Baaghi TV

Tag: افغانستان

  • ایشیا کپ کا آغاز: سری لنکا کی بیٹنگ جاری:6 اوورز کے اختتام پر3 آوٹ 41 رنز

    ایشیا کپ کا آغاز: سری لنکا کی بیٹنگ جاری:6 اوورز کے اختتام پر3 آوٹ 41 رنز

    ایشیا کپ 2022 کا باقاعدہ آغاز ہو گیا، پہلے میچ میں افغانستان نے سری لنکا کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا ہے۔دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا میچ دبئی کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلا جا رہا ہے۔سری لنکا کی بیٹنگ جاری:6 اوورز کے اختتام پر3 آوٹ 41 رنز پر سری لنکا کی ٹیم بیٹنگ کررہی ہے

    ٹاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے افغانستان کے کپتان محمد نبی نے کہا کہ دبئی میں کافی عرصے سے کرکٹ نہیں ہوئی، پچ تازہ لگ رہی ہے، اس لیے ہم پہلے بولنگ کر رہے ہیں۔

    سری لنکا کے کپتان شاناکا کا کہنا تھا کہ اگر ہم بھی ٹاس جیتتے تو پہلے بولنگ کا فیصلہ کرتے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہماری ٹیم میں کھلاڑی ڈیبیو کر رہے ہیں۔

    اب تک جہاں سری لنکا کی ٹیم ایشیا کپ میں 54 میچ کھیل چکی ہے اور 35 جیت چکی ہے، وہیں افغانستان کی ٹیم نے 12 میچوں میں سے صرف 5 جیت درج کی ہیں۔

    ایونٹ میں چھ ٹیموں کو دو گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ افتتاحی میچ سری لنکا اور افغانستان کے درمیان دبئی میں کھیلا جا رہا ہے۔ افغانستان نے سری لنکا کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا ہے اور اس وقت سری لنکا کی بیٹنگ جاری ہے۔

    پاکستان اپنا پہلا میچ 28 اگست بروز اتوار روایتی حریف بھارت کیخلاف کھیلے گا۔

    ایشیا کی 6 بہترین ٹیموں کے درمیان ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں پاکستان گروپ اے میں بھارت اور ہانگ کانگ کے ساتھ جبکہ گروپ بی میں سری لنکا ،افغانستان اور بنگلادیش کی ٹیمیں ایکشن میں ہوں گی۔گروپ ٹاپ دو ٹیمیں سپر فور مرحلے کیلئے کوالیفائی کریں گی جس کا آغاز 3 ستمبر سے ہوگا۔

    سپر فور کی ٹاپ ٹو ٹیموں کے درمیان فائنل 11 ستمبر کو کھیلا جائے گا۔

    روائتی حریف پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں کل مدمقابل آئیں گی۔

  • ایشیا کپ 2022:پاکستان اپنا پہلا میچ کل بھارت کیخلاف کھیلے گا

    ایشیا کپ 2022:پاکستان اپنا پہلا میچ کل بھارت کیخلاف کھیلے گا

    ایشیا کپ 2022 کا پہلا میچ سری لنکا اور افغانستان کے مابین آج کھیلا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا میچ دبئی کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلا جائے گا جو پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے شروع ہو گا۔

    اب تک جہاں سری لنکا کی ٹیم ایشیا کپ میں 54 میچ کھیل چکی ہے اور 35 جیت چکی ہے، وہیں افغانستان کی ٹیم نے 12 میچوں میں سے صرف 5 مچ جیتے ہیں۔

    شعیب ملک کا کے پی ایل کی اپنی انعامی رقم سیلاب متاثرین کو عطیہ کرنے کا اعلان

    پاکستان اپنا پہلا میچ 28 اگست بروز اتوار روایتی حریف بھارت کیخلاف کھیلے گا ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کے ایشیا کپ میں روایتی حریف بھارت کے خلاف ٹاکرے کے لیے پاکستان کی فائنل الیون کو حتمی شکل دی جانے لگی۔

    ذرائع کے مطابق ممکنہ پلیئنگ الیون میں شامل کھلاڑیوں کو گزشتہ روز ٹریننگ سیشن میں ترجیح دی گئی پاکستان کا اپنے فاسٹ بولرز کو آج آرام کروانے کا امکان ہے جبکہ آپشنل ٹریننگ سیشن میں چند بیٹرز ہی شرکت کریں گے۔

    جمعہ کو نیٹ سیشن میں کپتان بابر اعظم، محمد رضوان، فخر زمان اور افتخار احمد کو ترجیح دی گئی جبکہ آصف علی، خوشدل شاہ اور شاداب خان نے پاور ہٹنگ کی مشقیں کیں محمد نواز، حارث رؤف، نسیم شاہ اور محمد حسنین کو بولنگ میں ترجیح دی گئی حسن علی کل دبئی پہنچتے ہیں تو تجربے کی وجہ سے انہیں بھی فائنل الیون میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

    نیشنل جو جٹسو چیمپئن شپ2022: مینز، ویمنز، دونوں ٹائٹلز واپڈا کے نام

    خیال رہے کہ حسن علی کو محمد وسیم جونیئر کے ایشیا کپ سے باہر ہونے پر اسکواڈ میں شامل کیا گیا جبکہ شاہین شاہ آفریدی پہلے ہی گھٹنے کی تکلیف کی وجہ سے ایونٹ سے باہر ہو چکے ہیں، شاہین کی جگہ محمد حسنین کو اسکواڈ کا حصہ بنایا گیا تھا۔

    ایشیا کی 6 بہترین ٹیموں کے درمیان ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں پاکستان گروپ اے میں بھارت اور ہانگ کانگ کے ساتھ جبکہ گروپ بی میں سری لنکا ،افغانستان اور بنگلادیش کی ٹیمیں ایکشن میں ہوں گی –

    گروپ ٹاپ دو ٹیمیں سپر فور مرحلے کیلئے کوالیفائی کریں گی جس کا آغاز 3 ستمبر سے ہوگا سپر فور کی ٹاپ ٹو ٹیموں کے درمیان فائنل 11 ستمبر کو کھیلا جائے گا۔

    حسن علی ایشیا کپ اسکواڈ میں شامل ہوگئے

  • افغانستان سے آئے سیلابی ریلوں نے بلوچستان میں تباہی مچا دی

    افغانستان سے آئے سیلابی ریلوں نے بلوچستان میں تباہی مچا دی

    بلوچستان : نوشکی، قلعہ عبداللہ اور چاغی میں افغانستان سے آئے سیلابی ریلوں نے تباہی مچادی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سیلابی ریلوں میں نوشکی کے7 دیہات ڈوب گئے ، درجنوں مکانات تباہ ، پھلوں کے باغات اور کھڑی فصلیں بہہ گئیں ریلے میں پھنسے 5 افراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کرلیا گیا جبکہ سیلاب متاثرہ درجنوں دیہات کا نوشکی سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے اور سیلاب متاثرین کو ہیلی کاپٹرکے ذریعے امدادی سامان اور راشن فراہم کیا گیا۔

    سندھ میں مون سون کا نیا اسپیل،بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچا دی

    خشنوب میں متاثرین خیمہ بستیوں میں سہولتیں نہ ملنے پر اپنے بوسیدہ گھروں کو لوٹ گئےفورٹ منرو میں دو ہزار سے زائد ٹرک اور چھوٹی گاڑیاں پورا ہفتہ پھنسی رہنے کے بعد بلوچستان کو پنجاب سے ملانے والی قومی شاہراہ سات دن بعد کھول دی گئی ہے۔

    ایک ہفتے تک پھنسے رہنے کے باعث ٹرکوں میں موجود سبزیاں اور پھل خراب ہوگئے، انگور، پیاز اور ٹماٹر استعمال کے قابل نہیں رہے۔

    کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کو ایک بار پھر ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہےڈپٹی کمشنر مستونگ سلطان بگٹی کے مطابق لسبیلہ ڈسٹرکٹ میں پھر شدید بارشوں سے اونچے درجے کا سیلابی ریلہ گزر رہا ہے جس کی وجہ کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک اور ذرائع آمدورفت کے لیے مکمل معطل ہے۔

    تباہی،مزید9 افراد جاں بحق،فوج سے مدد طلب

    انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سے کراچی کے لئے سفر کرنے والے مسافر، کوچز، مال بردار ہیوی گاڑیاں اور دیگر چھوٹی بڑی گاڑیوں میں سفر کرنے والوں کو تنبیہ کرتے ہیں کہ کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر سفر کرنے سے مکمل گریز کریں تاکہ انہیں سفر کے دوران کوئی مشکلات پیش نہ آسکیں مسلسل بارشوں سے قومی شاہراہ سفر کرنے کے قابل نہیں ہے لہذا ٹرانسپورٹرز اور عوام الناس کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر سفر کرنے سے گریز کریں۔

    بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث بلوچستان میں کھانے پینے کی چیزوں کا بحران پیدا ہو گیا ہے یورپی یونین نے سیلاب زدگان کے لیے 3 لاکھ 50 ہزار یورو (تقریباً 7 کروڑ 60 لاکھ پاکستانی روپے) امداد کا اعلان کیا مذکورہ امداد سے بلوچستان کے علاقے جھل مگسی اور لسبیلا میں سیلاب زدگان کی ضروریات کو پورا کیا جائے۔

    پاکستان میں یورپی یونین کی انسانی ہمدردی کے پروگرام کی نگران تہینی تھماناگوڈا کا کہنا ہے کہ سیلاب نے پاکستان کے مختلف علاقوں تباہی مچائی ہے جس کے باعث لوگ نہ صرف اپنی قیمتی اشیا بلکہ گھروں تک سے بھی محروم ہوگئے ہیں یورپی یونین کی فنڈنگ ان تباہ حال علاقوں میں موجود لوگوں، جن میں خواتین اور بچیاں بھی شامل ہیں، کی اس مشکل وقت میں اہم مدد ہوگی۔

    بلاول بھٹو کا بارش متاثرین کو 25 ہزار روپے امدادی رقم دینےکا اعلان

  • افغانستان امریکی بالادستی اورطاقت کی پالیسی کےبدترین نتائج کاگواہ ہے:چینی وزارت خارجہ

    افغانستان امریکی بالادستی اورطاقت کی پالیسی کےبدترین نتائج کاگواہ ہے:چینی وزارت خارجہ

    بیجنگ:افغانستان امریکی بالادستی اور طاقت کی پالیسی کے بدترین نتائج کا گواہ ہے،اطلاعات کے مطابق چینی حکام نے افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ حال ہی میں عالمی میڈیا نے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کی پہلی برسی پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے یہ خیال ظاہر کیا کہ افغانستان پر امریکی حملے کے منفی اثرات کا تسلسل بدستور جاری ہے۔ اس حوالے سے چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے 19 تاریخ کو ایک یومیہ پریس کانفرنس میں کہا کہ افغانستان ،امریکی فوجی طاقت کے استعمال کی پالیسی کے بدترین نتائج کا گواہ ہے۔

    چینی اور روسی صدور کی انڈونیشیا میں جی 20 اجلاس میں شرکت

    ترجمان نے نشاندہی کی کہ "امریکہ نے 20 سال تک افغانستان پر جنگ مسلط کی، ایک ملک کو ریزہ ریزہ کر دیا، ایک نسل کا مستقبل تباہ کر دیا، 174,000 لوگوں کو ہلاک کیا، جن میں 30,000 سے زیادہ عام شہری بھی شامل ہیں، اور 10 ملین سے زیادہ لوگوں کو پناہ گزینوں میں تبدیل کر دیا۔ افغانستان میں امریکی جارحیت کے منفی اثرات بدستور جاری ہیں۔ لاکھوں افغان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں، تقریباً 30 لاکھ افغان بچے غربت کی وجہ سے اسکولوں سے باہر ہیں، اور 18.9 ملین افغانوں کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

    چین کی ’اسکائی ٹرین‘ جو ہوا میں معلق رہتی ہے

    وانگ وین بین نے مزید کہا کہ دوسری جانب افغانستان امریکی "جمہوری تبدیلی کے منصوبے” کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ امریکی ناکامی نے اُس کی جمہوریت اور انسانی حقوق کے احترام میں منافقت اور اس کے جبر و بالادستی کے حقیقی رنگوں کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔ اگرچہ امریکہ افغانستان میں ناکام ہوا ہے لیکن اس نے پھر بھی دنیا میں ہر جگہ مداخلت کی پالیسی ترک نہیں کی، وہ اب بھی جمہوریت اور انسانی حقوق کے نام پر دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کررہا ہے اور دنیا بھر میں تقسیم اور محاذ آرائی کو ہوا دے رہا ہے۔ عالمی برادری کو چوکس رہنا چاہیے اور جمہوریت اور انسانی حقوق کی آڑ میں دنیا میں افراتفری پھیلانے کے امریکی خطرناک اقدام کی مشترکہ مزاحمت کرنی چاہیے، تاکہ افغان سانحے کو دوبارہ رونما ہونے سے روکا جا سکے۔

  • جنرل ضیاءالحق شہیدکون تھا..؟تحریر:-علی عمران شاہین

    جنرل ضیاءالحق شہیدکون تھا..؟تحریر:-علی عمران شاہین

    شہید جنرل ضیاء الحق رحمہ اللہ وہ تھا

    *۔۔۔۔۔۔جس نے1977میں ملک کو انتہائی نازک مرحلے جب پر طرف افراتفری و خونریزی جاری تھی بروقت ایکشن کرکے ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے بچایا تھا،
    *۔۔۔۔۔۔جس نے ملک سے تمام علیحدگی پسند باغی گروپوں کو انتہائی اعلیٰ حکمت عملی سے دوبارہ قومی دھارے میں لا کر محب وطن بنا تھا۔تب نسیم ولی خان مٹھائی کےٹوکرے لے کر اسلام آباد ایوان صدر پہنچی تھی۔
    *۔۔۔۔۔۔اتنا شریف و ملنسار تھا کہ جی ایم سید کو اس کے آبائی علاقے سن سندھ میں گھر جا کر ملا اور ذوالفقار علی بھٹو کے جبر سے نجات کے لئے جاری سندھ علیحدگی کی سب سے بڑی اور منظم ترین تحریک” سندھو دیش” کو جڑ سے اکھاڑ دیا۔
    *۔۔۔۔۔۔ذوالفقار علی بھٹو کے ظلم سے ستائے اور علیحدگی و دہشت گردی پر آمادہ و پیادہ افغانستان مفرور بلوچ اور پشتون طبقات کو واپس ملک لایا تھا،ظالمانہ حیدر آباد ٹریبونل ختم کیا،ہزاروں شہریوں کی قاتل ایف ایس ایف ختم کی۔
    *۔۔۔۔۔۔ذوالفقار علی بھٹو کے ظلم و ستم کا نشانہ بننے والے جیلوں میں پڑے دسیوں ہزار بےگناہ سیاسی کارکنوں اور شہریوں کو رہائی عطا کی۔
    *۔۔۔۔۔۔۔جس نے پہلی بار صوم و صلوۃ و زکوۃ کا سرکاری اہتمام و حکم جاری کیا،صلا ۃ کمیٹیاں محلے کی سطح تک بنیں ،نماز کا سرکاری سطح پر باقاعدہ حکم جاری کرکے ادائیگی شروع کروائی، زکوٰۃ و عشر کمیٹیاں بنیں، زکوٰۃ کی حقداروں تک تقسیم کا نظام تشکیل دیا۔
    *…..قومی مجلس شوریٰ تشکیل پائی جو جید علمائے کرام و اسکالرز پر مشتمل تھی کہ کوئی کام غیر اسلامی نہ ہو اور اگر ہو تو اسے روکا جاسکے۔
    *…..توہین مذہب و توہین اسلام ، توہین نبی مکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم ،انبیائے کرام علیھم السلام، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پرباقاعدہ سزا کے قوانین متعارف کروائے جو آج تک موجود اور دشمنوں کے لیے سردردی کا باعث ہیں۔
    *۔۔۔۔۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کرکےقادیانیت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی،ملک میں حدود آرڈیننس سمیت بےشماراسلامی قوانین بنوائے اور رائج کئے۔
    ،سرکاری افسران کے رویے پر احتساب کا نظام بنایا
    *۔۔۔۔۔۔۔ہر تقریب کے آغاز میں تلاوت اور نعت کا اہتمام شروع کروایا، جو آج بھی ہر جگہ رائج ہے۔
    *۔۔۔۔۔۔۔فوج کو ایمان تقویٰ جہاد فی سبیل للہ کا ماٹو دیا،فوج کو پاکستانی رنگ میں رنگا،قرآنی جہادی آیات و احادیث ہر طرف عام کیں ،فوجی کاشن تک اردو میں جاری کروائے،
    *۔۔۔۔۔۔نئی اسلامی صدی کے آغاز پر اقوام متحدہ میں تقریر کی تووہاں پہلی اور تاحال آخری بار تلاوت قرآن کا اہتمام کروایا
    *۔۔۔۔۔۔ ملک کا وقار اتنا بلند کیا کہ پندرویں صدی ہجری کے آغاز پر اقوام متحدہ میں خصوصی عالمی اجلاس ہوا تو سارے عالم اسلام نے انہیں متفقہ طور پر اپنا لیڈر تسلیم کرتے ہوئے بطور نمائندہ عالم اسلام وہاں خطاب کے لیے چنا اور انہوں نے اس کا حق ادا کیا۔
    *۔۔۔۔۔۔انتہائی خفیہ مہارت سے تیزی کے ساتھ ایٹمی پروگرام مکمل کیا اور ملک کو ایٹمی قوت بنا دیا، جس کا اظہار ڈاکٹر عبد القدیر خان سمیت سبھی ایٹمی سائنسدان برملا کرتے رہے ۔
    *۔۔۔۔۔روس کے خلاف جہاد لڑ کر6 مسلم ریاستیں آزاد کروائیں،جہاں اسلام کو جڑ سےاکھاڑ دیا گیا تھا وہاں دوبارہ اسلام زندہ کردیا۔دنیا میں ناہید ہوچکا نظریہ جہاد زندہ کیا، وسط ایشیا کی مسلم ریاستیں آج بھی انہیں اپنا محسن اعظم سمجھتی ہیں۔
    *۔۔۔۔۔۔کیمونزم کا دنیا سے خاتمہ کردیا،اسی سے یوگو سلوایہ ٹوٹا اور بوسنیا و کوسووا کی شکل میں دو نئے مسلمان ملک یورپ میں بن گئے۔
    *….. ملک کے آئین میں اسلامی حدود آرڈینینس سمیت بہت سے اسلامی قوانین متعارف و داخل کئے، وفاقی اسلامی شرعی عدالت اس کے سپریم کورٹ و ہائیکورٹ بینچز بنائے اور اسلامی نظریاتی کونسل تشکیل دے کر انہیں آئینی حیثیت دی۔
    *۔۔۔۔۔۔دینی طبقات کو بلا تفریق مسلک مضبوط کیا ۔
    مدارس کو بڑے پیمانے پر زمینیں مالی تعاون فراہم کیا،
    بے شمار نئے مدارس بنائے،
    مدارس کی سند کو ڈبل ایم اے تسلیم کیا اور دسیوں ہزار علمائے کرام سرکاری استاد و پروفیسر بنے۔
    (یہ سب اب ختم ہوچکا)
    *۔۔۔۔۔ معاشی استحکام اتنا رہا کہ 11سال میں کوئی چیز معمولی مہنگی نہ ہوئی، بھٹو نے جو زمانہ جنگ کا نظام خوراک بذریعہ راشن سسٹم لاگو کر رکھا تھا اسے مکمل ختم کر دیا۔ہر چیز ہر شخص کو عام خریدنےکی آزادی ملی جو پہلے نہ تھی۔
    *۔۔۔۔۔۔امریکا سے مالی و معاشی تعاون بھی لیا اور کبھی امریکا کو مداخلت کی اجازت بھی نہ دی
    *۔۔۔۔۔۔کشمیر اور خالصتان کی آزادی کی تحریکوں کا آغاز کرکے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا، جو آج بھی بھارت کے گلے کی ہڈی ہیں اور ان کی وجہ سے بھارت اس کے بعد پاکستان ہر کھلی جارحیت کبھی نہ کر سکا۔
    سارک تنظیم تشکیل دے کر بھارت کو ایک نئے جال میں پھنسا دیا جس میں آج تک ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔
    *۔۔۔۔۔۔سرکاری مال سے خود اور اپنے خاندان کو اس قدر دور اور صاف رکھا کہ شہادت کے وقت نہ اپنا ذاتی گھر تھا نہ پلاٹ نہ کوئی جائیداد، پینشن کے پیسوں سے نیا گھر بنا، اولاد وہاں منتقل ہوئی اور تب تک چودھری شجاعت کے گھر اہل خانہ مقیم رہے کہ بے نظیر نے اقتدار میں آتے ہی سرکار گھر خالی کروا لیا تھا۔
    *انہی جرائم پر بالآخر جام شہادت نوش کیا..
    حق مغفرت فرمائے عجب آزاد مرد تھا

    جنرل ضیاء الحق شہید کون تھا……. ؟؟
    #حق #سچ۔۔۔۔۔(علی عمران شاہین)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • امریکہ نے افغانستان کے اثاثے بحال کرنے سے انکار کردیا

    امریکہ نے افغانستان کے اثاثے بحال کرنے سے انکار کردیا

    امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے مبینہ طور پر افغان سینٹرل بینک کے اثاثوں میں 7 بلین ڈالر جاری کرنے کی مخالفت کی اور فنڈز منجمد رکھنے کا فیصلہ کیا۔

    وال سٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ واشنگٹن نے پہلے مذاکرات میں پیش رفت دیکھنے کے بعد طالبان کے ساتھ مذاکرات بھی معطل کر دیے ہیں۔یہ فیصلہ جنگ زدہ ملک کے امریکہ میں مقیم اثاثوں سے متعلق ہے، جنہیں بائیڈن کی انتظامیہ نے گزشتہ سال افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد منجمد کر دیا تھا۔

    طالبان حکومت کا ایک سال مکمل، افغانستان میں عام تعطیل

    وال سٹریٹ جنرل نے کہا کہ فنڈز جاری کرنے سے انکار "افغانستان میں معاشی بحالی کی امیدوں کو ایک دھچکا ہے کیونکہ لاکھوں افراد کو طالبان کی حکمرانی کے ایک سال تک فاقہ کشی کا سامنا ہے۔”

    ابھی پچھلے ہفتے ہی، امریکہ، برطانیہ اور پانچ دیگر ممالک کے 70 ممتاز ماہرین اقتصادیات اور ماہرین تعلیم کے ایک گروپ نے ایک کھلا خط جاری کیا جس میں واشنگٹن سے اثاثے جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا، جس میں "افغانستان میں رونما ہونے والی معاشی اور انسانی تباہی” اور امریکہ کے کردار کا حوالہ دیا گیا۔

    افغانستان سے فوجی انخلا بڑی غلطی: سابق سربراہ امریکی سینٹ کام

    افغانستان کے لیے امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے خصوصی نمائندے، تھامس ویسٹ نے ڈبلیو ایس جے کو بتایا، "ہم افغان سینٹرل بینک کی دوبارہ سرمایہ کاری کو قریب المدت آپشن کے طور پر نہیں دیکھتے،” انہوں نے مزید کہا، "ہمیں یقین نہیں ہے کہ اس ادارے کے پاس تحفظات ہیں اور ذمہ داری سے اثاثوں کا انتظام کرنے کے لیے جگہ جگہ نگرانی ضروری ہے

    افغانستان کے لیے امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے خصوصی نمائندے، تھامس ویسٹ نے مزید کہا کہ "یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کو طالبان کی جانب سے پناہ دینے سے دہشت گرد گروپوں کو فنڈز کی منتقلی کے حوالے سے ہمارے گہرے خدشات کو تقویت ملتی ہے۔”ایک سال قبل طالبان کے ملک پر قبضے کے بعد افغان مرکزی بینک کے تقریباً 10 بلین ڈالر کے اثاثے بیرون ملک منجمد کر دیے گئے تھے۔

    افغانستان سے امریکی انخلا کو ایک سال مکمل،ری پبلکن پارٹی کی جوبائیڈن انتظامیہ

    امریکہ ان فنڈز کا بڑا حصہ کنٹرول کرتا ہے، تقریباً 7 بلین ڈالر، اور وہ افغانستان میں انسانی امداد کے لیے تقریباً 3.5 بلین ڈالر کی رہائی کے لیے طالبان کے ساتھ بات چیت کر رہا تھا۔ بائیڈن نے فروری میں ایک حکم نامے پر دستخط کیے تھے کہ بقیہ 3.5 بلین ڈالر 11 ستمبر 2001 کے دہشت گردانہ حملوں کے متاثرین کے لیے فنڈ کے طور پر مختص کیے جائیں۔

  • پچھلے ایک سال میں امریکی حکومت نے تحفظ کے غیرمعمولی اقدامات کیے،نیڈ پرائس

    پچھلے ایک سال میں امریکی حکومت نے تحفظ کے غیرمعمولی اقدامات کیے،نیڈ پرائس

    امریکا نے کہا ہے کہ پچھلے ایک سال میں امریکی حکومت نے تحفظ کے غیرمعمولی اقدامات کیے-

    باغی ٹی وی : امریکی وزراتِ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں 20 سالہ امریکی مشن کے خاتمے کو تقریباً ایک سال ہوگیا، افغان انخلا کے ایک سال بعد آج ہم پہلے سے زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہیں۔

    امریکی انخلا کے فیصلے نے قومی سلامتی کو مضبوط کیا،وائٹ ہاؤس

    نیڈپرائس نے کہا کہ آج ہم عالمی خطرات،چیلنجوں اور مواقع پر بہتر توجہ دینے کے قابل ہیں اور فوجی مشن کےخاتمےکامطلب افغانستان میں سفارتی اور فلاحی مشن کا خاتمہ نہیں ہے پچھلے ایک سال میں امریکی حکومت نے تحفظ کے غیرمعمولی اقدامات کیے،حال ہی میں کابل میں القاعدہ لیڈر ایمن الظواہری کی ہلاکت اس کا ثبوت ہے۔

    امریکی وزراتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ مشکل معاشی حالات میں ہم افغان عوام کی فلاحی امداد جاری رکھیں گے جبکہ ہمیں طالبان حکومت سے توقع ہے کہ وہ افغان عوام سے کیے گئے وعدووں کی پاسداری کرے گی۔

    افغانستان سے امریکی انخلا کو ایک سال مکمل،ری پبلکن پارٹی کی جوبائیڈن انتظامیہ…

    نیڈپرائس نے مزید کہا کہ یوکرین پر روسی حملے کے نتیجے میں آج نیٹو پہلے سے زیادہ بامقصد ہے جبکہ ایران کے ایٹمی مسئلے کا سب سے مؤثر حل سفارتی کوششوں کے ذریعے ہی ممکن ہے، جوہری معاہدےکےلیےایران کو ہرصورت ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری ترک کرنا ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ چین یک طرفہ طور پر آبنائے تائیوان کے اطرف اسٹیٹس کو بدلنا چاہتا ہے،امریکی ارکانِ کانگریس کے دورہ تائیوان معمول کی بات ہے جس پر چین کا رد عمل حد سے زیادہ غیر ذمہ دارانہ ہے-

    نینسی پلوسی کے بعد امریکی قانون سازوں کا ایک اور وفد تائیوان پہنچ گیا

  • امریکی انخلا کے فیصلے نے قومی سلامتی کو مضبوط  کیا،وائٹ ہاؤس

    امریکی انخلا کے فیصلے نے قومی سلامتی کو مضبوط کیا،وائٹ ہاؤس

    واشنگٹن: جوبائیڈن انتظامیہ نے ایک بار پھرافغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کے فیصلے کا دفاع کیا ہے-

    باغی ٹی وی:برطانوی خبررساں ادرے ” روئٹرز” کےمطابق "Axios” ویب سائٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہےکہ اگست 2021 میں امریکی انخلاء کے بعد افغانستان پر طالبان کے کنٹرول کی پہلی سالگرہ کے موقع پر وائٹ ہاؤس نے کہا کہ وہ کانگریس میں ایک بل تقسیم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس میں صدر جو بائیڈن کے ایک سال قبل افغانستان سے فوجیں نکالنے کے فیصلے کا دفاع کیا گیا تھا۔

    افغانستان سے امریکی انخلا کو ایک سال مکمل،ری پبلکن پارٹی کی جوبائیڈن انتظامیہ کیخلاف رپورٹ جاری

    "Axios” ویب سائٹ کی رپورٹ میں دستاویز کی کاپی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ میمو میں کہا گیا ہے کہ بائیڈن کے فیصلے نے اہم فوجی اور انٹیلی جنس اہلکاروں کو واپس لاکر قومی سلامتی کو مضبوط کیا ہے۔

    یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ریپبلکن قانون سازوں نے جوبائیڈن انتظامیہ کے خلاف رپورٹ جاری کی ہے جسمیں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ امریکا کے تربیت کردہ افغان کمانڈوزاوردیگر سکیورٹی اہلکاروں کےافغناستان میں رہ جانےسے امریکا کے لیے کافی سنگینی پیدا ہو سکتی ہےخصوصاً ایسی صورت میں کہ روس ، چین اور ایران ان تربیت یافتہ افغانوں کو اپنے فائدے کے لیے بھرتی کر سکتے ہیں یا انہیں دباؤ میں لا کر ان سے امریکہ کے خلاف کام لینے لگیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ بائیڈن انتظامیہ اگست 2021 کو امریکی فوجیوں کے انخلاء اور کابل بین الاقوامی ہوائی اڈے سے انخلاء کے آپریشن میں امریکی تربیت یافتہ افغان کمانڈوز اور دیگر ایلیٹ یونٹس کو نکالنے کو ترجیح دینے میں ناکام رہی۔

    طالبان حکومت کا ایک سال مکمل، افغانستان میں عام تعطیل

    واضح رہے امریکی انتظامیہ نے افغانستان سے اپنے لوگوں کو 15 اگست سے 30 اگست تک محفوظ انداز میں نکالا تھا۔ مجموعی طور پر انخلا کے اس آپریشن میں تقریبا 124000 لوگو ں کو افغانستان سے نکالا جا سکا ۔ لیکن افرتفری کی اسی اچانک اور افراتفری کے انداز کی وجہ سے 13 امریکی فوج ہلاک ہوئے ۔

    امریکی انتظامیہ اس انخلا کو اپنی بڑی کامیابی قرار دیتی ہے کہ اس 124000 افراد کو افغانستان سے نکالا اور ایک ایسی جنگ کو ختم کیا جو ختم نہ ہوسکنے والی بن جنگ چکی تھی، جس میں 3500 امریکی و اتحادی مارے گئے اور لاکھوں افغانی جاں بحق ہوئے۔

    لیکن ہزاروں امریکی تربیت یافتہ کمانڈوز اورافغانستان کے دیگر سکیورٹی اہلکار اور ان کی خاندانوں کو نکلا جا سکا نہ ان کے لیے امریکی انتظامیہ کوئی منصوبہ دے سکی ، نتیجتہ وہ افغانستان میں ہی رہ گئےری پبلکن پارٹی کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق افغان طالبان سابق افغان اہلکاروں کو ہلاک کر رہے ہیں اور تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں البتہ طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

    سابق لارڈ میئر برمنگھم کونسلر محمد عظیم انتقال کر گئے

  • طالبان حکومت کا ایک سال مکمل، افغانستان میں عام تعطیل

    طالبان حکومت کا ایک سال مکمل، افغانستان میں عام تعطیل

    آج افغانستان میں طالبان کے اقتدار کا ایک سال مکمل ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس 20 سال بعد امریکا نے افغانستان چھوڑا، توطالبان نےافغانستان کا کنٹرول سنبھالا، آج افغانستان میں طالبان کے اقتدار کا ایک سال مکمل ہوگیا ہے-

    افغانستان میں طالبان کی فتح کے بعد مختلف دلچسپ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل

    ایک سال پورا ہونے پر افغانستان نے پیر 15 اگست کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے، اس سلسلے میں افغان حکومت نے کہا ہے کہ ایک سال مکمل ہونے پر 15 اگست کو پورے افغانستان میں عام تعطیل ہوگی۔
    https://twitter.com/IslamicEmiirate/status/1558506768677842947?s=20&t=KJurlkQsxaEYJFVuIn86LQ
    حکام نے ابھی تک ایک سال مکمل ہونے کی سالگرہ کے موقع پر کسی سرکاری تقریبات کا اعلان نہیں کیا گیا، لیکن سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق ٹی وی پر خصوصی پروگرام نشر کیے جائیں گے-

    غیر ملکیوں کے انخلاء کیلئے طالبان اورقطرکے درمیان معاہدہ طے

    واضح رہے کہ طالبان نے گزشتہ برس 15 اگست کو افغانستان کے آخری معرکے کابل کو بھی فتح کرکے اپنی حکومت کے قیام کا اعلان کیا تھا اسی دن اُس وقت کے صدر اشرف غنی بغیر کسی کو بتائے ملک سے فرار ہوگئے تھے جب کہ افغان فوج نے معمولی سی بھی مزاحمت نہیں کی تھی پنجشیر میں تاحال طالبان مکمل طور پر اقتدار میں نہیں آسکے ہیں۔

    افغانستان میں طالبان امیر کی جانب سے نامزد کردہ عبوری کابینہ امور مملکت چلا رہی ہے اور تاحال خواتین کی ملازمتوں اور لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد ہے جب کہ ابھی تک کسی ملک نے طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

    طالبان نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث سینکڑوں ارکان کو برطرف کردیا

    افغان طالبان کا ایک بار پھ منجمند اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ

  • افغانستان سے فوجی انخلا بڑی غلطی: سابق سربراہ امریکی سینٹ کام

    افغانستان سے فوجی انخلا بڑی غلطی: سابق سربراہ امریکی سینٹ کام

    واشنگٹن:افغانستان سے فوجی انخلا بڑی غلطی تھی جس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں ، دبے دبے لفظوں میں افغانستان سے انخلا کے‌حوالےسے امریکی سینٹ کام کے سابق سربراہ جنرل کنیتھ مکینزی کا کہنا ہے کہ دوحہ امن عمل اور دوحہ معاہدہ افغانستان میں شکست کی وجہ بنے۔

    امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل کنیتھ میکنزی کا کہنا تھا کہ افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا غلطی تھی لیکن افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا میرا فیصلہ نہیں تھا۔

    پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارتی معاہدہ طئے پاگیا

    ان کا کہنا تھا میری رائے میں امریکی افواج کو افغانستان میں رکنا چاہیے تھا، میرا کہنا تھا کہ 2500 امریکی فوجی اہلکاروں کا ایک ساتھ مکمل انخلا ٹھیک نہیں ہے کیونکہ مجھے خدشہ تھا کہ امریکی فوج ہٹے گی تو افغان حکومت گر جائے گی۔

    امریکی سینٹ کام کے سابق سربراہ نے کہا کہ افغانستان میں شکست کی سب سے اہم وجہ دوحہ امن عمل اور دوحہ معاہدے بنے، افغان حکومت کو ہمارے جانے کا یقین ہو گیا تھا جو ان کی شکست کا سبب بنا۔

    افغانستان:کابل میں دھماکا،18افراد ہلاک، متعدد زخمی

    جنرل کییتھ مکینزی کا کہنا تھا کہ شکست کا الزام افغانستان میں موجود امریکی کمانڈروں پر لگانا آسان ہے لیکن حقیقت میں یہ افغان اور امریکی حکومت کی ناکامی تھی۔

    القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کے حوالے سے جنرل کنیتھ مکینزی کا کہنا تھا اسامہ بن لادن کو 2002-2001 میں پکڑنےکا موقع ملا تھا لیکن ہم نےایسا نہیں کیا، ہم نے پاکستان میں طالبان کی محفوظ پناہ گاہوں کا مسئلہ کبھی بھی تسلی بخش طریقے سے حل نہیں کیا۔

    سی پیک منصوبوں کو افغانستان تک توسیع دینے پر اتفاق

    یاد رہے کہ امریکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان نے 15 اگست 2021 کو افغان دارالحکومت کابل پر قبضہ کر لیا تھا۔