Baaghi TV

Tag: آئینی بینچ

  • اپوزیشن ملکی ترقی و خوشحالی کے لئے مثبت کردار ادا کرے،وزیراعظم

    اپوزیشن ملکی ترقی و خوشحالی کے لئے مثبت کردار ادا کرے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے مخصوص نشستوں سے متعلق آئینی بینچ کے فیصلے کا خیرمقدم کیاہے-

    وزیراعظم نے کہا کہ اس فیصلے سے آئین و قانون کی بالادستی قائم ہوئی ہے اور قانون کی درست تشریح سامنے آئی ہے انہوں نے قانونی ٹیم کو مبارکباد دی اور ان کی انتھک محنت کو سراہا، انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف آئینی عمل کی فتح ہے بلکہ جمہوری اقدار اور قانونی شفافیت کے لیے بھی ایک اہم سنگِ میل ہےقانونی ٹیم نے انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں آئینی نکات کا دفاع کیا، جس کے نتیجے میں آئین کی روح کے مطابق فیصلہ سامنے آیا۔

    وزیراعظم نے اپوزیشن کو بھی حکومت کے ساتھ مل بیٹھنے کی پیشکش کی، وزیر اعظم نے کہا کہ اپوزیشن ملکی ترقی و خوشحالی کے لئے مثبت کردار ادا کرے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی درخواستیں منظور کرتے ہوئے 12 جولائی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے 12 جولائی کے فیصلے کے خلاف جتنی درخواستیں دائر ہوئی تھیں عدالت نے وہ ساری منظور کرلیں، فیصلے کے بعد پی ٹی آئی تمام نشستوں سے محروم ہوگئی، قومی اسمبلی کی 22 نشستیں اور صوبائی اسمبلی کی 55 نشستیں حکومتی اتحاد کو مل جائیں گی۔

  • جسٹس منصور علی شاہ کا آئینی بینچ کی مدت میں توسیع کے خلاف خط

    جسٹس منصور علی شاہ کا آئینی بینچ کی مدت میں توسیع کے خلاف خط

    جسٹس منصور علی شاہ نے آئینی بینچ کی مدت میں توسیع کے خلاف خط لکھ دیا۔

    جوڈیشل کمیشن ممبران کو جسٹس منصور علی شاہ کا خط پہنچایا گیا، جسٹس منصو ر علی شاہ نے خط میں کہا کہ 26 ویں ترمیم کیس فیصلے تک توسیع نہ کی جائےپیشگی بتا دیا تھا 19 جون کے اجلاس کیلئے پاکستان میں دستیاب نہیں، توقع تھی عدم دستیابی پر اجلاس موخر کیا جائے گا ماضی میں ایگزیکٹو ممبران کی عدم موجودگی پر اجلاس موخر ہو چکا ہے، عدلیہ ممبران اقلیت میں ہیں اس لئے شاید موخر نہیں کر پائے 26ویں ترمیم فیصلے سے پہلے توسیع بحران کو مزید گہرا کرے گی، خط میں جسٹس منصو ر علی شاہ نے کہا کہ یہ تنازع ادارے کی ساکھ اور عوامی اعتبار کو تباہ کر رہا ہے 26 ویں ترمیم کے فیصلے تک تمام ججز کو آئینی بینچ ڈیکلیئر کیا جائے، آئینی بینچ میں شمولیت کا معیار اور پیمانہ بھی طے کیا جائے۔

  • جوڈیشل کمیشن اجلاس: آئینی بینچ میں دو نئے ججز کا اضافہ

    جوڈیشل کمیشن اجلاس: آئینی بینچ میں دو نئے ججز کا اضافہ

    اسلام آباد: جوڈیشل کمیشن نے آئینی بینچ میں اضافے کیلئے دو نئے ججز کے ناموں کی منظوری دے دی ہے۔

    باغی ٹی وی : جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اہم اجلاس جمعرات کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں آئینی بینچ کے لیے دو نئے ججز کی نامزدگی پر غور کیا گیا اجلاس میں جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس عقیل عباسی کے ناموں پر کثرت رائے سے اتفاق کیا گیا، جس کے بعد دونوں ججز کو آئینی بینچ کا حصہ بنا دیا گیا ہےنئے ججز کی شمولیت کے بعد آئینی بینچ میں ججز کی مجموعی تعداد 15 ہو گئی ہے اجلاس میں اعلیٰ عدالتی امور اور بینچ کی فعالیت کو مزید مؤثر بنانے پر بھی گفتگو کی گئی، جسٹس عقیل عباسی کے نام کی منظوری 8 ووٹوں کی اکثریت دے گئی، جسٹس علی باقر نجفی کو 7 ووٹ ملے۔

    مہاجرین کی باعزت واپسی کے لیے پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون ناگزیر ہے،افغان وزیر تجارت

    ذرائع نے دعویٰ کیا کہ جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر نے آئینی بینچ میں مزید ججز تعیناتی کی مخالفت کی، بیرسٹر علی ظفر، بیرسٹر گوہر نے بھی مخالفت کی، مخالفت کرنے والوں کا مؤقف تھا کہ آئینی بینچز میں ججز نامزدگی کے لیے رولز بنائے جائیں،جسٹس جمال مندوخیل نے دونوں ججوں کی منظوری کے عمل میں حصہ نہ لیا، کہا کہ میں رولز کمیٹی کا سربراہ ہوں، رولز بننے تک کوئی رائے نہیں دے سکتا۔

    ذرائع نے بتایا کہ چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے جسٹس علی باقر نجفی کیلئے ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں لیا، چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے جسٹس عقیل عباسی کی آئینی بینچز میں شامل کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔

    حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کا ایک اور موقع ضائع کر دیا ،شاہد خاقان عباسی

    واضح رہے کہ جوڈیشل کمیشن آئینی اور قانونی نوعیت کے اہم مقدمات کے لیے ججز کی تعیناتی کا مجاز فورم ہے، اور اس اجلاس کو آئینی بینچ کی تشکیل نو کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • سندھ،اسسٹنٹ کمشنرز کیلئے  گاڑیوں کی خریداری کیخلاف درخواست مسترد

    سندھ،اسسٹنٹ کمشنرز کیلئے گاڑیوں کی خریداری کیخلاف درخواست مسترد

    سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسسٹنٹ کمشنرز کے لیے 138 ڈبل کیبن گاڑیوں کی خریداری کیخلاف درخواست مسترد کردی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں آئینی بینچ کے روبرو اسسٹنٹ کمشنرز کے لیے 138 ڈبل کیبن گاڑیوں کی خریداری کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی، جس میں ایڈووکیٹ جنرل جواد ڈیرو، رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے درخواستگزار سے استفسار کیا کہ بتائیں آپ لوگ اس سے اسکیم سے کیسے متاثر ہوئے ہیں۔ عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے مقف دیا کہ درخواستگزار رکن سندھ اسمبلی ہے۔ درخواست گزار نے اسمبلی میں بھی مخالفت کی تھی، لیکن اس کے باوجود گاڑیوں کی خریداری کی منظوری دی گئی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ لیکن یہ معاملہ اسمبلی میں کیسے گیا ہوگا۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہاں درخواست پر تو کوئی بل یا ایکٹ نظر نہیں آرہا۔

    وکیل نے بتایا کہ درخواست گزار نے گاڑیوں کی خریداری کیخلاف قرار داد پیش کی تھی۔ بحیثیت شہری ڈبل کیبن گاڑیاں خریدی جائیں گی تو میں بھی متاثر ہوں گا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کیسے متاثر ہو سکتے ہیں۔ عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کہ بجٹ اور پیسہ سندھ حکومت کا ہی خرچ ہوگا۔ لگژری گاڑیوں کے بجائے 1000 سی سی کی گاڑیاں خریدی جائیں۔عدالت نے درخواستگزار سے مکالمے میں کہا کہ آپ کو گاڑیوں کی سی سی پر مسئلہ ہے۔ عدالت نے درخواستگزار سے استفسار کیا کہ آپ بتائیں کونسے رولز اور پالیسی کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ وکیل نے موقف دیا کہ بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کون سے حقوق متاثر ہوئے آپ کے۔ کونسے قانون کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔ درخواستگزار کے وکیل نے کہا کہ مجھے وقت دے دیں میں رولز اور پالیسی کی خلاف ورزی سے متعلق تفصیلات دے دوں گا۔

    عدالت نے ریمارکس دیے کہ وقت نہیں دے سکتے، پہلے ہی کیس زیر التوا ہے۔ عوامی مفادات کو سیاسی مفادات نہ بنایا جائے۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ جواد ڈیرو نے دلائل میں کہا کہ یہ صرف پبلسٹی کے لیے کر رہے ہیں۔ یہ لگژری گاڑیاں نہیں بلکہ ضرورت ہیں۔ درخواست کو مسترد کیا جائے۔ اسسٹنٹ کمشنرز کے لیے گاڑیوں کی خریداری غیر ضروری نہیں، نہ ہی گاڑیوں کے لیے فنڈز کا غلط استعمال کیا جارہا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اسسٹنٹ کمشنرز کے پاس بہت اہم ذمے داریاں ہوتی ہیں۔ گاڑیوں کی خریداری ضروری ہے تاکہ افسران ذمے داریاں احسن طریقے سے انجام دے سکیں۔ اسسٹنٹ کمشنرز کے لیے آخری بار خریداری 2010 اور 2012 میں ہوئی تھی۔ سوزوکی کلٹس کی اوسط عمر 6 سال یا ایک لاکھ 60 ہزار کلومیٹر ہے۔ بیشتر گاڑیاں اپنی میعاد پوری کر چکی ہیں۔ بعد ازاں عدالت نے اسسٹنٹ کمشنرز کے لیے 138 ڈبل کیبن گاڑیوں کی خریداری کیخلاف جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق و دیگر کی درخواست مسترد کردی۔

    پاکستان سمیت دنیا میں سونے کی قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    بجلی قیمت میں کمی، جلد ہی وزیر اعظم اعلان کریں گے، وزیر خزانہ

    پاکستان کا میانمار ،تھائی لینڈ زلزلہ متاثرین سے اظہار یکجہتی

    عیدالفطر سے قبل پٹرول سستا،نوٹیفکیشن آگیا

  • آئینی بینچ: 14 فروری کے تمام مقدمات ڈی لسٹ

    آئینی بینچ: 14 فروری کے تمام مقدمات ڈی لسٹ

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے 14 فروری کو سماعت کے لیے مقرر تمام مقدمات کو ڈی لسٹ کردیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق مقدمات کو ڈی لسٹ کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا گیا، مقدمات ڈی لسٹ کیے جانے کے حوالے سے وکلا اور فریقین کو آگاہ کردیا گیا۔سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے 14 فروری کے تمام مقدمات کو بینچ کی عدم دستیابی کے باعث ڈی لسٹ کیا۔واضح رہے کہ چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا ہےکہ بانی پی ٹی آئی جو ہم سے چاہتے ہیں وہ آرٹیکل184کی شق 3 سے متعلق ہے لہٰذا یہ معاملہ کمیٹی کو بھجوایا ہے اور اسے آئینی بینچ نے دیکھنا ہے۔چیف جسٹس پاکستان اور آئی ایم ایف کے 6 رکنی وفد کے درمیان سپریم کورٹ میں ایک گھنٹہ ملاقات ہوئی جس میں چیف جسٹس نے آئی ایم ایف وفد کو عدالتی نظام اور اصلاحات پر بریف کیا جب کہ اس دوران چیف جسٹس سےججز تقرری اور آئینی ترمیم پر بھی بات چیت کی گئی۔

    آئی ایم ایف وفد سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ آئی ایم ایف وفد کو جواب دیا ہم نے آئین کے تحت عدلیہ کی آزادی کا حلف اٹھا رکھا ہے، وفد کو بتایا یہ ہمارا کام نہیں ہے کہ آپ کو ساری تفصیل بتائیں، میں نے وفد کو نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے ایجنڈے کا بتایا، آئی ایم ایف وفد کو بتایا ماتحت عدلیہ کی نگرانی ہائیکورٹس کرتی ہیں، وفد نےکہا معاہدوں کی پاسداری اور پراپرٹی حقوق کا ہم جاننا چاہتے ہیں، اس پر میں نے جواب دیا کہ اس پر اصلاحات کررہے ہیں۔

    خلیج میکسکیو کہنے پررپورٹر کو وائٹ ہاؤس سے نکال دیا گیا

    ایف آئی اے کی کارکردگی جانچنے کے لیے خصوصی کمیٹی قائم

    کراچی اور لاہور ایئرپورٹس پر جدید ترین ایئر ٹریفک کنٹرول سسٹم لگانے کا فیصلہ

    عظیم بلے باز حنیف محمد پی سی بی ہال آف فیم میں شامل

  • سپریم کورٹ،سابق چیف جسٹس پاکستان جواد ایس خواجہ پر جرمانے کا حکم واپس

    سپریم کورٹ،سابق چیف جسٹس پاکستان جواد ایس خواجہ پر جرمانے کا حکم واپس

    سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نےسابق چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس (ر)جواد ایس خواجہ پر عائد 20ہزار روپے جرمانے کا حکمنامہ واپس لے لیا، سابق چیف جسٹس پاکستان جواد ایس خواجہ کی نظرثانی درخواست واپس لینے پر جرمانہ ختم کیا گیا۔

    سپریم کورٹ آئینی بنچ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز ٹرائل فیصلے کیخلاف اپیلوں پر ہوئی، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7رکنی بنچ سماعت کررہا ہے،وکیل خواجہ احمد حسین نے کہاکہ عدالت کے سامنے ایک مسئلہ بنیادی حقوق اوردوسراقومی سلامتی ہے،عدالت نے دونوں میں توازن پیدا کرنا ہو تو بنیادی حقوق کاتحفظ کیا جاتا ہے،عدالتی فیصلہ برقرا رہا تو کسی ملزم یا دہشتگرد کو فائدہ نہیں پہنچے گا، انسداددہشتگردی کاقانون موجود ہے جس میں گواہان کے تحفظ سمیت تمام شقیں ہیں،عدالت کسی بھی صورت شہریوں کو شفاف ٹرائل سے متصادم نظام کے سپرد نہیں کر سکتی، جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ سندھ میں گواہان کے تحفظ کا اہلگ سے قانون بھی موجود ہے۔ آئینی بنچ نے جسٹس (ر)جواد ایس خواجہ پر عائد 20ہزار روپے جرمانے کا حکمنامہ واپس لے لیا، سابق چیف جسٹس پاکستان جواد ایس خواجہ کی نظرثانی درخواست واپس لینے پر جرمانہ ختم کیا گیا۔

    دوران سماعت وکیل خواجہ احمد حسین نے کہاکہ فرخ بخت علی پر ملک مخالف جنگ کرنے اور فوج کو بغاوت پر اکسانے کا الزام تھا،فرخ بخت علی کا کورٹ مارشل میجر جنرل ضیا الحق نے 1974میں کیا، فرخ بخت علی نے بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی،کورٹ مارشل کرنے والے ضیا الحق ترقی پا کر آرمی چیف بن گئے،ضیا الحق کے آرمی چیف بننے کے بعد جو ہوا وہ اس ملک کی تاریخ ہے، جسٹس حسن اظہر نے کہاکہ اس دور میں تو کمانڈنٹ ان چیف اور ایئرچیف کو بھی اغوا کرلیاگیا تھا،اغوا کار نے اپنے کتاب میں وجوہات بھی تحریر کی ہیں،جسٹس مسرت ہلالی نے جسٹس حسن اظہر رضوی سے سوال کیا کہ ویسے وجوہات کیا تھیں؟جسٹس حسن اظہر رضوی نے جواب کیا کہ اس کیلئے آپ کو کتاب پڑھنا پڑے گی،جسٹس حسن اظہر رضوی کے جواب پر عدالت میں قہقہے لگ گئے،سپریم کورٹ میں سماعت میں وقفہ کر دیا گیا۔

  • حکومت کا جسٹس منصور کے فل کورٹ تشکیل سے متعلق آرڈر کو چیلنج کرنے کا فیصلہ

    حکومت کا جسٹس منصور کے فل کورٹ تشکیل سے متعلق آرڈر کو چیلنج کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد: آئینی بینچ نے جسٹس منصور علی شاہ کے 13 اور 16 جنوری کے آرڈرز کو واپس لے لیا ہے۔

    باغی ٹی وی :سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے کسٹم ریگولیٹر ڈیوٹی کیس کی سماعت کے دوران اہم فیصلے کیے ہیں آئینی بینچ نے جسٹس منصور علی شاہ کے 13 اور 16 جنوری کے آرڈرز کو واپس لے لیا ہے، آئینی بینچ نے نذر عباس توہین عدالت کیس کا ریکارڈ کسٹم ڈیوٹی کیس کے ساتھ منسلک کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

    دوران سماعت وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصورعلی شاہ کے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس کیخلاف توہین عدالت کیس کے فیصلے میں فل کورٹ کی تشکیل سے متعلق آرڈر کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوان نے آئینی بینچ کو وفاقی حکومت کے فیصلے سے متعلق مؤقف سے آگاہ کیا کہ غیر آئینی فیصلہ ہونے کی وجہ سے وفاقی حکومت اسے چیلنج کرے گی۔

    محسن نقوی کے ساتھ تصویر کیوں؟عمران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پربرس پڑے

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ جسٹس منصور علی شاہ نے کسٹم ڈیوٹی کا کیس اپنے بینچ میں لگانے کا حکم دیا ہے، کیا اس آرڈر کی موجودگی میں آگے بڑھ سکتے ہیں؟جسٹس جمال مندوخیل نےریمارکس میں کہا کہ عدلیہ کی آزادی کی فکر صرف چند کو نہیں سب کو ہے، جو کام کریں وہ تو ڈھنگ سے کریں، کونسی قیامت آگئی تھی، یہ بھی عدالت ہی ہے، زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہوتا، سپریم کورٹ اور عدالتوں نے رہنا ہے، ہمیں ہی اپنے ادارے کا خیال رکھنا ہے، کوئی پریشان نا ہو اس ادارے کو کچھ نہیں ہونا۔

    جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے کہ 13 جنوری کو آرڈر دیا کہ سماعت 27 جنوری کو ہوگی، پھر سماعت اچانک اگلے روز کے لیے کیسے مقرر ہوگئی، تین رکنی بینچ سے ایک جج الگ ہو گئے،جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا وہ جج یہ حکم دے سکتا تھا کہ یہ کیس مخصوص بینچ کے سامنے لگے؟جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ کیا بینچ دوبارہ قائم کرنے کا اختیار اسی جج کے پاس تھا؟-

    رمضان شوگر ملز ریفرنس،مدعی کمرہ عدالت میں بیان سے منحرف

    جسٹس نعیم افغان نے بیرسٹر صلاح الدین سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں لگتا ہے کہ اس سارے کرائسز کے ذمہ دار آپ ہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ عدالتی حکمنامہ کے مطابق آپ کا اصرار تھا کہ یہ ریگولر بینچ یہ کیس سن سکتا ہےجسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو ہم ججز پر اعتماد نہیں؟ میں نااہل ہوں یا مجھے قانون نہیں آتا تو مجھے بتا دیں؟ یہ نیا سسٹم ہے کسی کو پسند نہیں تو وہ ایک الگ بات ہے۔

    بعدازاں، آئینی بینچ نے جسٹس منصورعلی شاہ کے 13 اور 16 جنوری کے فیصلے واپس لے لیے۔

    رمضان شوگر ملز ریفرنس،مدعی کمرہ عدالت میں بیان سے منحرف

    دوران سماعت جسٹس محمد علی مظہر اور بیرسٹر صلاح الدین کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ مجھے تاثر مل رہا ہے آپ یہاں سنجیدہ نہیں ہیں، جس پر بیرسٹر صلاح الدین بولے کہ آپ میری ساکھ پر سوال اٹھائیں گے تو ویسا ہی سخت جواب دوں گا۔

    جسٹس امین الدین خان نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ بات کسی اور طرف جا رہی ہے، ایسے نہ کریں، بیرسٹر صلاح الدین نے موقف اپنایا کہ جسٹس جمال نے کہا ابھی ہم اس کیس کو یہاں آگے نہیں بڑھا رہے، یا تو آپ کہیں میرٹ پر کیس چلانا ہے تو یہیں دلائل دیتا ہوں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نہیں فائل تو ابھی بند ہے، ہم تو اپنی سمجھ کیلئے آپ سے معاونت لے رہے ہیں، جس پر بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ فائل بند ہے تو پھر آپ مفروضوں پر سوال پوچھے جائیں، میں مفروضوں پر جواب دیتا ہوں۔

    چین اور بھارت کا دوبارہ براہ راست فضائی سروس پر اتفاق

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس کے خلاف توہین عدالت کیس کا فیصلہ سنایا تھا جس میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجرکمیٹی اور ججز آئینی کمیٹی نے جوڈیشل آرڈر کو نظرانداز کیاجسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل دورکنی بینچ نے فیصلہ سنایا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ نذر عباس نے جان بوجھ کر توہینِ عدالت نہیں کی، نذر عباس کیخلاف توہین عدالت کا شوکاز نوٹس واپس لے کر معاملہ چیف جسٹس پاکستان کو بھیجا جاتا ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو اختیار نہیں تھا کہ وہ جوڈیشل آرڈر کے باوجود کیس واپس لے، ججز آئینی کمیٹی کو بھی یہ اختیار ہی نہیں تھا کہ وہ جوڈیشل آرڈر کی موجودگی میں انتظامی آرڈر کے ذریعے کیس واپس لیتی۔ نذر عباس کی کوئی غلطی نہیں ہے نہ ہی انہوں نے جان بوجھ کر کیس فکس کرنے میں غفلت برتی، نذر عباس کا کیس فکس نہ کرنے پر کوئی ان کا ذاتی مفاد نہیں تھا، ان کے اقدام میں کوئی بدنیتی ظاہر نہیں ہو رہی، نذر عباس کا اقدام توہینِ عدالت کے زمرے میں نہیں آتا۔

    سعودی عرب کی جائیداد میں غیرملکیوں کو سرمایہ کاری کی اجازت

    عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ نذر عباس کی وضاحت قبول کرکے توہینِ عدالت کی کارروائی ختم کرتے ہیں ججز کمیٹیوں نے جوڈیشل آرڈر نظر انداز کیا یا نہیں، یہ معاملہ فل کورٹ ہی طے کر سکتا ہے، اس حوالے سے 14 رکنی بینچ کا ایک فیصلہ بھی موجود ہے، چیف جسٹس پاکستان فل کورٹ تشکیل دے کر اس معاملے کو دیکھیں۔ فل کورٹ آئین کے آرٹیکل 175 کی شق 6 کے تحت اس معاملے کو دیکھے، کسٹمز کیس واپس اسی بینچ کے سامنے مقرر کیا جائے جس تین رکنی بینچ نے یہ کیس پہلے سنا تھا۔

    عدالتی فیصلے میں تحریر کیا گیا ہے کہ ہم نے اس سوال پر بھی غور کیا ہے کہ کیا مبینہ توہین کے مرتکب افراد کے خلاف شوکاز نوٹس ختم ہونے کے بعد معاملے کو نمٹا ہوا سمجھا جائے یا یہ معاملہ ان دو کمیٹیوں کے اراکین کے خلاف مزید کارروائی کے لیے جاری رہے پہلی کمیٹی نے غیر قانونی طور پر زیر سماعت مقدمات کو ایک بینچ سے واپس لے کر انتظامی حکم کے ذریعے دوسری کمیٹی کے سپرد کیا، جس سے عدالتی حکم کا اثر زائل ہوا، دوسری کمیٹی نے عدالتی حکم کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے محض پہلی کمیٹی کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے مقدمہ 27 جنوری 2025 کو آئینی بینچ کے سامنے مقرر کر دیا۔

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کی مختلف مقدمات میں ضمانت میں توسیع

    فیصلے کے مطابق دونوں کمیٹیاں 17 جنوری 2025 کو عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایسے انتظامی فیصلے لینے کی مجاز نہیں تھیں، اس پس منظر میں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان دو کمیٹیوں کے اراکین کے خلاف مزید کارروائی کی جانی چاہیے تاہم عدالتی روایات اور وقار کا تقاضا ہے کہ اس سوال کو سپریم کورٹ کے فل کورٹ کے ذریعے طے کیا جائے تاکہ اسے حتمی اور مستند طور پر حل کیا جا سکے۔

    بنچ نے فیصلے میں یہ بھی لکھا کہ ہم یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ ایک ہائیکورٹ کے رجسٹرار کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کو اتنی اہمیت دی گئی کہ 14 ججوں پر مشتمل ایک بڑا بنچ تشکیل دیا گیا، لہٰذا ہماری رائے میں یہ مسئلہ اس سے بھی زیادہ سنگین ہے، جو اس عدالت کے تمام ججوں کی اجتماعی اور ادارہ جاتی غور و فکر کا متقاضی ہے، اس لیے ہم اس معاملے کو چیف جسٹس کے سامنے پیش کرتے ہیں تاکہ فل کورٹ تشکیل دے کر اس اہم مسئلے پر غور اور فیصلہ کیا جا سکے۔

    سیالکوٹ:وزیر اعلیٰ پنجاب کی کاوشوں سے ترقی کی رفتار تیز.منشاء اللہ بٹ

    فیصلے میں کہا گیا کہ یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ اس معاملے کو ایکٹ کی دفعہ دو2 کے تحت قائم کمیٹی کے حوالے نہیں کیا گیا کیونکہ اس کی اتھارٹی سپریم کورٹ کے بینچز کی تشکیل تک محدود ہے، عدالت کے بنچز اور فل کورٹ کے درمیان فرق آئین کے آرٹیکل203J(2)(c) اور (d) کی دفعات میں تسلیم شدہ ہے اور فل کورٹ بلانے کی ذمے داری روایتی طور پر چیف جسٹس کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔

  • 26 ویں ترمیم کیخلاف درخواست،معاملہ صرف آئینی بینچ ہی سنے گا۔جسٹس محمد علی مظہر

    26 ویں ترمیم کیخلاف درخواست،معاملہ صرف آئینی بینچ ہی سنے گا۔جسٹس محمد علی مظہر

    26 ویں ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    جسٹس امین الدین خان خان کی سربراہی میں 8 رکنی آئینی بنچ نے سماعت کی،درخواست گزاروں نےآئینی ترمیم کے خلاف فل کورٹ بینچ بنانے کی استدعا کی،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ جوڈیشل کمشن نے جن ججز کو آئینی بنچ کے لیے نامزد کیا وہ سب اس بینچ کا حصہ ہیں۔ججز کی نامزدگی جوڈیشل کمشن کرتا ہے جبکہ کیسز کی فکسشین 3 رکنی کمیٹی کرتی ہے۔ اس کمیٹی کے سربراہ جسٹس آمین الدین خان ہیں، کمیٹی میں جسٹس محمد علی مظہر اور میں شامل ہیں۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے وکلا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ فل کورٹ کے معاملے پر آپ خود کنفیوز ہیں،آپ اس بنچ کو ہی فل کورٹ سمجھیں۔ وکلا نے کہا کہ سپریم کورٹ میں موجود تمام ججز پر فل کورٹ تشکیل دیا جاۓ۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ایسا ممکن نہیں آئینی معاملہ صرف آئینی بینچ ہی سنے گا۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آئینی بنچ میں موجود تمام ججز پر فل کورٹ ہی بنایا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ فُل کورٹ کا معاملہ چیف جسٹس کے پاس ہی جاسکتا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ لگتا ہے آپ پہلے دن سے ہی لڑنے کے موڈ میں ہیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ہم کسی سے لڑنا نہیں چاہیے،جسٹس امین الدین نے کہا کہ اگر کوئی فریق دلائل دینے کو تیار نہیں تو عدالت حکم جاری کرے گی۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سمجھ نہیں آرہی کہ آپ ہچکچاہٹ کا شکار کیوں ہیں؟ جو اس بینچ کے سامنے بحث نہیں کرنا چاہتا وہ پیچھے بیٹھ جائے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ فُل کورٹ تشکیل دینے پر پابندی تو کوئی نہیں ہے،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم اختیارات کی تقسیم کے اصول کے خلاف ہے،وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ 26ویں ترمیم کی منظوری کے وقت ایوان نامکمل تھا،جسٹس جمال خان مندوخیل نے سوال کیا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے لیے کل ممبران پر ووٹنگ ہوئی یا دستیاب ممبران پر،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم پر دستیاب ممبران نے ووٹنگ کی۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ دستیاب ممبران ٹوٹل کیا ایوان کے دو تہائی پر پورا اترتا ہے،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ گنتی حکومت نے پوری ہی کر لی تھی، یہ مسئلہ نہیں اٹھا رہے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیا ایوان میں تمام صوبوں کی نمائندگی مکمل تھی،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ خیبر پختون خوا کی سینیٹ میں نمائندگی مکمل نہیں، وہاں سینیٹ انتخابات ابھی رہتے تھے،وکیل صلاح الدین نے کہا کہ اختر مینگل کی درخواست میں ترمیم کے حالات کا نقشہ کھینچا گیا ہے، ارکان اسمبلی ووٹ دینے میں کتنے آزاد تھے، اسے بھی مدِ نظر رکھا جائے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ مخصوص نشستوں کے فیصلے پر بھی عملدرآمد نہیں ہوا،وکیل صلاح الدین نے کہا کہ درخواست میں ایک نکتہ مخصوص نشستوں کا بھی اٹھایا گیا ہے، ایوان مکمل ہی نہیں تھا تو ترمیم کیسے کر سکتا تھا،وکیل شاہد جمیل نے کہا کہ عوام کے حقیقی نمائندے ہی آئینی ترمیم کا اختیار رکھتے ہیں۔

    آپ چاہتے ہیں انتخابات کیسز کے فیصلوں کا انتظار کریں، پھر آئینی ترمیم کیس سنیں؟جسٹس محمد علی مظہر
    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں انتخابات کیسز کے فیصلوں کا انتظار کریں، پھر آئینی ترمیم کیس سنیں؟ اس طرح تو آئینی ترمیم کا کیس کافی عرصہ لٹکا رہے گا۔سپریم کورٹ نے 26ویں آئینی ترمیم سے متعلق کیس کی سماعت 3 ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی

    13جنوری کو عمران کی بیٹوں سے بات کروائی،جیل حکام کا عدالت میں جواب

    ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ کے خلاف شوکاز نوٹس کی کارروائی ختم

  • سپریم کورٹ،انتخابات میں مبینہ دھاندلی کیس، پی ٹی آئی وکیل کو تیاری کیلئے وقت مل گیا

    سپریم کورٹ،انتخابات میں مبینہ دھاندلی کیس، پی ٹی آئی وکیل کو تیاری کیلئے وقت مل گیا

    مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف درخواست پر سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل کو رجسٹرار آفس کے اعتراضات پر تیاری کے لیے وقت دے دیا

    مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 6 رکنی بینچ نے سماعت کی،دورانِ سماعت وکیل حامد خان نے کہا کہ آرٹیکل 184(3) میں دائرہ اختیار دیا گیا ہے یا نہیں،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں الیکشن کمیشن جانبدار ہے تو متعلقہ فورم پر جانا چاہیے تھا، ہر امیدوار کے نوٹیفکیشن کے لیے عدالت کو آپ کو بتانا ہو گا، فارم 45 یا 47 دونوں میں اگر فرق ہے تو کوئی ایک صحیح ہو گا، فارم کو جانچنے کے لیے پوری انکوائری کرنا ہو گی،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ حامد صاحب آپ آئندہ سماعت پر تیاری کے ساتھ آئیں،وکیل حامد خان نے کہا کہ میں صرف اعتراضات دور کرنے آیا تھا آپ میرٹ پر بات کر رہے ہیں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا خیبر پختونخوا سے بلوچستان تک سارا الیکشن ہی غلط تھا؟ ہر حلقہ کی علیحدگی انکوائری ہو گی، ہر امیدوار اپنے حلقہ کے الزامات کا بتائے گا، پہلے بھی انتخابات میں دھاندلی کا ایشو اٹھا تھا، انکوائری کے لیے آرڈیننس لانا پڑا تھا، کارروائی کا اختیار ہمارے پاس نہیں تھا اس لیے آرڈیننس بنانا پڑا، 184 کے تحت دائرہ اختیار عدالت کا نہیں ہے،وکیل حامد خان نے کہا کہ یہ اس عدالت کی کمزوری ہے کہ ابھی تک سوموٹو نہیں لے سکی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ حامد صاحب آپ سینئر وکیل ہیں الفاظ کا چناؤ دیکھ کر کریں،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اعتراضات آپ کی استدعا کو دیکھ کر ہی دور کریں گے،وکیل حامد خان نے کہا کہ جو 8 فروری کو ہوا تھا ہم آج تک بھگت رہے ہیں،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ معاملے پر ڈپٹی اسپیکر نے بھی ایک کمیٹی بنائی ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ہمارا اس کمیٹی سے کوئی سروکار نہیں،عدالت نے مزید تیاری کے لیے مہلت دیتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

    سیف علی خان حملہ،ملزم کی نمائندگی کیلئے عدالت میں وکلا لڑ پڑے

    سیف علی خان حملہ کیس،پولیس ملزم سے خون آلود کپڑے برآمد نہ کروا سکی

  • سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کی 6 سے10 جنوری کی کاز لسٹ جاری

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کی 6 سے10 جنوری کی کاز لسٹ جاری

    اسلام آباد:سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کی 6 سے10 جنوری کی کاز لسٹ جاری کر دی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی: فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کا کیس سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا ہے سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت7 جنوری کو ہوگی جسٹس امین الدین کی سربراہی میں7 رکنی آئینی بینچ 7 جنوری کو کیس کی سماعت کرےگا، 7 رکنی آئینی بینچ میں جسٹس جمال مندوخیل ، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل ہیں۔

    وزیراعلی خیبر پختونخوا میری بہن کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ صنم جاوید کا انکشاف

    آئینی بینچ نے لاپتہ افراد کیس بھی سماعت کے لیے مقرر کیا ہے سپریم کورٹ کا 7 رکنی آئینی بینچ 8 جنوری کو کیس کی سماعت کرےگا جبکہ عام انتخابات میں دھاندلی سے متعلق بانی پی ٹی آئی کی آئینی درخواست سماعت کے لیے مقرر کی گئی ہےانتخابی دھاندلی کے خلاف شیر افضل مروت کی درخواست بھی سماعت کے لیے مقرر کی گئی ہے سپریم کورٹ کا 7 رکنی آئینی بینچ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 8 جنوری کو کیس کی سماعت کرےگا۔

    ہزاروں اسرائیلی فوجیوں کا غزہ میں لڑنے سے انکار

    جبکہ سابق ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی رولنگ نظرثانی کیس بھی سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے آئینی بینچ حمزہ شہبازکی نظر ثانی درخواست پر9 جنوری کو سماعت کرےگا علاوہ ازیں ہائی کورٹ کےچیف جسٹسز کے صوابدیدی اختیارات کے خلاف درخواست سماعت کے لیے مقرر کی گئی ہے سپریم کورٹ کا آئینی بینچ 10 جنوری کو مقدمے کی سماعت کرے گا اسی طرح طلبا تنظیموں پر پابندی کےخلاف درخواست بھی سماعت کے لیے مقرر کی گئی ہےسپریم کورٹ کا آئینی بینچ 10 جنوری کو کیس کی سماعت کرےگا –

    مذاکرات کا دوسرا دور ختم، پی ٹی آئی نے تحریری مطالبات پر عمران خان سے مشاورت کیلئے وقت مانگ لیا