Baaghi TV

Tag: افغانستان

  • صدیوں پرانا روٹ بحال، چین نے انقلاب برپا کردیا:چین کی کارگو ٹرین افغانستان پہنچ گئی

    صدیوں پرانا روٹ بحال، چین نے انقلاب برپا کردیا:چین کی کارگو ٹرین افغانستان پہنچ گئی

    افغانستان اور چین کے مابین تجارت کا اہم سنگ میل اور افغان معیشت کیلئے بڑی خبر ہے کہ چین سے تجارتی کارگو ٹرین افغانستان پہنچ گئی۔

    چین سے روانہ ہونے والی تجارتی کارگو ٹرین کرغیزستان اور ترکمانستان سے ہوتے ہوئے صدیوں پرانے سلک روٹ استعمال کرتے ہوئے جمعرات کو تجارتی سامان لے کر چین سے افغان دارالحکومت کابل پہنچی۔

    یہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت میں ایک اہم سنگ میل ہے۔افغانستان میں چین کے سفیر، امارات اسلامیہ کے اعلیٰ حکام اور وزراء نے چین سے آنے والی تجارتی ٹرین کا استقبال کیا۔

    کرغیزستان اور ازبکستان سے سلک روٹ کو استعمال کرتی ہوئی یہ ٹرین 10 روز میں افغانستان پہنچی ہے، دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے اس صدیوں پرانے روٹ کی بحالی سے معیشت میں بہتری کی قومی امید ہے۔

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

  • افغانستان کے منجمد اثاثوں کی بحالی کیلئے چین نے پھرمطالبہ کردیا

    افغانستان کے منجمد اثاثوں کی بحالی کیلئے چین نے پھرمطالبہ کردیا

    بیجنگ :چین نے کہا ہے کہ امریکا فوری طور پر افغان منجمد اثاثوں کو بحال کرے اور افغان اثاثوں کی افغانستان کو مکمل اور آزادانہ ادائیگی کرے۔

    ترجمان چینی وزارت خارجہ ماؤننگ کا کہنا ہے کہ افغان مرکزی بینک کے امریکا میں منجمد اثاثے افغان قومی ملکیت ہیں جو افغانوں کی زندگیوں کے تحفظ کیلئے ضروری ہیں، افغان منجمد اثاثوں کی فوری، مکمل اور آزادانہ ادائیگی ہونی چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ افغان اثاثے افغان عوام کی فلاح کے لیے کسی مداخلت کے بغیر استعمال ہونے چاہئیں، امریکہ افغان اثاثوں کو فوری غیر منجمد کرے اور یکطرفہ پابندیاں ہٹائے۔ترجمان چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکا افغانستان میں امن و استحکام کیلئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ برس اگست میں طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد امریکی حکام نےامریکہ میں موجود افغان مرکزی بینک کے 7 ارب ڈالر کے اثاثے منجمد کر دئیے تھے، گزشتہ روز امریکہ نے افغانستان کے 3.5 بلین ڈالر کے اثاثے سوئٹزرلینڈ کے افغان فنڈ میں منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

  • نائن الیون اور خطے پر اس کے اثرات — نعمان سلطان

    نائن الیون اور خطے پر اس کے اثرات — نعمان سلطان

    آج سے 21 برس قبل 11 ستمبر 2001 بروز منگل خودکش حملہ آوروں نے چار امریکی مسافر بردار طیارے اغوا کئے ان میں سے دو طیاروں کا ہدف ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارت تیسرے طیارے کا ہدف پینٹاگون اور چوتھے طیارے کا ہدف ممکنہ طور پر واشنگٹن میں واقع امریکی پارلیمان کی عمارت کیپیٹل ہل تھی ۔

    چار طیارے اغوا کرنے والے ہائی جیکروں کی کل تعداد 19 تھی جن میں سے کم از کم چار پائلٹ تھے اور انہوں نے جہاز اڑانے کی تربیت بھی امریکہ میں ہی حاصل کی تھی ان لوگوں کا مقصد ایک ہی دن امریکہ کے اہم اور حساس مقامات پر حملہ کر کے دنیا کی توجہ امریکہ کے مظالم کی طرف مبذول کروانی تھی ۔

    امریکی وقت کے مطابق صبح 08.46 منٹ پر پہلا اغوا شدہ طیارہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے شمالی ٹاور سے ٹکرایا جس کی وجہ سے ٹاور کی 93 نمبر سے 99 نمبر تک منزلوں کو شدید نقصان پہنچا، میڈیا کے لئے یہ انتہائی اہم خبر تھی موقع پر فوراً میڈیا کوریج شروع ہو گئی اور لائیو کوریج کے دوران ہی پہلا طیارہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرانے کے تقریباً 18 منٹ بعد 09.03 منٹ پر دوسرا اغوا شدہ طیارہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جنوبی ٹاور سے ٹکرایا جسے کروڑوں لوگوں نے لائیو اپنی ٹیلی ویژن سکرینوں پر دیکھا۔

    طیاروں کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے اس ٹکراؤ کے نتیجے میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے دونوں ٹاور منہدم ہو گئے اور تقریباً 2606 افراد کی ہلاکت ہوئی ان ہلاک شدگان میں امدادی کارکن بھی شامل ہیں جو حادثے کے بعد جائے حادثہ پر امدادی کارروائیاں کرتے ہوئے ہلاک ہوئے اور کچھ لوگ حادثے میں زخمی ہو کر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں ہلاک ہوئے ۔

    تیسرے اغوا شدہ طیارے نے امریکی محکمہ دفاع کی عمارت پینٹاگون کے مغربی حصے کو مقامی وقت کے مطابق 09.37 پر نشانہ بنایا اس حملے میں عمارت میں موجود 125 لوگ ہلاک ہوئے، چوتھا طیارہ اپنی ممکنہ منزل پر طیارے میں موجود مسافروں یا عملے کی مزاحمت کی وجہ سے نہ پہنچ سکا اور مقامی وقت کے مطابق 10.03 منٹ پر گر کر تباہ ہو گیا ۔

    ان حملوں میں 19 ہائی جیکروں، تمام طیاروں کے مسافروں عملے اور ہدف عمارتوں میں موجود لوگوں سمیت مجموعی طور پر 2977 افراد مارے گئے مرنے والوں کی اکثریت کا تعلق نیویارک سے تھا، حملہ کرنے والے ہائی جیکروں نے اپنے تین اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا جبکہ وہ اپنے ایک ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہے ۔

    امریکہ نے تحقیقات کے نتیجے میں ان حملوں کا الزام القاعدہ پر عائد کیا اور القاعدہ کے اس وقت کے سربراہ اسامہ بن لادن پر خالد شیخ محمد کے ذریعے دہشت گرد حملے کی پلاننگ کرنے اور حملے کے لئے دہشت گردوں کو تمام سہولیات فراہم کرنے کا الزام عائد کیا، اسامہ بن لادن کا اس وقت قیام افغانستان میں تھا چنانچہ امریکی حکومت نے اس وقت کی افغانستان کی حکومت کے سربراہ ملا عمر سے مطالبہ کیا کہ اسامہ بن لادن کو غیر مشروط طور پر امریکہ کے حوالے کیا جائے تاکہ ان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے ۔

    افغانستان کی حکومت نے امریکہ کو اسامہ بن لادن کی حوالگی کے حوالے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ اسامہ افغانستان میں ہمارے مہمان ہیں اور مہمان نوازی کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم انہیں ان کے دشمنوں کے حوالے نہ کریں لیکن اگر انہوں نے بےگناہ انسانوں کا خون بہانے کے لئے افغانستان کی سرزمین کا استعمال کیا ہے تو ہم ان کے اس طرزِ عمل کی بالکل حمایت نہیں کرتے آپ ہمیں اسامہ کے نائن الیون میں ملوث ہونے کے ثبوت فراہم کریں ہم ان کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی کریں گے ۔

    طاقت کے نشے میں چور جارج ڈبلیو بش نے ملا عمر کی اس آفر کو حقارت سے ٹھکرا دیا اور افغانستان کو سنگین نتائج کی دھمکی دی لیکن ملا عمر اپنے موقف پر ڈٹے رہے چنانچہ جارج بش نے اتحادیوں کے ہمراہ افغانستان پر حملہ کر دیا اس حملے کے نتیجے میں افغانستان سے طالبان کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا لیکن امریکہ اسامہ بن لادن کو ختم نہ کر سکا۔

    امریکہ نے افغانستان پر حملہ کرنے سے پہلے پاکستان کو بھی اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دی اور انکار پر پتھر کے دور میں پہنچانے کی دھمکی دی اس وقت ملک میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت تھی انہوں نے سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگا کر امریکہ کی حمایت کا اعلان کر دیا، افغانستان کی جنگ کی وجہ سے بہت بڑی تعداد میں لوگ ہجرت کر کے پاکستان آئے ۔

    پاکستان کی افغانستان میں جنگ کے دوران مبہم پالیسیوں کی وجہ سے طالبان اور القاعدہ دونوں پاکستان سے بدظن ہو گئے اور ان کے مختلف گروپوں نے ردعمل کے طور پر پاکستان میں خودکش دھماکے شروع کر دیئے ان دھماکوں کی وجہ سے پاکستان کو بےپناہ جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا جبکہ مہاجرین کی وجہ سے پاکستان کی معیشت پر شدید بوجھ پڑا جبکہ ان مہاجرین میں موجود جرائم پیشہ افراد کی وجہ سے پاکستان میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوا اور سیاحت تقریباً ختم ہو گئی ۔

    ملاعمر بعد میں بیمار ہو کر فوت ہوئے،نائن الیون کے مبینہ منصوبہ ساز خالد شیخ محمد کو 2003 میں پاکستان سے گرفتار کر کے گوانتانا موبے رکھا گیا جہاں سے ان کے بارے میں مزید خبر نہیں ہے جبکہ اسامہ بن لادن 2011 میں ایبٹ آباد میں ایک امریکی آپریشن کے دوران مارے گئے ابھی حال ہی میں اسامہ کے بعد القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی بھی افغانستان میں ڈرون حملے میں ہلاکت کی خبریں ہیں ۔

    امریکہ 20 سال افغانستان میں اپنا گولہ بارود ضائع کر کے اور معیشت کی تباہی کر کے واپس جا چکا ہے افغانستان میں دوبارہ طالبان کی حکومت آ گئی ہے القاعدہ بھی اپنے نئے سربراہ کے ساتھ پرانے نظریات پر کام کر رہی ہے، القاعدہ سے بڑی شدت پسند تنظیم داعش کا بھی ظہور اور قلع قمع ہو چکا ہے لیکن امریکہ کے اس گناہ بے لذت کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کی تباہی نکل گئی ہے اور اس وقت پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑا ہے اس ساری گیم میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان نے اٹھایا کہ اب اس کے اتحادی اور مخالف دونوں اسے ناقابل اعتبار سمجھتے ہیں ۔

  • کوہ نور :  تاج برطانیہ، پاکستان، افغانستان اور بھارت —  ارشد خان صافی

    کوہ نور : تاج برطانیہ، پاکستان، افغانستان اور بھارت — ارشد خان صافی

    ملکہ برطانیہ کے وفات کے تناظر میں کئی تاریخی واقعات و نوادرات کے علاوہ کوہ نور ہیرے کا تذکرہ بھی پھر سے ہونے لگا جو کہ اب شاہی قانون کے تحت بادشاہ بننے والے شہزادہ چارلس کی بیگم کامیلا پارکر کو منتقل ہوجائیگا! کچھ دوستوں کی گزارش پر اس تاریخی نادر پتھر اور شاہی زیور پر مختلف ممالک کی دعویداری کے قانونی پس منظر پرکچھ گزارشات حسب ذیل ہیں:

    مرغی کے چھوٹے انڈے کے سائز کا ہیرا کوہ نور عام تاثر کے برعکس نا تو دنیا کا سب سے بڑا ہیرا ہے اور نا ہی یہ مغلوں کے جواہرات کے خزانے کا سب سے شاندار ہیرا تھا لیکن قرون وسطیٰ سے لیکر آج تک کئی عظیم شاہی خاندانوں کے تاج و تخت کی زینت بننے اور عالمی محلاتی سیاست میں اسکے کردار کی وجہ سے یہ آج دنیا کے بیش قیمت بلکہ انمول نوادرات میں سرفہرست ہے-

    تخت برطانیہ کے تصرف میں یہ ہیرا 1849 میں دوسرے اینگلو-سکھ جنگ کے برطانوی فتح کیساتھ اختتام پر برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کے گورنر جنرل لارڈ ڈلہوزی اور رنجیت سنگھ کے 11 سالہ پوتے اور جانشین دلیپ سنگھ کے درمیان معاہدہ لاہور کے تحت آیا جس کےساتھ تخت لاہور پر مسلمانوں کے ایک ہزار سالہ اقتدار کے دوران 39 سالہ سکھ راج کا بھی خاتمہ ہوگیا تھا-

    لارڈ ڈلہوزی نے پنجاب کو برٹش انڈیا میں شامل کرکے کوہ نور ہیرے کے ساتھ دلیپ سنگھ کو بھی ملکہ وکٹوریہ کے پاس برطانیہ بھیج دیا تھا جہاں پر بعد میں وہ عیسائی مذہب اختیار کرکے برطانوی اشرافیہ کا حصہ بن گیا- دلچسپ بات یہ ہے کہ اس "معاہدے” کو میری ناقص معلومات میں کبھی برطانوی حکومت نے کوہ نور پر تاج برطانیہ کی ملکیت کے واحد قانونی جواز کے طور پر پیش نہیں کیا- اسکی وجہ ظاہر ہے یہی ہےکہ برطانیہ کے اپنے کامن لاء کیمطابق بھی ایک نابالغ لڑکے کے ساتھ جبر کی حالت میں کے گئے معاہدے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے-

    اسکے برعکس ہیرے پر ہر دعوے کے جواب میں برطانیہ کے سرکار کا عمومی سادہ سا جواب یہ ہوتا ہے کہ ہیرے کے تاریخی طور پر کئی دعویداروں کی موجودگی میں اسکی ملکیت کے معاملے کو حل کرنا ممکن نہیں جن میں کئی افراد کے علاوہ بھارت، پاکستان اور افغانستان کی ریاستیں بھی شامل ہیں لہٰذا یہ تاج برطانیہ کے پاس ہی بہتر ہے-

    کوہاٹ (خیبر پختونخوا) میں شاہی پسمنظر کی بدولت انگریز دور میں جاگیر رکھنے والے احمد شاہ ابدالی کے خاندان کے پرنس سلطان سدوزئی کے خاندان کے ایک فرد نے درانی سلطنت کے ایک جانشین کی حیثیت سے 1993 میں آنجہانی ملکہ الزبتھ کو ایک خط لکھ کر کوہ نور کو انکے خاندانی وراثت کے طور پر پاکستان واپس کرنے کی درخواست کی تھی-

    جواب میں 18 اکتوبر 1993 کو لکھے گیے ایک خط میں بکنگھم پلس کے رائل کولکشنز کے ایدمنسٹریٹر ڈنیل ہنٹ نے ملکہ کی توسط سے خط کیلئے شکریہ اور ابدالی کے خاندان کیلئے احترام کے جذبات کے ساتھ انتہائی مہذب انداز میں اسی بنیاد پر ان کی درخواست رد کردی تھی کہ بوجوہ اس ہیرے کے بیشمار دعویدار ہیں-

    کوہ نور پر متعدد قانونی دعویداروں کا تاریخی پس منظر کچھ یوں ہے کہ یہ ہیرا کچھ روایات اور مستند تاریخ کیمطابق قرون وسطیٰ (چودھویں صدی عیسوی سے پہلے) میں جنوب مشرقی بھارت کے ساحلی ریاست اندرا پردیش میں کرشنا دریا کے کنارے کلور کے کانوں میں نکالا گیا تھا- مغل سلطنت کے بانی ظہیرالدّین بابر کی سولہویں صدی میں لکھی سوانح حیات تزک بابری کے مطابق مغلوں سے پہلے دہلی کے سب سے طاقتور مسلمان حکمران علاالدّین خلجی نے چودھوی صدی کےاوائل میں جنوبی ہند میں اپنے فتوحات کے دوران اس ہیرے کو دکن کی مقامی کاکٹیا حکمرانوں سے چھینا تھا-

    سلطان علاالدّین خلجی اصلی نام علی گرشاسپ تھا اور وہ موجودہ افغانستان کے زابل صوبے میں قلات خلجی کے ترکمن سردار شمس الدین مسعود کا بیٹا تھا- خلجی سلطنت کے بعد کوہ نور تغلق، سیدوں اور لودھی پٹھانوں سے ہوتے ہوۓ مغل شہشاہوں کے ہاتھ آیا اور مغلوں کے عروج کے دور میں تاج محل کے معمار شاہجہان نے اسے کئی دوسرے جواہرات کے ساتھ اپنے مشہور تخت طاؤس کا حصہ بنایا! سو سال بعد مغلوں کے زوال کے دورکے نااہل ترین عیاش حکمران محمد شاہ رنگیلاکے رہے سہے سلطنت پر 1739 میں جب ایران کے آتش مزاج پادشاہ نادر شاہ افشار نے حملہ کیا تو دہلی کے لوٹ مار کے ساتھ تخت طاؤس اور کوہ نور بھی ایران لے گیا- ملتان میں پیدا ہونے والے جوان سال پشتون احمد شاہ ابدالی جنہوں نے بعد میں کندھار اور لاہور کو اپنے مراکز بنا کرموجودہ افغانستان اور پاکستان پر مشتمل درانی سلطنت بنائی اس وقت نادر شاہ کے پسندیدہ کمانڈر کے طور پر ایرانی فوج کے افسر تھے-

    نادر شاہ کے اچانک قتل کے بعد دشمنوں سے خوفزدہ انکے نواسے نے اپنی حمایت کے عوض کوہ نور احمد شاہ ابدالی کو دے دیا اور اس طرح بعد میں یہ دبنگ احمد شاہ بابا کے عیاش کابلی نواسے اور درانی سلطنت کے سب سے نااہل کابلی حکمران شاہ شجاع کو وراثت میں مل گیا-

    1813 میں شاہ شجاع نے رنجیت سنگھ اور خطے میں قدم جماتے انگریزوں کے ساتھ ایک ڈیل کے تحت کابل اور کندھار کی حکمرانی کو انکے حریف برکزئی امیروں کے قبضے سے واپس چھڑانے میں مدد اور پنجاب میں پناہ کے بدلے نا صرف کوہ نور رنجیت سنگھ کے حوالے کیا بلکہ رنجیت سنگھ کو پشاور پر قبضہ کرنے میں سہولتکاری کا وعدہ بھی کیا- آخر کار کوہ نور انگریزوں کے ہاتھوں رنجیت سنگھ کے سلطنت کے خاتمے کے ساتھ اپنے موجودہ مقام پر پہنچا جسکا خلاصہ میں شروع میں کر چکا ہوں!

    مندرہ بالا تاریخ کے تناظر میں بھارت کی حکومت نے پہلی دفعہ 1976 میں باضابطہ طور پر برطانیہ سے کوہ نور کی واپسی کا مطالبہ کیا اور اسی سال پاکستان کے وزیراعظم زوالفقارعلی بھٹو نے بھی "تاریخی بنیاد” پر یہ مطالبہ پاکستان کیلئے کیا- اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم جم کلنگھن نے دونوں ملکوں کا مطالبہ "قانونی وجوہات” کا جواز بنا کر مسترد کردیا! اس کے بھارت میں طویل عرصے تک اس معاملے پربھارتی سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن پر شنوائی ہوتی رہی اور پارلیمنٹ میں اس پرقراردادیں منظور ہوتی رہیں جبکہ پاکستان میں اس سلسلے میں قابل ذکر کیس بیرسٹر جاوید جعفری کا لاہور ہائی کورٹ میں داخل 2016 کا پٹیشن تھا جو انکے مطابق انکی طرف سے برطانوی حکومت کو 700 سے زیادہ خطوط کا کوئی مثبت جواب نا ملنے پر کورٹ نے قابل سماعت قرار دیا تھا-

    انہی دنوں میں بھارتی سپریم کورٹ میں اس نوعیت کا کیس اختتامی مراحل میں تھا- پاکستان کیلئے کوہ نور کے دعویداروں کا موقف یہ تھا کہ ہیرے کے آخری قانونی دعویدار احمد شاہی خاندان ہو یا رنجیت سنگھ، چونکہ شاہ شجاع بھی تخت لاہور کا اپنی مرضی سے اتحادی بن گیا تھا اسلئے دونوں صورتوں میں یہ "تخت لاہور” سے معاہدہ لاہور کے جبری سمجھوتے کے تحت ایک غیر ملکی غاصب کمپنی نے زبردستی بٹورا ہے اسلئے اسے واپس لاہور بھیج دیا جاۓ- برطانوی حکومت کا نیا موقف بھی قانونی جواز سے زیادہ متضاد دعووں کی وجہ سےعملی پیچیدگیوں کی بنیاد پر تھا جسکا اظہار برٹش رائل کولکشنز کے ایڈمنسٹریٹر ڈنیل ہنٹ نے خیبرپختونخوا پاکستان کے پرنس طیفور جان کو ان کے احمد شاہ ابدالی کے خاندان کے ایک مستند وارث کی حیثیت سے کوہ نور پر اسکے دعوی کے سرکاری جواب میں 1993 میں کیا تھا-

    پاک و ہند کے روایتی متضاد دعووں کے درمیان سب سے دلچسپ اور سیدھا سادہ دعوا افغانستان پر 11/9 سے پہلے حکمران ملا عمر کے طالبان امارت سے آیا! اکتوبر 2000 میں طالبان کے امارت اسلامی کے خارجہ امور کے ترجمان فیض احمد فیض نے کسی قانونی اور تاریخی باریکیوں میں پڑے بغیر براہراست ملکہ الزبتھ سے مطالبہ کیا کہ "کوہ نور افغانستان کا قانونی اثاثہ” ہے جسکو "اور کئی قیمتی چیزوں کی طرح انگریزوں نے نوآبادیاتی دور میں چوری کیا ہے” جو کہ طالبان اب واپس لاکر اپنے ملک کی تعمیر نو میں استعمال کرنا چاہتے ہیں اسلئے کوہ نور کو جلد از جلد واپس کیا جاۓ تاکہ اسکو کابل میوزم میں رکھا جاسکے”- اسکیلئے علاوہ طالبان نے رنجیت سنگھ کو "ایک بڑا غدار” قرار دیا جس نے کوہ نور چوری کیا تھا اسے کسی نے دیا نہیں تھا-

    حکومت برطانیہ نے ظاہر ہے طالبان کی حکومت کو غیر قانونی قرار دیتے ہوۓ اس مطالبے پر غور کرنے سے انکار کردیا لیکن ساتھ میں ریاست افغانستان کے دعوے کو مکمل مسترد نا کرکے ایک اور ممکنہ دعویدار کے ہونے کی بحث کھول دی- برطانیہ کا ان متضاد اور متعدد دعووں کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی پالیسی اور ہیرے کی واپسی کے معدوم امکانات کے پیش نظر بھارت میں نریندرا مودی جیسے قوم پرست حکومت نے بھی 2016 میں سپریم کورٹ میں اپنے جواب میں کوہ نور پر برطانوی ملکیت کو اس تاریخی طور پرغلط جواز کے تحت تسلیم کردیا کہ کوہ نور کو رنجیت سنگھ نے خود برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کی حمایت حاصل کرنے کیلئے ایک معاہدے کے تحت برطانیہ کے حوالے کیا تھا گو کہ اسکا "عوامی” سطح پر بھارت کا موقف اب بھی اسکے برعکس ہے اور تقریبا اسی سے ملتا جلتا مبہم سا موقف پاکستانی حکومت نے بھی لاہور ہائی کورٹ میں اختیار کیا- اس طرح جائز یا ناجائز کوہ نور اتنے دعویداروں کی موجودگی میں تاج برطانیہ کے پاس رہا اور شائد ہمیشہ رہیگا!

  • پاکستان اور افغانستان کے میچ میں ہنگامہ آرائی کرنیوالے تماشائیوں پر بھاری جرمانہ عائد

    پاکستان اور افغانستان کے میچ میں ہنگامہ آرائی کرنیوالے تماشائیوں پر بھاری جرمانہ عائد

    ایشیا کپ 2022 میں پاکستان اور افغانستان کے میچ میں ہنگامہ آرائی کرنے والے تماشائیوں پر بھاری جرمانہ عائد کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی: اطلاعات کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے شارجہ میں ہونے والے میچ کے بعد اسٹیڈیم میں توڑ پھوڑ کرنے والے ہر تماشائی کو 3، 3 ہزار درہم یعنی تقریباً پاکستانی 2 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔


    دبئی پولیس کی جانب سےتوڑ پھوڑ کرنے والوں کو وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آئندہ ایسا کیا تو جیل اور ڈی پورٹ بھی کیا جا سکتا ہے۔


    یاد رہے کہ دبئی کے پولیس حکام نے شارجہ اسٹیڈیم میں ہنگامہ آرائی کرنے والے 97 افغانیوں کو گرفتار کیا تھا جبکہ متحدہ عرب امارات کے مختلف حصوں سے بھی پاکستانی شائقین سے ہاتھا پائی کرنے پر 117 افغانیوں اور مجموعی طور پر 391 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

    دبئی میں ایشیا کپ کے سپر فور مرحلے میں پاکستان نے سنسنی خیز مقابلے کےبعد افغانستان کو شکست دی تھی جس پر پہلے افغان کھلاڑی نے پاکستانی کرکٹرآصف سےبدتمیزی کی اور بُرے القاب کے ساتھ پکارا-

    اس کے بعد نسیم شاہ نے آخری اوور میں لگاتار دوچھکے مار کر میچ پاکستان کے نام کر دیا تو پھر اسٹیڈیم میں موجود افغان تماشائیوں نے پاکستانیوں پر تشدد کیا اوراسٹیڈیم میں توڑپھوڑ کی جس پر عرب امارات کی حکومت نے سخت فیصلہ کیا ہے-

    دوسری جانب انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ( آئی سی سی) نے بھی ایشیاء کپ کے دوران پاکستان اور افغانستان کے میچ کے اختتام پر دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے درمیان ہونے والی تلخ کلامی کا نوٹس لیتے ہوئے جرمانہ عائد کر دیا ہے۔

    آئی سی سی نے پاکستانی کھلاڑی آصف علی اور افغانستان کے فرید احمد کے درمیان ہونےوالے سخت جملوں کے تبادلے اور نوک جھونک کا نوٹس لیتے ہوئے میچ فیس کا 25فیصد بطور جرمانہ عائد کیا ہے-

  • گرین شرٹس سے شکست کے بعد کھلاڑیوں نے نیند کی گولیاں کھائیں،کپتان افغان ٹیم

    گرین شرٹس سے شکست کے بعد کھلاڑیوں نے نیند کی گولیاں کھائیں،کپتان افغان ٹیم

    ایشیاکپ 2022 کے سپر فور مرحلے میں پاکستان سے شکست کھانے والی افغان ٹیم کے کپتان محمد نبی نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستانی ٹیم سے ہارنے کے بعد انھیں سونے کے لیے نیند کی گولیاں کھانی پڑیں۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز بھارت کے خلاف ٹاس جیتنے کے بعد افغان کپتان محمد نبی نے پاکستان سے شکست پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہارنے کے بعد ہمارے کئی کھلاڑی گراؤنڈ چھوڑ کر چلے گئے تھے جبکہ ٹیم کے کھلاڑیوں نے ہوٹل پہنچ کر گرین ٹی لی اور بعد ازاں نیند کی گولیاں بھی کھائیں۔

    نسیم شاہ نے شاہین شاہ آفریدی کا ریکارڈ اپنے نام کر لیا

    محمد نبی کا کہنا تھا کہ ہمارے کھلاڑیوں نے بہت اچھا کھیلا، ہم عالمی سطح پر بڑی ٹیم کے خلاف بہترین کھیل پیش کرنے کی کوشش کریں گے، امید ہے وہ ایک اور اچھی پرفارمنس ہو گی۔

    دوسری جانب بھارت کے خلاف میچ میں شکست کے بعد اسسٹنٹ افغان کوچ اور سابق افغان کھلاڑی رئیس احمد زئی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف میچ میں ناصرف کھلاڑی بلکہ پوری قوم ٹینشن میں تھی، اس میچ میں شکست کے بعد سب افسرد ہ ہیں شکست کے بعد اس رات کوئی بھی کھلاڑی سو نہیں پایا، وہ ہمارے لیے ایک برا دن تھا۔

    سپر فور مرحلہ:آخری میچ میں آج پاکستان اور سری لنکا مد مقابل

    اسسٹنٹ افغان کوچ نے مزیدکہا کہ ہم مستقبل میں بہتر کارکردگی دکھانے کی کوشش کریں گی، آئندہ بہترین کھیل پیش کرنے کی کوشش کریں گے ہمارے کھلاڑیوں نے بنگلا دیش اور پاکستان کے خلاف اچھا کھیل پیش کیا، ہم نے مضبوط ٹیم پاکستان کے خلاف 130 رنز پر بھی اچھا دفاع کیا، یہ چیز ہمیں ورلڈ کپ کے لیے مزید اعتماد دے گی۔

    خیال رہے کہ سپر فور مرحلے میں پاکستان نے افغانستان کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد ایک وکٹ سے شکست دی تھی، اسی میچ کے آخری اوور پاکستان کو جیت کیلئے 6 بالز پر 11 رنز درکار تھے جبکہ ایک وکٹ باقی تھی تاہم نسیم شاہ نے دو چھکے لگا کر ٹیم کو فتح سے ہمکنار کروایا اور ایشیاکپ کے فائنل میں پہنچادیا تھا۔

    لڑکی سےمبینہ زیادتی کا الزام ، نیپال کرکٹ ٹیم کے کپتان کے وارنٹ گرفتاری جاری

    قبل ازیں میچ کے دوران افغان بالر فرید احمد نے آصف علی کو کیچ آؤٹ کروایا تو جذبات میں وہ کرکٹر سے الجھ پڑے اور دھکے بھی دیئے تھے۔ جبکہ افغان شائقین کرکٹ نے پاکستانی سپورٹرز پر میدان میں کرسیوں سے حملے کیے تھے، بھارت اور افغانستان ایشیا کپ کے فائنل کی دوڑ سے باہر ہو چکے ہیں-

  • شرم آنی چاہیں تمہیں، مشی خان مشتعل افغانیوں پر برس پڑیں

    شرم آنی چاہیں تمہیں، مشی خان مشتعل افغانیوں پر برس پڑیں

    مشی خان نے حال ہی میں اپنے انسٹاگرام پر ایک وڈیو جاری کی ہے اس میں انہوں‌ نے افغانیوں‌کو دیا ہے ایک خاص قسم کا پیغام . مشی خان نے وڈیو کے شروع میں دی مبارکباد سب پاکستانیوں‌کو میچ جیتنے کی. اس کے بعد انہوں‌ نے افغانیوں سے بات کی ان کو پیغام دیا . انہوں‌نے کہا کہ کل جو کچھ آپ لوگوں‌نے میچ ہارنے کے بعد سٹیڈیم میں کیا، وہ دیکھ کر افسوس ہوا. کاش آپ لوگ تہذیب تمیز بھی سیکھ لیتے اتنا عرصہ پاکستان میں رہے. ہم نے آپ کو بہن بھائیوں‌کی طرح ٹریٹ کیا. آپ کا ہر طرح‌سے خیال رکھا. اور ایک میچ ہارنے پر آپ لوگوں‌نے سٹیڈیم میں‌توڑ پھوڑ

    کی ، کرسیاں اٹھا اٹھا کر ماریں، اتنی نفرت ہو گئی ہے آپ کو ہم سے ؟ سچ میں یہ سب دیکھ کر مجھے تو ایک دھچکا لگا اور افسوس ہوا کہ آپ وہ لوگ ہو جن کے ساتھ ہم نے اتنا پیار محبت کیا اتنی خاطر تواضع کی. آپ لوگوں‌کا جنگلیوں والا سلوک دیکھ کر پریشانی ہوئی ہے. مشی خان نے یہ بھی کہا کہ اگر آپ لوگ کرکٹ کی دنیا میں آ ہی گئے ہیں تو تھوڑی تمیز ہی سیکھ لیں اور سمجھ لیں کہ کرکٹ‌ میں‌ہار جیت تو ہوتی رہتی ہے اس طرح‌ نہیں کرنا چاہیے جو کل آپ لوگوں‌ نے کیا ، آپ لوگوں‌نے تو کل پتھر کے زمانے کے لوگوں کا روپ دکھایا. شرم آنی چاہیے آپ سب کو. مشی خان کی ویہ وڈیو کافی وائرل ہو رہی ہے اور ان کی اس میں کہی ہوئی باتوں کو سراہا جا رہا ہے.

  • افغان بولرکی بدتمیزی پر شعیب اختر شدید برہم

    افغان بولرکی بدتمیزی پر شعیب اختر شدید برہم

    سابق قومی کرکٹر شعیب اختر نے ایشیاکپ میں افغان کرکٹر کی جانب سے قومی کرکٹر آصف علی سے بدتمیزی پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : قومی کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بولرشعیب اختر نے افغان بالر کی جانب سے آصف علی سے غیر شائستہ زبان کے استعمال اور نازیبا اشارے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی ہار کی واحد وجہ تکبر ہے جسے اللہ تعالیٰ بھی پسند نہیں کرتا ایک پٹھان نے دوسرے پٹھان کو پھینٹی لگا دی-


    انہوں نے کہا کہ افغان کرکٹرز کا ایسا رویہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا، پاکستان نے ہمیشہ افغان بھائیوں کا مشکل وقت میں ساتھ دیا لیکن کھیل میں ایسے انداز اپنانا ناقابل قبول ہے –

    انہوں نے کہا کہ آصف علی کو دھکا مارا گالی نکالی کھیل کھیلو اس طرح بدتمیزی تو مت کرو بدتمیزی برداشت نہیں پو گی اسی لئے اللہ نے آپ کو سزا دی اسی لئے اللہ نے ایک پٹھان سے دوسرے پٹھا ن سے چھکا مروا کے ذلیل کیا-


    سابق قومی کرکٹر نے کہا کہ نسیم شاہ نے میچ جیتنے کے بعد جو ردعمل دیا وہ آصف علی کے ساتھ بدتمیزی کی وجہ سے تھا، نہ صرف نسیم شاہ سخت غصے میں تھا بلکہ پاکستان کی پوری ٹیم کامیابی کے بعد شدید غصے میں میدان میں داخل ہوئی تھی۔

    ’میچ اتنا کلوز نہیں ہونا چاہیے تھا‘: پاکستان کی جیت پرشاہد آفریدی کا تبصرہ

    شعیب اختر نے 19 سالہ فاسٹ بولر نسیم شاہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک سپر اسٹار ہے، وہ پاکستان کے برانڈ کے طور پر سامنے آئے ہیں۔


    سوشل میڈیا پر وائرل اس تلخ کلامی تصاویر پر ردعمل دیتے ہوئے شعیب اختر نے کہا کہ واقعہ کی جانبدارانہ اور یک طرفہ نمائندگی ہے ہم سب جانتے ہیں کہ وہاں کیا ہوا۔

    انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں افغان شائقین کی ویڈیو شئیر کی جس میں وہ اسٹیڈیم میں توڑ پھوڑ اور پاکستانی شائقین پر حملہ کررہے ساتھ ہی لکھا کہ افغان شائقین یہی کر رہے ہیں یہ وہی ہے جو انہوں نے ماضی میں متعدد بار کیا ہے۔ یہ ایک کھیل ہے اور اسے صحیح جذبے کے ساتھ کھیلنا اور لیا جانا چاہئے۔


    شفیق ستانکزئی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ لوگ کھیل میں ترقی کرنا چاہتے ہیں تو آپ کا ہجوم اور آپ کے کھلاڑیوں دونوں کو کچھ چیزیں سیکھنے کی ضرورت ہے۔

    ایشیاکپ سپر 4:شانداراورسنسنی خیزمقابلے کے بعدپاکستان نےافغانستان کوشکست دے دی

    واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کھیلے گئے میچ میں قومی بیٹر آصف علی اور افغان بالر فرید احمد کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا تھا-

    میچ کے 19 ویں اوور میں سنسنی خیز لمحات میں پاکستانی بیٹر آصف علی افغان بالر فرید احمد کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے تو افغان بولر نے غیر شائستہ زبان استعمال کی اور نازیبا اشارے کیے۔

    جس پر آصف علی نے ردعمل دیتے ہوئے افغان بولر پر بلا اٹھایااور دونوں میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا آصف علی نے فرید احمد کی جانب مکا بھی لہرایا۔دیگر کھلاڑیوں اور امپائر نے بیچ میں آکر جھگڑا ختم کروایا۔

    کھیل ختم ہونے کے بعد میچ ریفری نے دونوں کو طلب کیا اور معاملے پر سماعت کی۔ میچ ریفری نے دونوں کھلاڑیوں کو کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر جرمانے عائد کرنے سے متعلق آگاہ کیا۔

  • طالبان حکومت اب بھی عالمی تنہائی کا شکار ہے،امیر خان متقی،دنیا ہماری حکومت کو تسلیم کرے،ذبیح اللہ مجاہد

    طالبان حکومت اب بھی عالمی تنہائی کا شکار ہے،امیر خان متقی،دنیا ہماری حکومت کو تسلیم کرے،ذبیح اللہ مجاہد

    کابل: طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے بدھ کو کہا کہ طالبان حکومت اب بھی عالمی تنہائی کا شکار ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت بین الاقوامی سطح پر کاروبار اور تجارت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے یہ ایسے ہی کام کرتی ہے جیسے اسے عالمی سطح پر سرکاری طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔

    افغانستان کے شہر جلال آباد میں زلزلہ،11 افراد جاں بحق متعدد زخمی

    امیر خان متقی نے اس سے قبل عالمی برادری سے طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا تھا، تاکہ ماضی میں جو کچھ ہوا اسے دہرایا نہ جائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تحریک نےایک جامع حکومت تشکیل دی ہے جو افغان عوام کو متحد کر سکتی ہے اور انہیں سلامتی اور خوشحالی فراہم کر سکتی ہے۔

    انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ افغانستان میں معاشی نظام اور حکومتی اداروں کو کمزور کرنے کے لیے بہت سی سازشیں شروع کی گئیں اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کا استحکام پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔


    دوسری جانب امارات اسلامیہ کےترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کابل یونیورسٹی میں خطاب میں کہا کہ کچھ باغی عناصر حکومت کو عدم استحکام کرنا چاہتےہیں،ان عناصر کا قلع قمع کرنا ضروری ہے،یہ عناصر افغان قوم کے اتحاد اور آزادی کے خلاف کام کر رہے ہیں،ان عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، دنیا ہماری حکومت کو تسلیم کرے-

    کابل میں روسی سفارتخانے کے قریب خودکش دھماکہ

    نائب وزیر تعلیم عبدالباقی کا کابل یونیورسٹی میں خطاب میں کہنا تھا کہ عالمی برادری کےساتھ مثبت پیش رفت نہ ہونے اور امارات اسلامیہ کی حکومت تسلیم نہ کرنےسےمعاشی مسائل بڑھے ہیں، دنیا کو سمجھنا ہو گا حکومت مسائل کا شکار رہتی ہے تو اس کی قیمت افغان عوام کو چکانی پڑے گی اور ایک نئی جنگ شروع ہو سکتی ہے-


    طالبان نے 15 اگست 2021 کو 20 سال بعد امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان کا کنٹرول سنبھال لیا تھا اس کے بعد طالبان نے دارالحکومت کابل بغیر کسی لڑائی کے فتح کر لیا تھا امریکی انخلا کے آغاز کے ساتھ ہی ملک کے بیشتر حصے پر طالبان کا کنٹرول قائم ہونا شروع ہوگیا تھا۔

    اگست 2021 میں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے فوری بعد طالبان کے ہاتھوں کابل کا سقوط ہوگیا اور سابق صدر اشرف غنی بھی ملک سے فرار ہوگئے تھے-

    پہلی باحجاب آسٹریلوی سینیٹر افغانستان سے ہجرت کی کہانی بتاتے رو پڑیں

  • ایشیاکپ سپر 4:شانداراورسنسنی خیزمقابلے کے بعدپاکستان نےافغانستان کوشکست دے دی

    ایشیاکپ سپر 4:شانداراورسنسنی خیزمقابلے کے بعدپاکستان نےافغانستان کوشکست دے دی

    دبئی :لاہور : ایشیا کپ کے سپرفور مرحلے میں اعصاب شکن میچ میں پاکستان نے افغانستان کے ارمان پر پانی پھیرتے ہوئے فائنل کا ٹکٹ کٹوا لیا۔ سنسنی خیز مقابلے میں قومی ٹیم کے باؤلر نسیم شاہ نے آخری دو گیندوں پر چھکے لگا کر بازی پلٹ دی۔

    ٹاس

    شارجہ انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلے جارہے ایشیا کپ کے دسویں میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، قومی ٹیم کی قیادت بابر اعظم کر رہے ہیں جبکہ افغانستان کے کپتان محمد نبی ہیں۔

    پاکستان اننگز

    قومی ٹیم کی جانب سے 130 رنز ہدف کے تعاقب میں کپتان بابر اعظم اور محمد رضوان نے اننگز کا آغاز کیا جبکہ افغانستان کے فضل حق فاروقی نے پہلا اوور کرایا۔

    کپتان بابر اعظم ایک مرتبہ پھر انتہائی مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کرسکے اور بغیر کوئی رن بنائے پہلے ہی اوور میں ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہونے کے بعد پویلین لوٹ گئے۔ فخر زمان بھی خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے اور صرف 5 رنز بناکر رن آؤٹ ہوگئے۔

    وکٹ کیپر محمد رضوان نے 26 گیندوں پر 20 سکور بنائے اور راشد خان کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے، پاکستان کی جانب سے چوتھے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی افتخار احمد تھے جو کہ 2 چوکوں کی مدد سے 33 گیندوں پر 30 رنز بناکر فرید احمد کی گیند پر ابراہیم زدران کو کیچ دے بیٹھے۔

    افغانستان اننگز

    پاکستان کے خلاف افغانستان کی جانب سے حضرت اللہ زازئی اور رحمان اللہ گرباز نے اننگز کا آغاز کیا جبکہ نسیم شاہ نے پہلا اوور کرایا، رحمان اللہ گرباز 2 چھکوں کی مدد سے 11 گیندوں پر 17 رنز بناکر حارث رؤف کی گیند پر کلین بولڈ ہوگئے، حضرت اللہ زازئی نے 4 چوکوں کی مدد سے 17 گیندوں پر 21 رنز بنائے اور محمد حسنین کی گیند پر کلین بولڈ ہوگئے۔

    افغانستان کی جانب سے تیسرے آؤٹ ہونے والے بیٹر کریم جنت تھے جو کہ 1 چوکے کی مدد سے 19 گیندوں پر 15 رنز بنا کر محمد نواز کی گیند پر فخر زمان کو کیچ دے بیٹھے، نجیب اللہ زدران 1 چھکے کی مدد سے 11 گیندوں پر 10 رنز بناکر شاداب خان کی گیند پر فخر زمان کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے، ابراہیم زدران 37 گیندوں پر 35 رنز بناکر حارث رؤف کی گیند پر محمد رضوان کے کو کیچ دے بیٹھے، محمد نبی صفر پر نسیم شاہ کی گیند پر کلین بولڈ ہوگئے۔

    اس طرح افغانستان کی ٹیم نے 20 اوورز میں 6 وکٹ کے نقصان پر 129 رنز بنائے، راشد خان 18 اور عظمت اللہ عمر زئی 10 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے، پاکستان کی جانب سے حارث رؤف نے سب سے زیادہ 2 وکٹ اپنے نام کیں، نسیم شاہ، شاداب خان، محمد نواز اور محمد حسنین نے ایک، ایک کھلاڑی کو پویلین کی راہ دکھائی۔

     

    قومی ٹیم

    پاکستان نے افغانستان کے خلاف ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ ٹیم میں کپتان بابر اعظم، محمد رضوان، فخر زمان، افتخار احمد، خوشدل شاہ، آصف علی، شاداب خان، محمد نواز، حارث رؤف، نسیم شاہ اور محمد حسنین شامل ہیں۔

    افغانستان پلیئنگ الیون

    پاکستان کے خلاف میدان میں اترنے والی افغان ٹیم حضرت اللہ زازئی، رحمان اللہ گرباز، ابراہیم زردان، نجیب اللہ زردان، محمد نبی، کریم جنت، راشد خان، عظمت اللہ عمرزئی، مجیب الرحمان، فرید احمد اوت فضل حق فاروقی شامل ہیں۔