو دہشتگرد حملوں کے لیے محفوظ مقام کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔

    دوسری جانب پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے افغانستان سے کیے جانے والے دہشتگردوں حملوں پر اپنے شدید تحفظات کا اظہا رکیا ہےگزشتہ روز آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت ہونے والی کورکمانڈرز کانفرنس نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اوردیگر دہشتگرد گروپوں سے ملکی سلامتی کو خطرہ ہے۔

    چین نےتائیوان کےنائب صدرکےدورہ امریکہ کی مخالفت کردی

    کور کمانڈرز کانفرنس نے ایک پڑوسی ملک میں کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر گروہوں کو کارروائی کی آزادی، دہشت گردوں کے پاس جدید ترین ہتھیاروں کی دستیابی کو نوٹ کیا گیا اور فورم نے کہا کہ دہشت گردوں کے پاس جدید ترین ہتھیار پاکستان کی سلامتی متاثر کرنے کی بڑی وجوہات ہیں۔

    اس سے قبل آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا کہ افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو کارروائیوں کیلئے حاصل آزادی اور ان کے محفوظ ٹھکانوں پر مسلح افواج کو تشویش ہے، امید ہے افغان حکومت دوحہ معاہدے کے مطابق اپنی سرزمین کسی ملک کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دے گی مسلح افواج کو افغانستان میں ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہوں اور آزادانہ دہشت گرد کارروائیوں پر شدید تحفظات ہیں، توقع ہے کہ عبوری افغان حکومت اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی اور عبوری حکومت حقیقی معنوں میں دوحہ معاہدے میں کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد یقینی بنائے گی۔

    اسرائیل نے سرکاری طور پر مغربی صحارا پر مراکش کی خودمختاری کو تسلیم کرلیا

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے مزید کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں افغان شہریوں کی شمولیت ایک اور اہم تشویشناک پہلو ہے جس پر فوری توجہ دینے اور اس سے نمٹنے کی ضرورت ہے، اس طرح کے دہشت گرد حملے ناقابل برداشت ہیں، ان حملوں پر سکیورٹی فورسز کی طرف سے مؤثر جوابی کارروائی ہوگی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن بلاامتیاز جاری رہے گا اور مسلح افواج دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک آرام سے نہیں بیٹھیں گی۔ کوئٹہ گیریژن آمد پر کور کمانڈر کوئٹہ نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔

    اسی حوالے سے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ افغان طالبان اپنی حدود کے اندر عسکریت پسندوں کو لگام ڈالنےکی خواہش رکھتے ہوں یا نہیں، پاکستان اپنی سرزمین سے دہشت گردی ختم کرنے کے عزم پر قائم ہے۔

    رجب طیب اردوان سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے

    علاوہ ازیں ٹوئٹر پر ایک بیان میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں50 سے 60 لاکھ افغان شہریوں کو 40 سے 50 سال سے حقوق کے ساتھ پناہ میسر ہے لیکن اس کے برعکس پاکستانیوں کا خون بہانے والے دہشت گردوں کو افغان سر زمین پر پناہ گاہیں میسر ہیں لیکن اب یہ صورت حال مزید جاری نہیں رہ سکتی، پاکستان اپنی سرزمین اور شہریوں کےتحفظ کے لیےاپنے وسائل بروئے کار لائےگا، افغانستان ہمسایہ اور برادر ملک ہونےکا حق نہیں ادا کر رہا، افغانستان دوحہ معاہدے کی پاسداری بھی نہیں کر رہا۔

  • افغانستان میں ٹی ٹی پی نہیں، ذبیح اللہ مجاہد کا  دعوی زمینی حقائق کے بالکل برعکس

    افغانستان میں ٹی ٹی پی نہیں، ذبیح اللہ مجاہد کا دعوی زمینی حقائق کے بالکل برعکس

    سال 2007 کے دوران ٹی ٹی پی کے قیام کے بعد اس کے سربراہ بیت اﷲ محسود کی سربراہی میں خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی لہر نے جنم لیا جو رفتہ رفتہ پاکستان کے دیگر علاقوں میں پھیلتی گئی۔

    باغی ٹی وی: پاک فوج کے انسداد دہشتگردی آپریشنز کے نتیجے میں ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں نے پاکستانی قبائلی پٹی سے فرار ہوکر سرحد پارافغانستان میں اپنے اڈے بنا لیےافغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نےحال ہی میں ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے کو ایک انٹرویو میں کہاکہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک بشمول پاکستان کےخلاف کسی بھی قسم کی کاروائیوں میں استعمال نہیں ہورہی،اور افغانستان میں ٹی ٹی پی کی کوئی بھی پناہ گاہ موجود نہیں ۔

    بدقسمتی سے ذبیح اللہ مجاہد کا یہ دعوی زمینی حقائق کے بالکل بر عکس ہے آئیے آج ذبیح اللہ مجاہد کے ٹی ٹی پی کے متعلق بیان کے بارے میں آپ کو حقائق سے آگاہ کرتے ہیں کیا حالیہ دنوں میں افغان طالبان نے بدنام زمانہ ٹی ٹی پی کمانڈر یاسر پرکے جو پاکستانی سیکورٹی فورسز کے خلاف کئی حملوں میں ملوث تھا اس کی کابل میں بھرپور میزبانی نہیں کی؟ انہیں خصوصی پرواز کے ذریعے کنڑ سے لایا گیا اور کابل میں صدارتی محل کا دورہ بھی کروایا گیا۔

    کیا طالبان کی اعلیٰ قیادت مفتی نور ولی محسود، حافظ گل بہادر اور علیم خان خوشحالی، برمل، خوست اور لمن میں رہائش پذیر نہیں؟ ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کا برمل، افغانستان میں واقع ایک تربیتی کیمپ کے دورے پر ان کا بھرپور انداز میں استقبال کیا جاتا یے، کیا ذبیح اللہ مجاہد اب بھی یہی کہیں گے کہ ٹی ٹی پی کا افغانستان میں نام و نشان تک نہیں؟

    گلون میں ایک کیمپ جو کہ خودکش بمباروں کو تربیت دیتا ہے خوست میں واقع ہے اور مفتی احمد شاہ اسے چلا رہے ہیں۔ وہ امیر حافظ گل بہادر کے قریبی دوست ہیں اور حافظ گل بہادر گروپ کے تمام اہم کاروائیوں کا حصہ ہیں کونڑ کے علاقے شونکرے میں بھی خودکش بمبار ٹریننگ مرکز موجود ہیں جو کہ پاک-افغان سرحد سے 3.3 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے دہشت گرد کمانڈر مولا صابر عرف سنگین مرکز کے انچارج ہیں اور مرکز کا بنیادی مقصد خودکش بمباروں کو تربیت دینا ہے۔

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل
    پشاور ہائی کورٹ، سونے کے قیمتوں کے تعین پر سماعت
    اسمبلیاں تحلیل کرنے کی بجائے مدت پوری کرنے دینی چاہئے،نیئر بخاری
    واشنگٹن پاکستانی سفارتخانے کی پرانی عمارت کس نے خریدی؟
    نجی تعلیمی اداروں کو بلا معاوضہ پلاٹ الاٹ کرنے کا فیصلہ
    روپیہ کی قدر میں اضافے کو بریک، ڈالر ایک بار پھر مہنگا

    چانچڑ پل ضلع لغمان سے تعلق رکھنے والا حاجی عبدالہادی ( نائب وزیر معدنیات کا بھائی) لغمان، کابل، ننگرہار، کنڑ، نورستان سے ہتھیار خریدتا ہے اور پاکستان میں اسمگل کرنے کے لیے ننگرہار منتقل کرتا ہے۔ کیا ذبیح اللہ مجاہد کو ان کے کارناموں کا اندازہ نہیں؟ حالیہ دنوں پاکستان میں اس طرح کے کئی واقعات رونما ہوئے ہیں جن کے تانے بانے براہ راست افغانستان سے ملتے ہے۔

    30 جنوری کو،تحریک طالبان پاکستان نے صوبہ خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور میں پولیس ہیڈ کوارٹر پر حملہ کیا، جس میں 80 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ اس حملے کی زمہ داری جمات الاحرار سے تعلق رکھنے والے سربکف محمند نے قبول کی۔

    اس کے بعد 17 فروری کو ٹی ٹی پی نے پاکستان کے معاشی مرکز کراچی کے قلب میں ایک کمپاؤنڈ پر حملہ کیا، جس میں صوبہ سندھ کے پولیس چیف کا دفتر واقع تھا۔ اس حملے میں پانچ سے چار سیکورٹی اہلکار اور ایک عام شہری مارا گیا۔ اس حملے کے ایک حملہ آور کے خاندان نے انکشاف کیا کہ وہ پانچ ماہ قبل افغانستان ٹریننگ حاصل کرنے گیا تھا۔

    دونوں حملوں کی جانچ پڑتال کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ حملہ آور یا تو افغانستان سے تربیت حاصل کرکے پاکستان آئے تھے یا بھر ان کا تعلق افغانستان سے تھا آرمی پبلک اسکول حملے کا ماسٹر مائنڈ عمر خالد خراسانی ضلع برمل کے قریب سڑک کنارے بم حملے میں مشرقی پکتیکا میں مفتی حسن اور حافظ دولت خان کے ساتھ مارا گیا۔ ذبیح اللہ صاحب اگر ٹی ٹی پی کی افغانستان میں کوئی موجودگی نہیں تو پھر ان کے کارندے ہمیشہ افغانستان میں ہی کیوں نشانہ بنتے ہے؟

    ٹی ٹی پی کے متعدد تربیتی کیمپ افغان سرزمین میں نڈر ہوکر اور بغیر کسی رکاوٹ یا دباؤ کے کام کرتے رہتے ہیں، بڑے اجتماعات کا اہتمام کرتے ہیں اور افغانوں اور دیگر افراد کو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کی تربیت دیتے ہیں ان تمام شواہد سے یہ بات بلکل واضح ہو جاتی ہے کہ ٹی ٹی پی کو افغان طالبان کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔

    افغان طالبان کو ٹی ٹی پی کے خلاف کاروائیاں تیز کرنی ہوگی ورنہ پاکستان اپنے دفاع کی خاطر کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ پاکستانی فوج کے سپہ سالار نے بھی دو ٹوک انداز میں بیان کردیا ہے کہ اگر افغانستان کی حکومت ٹی ٹی پی کے پنا گاہوں کو نشانہ نہیں بناتی تو پاکستان کو مجبوراً کوُسخت کاروائی کرنی پڑے گی۔

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     مراد سعید کے گھر پر پولیس نے چھاپہ

    اوریا مقبول جان کو رات گئے گرفتار 

  • پاکستان ٹی ٹی پی کے خلاف ثبوت دے،ہم اقدامات کریں گے، وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان پرافغان طالبان کا ردعمل

    پاکستان ٹی ٹی پی کے خلاف ثبوت دے،ہم اقدامات کریں گے، وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان پرافغان طالبان کا ردعمل

    افغان طالبان نے پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ دوحہ معاہدے پر امریکہ کے ساتھ دستخط کیے ہیں، افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی-

    باغی ٹی وی : وزیر دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کرتے ہوئے کہاکہ افغانستان میں طالبان کی حکومت پڑوسیوں کے حقوق پرعمل نہیں کرتی اور نہ ہی دوحہ معاہدے کی پابند ہے،قطرکے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کے امریکہ کے ساتھ ہونےوالےمعاہدے میں طالبان کے نمائندوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ افغانستان میں عسکریت پسندوں کو جگہ نہیں دیں گےساتھ ہی اپنےملک کی سرزمین دوسرےممالک کےخلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔


    وزیر دفاع خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ گزشتہ 40-50 سالوں سے 50-60 ملین افغان باشندے اپنے حقوق کے لیے پاکستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں لیکن اس کے برعکس پاکستانیوں کا خون بہانے والے دہشتگرد اس سرزمین پرموجود ہیں، جن کا تعلق افغانستان سے ہے یہ صورتحال جاری نہیں رہنی چاہیے، پاکستان اپنی سرزمین اور شہریوں کے تحفظ کیلئے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لائے گا۔

    قرآن پاک کی بے حرمتی: طالبان حکومت نےافغانستان میں سویڈن کی تمام سرگرمیاں معطل کردیں

    اس حوالے سے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے برطانوی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دوحہ معاہدے پر امریکہ کے ساتھ دستخط کیے ہیں، افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی اور پاکستان ایک برادر اور مسلم ملک ہے، ہم اسے ایسا ہی سمجھتے ہیں، اگر پاکستان کی حکومت ان کو ثبوت دیتی ہے تو وہ پاکستانی طالبان کے خلاف اقدامات کریں گے پاکستانی فریق نے ملاقاتیں بھی کی ہیں-

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد سے جب پوچھا گیا کہ اگر پاک فوج افغانستان کی سرزمین پر دوبارہ حملہ کرتی ہے تو ان کا کیا ردعمل ہوگا؟انہوں نے جواب دیا کہ ہم سنجیدگی سے اس کی روک تھام کرتے ہیں اور کسی کو اپنی سرزمین پر تجاوزات کی اجازت نہیں دیتے ان مذاکرات کے لیے پاکستانی طالبان کے نمائندے شمالی وزیرستان سے آئے تھے اور اب جب کہ یہ مذاکرات بے نتیجہ ہو چکے ہیں، مذاکرات کی ثالثی بھی ختم ہو گئی ہے۔

    پاکستان کو اپنا مسئلہ خود حل کرنا چاہیے،افغان طالبان

    دریں اثنا، افغان طالبان کے ترجمان بیح اللہ مجاہد نے ایک حالیہ بیان میں دعویٰ کیا کہ عبوری حکومت اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے رہی ہے اور یہ کہ ٹی ٹی پی سے نمٹنے کے لیے پاکستان کا مسئلہ ہے۔

    واضح رہے کہ حال میں ہی بلوچستان میں دہشت گردوں کے حملوں میں 9 پاکستانی فوجی شہید ہوئے تھے جبکہ پاک فوج کے سربراہ نے کہا تھا کہ فوج کو افغانستان میں پاکستانی طالبان تحریک کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا چاہیے۔

    انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج کو افغانستان میں ٹی ٹی پی کے لیے دستیاب محفوظ پناہ گاہوں اور کارروائی کی آزادی پر شدید تحفظات ہیں-

    ترکیہ نےسویڈن کی نیٹو رکنیت کیلئےحمایت کر دی

    آرمی چیف کے حوالے سے کہا گیا کہ ’یہ توقع ہے کہ عبوری افغان حکومت حقیقی معنوں میں اور دوحہ معاہدے میں کیے گئے وعدوں کے مطابق اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی،ج پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ کارروائیوں میں افغان شہری ملوث تھے۔ آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں افغان شہریوں کی شمولیت ایک اوراہم تشویش ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہےاس طرح کے حملے ناقابل برداشت ہیں اور پاکستان کی سیکورٹی فورسز کی جانب سے موثر جواب دیا جائے گا-

    انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں بلاتاخیر جاری رہیں گی اور مسلح افواج ملک سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک آرام سے نہیں بیٹھیں گی۔ آرمی چیف کے بیان میں ٹی ٹی پی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے افغان طالبان کی جانب سے تعاون کی کمی کی وجہ سے پاکستان کی جانب سے مایوسی کا اظہار کیا گیا۔

    اسلامی تعلیمات سےمتاثرہوکراسلام قبول کیاہے،سیر کے دوران آیا صوفیا میں اسلام قبول کرنے والا روسی …

  • ژوب،دہشت گردانہ حملہ،تین دہشتگرد ہلاک،چار جوان شہید

    ژوب،دہشت گردانہ حملہ،تین دہشتگرد ہلاک،چار جوان شہید

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے علاقے ژوب میں دہشت گردی کی کاروائی ہوئی ہے، سیکورٹی اداروں کی جوابی کاروائی کے نتیجے میں خود کش حملہ آور سمیت تین حملہ آور جہنم واصل ہو گئے ہیں

    ڈی جی آئی ایس ہی آر کے مطابق 12 جولائی کی صبح دہشت گردوں کے ایک گروپ نے بلوچستان کے علاقے ژوب گیریژن میں حملہ کیا، دہشت گردوں نے گھسنے کی کوشش کی جس پر سیکورٹی اہلکار حرکت میں آئے اور فوری جوابی کاروائی شروع کر دی، شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد دہشتگردوں کو سرحد کے ایک چھوٹے سے علاقے میں گھیر لیا گیا ہے۔ اب تک بھاری ہتھیاروں سے لیس 3 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔ باقی دو دہشت گردوں کو بھی پکڑنے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

    ڈی جی آئی ایس ہی آر کے مطابق کلیئرنس آپریشن کے دوران، چار فوجیوں نے شہادت کو گلے لگایا، جبکہ دیگر 5 شدید زخمی ہیں۔ سیکیورٹی فورسز بلوچستان اور پاکستان کے امن کو تباہ کرنے کی ایسی تمام گھناؤنی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

    ژوب کینٹ میں مسلح دہشت گردوں نے حملہ کیا جس پر سیکورٹی اداروں نے جوابی کاروائی کی، ڈپٹی کمشنر ژوب عظیم کاکڑ کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا گیا، فائرنگ کے تبادلے میں چار ایف سی اہلکار شہید ہو گئے ہیں جبکہ چار زخمی ہوئے ہیں، حملہ کرنیوالے تین دہشت گرد جہنم واصل کر دیئے گئے ہیں، علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے،

    حملہ آوروں کی فائرنگ سے پنجاب سے آنے والی کوچز کے زد میں آنے سے فائرنگ سے ایک خاتون سمیت کوچ میں سوار 3 افراد جاں بحق ہو گئے زخمی ایف سی اہلکاروں کو سی ایم ایچ ژوب منتقل کر دیا گیا جبکہ کوچ میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کو کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہے

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    زمان پارک کی جادوگرنی، عمران پر دس سال کی پابندی حسان نیازی کہاں؟ پتہ چل گیا

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اورامریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

    شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    سیکیورٹی اہلکاروں نے اپنی جان نچھاور کرکے ملک کو بہت بڑے جانی نقصان سے بچایا،وزیرِ اعظم
    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ژوب گیریزن میں دھشتگردوں کے حملے میں سیکیورٹی فوسز کے چار جوانوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے، وزیرِ اعظم نے شہداء کے اہل خانہ کیلئے صبر جمیل کی دعا کی ہے، وزیرِ اعظم نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے اور کہا ہے کہ شہداء ہماری قوم کا فخر ہیں ،سیکیورٹی اہلکاروں نے اپنی جان نچھاور کرکے ملک کو بہت بڑے جانی نقصان سے بچایا پاکستانی قوم اپنے شہداء کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کر سکتی.

    پی پی پی چیئرمین و وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ژوب کے علاقے کینٹ میں دہشتگردوں کے حملے کی مذمت کی،پی پی پی چیئرمین نے واقعے میں سکیورٹی فورسز کے 4 جوانوں کی شہادت پر اظہار افسوس کیا اور کہا کہ دہشتگردوں سے شہداء کے خون کے قطرے قطرے کا حساب لیں گے ،دہشتگردوں کی بزدلانہ کاروائیاں سکیورٹی فورسز نہ قوم کے حوصلے اور عزم کو متزلزل کر سکتی ہیں ،چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شہداء کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی، زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی.

    شہید اہلکار قوم کے ہیرو ہیں، نگران وزیراعلیٰ پنجاب
    نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے ژوب کینٹ پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کی ، وزیر اعلی محسن نقوی نے کلیئرنس آپریشن کے دوران شہید ہونے والے 4 سکیورٹی اہلکاروں کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا،اور کہا کہ شہید اہلکاروں نے بہادری کے ساتھ دہشت گردو ں کو جہنم واصل کر کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا -شہید اہلکار قوم کے ہیرو ہیں، ان کی عظیم قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں – پاک وطن کے بہادر جوانوں نے شہادت کا بلند مقام پایا۔

  • قرآن پاک کی بے حرمتی: طالبان حکومت نےافغانستان میں سویڈن کی تمام سرگرمیاں معطل کردیں

    قرآن پاک کی بے حرمتی: طالبان حکومت نےافغانستان میں سویڈن کی تمام سرگرمیاں معطل کردیں

    کابل: افغانستان میں طالبان حکومت نے سویڈن میں توہین قرآن کے واقعے کے خلاف افغانستان میں سویڈن کی تمام سرگرمیاں معطل کردیں۔

    باغی ٹی وی: طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے اس حوالے سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ توہین قرآن اور مسلمانوں کے عقائد کی توہین کرنے پر سرکاری سطح پر معافی مانگنے تک سویڈن کی تمام سرگرمیاں افغانستان میں معطل رہیں گی افغانستان میں تمام سرکاری ادارے اس حکم پر عملدرآمد کے پابند ہیں۔

    اعلامیے میں طالبان کی جانب سے دیگر مسلم ممالک سے بھی مطالبہ کیا گیا ہےکہ وہ سویڈن کی اس مذموم حرکت کے خلاف اپنے تعلقات پر نئے سرے سے غور کریں-

    برطانوی حکومت کی اپنے شہریوں کیلئے پاکستان میں سفرکےبارے میں نئی ہدایات جاری

    اس سے قبل سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی پر یمن کی حوثی اتھارٹی نے سویڈش درآمدات پر پابندی عائد کرنےکا اعلان کیا تھا، یمنی میڈیا نےحوثی وزیرتجارت کا حوالہ دیتےہوئےکہا کہ یمن وہ پہلا ملک بن گیا ہے جس نے قرآن پاک کی بے حرمتی کے بعد سویڈش تجارت پر پابندی لگائی ہے۔

    واضح رہے کہ رہےکہ سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم کی مسجد کے باہر عید الاضحیٰ کے روز قرآن پاک کو نذرآتش کرنے اور بے حرمتی کا واقعہ پیش آیا تھا اسٹاک ہوم کی پولیس نے عراق سے تعلق رکھنے والے شہری کو کئی بار قرآن پاک نذر آتش کرنے کی اجازت دینے سے انکار کیا تھا لیکن مقامی عدالت نے پولیس کے فیصلے کو آزادی اظہار رائے کے خلاف قرار دیا مقامی پولیس نے شہری کو عید کے روز شہر کی مرکزی جامع مسجد کے باہر مظاہرے کی اجازت دی جس کے بعد ملعون نے قرآن پاک کو نذر آتش کیا اور مسلمانوں کی مقدس کتاب کی بے حرمتی کی۔

    ترکیہ نےسویڈن کی نیٹو رکنیت کیلئےحمایت کر دی

    سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی پر دنیا بھر میں مسلمان سراپا احتجاج ہیں اور کئی ممالک میں ریلیاں نکالی جا رہی ہیں جب کہ حکومت پاکستان کی طرف سے اس سلسلے میں یوم تقدیس قرآن بھی منایا گیا۔

  • پاکستان کو اپنا مسئلہ خود حل کرنا چاہیے،افغان طالبان

    پاکستان کو اپنا مسئلہ خود حل کرنا چاہیے،افغان طالبان

    طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان آصف علی درانی کا کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے متعلق بیان مسترد کر دیا۔

    باغی ٹی وی: پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان آصف علی درانی نے افغان میڈیا کو انٹرویو کے دوران ٹی ٹی پی کو افغان علاقوں میں منتقل کرنے کے امارات اسلامیہ افغانستان کے فیصلے کا خیر مقدم کیا تھا۔

    افغان میڈیا کے مطابق آصف علی درانی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ وزیرستان کے مہاجرین جو تنازعات کی وجہ سے افغانستان میں داخل ہوئے ہیں انہیں پاکستان منتقل کیا جائے گا۔

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا ان افراد کی منتقلی پاکستان کو افغانستان سے خطرات کے تحفظ کی یقین دہانی کے طور پرکی جائے گی،اگر پاکستان میں کوئی سرگرم ہے یا کسی کی تحریک چل رہی ہے تو یہ پاکستان کا مسئلہ ہے پاکستان کو اپنا مسئلہ خود حل کرنا چاہیے، ہم افغان سرزمین سے پاکستان کے لیے خطرہ بننے کی کسی کو اجازت نہ دینے کے پابند ہیں۔

    آدھا گھنٹہ حرکت قلب بند، عراقی حاجی کی جان بچالی گئی

    واضح رہے کہ رواں برس مئی میں آصف درانی کو وزیراعظم کا نمائدہ خصوصی برائے افغانستان تعینات کیا گیا تھا ،وزارت خارجہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ آصف درانی کو وزیراعظم کا نمائندہ خصوصی برائے افغانستان تعینات کردیا گیا آصف درانی اس سے قبل افغانستان، ایران اور متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر رہ چکے ہیں، صادق خان کے استغفےٰ کے بعد نمائندہ خصوصی برائے افغانستان کا عہدہ خالی تھا۔

    افغانستان کے امور کے لیے پاکستان کے سابق خصوصی نمائندے محمد صادق نے تین سال عہدے پر رہنے کے بعد گزشتہ سال اگست کے آغاز میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

    تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو ، اب تجھے میں یاد آنا چاہتا …