Baaghi TV

Tag: افغانستان

  • افغانستان کے معاملات پر اعلیٰ سطح کے بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

    افغانستان کے معاملات پر اعلیٰ سطح کے بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

    بیجنگ:افغانستان کے معاملات پر اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس پچیس سے چھبیس جولائی تک ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں منعقد ہوئی۔ اجلاس میں شریک تمام فریقوں کی رائے میں اقتصادی ترقی کی بحالی اور مضبوطی افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ایک اہم عنصر ہے۔

    کانفرنس میں افغانستان کی عبوری حکومت ، چین، روس، امریکہ، برطانیہ، ترکی، ایران، پاکستان سمیت 20 سے زائد ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندگان، ماہرین اور سکالرز نے شرکت کی۔عالمی میڈ یا کے مطا بق افغان عبوری حکومت کے وفد کے سربراہ اور قائم مقام وزیر خارجہ امیر متقی نے کہا کہ اس وقت افغانستان کا بنیادی کام معیشت کو ترقی دینا ہے۔

    چین کی وزارت خارجہ کے خصوصی مندوب برائے افغان امور یوئے شیاؤیونگ نے اجلاس میں کہا کہ چین، افغانستان کو گورننس، سلامتی، معیشت اور عوامی زندگی سے متعلق مسائل سے نمٹنے میں مدد دینے کے لیے عالمی برادری اور علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

  • پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارتی معاہدہ طئے پاگیا

    پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارتی معاہدہ طئے پاگیا

    اسلام آباد:پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارتی معاہدہ طئے پاگیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان اور افغانستان ن کے مابین دوطرفہ تجارت خاص طور پر کوئلے کی تجارت کے لیے معاہدہ طے پا گیا ہے۔

     

    Tag

    عالمی منڈی میں فرنس آئل مہنگا ہونے کے تناظر میں پاکستان اور افغانستان نے دوطرفہ تجارت خاص طور پر کوئلے کی تجارت کے لیے معاہدہ کیا ہے۔دوطرفہ معاہدے کا مقصد پاکستان میں بجلی کی کمی کے پیش نظر پیداوار کے لیے مہنگے فرنس آئل کے استعمال کے بجائے نسبتا سستے کوئلے کا حصول ہے۔

     

     

    اس معاہدے سے قبل ہی بلوچستان میں چمن بارڈر اسٹیشن کے ذریعے بجلی کی پیداوار کے لیے کم مقدار میں کوئلہ درآمد کیا جا رہا ہے جب کہ نئے معاہدے کے تحت خیبرپختونخوا میں خرلاچی اور غلام خان کے کسٹم اسٹیشنز سے بھی کوئلے کی درآمد شروع ہوجائے گی۔

     

     

    درآمد شدہ کوئلہ دو پلانٹس حبکو اور ساہیوال پلانٹس میں بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال کیا جائے گا. سرکاری ذرائع کے مطابق کوئلے کی درآمد سے پاکستان کی توانائی کی کمی کا مسئلہ کافی حد تک حل ہونے کی توقع ہے۔

    اگست 2021 میں طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد سے پاکستان افغانستان سے اشیا درآمد کرنے والا بڑا ملک بن چکا ہے، اس عرصے کے دوران بینکنگ چینلز کے ذریعے قابل تجارت کرنسی کی عدم دستیابی کی وجہ سے افغانستان کو پاکستان کی برآمدات میں کافی کمی دیکھی گئی۔

    واضح رہے کہ یہ فیصلے پاکستان کے تجارتی وفد کے کابل کے 18 جولائی سے 20 جولائی تک ہونے والے 3 روزہ دورے کے دوران ہوئے۔

  • جعلی پاسپورٹ پر فرانس جانے کی کوشش کرنے والا افغانی گرفتار

    جعلی پاسپورٹ پر فرانس جانے کی کوشش کرنے والا افغانی گرفتار

    پشاور: فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے پشاور ائیرپورٹ سے جعلی پاسپورٹ پر فرانس جانے والے افغان مسافر کو گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی : ایف ائی اے امیگریشن کی باچا خان انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے جعلی پاسپورٹ پر فرانس جانے کی کوشش کرنے والے افغان مسافر کو اف لوڈ کر کے گرفتار کرلیا۔

    ایف آئی اے حکام کے مطابق احمد شیخ محمدی نامی افغان مسافر نجی ائیر لائین سے پشاور سے سفر کر رہا تھا جبکہ مسافر کا پاسپورٹ شک کی بنیاد پر امیگریشن افیسر نے شفٹ انچارج کو ریفر کیا ملزم کو مزید قانونی کارروائی کیلئے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل پشاور کے حوالے کردیا۔

    پشاور: افغان شہریوں کیلئے جعلی دستاویزات بنانے والا ملزم گرفتار


    واضح رہے کہ گزشتہ روز ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سیل نے افغان شہریوں کیلئے جعلی سفری دستاویزات بنانے والے ملزم کو گرفتار کیا تھا پشاورمیں ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل نے جعلی سفری دستاویزات بنانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران افغان شہریوں کیلئے جعلی سفری دستاویزات بنانے والے ملزم کو گرفتار کیا تھا-

    مصر میں بس سڑک پر کھڑے ٹرک سے ٹکرا گئی،22 افراد ہلاک،33 زخمی ،پاکستان کا اظہار افسوس

    وچ نہر پشاور میں واقع اسٹیشنری اینڈ فوٹو اسٹوڈیو پر چھاپہ کے دوران افغان شہریوں کیلئے جعلی سفری دستاویزات بنانے میں ملوث ملزم ہارون بادشاہ موقع پرگرفتارہواتھاملزم کےقبضے سےجعلی ڈومیسائل، شناختی کارڈز، لیپ ٹاپس، محکمہ صحت اورتعلیم کے جعلی سرٹیفکیٹ برآمدہوئے،ایف آئی نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر تے ہوئے تفتیش کا آغاز کردیا ہے ۔

  • خواتین اپنی جگہ کسی مرد رشتے دار کو ملازمت پر بھیجیں، طالبان

    خواتین اپنی جگہ کسی مرد رشتے دار کو ملازمت پر بھیجیں، طالبان

    کابل: طالبان نے خواتین ملازمین کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی جگہ متبادل کے طور پر کسی رشتے دار مرد کو ملازمت پر بھیجیں-

    باغی ٹی وی : برطانوی نشریاتی ادارے ’’دی گارجیئن‘‘ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ طالبان حکومت نے خواتین ملازمین کو اپنی جگہ کسی مرد رشتے دار کو ملازمت پر بھیجنے کا کہا ہے حکومتی عہدوں پر کام کرنے والی خواتین کو اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد ان کی ملازمتوں سے گھر بھیج دیا گیا تھا،اور کچھ نہ کرنے کے لیے انہیں بھاری کم تنخواہیں دی گئی تھیں۔

    گارجیئن سےبات کرتے ہوئےکئی خواتین نےبتایا کہ طالبان حکام نے ہمیں کال کرکے کہا ہےکہ اپنی جگہ کسی مرد رشتے دار کو ملازمت پر بھیجیں۔ چند ایک خواتین کو بھی یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مرد رشتے داروں کو متبادل بناکر نہ بھیجا تو ایسی خواتین کی ملازمتوں سے برخاست کردیا جائے گا۔

    طالبان حکومت کی جانب سے خواتین ملازمین کے لیے یہ حکم حکومت سنبھالنے کے ایک سال بعد آیا اور اس دوران خواتین کو ملازمتوں پر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ طالبان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ خواتین سے متعلق ماحول سازگار ہونے پر انھیں ملازمتوں پر واپس بلالیا جائے گا۔

    طالبان پر خواتین کو ملازمتوں پر آنے کی اجازت نہ دینے، لڑکیوں کے اسکولوں کی بندش اور کابینہ میں تمام طبقات کی شمولیت نہ ہونے پر شدید عالمی دباؤ ہے تاہم طالبان نے مؤقف اختیار کیا ہے وہ اپنے فیصلے اسلامی قوانین اور افغان کلچر کے مطابق کریں گے۔

    یو این ویمن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیما بہاؤس نے مئی میں کہا: "خواتین کی ملازمت پر موجودہ پابندیوں کے نتیجے میں 1 بلین ڈالر تک کا فوری معاشی نقصان ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے – یا افغانستان کی جی ڈی پی کا 5 فیصد تک انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں تقریباً عالمگیر غربت ہے۔ "ایک پوری نسل کو غذائی عدم تحفظ اور غذائی قلت کا خطرہ ہے۔”

  • برطانوی فوجیوں کیطرف سے 54 بے گناہ افغانیوں کے قتل عام کا معاملہ دبا دیا گیا

    برطانوی فوجیوں کیطرف سے 54 بے گناہ افغانیوں کے قتل عام کا معاملہ دبا دیا گیا

    لندن:برطانوی فوجیوں کیطرف سے 54 بے گناہ افغانیوں کے قتل عام کا معاملہ دبا دیا گیا ،بی بی سی کی ایک تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ برطانیہ کی ایلیٹ اسپیشل ایئر سروس (ایس اے ایس) کور کے کمانڈوز نے افغانستان میں دوران قیام کم از کم 54 افغان شہریوں کو ہلاک کیا لیکن اعلیٰ فوجی حکام نے اس سے آگاہ ہونے کے باوجود کارروائی کرنے سے انکار کردیا۔

    افغآنستان میں افغآنیوں کے قتل عام کے حوالے سے چار سالہ تحقیقات کی رپورٹ جو منگل کو شائع ہوئی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ جنگ زدہ ملک میں اپنی تعیناتی کے دوران، غیر مسلح افغان مردوں کو معمول کے مطابق برطانوی فوجیوں نے رات کے وقت چھاپوں کے دوران گولی مار کر ہلاک کیا،

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے ہی ایک واقعے میں افغان شہریوں کوایلیٹ اسپیشل ایئر سروس (ایس اے ایس) یونٹ نے نومبر 2010 سے مئی 2011 تک جنوبی صوبہ ہلمند کے چھ ماہ کے دورے کے دوران گولی مار دی تھی۔

    رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جنرل مارک کارلٹن سمتھ سمیت سینئر افسران، جو اس وقت یو کے اسپیشل فورسز کے سربراہ تھے،جرائم سے آگاہ تھے لیکن انہوں نے ملٹری پولیس کو رپورٹ نہیں کی۔

    یاد رہے کہ مسلح افواج پر حکمرانی کرنے والے برطانوی قانون کے مطابق ممکنہ جنگی جرائم سے آگاہ ہونا اور ملٹری پولیس کو اطلاع نہ دینا جرم ہے۔

    بی بی سی کا کہنا ہے کہ "رات کے چھاپوں میں بہت سارے لوگ مارے جا رہے تھے ۔ ایک بار جب کسی کو حراست میں لے لیا جاتا ہے،تواسے اس وقت تک نہیں چھوڑا جاتا تھا جب تک کہ اس کی جان نہ لے لی جاتی

    "اس کا بار بار ہونا ہیڈکوارٹر میں خطرے کی گھنٹی کا باعث بن رہا تھا۔ اس وقت یہ واضح تھا کہ کچھ غلط تھا۔بی بی سی کے پروگرام ’پینوراما‘، جس نے رپورٹ شائع کی، کہا کہ یہ تحقیقات عدالتی دستاویزات، لیک ای میلز اور جنگ زدہ ملک میں کارروائیوں کی جگہوں پر اس کے اپنے صحافیوں کے سفر پر مبنی تھی۔

    برطانیہ کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایجنسی نے کافی ثبوت پیش نہیں کیے ہیں۔

    گروپ کی طرف سے کیے گئے جرائم کو نظر انداز کرتے ہوئے، بیان میں ایلیٹ اسپیشل ایئر سروس (ایس اے ایس) کی تعریف کی گئی اور کہا گیا کہ برطانیہ کی مسلح افواج نے "افغانستان میں جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ خدمات انجام دیں اور ہم انہیں ہمیشہ اعلیٰ ترین معیارات پر قائم رکھیں گے۔”

    برطانوی لڑاکا فوجیوں نے 2014 میں افغانستان سے امریکہ کی قیادت میں نیٹو اتحاد کے ایک حصے کے طور پر ملک پر حملہ کرنے کے تقریباً 13 سال بعد انخلا کیا۔پچھلے سال اگست میں، طالبان کے ڈرامائی قبضے کے بعد باقی تمام برطانوی فوجی ملک چھوڑ گئے تھے۔

    مئی میں جاری ہونے والی فوجی انخلاء کے بارے میں ایک پارلیمانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان سے برطانوی انخلاء ایک "تباہی” اور ملک میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ "خیانت” تھا جس کی وجہ انٹیلی جنس، سفارت کاری، منصوبہ بندی اور تیاری کی نظامی ناکامی تھی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "حقیقت یہ ہے کہ دفتر خارجہ کے سینئر رہنما چھٹی پر تھے جب کابل گرا، قومی ہنگامی صورتحال کے وقت سنجیدگی، گرفت یا قیادت کی بنیادی کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔”

  • بہت جلد افغانستان کے ایئرپورٹس کاانتظام عرب امارات سنبھال لے گا:افغان طالبان

    بہت جلد افغانستان کے ایئرپورٹس کاانتظام عرب امارات سنبھال لے گا:افغان طالبان

    کابل :افغانستان کے ایئرپورٹس کاانتظام وانتصرام کی ذمہ داری عرب امارات سنبھالیں گے:اطلاعات کے مطابق افغانستان کے ایئرپورٹس چلانے کیلیےمتحدہ عرب امارات سے جاری بات چیت حتمی نتیجے پرپہنچ چکی ہیے اوراس حوالے سے معاہدہ بھی ہوگیا ہے تاہم معاہدے کی تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئیں

     

     

    اس حوالے سے یہ بھی واضح کیا جاچکا ہے کہ عرب امارات بہت جلد کابل ایئرپورٹ کاانتظام اپنے قبضے میں کرلے گا

     

    اس حوالے سے افغآن طالبان حکومت نے افغانستان کے تمام ایئرپورٹس کو آپریشنل کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات سے معاہدوں کو حتمی شکل دے دی ہے اوراگلے چند دنوں تک افغآنستان کے ایئرپورٹس کا انتظام عرب امارات کے سپرد کردیا جائے گا

    یاد رہے کہ اس سے پہلے طالبان حکومت نے گزشتہ برس اگست کے وسط میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ملک کے ایئرپورٹس کو آپریشنل کرنے کے لیے قطر، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ بات چیت جاری رکھی ہوئی تھی۔

    تاہم اب طالبان حکومت کی طرف سے اس حوالے سے تصدیق کی جاچکی ہے کہ یہ معاہدہ طئے پا گیا ہے اور یہ کہ جلد ہی ملکی ایئرپورٹ کی بحالی کے لیے متحدہ عرب امارات ایئرپورٹ کے زمینی انتظامات دیکھے گا۔

    افغانستان میں ایئرپورٹس پر متحدہ عرب امارات عملے کی سیکیورٹی کس کے پاس ہوگی یہ ابھی واضح نہیں ہے ، کیوں کہ طالبان ہوائی اڈے کی سیکیورٹی کے لیے کافی حساس ہیں۔

    متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھی اس معاہدے کے متعلق تصدیق کی جارہی ہے کہ بہت جلد عرب امارات افغانستان کے ایئرپورٹس کا انتظام سنبھال لے گا

    یاد رہے کہ قطر اور ترکی کی جانب سے افغانستان کے ایئرپورٹس کی بحالی کی کے لیے ٹیکنیکل معاونت کے لیے ٹیمیں بھی بھیجی تھیں۔

     

    یہ بھی یاد رہے کہ اس سے پہلے متحدہ عرب امارات نے افغانستان کے نئے حکمرانوں پر اثر و رسوخ کی سفارتی جنگ میں قطر کے خلاف جاتے ہوئے کابل ایئرپورٹ کا انتظام چلانے کے لیے طالبان سے بات چیت کی۔

     

    ذرائع کے مطابق خلیجی ملک میں موجود ایک مغربی سفارتکار نے بتایا کہ یو اے ای حکام نے ایئرپورٹ کو آپریٹ کرنے کے حوالے سے حالیہ ہفتوں میں طالبان عہدیداروں کے ساتھ سلسلہ وار ملاقاتیں کیں۔

    یہ مذاکرات ظاہر کرتے ہیں کہ ممالک کس طرح طالبان کے زیر اقتدار افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں حالانکہ شدت پسند اسلامی گروہ بڑی حد تک الگ تھلگ ہی ہے اور اب تک اسے کسی ملک کی حکومت نے تسلیم نہیں کیا۔

  • ملا عمر کی 21 سال قبل زیر زمین چھپائی گئی گاڑی مل گئی

    ملا عمر کی 21 سال قبل زیر زمین چھپائی گئی گاڑی مل گئی

    کابل: طالبان نے اپنے سابق امیر ملا عمر کی 21 سال قبل زیر زمین چھپائی گئی گاڑی ڈھونڈ لی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ملا عمر نے اپنی ٹویوٹا گاڑی کو جنوبی افغانستان کے صوبہ قندھار میں زیر زمین چھپا رکھا تھا۔

    کابل:طالبان نے اپنی حکومت کو تسلیم کرنے کا مطالبہ دہرایا

    طالبان کے سابق امیر کی گاڑی پلاسٹک میں لپٹی ہوئی تھی اور اس کی حالت قدرے بہتر تھی، صرف اس کا سامنے والا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا طالبان نے ملا عمر کی تاریخی گاڑی کو نیشنل میوزیم میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے-

    افغانستان میں طالبان حکومت سے منسلک ایک عہدیدار محمد جلال نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر 4 تصاویر شیئر کیں اور بتایا کہ یہ گاڑی ان کے بانی رہنما ملا عمر کے زیر استعمال رہی ہے۔

    افغان لویہ جرگہ کا عالمی برادری سے طالبان حکومت تسلیم کرنےکا مطالبہ


    انہوں نے بتایا کہ امارت اسلامیہ افغانستان کے بانی مرحوم ملا محمد عمر مجاہد کی ٹویوٹا ویگن کو کھود کر صاف کیا جائے گا اس ٹویوٹا ویگن کو امیر مرحوم نے امریکی قیادت میں حملے کے آغاز کے دوران قندھار سے صوبہ زابل جانے کے لیے استعمال کیا تھا۔

    چین کا افغانستان کے لیے سرمایہ کاری اور تجارت کے منصوبوں کا باضابطہ اعلان

    وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے بھائی اور ایک بااثر حکومتی شخصیت انس حقانی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’’اس کار میں ایک شخص نے سفر کیا جس نے تاریخ کے سب سے حیرت انگیز واقعات میں حصہ لیا انہوں نے اللہ تعالی پر بھروسہ کیا، درجنوں حملہ آور ممالک کے خلاف ایک غیر مساوی جنگ میں (طالبان افواج) کو حکم دیا، اور جیت گیا۔ اس یادگار کو ملک کے قومی عجائب گھر میں رکھا جانا چاہیے۔


    طالبان کے ایک ذریعے نے بتایا کہ ملا عمر کے بیٹے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب نے حکام کو اس کار کو باہر نکالنے کرنے کا حکم دیا، جو تقریباً 20 سال سے دبی ہوئی تھی جسے جنوبی صوبہ زابل میں ایک روایتی گاؤں کے احاطے کی مٹی کی دیوار کے پاس سے ہاتھ سے کھود کر نکا لی گئی-

    طالبان کے بانی کی سوانح عمری کے مصنف بیٹ ڈیم نے کہا کہ عمر 2001 کے آخر میں امریکی حمایت یافتہ افواج کے کابل میں حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد ایک سفید ٹویوٹا میں قندھار کے اڈے سے نکلے تھے-

    ملا عمر کا انتقال 2013 میں ہوا لیکن تحریک نے دو سال بعد تک ان کی موت کو تسلیم نہیں کیا۔ عمر نے 2001 میں شورش کا عملی کنٹرول اپنے نائبوں کے حوالے کر دیا تھا، جب وہ روپوش ہو گئے تھے۔

    اس وقت طالبان کابل میں امریکی حمایت یافتہ نئی حکومت کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے جس کی قیادت صدر حامد کرزئی کر رہے تھے، لیکن امریکہ نے ان کی درخواست قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

    ڈیم نے کہا کہ کار کو اہم کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے – عمر نے اسے امن کے لیے ایک تاریخی لمحے کے دوران استعمال کیا جب وہ اس سفید ٹویوٹا میں داخل ہوا، اور اپنے دفتر سے نکلا، تو اس کی زیادہ تر قیادت نے ہتھیار ڈال دیے تھے-

    اس نے خود اس وقت اپنے آباؤ اجداد کی سرزمین پر غائب ہونے کا فیصلہ کیا۔ مجھے کار کے چھپنے کے بارے میں نہیں معلوم تھا لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ بالکل بھی محفوظ محسوس نہیں کر رہے تھے کیونکہ جلد ہی ہتھیار ڈالنے والے طالبان کی گرفتاریاں شروع ہوگئی تھیں، اس لیے اس نے گاڑی کو دفن کر دیا اور چھپ گیا۔

  • افغانستان سے کوئلے کی ٹرانسپورٹیشن کے لیے ٹریک ٹھیک کیا جائے،سعد رفیق

    افغانستان سے کوئلے کی ٹرانسپورٹیشن کے لیے ٹریک ٹھیک کیا جائے،سعد رفیق

    وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے ریلوے ہیڈ کوارٹرز لاہور میں اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں ریلوے ریونیو اور افغانستان سے کوئلے کی ٹرانسپورٹیشن کے مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کوئلے کی ترسیل کے لیے سبی، کندیاں اور خوشحال کوٹ میں اسٹیشنز قائم کیے جائیں گے۔

    خواجہ سعد رفیق نے ہدایت کی کہ کول ٹرانسپورٹ کرنے کے لیے ویگنوں کی دستیابی یقینی بنائی جائے اور ٹریک کو ٹھیک کیا جائے۔حکومت نے ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے باعث کول فائرڈ پاور پلانٹس کے لیے افغانستان سے کوئلہ درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس پر عملدرآمد کے لیے ریلوے حکام کو ہدایات دے دی گئی ہیں۔اجلاس میں سیکرٹری، سی ای او اور دیگر اعلئ افسران نے شرکت کی۔

    قبل ازیں وزیرِ اعظم شہباز شریف سے وفاقی وزیرِ ریلوے و ہوابازی خواجہ سعد رفیق نے لاہور میں ملاقات کی.ملاقات میں موجودہ ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو کی گئی.خواجہ سعد رفیق نے وزیرِ اعظم کو ریلوے اور ہوابازی کے شعبے میں اصلاحات کے حوالےسے آگاہ کیا. اسکے علاوہ وزیرِ اعظم کو بتایا کہ ٹرینوں اور جہازوں میں بالخصوص عید کے دنوں میں سفر کے دوران COVID ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے.

    علاوہ ازیں ریلوے انتظامیہ نے عید الا ضحی کے پر مسرت مو قع پر عوا م کی سہو لت کے لیے اضافی رش کے پیش نظر تین عید سپیشل ٹرینیں چلانے کا فیصلہ کیاہے ۔ ترجمان ریلوے
    کے مطابق پہلی عید سپیشل ٹرین 8 جولائی کو صبح 10 بجے کوئٹہ سے روانہ ہوکر براستہ ملتان، ساہیوال، لاہور سے ہوتی ہوئی پشاور پہنچے گی۔ دوسری عید سپیشل ٹرین 8 جولائی کو کراچی سے شام 6 بجکر 45 منٹ پر روانہ ہوکر براستہ ملتان، فیصل آباد ، لاہور پہنچے گی۔ تیسری عید سپیشل ٹرین 13 جولائی کو لاہور سے صبح 11 بجکر 30 منٹ پر براستہ فیصل آباد ، ملتان سے ہوتی ہوئی کراچی پہنچے گی۔

  • پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کی مدد کی:سلطان محمود چوہدری صدر آزاد جموں کشمیر

    پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کی مدد کی:سلطان محمود چوہدری صدر آزاد جموں کشمیر

    مظفرآباد:سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کی مدد کی۔تفصیلات کے مطابق کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ اور پاک افغان کارپوریشن فورم کے اشتراک سے تقریب کا انعقاد ہوا جس میں صدر آزاد جموں کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے شرکت کی۔

    صدر آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں مقیم لوگ کئی دہائیوں سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کی مدد کی، افغانستان میں شدید قسم کا زلزلہ آیا، کافی نقصان ہوا، متاثرین کو مشکلات کا سامنا ہے، ہم کشمیر میں اس طرح زلزلے کے حالات کا سامنا کر چکے ہیں۔

    سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ امدادی سامان بھیج رہا ہے، کاوشیں قابل تحسین ہیں، مسئلہ کشمیر پر بین الاقوامی سطح پر آواز اٹھائی، اب بھارت سرکار کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے عیاں ہو رہا ہے۔

    ادھرافغانستان میں آنے والے شدید زلزے سے ہونے والے نقصان پرامداد کا سلسلہ جاری ہے اورتازہ امداد کا اعلان وزیراعظم آزادکشمیر سردارتنویرالیاس نے کیا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی مشکل گھڑی میں افغان عوام کےساتھ ہیں

    اس حوالے سے مظفرآباد سے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم آزادکشمیر سردار تنویر الیاس خان نے افغانستان کے متاثرین زلزلے کیلئے 10 کروڑ روپے کی امداد کی منظوری دے دی ہے۔یہ امداد کسی بھی وقت افغان طالبان حکومت کو پہنچائی جاسکتی ہے

    تفصیلات کے مطابق افغانستان میں حالیہ زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کی امداد کے لئے آزاد کشمیر کابینہ اور اعلیٰ بیوروکریسی نے بھی ایک ماہ کی تنخواہ عطیہ کی ہے۔اس حوالے سے وزیر اعظم آزاد کشمیر تنویر الیاس نے کہا کہ افغانستان میں حالیہ زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر پوری قوم رنجیدہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان یک جان دو قالب ہیں، آزاد کشمیر پاکستان کی ایک اکائی ہے، دکھ کی اس گھڑی میں پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام اپنے بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

    تنویر الیاس نے کہا کہ آزاد کشمیر حکومت افغان بھائیوں کی مدد کے لئے 10 کروڑ روپے کی امداد افغانستان بھیجے گی، امداد بھیجنے کا طریقہ کار دفتر خارجہ اور قومی سلامتی کے اداروں سے مشاورت کے ساتھ طے کیا جائے گا۔وزیر اعظم آزاد کشمیر نے مزید کہا کہ حکومت آزاد کشمیر کا نمائندہ وفد امداد لیکر افغانستان جائے گا، افغانستان میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی بحالی میں پاکستان اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

    یاد رہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل سمیت کئی شہروں میں خوفناک زلزلے نے قیامت برپا کر دی جہاں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹکے مطابق افغانستان کے مختلف حصوں میں 6.1 شدت کا زلزلہ آیا جس کے نتیجے میں سیکڑوں گھر تباہ ہوگئے جب کہ زلزلے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والی کی تعداد ایک ہزار ہوگئی ہے اور اس کے نتیجے میں 1500 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

  • افغان طالبان کا ایک بار پھ منجمند اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ

    افغان طالبان کا ایک بار پھ منجمند اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ

    کابل: افغانستان میں حالیہ بدترین زلزلے کے بعد طالبان حکومت نے بین الاقوامی حکومتوں سے پابندیاں ختم کرنے اور مرکزی بینک کے منجمد اثاثے جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ملک کے مشرق میں آنے والے 6.1 شدت کے زلزلے سے تقریباً 10 ہزار مکانات تباہ اور 2 ہزار افراد زخمی ہوئے گئے تھے۔ زلزلے میں ایک ہزار افراد بھی جاں بحق ہوئے جس کے بعد افغانستان کے نازک صحت کے نظام پر مزید دباؤ بڑھا ہے۔

    امریکا کا منجمد افغان اثاثوں کو افغان عوام اور نائن الیون متاثرین میں برابر تقسیم کرنےکا فیصلہ

    اس حوالے سے وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے کہا کہ امارت اسلامیہ دنیا سے مطالبہ کر رہی ہے کہ افغانوں کو ان کا بنیادی حق دیا جائے اور وہ بنیادی حق پابندیاں ہٹانے اور ہمارے منجمد اثاثوں کی بحالی سے مشروط ہے۔

    واضح رہے کہ نیویارک کے فیڈرل ریزرو فنڈ میں افغانستان کے 7ارب ڈالر موجود ہیں جنھیں جو بائیڈن انتظامیہ نے منجمد کررکھا ہے۔ یہ اثاثے اس وقت منجمد کیے گئے تھے جب طالبان نے افغانستان کے اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا ۔طالبان مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کے ملک کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں گزشتہ برس اگست کے وسط میں افغانستان کا اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا میں موجود 7 ارب ڈالر کے افغان فنڈ پر بظور حکومت ہمارا حق ہے جب کہ اس فنڈز کے حصول کے لیے نائن الیون متاثرین نے بھی عدالت سے رجوع کر رکھا تھا-

    دوسری جانب نائن الیون حملے میں ہلاک ہونے والے شہریوں کے لواحقین، زخمیوں اور متاثرین نے گزشتہ برس نومبر میں ایک احتجاجی مظاہرے میں امریکی حکومت سے مطالبہ کیا تھا افغانستان کے منجمد فنڈز سے معاوضہ دیا جائے۔

    امریکا کا منجمد افغان اثاثوں کو افغان عوام اور نائن الیون متاثرین میں برابر تقسیم کرنےکا فیصلہ

    امریکا نے افغانستان کے منجمد اثاثوں کو اپنی ترجیحات کےمطابق استعمال کرنے کی منظوری دی تھی جس کے تحت واشنگٹن ان اثاثوں کو دو حصوں میں برابر تقسیم کیے جائیں گے امریکی صدر نے افغانستان کے امریکا میں منجمد اثاثوں میں سے نصف نائن الیون حملوں کے متاثرین کو دینے کا فیصلہ کیا تھا ۔

    امریکا کےصدر جوبائیڈن نے منجمد اثاثوں کو تقسیم اور استعمال کرنے کے صدارتی حکم نامے پر دستخط کر دیئے تھےجس کے مطابق افغانستان کے امریکا میں منجمد سات بلین ڈالرز میں سے نصف افغانستان میں انسانی ہمدردی کے کاموں کے لیے خرچ کی جائے گی جس کے بعد افغانستان سمیت دنیا بھر سے تنقید کی گئی تھی۔

    جبکہ نصف رقم نائن الیون دہشت گردانہ حملوں میں متاثر ہونے واافغنا لوں میں تقسیم کی جائے گی۔ افغان شہریوں نے امریکی صدر کے حکم کی مذمت کی ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ اثاثے افغانوں کے ہیں۔ امریکی صدر انہیں چرا رہے ہیں۔

    امریکا کا افغانستان کے اثاثے ضبط کرنا افغانیوں کے حق پر ڈاکہ ہے،چین

    صدر جو بائیڈن کے حالیہ فیصلے پر قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان محمد نعیم نے ٹویٹ میں ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان کے مرکزی بینک کے فنڈز پر قبضہ کرنا ’چوری‘ ہے اور ’انسانی اور اخلاقی انحطاط‘ کے سب سے نچلے درجے پر گرنے کی نشانی ہے۔

    جبکہ ماضی میں طالبان نے تنبیہ کی تھی کہ افغانستان کے منجمد فنڈز کو واپس نہ کرنا ’مسائل‘ کا باعث بن سکتا ہےجس کےباعث نہ صرف اقتصادی طور پر افغانستان مزید متاثر ہوگا بلکہ بڑی تعداد میں لوگ پناہ لینے کے لیے ملک چھوڑنے کی کوشش کریں گے اگست 2021 میں طالبان کے کنٹرول میں آنے کے بعد سے ملک کی معاشی حالات مسلسل بگڑتی جا رہی ہے اور اقوام متحدہ نے خدشہ کا اظہار کیا کہ 2022 کے وسط تک ملک میں غربت کی شرح 97 فیصد تک پہنچ سکتی ہے-

    نائن الیون متاثرین کا افغانستان کے 7 ارب ڈالرز کے منجمد اثاثے بطور معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ