Baaghi TV

Tag: افغانستان

  • ٹوئٹر نے طالبان کے خریدے ہوئے تصدیق شدہ بلیو ٹک  ختم کر دئیے

    ٹوئٹر نے طالبان کے خریدے ہوئے تصدیق شدہ بلیو ٹک ختم کر دئیے

    ٹوئٹر نے طالبان کے خریدے ہوئے تصدیق شدہ بلیو ٹک ختم کر دئیے ہیں۔

    باغی ٹی وی: افغانستان میں اب تک دو طالبان رہنما اور ان کے چار حامی اکاؤنٹس بلیو ٹک کا استعمال کر رہے تھے جس پر صارفین کیجانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور کئی صارفین نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے تصدیق شدہ اکاونٹس کے خلاف رپورٹس بھی کیں، جس کے بعد طالبان عہدیداروں کے بلیو ٹک ‘غائب’ ہو گئے ہیں۔

    طلاق سے پہلے ماہر نفسیات سے مدد لی جائے،اسلامی فقہ اکیڈمی سوڈان

    برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کے محکمہ اطلاعات تک رسائی کے سربراہ ہدایت اللہ ہدایت اور ذرائع ابلاغ کے سینئر عہدیدار عبدالحق حماد کا ٹوئٹر اکاؤنٹ پیر تک ویریفائیڈ تھا جن کے فالوررز کی تعداد ایک لاکھ 87 ہزار اور ایک لاکھ 70 ہزار ہے۔

    گزشتہ روز طالبان رہنماؤں کو بھی ٹوئٹر نے بلیو ٹک کی سہولت فراہم کر دی تھی، جس کے بعد طالبان رہنماوں کی جانب سے ایلون مسک کے لیے تعریفی ٹویٹ بھی کی گئیں، طالبان اہلکار نے ٹوئٹر کے سربراہ کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ ایلون مسک ٹوئٹر کو دوبارہ سے عظیم بنا رہے ہیں۔

    چیچن صدر نے یوکرین تنازع کو تیسری عالمی جنگ قرار دیا

    واضح رہے طالبان بھی ٹوئٹر کے تصدیقی فیچر کے استعمال کے لیے ٹوئٹر کو ادائیگیاں کررہے ہیں، ٹوئٹر پر صارفین کے تصدیقی اکاونٹ لیے پیڈ سروس دسمبر 2022 میں متعارف کرائی گئی تھی جس کے تحت بلیو ٹک کے خواہشمند افراد کو آٹھ ڈالر ماہانہ ادا کرنے ہوں گے یہ آپشن افغانستان میں طالبان حکومت کے کم از کم دو عہدیداروں نے استعمال کیا تھا۔

  • عالمی برادری کو افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہیے،افغان حکومت

    عالمی برادری کو افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہیے،افغان حکومت

    کابل: افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ افغان حکومت خواتین کی تعلیم پر عائد پابندی اٹھانے پر کام کررہی ہے۔

    باغی ٹی وی: ترجمان افغان حکومت ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پرجاری بیان میں کہا کہ عالمی برادری کو افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہیے اور افغانستان سے تعاون جاری رکھنا چاہیے۔

    جرمنی کا پاکستان کو 2 کروڑ 80 لاکھ یورو کی امداد فراہم کرنے کا اعلان


    ترجمان نے مزید کہا کہ طالبان حکومت خواتین کی تعلیم پر عائد پابندی ختم کرنے کےلیے کام کررہی ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی افغانستان میں خواتین کی تعلیم کے معاملے پر تشویش سمجھ سے باہر ہےہم او آئی سی سمیت تمام عالمی اداروں سے قریبی تعلقات چاہتے ہیں۔

    قبل ازیں طالبان کے نائب ترجمان بلال کریمی نے یونیورسٹی میں خواتین کی تعلیم پر پابندی کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان میں تعلیم اور ترقی کے امور کو شریعت کی دفعات کے مطابق ترتیب دینا تحریک کا فرض ہے۔

    "العربیہ” کے ساتھ بات چیت کے دوران بلال کریمی نے کہا تھا کہ طالبان نے خواتین کو وہ حقوق دیے ہیں جو ماضی میں انہیں حاصل نہیں تھے طالبان کے نائب ترجمان بلال کریمی نےافغانستان میں داعش کی موجودگی کی اہمیت کو کم کرتے ہوئے کہا تھا کہ داعش ایک پوشیدہ تکفیری رجحان قرار ہے۔

    واٹس ایپ نے اپنے صارفین کی سہولت کے لیے یا فیچر متعارف کرا دیا

    انہوں نے کہا تھا کہ طالبان تحریک نے کالعدم تنظیم داعش کے 98 فیصد ٹھکانے تباہ کر دیے ہیں اور افغانستان میں داعش کے لیے کوئی مقبول انکیوبیٹر نہیں تھا۔

    یاد رہے افعانستان کی وزارت اعلیٰ تعلیم کی جانب سے تمام سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں کو بھیجے گئے خط کے مطابق طالبان نے گزشتہ ماہ افغانستان میں خواتین کے لیے یونیورسٹی کی تعلیم پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس خط پر وزیر ندا محمد ندیم کے دستخط تھے۔

    طالبان کے اس فیصلے پر عالمی برادری کی جانب سے شدید تنقید کی گئی تو رد عمل میں طالبان کے اعلی تعلیم کے وزیر ندا محمد ندیم نے اپنے بیانات میں کہا تھا کہ اگر وہ ہم پر ایٹم بم بھی گرا دیں تو بھی ہم اپنےفیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہم عالمی برادری کی طرف سے عائد پابندیوں کے لیے تیار ہیں۔ طالبان کے فیصلے صرف لڑکیوں کو یونیورسٹی کی تعلیم سے روکنے پر ہی نہیں رکے بلکہ اس تحریک نے افغانستان میں غیر سرکاری تنظیموں کو احکامات بھی جاری کیے کہ وہ خواتین کو ملازمت پر رکھنے سے باز آ جائیں۔

    طالبان حکومت کا خواتین دکانداروں کو دکانیں اور بیوٹی پارلرز بند کرنے کا حکم

    طالبان نے حجاب سمیت مناسب ڈریس کوڈ پر عمل درآمد کرانے کے اپنے فیصلے کو درست قرار دیا اور اس فیصلے پر عمل نہ کرنے والی تنظیموں کے لائسنس معطل کرنے کی دھمکی بھی دی ہےطالبان حکومت نے افغانستان میں خواتین کے بیوٹی سیلون بند کرنے کے لیے 10 دن کی ڈیڈ لائن مقرر کی ہے طالبان نے لڑکیوں کو تجارتی مراکز میں کام کرنے سے روکنے کا بھی فیصلہ کرلیا ہے۔

  • قائمہ کمیٹی اجلاس میں افغانستان میں میڈیکل طلبہ کی تعلیم پر پابندی پر تفصیلی جائزہ

    قائمہ کمیٹی اجلاس میں افغانستان میں میڈیکل طلبہ کی تعلیم پر پابندی پر تفصیلی جائزہ

    اسلام آباد:سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوارڈینیشن کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر ڈاکٹر محمد ہمایوں مہمند کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    باغی ٹی وی : قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں 6دسمبر 2022کو منعقد ہونے والے کمیٹی اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد کے علاوہ پاکستان نرسنگ کونسل ایکٹ 1973 کی مبینہ خلاف ورزی, PNC ملازمین کی جانب سے قائم کردہ بوگس اداروں کے ذریعے نرسنگ کے ہزاروں طلباء کے مستقبل کی تباہی، بدعنوانی اور غیر قانونی تقرریوں سے متعلق پبلک پیٹیشن، ڈاکٹر سلمان قاضی کی عوامی عرضداشت کے علاوہ پاکستان میڈیکل کمیشن کی طرف سے میڈیکل کے طالبعلموں کے 350وظائف کی معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں افغانستان میں میڈیکل طلبہ کی تعلیم پر پابندی اور پاکستانی طلبہ کی پاکستانی یونیورسٹیز میں ٹرانسفر کے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ متعلقہ محکمے کے پاس کسی طالبعلم نے اپروچ نہیں کیا تاہم کمیٹی میں جو معاملہ اٹھایا گیا ہے متعلقہ محکموں سے مل کر اس کا جائزہ لیا جائے گا۔ اُن بچوں کا دسمبر میں امتحان ہونا تھا اُن کا ایک سال ضائع ہو گیا ہے۔ جس پر چیئرمین قواعد وضوابط کے مطابق ہی معاملات کو حل کرنے کی ہدایت کر دی۔

    کمیٹی اجلاس میں 6دسمبر 2022کو منعقد کمیٹی اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ دفاتر میں خواتین کو تحفظ فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے ہراسگی کے معاملات کو تفصیلی دیکھ کر فیصلہ کرنا چاہئے۔

    چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ہماری ہدایات تھیں کہ اسسٹنٹ رجسٹرار کو ان کے پیرنٹ محکمہ میں واپس بھیجیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پی این سی کا قانون تو بن گیا مگر رولز ریگولیشن کا ڈرافٹ بنایا گیا مگر نوٹیفائی نہیں ہو سکے۔ اب نیا ایکٹ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور ہو چکا ہے تو نئے رولز ریگولیشن مرتب کئے جائیں گے۔

    جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی جائے جو پی این سی سے متعلقہ امور کا جائزہ لے کر رپورٹ تیار کرے۔ سینیٹر پروفیسر ڈاکٹر مہر تاج روغانی کی سربراہی میں ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے ممبران میں سینیٹر روبینہ خالد اور سینیٹر سردار محمد شفیق ترین شامل کئے گئے جو معاملات کا جائزہ لے کر کمیٹی کو رپورٹ پیش کرے گی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اگر یہ معاملہ نہ اٹھتا تو پتہ ہی نہ چلتا کہ نرسنگ کونسل ایسے ہی چل رہی ہے۔

    صدر پی این سی نے کہا کہ انہوں نے متعلقہ محکموں کو قانون کے مطابق کام کرنے کا کہا تو ان کے خلاف معاملات اٹھائے گئے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پی این سی کے 2019 میں رولز کے ڈرافٹ بنائے گئے تھے مگر نوٹیفائی نہیں ہو سکے۔ سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ نرسنگ کالج کی انسپیکشن کا طریقہ کار کیا ہے اور کسی بھی کالج کیلئے کیا قواعد وضوابط ہوتے ہیں کمیٹی کو تفصیل آگاہ کیا جائے۔

    انہوں نے کہاکہ پی این سی ایک ریگولیٹری باڈی ہے۔ ان کے اندرونی جھگڑوں کی وجہ سے لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ قائمہ کمیٹی نے ہدایت کہ کہ ہرنرسنگ کالج کا جائزہ لیا جائے اور جو قانونی طریقہ کار سے ہٹ کر کام کر رہے ہیں۔ انہیں مناسب وقت دیا جائے جس کے اندر وہ اپنے طریقہ کار کو قانون کے مطابق بہتر کریں۔

    سپیشل سیکرٹری وزارت صحت نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ معاملات کی ایف آئی اے میں بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور جو الزامات تھے ان کا بھی جائزہ لیا جارہاہے رپورٹ آنے تک انتظار کیا جائے۔ ریکارڈ ایف آئی اے کے پاس موجود ہے۔ کمیٹی اجلاس میں صدر پی این سی کے ڈی نوٹیفائی کے احکامات بھی پیش کیے گئے۔

    چیئرمین کمیٹی نے قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا کہ یہ وزارت قانون کی طرف سے نوٹیفیکیشن کیا گیاہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ قائمہ کمیٹی صدر پی این سی کے ڈی نوٹیفیکیشن ملنے کے بعد شازیہ ثوبیہ کا کمنٹ قائمہ کمیٹی نہیں لے سکتی۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ڈاکٹر سلمان قاضی کی عوامی عرضداشت کے حوالے سے چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آج سی پی ایس کا سالانہ اجلاس ہو رہا ہے اور انہوں نے درخواست کی ہے کہ ان کا ایجنڈا آئندہ اجلا س میں زیر بحث لایا جائے۔ صرف بنیادی ڈھانچے میں فرق ہے۔ قائمہ کمیٹی نے معاملے کو آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا۔

    پاکستان میڈیکل کمیشن کی طرف سے میڈیکل کے طالبعلموں کے 350وظائف کی معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ جن طالبعلموں ایک دفعہ ایڈمیشن مل چکا ہے ان کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ جب وظائف ایوارڈ ہوا تھا اس کو جاری رکھنے کیلئے کچھ رولز بنے تھے۔ ایک طالبعلم جب فرسٹ ایئر میں وظیفہ لیتا ہے تو ایک میرٹ ہونا چاہیے جو پہلے نہیں تھا۔

    جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ وظائف ان بچوں کیلئے تھے جو مستحق اور ضرورت مند تھے۔ اگر ایک طالبعلم سپلیمنٹری میں پاس ہو جاتا ہے تو وظیفہ ملنا چاہیے اور پلان میں کم ازکم پانچ سال کا وظیفہ لازمی ہوناچاہیے آخری سال میں دیکھا جائے۔ اچھی پالیسیوں کو جاری رکھیں اور جن پالیسیوں میں کوئی مسائل ہیں ان کو بہتر بنایا جائے۔ سید ذوالقرنین کاظمی کے معاملے کے حوالے سے چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ وہ آئندہ اجلاس میں اپنی شرکت یقینی بنائیں تاکہ ان کا موقف سن کر معاملہ کاجائزہ لیا جا سکے۔

    قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز، ڈاکٹر پروفیسر مہر تاج روغانی، ثنا جمالی، روبینہ خالد، بہرامند خان تنگی اور سردار محمد شفیق ترین کے علاوہ سپیشل سیکرٹری وزارت صحت، پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت شازیہ ثوبیہ، ایڈیشنل سیکرٹری اسٹبلشمنٹ ڈویژن اور متعلقہ وزارت کے سینئر حکام نے شرکت کی۔

  • طالبان حکومت کا خواتین دکانداروں کو دکانیں اور بیوٹی پارلرز بند کرنے کا حکم

    طالبان حکومت کا خواتین دکانداروں کو دکانیں اور بیوٹی پارلرز بند کرنے کا حکم

    افغانستان میں طالبان حکومت نے بیوٹی پارلرز اور خواتین دکا ن داروں کو دکانیں بند کرنے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق طالبان نے افغانستان میں صوبہ بغلان کے شہر پل خمری میں خواتین کو بیوٹی سیلون بند کرنے کے لیے 10 روز کی مہلت دی ہےتجارتی مراکز میں خواتین اور لڑکیوں کے کام کرنے پربھی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    2100 کے شروع تک زمین پر موجود 80 فیصد گلیشیئر پگھل سکتے ہیں

    افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی جانب سے صوبہ بلخ کے شہر مزار شریف کی مارکیٹ میں خواتین دکانداروں کو دکانیں بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    افغان حکام کا کہنا ہے کہ خواتین مرد ایک ساتھ کام کررہے ہیں، اس لیے دکانیں بند کرنے کا حکم دیا گیا۔

    خواتین دکانداروں نے حکام سے فیصلہ واپس لینے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ دکانوں سے ہی وہ گزر بسر کر رہی اور خاندان کا پیٹ پال رہی ہیں۔

    افغان حکومت نے لڑکیوں کوپرائمری تک تعلیم جاری رکھنےکی اجازت دے دی

    اس سے قبل طالبان لڑکیوں کی یونیورسٹیوں میں تعلیم پر، پارکس میں خواتین کے جانےپربھی پابندی لگا چکے ہیں طالبان حکومت کو خواتین کی تعلیم اور کام پر پابندیاں عائد کرنے پرعالمی برادری کی سخت تنقید کا سامنا ہے جبکہ گزشتہ روز طالبان حکومت نے لڑکیوں کو پانچویں جماعت تک تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دی ہے –

  • افغان حکومت نے لڑکیوں کوپرائمری تک تعلیم جاری رکھنےکی اجازت دے دی

    افغان حکومت نے لڑکیوں کوپرائمری تک تعلیم جاری رکھنےکی اجازت دے دی

    افغان حکومت نے لڑکیوں کوپانچویں جماعت تک تعلیم جاری رکھنےکی اجازت دے دی۔

    باغی ٹی وی : افغان میڈیا کے مطابق افغان وزارت تعلیم سے جاری اعلامیے میں لڑکیوں کو پانچویں جماعت تک تعلیم جاری رکھنےکی اجازت دی گئی ہے۔

    مسٹرہیری!جن کوآپ نےقتل کیا وہ شطرنج کےمہرے نہیں انسان تھے:افغان طالبان رہنماانس…

    افغان وزارت تعلیم کی جانب سے افغانستان کے اسکولوں، مدارس اور تعلیمی مراکز کو ہدایت کی گئی ہےکہ پانچویں جماعت تک لڑکیوں کے لیے اسکول و تعلیمی مراکز کھول دیئے جائیں۔


    دوسری جانب وزیر اعلی تعلیم شیخ ندا محمد ندیم نے کہا تھا کہ یونیورسٹیوں میں خواتین کی تعلیم پر پابندی مستقل نہیں، کوئی مطالبہ بطور دباؤ قبول نہیں کریں گے-

    قبل ازیں وزیر اعظم کے سیاسی سیکریٹری مولوی عبدالکبیر نے اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان سے ملاقات میں کہا تھ کہ امارت اسلامیہ دینی اور عصری علوم کی تعلیم کا حصول ہر افغان کا حق سمجھتی ہے اور خواتین کے لیے موزوں ماحول کے قیام پر کام کر رہی ہے۔

    واضح رہےکہ گزشتہ ماہ طالبان حکام نے لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم پر پابندی لگائی تھی، جس کے بعد کئی صوبوں میں لڑکیوں کے پرائمری اسکول بھی بند کر دیےگئے تھے۔

    ٹک ٹاک کی نئے فیچر کی آزمائس

  • افغان ریلوے اتھارٹی کے وفد کا وزارت ریلوے کا دورہ

    افغان ریلوے اتھارٹی کے وفد کا وزارت ریلوے کا دورہ

    افغان ریلوے اتھارٹی کے وفد کا وزارت ریلوے کا دورہ

    افغان ریلوے اتھارٹی کے وفد نے ٹرانس افغان ریلوے پراجیکٹ پر آٹھویں سہ فریقی اجلاس میں شرکت کے لیے وزارت ریلوے کا دورہ کیا۔

    ٹرانس افغان ریلوے پراجیکٹ پر سہ فریقی ورکنگ گروپ کا آٹھواں اجلاس وزارت ریلوے، اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس کی صدارت پاکستان کی طر ف ایڈیشنل سیکرٹری ریلویز سید مظہر علی شاہ نے کی ، افغانستان سے ڈائریکٹر جنرل الحاج ملا بخت الرحمن شرافت اور ازبکستان کی طر ف سے قائم مقام ڈپٹی چیئرمین جناب کمالوف اکمل سیداکابارووچ نے کی ۔انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں منصوبے کی اہمیت، ابتدائی تکنیکی جائزوں پر ہونے والی پیش رفت اور فزیبلٹی اسٹڈی کے جلد آغاز کے لیے اگلے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    پاکستان میں دوران سفر جنسی سہولیات حاصل کریں،ٹکٹ پر لکھا دیکھ کر مسافرپھٹ پڑے

    دو خواجہ سراؤں کا قتل،پولیس نے خواجہ سراؤں کو دھکے مار کر تھانے سے نکال دیا

    پشاور میں پہلی بار خواجہ سراء کو منتخب کر لیا گیا، آخر کس عہدے کیلئے؟

    خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزمان گرفتار

    منصوبہ مزار شریف سے موجودہ ریلوے لنک کو پاکستان ریلوے نیٹ ورک سے جوڑ کر پاکستان کو وسطی ایشیائی جمہوریہ سے کنیکٹ کرے گا۔ اس سے نہ صرف حصہ لینے والے ممالک کے درمیان علاقائی اور دوطرفہ تجارت کو آسان بنایا جا سکے گا بلکہ اس سے پورے خطے کے لوگوں کو بہتر روابط بھی فراہم ہوں گے۔ اجلاس شریک چیئرمینوں کے شکریہ پر اختتام پذیر ہوا۔

  • کابل میں فوجی ہوائی اڈے کے باہر دھماکہ ، متعدد افراد جاں بحق

    کابل میں فوجی ہوائی اڈے کے باہر دھماکہ ، متعدد افراد جاں بحق

    کابل: اتوارکو افغان دارالحکومت میں ایک فوجی ہوائی اڈے کے دروازے پر ہونے والے دھماکے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نے دھماکے کی تصدیق کردی تاہم اس کی نوعیت نہیں بتائی۔

    عبدالنافی تکور نے بتایا کہ کابل ملٹری ایئرپورٹ کے باہر دھماکے میں ہمارے متعدد بے گناہ عام شہری شہید اور زخمی ہوئے واقعے کی اطلاع ملتے ہیں ریسیکیو ادارے اور سیکیورٹی فورسز پہنچ گئیں اور جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر علاقے کو سیل کردیا، جبکہ تمام سڑکیں بند کردی گئیں۔

    عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکا علی الصبح 8 بجے سخت حفاظتی انتظامات والے ہوائی اڈے کے احاطے میں فوجی ایریا میں ہوا۔

    امدادی کارکنوں نے لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا ہے، جہاں متعدد زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جارہی ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مشتبہ افراد کی گرفتاری کےلیے علاقے میں سرچ آپریشن کیا جارہا ہے۔ واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اور دھماکے کی نوعیت کا پتہ لگایا جارہا ہے۔ تاحال کسی تنظیم نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

    واضح رہے کہ افغانستان میں حال ہی میں داعش نے متعدد حملے کیے ہیں جن میں پاکستانی و روسی سفارت خانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جبکہ سابق افغان وزیراعظم کے دفتر پر بھی حملہ کیا گیا۔

    طالبان حکام اگست 2021 میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے سیکیورٹی میں بہتری لانے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن متعدد بم دھماکے اور حملے ہو چکے ہیں، جن میں سے کئی کا دعویٰ داعش گروپ کے مقامی باب نے کیا ہے۔

    گزشتہ ماہ کابل میں چینی کاروباری افراد کے لیے مشہور ہوٹل پر بندوق برداروں کے حملے میں کم از کم پانچ چینی شہری زخمی ہو گئے تھے حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

    طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے افغانستان کی اقلیتی برادریوں کے افراد سمیت سیکڑوں افراد حملوں میں ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔

  • افغانستان کوامریکا، روس اورچین کےدرمیان اختلافات کا مرکز دیکھنا نہیں چاہتے،حامد کرزئی

    افغانستان کوامریکا، روس اورچین کےدرمیان اختلافات کا مرکز دیکھنا نہیں چاہتے،حامد کرزئی

    افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے کہا ہےکہ وہ افغانستان کو امریکا، روس اور چین کے درمیان اختلافات کا مرکز دیکھنا نہیں چاہتے کیونکہ جو انیسویں اوربیسویں صدی میں ہوا وہی اب ہوتا نظر آ رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکی اخبار کو انٹرویو میں حامد کرزئی نے کہا ہے کہ طالبان اور ملک کیلئے یہی بہتر ہے کہ وسیع تر ڈائیلاگ کے ذریعے تمام طبقات پرمشتمل حکومت قائم کی جائے اور آئین بنایا جائے۔

    خواتین کی تعلیم پر پابندی:افغان پروفیسرنے لائیو ٹی وی شو میں اپنے تعلیمی سرٹیفکیٹس…

    انہوں نے کہا کہ طالبان کے سینیئر لیڈرز سے بات ہوتی رہتی ہے، اصولی طورپر طالبان بھی وسیع تر ڈائیلاگ پر متفق ہیں اس لیے وہ پر امید ہیں کہ ایسا ہوگا وہ نہیں چاہتے کہ افغانستان میں حکومت ٹوٹ جائے تاہم نمائندہ حکومت قائم ہونی چاہیے-

    سابق افغان صدر نے کہا کہ ہم ابھی تک نہیں پہنچے ہیں کہ ہمیں کہاں ہونا چاہئے۔ اس معاملے پر میری آخری بات چیت پچھلے ہفتے طالبان کے ایک بہت ہی سینئر رہنما سے ہوئی تھی میں یہ نہیں کہوں گا کہ ہم جلد ہی وہاں پہنچ جائیں گے میرے لیے یہ کہنا بہت قبل از وقت ہوگا۔ لیکن میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ میں پچھلے دو ہفتوں میں اس سے پہلے کے مقابلے میں بہتر وائبس کر رہا ہوں موجودہ صورتحال کی ذمہ داری امریکا اور افغانستان دونوں ہی پرعائد ہوتی ہے۔

    کرزئی نے کہا کہ ہم افغانستان میں حکومتوں کا خاتمہ نہیں چاہتے۔ ہم افغانستان میں نمائندہ حکومتیں چاہتے ہیں،امریکہ اور افغانستان دونوں۔ ہم دونوں ذمہ دار ہیں۔ امریکہ کے ساتھ معاملات پر میرے بہت سے اختلافات اور جھگڑے ہوئے ہیں لیکن میں سارا الزام امریکہ کے پر نہیں ڈالوں گا۔ ہم افغان بھی بہت سے طریقوں سے ذمہ دار ہیں۔

    خواتین پرپابندیاں،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا طالبان حکومت سے پالیسیاں بدلنے کا…

    کرزئی نے زور دیا کہ بائیڈن انتظامیہ افغانستان کے منجمد فنڈز بحال کرے، یہ نہیں ہونا چاہیے کہ دہشتگردی سے بدترین متاثرغریب ترین افراد کی رقم امریکا میں نائن الیون کے متاثرین کو دے دی جائے،جن کے ساتھ افغان عوام مکمل طور پر ہمدردی رکھتے ہیں ہم دہشتگردی کے سب سے بڑے متاثرین کے طور پر امریکی خاندانوں کے ساتھ مکمل طور پر ہمدردی کرتے ہیں جنہوں نے 11 ستمبر کے اس عظیم سانحہ میں جانیں گنوائیں –

    انہوں نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ افغانستان میں استحکام لائے، دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے نام پر لڑی گئی جنگ حقیقت میں افغان عوام کے خلاف تھی اوراسی لیے انہوں نے طالبان کی حمایت کی تھی۔

    سابق افغان صدر حامد کرزئی نے افغانستان میں بڑے پیمانے پر کرپشن کی ذمہ داری امریکا پرعائد کی اس موقع پر پاکستان کے خلاف زہرافشانی بھی کی افغان عوام ملکی صورتحال اور سمت پرتشویش کاشکار ہیں، مگر جلد صورتحال بہتر ہوجائے گی۔

    ایران اپنے ملک میں احتجاج کرنیوالی خواتین کو قائل کرے،طالبان کا خواتین معاملہ پر…

  • ایٹم بم بھی گرا دیا جائے، خواتین سے متعلق فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،افغان وزیر تعلیم

    ایٹم بم بھی گرا دیا جائے، خواتین سے متعلق فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،افغان وزیر تعلیم

    کابل: طالبان کا کہنا ہے کہ ایٹم بم بھی گرا دیا جائے، خواتین سے متعلق فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے-

    باغی ٹی وی : طالبان کے ہائرایجوکیشن اعلیٰ تعلیم کے وزیر نے کہا ہےاگر وہ ہم پر ایٹم بم گراتے ہیں تو ہم خواتین کے لیے یونیورسٹی کی تعلیم کو روکنے کے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گےعالمی برادری کی جانب سے پابندیوں کے لیے تیار ہیں۔

    دوسری جانب خواتین کے کام کرنے پر عارضی پابندی پر ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے امریکی حکام کی تنقید کی مذمت کردی اور اسے افغانستان کے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا ذبیح اللہ مجاہد نے کہا امریکی حکام کو افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

    یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے اہلکار جوزپ بوریل نے اتوار کو افغانستان میں خواتین کو مقامی اور بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں میں کام کرنے سے روکنے کے طالبان کے فیصلے کی مذمت کی۔

    بوریل نے ایک بیان میں کہا کہ یورپی یونین، انسانی امداد اور افغان عوام کی بنیادی ضروریات کے سب سے بڑے فراہم کنندگان میں سے ایک کے طور پر، بین الاقوامی انسانی قوانین اور اصولوں کا احترام کرنے کے اپنے عزم کے تحت طالبان سے فوری طور پر اپنا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کرتی ہے یورپی یونین اس فیصلے کے افغان عوام کو امداد جاری رکھنے پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لے گی۔

    خواتین کے کام کرنے پر پابندی، تین فلاحی تنظیموں کا افغانستان آپریشنز معطل کرنے کا…

    ہفتے کے روز طالبان نے افغانستان میں غیر سرکاری تنظیموں کو احکامات جاری کیے تھے کہ وہ خواتین کو ملازمت دینے سے روک دیں، تاہم طالبان نے غیر ملکی خواتین کارکن کے حوالے سے اپنے ہدایت کی وضاحت نہیں کی تھی۔

    افغان طالبان نے حجاب سمیت خواتین ملازمین کے لیے مناسب ڈریس کوڈ پر عمل نہ کرنے کے فیصلے کو جواز بنایا اور فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے والی تنظیموں کے لائسنس معطل کرنے کی دھمکی دی۔

    طالبان کے اس اقدام کی عالمی برادری کی جانب سے مذمت کی گئی اور اس فیصلے سے امداد کی فراہمی پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔ عالمی برادری نے کہا کہ طالبان کا یہ فیصلہ ملک میں خواتین کی آزادی اور حقوق کو محدود کے ضمن میں آتا ہے۔

    خواتین کے فلاحی تنظیموں میں کام کرنے پر پابندی افغان عوام کیلئے تباہ کن ہو سکتا…

  • خواتین کے کام کرنے پر پابندی، تین فلاحی تنظیموں کا افغانستان آپریشنز معطل کرنے کا اعلان

    خواتین کے کام کرنے پر پابندی، تین فلاحی تنظیموں کا افغانستان آپریشنز معطل کرنے کا اعلان

    کابل:افغانستان کی حکومت کی جانب سے خواتین کو کام نہ کرنے کا حکم دینے کے بعد تین غیر ملکی فلاحی تنظیموں (این جی اوز) نے اپنے آپریشنز معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق غیر سرکاری تنظیموں کے اعلان کے فوری بعد اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار اور این جی اوز نے خبردار کیا کہ افغانستان میں انسانی امداد کو سخت نقصان پہنچے گا۔

    سیو دی چلڈرن، ناورے کی ریفیوجی کونسل اور کیئر نے مشترکہ بیان میں کہا کہ ہم خواتین عملے کے بغیر افغانستان میں ضرورت مند بچوں، خواتین اور مردوں تک مؤثر طریقے سے نہیں پہنچ سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ جب تک ہمیں اس اعلان کے حوالے سے وضاحت نہیں ملتی، ہم اپنے پروگراموں کو معطل کر رہے ہیں۔مزید بتایا گیا کہ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ افغانستان میں مرد اور خواتین یکساں طور پر جان بچانے والی امداد جاری رکھیں گے۔

    یاد رہے کہ 24 دسمبر کو افغان طالبان نےتمام مقامی اور غیر ملکی فلاحی تنظیموں کو خواتین ملازمین کو کام پر نہ بلانے کی ہدایت جاری کی تھی۔ترجمان وزارت اقتصادیات عبدالرحمٰن حبیب نے بتایا تھا کہ خواتین کے لباس سے متعلق ’اسلامی قوانین‘ پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے تمام افغان خواتین اگلے نوٹس تک کام نہیں کرسکتیں۔

    یہ واضح نہیں ہوسکا تھا کہ افغان طالبان کے حکم کا اطلاق اقوام متحدہ کے زیر انتظام کام کرنے والی این جی اوز پر بھی ہوتا ہے یا نہیں کیونکہ افغانستان میں اقوام متحدہ کے فلاحی ادارے بڑی تعداد میں کام کررہے ہیں۔اقوام متحدہ کے سربراہ کے نائب خصوصی نمائندے برائے افغانستان رمیز الکباروف نے اے ایف پی کو بتایاتھا کہ اس پابندی سے لاکھوں افراد تک امداد کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوگی، اور ملک کی خستہ حال معیشت پر بھی تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ انسانی امداد کو آزادانہ اور منصفانہ طریقے سے جاری رکھنا بہت مشکل ہو جائے گا، اس کے لیے خواتین کی شرکت بہت اہم ہے۔انہوں نے بتایا تھا کہ ہم اس حوالے سے حکام کے ساتھ بات چیت کریں گے اور پابندی واپس لینے کا مطالبہ کریں گے۔رمیز الکباروف نے اتوار کو بتایا کہ آج فلاحی تنظیموں کے حکام کا اجلاس ہوا، جس میں یہ فیصلہ نہیں ہوسکا کہ آیا تمام این جی اوز اپنے آپریشنز معطل کریں گی یا نہیں۔انہوں نے تسلیم کیا کہ پابندی سے اقوام متحدہ کی امدادی کارروائیوں پر اثر پڑے گا۔ان کا کہنا تھا کہ پروگرام کی فراہمی کی ہماری صلاحیت اور خوراک اور غیر غذائی اشیا جیسی امداد فراہم کرنے کی ہماری صلاحیت پر براہ راست اثر پڑے گا۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل افغان طالبان نے خواتین کی اعلیٰ تعلیم پر بھی پابندی عائد کردی تھی جس کے بعد عالمی سطح پر شدید مذمت کی گئی اور افغانستان میں بھی اس فیصلے کے خلاف احتجاج کیا گیا۔23 دسمبر کو جامعہ الازہرکے امام نے طالبان کے خواتین کی تعلیم پر پابندی کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے اسلامی شریعت سے خلاف قرار دیا تھا۔اسلامی تعلیم کی مشہور جامعہ کے سربراہ شیخ احمد الطیب نے افغانستان میں خواتین کی اعلیٰ تعلیم پر پابندی پر تشویش کا اظہار کیا اور اس فیصلے کی مذمت کی تھی۔شیخ احمد الطیب نے افغان حکام سے خواتین پر تعلیم کی پابندی کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی درخواست کی، انہوں نے کہا کہ افغان خواتین کو اعلیٰ تعلیم تک رسائی کی پابندی پر جامعہ الازہر کو شدید افسوس ہے۔